لائیو, پمز ہسپتال آتشزدگی: مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوا، اس کا احتساب ہو گا، وزیر صحت

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اِن سمیت ’واقعے میں ذمہ دار ہر فرد کا احتساب ہو گا، اگر کسی شخص نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔‘ آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک انکوائری ٹیم بھی بنائی گئی ہے۔

خلاصہ

  • وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئیں: طلال چوہدری
  • وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے
  • مجھ سمیت واقعے میں ذمہ دار ہر فرد کا احتساب ہو گا: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
  • آگ ایئر کنڈشنگ یونٹ میں لگی اور نرسری میں آکسیجن کے کنکشنز کے باعث فوراً بھڑک اٹھی: ترجمان پمز ہسپتال، ڈاکٹر انیزہ جلیل

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولودوں کی ہلاکت، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ہلاک ہونے والے نومولود کی غمزدہ ماں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ بچوں کی نرسری میں لگی اور وہاں موجود نومولودوں کو نکالا نہ جا سکا۔

    نرسری اور اس سے ملحقہ بچوں کے وارڈ میں زیرِ علاج بچوں کے اہلِ خانہ کے مطابق جب صبح سویرے آگ لگنے کی اطلاع ملی تو ریسکیو سروسز کے پہنچنے سے پہلے وہی پہلے وہاں پہنچے تھے۔

    انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایک نرس کی جانب سے پہلے بچے کو نکالے جانے کے بعد نرسری کے داخلی دروازے تک رسائی ممکن نہ رہی کیونکہ دروازہ یا تو جام ہو گیا تھا یا بند تھا۔ ان کے مطابق نرسری کے اندر موجود دیگر 14 بچوں کو باہر نہیں نکالا جا سکا۔

    ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نرسری کے اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے ’لیکن دروازہ بند تھا اور دھواں اتنا زیادہ تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔‘

    اسلام آباد فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ میں بھی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ دروازے بند تھے۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر پہنچنے والے اہلکاروں نے دیکھا کہ ’ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے بند تھے یا ان میں رکاوٹیں موجود تھیں۔‘

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’آگ سے تحفظ اور جان بچانے کے انتظامات ناکافی تھے، یا معیار کے مطابق نہیں تھے۔‘

    ریسکیو اہلکاروں کو عمارت کی دیواریں توڑ کر اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر لاشوں اور زخمیوں کو باہر نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ہسپتال انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ بعض دروازے بند تھے جبکہ دیگر دروازوں پر ہسپتال کا سکیورٹی عملہ تعینات تھا۔

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا کو بتایا کہ بچوں کے وارڈ کا ایک دروازہ اس لیے بند رکھا جاتا تھا کیونکہ حالیہ برسوں میں نومولودوں کے اغوا کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ نرسری کا دوسرا دروازہ مقفل نہیں تھا بلکہ وہاں سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔

    فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے ابتدائی ردِعمل میں رکاوٹ پیدا کی۔‘

    رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ پر زائد بوجھ تھی۔ تاہم حکومت نے یہ جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے کہ نرسری کے اندر موجود 14 بچوں کو کیوں نہیں بچایا جا سکا۔

    کمیٹی یہ بھی جائزہ لے گی کہ آیا بند دروازوں نے ابتدائی امدادی کارکنوں اور ریسکیو ٹیموں کو نرسری تک بر وقت پہنچنے سے روکا اور کیا اسی وجہ سے بچوں کو بچانے میں ناکامی ہوئی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ 24 گھنٹوں کے اندر پیش کرے گی۔

  2. پمز آتشزدگی: سی ڈی اے رپورٹ میں ایمرجنسی راستوں کی بندش کا ذکر، حفاظتی انتظامات ناکافی قرار

    پمز آتشزدگی

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن نرسری وارڈ میں ہونے والی آتشزدگی کے بارے میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں لکھا کیا گیا ہے کہ ہسپتال میں آگ سے تحفظ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے اور معیار کے مطابق نہیں تھے۔

    رپورٹ میں درج مشاہدات کے مطابق ایمرجنسی اخراج کے راستوں کو باہر سے تالے لگا کر مستقل طور بند کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے ابتدائی ردعمل میں رکاوٹ پیدا کی۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر فائر آپریشنز تشفین زمان آفریدی کی مرتب کردہ رپورٹ میں آگ لگنے کی ابتدائی اور ممکنہ وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ پر زائد بوجھ قرار دی گئی ہے۔

    سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق واقعے کی اطلاع 26 اگست کو صبح چھ بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے ایک منٹ بعد فائر اور ریسکیو ٹیموں کو روانہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی ریسکیو ٹیم چھ منٹ کے اندر، صبح سات بج کر ایک منٹ پر، موقع پر پہنچ گئی تھی۔

    سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ 44 اہلکاروں اور چھ افسران نے ریسکیو کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس آپریشن میں چھ فائر ٹینڈرز، چھ ایمبولینسز، ایک ریسکیو وین اور ایک واٹر باؤزر استعمال کیا گیا۔

  3. پمز ہسپتال آتشزدگی، مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوا، اس کا احتساب ہو گا: وزیر صحت

    پمز ہسپتال آتشزدگی

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو بھی غفلت یا کوتاہی کا مرتکب پایا گیا، ’اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

    ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’احتساب سب کے لیے ہو گا‘ اور انھوں نے خود اپنے آپ کو بھی احتساب کے لیے وزیرِ اعظم کے سامنے پیش کیا ہے۔

    وزیرِ صحت کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایک چنگاری اٹھی، جو نرسوں کے بقول ممکنہ طور پر ایئرکنڈیشنر (اے سی) کے اندر سے نکلی۔ انھوں نے کہا کہ شعلہ زمین پر گرا اور واقعے کی ویڈیو بھی دستیاب ہے۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چھ بج کر 39 منٹ پر لوگ وارڈ سے نکلنا شروع ہوئے۔ اُس وقت وہاں دو ڈاکٹرز اور دو انچارج نرسیں موجود تھیں۔ فوٹیج کے مطابق چند افراد مدد طلب کرنے کے لیے دوڑے، تاہم ایک منٹ بعد پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔

    میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ مختلف ماہرین اور ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ حکومت بھی اپنی سطح پر انکوائری کر رہی ہے۔ ان کے بقول وزیرِ اعظم نے بھی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور تمام شواہد منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وارڈ میں موجود 15 بچوں میں سے 14 آکسیجن پر تھے اور انھیں ٹیوب کے ذریعے آکسیجن دی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر آکسیجن نے آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔

    وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ ایک حادثہ ہے، تاہم اگر کسی شخص نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

    اسلام آباد کی فائر سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے گذشتہ برسوں کے دوران جاری کیے گئے نوٹسز کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق جب بھی نوٹس موصول ہوئے، ان پر عمل درآمد کی پوری کوشش کی گئی۔

    وزیرِ صحت نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوئشر استعمال کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا (جس سے پانی کا چھڑکاؤ کر کے آگ بجھائی جا سکے) اور آگ بجھانے کے لیے سلنڈرز استعمال کیے جاتے تھے۔

    اخراجی راستوں کے بند ہونے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چند برس قبل نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات پیش آنے کے بعد ایک دروازہ بند کر دیا گیا تھا، جبکہ دوسرے دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اور اس پر 24 گھنٹے ایک سکیورٹی گارڈ تعینات رہتا ہے جو آنے اور جانے والے افراد کی جانچ پڑتال کے بعد خود دروازہ کھولتا اور بند کرتا ہے۔

    وزیرِ صحت سے سوال کیا گیا کہ کیا سانحے کے بعد وہ مستعفی ہوں گے؟ اس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ اس معاملے پر جتنا کہہ سکتے تھے، کہہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سربراہ وزیرِ اعظم پاکستان ہیں اور وہ ان کی ہدایات کے مطابق ہی بات کر سکتے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات وقت آنے پر سامنے آ جائیں گی۔

    مصطفیٰ کمال نے توقع ظاہر کی کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ دو سے تین روز میں سامنے آ جانی چاہیے۔

  4. نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے کم از کم 17 افراد ہلاک, پھانندرا داہال (کھٹمنڈو) اور لورا بِکر (بیجنگ)

    نیپال اور تبت میں سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہShaktimaya Tamang

    پولیس کے مطابق نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ کئی دیہات میں سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

    سیلاب بدھ کی صبح سویرے نیپال کے دار الحکومت کٹھمنڈو کے شمال میں واقع ضلع رسووا میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق برف کا غیر معمولی رفتار سے پگھل کر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہونا سیلاب کا سبب بنا۔

    تبت اور نیپال کی سرحد کے دونوں جانب سرچ آپریشن جاری ہیں اور اب تک 12 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

    چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تبت میں جانی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے، جبکہ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ’بڑے پیمانے پر نقصان‘ کا خدشہ ہے۔

  5. ہمارا مقصد مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ہے: ایرانی صدر پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا مقصدر باہمی مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بات مرکزی بینک کے دورے کے دوران کہی۔ ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا: ’ ہم اقتصادی دباؤ کے مقابلے میں جس طرح اب تک ڈٹے رہے ہیں، اسی طرح آئندہ بھی مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔‘

    صدر مسعود پزشکیان کے بقول: ’امریکہ، جس طرح جنگ میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا، اسی طرح اقتصادی دباؤ کے ذریعے بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے گذشتہ چند دنوں سے سفارتی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان ایک نئے معاہدے کے بارے میں نئی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی صدر کے دفتر کے نائب برائے روابط و اطلاعات، مہدی طباطبائی نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دورے کو ’بہت نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس دورے کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔‘

    ایران میں بعض حلقے مسعود پزشکیان کی حکومت اور مذاکراتی ٹیم کو امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے باعث تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم مسعود پزشکیان گذشتہ کئی دنوں کے دوران بارہا اس مفاہمت کا دفاع کر چکے ہیں، جبکہ ایران کے بعض عہدیداروں نے مذاکرات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکہ کی جانب سے مفاہمتی معاہدے میں واپسی سے مشروط کیا ہے۔

  6. 14 بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں: طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

    ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ابتدائی ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن کے بعد تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔ اس عمل کے نتیجے میں ’ذمہ داروں کے تعین، جزا و سزا کے مراحل اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے طریقۂ کار تجویز کیا جائے گا۔‘

    میڈیا سے گفتگو میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے بقول ’ان سوالات کے بھی جواب تلاش کیے جائیں گے کہ ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے، حادثے کے وقت کتنے ڈاکٹر موجود تھے اور کتنے ڈاکٹروں اور نرسوں نے ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا۔‘

    طلال چوہدری نے اس تاثر کی تردید کی کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کنٹرول روم میں کال موصول ہونے کے چھ منٹ بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود تھیں‘ جبکہ اس کے چند منٹ بعد انتظامیہ کے حکام بھی پہنچ گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکاروں نے مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں سات بچوں سمیت 19 افراد کو بچا لیا گیا۔

  7. پمز میں آتشزدگی: بی بی سی نے کیا دیکھا؟

    ،ویڈیو کیپشنپمز میں آتشزدگی کے بعد بی بی سی نے کیا دیکھا؟

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی نرسری میں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ بی بی سی نے پمز ہسپتال دورہ کیا اور وہاں موجود عینی شاہدین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے وہاں کیا دیکھا۔

  8. پمز میں آتشزدگی، امدادی کارکنوں نے ردعمل میں تاخیر کی: عینی شاہدین

    غم زدہ لواحقین

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ امدادی کارکنوں نے ردعمل میں تاخیر کی۔

    ایک عینی شاہد خرم محمود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے آتشزدگی میں اپنی تین دن کی بیٹی کو کھو دیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ گئے: ’ہم مدد کے انتظار میں سڑک پر بیٹھے تھے۔‘

    ایک اور عینی شاہد عبدالغفور نے اسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ آگ ’بہت تیزی سے‘ پھیلی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ مریضوں کو بچانے میں مدد کی غرض سے ہسپتال کے اندر گئے، لیکن زچگی وارڈ تک نہیں پہنچ سکے: ’اندر گھنا سیاہ دھواں تھا اور مریض پھنسے ہوئے تھے، امدادی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچیں۔‘

  9. پمز آتشزدگی میں 14 نومولود ہلاک: اب تک ہم جانتے ہیں؟

    اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ صبح چھ بجے سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان لگی تھی۔

    • یہ آگ اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ وارڈ میں لگی۔ اطلاعات کے مطابق آگ ایک ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور وارڈ میں آکسیجن کی لائنوں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
    • ہسپتال کے ترجمان کے مطابق آگ لگنے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔
    • وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جسے 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر ’گہرے دُکھ اور دلی افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔
    • غم سے نڈھال والدین ہسپتال کے باہر جمع ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔
    • ہسپتال میں سوگ اور صدمے کی کیفیت ہے، اور عملہ اور لواحقین اس افسوسناک واقعے کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    • پاکستان میں ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، جن کی وجہ اکثر عمارتوں میں حفاظتی قوانین پر ناقص عملدرآمد کو قرار دیا گیا۔ رواں سال کے آغاز میں کراچی کے ایک شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ سے 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
    • ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور لواحقین نے بچوں کے وارڈ میں ناقص انتظامات کے دعوے کیے ہیں جنھیں پمز انتظامیہ نے مسترد کیا ہے۔
  10. کوئٹہ سے ٹرین سروس آج دوسرے روز بھی معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے ٹرین سروس آج بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی معطل رہی۔

    کوئٹہ میں پاکستان ریلوے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ٹرین سروس کو منگل سے دو روز کے لیے معطل کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

    رواں ماہ بھی سکیورٹی خدشات کے باعث جعفر ایکسپریس کی سروس دو سے تین مرتبہ معطل کی جا چکی ہے۔

    جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور تک روزانہ چلنے والی واحد ٹرین ہے۔ یہ سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے پشاور پہنچتی ہے، جس کے باعث کم آمدنی والے اور غریب طبقے کے مسافروں کے لیے سفر کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

    ٹرین سروس کی معطلی سے مسافروں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  11. پمز میں آتشزدگی کا معاملہ: وفاقی سیکرٹری صحت معطل، تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

    وزیراعظم نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کمیٹی کے سربراہ ہوں گے دیگر ممبران میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نبیل اعوان شامل ہیں۔

  12. پمز واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے: صدرِ زرداری

    President Asif Ali Zardari

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صدرِ آصف علی زرداری نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

    اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  13. وارڈ کا دروازہ بند نہیں تھا اور آگ بجھانے کے آلات موجود تھے: پمز انتظامیہ

    PIMS Hospital

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وارڈ کا دروازہ بند تھا۔

    عمران سکندر نے بی بی سی کو بتایا کہ دروازہ پر تالا نہیں لگا ہوا تھا بلکہ وہاں عملہ موجود تھا۔

    ان کے مطابق یہ انتظام بچوں کو وارڈ سے چوری ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ ماضی میں سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے چوری کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

    عمران سکندر نے واضح کیا کہ ہسپتال میں آگ بجھانے کے لیے پانی کا انتظام نہیں بلکہ وہاں آگ بجھانے والے سلینڈر رکھے گئے تھے۔

    ان کے مطابق آج آگ بجھانے کی کوشش کے دوران 24 سلینڈر استعمال کیے گئے۔

  14. آکسیجن سپلائی کی وجہ سے آگ پھیلی ہے: طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ گیس کی لائنز اور پلاسٹک انسٹرومنٹ کی وجہ سے آگ پھیلی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت دو ڈاکٹرز، نرس اور عملہ موجود تھا جو واقعے میں محفوظ رہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آگ کی وجہ کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکتا، کرائم سین کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ جیسے بھی ہوا آکسیجن سپلائی کی وجہ سے آگ پھیلی ہے۔

  15. پمز ہسپتال واقعے پر وزیرِ صحت مصطفی کمال استعفیٰ دیں: سابق وفاقی وزرا

    Mustafa Kamal

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے سابق وفاقی وزرا فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے پمز ہسپتال واقعے پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    فواد چوہدری نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بچوں کی وارڈ میں آتشزدگی سے بچوں کی جان جانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو استعفی دیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے اور اندوہناک واقعہ کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے، صرف معطلی اور ٹرانسفر کوئی سزا نہیں ہو گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر اس واقعہ پر بری الذمہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔

    شیریں مزاری نے فواد چوہدری کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والے ٹرین حادثات کو ہی یاد کر لیجیے۔ تاہم یہ واقعہ انتہائی ہولناک ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پمز اور چلڈرنز ہسپتال شدید غفلت، بدانتظامی اور ابتری کا شکار ہیں۔

    شیریں مزاری کا مزید کہنا ہے کہ ’چلڈرنز ہسپتال کے لیے ’فرینڈز آف چلڈرنز ہسپتال‘ کے نام سے ایک بہت فعال گروپ موجود تھا، جو حکومتی فنڈنگ کی کمی سے پیدا ہونے والی خلا‘ کو پُر کرنے میں مدد کرتا تھا، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ اب بھی فعال ہے یا نہیں۔

  16. پمز میں آتشزدگی: وارڈ میں صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا، ہسپتال دستاویز

    PIMS hospital

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی دستاویز کے مطابق چلڈرن وارڈ میں 15 بچے داخل تھے جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا ہے۔

    اس سے قبل پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر اور ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے واقعے میں 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

  17. پمز ہسپتال میں آتشزدگی: بچوں کی لاشیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی، پولیس

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے متعلق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جن خاندانوں کے بچے اس واقعہ میں ہلاک ہوئے ہیں وہ جائے وقوعہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کے خاندان والے اپنے نومولود بچوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور 14 نومود بچے مکمل طور پر جھلس چکے ہیں اور بنا بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے ان کی شناخت ممکن نہیں۔

    پولیس کے بقول اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔

  18. پمز ہسپتال واقعے کے ذمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔

    بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے حکم دیا ہے کہ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ذمہ دآران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی کے اس واقعے میں 14 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

  19. اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے ہلاک: ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز

    PIMS

    ،تصویر کا ذریعہRescue

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی جس میں مجموعی طور پر 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ بھڑکنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں فائر برگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے حصہ لیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پر فی الفور قابو پاتے ہوئے بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا۔

    انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ واقعہ کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔

    اس سے قبل پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تاحال اس واقعے میں کسی بچے کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ آگ ایئر کنڈشن یونٹ میں لگی اور آکسیجن کے کنکشنز کے باعث آگ فوراً بھڑک اٹھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت وارڈ میں 15 بچے داخل تھے۔

    ہسپتال کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ آگ چھ بج کر 45 منٹ پر چلڈرن وارڈ میں آگ لگی۔

    چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ موقع پر موجود ہیں جبکہ میڈیا کو جائے حادثہ پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

  20. اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں تو وہاں سے جہاز کیوں نہیں گزر رہے: ایران

    Kazem Gharibabadi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے ’بارودی سرنگیں مکمل طور پر صاف کرنے‘ کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر امریکہ نے واقعی بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں تو پھر اب تک کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے کیوں نہیں گزر پا رہا؟‘

    کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکی دعوے ’محض پروپیگنڈا پر مبنی جھوٹ ہیں۔‘

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز اس علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ایران لیے بہترین اہداف ہوں گے۔

    ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمان کے وزیر خارجہ نے تہران کا دورہ کیا ہے اور دونوں خلیجی ملکوں کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک راہداری قائم کرنے کے معاملے پر تقریباً اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

    کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ اگر تہران اور مسقط کے درمیان معاہدہ حتمی شکل اختیار کر بھی لیتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کل ہی کھل جائے گی۔

    ایران- عمان معاہدے میں کیا شامل ہے؟

    انھوں نے عمان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ’اس معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخلے کا راستہ ایرانی پانیوں سے ہو گا جبکہ باہر نکلنے کا راستہ عمان کی سمندری حدود سے گزرے گا، اور دونوں سمتوں میں جہاز ایرانی پانیوں سے گزریں گے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ راستہ ’آنے جانے والی دو رویہ شاہراہ‘ کی طرح ہو گا جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً سات میل ہو گی۔

    تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والا یہ راستہ ’عارضی‘ ہے اور دونوں ممالک ایک نیا مستقل راستہ طے کرنے کے لیے 30 سے 60 دن کے اندر مذاکرات کریں گے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کے بعد ’آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ بند کر دیا جائے گا۔‘ عمان بھی اس راستے کی بندش سے متفق ہے اور اس معاملے سے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو آگاہ کیا جائے گا۔

    غریب آبادی نے کہا کہ اگر حتمی مذاکرات کے لیے مقررہ 30 سے 60 دن کی مدت کے اختتام پر ’ایران کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی۔‘