سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کو ملک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی، جس کے بعد کل یعنی اتوار کے روز ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔
تحریک انصاف کا ایک قافلہ ایبٹ آباد اور ہری پور سے جبکہ دوسرا ڈیرہ اسماعیل خان و میانوالی سے اور تیسرا سب سے بڑا قافلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پشاور سے روانہ ہوا۔
یہ تینوں قافلے آج مختلف اوقات میں اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے۔ ان قافلوں کو غازی بروتھا پل اور ہزارہ ایکسپریس وے سے پہلے ایک پہاڑی مقام پر سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی جبکہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، ربڑ کی گولیاں فائر کیں اور کارکنان پر لاٹھی چارج بھی کیا۔
اس وقت تینوں بڑے قافلے ایک بڑے ہجوم کی شکل میں اسلام آباد کے داخلی راستے پر موجود ہیں اور ڈی چوک تک پہنچنے کے لیے انھیں سینکڑوں کنٹینرز کو عبور کرنا ہو گا۔
مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی کئی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ تاہم اس دوران پی ٹی آئی قیادت اور حکومت کے مابین مذاکرات کی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں۔
اب سے کچھ دیر قبل پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد عمران خان سے ملاقات کے لیے ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچا ہے۔
اس سے قبل آج سہہ پہر بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو اگرچہ انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم تصدیق کی کہ ’مذاکرات چل رہے ہیں اور جو بھی ہو گا ہم بتائیں گے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے بھی تصدیق کی تھی کہ اس وقت ان کی جماعت کی قیادت اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی ان کے ایجنڈے میں خاص طور پر سرفہرست ہے مگر ابھی اس حوالے سے انھیں مزید تفصیلات نہیں ملی ہیں کہ اس پر کیا پیشرفت ہوئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن نے کہا کہ ’اس وقت تحریک انصاف کا ہدف اسلام آباد پہنچنا ہے اور پھر پارٹی قیادت طے کرے گی کہ کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرپرائز کا عنصر رہے۔ ہمیں ابھی اسلام آباد پہنچنے میں بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔‘
نجی چینل اے آر وائی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ ’ہم جب اسلام آباد پہنچیں گے تو ہماری جتنی بڑی تعداد ہے وہ فیصلہ سازوں کو ڈائیلاگ پر مبجور کرے گی اور پرامن رستہ نکلے گا، جس کا جو حق ہے وہ ملے گا۔‘
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کی رات میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے لیے گولی کا جواب گولی سے دینا آسان تھا مگر پولیس نے گولی کا جواب ربڑ بلٹ سے دیا ہے اور آنسو شیل سے دیا۔
پولیس کانسٹیبل مبشر بلال کی ہلاکت سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے اس احتجاج کی کال دی تھی، جنھوں نے ان لوگوں کو بلایا ہے، ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان تمام کے خلاف ایف آئی آرز رجسٹر ہوں گی۔ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔‘
وزیر داخلہ نے بتایا کے پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث ایک پولیس اہلکار ہلاک اور 119 زخمی ہیں۔
محسن نقوی سے پی ٹی آئی کے وفد کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا اور بارہا سوالات کرنے پر محض اتنا کہا کہ ’پی ٹی آئی کے اپنے اندرونی مسائل ہیں اور ہم انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، انھوں نے جواب دینا ہے۔ اس کے بعد میں آپ کو تفصیل سے بتا دوں گا۔‘
تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس وقت بشریٰ بی بی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اس لیے حکومت کے پاس طاقت کا استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج کے پیشِ نظر اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے تمام تعلیمی ادارے دوسرے روز (منگل) بھی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔