جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا: چیف جسٹس کا جسٹس منصور علی شاہ کو خط

جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے رکن ہیں تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد انھوں نے کمیٹی کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

خلاصہ

  • امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لبنان اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی سفارتی معاہدے پر پہنچنے کے لیے سفارتکاری کو موقع فراہم کیا جائے۔‘
  • پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے سبب پاکستانی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔
  • لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے 280 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
  • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک لبنان میں 90,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
  • پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں ہونے والے ’سنگین کشیدگی‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے.
  • وائٹ ہاؤس نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر داغے گئے میزائل پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
  • برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جاپان، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کی اپیل کر دی ہے۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا بیروت پر حملہ جنگ کو وسعت دینے کی چال کے سوا کچھ نہیں ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی فضائی حملوں میں 15 افراد ہلاک: لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ آج صبح ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی لبنان کے قصبوں میں ہوئی ہیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق آج صبح جبل امل کے قصبے تبنین میں فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک کے جنوب میں بنت جبیل میں اسرائیلی حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل لبنان کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان کے شہر عین قنا میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے جبکہ صوبے کسروان کے قصبے میں تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملے میں وسطی لبنان کے قصبے جون میں چار افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے شہر نباتیہ پر فضائی حملے کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں بعد میں مزید اپ ڈیٹ فراہم کریں گے۔

  2. پوپ فرانسس کا لبنان میں ’سنگین کشیدگی‘ کو روکنے کا مطالبہ

    پوپ فرانسس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں ہونے والے ’سنگین کشیدگی‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

    ویٹیکن سٹی میں اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ وہ ’لبنان سے آنے والی خبروں سے غمزدہ ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں شدید بمباری سے ہلاکتیں اور تباہی ہوئی ہے۔‘

    ’یہ ناقابل قبول ہے۔ میں لبنانی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں جو ماضی قریب میں بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔‘

  3. تل ابیب حملہ ظاہر کرتا ہے کہ حزب اللہ ابھی بھی خطرہ ہے, ہیوگو بشیگا، بی بی سی نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اللہ کا آج کا تل ابیب پر حملہ اسرائیل کے لیے ایک پیغام ہو سکتا ہے: حزب اللہ بے شک کمزور تو ہو گئی ہے لیکن وہ ابھی بھی ایک خطرہ ہے۔

    حالیہ دنوں میں ہونے والے بے مثال پے در پے حملوں نے اس گروپ کی کام کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان تو پہنچایا ہے لیکن اس کی لڑنے کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

    پہلے پیجر اور واکی ٹاکی دھماکوں نے حزب اللہ کے مواصلاتی نظام کو کافی نقصان پہنچایا اور پھر جنوبی بیروت میں اس کے مضبوط گڑھ پر ایک فضائی حملے نے گروپ کے مرکزی لڑاکا یونٹ رضوان فورس کی چین آف کمانڈ کو تقریباً ختم ہی کر دیا ہے۔

    اور پھر سوموار کے روز شروع ہونے والے فضائی حملوں میں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے راکٹ لانچروں اور ہتھیاروں کے ذخیروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لبنان کے وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں اب تک تقریباً 500 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بہت سے شہری بھی شامل ہیں۔

    تاہم ان تمام قیاس آرائیوں کے باوجود کہ اسرائیل شاید جنوبی لبنان پر زمینی حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر سکے اور اس کے جنگجوؤں کو سرحد سے دور دھکیل کر ایک بفر زون قائم کر سکے بظاہر حزب اللہ اب بھی حملے جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہے۔

    دریں اثنا، ہزاروں افراد اب بھی محفوظ مقامات کی تلاش میں شمال کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

  4. تازہ اسرائیلی حملے میں 10 افراد ہلاک، 22 زخمی: لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارت صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے شہر عین قنا میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے جبکہ صوبے کسروان کے قصبے میں تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملے میں وسطی لبنان کے قصبے جون میں چار افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان اور بیقا کے علاقے میں وسیع پیمانے پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

  5. بریکنگ, اسرائیل میں دو مقامات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، حزب اللہ کا دعویٰ

    حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل میں دو مقامات پر’درجنوں میزائل داغے ہیں۔‘ حزب اللہ نے اپنے دعوے میں کہا گیا ہے کہ اس میزائل حملے میں ہتزور کے علاقے اور دادو کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیل نے ابھی تک اس حملے سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور البقاع کے علاقے پر ایک ’بھرپور حملے‘ کا آغاز کیا ہے۔

  6. ’آئینی عدالت کا مقصد چیف جسٹس کی پاور کو ختم کرنا اور قاضی فائز عیسیٰ کو وہاں بٹھانا ہے‘ عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا مقصد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی پاور کو ختم کرنا اور قاضی فائز عیسیٰ کو وہاں بٹھانا ہے۔

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہِ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں کل سے جو ہو رہا ہے یہ سب گینگ آف تھری کو توسیع دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ انھوں نے کہا کہ کل سے جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہے کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر ملے ہوئے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کو پتہ ہے اس پر آرٹیکل چھ لگے گا اسی لیے الیکشن فراڈ کو دبایا جا رہا ہے۔ عمران خان نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس بھی الیکشن فراڈ کا معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس بجھوا دیتے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سب سے زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن کی تعریف چیف جسٹس کرتے ہیں اور تھرڈ ایمپائر سب کنٹرول کر رہا ہے وہ ان کی ٹیم کا کپتان ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا مقصد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی پاور کو ختم کرنا ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی پاور کو ختم کرکے قاضی فائز عیسیٰ کو آئینی کورٹ میں بٹھانا چاہتے ہیں۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ جسٹس منصور علی شاہ کو مکمل بیک کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت یحیی خان پارٹ ٹو حکومت ہے اور مشرقی پاکستان کے لوگ پاکستان کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے وہ حقوق چاہتے تھے۔ طاقت کا استعمال کر کے انھیں علیحدگی کی جانب دھکیل دیا گیا۔ یحیی خان نے اپنی طاقت کے لیے جیتی ہوئی جماعت کو اقتدار نہیں دیا۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ملک کا بیڑا غرق تو دیا اب سپریم کورٹ کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔

    عمران خان نے الزام لگایا کہ یہاں سارے فیصلے لکھے ہوئے آتے ہیں ججز آکر سنا دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز بھی تابع ہو جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ بھی پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ نہیں کہا کہ ہماری خواتین اور کارکنان جو جیلوں میں ہیں ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ نو مئی واقعات میں انھوں نے آگ لگائی، آئی ایس پی آر جواب دے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کہاں گئیں۔ انھوں نے کہا کہ راولپنڈی میں جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو احتجاج کریں گے۔

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری طرف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت میں بشریٰ بی بی کے وکیل کی عدم موجودگی کے باعث مقدمے کے آخری گواہ پر آج پھر جرح نہ ہو سکی۔

    بدھ کے روز اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں وکیل صفائی نے جج ناصر جاوید رانا کو بتایا کہ ڈینگی بخار کی وجہ سے وکیل عثمان گل کی طبیعت ناساز ہے لہذا مقدمے کی سماعت کو ملتوی کیا جائے۔

    جس پر نیب پراسکیوٹر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کی جانب سے چار وکلا کے وکالت نامے عدالت میں جمع ہیں، عثمان گل موجود نہیں ہیں تو دیگر تین وکلا میں سے کوئی وکیل جرح کر لے۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیس کی سماعت جاری رکھنے کی ہدایات یہ خود لے کر آئے ہیں اور اب خود ان احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا کہ وکلا صفائی کی التوا کی درخواست مسترد کی جائے۔ عدالت نے سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

  7. شام سے داغے گئے ڈرون کو بحیرہ جلیل پر تباہ کر دیا گیا: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام کی جانب سے داغے گئے ایک ڈرون کو انٹرسیپٹ کیا ہے۔

    فوج کے مطابق بدھ کی صبح اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام کی حدود سے اسرائیل میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو روک لیا ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز نے ایک بیان میں کہا کہ اس ڈرون کو بحیرہ جلیل کے اوپر روکا گیا اور اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔

    فوج کی جانب سے یہ اعلامیہ اُس بڑی خبر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے تل ابیب کو نشانہ بنانے کی غرض سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔

  8. یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اللہ کا کوئی میزائل تل ابیب تک پہنچا ہے: اے ایف پی

    اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اللہ کا کوئی میزائل تل ابیب تک پہنچا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور اس سے کوئی مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    اس سے قبل حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کا ہدف تل ابیب کے قریب ’موساد کا ہیڈکوارٹر‘ تھا۔ تل ابیب اور اس کے آس پاس کا علاقہ اسرائیل کا سب سے زیادہ آبادی والا شہری علاقہ ہے۔

  9. اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کا میزائل لانچر تباہ کرنے کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے لبنان کے علاقے نفاخیہ میں اُس میزائل لانچنگ پیڈ کو تباہ کر دیا ہے جہاں سے بدھ کی صبح حزب اللہ نے تل ابیب کی جانب میزائل داغا تھا۔

    اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے کامیابی سے حزب اللہ سے متعلق دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے اور ان اہداف میں ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کے مقامات اور میزائل لانچر شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ایک ویڈیو بھی ریلیز کی ہے جس اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں ہونے والے ایک حملے کو دکھایا گیا ہے۔

  10. تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں میزائل حملے کے پیش نظر انتباہی سائرن, ہیوگو بچیگا، بی بی سی نامہ نگار

    بدھ کی صبح تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں حملے کے انتباہی سائرن گونجتے رہے جس کے بعد اسرائیلی فوج نے بتایا کہ انھوں نے حزب اللہ کی جانب سے تل ابیب پر داغے ایک میزائل کو ہدف پر پہنچنے سے قبل فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

    یاد رہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ حزب اللہ نے تل ابیب کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ اس دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان پر فضائی حملے بھی جاری ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے بدھ کی صبح حزب اللہ کی جانب سے زمین سے زمین پر مار کرنے والے (سرفیس ٹو سرفیس) میزائل کو انٹرسیپٹ کیا گیا اور اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    آج صبح ایک بار پھر اسرائیلی فوج نے لبنان میں شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں سے دور رہیں کیونکہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فضائی حملے جاری رہیں گے۔ اس صورتحال کے پیش نظر لبنانی شہریوں کی بڑی تعداد جنوبی لبنان کے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہو رہی ہے۔

    اسی اثنا میں حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ بیروت میں ہونے والے ایک فضائی حملے کے دوران اُن کے ایک اور سینئر کمانڈر مارے گئے ہیں۔ مارے گئے کمانڈر ابراہیم قباسی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ حزاب اللہ کی میزائل اور راکٹ فورس سے منسلک سینیئر کمانڈر تھے۔

    دوسری جانب نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنانی وزیر خارجہ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو کنٹرول کرنے توجہ مرکوز کرے۔

  11. حزب اللہ اور اسرائیل میں لڑائی کا آغاز کیسے ہوا؟

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ گذشتہ سال اکتوبر میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے اور اس کے ردعمل میں اسرائیل کی تاحال جاری جوابی کارروئی کے آغاز سے ہی جاری تھا۔

    غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے حزب اللہ نے اب تک شمالی اسرائیل اور اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر آٹھ ہزار سے زیادہ راکٹ داغے ہیں۔ اس نے بکتربند گاڑیوں کو ٹینک شکن میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے اور دھماکہ خیز مواد سے لدے ڈرونز سے فوجی اہداف پر حملہ کیا ہے۔

    اُدھر اسرائیلی افواج نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے علاوہ ٹینکوں اور توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔ ان جھڑپوں کی وجہ سے جہاں لبنان اور اسرائیل کی سرحد سے متصل لبنانی علاقے میں ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے وہیں شمالی اسرائیل میں 70 ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔

    رواں برس 27 جولائی کو گولان کی پہاڑیوں میں ایک راکٹ حملے میں 12 اسرائیلی بچوں اور نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حزب اللہ نے کیا ہے تاہم حزب اللہ نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

    30 جولائی کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر فوجی کمانڈر فواد شکر کو ہلاک کر دیا ہے۔ اگلے ہی دن حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کو ایران کے دارالحکومت تہران میں قتل کر دیا گیا۔ اسرائیل نے اس کارروائی میں ملوث ہونے کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔

    25 اگست کو اسرائیلی فوج نے کہا کہ حزب اللہ فواد شکر کے قتل کے بدلے میں حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے جیٹ طیاروں نے ہزاروں کی تعداد میں حزب اللہ کے راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا ہے۔ حزب اللہ نے کہا کہ وہ ان حملوں کے باوجود بھی اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ داغنے اور ڈرون حملے کرنے میں کامیاب رہی تاہم اس نے اسرائیل کے بڑے شہروں کو نشانہ نہیں بنایا اور اپنے زیادہ جدید ہتھیار بھی استعمال نہیں کیے۔

    17 اور 18 ستمبر کو کشیدگی اُس وقت مزید بڑھی جب لبنان اور شام میں حزب اللہ کے ارکان کے زیر استعمال پیجرز اور واکی ٹاکی پھٹنے سے 39 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ حسن نصر اللہ نے حملوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا اور کہا کہ انھوں نے ’تمام حدیں پار کر لی ہیں‘۔ اسرائیل نے ان دھماکوں کے پیچھے بھی اپنا ہاتھ ہونے کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔

    حزب اللہ کو 20 ستمبر کو ایک اور جھٹکا لگا جب بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے میں اس کے اہم فوجی کمانڈر ابراہیم عقیل اور احمد وہبی سمیت کم از کم 16 ارکان مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور دیگر عام شہری بھی شامل ہیں۔

    دو دن بعد حزب اللہ نے اسرائیل کے بہت اندر تک طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے حملہ کر کے اپنے کمانڈر کی موت کا بدلہ لینے کی کوشش کی۔ ان حملوں میں حیفہ کے قریب مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ ہزاروں اسرائیلیوں کو پناہ گاہوں میں چھپنا پڑا۔

  12. حزب اللہ کی تل ابیب پر بیلسٹک میزائل داغنے کی تصدیق

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو (حزب اللہ)

    اپنے ایک تازہ ترین بیان میں حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے بدھ کی ساڑھے چھ بجے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ایسا غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی ’بہادرانہ اور باوقار مزاحمت‘ کی حمایت میں اور ’لبنان اور اس کے عوام کے دفاع میں‘ کیا گیا ہے۔

    حزب اللہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس میزائل کے ذریعے انھوں نے اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی ’موساد‘ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا تھا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا موساد کو نشانہ اس لیے بنایا گیا کیونکہ کہ یہ ’حزب اللہ کے رہنماؤں کو قتل کرنے اور پیجرز اور وائرلیس آلات کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اڑانے کی ذمہ دار ہے۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے لبنان میں وائر لیس آلات پھٹنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے بعد لبنان نے اسرائیل کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا، ان حملوں کے بعد ہی اسرائیل اور لبنان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

    حزب اللہ کے تازہ بیلسٹک میزائل حملے کے بعد اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ حزب اللہ نے تل ابیب کے شہری علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ میزائل داغے جانے کے بعد تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے ارد گرد کے علاقوں میں فضائی حملے سے بچنے کے انتباہی سائرن بجتے رہے تاہم میزائل کو فضا ہی میں روک لیا گیا اور اس سے کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  13. اسرائیل، لبنان کشیدگی: تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگر آپ نے بی بی سی اُردو کی اسرائیل، لبنان کشیدگی پر لائیو کوریج کو ابھی جوائن کیا ہے تو اب تک کی تازہ ترین خبروں کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    • اسرائیل نے منگل کی رات بھی جنوبی لبنان پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں جبکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے فریقین سے تحمل سے کام لینے کے مطالبہ کیا ہے
    • لبنان کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ منگل کی رات ہونے والے تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید چھ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان پر اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 50 بچوں سمیت مرنے والوں کی کل تعداد 560 سے زیادہ ہو گئی ہے
    • حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو ہونے والے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے میزائل اور راکٹ سسٹم کے انچارج کمانڈر ابراہیم قبیسی مارے گئے ہیں
    • اسرائیلی فضائی حملوں کے پیش نظر ہزاروں لبنانی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں اور ان افراد نے اب سرکاری سکولوں، عمارتوں اور عارضی مراکز میں پناہ لے رکھی ہے
    • اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیلی حملوں میں لبنانی شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہے
    • اسرائیل کا موقف ہے کہ اسے بیروت جیسے گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ حزب اللہ کے کارندے شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں
    • اِسی دوران تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے کچھ حصے بدھ کے روز صبح سویرے انتباہی سائرن کی آواز سے اُس وقت بیدار ہوئے جب اسرائیلی دفاعی نظام نے ایک میزائل کے لبنان کی سرحد عبور کر کے اسرائیل میں داخل ہونے کا پتہ لگایا
  14. حزب اللہ پوری طاقت سے اسرائیل پر جوابی حملہ کیوں نہیں کر رہی؟, فرینک گارڈنر، بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے لبنان میں ’آپریشن ناردرن ایرو‘ کے نام سے جاری آپریشن کے مقاصد واضح ہیں۔ وہ حزب اللہ کے راکٹوں، ڈرونز اور میزائلوں سے لاحق خطرے کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ساٹھ ہزار کے قریب شمالی اسرائیل کے شہری اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ کی حکمتِ عملی کافی مبہم ہے۔ جو بھی ہے اس کی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد تنظیم کی بقا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی غیر ریاستی فوجی قوت سمجھی جانے والی حزب اللہ حالیہ دنوں میں ہونے والے پے در پے حملوں کے باعث مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

    Hizb

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس کے مواصلات کا نظام محفوظ نہیں رہا، اس کے کچھ سینیئر رہنما قتل کر دیے گئے ہیں اور اس کے میزائلوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اس کے باوجود حزب اللہ نے اب تک اپنی بچی کچی قوت کے ساتھ بھرپور جوابی حملہ کیوں نہیں کیا ہے؟ آخر کار، حزب اللہ کے پاس فتح-110 اور یخونت جیسے میزائل بھی موجود ہیں جو 300 کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو تل ابیب سمیت اسرائیل کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے کافی ہے۔

    Hizb

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لیکن حزب اللہ کی قیادت جانتی ہے کہ اگر اس نے اسرائیل پر اسی طرز کے حملے کیے جیسے اسرائیل لبنان پر کر رہا ہے اور ان میں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں تو اسرائیل اس کے جواب میں بیروت ہوائی اڈے سمیت لبنان کے انفراسٹرکچر کو مکمل تباہ کر دے گا۔

    اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ایران نے حزب اللہ کو روک رکھا ہو کیونکہ اسرائیل کو ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے سے باز رکھنے کے لیے حزب اللہ کو اپنے ان ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

  15. ہماری جنگ آپ کے ساتھ نہیں حزب اللہ کے ساتھ ہے: نیتن یاہو کا لبنان کے شہریوں کے نام پیغام

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے لبنان کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہماری جنگ آپ کے ساتھ نہیں، ہماری جنگ حزب اللہ کے ساتھ ہے۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ ’آپ کو پاتال کے دہانے پر لے جا رہے ہیں... اپنی بھلائی کے لیے خود کو نصراللہ کی گرفت سے چھڑائیں۔‘

    تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم نے متنبہ کیا کہ جس کسی نے اپنے کمرے میں میزائل اور گیراج میں راکٹ چھپا رکھا ہے، اس کا گھر نہیں رہے گا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے آج ایک حملے میں حزب اللہ کے میزائل اور راکٹ سسٹم کے کمانڈر ابراہیم محمد القباسی کو ہلاک کر دیا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملے کے وقت حزب اللہ کمانڈر کے ساتھ گروپ کے کئی دیگر اعلیٰ عہدیداروں بھی موجود تھے۔

  16. صورت حال کافی کشیدہ ہے لیکن سفارتی حل اب بھی ممکن ہے: امریکی صدر

    امریکی صدر جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر جو بائیڈن اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ سفارتی حل کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو اب بھی مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ سات اکتوبر کے حملوں کے بعد سے امریکی انتظامیہ ایک وسیع جنگ کو روکنے کے لیے پرعزم تھی جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی اسرائیل-لبنان سرحد کے دونوں طرف بہت سے لوگ بے گھر ہیں۔

    ’ایک مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ حالانکہ صورت حال کافی کشیدہ ہو چکی ہے لیکن اس کا سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔‘

  17. لبنان میں سکولوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر کھول دیا گیا

    اسرائیلی حملوں کے بعد جنوبی لبنان سے بیروت کی جانب نقل مکانی والے ہزاروں بے گھر افراد کی رہائش کے لیے حکومت نے سکولوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر کھول دیا ہے۔

    ان تصاویر میں جنوبی لبنان سے بیروت آنے والے کچھ افراد کو دیکھا جا سکتا ہے جو بیروت کے ایک سکول میں بنائے گئے عارضی پناہ گاہ میں رہائش پذیر ہیں۔

    گذشتہ روز لبنان کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں سکولوں کو عام شہریوں کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر کھول دیاجائے گا۔

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  18. اسرائیلی فوج کا بیروت کے جنوب پر ایک اور فضائی حملہ، چھ افراد ہلاک: لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی وزاتِ صحت کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بیروت کے جنوب میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    وزارت صحت کا مزید کہنا کہ حملے میں 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ’ٹارگٹد‘ کارروائی کی ہے۔

    حملے کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھی کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے غوبیری میں ہونے والے اسرائیلی حملے کا نشانہ حزب اللہ کے ایک کمانڈر تھے۔

    دو لبنانی سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے میں غوبیری کے علاقے میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم ذرائع نے یہ بتانے سے انکار کیا تھا کہ حملے کا نشانہ کون تھے اور آیا وہ حملے میں بچ گئے ہیں یا نہیں۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لبنانی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں رہائشی عمارت کی دو منزلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    حملے کے بعد ہنگامی ٹیمیں فوری طور پر تعینات کر دی گئی تھیں ۔

    یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب غوبیری کے علاقے میں اسرائیلی حملے میں مارے گئے آٹھ افراد کے جنازہ ادا کیا جانا تھا۔ مارے جانے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا اور ان میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں۔

  19. ’یہ اسرائیل کے لیے ایک جوا ہے‘, جیریمی بوون، بی بی سی نیوز، یروشلم

    اسرئیلی فضائی حملے لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق پیر سے ہونے والے حملوں میں اب تک درجنوں خواتین اور بچوں سمیت 558 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

    جیسا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے گذشتہ رات کے بیان سے واضح ہے اسرائیل نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ شمالی سرحد پر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی حالیہ کارروائیوں پر کافی خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ان حملوں کو ایک ’شاہکار‘ قرار دیا ہے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق پیر سے ہونے والے حملوں میں اب تک درجنوں خواتین اور بچوں سمیت 558 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    لیکن یہ حملے اسرائیل کے لیے ایک جوا ہے۔ اسرائیل کو امید ہے یہ ثابت کر کے کہ اسرائیل پر حملہ کرنے کے نتائج کتنے تکلیف دہ ہو سکتے وہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملہ کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں۔

    اگر اسرائیل اپنی اس حکمتِ عملی میں کامیاب نہیں ہوتا، جس کا میرے خیال میں امکان نہیں ہے، تو انھیں اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار کو بڑھانا پڑے گا اور شاید لبنان کی سرحد کے اندر اپنی زمینی فوج اور ٹینک بھیجنے پڑیں گے۔

    اسرائیلی فوج کا ایک بڑا حصہ ریزروسٹ پر مشتمل ہے۔ ان کی جانب سے کافی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ وہ تھک رہے ہیں۔ غربِ اردن میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ غزہ میں تقریباً ایک سال بعد بھی جنگ جاری ہے۔

    ایسے میں کیا اسرائیلی فوج لبنان میں اس سے کہیں بڑی لڑائی کا آغار کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے؟

    مجھے یقین ہے کہ اسرائیلی فوج کے حوصلے بلند ہیں اور وہ یقینی طور پر بہتر طریقے سے لیس ہیں تاہم میرے خیال میں حزب اللہ کی اپنی سرزمین پر زمینی جنگ میں اسرائیل کو اُس کی تکنیکی اور انٹیلی جنس برتری کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔

    اسرائیلی فوج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی حزب اللہ سے لڑنے کی صلاحیت

    حماس کے مقابلے میں حزب اللہ کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ وہ حماس سے کہیں بہتر مسلح اور تربیت یافتہ ہیں۔ اس کے علاوہ حزب اللہ کئی برسوں تک شام میں صدر اسد کے لیے لڑتی رہی ہے تو انھیں لڑائی کا بھی کافی تجربہ ہے۔

    غزہ بنیادی طور پر ایک نرم ریتیلا علاقہ ہے جہاں حماس کے پاس سرنگوں کا ایک جال ہے لیکن یہسرنگیں ریت سے تراشی گئی ہیں۔ دوسری جانب جنوبی لبنان کا علاقہ پتھریلہ اور پہاڑی ہے جہاں حزب اللہ کے پاس بھی سرنگوں کے نیٹ ورک ہیں جو کہ چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے ہیں۔

    اسرائیل لبنان پر اپنے حالیہ سرپرائز حملوں کے بعد خود کو شاباشی دے رہا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ وہ حزب اللہ کو ایسی پوزیشن لینے پر مجبور کریں گے جہاں وہ مزید حملے کرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل اپنے تمام مقاصد بشمول 60,000 سے زائد اسرائیلیوں کی شمال میں انکے گھروں کو واپسی، حزب اللہ کو سرحد سے پیچھے دھکیلنا اور ان کے فوجی انفراسٹرکچر کی تباہی حاصل کر پائے گا؟ لہذا اگر حزب اللہ اسرائیل پر گولہ باری جاری رکھتا ہے تو میرے خیال میں اسرائیل کی اپنے مقاصد کو پورے کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بڑے سوالات آتھیں گے۔

  20. لبنان میں اسرائیلی حملوں میں درجنوں خواتین اور بچوں سمیت 558 افراد ہلاک

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک اسرائیل کے فضائی حملوں میں درجنوں خواتین اور بچوں سمیت 558 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک اسرائیل کے فضائی حملوں میں درجنوں خواتین اور بچوں سمیت 558 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    لبنان کے وزیرِ صحت ڈاکٹر فراس ابیاد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 50 بچے بھی شامل ہیں۔

    ڈاکٹر ابیاد کا کہنا ہے کہ حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 1,835 تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں طبی عملے کے افراد تمام مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے بڑھ چڑھ کر کر کام کر رہے ہیں۔

    ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے حالات اس سے برے نہیں ہوں گے۔

    ڈاکتر ابیاد کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز اسرائیل کی جانب سے کلینکس کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں طبی عملے کے چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج صبح بنتِ جبیل ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔