انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا۔ ہم احتیاط کا دامن نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہ (انڈیا) بہت مایوسی کی حالت میں ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو 'آنے والے دنوں میں' واپس لایا جائے گا۔
  • اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے لیے مذاکرات آنے والے دنوں میں مصر میں دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
  • غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 66 افراد ہلاک ہو گئے ہیں
  • حماس نے غزہ میں امن کے مجوزہ منصوبے کے تحت اسرائیلی مغویوی کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ غزہ پر بمباری بند کرے۔
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔
  • ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں زیادہ تر ایف-16 تھے: انڈین ایئر چیف کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کے پانچویں روز بازار، سٹرکیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بند, نصیر چوہدری، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہUmer Nazir

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جمعے کو مسلسل پانچویں روز بھی مکمل ہڑتال اور لاک ڈاؤن جاری رہا۔ تمام بازار، سڑکیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی جبکہ مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی نے جمعرات کے روز عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ تاہم، عوامی ایکشن کمیٹی نے مشاورت کے لیے کچھ وقت طلب کیا تاکہ وہ کشمیر بھر میں اپنے اراکین سے رائے لے سکے۔

    جمعے کو دوپہر کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور دوبارہ شروع ہوا، جو اب بھی جاری ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن فیصل جمیل کشمیری نے بتایا کہ جمعرات کی شب ایک مشترکہ اجلاس میں تین نمائندوں کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا، جو حکومتی کمیٹی سے بات چیت کر رہے ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہUmer Nazir

    اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مذاکراتی کمیٹی سب سے پہلے اُن مطالبات کا تحریری نوٹیفکیشن جاری کرے، جنھیں حکومتِِ کشمیر پہلے ہی زبانی طور پر تسلیم کر چکی ہے، مگر ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

    ہڑتال اور احتجاج کے باعث روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں راشن ختم ہو رہا ہے اور معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔

    ایک مقامی شہری محمد شفیع نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سنجیدہ مذاکرات کرے تاکہ یہ احتجاج ختم ہو۔ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی چاہیے کہ صرف ہڑتال پر زور دینے کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے، تاکہ لاک ڈاؤن ختم ہو اور نظامِِ زندگی بحال ہو سکے۔

  2. ’آپریشن سندور‘ میں پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں زیادہ تر ایف-16 تھے: انڈین ایئر چیف کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) کے سربراہ ایئر مارشل امر پریت سنگھ نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ مئی میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں زیادہ تر ایف-16 تھے۔

    اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں 300 کلو میٹر اندر ’طویل کارروائی‘ کی گئی جس میں پاکستان کی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

    جمعے کو 93 ویں یوم فضائیہ کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایئر مارشل اے پی سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایک فیصلہ لیا کہ ہمیں پہلگام میں معصوم لوگوں کی جانوں کے ضیاع پر پاکستان سے بدلہ لینا ہے اور اس کے لیے انڈین ایئر فورس نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔‘

    ایئر مارشل اے پی سنگھ نے دعوی کیا کہ ’آئی اے ایف نے متعدد پاکستانی فضائی اڈوں اور اس سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا - جس میں کم از کم چار ریڈار سائٹس، دو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، دو رن وے اور تین ہوائی جہاز کے ہینگرز اور وہاں موجود جہازوں کو نقصان پہنچا۔‘

    اُنھوں نے دعوی کیا کہ ان کارروائیوں میں ایک بڑا ٹرانسپورٹ طیارہ جو سی-130 اور تقریباً پانچ سے چھ لڑاکا طیارے جن میں ممکنہ طور پر ایف-16 بھی شامل ہیں، تباہ یا غیر فعال ہوئے۔

    اس سے قبل ستمبر میں بھی انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈیا نے پاکستان کے کم از کم چھ طیارے مار گرائے تھے۔

    پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ایک بھی پاکستانی طیارے کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی تباہ ہوا ہے۔' اس سے قبل پاکستانی حکام رفال سمیت متعدد انڈین جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے متعدد مواقع پر کبھی پانچ، چھ تو کبھی سات طیارے تباہ ہونے کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم اُنھوں نے کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کس ملک کے طیارے تھے۔

    انڈیا نے اس تنازع میں اپنے طیارے گرائے جانے کے حوالے سے کبھی کوئی واضح بیان نہیں دیا تاہم انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفینس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔'

  3. پاکستان کو ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ پر جوابدہ ٹھہرانا چاہیے: انڈیا کا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج پر ردِعمل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ انڈیا کی پاکستان کے ’زیر قبضہ کشمیر‘ میں ہونے والے احتجاج پر نظر ہے۔

    جمعے کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں اور کشمیر کے کئی علاقوں میں مظاہروں کی رپورٹیں دیکھی ہیں جن میں معصوم شہریوں پر پاکستانی فورسز کے مظالم بھی شامل ہیں۔‘

    رندھیر جیسوال نے الزام لگایا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے جابرانہ انداز اور ان علاقوں سے وسائل کی لوٹ مار کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ ان علاقوں پر اس کا زبردستی اور غیر قانونی قبضہ جاری ہے۔ پاکستان کو انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم انوار الحق نے بدھ کو نیوز کانفرنس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ لیکن دوسری جانب مظاہروں کی قیادت کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نو شہریوں کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ 'تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے اور بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ تشدد کے راستے سے کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے۔'

    عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کیا ہیں؟

    جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی 12 اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔

    اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔ حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے تھے۔

    پاکستان کے وزیر امور کشمیر امیر مقام نے جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دعویٰ کیا کہ 'ایکشن کمیٹی کے ساتھ دوران مذاکرات تمام عوامی مطالبات مان لیے گئے تھے مگر کشمیر کے اندر آئینی معاملات کو ہم ایک کمرے میں بیٹھے کر کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔'

  4. انڈیا اور چین کے درمیان پانچ سال بعد براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ

    Plane, Indigo

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا اور چین رواں ماہ براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کریں گے ، جو تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے کی طرف ایک اور قدم ہے۔

    سنہ 2020 کے بعد سے انڈیا اور چین کی مشترکہ ہمالیائی سرحد پر فوجیوں کی ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہ راست پروازیں نہیں ہوئی ہیں لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران دہلی اور بیجنگ سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے سمیت تعلقات کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    جمعرات کو انڈیا کی سب سے بڑی بجٹ ایئر لائن انڈیگو نے کہا کہ وہ 26 اکتوبر سے کولکتہ اور گوانگژو شہروں کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔

    جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں، انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ پروازوں کی بحالی سے دونوں ممالک کے مابین ’عوام سے عوام کے رابطے‘ کو مزید آسان بنایا جائے گا اور ’دو طرفہ تبادلوں کو بتدریج معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔‘

    انڈیا اور چین کی ایک غیر متعین سرحد ہے جو 3440 کلومیٹر سے زیادہ لمبی ہے اور دونوں ہی مختلف علاقوں کی ملکیت کے دعوےدار ہیں۔

    سنہ 2020 میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان دریائے گلوان وادی میں جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کم از کم 20 انڈین فوجی اور چار چینی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ سنہ 1975 کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یہ پہلا مہلک تصادم تھا اور اس کے نتیجے میں تعلقات منجمد ہوگئے۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے کے دوران بیجنگ اور دہلی کشیدہ تعلقات کو آہستہ آہستہ دوبارہ بحال کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

    دونوں اطراف کے اعلیٰ حکام کے مابین بات چیت کے کئی ادوار اور ملاقاتیں ہوئیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں انڈیا اور چین نے ہمالیہ کی متنازعہ سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے گشت کے انتظامات پر اتفاق ہوا تھا۔

    اس سال چین نے انڈین زائرین کو تبت کے خود مختار علاقے میں مذہبی اہمیت کے حامل کچھ مقامات پر جانے کی اجازت دی تھی جبکہ انڈیا نے چینی سیاحوں کے لیے ویزا خدمات دوبارہ شروع کیں اور مقررہ پاسوں کے ذریعے سرحدی تجارت کو کھولنے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محصولات عائد کرنے پر امریکہ کے ساتھ انڈیا کے کشیدہ تعلقات نے بھی دہلی اور بیجنگ کے تعلقات کو تقویت بخشی ہے۔

    اگست میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے دہلی کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا اور چین کو ایک دوسرے کو ’مخالف‘ کے بجائے ’شراکت دار‘ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اسی ماہ کے اواخر میں انڈیا میں چین کے سفیر سو فی ہونگ نے انڈیا اور دیگر ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے پر امریکہ کو ’بدمعاش‘ قرار دیا۔

    اگست میں وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے دفاعی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سات سال میں پہلی بار چین کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی اور دونوں نے انڈیا اور چین کے تعلقات کو معمول پر لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

  5. لندن سے واپس آ رہا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ کا پیغام ملا کہ ’برادر ہمیں مشترکہ بیان جاری کرنا پڑے گا‘: اسحاق ڈار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے دیا گیا 20 نکاتی ڈرافٹ وہ نہیں جس کی ہم (آٹھ اسلامی ممالک) نے توثیق کی تھی۔

    جمعہ کو قومی اسمبلی میں اس معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے بعد اُنھیں سعودی وزیر خارجہ کا پیغام موصول ہوا تھا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ نے اُنھیں بتایا کہ ’ٹرمپ کے پیش کیے گئے ڈرافٹ میں بہت سی چیزیں مان لی گئی ہیں، لیکن ہمیں کچھ میں اُن سے بات کرنا پڑے گی۔‘

    اُن کے بقول سعودی وزیر خارجہ کا مؤقف تھا کہ اُس وقت ہمارے پاس دو راستے تھے یا تو ہم ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی ڈرافٹ پر اعتراض کرتے اور اسرائیل کو غزہ میں مزید خون بہانے کا موقع ملتا۔ سعودی وزیر خارجہ نے تجویز دی کہ مسلم اور عرب ممالک کو اس معاملے پر ایک مشترکہ بیان جاری کرنا چاہیے جو ریکارڈ پر لانے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی بھجوایا جائے۔

    اسحاق ڈار نے ایوان میں وہ مشترکہ بیان بھی دوبارہ پڑھ کر سُنایا جس میں اُن کے بقول تنازع کے دو ریاستی حل، مقبوضہ مغربی کنارے سے اسرائیل کی مکمل دستبرداری جیسے نکات شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارہ، غزہ کا حصہ ہو گا۔

    اُن کے بقول مشترکہ بیان میں غزہ میں فوری جنگ بندی، تعمیر نو اور اسرائیل فوج کے غزہ سے مکمل انخلا جیسے نکات شامل ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم تن تنہا اس جنگ کو بند کروانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس معاملے پر اسلامی ممالک کی تنظیم، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تک ناکام ہو چکی تھی۔ ’اگر ہم نے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف کو الہام نہیں ہونا تھا کہ صدر ٹرمپ کے 20 نکات وہ نہیں ہیں جس کی ہم نے توثیق کی تھی۔ جب ہم نے ڈرافٹ دیکھا تو فوری طور پر اس معاملے میں اپنا بیان جاری کیا۔‘

    اسحاق ڈار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں غزہ سے متعلق صدر ٹرمپ کے ڈرافٹ اور پاکستانی حکومت کی جانب سے اس کی توثیق پر تنقید کر رہی تھیں۔

    بعض حلقوں کا کہ یہ بھی دعوی تھا کہ تنازع سے متعلق پاکستان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔

  6. پاکستان کی کسی مہم جوئی پر اُس کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل دیں گے: انڈین وزیر دفاع

    Indian FM

    ،تصویر کا ذریعہX/MinistryofDefenseIndia

    انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے سرکریک سیکٹر میں کوئی مہم جوئی کی تو انڈیا کا شدید ردعمل پاکستان کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو بدل دے گا۔

    یہ بات انھوں نے جمعرات کو ریاست گجرات میں بھج فوجی اڈے کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس تقریب میں انڈین فوج کے سربراہ سمیت سینیئر عسکری قیادت موجود تھی۔

    راج ناتھ سنگھ نے متعلقہ تفصیلات فراہم کیے بغیر دعویٰ کیا کہ پاکستان سرکریک سیکٹر میں اپنا فوجی عمل دخل بڑھا رہا ہے اور انفرا سٹرکچر بھی تعمیر کر رہا ہے جو اُن کے بقول ’پاکستان کی بدنیتی‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ یا فوج کی جانب سے انڈین وزیر دفاع کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    راج ناتھ سنگھ کا مزید دعویٰ تھا کہ انڈیا کی جانب سے مذاکرات کی متعدد کوششوں کے باوجود پاکستان نے گذشتہ 78 برسوں سے سرکریک کے علاقے کو متنازع بنایا ہوا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنہ 1965 کی جنگ میں انڈین فوج لاہور تک پہنچ گئی تھی اور ’2025 میں پاکستان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سرکریک سے ہوتی ہوئی ایک سڑک کراچی تک جاتی ہے۔‘

    اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے سٹریٹجک اہمیت کے حامل سرکریک سیکٹر میں دو اہم تنصیبات کا ورچوئل افتتاح بھی کیا، جن میں ٹئی ڈل انڈیپینڈنٹ برتھنگ فسیلٹی اور مشترکہ کنٹرول سینٹر شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کی مدد سے ساحل پر سکیورٹی آپریشنز بہتر ہوں گے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف فوری ردعمل دینے کی انڈین صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔

    انھوں نے تقریب کے دوران ’آپریشن سندور‘ میں انڈین فوج کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور دعویٰ کیا کہ دورانِ جنگ انڈین فوج نے دفاعی نیٹ ورک میں پاکستانی دراندازی کی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا۔

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انڈیا کو بیرونی جارحیت، دہشت گرد تنظیموں اور سائبر وار فیئر جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

    پاکستان اور انڈیا کے مابین سرکریک کا تنازع کیا ہے؟

    پاکستان اور انڈیا کے مابین سرکریک کے علاقے میں سمندری حدود پر تنازع ہے اور کئی بار دونوں ممالک نے اس معاملے پر مذاکرات بھی کیے ہیں جو کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

    جنوری 2006 میں دونوں ممالک کے ماہرین نے سرکریک کے علاقے کا مشترکہ سروے کروایا تھا اور متفقہ نقشے کے ساتھ سمندری حدود کے تعین کے بارے میں اپنے اپنے موقف پر مبنی سفارشات کا تبادلہ کیا تھا۔

    سنہ 2007 میں ہونے والی ملاقات میں بعض ایسے نئے نکات اٹھائے گئے تھے جس کے بعد دوبارہ سروے کرنے فیصلہ کیا گیا تھا۔

    سرکریک کی حد بندی سے متعلق انڈیا کا موقف رہا ہے کہ باؤنڈری یعنی سرحد، کھاڑی کے وسط تک ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کھاڑی کے مشرقی کنارے پر سرحد واقع ہے۔

  7. امداد لیجانے والے فلوٹیلا کی 41 کشتیاں اسرائیلی کی تحویل جبکہ ایک کشتی غزہ کے قریب پہنچ گئی

    Aid, Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کی سمندری ناکہ بندی توڑنے اور وہاں امداد پہنچانے کے لیے صمود گلوبل فلوٹیلا میں شامل ایک جہازغزہ کی جانب رواں دواں ہے۔

    فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق میرینیٹ نامی کشتی ’اب بھی مضبوط سفر کر رہی ہے اور غزہ کی پٹی سے تقریباً 77 میل کے فاصلے پر ہے۔ ۔

    میرینٹ نامی کشتی پر سوار ایک عمانی کارکن امامہ اللواتی نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ توقع ہے کہ اُن کی کشتی جمعے کی دوپہر کو غزہ کے ساحل پر پہنچے گی۔

    اس سے قبل اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ صمود گلوبل فلوٹیلا میں شامل 41 کشتیوں اور چھوٹے بحری جہازوں پر سوار مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد امدادی کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔

    میرینٹ نامی کشتی پر سوار ایک عمانی کارکن امامہ اللواتی نے بتایا کہ اُن کی کشتی میں چھ افراد سوار ہیں اور کشتی میں دورانِ سفر کچھ خرابی ہو گئی تھی جس کی مرمت میں دو دن لگے اور اسی انھیں فلوٹیلا میں شامل ہونے میں تاخیر ہوئی۔

    فلوٹیلا میں شامل باقی کشتیوں کو روکنے اور امدادی کارکنوں کو حراست میں لینے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’ہم تیار ہیں لیکن ہمیں اُمید ہے کہ شاید ہم غزہ پہنچ جائیں۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’تقریباً 12 گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں، اسرائیلی بحریہ نے 41 جہازوں پر سوار سینکڑوں افراد کی غزہ پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنایا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپریشن کے اختتام پر 400 سے زائد شرکا کو بحفاظت اشدود کی بندرگاہ پر پہنچا دیا گیا، جہاں اسرائیلی پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔‘

    Gaza, Aid

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی پولیس کا اہلکار فلوٹیلا میں شامل ایک جہاز کی تلاشی لے رہا ہے۔

    ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے امداد لانے والے سب سے بڑے جہاز میں وہ موجود ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کچھ خاص (امدادی سامان) ملا نہیں ہے۔ جیسے کہ ہم پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ اس کا مقصد امداد نہیں ہے اور یہ صرف اور صرف اشتعال انگیزی ہے۔‘

    اسرائیلی پولیس اہلکار نے کہا کہ یہاں سب امداد کے علاوہ سب کچھ ہے۔ یہ لوگ یہاں امداد پہنچانے نہیں بلکہ یہ سوشل میڈیا پر ہیڈلائنز بنانے کے لیے یہاں آئے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے ایکس پر جاری اس ویڈیو کے جواب میں کئی افراد نے اسے جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ جواب میں کئی صارفین نے ویڈیوز جاری کی ہیں جس میں امدادی سامان کے ڈبے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    ایکس پر کچھ صارفین نے کہا کہ وہ امدادی سامان کی رسیدیں شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  8. یہودی عبادت گاہ پر حملہ کرنے والے مسلح شخص شامی نژاد برطانوی شہری ہے: مانچسٹر پولیس

    Attack on Jews

    مانچسٹر میں واقع یہودی عبادت گاہ پر حملے کرنے والے شخص کی شناخت جہاد اشامائی کے نام سے ہوئی ہے۔ مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور 35 سالہ برطانوی شہری ہے۔ اُن کا خاندان شام سے برطانیہ منتقل ہوا تھا۔

    جمعرات کو مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر مسلح شخص کے حملے میں دو افراد ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد یہودی تھے اور مسلح حملہ آور بھی مارا گیا تھا۔

    برطانیہ میں کرَمپسال مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر ہونے والے حملے کو کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ’مشتبہ شخص کو ابتدائی کال کے سات منٹ کے اندر پولیس اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔‘

    پولیس کے مطابق حملہ آور اشامائی بچین میں شام سے برطانیہ آئے تھے اور 2006 میں انھیں برطانوی شہریت ملی تھی۔

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے اس حملے کی مذمت کی جو یہودی کیلنڈر کے مقدس ترین دن پر ہوا ہے۔

    برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر جو کوپن ہیگن میں سربراہی اجلاس میں موجود تھے اس واقعے کے بعد وہ اپنا دورہ مختصر کر کے برطانیہ واپس پہنچ گئے ہیں۔

  9. حماس کے رہنماؤں کا غزہ کے مجوزہ امن منصوبے پر متفق ہونا مشکل ہے: بی سی سی کا ثالثوں سے رابطہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ کی جانب غزہ میں امن کے مجوزہ پلان کے اعلان کے بعد بی بی سی نے اُن ثالثوں سے بات کی ہے جو حماس کے عسکری ونگ کے سے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    ثالثوں کے مطابق حماس جنگ بندے کے نئے منصوبے پر بظاہر متفق دکھائی نہیں دیتی ہے۔

    عزالدین الحداد کا ماننا ہے کہ حماس تسلیم کرے یا نہیں کرے لیکن یہ منصوبہ حماس کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس لیے وہ لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبے جیسے اسرائیل نے تسلیم کیا ہے اُس میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور مستقبل میں غزہ پر حکومت میں کوئی کردار نہ ہونے کی شرط موجود ہے۔

    دوسری جانب بعض اطلاعات کے مطابق قطر میں حماس کی سیاسی قیادت اس پلان کو کسی حد تک قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن تنظیم پر اُن کا اثر و رسوخ محدود ہے اور ان کے پاس زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کا کنٹرول نہیں ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق 48 اسرائیلی یرغمالی ابھی بھی حماس کے پاس موجود ہیں جس میں سے 20 زندہ ہیں۔

    مجوزہ امن منصوبے کے تحت تمام یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں میں رہائی کرنا ہو گا جو اب تک حماس کے لیے وہ واحد نکتہ ہے جس پر وہ مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

    صدر ٹرمپ کی گارنٹیز کے باوجود بھی کیا اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع نہیں کرے گا لیکن حماس اس بارے میں شکوک شبہات کا شکار ہے۔

    بعض ثالثوں کا کہنا ہے کہ حماس کے بعض رہنما امریکہ اور عرب ریاستوں کی جانب سے غزہ میں ’عارضی بین الاقوامی استحکام فورس‘ کی تعیناتی پر اعتراض کر رہے ہیں اور وہ اسے قبضہ ہی سمجھ رہے ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غزہ سے اسرائیلی افواج کے مجوزہ انخلا جو روڈ میپ دیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مصر اور اسرائیل کے ساتھ غزہ کی سرحد پر ’سیکیورٹی بفر زون‘ بنایا جائے گا۔

    حماس سے رابطہ کرنے والے ثالثوں سے بات چیت کے بعد بی بی سی کے خیال میں یہ واضح نہیں ہے کہ سکیورٹی بفر زون کا انتظام کون چلائے گا لیکن اگر اسرائیل اس میں شامل ہوتا ہے تو یہ متنازع ہو گا۔

  10. وویمن کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان، انڈیا میچ: کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے یا گلے لگنے کی ’کوئی یقین دہانی‘ نہیں ہے

    Women world cup

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایشیا کپ کے اختتام کے بعد اس وقت انڈیا میں وویمن کرکٹ ورلڈ کپ جاری ہے اور اس حوالے سے روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں اتوار کو مدمقابل ہوں گی۔

    انڈین کرکٹ بورڈ یعنی بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے کہ اتوار کو انڈیا اور پاکستان کی وویمن کرکٹ ٹیم کے میچ کے دوران باقاعدہ ہاتھ ملایا جاتا ہے یا نہیں۔

    یاد رہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے میچز میں کئی ایسے واقعات ہوئے جو کرکٹ کے گراؤنڈ پر پہلی بار دیکھے گئے تھے۔ انڈین ٹیم نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا جبکہ فائنل جیتنے کے بعد انڈین ٹیم نے ایشیئن کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

    اتوار کو کولمبو میں انڈین اور پاکستانی وویمن ٹیموں کے مقابلے سے قبل انڈین کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ ’وہ کسی چیز کے بارے میں پیشنگوئی نہیں کر سکتے ہیں، خاص کر کے ایسے ملک کے بارے سے میں جس سے تعلقات کشیدہ ہوں کیونکہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کچھ بدلہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا اور پاکستان کا میچ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں کھیلا جائے گا اور میچ میں کرکٹ کے قواعد و ضوابط کی پیروی کی جائے گی۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی ضوابط ہیں اُن کا خیال رکھا جائے گا۔ کیا کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی، یا گلے ملیں گی اس پر میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔‘

    وویمن کرکٹ ورلڈ کپ انڈیا میں ہو رہا ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں ہوں گے۔

  11. یہودی عبادت گاہ پر حملہ ’دہشت گردی کا واقعہ‘ قرار، حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک ہوئے: مانچسٹر پولیس

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ میں کرَمپسال مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر ہونے والے حملے سے متعلق اب سے کُچھ دیر قبل کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے اسسٹنٹ کمشنر لارنس ٹیلر نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے اس واقعے کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا ’ہم اس واقعے پر ’انتہائی افسردہ‘ ہیں۔ ہم اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہیں۔‘

    یہودی عبادت گاہ پر ہونے والے حملے میں اب تک حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اس حملے کے بعد اب سے کُچھ دیر قبل دو مزید گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث حملہ آور کی شناخت کے بارے میں معلوم کر چُکے ہیں لیکن وہ فی الحال ’حفاظتی وجوہات‘ کی بنا پر اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    دوسری جانب گریٹر مانچسٹر پولیس کے چیف کانسٹیبل سٹیفن واٹسن نے کہا ہے کہ ’مانچسٹر کی یہودی برادری کے دو افراد بدقسمتی سے اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ ’مشتبہ شخص کو ابتدائی کال کے سات منٹ کے اندر پولیس اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’چار مزید افراد شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔‘

    اسی دوران چند لمحے پہلے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر ڈاؤننگ سٹریٹ پہنچے ہیں جہاں وہ ایمرجنسی کوبرا کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرنےجا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیرِاعظم کوپن ہیگن میں سربراہی اجلاس میں موجود تھے لیکن اس واقعے کے بعد وہ اپنا دورہ مختصر کر کے برطانیہ واپس پہنچ گئے ہیں۔

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

  12. مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملے میں دو افراد ہلاک، ہم حملہ آور کے بارے میں اب تک کیا جانتے ہیں؟

    BBC

    گریٹر مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے برطانیہ کے علاقے مانچسٹر میں ایک یہودی عبادت گاہ پر گاڑی سے ہونے والے حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    کرَمپسال مانچسٹر میں واقع یہودی عبادت گاہ کے گرد پولیس کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

    علاقے میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے جبکہ اس حملے کے بعد بڑی تعداد میں یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آج مانچسٹر میں ہونے والے حملے کے مبینہ حملہ آور کی ایک تصویر حملے کی جگہ کے بالکل باہر لگی باڑ کے قریب سے لی گئی تھی۔

    انتظامیہ کی جانب سے جس فرد کی تصویر سامنے آئی ہے اُن کے سر پر بال نہیں ہیں، اُن کے چہرے پر سیاہ داڑھی ہے، انھوں نے سیاہ لباس پہن رکھا ہے اور کمر کے گرد کُچھ سفید رنگ کی اشیا دیکھائی دے رہی ہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق یہ تصویر اُسی فرد کی معلوم ہوتی ہے کہ جنھیں یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد پولیس کی فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ تصویر ہیٹن پارک کے مغربی جانب واقع یہودی عبادت گاہ کے باہر لی گئی تھی۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. اسلام آباد پریس کلب میں پولیسں کا ’صحافیوں اور دیگر افراد پر تشدد‘: حکومت اور صحافی رہنما کیا کہتے ہیں؟

    Qamar ul Munawar

    ،تصویر کا ذریعہQamar ul Munawar

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں قائم نیشنل پریس کلب میں جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس نے داخل ہوکر کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں موجود صحافیوں اور دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

    نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے اس واقعے کی اب تک سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار نیشنل پریس کلب کے اندر صحافیوں کو دھکے دے رہے ہیں جبکہ کُچھ اہلکار پریس کلب کے کیفے ٹیریا میں توڑپھور کر رہے ہیں۔

    نیشنل پریس کلب کے سنیِئر جوائنٹ سیکریٹری سید گردیزی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’پریس کلب کے باہر عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی مظاہرین احتجاج کر رہے تھے اور اسی وقت اسلام آباد پولیس کے اہلکار وہاں پہنچے اور انھوں نے وہاں صحافیوں کے کیمرے اور موبائل فون چھیننے کی بھی کوشش کی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد پولیس اہلکار پریس کلب کے اندر داخل ہوئے اور وہاں انھوں نے کوریج پر مامور صحافیوں اور دیگر افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی۔‘

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تشدد کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’صحافی برادری پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں۔ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کا تعین کر کے انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

    دوسری جانب پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کے ہمراہ بات کرتے ہوئے وزیر مُملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وہ اس واقعے پر معذرت خواہ ہیں اور اس کی انکوائری کا حکم بھی دیا جا چُکا ہے۔

    واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے اُن کا دعویٰ تھا کہ کُچھ افراد نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ پریس کلب کے باہر ہاتھا پائی کی تھی اور پولیس اُن ہی کا پیچھا کرتے ہوئے پریس کلب میں داخل ہوئی تھی۔

    پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے عہدیداروں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو انھیں بھی مارا گیا۔‘

  14. مظفر آباد کے لال چوک میں عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری: ’مطالبات کی منظوری تک مذاکرات نہیں ہوں گے‘, نصیر چوہدری، صحافی، مظفرآباد

    Naseer Chaudhry

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    ،تصویر کا کیپشنمظفر آباد میں بدھ کے روز سکیورٹی اداروں سے ہونے والی جھڑپوں میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے مظاہرین کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال کا آج چوتھا روز ہے اور مظاہرین کی ایک بڑی تعداد مظفر آباد کے لال چوک میں اُن افراد کی میتوں کے ہمراہ موجود ہے جو، ایکشن کمیٹی کے مطابق، گذشتہ روز ہونے والے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر سکیورٹی اداروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

    احتجاج کے چوتھے روز بھی کشمیر کے مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں ہوئی ہیں۔ جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ تب تک میتوں کی تدفین نہیں کریں گے جب تک اُن کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔

    اس سے قبل مظفر آباد میں کم از کم دو افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسمبلی کی 12 نشستوں کے معاملے پر جب تک کوئی حل سامنے نہیں آتا تب تک حکومتی کمیٹی سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

    جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    اس موقع پر ممبر عوامی ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر کی جانب سے مظاہروں کے دوران دس افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، تاہم مظاہرین کی ہلاکت سے متعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم انوار الحق نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ’کچھ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں تاہم اس بات کی اب تک تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔‘

    دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کی غرض سے وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ مذاکراتی کمیٹی مظفر آباد پہنچ گئی ہے۔

    ممبر عوامی ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر کا کہنا ہے کہ ’مذاکرات اسمبلی کی 12 نشتوں، حکمرانوں کی مراعات، کوٹہ سسٹم کے خاتمہ کے بعد ہی ہو سکیں گے، اس سے پہلے ہم کسی سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔‘

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومتی وفد میں شامل وفاقی وزرا میں امیر مقام، طارق فضل چوہدری، رانا ثنا اللہ، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، سردار یوسف، احسن اقبال اور مسعود شامل ہیں۔

    اس سے قبل جمعرات کی صبح وزیر اعظم شہباز شریف نے کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں کے شہریوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔‘ وزیر اعظم نے مظاہروں کے دوران ہونے والے ناخوشگوار واقعات کی شفاف تحقیقات کا حکم بھی دے دیا تھا۔

  15. وزیر اعظم شہباز شریف کا غزہ فلوٹیلا میں شامل پاکستانیوں کی واپسی کا مطالبہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPak-Palestine Forum

    وزیر اعظم شہباز شریف نے صمود غزہ فلوٹیلا میں شامل پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کا ’بھرپور‘ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی اور بلاتعطل امداد کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ صمود غزہ فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس عظیم امدادی مشن میں حصہ لیا اور یہ اقدام پاکستانی عوام کی امن پسند امنگوں، انصاف کے لیے جدوجہد، اور ضرورت مندوں کی مدد کے جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا امدادی سامان سے لدی ہوئی کشتیوں کا ایک قافلہ ہے جس کی قیادت درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن کر رہے ہیں۔

    یہ فلوٹیلا 500 سے زائد افراد پر مشتمل ہے جن میں دو پاکستانی شہری، سابق سینیٹر مشتاق احمد اور لاہور سے تعلق رکھنے والے سید عزیر نظامی، شامل ہیں۔

    اب تک کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل کم از کم 13 کشتیوں کو روک لیا ہے اور اس پر سوار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

    اس فلوٹیلا میں شامل دونوں پاکستانی زیر حراست ہیں یا نہیں، تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم دونوں افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اُن کے آخری مرتبہ ان سے رابطہ گذشتہ رات ہوا تھا اور اس کے بعد سے رابطہ بحال نہیں ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ ابتدائی طور پر چھ پاکستانیوں کو اس فلوٹیلا کا حصہ بننا تھا تاہم تکنیکی و دیگر وجوہات کی بنیاد پر صرف یہ دو افراد ہی اس کا حصہ بن پائے تھے۔

  16. مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملے میں چار افراد زخمی، حملہ آور ہلاک: برطانوی پولیس

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے علاقے مانچسٹر میں ایک یہودی عبادت گاہ پر گاڑی سے ہونے والے حملے اور بعد ازاں چاقو کے وار سے چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کا کہنا ہے کہ ’ملزم کو پولیس کی جانب سے گولی مار دی گئی ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک ہو گیا ہے۔‘تفصیلات کے مطابق پولیس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ جمعرات کی صبح نو بج کر 31 منٹ پر بی ایس ٹی پر ایک شہری کی کال موصول ہوئی جنھوں نے حملے کہ یہ مناظر دیکھے۔ اس حملے میں اب تک یہ بتایا گیا ہے کہ چار شہری گاڑی کے ٹکرا جانے اور چاقو کے وار سے زخمی ہوئے ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ جب طبی عملہ موقع پر پہنچا تو انھیں چار افراد زخمی حالت میں ملے، پولیس کا کہنا ہے کہ یہ زخم گاڑی کے ٹکرا جانے اور چاقو کے وار دونوں کے نتیجے میں آئے ہیں۔

    یہ واقعہ یہودی مذہب کے ایک اہم اور مقدس دن ’یومِ کپور‘ پر پیش آیا ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  17. وزیرِ اعظم کی ہدایت پر حکومتی وفد عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے آج مظفرآباد جائے گا: ’تشدد سے معاملات الجھتے ہیں، سلجھتے نہیں‘

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم انوارالحق کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے مذاکرات کا سلسہ بحال کرنے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی وفد آج مظفرآباد جا رہا ہے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی میں شامل سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اس وفد میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بیٹھ کر آپس میں بات کرنی ہوگی کیونکہ ’تشدد سے معاملات الجھتے ہیں، سلجھتے نہیں۔‘

    حکومتی کمیٹی کے رکن احسان اقبال کا کہنا تھا کہ وفد کے دورے کا مقصد پاکستان کے زیرِ انٹطام کشمیر کے حالات کا جائزہ لینا اور مظاہرین سے مذاکرات کرنا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جو بھی جائز مطالبات تسلیم کیے جا سکیں گے، وہ کریں گے۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت بہت سے ایسے عناصر موجود ہیں حو ان حالات کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کے داخلی امن اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کشمیر کے عوام سے کہنا چاہیں گے کہ ’ہم کوئی ایسی صورتحال نہ بنائیں جس کا پاکستان کے مخالفین فائدہ اٹھا سکیں۔‘

    وفد میں شامل سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ہماری ہر ممکن کوشش ہو گی کہ کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات فوراً پورے کیے جائیں اور انھیں اس صورتحال سے جلد از جلد نکالا جائے۔

    اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا تھا اور حکومتی سطح پر اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی توسیع کا فیصلہ کیا تھا۔

    کمیٹی میں سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزرا بشمول سردار یوسف، احسن اقبال، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو بھی شامل کر دیا ہے۔

  18. انسانوں اور چمپنزیوں کے رویوں میں مماثلت کا انکشاف کرنے والی محقق ڈاکٹر جین گودال وفات کر گئیں

    Dr Dame Jane Goodal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جانوروں کی بہبود اور بالخصوص چمپنزیوں کی عالمی شہرت یافتہ ماہر ڈاکٹر جین گودال 91 برس کی عمر میں وفات کر گئیں۔

    جین گودال انسٹیٹیوٹ کے بیان کے مطابق ڈاکٹر گودال کی طبی موت اُس وقت ہوئی جب وہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے دورے پر تھیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی دریافتوں نے ’سائنس میں انقلاب برپا کیا‘ اور انھوں نے ’ہماری قدرتی دنیا کے تحفظ اور بحالی کے لیے بھرپور آواز اُٹھائی۔‘

    ڈاکٹر گودال 1934 کو لندن میں پیدا ہوئیں اور اُن کے مطابق ٹارزن اور دی سٹوری آف ڈولیٹل جیسی کتابین پڑھنے کے بعد اُن کی جانوروں میں دلچسپی پیدا ہوئی۔

    جب اُن کی عمر تقریباً 25 سال تھی تو کینیا میں ایک دوست کے فارم پر اُن کی ملاقات معروف پرائمیٹولوجسٹ یا انسانی ارتقا کے ماہر پروفیسر لوئس لیکی سے ہوئی۔ اُن کے پاس کوئی ڈگری نہیں تھی لیکن پروفیسر لیکی نے اُن کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے جین کو اپنی تحقیقی دورے میں شامل کیا۔ انھوں نے 1960 میں تنزانیہ کے جنگلوں میں اپنا پہلا تحقیقی دورے کیا۔

    اسی سال انھوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ جانور بھی معمولات انجام دینے میں آلات استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے دیکھا بڑا چمپینزی ایک چھڑی کی مدد سے ٹیلے پر لگی دیمک کھود رہا ہے۔ چین نے اس چمپینزی کو ڈیوڈ گرے بیئر کا نام دیا۔

    اس سے پہلے یہی سمجھا جاتا تھا کہ صرف انسانی ہی ہیں جو ذہانت کو بروے کار لاتے ہوئے مختلف آلات استعمال کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر چین کے ان مشاہدات نے برسوں پرانی روایتی سوچ پر مبنی سائنس کو چیلنج کیا اور مستقبل میں ارتقائی سائنس کو ایک نئی سمت کی جانب گامزن کیا۔

    اُن کی یہ تحقیق معروف جرائد میں شائع ہوا، اور 1965 معروف جریدے نیشنل جیوگرافک نے انھیں فرنٹ کور پر شائع کیا۔ جس سے دنیا کو پریمیٹ کی جذباتی اور سماجی رویوں کے بارے میں پتہ چلا۔

    ڈاکٹر گودال کی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا کہ جانور خاندانوں میں رہتے ہیں اور وہ علاقوں پر بھی جنگ کرتے ہیں۔ ڈاکومینٹری میں انھیں چمپینزی کے بچے کے ساتھ کھیلتے اور کشتی کرتے دیکھا گیا۔

    اپنی تحقیق کے دوران وہ جن جانوروں پر ریسرچ کرتی تھیں، اُن کے ساتھ وقت گزارتی تھیں، اُن کے نام رکھتی تھیں اور انھیں اپنے دوست کے طور پر مخاطب کرتی تھیں، جس کا بعض اوقات مذاق اڑایا تھا۔ انڈرگریجویٹ ڈگری یا کوئی سائنسی تربیت نہ ہونے کے باوجود اپنے تحقیق کی بنیاد پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔

    انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جانوروں ک تحفظ، چڑیا گھروں میں قید چمپنزیوں کی رہائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب اُن کی رہائش گاہوں کو ہونے والے تباہیوں کو بہتر کرنا میں گزرا

  19. وزیرِاعظم شہباز شریف کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیش آئے پُرتشدد واقعات کی تحقیقات کا حکم، زخمی پولیس اہلکاروں کا پمز میں علاج جاری

    وزیر اعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے اور حکام کو احتجاجی مظاہروں سے متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے تاہم مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ گذشتہ تین روز سے احتجاج کر رہی ہے۔ بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 150 زخمی ہوئے تھے جبکہ ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ اس جھڑپوں میں دو مظاہرین بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کے ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ عوامی جذبات کا احترام یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری سختی سے اجتناب برتیں۔‘

    شہبازشریف نے کہا کہ ’حکومتِ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔‘

    انھوں نے مظاہروں کے دوران پیش آئے ناخوشگوار واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی سطح پر اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی میں سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزرا بشمول سردار یوسف، احسن اقبال، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو بھی شامل کر دیا ہے۔

    شہبازشریف نے مذاکراتی کمیٹی کو فوراً مظفرآباد پہنچنے اور مسائل کے فوری اور دیرپا حل نکالنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے ایکشن کمیٹی کے اراکین اور قیادت سے اپیل کی ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کرے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی اپنی سفارشات اور مجوزہ حل بلا تاخیر وزیراعظم آفس کو بھجوائے تاکہ مسائل کے فوری تدارک کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔ وزیراعظم نے وطن واپسی پر مذاکرات کے عمل کی خود نگرانی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    عمر نذیر

    ،تصویر کا ذریعہSardar Umar Nazir

    ’بامعنی مذاکرات کے لیے مواصلاتی بلیک آؤٹ فوری ختم کریں‘

    دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں جاری بحران پر فوری توجہ دیں۔

    کور کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر کشمیری نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے مواصلاتی بلیک آؤٹ کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

    سردار عمر نذیر کشمیری نے گذشتہ روز کشمیر کے وزیر اعظم کی جانب سے نیوز کانفرنس کے جواب میں کہا ہے کہ ’29 ستمبر کے بعد سے ایک پرامن عوامی تحریک کو ریاستی جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر پابندیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ریاستی فورسز اور غیر مقامی اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم نو نہتے شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔‘

    ان کا الزام عائد کیا کہ پولیس کے تین اہلکار بھی غیر مقامی فورسز کی گولیوں سے مارے گئے ہیں۔

    جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جان بوجھ کر اشیائے ضروریہ، خوراک اور ایندھن کی قلت پیدا کرنے کے لیے بین الصوبائی شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔‘

    بیان میں اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں، آزادانہ تحقیقات کریں اور خونریزی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔

    بیان کے مطابق ’عوامی ایکشن کمیٹی نےپاکستان یا اس کی مسلح افواج کے خلاف کوئی مہم شروع نہیں کی۔ یہ تحریک مکمل طور پر پرامن اور آئینی ہے اور اس کا مقصد صرف کشمیری عوام کے سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔‘

    چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت

    یاد رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’تشدد کے راستے سے کسی بھی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔ تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے۔‘

    چوہدری انوارالحق کا کہنا تھا کہ ’اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جاری مظاہروں میں بدھ کے روز خاصی شدت دیکھی گئی اور چمیاٹی کے مقام پر جھڑپ کے دوران تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہے۔‘

    وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’عوامی ایکش کمیٹی کے پرامن احتجاج کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم پاکستان نے میری ذمہ داری لگائی کہ آپ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کریں اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے کوشش کریں۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات کو تسلیم کیا ہے اور مزید پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔‘

    چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ ’بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چمیاٹی کے مقام پر تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔‘

    ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پولیس کے علاوہ عام ان پرتشدد واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اس حوالے سے تاحال تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

    یاد رہے کہ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔

    اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔

    حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے تھے۔

  20. ایلون مسک، 500 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں والے دنیا کے ’پہلے شخص‘

    Musk, Tesla,

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے شیئرز میں اضافے کے بعد کمپنی کے مالک ایلون مسک کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 500 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد وہ 500 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے رکھنے والے دنیا کے پہلے شخص بن گئے ہیں۔

    فوبز ارب پتی انڈیکس کے مطابق بدھ کو ایک موقع پر ایلون مسک کے مجموعی دولت کی مالیت 501 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو پھر بعد میں کچھ کم ہو کر 499 ارب ڈالر ہو گئی۔

    حالیہ کچھ عرصے کے دوران سٹاک مارکیٹ میں ٹیسلا کے علاوہ راکٹ کمپنی سپیس ایکس، انٹیلیجنس سٹارٹ اپ ایکس اے آئی کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    جس کے بعد دنیا کے امیر ترین شخص کے طور پر ایلون مسک کی پوزیشن اور بھی مستحکم ہوئی ہے اور عالمی سطح اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں وہ اپنے حریفوں سے کافی آگے ہیں۔

    فوبز ارب پتی انڈیکس کے مطابق اوریکل کپمنی کے بانی اور دوسرے نمبر پر دنیا کے امیر ترین شخص لیری ایلسین کی دولت کی مالیت 350 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔

    گذشتہ ماہ ایلون مسک کچھ دیر کے لیے دنیا کے سب سے امیر شخص کے اعزاز سے اُس وقت محروم ہو گئے جب اوریکل کمپنی کے شریک بانی لیری ایلیسن نے کچھ دیر کے لیے یہ عہدہ ان سے چھین لیا۔

    بلوم برگ کی ارب پتی انڈیکس کے مطابق دن ایلیسن کی دولت بڑھ کر 393 ارب ڈالر ہو گئی تھی جبکہ ایلون مسک کی مجموعی دولت کی مالیت 385 ارب ڈالر لگائی جاتی ہے۔

    لیکن پھر لیری ایلسین کی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں کچھ کمی آئی۔ یوں دنیا کے سب سے امیر شخص ایک بار پھر ایلون مسک بن گئے۔

    مسک کی دولت کا بہت بڑا حصہ ٹیسلا پر مشتمل ہے جس کے 12 فیصد شیئرز اُن کے پاس ہیں۔ ٹیسلا کے شئیرز میں تیزی سے آضافہ ہو رہا ہے۔

    بدھ کو نیو یارک میں ٹریڈنگ کے اختتام پر ٹیسلا کے حصص میں سے زائد اضافہ ہوا ہے اور رواں سال اس کی قیمت 20 فیصد تک بڑھی ہے۔

    ٹرمپ حکومت سے علیحدگی کے بعد سرمایہ کاروں کا رجحان ایلون مسک کی کمپنیوں میں بڑھا ہے۔