جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا: چیف جسٹس کا جسٹس منصور علی شاہ کو خط

جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے رکن ہیں تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد انھوں نے کمیٹی کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

خلاصہ

  • امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لبنان اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی سفارتی معاہدے پر پہنچنے کے لیے سفارتکاری کو موقع فراہم کیا جائے۔‘
  • پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے سبب پاکستانی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔
  • لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے 280 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
  • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک لبنان میں 90,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
  • پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں ہونے والے ’سنگین کشیدگی‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے.
  • وائٹ ہاؤس نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر داغے گئے میزائل پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
  • برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جاپان، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کی اپیل کر دی ہے۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا بیروت پر حملہ جنگ کو وسعت دینے کی چال کے سوا کچھ نہیں ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اسرائیلی حملوں سے لبنان میں ’100 ہلاک، 400 زخمی‘

    لبنان، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں پیر کو ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق ان حملوں میں 400 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔

    لبنان کی وزارت صحت نے پیر کو ایک بیان میں ملک کے جنوبی علاقوں کے تمام ہسپتالوں سے غیر ضروری آپریشنز منسوخ کرنے کو کہا ہے اور طبی ماہرین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ان زخمیوں کے لیے تیار رہیں جو ہنگامی شعبوں میں پہنچ سکتے ہیں۔

    لبنان کی وزارت تعلیم کے مطابق ملک کے جنوب میں اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں پیر اور منگل کو سکول بھی بند رہیں گے۔

  2. بریکنگ, عمران خان کا آئندہ ہفتے راولپنڈی میں تحریکِ انصاف کے جلسے کا اعلان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پی ٹی آئی جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت لاہور کے بعد اب آئندہ ہفتے راولپنڈی میں جلسہ کرے گی۔

    اڈیالہ جیل میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں تحریکِ انصاف کے بانی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس بارے میں اپنی جماعت کو مطلع کر دیا ہے اور ’پارٹی کو کہتا ہوں جلسے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔‘

    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر نہیں آتیں اور اگر ان کی جماعت کو ’جلسے کی اجازت نہ ملی تو احتجاج کریں گے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں ہمارے جتنے جلسے کسی نے نہیں کیے۔ لاہور میں جلسے سے ایک دن قبل اجازت دی گئی اور پھر کنٹینرز لگا دیے گئے جبکہ جلسے سے پہلے پی ٹی آئی کے500 لوگوں کو نظربند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔۔۔داد دیتا ہوں کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جلسہ کیا گیا۔‘

    خیال رہے کہ تحریکِ انصاف نے 21 ستمبر کو لاہور میں ایک جلسہ کیا تھا جس میں کارکنوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد شریک ہوئی تھی۔ جماعت کی جانب سے اسے رکاوٹوں کے باوجود ایک کامیاب جلسہ قرار دیا گیا تھا تاہم حکومتِ پنجاب کا کہنا تھا کہ یہ ایک فلاپ شو تھا۔

    کمرۂ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان پر جس میں کہا گیا ہے کہ مل کر رہنا چاہیے تاکہ ملک ترقی کرے ، ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف سن لو، امن انصاف سے اتا ہے۔

    ’جب تک انصاف نہیں ہوگا ملک میں امن نہیں ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو ترامیم کرنے جا رہے ہیں ان سے کیا امن آئے گا؟ یہ عدلیہ کو ختم کر کے غیر اعلانیہ مارشل لا لگانا چاہتے ہیں۔ یہ وہ ترامیم کرنے لگے ہیں جو کسی آ مر نے بھی نہیں کی۔ ہم ان ترامیم کے خلاف سٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے‘۔

  3. آئی ایس آئی کیسے کام کرتی ہے اور تنقید کی زد میں کیوں رہتی ہے؟

    آئی ایس آئی کے بارے میں ایسا کیا ہے کہ پاکستان کے اندر اور باہر سے اسے تنقید کا سامنا رہتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ سیاسی تناظر میں کسی بھی اغوا، قتل، دھمکی کا الزام آئی ایس آئی پر دھر دیا جاتا ہے؟

  4. بریکنگ, ’لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک آئی ایس آئی کے نئے سربراہ مقرر‘

    عاصم ملک

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو افواجِ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج یا وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے تاحال اس تعیناتی کے بارے میں اعلامیہ یا بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم عسکری ذرائع نے اس تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔

    پاکستانی ٹیلی ویژن کے مطابق عاصم ملک 30 ستمبر 2024 کو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

    وہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی جگہ لیں گے جنھیں چھ اکتوبر 2021 کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا تاہم گذشتہ برس ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دی گئی تھی۔

    عسکری ذرائع کے مطابق بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اس سے پہلے بلوچستان میں انفنٹری ڈویژن اور وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کی کمان کرنے کے علاوہ نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں چیف انسٹرکٹر اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں بھی بطور انسٹرکٹر تعینات رہ چکے ہیں۔

    آئی ایس آئی کی بنیادی ذمہ داری ملک کی مسلح افواج کا عملی اور نظریاتی تحفظ یقینی بنانا ہے جس کا اظہار اس ادارے کے نام یعنی انٹر سروسز انٹیلی جنس سے عیاں ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں سویلین بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں لیکن وہ اس ادارے کے تنظیمی ڈھانچے میں غلبہ یا طاقت نہیں رکھتے۔

  5. نقل کرنے کے مجرم 58 طلبہ پر ’ایم کیٹ‘ امتحان میں شرکت پر تین برس کی پابندی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے ٹیسٹ میں نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے طلبا پر تین برس کے لیے ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام بلوچستان کے چار میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارميشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز میں منعقد ہوئے تھے اور اس دوران 58 طلبا و طالبات کو نقل کرنے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔

    بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا انٹری ٹیسٹ کے دوران بعض امیدوار جدید الیکٹرانک ڈیوائسز کے ساتھ نقل کرتے ہوے پکڑے گئے جن کے پیپر منسوخ کرکے انھیں ایئرپورٹ تھانہ پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ ب

    ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ پولیس محمد بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ نقل کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر 58 طلبا و طالبات کو حراست میں لیا گیا جن میں طالبات کی تعداد 23 تھی۔

    ایس پی صدر شوکت خان کا کہنا تھا کہ چونکہ پی ایم ڈی سی نے انھیں امتحان میں شرکت پر پابندی کی سزا دی ہے اس لیے ان کے خلاف مزید کارروائی کرنے کی بجائے انھیں چھوڑ دیا گیا۔

    تاہم ایئرپورٹ روڈ پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بلوچستان یونیورسٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے احاطے سے نقل کے لیے ڈیوائس فروخت کرنے کے الزام میں جن دو افراد کو گرفتار کیا گیا ان سے تفتیش جاری ہے۔

  6. کرم میں فرقہ وارانہ تشدد میں 12 ہلاکتیں، وزیراعلیٰ کی عمائدین، ارکانِ اسمبلی اور اعلیٰ حکام کا جرگہ بلانے کی ہدایت, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ضلع کرم کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق ان کی ہدایت پر محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے کمشنر کوہاٹ اور آر پی او کوہاٹ سے کہا ہے کہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے فوری طور پر جرگہ منعقد کیا جائے۔

    حکام کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال سے ضلع کرم میں امن و امان کے مسائل جنم لے رہے ہیں جنھیں جرگوں اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی کارروائیوں کی بدولت وقتی طور پر حل کیا گیا ہے لیکن یہ مسئلے مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو رہے۔

    حکام سے کہا گیا ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے علاقے کے عمائدین، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، منتخب بلدیاتی نمائندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران پر مشتمل جرگہ بلایا جائے جس کے بعد فریقین کے مطالبات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کو تنازعے کے مستقل بنیادوں پر حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی جائیں۔

    خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلعے کے مختلف مقامات پر مخالف قبائل کے درمیان جھڑپوں میں دو دن میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    مرنے والوں میں اہلِ تشیع اور اہل سنت دونوں فرقوں کے افراد شامل ہیں۔

    کرم پولیس کے حکام نے بتایا ہے کہ جھڑپوں کا یہ سلسلہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب اچانک شروع ہوا اور پھر یہ مختلف علاقوں تک پھیل گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق بوشہرہ میں مقامی قبائل کے درمیان مورچوں کی تعمیر کے تنازعے پر لڑائی شروع ہوئی جو دوسرے علاقوں تک پھیل گئی۔

    پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ بوشہرہ میں شروع ہونے والی جھڑپوں کو رکوا دیا گیا تھا لیکن رات گئے بارودی سرنگ کا ایک دھماکہ ہوا جس سے حالات پھر کشیدہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق اب بوشہر میں تو جھڑپیں نہیں ہو رہیں لیکن دیگر علاقوں سے اطلاعات ہیں کہ وہاں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان کے مطابق ان کے ہسپتال میں چھ لاشیں اور 16 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی صورتحال اکثر یہاں پیش آ جاتی ہے اور ہم اس کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ اس وقت بھی تمام زخمیوں کو مکمل علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔‘

    اسی طرح تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صدہ کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر رحیم نے بی بی سی کو بتایا ہے ان کے ہسپتال میں بھی چھ لاشیں لائی گئی ہیں جبکہ لائے جانے والے زخمیوں کی تعداد 19 ہے جن میں سے بیشتر کو گولیاں لگی ہیں۔

    مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ان جھڑپوں میں بھاری اور خودکارہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے ہے جس سے علاقے میں آمدورفت کے راستے بند ہو گئے ہیں اور پاڑا چنار کو ملک سے ملانے والا واحد شاہراہ بند ہونے کے باعث مقامی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

    خیال رہے کہ ضلع کرم میں رواں برس جولائی کے آخری ہفتے میں بھی اسی طرح کی جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

  7. جنوبی لبنان میں شہریوں کے لیے اسرائیل کے انتباہی پیغامات, نفیسہ کوہنورڈ، بیروت

    لبنان کے وزیر اطلاعات زیاد ماکری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی لبنان میں لوگوں کو پیر کی صبح موبائل فونز پر تحریری اور صوتی پیغامات موصول ہوئے ہیں جس میں انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ’ان رہائشی عمارتوں سے دور رہیں جنھیں حزب اللہ ہتھیار چھپانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں (جس کی لبنان کے جنوب میں رہنے والے لوگوں کے ذریعے تصدیق ہوئی)، ایک دیہاتی کو دکھایا گیا ہے جسے ایک صوتی پیغام موصول ہوا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی آپریشن جاری ہے اور ایک ’نئے مرحلے‘ میں داخل ہو گیا ہے۔ اس پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ ’اگر آپ کسی ایسے گاؤں میں ہیں جسے حزب اللہ استعمال کر رہا ہے، تو اپنی حفاظت کے لیے اسے فوراً چھوڑ دیں۔‘

    لبنان کے وزیر اطلاعات زیاد ماکری نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بیروت میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد‘ کو ایسے ٹیلی فون پیغامات زمینی نیٹ ورک کے ذریعے موصول ہوئے ہیں، جس میں ان سے وہ جگہ چھوڑنے کو کہا گیا ہے جہاں وہ رہائش پذیر ہیں‘۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر کے دفتر کو بھی ایسا پیغام موصول ہوا ہے۔ ماکری اسے اسرائیل کی ’نفسیاتی جنگ‘ کا حصہ قرار دیا ہے۔

    یہ پیغامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج کے ترجمانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں ایسا ہی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

    ان انتباہات میں جنوبی لبنان اور شمال مشرق میں وادی بیکا کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں سے دور رہیں جہاں حزب اللہ کے جنگجو کام کر رہے ہیں یا ہتھیار چھپا رہے ہیں۔

  8. اگر اس مرتبہ ہار گیا تو دوبارہ صدارتی الیکشن نہیں لڑوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے سابق صدر اور 2024 کے صدارتی انتخاب میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ نومبر میں انھیں شکست ہوئی تو وہ 2028 میں دوبارہ اس میدان میں اترنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

    78 سالہ ٹرمپ لگاتار تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار بنے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی قانون کسی ایک فرد کو دو سے زیادہ مرتبہ صدر بننے کی اجازت نہیں دیتا اس لیے فتح کی صورت میں بھی یہ ٹرمپ کا آخری دور ہو گا۔

    سنکلیئر میڈیا گروپ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس سے شکست کی صورت میں ایک بار پھر صدارتی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’نہیں، میں نہیں، مجھے یہ بالکل نظر نہیں آ رہا۔‘ لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔‘

    ٹرمپ نے ماضی میں شاذ و نادر ہی الیکشن ہارنے کے امکان کو تسلیم کیا ہے لیکن گذشتہ چار دن میں یہ دوسرا موقع ہے کہ انھوں نے شکست کے امکان پر بات کی ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کو اسرائیلی-امریکن کونسل کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران، اس نے شکست کی بات کو اٹھایا، اور کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی وجہ جزوی طور پر یہودی ووٹروں کی غلطی ہو گی۔

    امریکی ذرائع ابلاع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’کیا وہ جانتے ہیں کہ اگر میں یہ الیکشن نہیں جیتتا تو کیا ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا تعلق بڑی حد تک یہودی لوگوں سے ہو گا کیونکہ 40 فیصد حمایت کا مطلب ہے کہ 60 فیصد لوگ دشمن کو ووٹ دے رہے ہیں۔‘

  9. بریکنگ, جنوبی اور مشرقی لبنان میں اسرائیل کے درجنوں فضائی حملے

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہreuters

    لبنانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں درجنوں مقامات پر اسرائیل نے فضائی حملے کیے ہیں۔

    ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملے مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے چھ بجے ہوئے

    سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع نباتیہ میں 80 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بنت جبیل اور مرجعون کے متعدد علاقوں پر بھی حملے ہوئے۔

    این این اے نے مشرقی بیکا کے علاقے میں بھی فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی ہے، جس میں بعلبیک اور ہرمیل کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اب تک پیر کے اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک شخص کی ہلاکت اور چھ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    یہ ہلاکت شمال مشرقی لبنان میں وادی بیکا کے قصبے بودائی کے مضافات میں ہوئی۔ این این اے نے مرنے والے کی شناخت ایک چرواہے کے طور پر کی اور کہا کہ اس کے خاندان کے دو افراد زخمیوں میں شامل ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    آج کے حملے سنیچر اور اتوار کو میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد کیے گئے ہیں۔

    اختتامِ ہفتہ پر حزب اللہ نے اسرائیل پر 150 راکٹ داغے تھے۔ ان میں سے کچھ راکٹ آٹھ اکتوبر 2023 کے بعد سے لبنان سے ہونے والے حزبِ اللہ کے کسی بھی راکٹ حملے کے مقابلے جنوب میں اسرائیل تک زیادہ اندر تک پہنچے اور ان سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ پیر کے حملے حزبِ اللہ کے حالیہ حملوں کا بدلہ تھا۔ اسرائیل نے کہا ہے اس نے حزب اللہ کے ہزاروں راکٹ لانچرز کو تباہ کر دیا ہے۔

  10. بریکنگ, مخصوص نشستوں کے مقدمے میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ: ’بدقسمتی سے الیکشن کمیشن عام انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا‘, اعظم خان، بی بی سی اردو

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ 70 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن رواں برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تحریک انصاف سے پہلے درخواست دائر کیوں نہ کرائی گئی اور پہلے ہی ریلیف کیوں دے دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق انتخابی تنازع بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے۔ فیصلے کے مطابق یہ عوام کے ووٹ کے حق کے تحفظ کا آئینی فریضہ تھا جو سپریم کورٹ نے ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا تھا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے تفصیلی فیصلے میں ججز نے لکھا کہ انھوں نے یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

    فیصلے کے مطابق اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ تھا کہ آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی کے امیدوار تھے، پی ٹی آئی کے مطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انھیں ووٹ دیا۔

    تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    ’کمیشن کو جمہوری اصولوں اور انتخابی عمل کی سالمیت کو برقرار رکھنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انتخابات صحیح معنوں میں عوام کی مرضی کی عکاسی کریں، اس طرح قوم کے جمہوری تانے بانے کو محفوظ رکھا جائے۔ بدقسمتی سے اس معاملے کے حالات بتاتے ہیں کہ الیکشن کمیشن 2024 کے عام انتخابات میں یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

    تفصیلی فیصلے میں آٹھ ججز نے دو ججز کے اختلافی نوٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے کو آئین سے متصادم قرار دیا۔ دو ججز کے تحفظات کے حوالے سے فیصلے میں بتایا گیا کہ جس انداز میں دو ججز نے اکثریتی فیصلے پر اختلاف کا اظہار کیا وہ مناسب نہیں۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کا عمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے منافی ہے۔

  11. بنوں میں احتجاج کرنے والے 11 پولیس اہلکار برطرف, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    police

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس حکام نے 11 پولیس اہلکاروں کو احتجاج کرنے اور انسداد پولیو مہم سے انکار کرنے پر ملازمت سے برخاست کردیا ہے۔

    ضلعی پولیس افسر بنوں ضیاالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس ایک ڈسپلن ادارہ ہے اور اگر پولیس اہلکاروں کے کوئی حقیقی مطالبات ہیں تو وہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے لیکن جہاں تک بات انسداد پولیو مہم یا دیگر باتوں کا تعلق ہے تو اس پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے کہا ہے کہ فی الحال 11 اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ ان میں میں ہیڈ کانسٹیبل، لوئر ہیڈ کانسٹیبل ایف سی اور ڈرائیور شامل ہیں۔

    بنوں پولیس کے ایک سابق اہلکار جمشید کو دو روز پہلے تین ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر ہری پور جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ بنوں اور لکی مروت پولیس اہلکاروں نے اس پر احتجاج کیا اور بنوں پولیس لائن میں مظاہرے کے بعد بنوں میرانشاہ سڑک بلاک کر دی تھی۔

    جمشید خان کے بارے میں پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے وہ بنوں اور لکی مروت میں پولیس اہلکاروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ پشاور میں دو سال پہلے پولیس لائن مسجد میں دھماکے کے بعد جمشید خان نے احتجاج میں حصہ لیا تھا جس پر انھیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

    حالیہ دنوں میں جب بنوں کے قریب واقع ضلع لکی مروت میں پولیس اہلکاروں نے ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر احتجاج اور دھرنا دیا تھا تو اس وقت جمشید خان نے ان کی حمایت کی تھی اور دھرنے میں شریک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بنوں امن پاسون میں بھی جمشید خان شریک تھے۔

    ضلعی پولیس افسر ضیاالدین کا کہنا ہے کہ جمشید پولیس اہلکاروں کو انسداد پولیو مہم میں شریک ہونے سے منع کر رہا تھا۔ ان سے جب پوچھا کہ انھیں کیوں حراست میں لیا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک قانونی طریقہ کار کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور اگر اس پر کسی کو اعتراض ہے تو اس کے لیے قانونی راستے کھلے ہیں اور عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے احتجاج کا راستہ مناسب نہیں ہے اور انسداد پولیو مہم ہر حالت میں جاری رہے گی۔

    پولیس
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اس سے پہلے ضلع لکی مروت میں پولیس اہلکاروں نے ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر پانچ دنوں تک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس کو مکمل اختیارات دیے جائیں اور یہ کہ علاقے سے فوج کو نکالا جائے۔

    پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے اگر شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہوگی تو وہ پولیس ہی کرے گی۔ گذشتہ ماہ بنوں میں تشدد کے واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکت اور علاقے میں مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا اور اس بنوں امن پاسون کا نام دیا گیا تھا۔

    اس پاسون میں 16 مطالبات پیش کیے گئے تھے جس پر ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ نے مکمل عمددرآمد کا اعلان کیا تھا۔ بنوں اور لکی مروت سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر جنوبی اضلاع میں تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے اور یہ کہ مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی ویڈیوز بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

    جنوبی اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک اور کلاچی کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں جہاں تشدد کے متعدد واقعات پیش آیے ہیں۔ ان میں لیفٹیننٹ کرنل اور ان کے بھائیوں کے اغوا، ججز اور ان کی حفاظت پر معمور اہلکاروں پر فائرنگ کے ساتھ اقوام متحدہ سے منسلک ادارے کی گاڑی پر حملے اور متعدد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔

  12. معافی نہیں مانگیں گے، عدلیہ کی آزادی اور عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے باہر نکلیں گے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

    علی امین

    ،تصویر کا ذریعہhttps://www.youtube.com/live/e6Wm-oMz73A

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بار بار کہا جا رہا ہے کہ معافی مانگو۔ انھوں نے کہا کہ ’میں کس چیز کی معافی مانگوں اور کس سے معافی مانگوں، پرچے کاٹنے ہیں، جو کرنا ہے، کرلو۔۔ معافی نہیں مانگیں گے۔‘

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نہ اس فارم 47 کی حکومت کو مانتے ہیں اور نہ ان کے کسی غیر آئینی اقدام کو مانیں گے۔‘ علی امین نے کہا کہ ’معافی پہلے وہ مانگیں جو معافی مانگنے کے مجاز ہیں۔ جنھوں نے میرے لیڈر کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔‘

    علی امین نے سوال کیا کہ ’ظل شاہ سمیت میرے بے گناہ کارکنان کو شہید کرنے کی کی معافی کون مانگے گا۔ ہمارے لوگوں کو ملک بھر میں شہید کیا گیا، اس کی معافی کون مانگے گا؟ یہ معافی شافی والی بات مت کرو۔ اگر معافی والی بات ہوئی تو باقی جو زندگی بچی ہے آپ زندگی بھر معافی مانگیں گے۔‘

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ نہ اس فارم 47 والی حکومت کو مانتے ہیں اور نہ کسی مجوزہ آئینی عدالت کو تسلیم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی مقدمات میں عمران خان کو 414 دن سے جیل میں رکھا ہوا ہے۔

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ’آئندہ جمعے کو ہم ملک کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں نکلیں گے اور پر امن انداز میں آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔‘

    ALI AMIN GANDAPUR

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    انھوں نے کہا کہ لاہور جلسے میں بھر پور شرکت کر کے اسے کامیاب بنانے پر عمران خان کی طرف سے زندہ دلان لاہور اور پورے پنجاب کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں خیبرپختونخوا کی عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ہمیشہ کی طرح یہ ثابت کردیا کہ ہم غیرت مند لوگ ہیں اور جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے لاہور کے جلسے میں وقت پر نہ پہنچنے کی وضاحت تو نہیں کی مگر انھوں نے یہ کہا کہ ’اس ملک میں پی ٹی وی کا خبرنامہ سٹینڈرڈ ٹائم پر ہوتے دیکھا، باقی تو ملک میں کوئی سٹینڈرڈ نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں چھ بجتے ہی لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم بند کر دیے گئے۔ نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق پولیس کی گاڑیاں مرکزی سٹیج کے پیچھے پہلے سے ہی موجود تھیں اور جیسے ہی چھ بجے پولیس نے لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم کو بند کرا دیا، جس کے بعد جلسے میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد نے جلسہ گاہ سے نکلنا شروع کر دیا۔

    یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے جاری اجازت نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ وہ دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے تک جلسہ کر سکتے ہیں۔

    اس کے بعد انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ بیانیہ بے بنیاد ہے کہ جلسے کے لیے راستے کھلے چھوڑے گئے تھے، جلسہ گاہ کے دو کلومیٹر کے احاطے باڑ لگائی گئی تھی تاکہ لوگ جلسہ گاہ تک پہنچ نہ سکیں، جلسے میں جس طرح کی رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیں، ججوں نے خطوط لکھے کہ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ہم عدلیہ کے ساتھ ہیں، عدلیہ نشاندہی کرے کہ کون دباؤ ڈال رہا ہے، ہم عدلیہ کا ساتھ دیں گے، ہم اپنی آذادی کی بات کرتے ہیں کیونکہ نہ ہم غلام پیدا ہوئے اور نہ غلامی برداشت کریں گے۔‘

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہماری یہ تحریک دن بدن تیز ہوتی جائے گی۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ آنے والے اتوار کو میانوالی میں جلسہ ہوگا، ہم ان کو بتائیں گے کہ جلسہ ہوتا کیا ہے، اس کے بعد راولپنڈی اور دیگر شہروں میں بھی جلسہ کریں گے، عوام نے اس تحریک کا حصہ بننا ہے اور اس کو مزید آگے بڑھانا ہے، یہ قرآن کا حکم ہے کہ جابر حکمران کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہے۔

  13. اداروں میں مداخلت کے باعث ملک پیچھے جا رہا ہے، دنیا ہمارے ساتھ کاروبار کرنے کو تیار نہیں: مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نہ ہمارا آئین محفوظ ہے، نہ ہی پارلیمنٹ محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ محفوظ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک عدم استحکام اور کمزوری کی طرف جارہا ہے۔

    کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہر ادارہ چاہتا ہے کہ اپنے دائرہ اختیار سے بڑھ کر دوسرے ادارے میں مداخلت کرسکوں۔ اداروں میں مداخلت کے باعث ملک پیچھے جا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رکھنا چاہتے ہیں۔‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہر ادارہ پیچھے جارہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختیارات تک محدود نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرور تبدیلیاں لائیں لیکن اس میں مخصوص سیاسی مفاد نظر نہ آئے، ہمیں حقائق کی طرف جانا ہوگا اور حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    ان کے مطابق ’اس وقت ہمارے ملک میں سیاسی استحکام ہے نہ ہم معاشی طور پر مستحکم ہیں اور نہ ہی دنیا ہمارے ساتھ کاروبار پر آمادہ ہو رہی ہے۔‘ ان کے مطابق دوست ممالک کوپاکستان کی معیشت سے متعلق تشویش ہے، وہ بھی پریشان ہیں۔

  14. لبنان اسرائیل کشیدگی: بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر ابراہیم عقیل کے جنازے میں سینکڑوں افراد شریک

    Lebnon

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حزب اللہ کے فوجی کمانڈر ابراہیم عقیل کی آخری رسومات حزب اللہ کے مرکز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دہیح میں ادا کر دی گئی ہیں۔

    اس موقع پر جنازے میں شامل ہونے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور ان کی گردنوں میں پیلے رنگ کی حزب اللہ علامتی چادریں تھیں۔

    ابراہیم عقیل کے جنازے میں حزب اللہ کے سینکڑوں حامی ہلاک ہو جانے والے اپنے کمانڈر کی تصویر کے ساتھ ساتھ فلسطینی، لبنانی، ایرانی اور حزب اللہ کے جھنڈے اٹھائے موجود تھے۔

    کہاں جا رہا ہے کہ ابراہیم عقیل کے جنازے میں شامل لوگوں کی تعداد حزب اللہ کے ایک اور بڑے کمانڈر فواد شکر کی آخری رسومات میں شامل لوگوں سے کہیں زیادہ تھی۔ جو اسی سال جولائی میں دہیح میں ہی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    Ibrahim Aqeel

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ ندیم قاسم نے ابراہیم عقیل کے جنازے میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’ان کا گروہ اس ہفتے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے صدمے کی حالت میں تھا تاہم اب ایسا نہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں لبنان میں حزب اللہ کے ارکان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے پیجرز اور واکی ٹاکیز میں دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ جمعے کے روز ایک فضائی حملے میں عقیل اور حزب اللہ کے دیگر ارکان سمیت 32 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

    اسرائیل نے صرف اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، لیکن خیال یہی ہے کہ پیجرز اور واکی ٹاکیز کے پھٹنے کے واقعات میں بھی اسرائیل ہی ملوث ہے۔

    شیخ ندیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے ساتھ حزب اللہ کی مزاحمت اور رابطے کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ حزب اللہ حماس کا اتحادی ہے۔

  15. اسرائیلی حملے میں مارے گئے حزب اللہ کے ’سیکنڈ ان کمانڈ‘ ابراہیم عقیل جن کے سر کی قیمت ستر لاکھ ڈالر تھی

    Aqeel

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعے کے روز لبنان کے جنوبی نواحی علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ پر کیے گئے فضائی حملے میں حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر ابراہیم عقیل ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعہ کے روز لبنان کے دارالحکومت میں حزب اللہ کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک مقام کو نشانہ بناتے ہوئے ایک فضائی حملہ کیا جس میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق دس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے اہم کمانڈر ابراہیم عقیل کون ہیں یہ جاننے کےلیے یہاں کلک کریں

  16. پیجر دھماکے میں زخمی ہونے والے ایرانی سفیر کا پہلا پیغام

    لبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ منگل کو بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی پہلی لہر کے دوران زخمی ہونے کے بعد ’اب بہت بہتر‘ ہیں۔

    ایکس پر اپنے ایک حالیہ پیغام میں انھوں نے لبنانی اور ایرانی ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کا علاج کیا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایکس پر انھوں نے ذاتی طور پر یہ پیغام پوسٹ کیا تھا یا نہیں لیکن دھماکے میں زخمی ہو جانے کے بعد سامنے آنے والا یہ اُن کا پہلا پیغام ہے۔

    ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی سے متعلق متعدد ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ جن میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ جب ایرانی سفیر کے پاس یہ پیجر دھماکہ ہوا تو اُس کی وجہ سے اُن کی ایک آنکھ اس وقت ضائع ہو گئی ہو اور دوسری پر گہرا زخم آیا ہو۔

    تاہم بیروت میں ایران کے سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کی ہے، لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان کے ہاتھ پر گہرا زخم آیا ہے جس کے بھرنے میں ابھی کُچھ وقت لگے گیا۔ ایرانی سفارتخانے نے یہ بھی کہا ہے کہ اُمید ہے کہ بہت جلد مجتبیٰ امانی کی بینائی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔

    گزشتہ منگل کو سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی دو مختصر ویڈیوز میں امانی کو ایک کار سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جہاں اُن کا چہرہ خون سے لت پت سفید کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا اور اُن کا ایک ہاتھ شدید زخمی تھا۔

  17. اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    war

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک نظر ڈالتے ہیں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے اہم واقعات پر

    • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ شب یعنی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے شروع ہونے والی کشیدگی میں شدت آتی جا رہی ہے۔
    • حزب اللہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اُنھوں نے گزشتہ شب سے اب تک اسرائیل پر 150 میزائل داغے ہیں، تاہم اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ ان میں سے متعدد میزائلوں کو اسرائیلی سر زمین پر گرنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔
    • حزب اللہ کی جانب سے حیفہ ہر داغے جانے والے چند میزائلوں سے کُچھ رہائیشی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کُچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔
    • 8 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس شورش میں اب تک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائل اور راکٹ نے جنوبی اسرائیل میں کُچھ ایسے علاقوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے جہاں تک اس سے پہلے اُن کی رسائی نہیں تھی۔
    • اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر ہونے والے فضائی حملوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حزب اللہ کے متعدد اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
    • عراقی عسکریت پسند گروہ نے بھی حزب اللہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
    • اُدھر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے حالات انتہائی خطرناک ہو گئے ہیں، اور ایک نئی جنگ کے چھڑ جانے کا خدشہ ہے۔‘