وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بار بار کہا جا رہا ہے کہ معافی مانگو۔ انھوں نے کہا کہ ’میں کس چیز کی معافی مانگوں اور کس سے معافی مانگوں، پرچے کاٹنے ہیں، جو کرنا ہے، کرلو۔۔ معافی نہیں مانگیں گے۔‘
اپنے ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نہ اس فارم 47 کی حکومت کو مانتے ہیں اور نہ ان کے کسی غیر آئینی اقدام کو مانیں گے۔‘ علی امین نے کہا کہ ’معافی پہلے وہ مانگیں جو معافی مانگنے کے مجاز ہیں۔ جنھوں نے میرے لیڈر کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔‘
علی امین نے سوال کیا کہ ’ظل شاہ سمیت میرے بے گناہ کارکنان کو شہید کرنے کی کی معافی کون مانگے گا۔ ہمارے لوگوں کو ملک بھر میں شہید کیا گیا، اس کی معافی کون مانگے گا؟ یہ معافی شافی والی بات مت کرو۔ اگر معافی والی بات ہوئی تو باقی جو زندگی بچی ہے آپ زندگی بھر معافی مانگیں گے۔‘
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ نہ اس فارم 47 والی حکومت کو مانتے ہیں اور نہ کسی مجوزہ آئینی عدالت کو تسلیم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی مقدمات میں عمران خان کو 414 دن سے جیل میں رکھا ہوا ہے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ’آئندہ جمعے کو ہم ملک کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں نکلیں گے اور پر امن انداز میں آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ لاہور جلسے میں بھر پور شرکت کر کے اسے کامیاب بنانے پر عمران خان کی طرف سے زندہ دلان لاہور اور پورے پنجاب کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں خیبرپختونخوا کی عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ہمیشہ کی طرح یہ ثابت کردیا کہ ہم غیرت مند لوگ ہیں اور جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے لاہور کے جلسے میں وقت پر نہ پہنچنے کی وضاحت تو نہیں کی مگر انھوں نے یہ کہا کہ ’اس ملک میں پی ٹی وی کا خبرنامہ سٹینڈرڈ ٹائم پر ہوتے دیکھا، باقی تو ملک میں کوئی سٹینڈرڈ نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں چھ بجتے ہی لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم بند کر دیے گئے۔ نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق پولیس کی گاڑیاں مرکزی سٹیج کے پیچھے پہلے سے ہی موجود تھیں اور جیسے ہی چھ بجے پولیس نے لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم کو بند کرا دیا، جس کے بعد جلسے میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد نے جلسہ گاہ سے نکلنا شروع کر دیا۔
یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے جاری اجازت نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ وہ دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے تک جلسہ کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ بیانیہ بے بنیاد ہے کہ جلسے کے لیے راستے کھلے چھوڑے گئے تھے، جلسہ گاہ کے دو کلومیٹر کے احاطے باڑ لگائی گئی تھی تاکہ لوگ جلسہ گاہ تک پہنچ نہ سکیں، جلسے میں جس طرح کی رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیں، ججوں نے خطوط لکھے کہ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ہم عدلیہ کے ساتھ ہیں، عدلیہ نشاندہی کرے کہ کون دباؤ ڈال رہا ہے، ہم عدلیہ کا ساتھ دیں گے، ہم اپنی آذادی کی بات کرتے ہیں کیونکہ نہ ہم غلام پیدا ہوئے اور نہ غلامی برداشت کریں گے۔‘
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہماری یہ تحریک دن بدن تیز ہوتی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ آنے والے اتوار کو میانوالی میں جلسہ ہوگا، ہم ان کو بتائیں گے کہ جلسہ ہوتا کیا ہے، اس کے بعد راولپنڈی اور دیگر شہروں میں بھی جلسہ کریں گے، عوام نے اس تحریک کا حصہ بننا ہے اور اس کو مزید آگے بڑھانا ہے، یہ قرآن کا حکم ہے کہ جابر حکمران کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہے۔