سوشل میڈیا کی لَت کا کیس: فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے 17 ارب ڈالر میں تصفیہ کر لیا

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے امریکہ کی مختلف ریاستوں کی جانب سے دائر ان الزامات کے تصفیے پر اتفاق کر لیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کمپنی نے اپنے پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ بچے ان کی لَت میں مبتلا ہو جائیں۔ الزامات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمپنی کی جانب سے صارفین کو ان کی حفاظت کے بارے میں گمراہ کیا گیا اور بچوں کا ذاتی ڈیٹا نا مناسب طریقے سے جمع کیا گیا۔
تصفیے کے تحت میٹا زیادہ سے زیادہ 16.68 ارب ڈالر ادا کرے گی اور فیس بک اور انسٹاگرام میں کئی بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی۔
اس تصفیے کے بعد امریکہ کی 29 ریاستوں کی جانب سے دائر کیے گئے دعووں اور اس وفاقی مقدمے کا خاتمہ ہو جائے گا جسے سوشل میڈیا کمپنیوں پر نوجوان صارفین کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے حوالے سے اب تک کے نمایاں ترین مقدمات میں شمار کیا جا رہا تھا۔
معاہدے کے مطابق میٹا بچوں کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے روزانہ استعمال کی حد مقرر کرے گی، رات کے اوقات میں ان کے استعمال پر پابندیاں عائد کرے گی اور ایسے اقدامات مزید سخت کرے گی تاکہ کم عمر صارفین اس مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں جو ان کی عمر کے لحاظ سے مناسب نہیں۔
کیلیفورنیا کے شہر مینلو پارک میں قائم کمپنی میٹا نے تصفیے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کسی بھی غلط کام کے ارتکاب کی تردید کی ہے۔
بدھ کے روز ہونے والے اس تصفیے میں کیلیفورنیا، الینوائے، نیو میکسیکو اور واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل سے متعلق دائر مقدمات بھی شامل ہیں۔ اس سکینڈل میں مشاورتی فرم نے فیس بک کے لاکھوں صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا تھا۔ ان مقدمات کے تصفیے کے لیے مذکورہ ریاستوں کو مجموعی طور پر 45 کروڑ 93 لاکھ ڈالر ملیں گے۔
یہ دعوے ان وسیع قانونی کارروائیوں کا حصہ ہیں جو مختلف ریاستوں، مقامی حکومتوں، سکولوں اور افراد کی جانب سے کی گئی ہیں۔ ان میں الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے نوجوانوں میں ذہنی صحت کے بحران کو ہوا دی۔
کیلیفورنیا کے شہر آکلینڈ کی وفاقی عدالت میں چلنے والے مقدمے میں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کے یہ دعوے بھی شامل تھے کہ میٹا نے صارفین کے تحفظ سے متعلق ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
مقدمے میں 29 ریاستوں کے وہ الزامات بھی شامل تھے جن کے مطابق میٹا نے بچوں کے آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع کیا جن کے بارے میں کمپنی جانتی تھی کہ وہ بچے ہیں، اور والدین کو اطلاع دیے یا ان کی رضامندی لیے بغیر اس ڈیٹا کو مشین لرننگ اور جنریٹو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔
میٹا طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وہ صارفین کو اپنی سروسز کی لَت کے بارے میں گمراہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ ’سوشل میڈیا کی لَت‘ باقاعدہ طور پر نفسیاتی بیماری تسلیم نہیں کی جاتی۔
18 اگست کو مقدمے کے آغاز سے قبل میٹا نے کہا تھا کہ کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی مجموعی طور پر 14 کھرب ڈالر تک جرمانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ریاستوں نے عندیہ دیا تھا کہ اصل رقم تقریباً 200 ارب ڈالر کے قریب ہو گی۔











