انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا۔ ہم احتیاط کا دامن نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہ (انڈیا) بہت مایوسی کی حالت میں ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو 'آنے والے دنوں میں' واپس لایا جائے گا۔
  • اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے لیے مذاکرات آنے والے دنوں میں مصر میں دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
  • غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 66 افراد ہلاک ہو گئے ہیں
  • حماس نے غزہ میں امن کے مجوزہ منصوبے کے تحت اسرائیلی مغویوی کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ غزہ پر بمباری بند کرے۔
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔
  • ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں زیادہ تر ایف-16 تھے: انڈین ایئر چیف کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات مصر میں دوبارہ شروع ہوں گے, ہیوگو باچیگا، یروشلم سے بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے لیے مذاکرات آنے والے دنوں میں مصر میں دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے کہ جب حماس کی جانب سے باقی تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے تاہم اُن کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ معاہدے میں موجود دیگر معاملات پر ابھی مزید بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

    حماس پر اس معاملے کو لے کر دباؤ بڑھ رہا تھا کہ کہ وہ غزہ کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے امن منصوبے میں سے کم از کم کچھ نکات پر رضا مندی ظاہر کرے اور اب یہ سب سامنے بھی آرہا ہے کہ حماس نے یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

    لیکن صدر ٹرمپ کے اس منصوبے میں اہم رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں جن میں حماس کا غیر مسلح ہونا، فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے ایک ٹائم لائن اور اس بات کی ضمانتیں شامل ہیں کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل دوبارہ غزہ پر حملہ آور نہیں ہوں گے یا جنگ ایک مرتبہ پھر سے شروع نہیں کر دی جائے گی۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امن منصوبہ اور حماس اور اسراییل کے درمیان اس بات چیت کے ساتھ ساتھ غزہ سٹی میں آئی ڈی ایف کے تازہ فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل سے غزہ سٹی پر بمباری روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    صدر ٹرمپ خود ان مذاکرات میں ذاتی طور پر شامل ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ایک بھر پور کوشش کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس بات کی کسی کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ معاہدہ طے بھی پا جائے گا یا نہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. حماس کے ردِعمل پر غزہ میں شکوک اور حیرت کا غلبہ: ’کیا جنگ ختم ہو گئی ہے؟ یہ خواب ہے یا حقیقت؟‘, رشدی ابوالعوف۔ بی بی سی، غزہ کے نامہ نگار

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جب حماس نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر محتاط اور سنجیدہ ردعمل جاری کیا تو اس سے غزہ میں لوگوں کو خاصی حیرت ہوئی۔

    سینکڑوں فلسطینیوں نے سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی: ’کیا جنگ ختم ہو گئی ہے ؟ یہ خواب ہے یا حقیقت؟۔‘

    حماس کا بیان، جو مبینہ طور پر ثالثوں کی مدد سے تیار کیا گیا، اس میں براہِ راست انکار سے گریز کرتے ہوئے ٹرمپ کے منصوبے سے اتفاق کیا گیا ہے۔۔ جس نے گیند اسرائیل کے کورٹ میں واپس ڈال دی ہے۔

    موجودہ ردعمل میں امید اور شبہات دونوں شامل ہیں۔ کچھ فلسطینیوں کو خوف ہے کہ حماس جال میں پھنس گئی ہے اور اسرائیل یرغمالیوں کی واپسی کے بعد دوبارہ جنگ شروع کر دے گا۔ جبکہ دیگر اسے دو سالہ تباہی کے خاتمے کا تاریخی موقع سمجھتے ہیں۔

    غزہ میں رہنے والے ابراہیم فارس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’صبر کریں، جلدی خوش نہ ہوں۔ تفصیلات پر متعدد مذاکرات ہوں گے۔ شیطان ہمیشہ تفصیلات میں چھپا ہوتا ہے۔ خدا کرے کہ یہ آگے بڑھے، مگر لبنان کو دیکھیں، وہاں ابھی بھی بے گھر لوگ ہیں اور فضائی حملے جاری ہیں۔‘

    محمود داھر نے فیس بک پر لکھا کہ حماس کا ردعمل غیر معمولی تھا کیونکہ یہ براہِ راست تھا: ’اس بار فوراً ’لیکن‘ نہیں آیا۔ یرغمالیوں کی رہائی، جنگ کا خاتمہ اور فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات منتقل کرنا سب ’ہاں‘ تھا۔ یہاں تک کہ حماس نے ٹرمپ کی تعریف بھی کی۔‘

    تاہم سب قائل نہیں ہیں۔ حماس کے طویل عرصے سے ناقد خلیل ابو شمّالہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تحفظِ اقتدار کے لیے تھا: ’یہ حکمت یا عوام کو ترجیح دینے کا نام دے سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حماس طاقت میں رہنا چاہتی ہے۔ مجھے شک ہے کہ حماس نے خود یہ بیان لکھا۔۔۔ یہ بہت ہوشیار ردِعمل تھا۔‘

    فی الحال غیر یقینی کی فضا غالب ہے۔ امید موجود ہے مگر شک بھی ہے۔۔۔ فلسطینی دیکھ رہے ہیں کہ کیا کاغذ پر لکھے گئے الفاظ واقعی جنگ ختم کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔

  3. گذشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 66 افراد ہلاک

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 66 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 67,074 تک پہنچ گئی ہے۔

    وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 265 زخمی افراد ہسپتالوں میں لائے گئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کئی افراد ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور فی الحال انھیں مدد فراہم نہیں کی جا سکی۔

  4. اسرائیلی فوج کو یرغمالیوں کی واپسی کے لیے الرٹ رہنے کا حکم

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے تیاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ پٹی میں فوجی اہلکاروں کی حفاظت سب سے بڑی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ’آئی ڈی ایف کے تمام وسائل کو جنوبی کمانڈ کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے‘ تاکہ اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’آپریشنل حساسیت کے پیشِ نظر، تمام فوجیوں کو انتہائی چوکس اور ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ کسی بھی خطرے کو فوری طور پر ناکارہ بنانے کے لیے تیزی سے ردِعمل کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔‘

    ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے مطابق باقی 48 یرغمالیوں میں سے 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے اور حماس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ معاہدہ منظور ہونے کے 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

    تاہم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے سے اصولی طور پر متفق ہے لیکن چند اہم نکات پر مزید مذاکرات چاہتی ہے۔

  5. اسحاق ڈار کا سعودی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ: ’حماس کے حالیہ ردعمل جیسے اقدامات خونریزی کے خاتمے کے لیے امید کی کرن ہیں‘

    DPM_PK

    ،تصویر کا ذریعہDPM_PK

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔

    دونوں رابطوں میں علاقائی صورتِ حال، بالخصوص غزہ کی سنگین صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہِ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان نے آٹھ عرب و اسلامی ممالک اور امریکہ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی مشاورتوں کا جائزہ لیا، جن کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اور غزہ میں دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے۔

    ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے ان کوششوں میں سعودی وزیرِ خارجہ کے تعمیری کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر حماس کے ردعمل سمیت تازہ علاقائی پیش رفت پر بھی گفتگو کی۔

    ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مصری وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے بھی گفتگو کی،جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور غزہ کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے عرب و اسلامی ممالک کے درمیان جاری مشاورتوں اور ان سفارتی کوششوں پر تبادلہِ خیال کیا جو فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی ترسیل اور دیرپا امن کے قیام کے لیے جاری ہیں۔

    ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ حماس کے حالیہ ردعمل جیسے اقدامات خونریزی کے خاتمے کے لیے امید کی کرن ہیں۔

    دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ غزہ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھیں گے۔

  6. سابق یرغمالی کا ٹرمپ سے مطالبہ: ’کام مکمل کریں‘ اور باقی یرغمالیوں کو گھر واپس لائیں

    BBC

    سابق یرغمالی ایلی شَرابی، جنھیں 491 دن کی قید کے بعد پتہ چلا کہ اُن کی برطانوی نژاد اسرائیلی بیوی اور بیٹیاں 7 اکتوبر کو ہلاک ہو چکی تھیں، نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’کام مکمل کریں‘ تاکہ باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی یقینی بنائی جا سکے۔

    اپنے پہلے برطانوی انٹرویو میں، جو گذشتہ روز بی بی سی پر نشر ہوا، اُنھوں نے کہا کہ جنگ کو ختم ہونا چاہیے تاکہ یرغمالی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

    انھوں نے حماس کی قید میں اپنے ساتھ ہونے والے تشدد اور بھوک کے تجربات بیان کیے اور وہ لمحہ یاد کیا جب رہائی کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان کا خاندان زندہ نہیں رہا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. اسرائیل کے غزہ پر تین فضائی حملے، اسرائیلی مذاکراتی ٹیموں کو بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت

    اسرائیل سے آنے والی متعدد اطلاعات کے مطابق مذاکراتی ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آج بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کریں تاکہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر پیش رفت کی جا سکے۔

    اسرائیلی اخبار ہارٹز اور چینل 12 کے مطابق، ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آج ہی ’روانگی کے لیے تیار رہیں‘، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کہاں کا سفر کریں گی۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ پر آج صبح تین فضائی حملے

    طبی ذرائع کے مطابق غزہ شہر صبح سے اب تک تین الگ الگ فضائی حملوں کا نشانہ بنا ہے، جن میں سے ایک حملے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ معلومات الشفا ہسپتال کے ذرائع نے فراہم کی ہیں۔

    پہلا حملہ النصر سکول کے قریب النصر سٹریٹ پر اُس وقت ہوا جب مقامی رہائشی اپنے گھروں کی صورتحال دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ حملہ ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے کیا۔

    دوسرا حملہ الجلا سٹریٹ پر زہارنہ اور غفری علاقوں کے درمیان کیا گیا، تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    تیسرا فضائی حملہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے حمید چوک کے قریب، النصر سٹریٹ کے چوراہے پر کیا۔

    ہلاکتوں یا نقصان کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔

    دوسری جانب، اسرائیلی زمینی گاڑیاں اور ڈرونز (کواڈ کاپٹرز) فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ توپ خانے کے گولے ان عمارتوں پر گرے ہیں جہاں اسرائیلی فوج کارروائیاں کر رہی ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس کے اتحادی اسلامی جہاد کی ٹرمپ کے امن منصوبے پر حماس کے ردعمل کی حمایت

    فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد (پی آئی جے) جو حماس کی اتحادی ہے اور جس پر سات اکتوبر کے حملے میں شرکت کا الزام ہے، نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر حماس کے ردعمل کی تائید کی ہے۔

    یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ حماس نے غزہ میں باقی تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے کئی نکات پر مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس کے حلیف عسکری گروہ اسلامی جہاد کے پاس بھی ماضی میں کچھ اسرائیلی یرغمالی موجود تھے۔

    اپنے بیان میں اسلامی جہاد نے کہا ہے: ’اسلامی مزاحمتی تحریک ’حماس‘ کی جانب سے ٹرمپ کے منصوبے پر دیا گیا جواب فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’فلسطینی اسلامی جہاد تحریک نے ان مشاورتوں میں ذمہ داری کے ساتھ حصہ لیا جن کے نتیجے میں یہ فیصلہ سامنے آیا۔‘

  8. عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے مابین معاہدہ، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع, نصیر چوہدری

    کشمیر،

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین معاہدے کے بعد پانچ روز سے جاری ہڑتال ختم ہو گئی ہے اور معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

    معاہدے کے بعد کشمیر کے مختلف علاقوں میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہو رہی ہے۔ کشمیر کے مختلف اضلاع کو دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والی اہم شاہرایں بھی کھول دی گئی ہیں تاہم سڑکوں پر رش انتہائی کم دیکھائی دے رہا ہے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر نے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ہڑتال اور مظاہروں میں تین قیمتیں جانیں ضائع ہوں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے تین دن سوگ کا اعلان کیا ہے اور کشمیر بھر سات اکتوبر یومِ تشکر منایا جائے گا۔

  9. حماس کے بیان نے غزہ میں قیامِ امن کا موقع فراہم کیا جو ضائع نہیں ہونا چاہیے: وزیراعظم پاکستان

    PM Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں امن کے لیے ہونی والی حالیہ پیش رفت سے جنگ بندی کی اُمید روشن ہوئی ہے جو پائیدار امن کے لیے راہ ہموار کرے گی۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان شہباز شریف نے غزہ میں امن کے معاملے پر ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تسلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے جاری کردہ بیان نے جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے، جسے ہمیں کسی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

    شہباز شریف نے امریکہ کے صدر ٹرمپ اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر اسلامی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان، فلسطین میں پائیدار امن کے لیے اپنے تمام دوست و برادر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

    دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی حماس کے ردعمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جائے۔

    پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کے لیے ایک معتبر سیاسی عمل کا آغاز کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد اس عمل میں تعمیری اور بامقصد کردار ادا کرتا رہے گا۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین پر اپنے اصولی موقف کے تحت پاکستان خودمختار، فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور اس کی سرحدیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت 1967 سے پہلے کی حد بندی پر مشتمل ہوں۔

  10. غزہ میں قیامِ امن کے معاہدے پر حماس کا ردعمل: حماس کن شرائط پر رضا مند اور کن پر نہیں ہے؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے غزہ میں قیام امن کے لیے صدر ٹرمپ کے منصوبے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی منصوبے پر اپنا بیان جاری کیا ہے۔

    یہ بیان ایک مکمل معاہدے پر اتفاقِ رائے نہیں ہے لیکن اس میں کچھ اہم شقوں کو قبول کیا گیا ہے جنھیں مغربی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

    • حماس غزہ امن منصوبے کے تحت تمام اسرائیلی مغویوں کو رہا کرے گا اور ہلاک ہونے والوں مغویوں کی باقیات واپس کرے گا۔
    • حماس کا کہنا ہے کہ ’فلسطینیوں کی قومی اتفاق رائے اور عرب اور اسلامی حمایت‘ کی بنیاد پر ’غزہ کا انتظام آزاد فلسطینی باڈی کے حوالے کرنا اُن کے اپنے معاہدے کی تجدید ہے۔‘

    لیکن حماس کا کہنا ہے کہ امن منصوبے کے دیگر نکات پر مزید بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

    • حماس نے اپنے بیان میں غیر مسلح ہونے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔
    • حماس نے غزہ میں آئندہ بننے والی حکومت میں مزید کوئی کردار نہ ہونے پر بھی اتفاق نہیں کیا ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ ان نکات پر مزید بات چیت کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔

    بی بی سی کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لیز ڈوسیٹھ کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی بھی امریکی صدر ٹرمپ کو انکار نہیں کرنا چاہتا ہے چاہے وہ حماس ہی کیوں نہ ہو۔ اُن کے مطابق بہت احتیاط سے لکھا گیا حماس کا یہ بیان قطر، مصر اور ترکی جیسے ثالثوں کے بے حد دباؤ کے بعد جاری کیا گیا لیکن یہ ایک مشروط اور نامکمل بیان ہے۔

    اس میں صرف چند اہم مسائل پر بات کی گئی ہے جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی، جنگ کا خاتمہ، اور غزہ پر ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام کو تسلیم کرنا شامل ہے۔

  11. غزہ کے عوام فوری پیش رفت پر حیران، ’کیا یہ خواب ہے یا حقیقت؟‘, رشدی ابو العوف، بی بی سی نیوز غزہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ کے لوگ صدمے کی حالت میں ہیں وہ اس ڈرامائی اور تیز رفتار پیش رفت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    مجھے غزہ سے سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے ہیں جس میں لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا جنگ ختم ہو گئی ہے؟ اور کیا یہ خواب ہے یا حقیقت؟

    یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب میں خود بھی تلاش کر رہا ہوں۔

    گذشتہ دو دنوں کے دوران حماس کے جن عہدیدار سے میری بات ہوئی ہے اس نے یہی اشارہ کیا کہ وہ یا تو صدر ٹرمپ کے پلان کو مسترد کر رہی ہے یا انھیں کچھ اہم نکات پر سخت تحفظات ہیں جیسے کہ ہتھیاروں کا مسئلہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا وغیرہ۔

    حماس کو اپنے اتحادیوں کی جانب سے غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے۔

    میں نے اس بارے میں اب تک جتنے بھی کارکنوں، سیاست دانوں، اور تحریک کے ناقدین سے بات کی ہے وہ اس پر متفق ہیں کہ اہم مسائل پر ابہام کے باوجود حماس کا بیان ’ذہیں حکمت عملی‘ ہے۔

    اس کے باوجود بہت زیادہ غیر یقینی کی صورتحال ہے اور کیا ان پیش رفت سے جنگ روکی جا سکتی ہے۔ تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ تازہ ترین پیش رفت کے دوران غزہ کی جنگ ایک فیصلہ کن لمحے میں داخل ہو چکی ہے۔

  12. ٹرمپ کا کہنا کہ اسرائیل غزہ پر بمباری بند کرے، نتن یاہو امریکہ سے تعاون پر رضامند

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس کی جانب سے غزہ میں قیامِ امن کے لیے صدر ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے مختصر بیان جاری کیا ہے۔

    اس دو سطری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل امن کے لیے ’ٹرمپ کے منصوبے‘ پر امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    عبرانی زبان میں جاری کردہ بیان کے مطابق ’حماس کے ردعمل کے بعد، اسرائیل تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کو فوری طور پر نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی قوانین کے تحت جنگ کے خاتمے کے لیے صدر اور ان کی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون جاری رہے گا۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے حماس کے بیان کے جواب میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

    اپنے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے قطر، ترکی، سعودی عرب، اردن اور مصر کا امن معاہدے میں بات چیت کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بڑا دن ہے، ہم دیکھیں گے اس کے کیا ٹھوس اور حتمیٰ نتائج نکلتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کے منتظرہیں کہ ’کب یرغمالی رہا ہو کر اپن والدین کے پاس پہنچتے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم مشرق وسطیٰ میں امن کے حصول کے بہت قریب ہیں۔

    حماس نے صدر ٹرمپ کے ردعمل کو ’حوصلہ افزا‘ قرار دیا۔

    حماس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی تنظیم ’قیدیوں کے تبادلے، جنگ کے خاتمے اور محفوظ انخلا کے لیے فوری طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

  13. برطانیہ اور قطر کا حماس کے بیان کا خیر مقدم، قیام امن کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر زور

    UK PM

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قطر نے غزہ امن منصوبے کے مجوزہ پلان پر حماس کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات جلد بحال کرنے کوشش کر رہے ہیں۔

    قطر نے امریکی صدر کے بیان کی بھی حمایت کی۔ جس میں صدر ٹرمپ نے یرغمالیوں کی بحفاظت اور جلد رہائی میں سہولت کاری کے لیے فوری جنگ بندی کروانے کا مطالبہ کیا۔

    قطر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ مصر اور امریکہ کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد کے لیے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے حماس کے بیان کے بعد کہا ہے کہ برطانیہ پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے امن منصوبے کو قبول کرنا، لڑائی بند کرنا، یرغمالیوں کی رہائی اور علاقے میں انسانی امداد پہنچانے کے مواقع فراہم کرنا خوش آئند ہے جس کی اشد ضرورت ہے۔‘

    برطانیہ نے کہا کہ ’ہم تمام فریقوں سے بلا تاخیر معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

  14. حماس اسرائیلی مغویوں کی رہائی پر تیار، اسرائیل غزہ پر بمباری بند کرے: ٹرمپ

    فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام زندہ اسرائیلی مغویوں کو رہا کرنا اور مر جانے والے مغویوں کی باقیات دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں قیامِ امن کے مجوزہ معاہدے پر حماس نے اپنا ردعمل میں کہا ہے معاہدے میں تبادلہ زمینی حالات اور شرائط کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

    حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فلسطینیوں کی قومی اتفاق رائے اور عرب اور اسلامی حمایت‘ کی بنیاد پر ’غزہ کی کا انتظام آزاد فلسطینی باڈی کے حوالے کرنا اُن کے اپنے معاہدے کی تجدید ہے۔‘

    فلسطینیوں کی خود ارادیت اور ریاست کے لیے حالات سازگار ہو سکیں گے جسے ہم فلسطینی عوام کی خواہش کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔

    غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے حقوق کے بارے میں حماس کا کہنا ہے کہ یہ جامع قومی پوزیشن سے پر مبنی ہے جس کی بنیاد متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور قراردادیں ہیں اور اس پر ایک قومی فریم ورک کے اندر بات چیت کی جا رہی ہے۔

    حماس کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’حماس کے جاری کردہ بیان کی روشنی میں مجھے یقین ہے کہ وہ دیرپا امن کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کو فوری طور بمباری بند کرنا ہو گی تاکہ ہم مغویوں کو بحفاظت رہا کروا سکیں۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’فی الوقت یہ کرنا بہت خطرناک ہے۔ ہم پہلے سے ہی تفصیلات پر کام کر رہے ہیں۔ یہ صرف غزہ کے لیے نہیں بلکہ یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ہے۔

  15. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پا گیا

    معاہدہ

    ،تصویر کا ذریعہX

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    رات گئے مظفر آباد میں حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر ایکشن کمیٹی کے ممبران نے دستخطے کیے۔ جس کے بعد وہ سب کوہالہ کے مقام پر جمع ہونے والے سینکڑوں مظاہرین کی جانب روانہ ہو گئے جہاں وہ انھیں مطالبات تسلیم ہونے سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا، کشمیر حکومت کے نمائندگان اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان شریک تھے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں کے اجلاس میں دونوں اطراف سے تجاویز، تحفظات اور مطالبات کا جائزہ لیا گیا اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے متفقہ فریم ورک کی تشکیل پر غور کیا گیا۔

    شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ اس تحریک میں قیمتی جانی نقصان ہوا لیکن ہم نے اپنے زیادہ تر مطالبات منوا لیے ہیں۔ ‘

    انھوں نے احتجاج کے دوران اموات پر تین روز کے سوگ کا اعلان بھی کیا۔

    عوامی تحریک کے دوسری رکن عمر نذیر کشمیری کا کہنا تھا کہ ہمیں معاہدے پر اطیمنان ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ریاست نے ابتدا میں طاقت کا استعمال کیا اور قیمتی جانیں گئیں۔ ہم تین دن بعد اظہار تشکر کریں گے۔‘

    عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم موڑ ہے تاہم اگر حکومت معاملات کو پہلے سنجیدگی سے لے لیتی تو جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ انھوں نے زور دیا کہ ’اس کامیابی کی وجہ عوام کا اتحاد تھا۔‘

    معاہدہ طے پا جانے کے باوجود ابھی تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل سگنل اور انٹرنیٹ سروس بحال نہیں ہوئی اور سڑکوں پر بھی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔

    اسی بارے میں

    معاہدہ

    ،تصویر کا ذریعہX

    کن چیزوں پر اتفاق رائے ہوا؟

    اجلاس میں احتجاج کے دوران پر تشدد واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات پر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی جائیں گی۔

    • معاہدے کی تفصیلات کے مطابق اس سلسلے میں جہاں ضرورت پڑے وہاں ایک عدالتی کمیشن مقرر کیا جائے گا۔ مرنے والوں کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔ گولی لگنے سے ہونے والے زخمیوں کو فی زخمی 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔
    • مظفرآباد اور پونچھ ڈویژنز کے لیے دو اضافی انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشنل بورڈز کو نوٹیفائی کیا جائے گا۔ 30 دن کے اندر کشمیر کے تینوں انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری بورڈز کو فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔
    • منگلا ڈیم بنانے کے منصوبے کی صورت میں میرپور ضلع کے وسیع خاندانوں کے ساتھ زمینوں کا قبضہ 30 دن میں ریگولرائز کیا جائے گا۔
    • لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو 90 دنوں میں 1990 کے اصل لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور سپریم کورٹ کے اس موضوع پر فیصلوں کے مطابق لایا جائے گا۔
    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت 15 دن کے اندر ہیلتھ کارڈ کے نفاذ کے لیے فنڈ جاری کرے گی۔
    • ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینیں حکومت پاکستان کی فنڈنگ کے ذریعے ہر ضلعے میں مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی۔
    • حکومت پاکستان کشمیر میں بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔
    • کابینہ کی تعداد کم ہو کر 20 وزرا اور مشیر کر دی جائے گی۔ انتظامی سیکریٹریز کی تعداد کسی بھی وقت 20 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ایس ڈی ایم اے کے ساتھ سول ڈیفنس کے محکموں جیسے انضمام کیے جائیں گے۔
    • احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ضم کر دیا جائے گا۔ کشمیر کا احتساب ایکٹ حکومت پاکستان کے نیب قوانین کے مطابق لایا جائے گا۔
    • قانونی اور آئینی ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کشمیر کے حلقوں کے علاوہ اسمبلی کے ارکان کے معاملے پر غور کرے گی۔ یہ کمیٹی حکومت پاکستان، کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے دو دو قانونی ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی کی حتمی رپورٹ پیش کرنے تک موجودہ انتظامات کے تحت وزارتیں، رعایتیں، مختص فنڈز کی حیثیت ملتوی کردی جائے گی۔

    مزید تسلیم کیے کئے مطالبات میں ان باتوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    • حکومت پاکستان دو کی تعمیر کے لیے حمکت عملی بنائے گی جن کی ترمیر کے لیے دسمبر 2022 میں سعودی حکومت فنڈ دے چکی
    • مہاجرین کی نشستیں تب تک معطل رہیں گی جب تک خصوصی قانون کمیٹی اپنی رائے نہ دے، اور 6 رکنی قانون کمیٹی میں دو رکن حکومت پاکستان، دو رکن حکومت کشمیر اور دو رکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ہوں گے!
    • رواں مالی سال میں میرپور میں بین القوامی سطح کے ائیرپورٹ کے قیام کا منصوبہ تشکیل دیا جائے گا!
    • 90 دن میں کشمیر کے پراپرٹی ٹیکس پنجاب اور خیبرپختونخوا کے برابر کیے جائیں گے
    • ہائیکورٹ کے 2019 کے ہائیڈل پراجیکٹ فیصلے پر عملدرآمد ہو گا
    • رواں مالی سال کشمیر کے تمام 10 اضلاع میں پانی کی فراہمی کے لیےفیزیبلٹی سٹڈی کی جائے گی
    • تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں نرسز کی تعیناتی اور آپریشن تھیٹر کا قیام کیا جائے گا
    • گلپور اور رحمان (کوٹلی) میں پلوں کی تعمیر کی جائے گی
    • ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی جائے گی
    • تعلیمی اداروں میں داخلے کوٹے کے بجائے اوپن میرٹ پر کیے جائیں گے
    • کشمیر کالونی ڈڈھیال میں پانی کی سپلائی کی جائے گی
    • ریفیوجیز جو ڈڈھیال کی مندور کالونی میں ہیں ان کو پراپرٹی رائٹس دیے جائیں گے
    • ٹرانسپورٹ پالیسی کو عدالتی فیصلے کے مطابق ریویو کیا جائے گا
    • 30 ستمبر، یکم اور دو اکتوبر کو راولپنڈی اور اسلام آباد سے گرفتار کشمیریوں کو رہا کیا جائے گا

    معاہدے میں طے ہا جانے والے نکات پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں حکومت پاکستان سے امیر مقام اور طارق فضل چوہدری، ، دو حکومت کشمیر اور دو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان شامل ہوں گے۔

  16. انڈیا کی تنقید پر پاکستان کا جواب: نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’عوام تسلط کی تاریک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں‘

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈیا کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں لوگوں کو شخصی اور سیاسی حقوق حاصل ہیں اور وہ اپنے جمہوری مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے متحرک ہیں۔

    جمعے کو ایک بیان میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کشمیری عوام کی عزت، حقوق بشمول پُر امن احتجاج، جذبات اور معاشی ترقی کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔‘

    پاکستان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور اس پر انڈیا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں اور کشمیر کے کئی علاقوں میں مظاہروں کی رپورٹیں دیکھی ہیں جن میں معصوم شہریوں پر پاکستانی فورسز کے مظالم بھی شامل ہیں۔‘

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے الزام عائد کیا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے جابرانہ انداز اور ان علاقوں سے وسائل کی لوٹ مار کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ ان علاقوں پر اس کا زبردستی اور غیر قانونی قبضہ جاری ہے۔ پاکستان کو انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم انوار الحق نے بدھ کو نیوز کانفرنس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ لیکن دوسری جانب مظاہروں کی قیادت کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نو شہریوں کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بیان پر جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوام ’تسلط کی تاریک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    ’معصوم کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لیے جابرانہ طریقے سے طاقت کا استعمال، انھیں بنیادی آزادیوں سے محروم رکھنا، منظم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انڈیا کی ریاستی دہشتگردی کی نشانی ہیں۔‘

  17. ٹی ایل پی کا 10 اکتوبر کو راولپنڈی سے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے تک مارچ کا اعلان

    تحریکِ لبیک پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے 10 اکتوبر کو راولپنڈی کے علاقے فیصل آباد سے اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے تک ’لبیک یا اقصیٰ‘ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

    جمعے کو ایک بیان میں ٹی ایل پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 10 اکتوبر کو ’لبیک یا اقصی ملین مارچ فیض آباد، راولپنڈی سے شروع ہوکر امریکی سفارتخانے، اسلام آباد پر اختتام پذیز ہوگا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مارچ کی قیادت جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی کریں گے۔ جماعت کے ترجمان کے مطابق مارچ کا مقصد ’غزہ کے مظلوم فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی‘ کرنا ہے۔

    خیال رہے گذشتہ برس جولائی میں بھی ٹی ایل پی نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر موجود فیض آباد پر تقریباً ایک ہفتے تک دھرنا دیا تھا۔

    یہ دھرنا اس وقت ختم ہوا تھا جب حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ غزہ کے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں بڑھانے کا معاہدہ کیا تھا۔

  18. حماس، اتوار تک ’غزہ امن منصوبہ‘ تسلیم کر لے ورنہ سنگین نتائج کے لیے تیار رہے: صدر ٹرمپ کا الٹی میٹم

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ترمپ نے کہا ہے کہ حماس اتوار تک غزہ سے متعلق امریکی امن منصوبہ تسلیم کر لے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیت فارم ’تروتھ سوشل‘ پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی وقت کے مطابق اتوار کی شام تک اس منصوبے پر اتفاق ہو جانا چاہیے۔

    اس منصوبے کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے لیے حماس کو 72 گھنتوں کے اندر 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہو گا جبکہ اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

    عرب ممالک اور ترک ثالث حماس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس منصوبے پر مثبت ردعمل دے۔ تاہم حماس کے ایک سینئر اہلکار نے عندیہ دیا ہے حماس اس منصوبے کو مسترد کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا اپنی پوست میں کہنا تھا کہ ’اگر امن تک پہنچنے کے اس معاہدے پر اتفاق نہ ہوا تو ایسی قیامت برپا ہو گی جسے پہلے کسی نے نہیں دیکھا ہو گا۔ کسی بھی طریقے سے مشرق وسطیٰ میں ہر حال میں امن قائم ہونا ہے۔ ‘

    بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ثالثوں نے غزہ میں حماس کے ملتری ونگ کے سربراہ سے رابطہ کیا ہے جو اس مجوزہ امن منصوبے سے متفق نہیں ہیں۔

    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قطر میں حماس کی سیاسی قیادت میں سے کچھ اس منصوبے کو کچھ ردوبدل کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس حوالے سے اُن کا اثر و رسوخ محدود ہے کیونکہ غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا کنٹرول اُن کے پاس نہیں ہے۔

  19. سمندری طوفان ’شکتی‘ سے کراچی کو کتنا خطرہ ہے؟, ریاض سہیل، بی بی سی اُردو کراچی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بحیرہ عرب میں موجود سسٹم کے شدت اختیار کرنے پر کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی بحیرہ عرب میں موجود سسٹم شدت اختیار کرتے ہوئے ڈپریشن سے ڈیپ ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ڈیپ ڈپریشن 12 گھنٹے میں طوفان بننے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان بننے کی صورت میں اس کا نام ’شکتی‘ رکھا جائے گا، یہ نام سری لنکا کا تجویز کردہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا بھی امکان ہے۔ سسٹم کراچی سے 400 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سسٹم کے زیر اثر سمندر میں طغیانی بھی رہے گی۔ سمندری طوفان بحیرہ عرب میں پانچ یا چھ اکتوبر تک رہ سکتا ہے۔ سمندر میں شدید طغیانی کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے سندھ کے ماہی گیروں کو تین اکتوبر تک سمندر میں جانے سے بھی منع کیا ہوا ہے۔

  20. عسکریت پسندوں کو بنوں سے نکلنے کے لیے 10 اکتوبر کا الٹی میٹم: ’مقامی افراد اپنے تحفظ کے لیے اب خود باہر نکل آئے ہیں‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو پشاور

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبر پختونخوا میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دیہات اور مضافاتی علاقوں میں مقامی لوگ اب علاقوں میں اپنے اپنے طور پر حفاظتی انتظامات کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    جنوبی ضلع بنوں کے قریب ھاتی خیل قبیلے نے ایک جرگے کے بعد اس علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کو 10 اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں۔

    اسی طرح گزشتہ روز ضلع لکی مروت میں بھی سکیورٹی فورسز، پولیس اور مقامی سول افسران کے ایک اجلاس میں علاقے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کے لیے مشاورت کی گئی ہے۔

    لکی مروت میں بیگو خیل اور دیگر قریبی دیہات کی سطح پر پہلے سے ہی امن کمیٹیاں قائم ہیں جو عسکریت پسندوں کی جانب سے کسی بھی کارروائی یا مقابلے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے یہ عام لوگوں کا کام نہیں ہے بلکہ اس سے مقامی لوگ اور عسکریت پسند آمنے سامنے آ جائیں گے جس سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

    ضلع بنوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگرچہ کچھ علاقے ہیں جہاں عسکریت پسند موجود ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور جہاں جہاں حالات کشیدہ ہیں وہاں مقامی کمیونٹی کو ساتھ ملا کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    دو روز پہلے ھاتی خیل قوم نے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا جرگہ منعقد کیا تھا، جس میں مسلح شدت پسندوں کو علاقے سے نکلنے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔

    ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے اس فیصلے کو سراہا تھا۔ سجاد خان نے بتایا کہ مقامی لوگوں کی مدد سے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مختلف مقامات پر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں ضلع بنوں کے علاوہ لکی مروت اور نورنگ میں بھی روایتی چغہ پارٹی کی طرح مقامی لوگ حرکت میں آئے ہیں جس پر مسلح افراد فرار ہو گئے تھے۔ چغہ پشتو زبان میں ’چیخ‘ کو کہا جاتا ہے اور کسی بھی واقعہ پر ایک ’چیخ‘ پر سب لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

    بنوں سے سینئر مقامی صحافی عمر دراز وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ بنوں کے علاوہ شمالی وزیرستان لکی مروت اور قریبی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

    اُن کے بقول بنوں اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقوں جانی خیل میں اس سال اب تک ٹارگٹ کلنگ کے 10 واقعات پیش آ چکے ہیں شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے 19 واقعات پیش آئے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح دوسرے علاقوں میں بھی جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے کوئی محفوظ نہیں ہے ان میں نوجوانوں، تاجروں سرکاری ملازمین اور دیگر کو اغوا کیا گیا ہے جنھیں مقامی لوگوں کی مدد سے پھر بازیاب کرایا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے پاس صرف دو راستے ہیں ایک یہ کہ وہ مجبور ہو کراپنی حفاظت کے لیے خود نکل آئے ہیں کیونکہ جس طرح تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ان کے لیے بھی خطرات ہیں اس لیے ایک طرح سے وہ خود کھڑے ہو گئے ہیں۔

    دوسرا راستہ ان کے لیے یہ ہے کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دے کر اپنے علاقے سے عسکریت پسندوں کو نکالیں اور اس وقت ان علاقوں میں یہ دونوں طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔

    اس سے پہلے باجوڑ کے ماموند کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائی سے سے پہلے مقامی قبائل نے جرگے منعقد کیے اور عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیے تھے اور ناکامی کے بعد سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں کارروائی شروع کی تھی۔

    اسی طرح اس کے بعد ضلع مہمند میں بھی سکیورٹی فورسز پولیس اور مقامی عمائدین کے جرگے ہوئے ہیں جن میں عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر بات کی گئی تھی۔

    سینئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے تجربے پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن اس نتائج کوئی اچھے نہیں نکلے تھے۔ لوگوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمے داری ہے اور ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ اس طرح مقامی کمیونٹی کو پہلے بھی تیار کیا گیا تھا ان میں دکاندار اور عام لوگ تھے ان کا کام مسلح ہونا نہیں تھا۔ لیکن انھیں مقابلے کے لیے سامنے لایا گیا تھا اور پھر ان کا کیا انجام ہوا تھا سب کو معلوم ہے۔

    مشتاق یوسفزئی کے مطابق پولیس اور سکیورٹی فورسز کے پاس وسائل ہیں تمام اسلحہ اور سہولیات ہیں ان کی انٹیلیجنس ہے ان کے پاس ایئر فورس ہے سب کچھ ہے تو ایسے میں یہ دیہات کے لوگ کیا کر لیں گے۔