آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا: چیف جسٹس کا جسٹس منصور علی شاہ کو خط

جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے رکن ہیں تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد انھوں نے کمیٹی کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

خلاصہ

  • امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لبنان اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی سفارتی معاہدے پر پہنچنے کے لیے سفارتکاری کو موقع فراہم کیا جائے۔‘
  • پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے سبب پاکستانی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔
  • لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے 280 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
  • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک لبنان میں 90,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
  • پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں ہونے والے ’سنگین کشیدگی‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے.
  • وائٹ ہاؤس نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر داغے گئے میزائل پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
  • برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جاپان، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کی اپیل کر دی ہے۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا بیروت پر حملہ جنگ کو وسعت دینے کی چال کے سوا کچھ نہیں ہے۔

لائیو کوریج

  1. لبنان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے

    لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر نیویارک جارہے ہیں جہاں وہ رابطے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میقاتی کے نیویارک کے دورے کا مطلب ہے کہ وہ آج ہونے والی لبنانی حکومتی کابینہ کا اجلاس منسوخ کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی حملوں کے بعد سنیچر کے روز وزیرِ اعظم میقاتی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت منسوخ کر دی تھی۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت اب تک کم از کم 492 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف حزب اللہ پر حملے کیے ہیں جبکہ لبنان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملے آبادی والے علاقوں میں ہوئے ہیں۔

  2. شمالی اسرائیل میں درجنوں راکٹ حملوں کی اطلاعات

    اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے مقامی وقت کے مطابق صبح 9:30 سے 9:45 کے درمیان شمالی اسرائیل کے علاقوں میں راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب داغے گئے چند راکٹوں کو فضا میں مار گرایا گیا جبکہ کچھ راکٹ آبادی سے دور کھلے علاقوں میں گرے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے علاقے اپر گاللی میں لگ بھگ 50 راکٹ لانچرز داغے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر کو تباہ کر دیا گیا تاہم کچھ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور آگ بجھانے والے عملے کے اراکین متاثرہ عمارتوں پر مصروف عمل ہے۔

    حزب اللہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اسرائیل میں قریت شمونہ نامی علاقے پر ’بہت سے راکٹس سے حملہ کیا ہے۔‘

  3. اسرائیل کی جانب سے پیر کے روز لبنان میں کہاں کہاں حملے ہوئے؟

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ پیر کے روز لبنان بھر میں اس نے تقریباً 1600 مقامات کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق ان فضائی حملوں کا مرکز جنوبی لبنان تھا تاہم ملک کے مشرقی اور شمال مشرق حصے بھی ان حملوں کی زد میں آئے۔

    ایک راکٹ لانچر ہرمیل کے علاقے کے نزدیک گرا جو اسرائیل کی شمالی سرحد سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 492 افراد ہلاک ہوئے جن میں 35 بچے بھی شامل ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے صرف حزب اللہ پر حملے کیے ہیں جبکہ لبنان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملے آبادی والے علاقوں میں ہوئے ہیں۔

  4. قبائلی ضلع کرم میں حالات چار روز سے کشیدہ، جھڑپیں رکوانے کے لیے انتظامیہ اور جرگے کی کوششیں تاحال کامیاب نہ ہو سکیں

    پاکستان کے قبائلی ضلع کرم میں چار روز سے جاری جھڑپیں رکوانے کے لیے انتظامیہ اور گرینڈ جرگے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں اور منگل کو بھی ضلعے کے مختلف علاقوں میں حالات شدید کشیدہ ہیں۔

    کرم پولیس کے اہلکاروں کے مطابق منگل کو رات گئے تک بالیش خیل، خارکلے، پاڑا چمکنی، کڑمان، کنج علیزئی اور مقبل میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور فریقین ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے اپنے مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ضلع کرم میں سنیچر کے روز گاؤں بوشہرہ اور احمد زئی کے دو گھرانوں کے درمیان مورچوں کی تعمیر پر جھگڑا شروع ہوا تھا تاہم مقامی عمائدین اس جھگڑے کو رکوانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    بعدازاں حالات اس وقت خراب ہوئے جب کہ ایک علاقے میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے کے بعد بوشہرہ میں فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جہاں ایک بار پھر حالات پر قابو پا لیا گیا لیکن کرم کے دیگر چار مقامات پر مخالف فرقوں کے قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا دائرہ پھر کرم بالا اور کرم زیریں تک پھیل گیا۔

    متنازعہ اراضی پر مورچوں کی تعمیر کے معاملے پر شروع ہونے والی اس لڑائی میں پیر کی صبح تک 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی تاہم منگل کی صبح تک مزید تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    پاڑہ چنار کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوراٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کے دن ان کے پاس 16 زخمی لائے گئے جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ تحصیل ہسپتال صدہ کے ڈاکٹر رحیم کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح ایک راکٹ حملے میں ایک خاتون ہلاک اور ایک زخمی ہوئی ہیں جبکہ پیر کی شب بھی راکٹ گرنے سے ایک بچہ ہلاک اور دو خواتین زخمی ہوئی تھیں۔

    ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اہلِ تشیع اور اہلِ سنت قبائل دونوں کے افراد شامل ہیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں خوف پایا جاتا ہے اور ساری رات فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود نے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ جنگ بندی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور منگل کو بھی ایک اہم جرگہ ہو رہا ہے جس کے بعد امید ہے فائر بندی ہو جائے گی۔

    سابق سینیٹر اور اس علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما ساجد طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ گرینڈ جرگہ میں ہنگو، اورکزئی، کوہاٹ اور دیگر علاقوں کے عمائدین نے جھڑپیں رکوانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں لیکن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور منگل کو دونوں جانب سے تعلق رکھنے والے مقامی عمائدین پھر کوشش کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک ریاست اس میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی یہ مسئلے جاری رہیں گے۔ صرف مورچے خالی کرانا اور وہاں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو بٹھانے سے عارضی طور پر فائر بندی ہو جاتی ہے لیکن جو مسئلہ ہے اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں جھڑپوں کے بعد متعدد جرگے ہوئے لیکن حکومت کی جانب سے زیادہ توجہ نہ دیے جانے سے معاملات حل نہیں ہو رہے۔

  5. پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم سے متعلق جاری ہونے والے آرڈیننس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    سپریم کورٹ کے وکیل احتشام الحق کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی جانے والی ترمیم نہ صرف ماروائے آئین ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی بالادستی کو بھی کمزور کرنے کے مترداف ہے۔

    اس آرڈیننس کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدارتی آرڈیننس صرف ہنگامی صورتحال میں یا ایسی صورت میں جاری ہونا چاہیے جب ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ کسی معاملے کے حل کے لیے ارڈیننس جاری کرنا ناگزیر ہو۔

    درخواست کے مطابق لیکن اگر حالات معمول کے مطابق ہوں اور پارلیمان کے دونوں ایوان کے اجلاس طلب کیے جا سکتے ہوں اور وہاں پر انھیں زیر بحث بھی لایا جاسکتا ہو تو ایسے آرڈیننس جاری کرنے سے روک دینا چاہیے۔

    اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس نہ صرف آزاد عدلیہ بلکہ سپریم کورٹ کے بہت سے فیصلے واپس لینے پر بھی اثرانداز ہو گا اور اس طرح کے آرڈیننس آزاد عدلیہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اور بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز کی تشکیل کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں تبدیلی کی ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز کی تشکیل کا فیصلہ کرنے والی تین رکنی کمیٹی میں تبدیلی کی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کے دو سینئیر ججز کے علاوہ کمیٹی کا تیسرا رکن چیف جسٹس اپنی مرضی سے منتخب کرے گا جبکہ اس سے پہلے یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینئیر ججز پر مشتمل تھی۔

    اس صدارتی آرڈیننس کے جاری ہونے کے بعد جسٹس منیب اختر کو اس کمیٹی سے نکال دیا گیا تھا اور ان کی جگہ پر جسٹس امین الدین کو اس تین رکنی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔

    سپریم کورٹ کے سینئیر جج اور اس کمیٹی کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے کمیٹی کی تشکیل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور انھوں نے کمیٹی کے سربراہ یعنی چیف جسٹس آف پاکستان کو خط میں کہا کہ اس آرڈیننس پر عملدرآمد سے پہلے اس کو فل کورٹ کے سامنے پیش کیے جانا چاہیے تھا۔

    انھوں نے کہا کہ جسٹس منیب اختر کو شامل کر کے بھی اس صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد کیا جاسکتا تھا۔

    واضح رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے پیر کے روز اس تین رکنی کمیٹی کے اجلاس میں بطور احتجاج شرکت نہیں کی تھی۔

  6. اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد جنوبی لبنان سے سینکڑوں افراد کی نقل مکانی, ہیوگو بچیگا، بی بی سی نامہ نگار

    پوری رات جنوبی لبنان کے علاقوں سے لوگ دارالحکومت بیروت پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہم ایسے بہت سے خاندانوں سے ملے جن کے پاس بہت کم سامان تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو بیروت جانے والی مرکزی سڑک پر روک دیا گیا اور اب وہ عارصی پناہ گاہوں میں جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    سنہ 2006 میں حزب اللہ کی اسرائیل سے جنگ کے بعد پیر کا روز لبنان میں مہلک ترین دن تھا۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان کے مشرقی، جنوبی اور شمالی علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے۔

    لبنان کی حکومت کے مطابق ہزاروں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور اسرائیلی بمباری جاری رہنے سے یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

    حالیہ بحران جاری ہونے سے پہلے بھی سینکڑوں لوگ سرحد پر جاری کشیدگی کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

    ایران کا حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ کمزور تو ہوا ہے تاہم وہ ابھی بھی ایک طاقتور قوت ہے۔ حالیہ کشیدگی میں حزب اللہ نے ابھی تک گائیڈڈ میزائل جیسے اپنے ہتھیاروں کو اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں کیا۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی تک اسرائیل پر اپنے حملے جاری رکھے گا۔ دوسری جانب اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ یہ ابھی صرف آغاز ہے اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کو سرحد سے دور دھکیلنے کے لیے جنوبی لبنان پر زمینی حملہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

    اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے بہت سے لوگوں کا ابھی اپنے گھر واپسی کا کوئی امکان نہیں۔

  7. جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج

    کچھ دیر قبل اسرائیل کی فوج نے آن لائن ایک پیغام پوسٹ کیا ہے، جس کے مطابق رات کے وقت لبنان سے عفولہ اور شمالی اسرائیل کے علاقوں کی جانب راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ انھوں (حزب اللہ) نے راکٹ لانچروں سے حملہ کیا جبکہ ان کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ انھوں نے ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے والی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے پیر کے روز ہونے والے اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں ساحلی شہر حیفہ کے قریب اسرائیلی فوجی تنصیبات اور دو اڈوں پر راکٹ داغے ہیں۔

    حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے پیش نظر رات گئے شمالی اسرائیل میں سائرن کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

  8. ’عمران خان کے ملٹری ٹرائل کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘: وفاق کے جواب کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے کی درخواست نمٹا دی ہے۔

    عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے اس بیان پر ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست نمٹا دی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل رواں برس جولائی میں لاہور ہائیکورٹ نے بھی سابق وزیراعظم کی طرف سے انھیں فوجی عدالتوں کے حوالے نہ کرنے سے متعلق درخواست خارج کی تھی۔

    اپنی اس درخواست میں عمران خان نے خدشتہ ظاہر کیا تھا کہ نو مئی سے متعلق مقدمے میں انھیں فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے درخواست میں لکھا تھا کہ ’عدالت نو مئی کے کیسز میں میرے مقدمات عام عدالتوں کے پاس رہنے کا حکم دے۔‘ عمران خان نے استدعا کی تھی کہ‏ عدالت ان کی ممکنہ حراست فوج کو دینے کے خلاف حکم جاری کرے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ سال نو مئی کے بعد آرمی چیف کی زیر قیادت کور کمانڈرز کے خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فوجی تنصیبات اور اہلکاروں پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوج کے متعلقہ قوانین بشمول آرمی ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اس کے بعد سے فوج کی جانب سے فوجی عدالتوں کے بارے میں دیے گئے بیانات میں کہا جاتا رہا ہے کہ آرمی سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق ہی نمٹا جا رہا ہے۔

    گذشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائل کی اجازت دینے والی آرمی ایکٹ میں موجود شق ٹو ون ڈی ہی کالعدم قرار دے دی تھی اور حکم دیا کہ تمام افراد کے خلاف مقدمات عام فوجداری عدالتوں کے سامنے چلائے جائیں گے۔

    دسمبر میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بنچ نے اس حکم کو معطل تو کر دیا تھا تاہم یہ بھی کہا تھا کہ جب تک فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا اس وقت تک فوجی عدالتیں کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں سنا سکتیں۔

    نو مئی کے واقعات میں جن 103 افراد کے مقدمات قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے تھے ان میں سے اب تک 20 افراد کو سزا مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا چکا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ برس نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد واقعات ہوئے تھے جن میں مشتعل مظاہرین نے راولپنڈی میں واقع جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کیا تھا اور لاہور میں واقع جناح ہاؤس پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کیا گیا تھا۔

  9. ’اسرائیل کے دوست اور دشمن بدترین کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں‘, جیریمی بوون، بی بی سی نیوز، یروشلم

    سنہ 2006 میں حزب اللہ کی اسرائیل سے جنگ کے بعد پیر کا روز لبنان میں مہلک ترین دن تھا۔

    اسرائیل نے پیر کے روز لبنان میں شدید فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں اب تک 492 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لبنان کی حکومت اور اسرائیل کی جانب سے مزید حملوں کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے۔

    عام شہریوں کو وہ علاقے چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن پر فضائی حملے ہو رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ لبنان کے شمال مشرق میں وادی بقاع اگلا ہدف ہو گا، جسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    حالیہ کشیدگی سے پہلے ہی ایک لاکھ سے زیادہ لبنانی شہریوں کو اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اپنا گھر چھوڑنا پڑا اور ان کی فوری طور پر واپسی کی کوئی امید بھی نہیں۔

    ہم ایک مرتبہ پھر اسرائیل کی جانب سے لڑائی میں شدت دیکھ رہے ہیں۔

    شاید اسرائیل کا خیال یہ ہے کہ حزب اللہ اس وقت انتہائی کمزور پوزیشن میں ہے کہ اسے مزید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان تنازعہ اگرچہ کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم حالیہ کشیدگی گزشتہ سال 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے ایک دن بعد شروع ہوئی۔

    حزب اللہ نے سرحد پر راکٹ فائر کرنے کی ایک محدود لیکن مسلسل مہم شروع کی تاکہ اسرائیلی فوجیوں، املاک اور لوگوں کو نقصان پہنچایا جائے۔

    اس کے بعد تقریباً 60 ہزار اسرائیلی شہری نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور گزشتہ چند دنوں میں ان افراد کی اپنے گھروں کو واپسی اسرائیل کے جنگی مقاصد کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے۔

    امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے دیگر اتحادیوں اور ناقدین کا خیال ہے کہ اس خطرناک بحران کو کم کرنے کے لیے غزہ میں جنگ بندی ہونا ضروری ہے۔

    حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ غزہ میں سیز فائر تک اسرائیل پر حملے جاری رہیں گے تاہم موجودہ صورتحال سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس وقت حماس اور اسرائیل کے رہنما اس معائدے کی جانب نہیں جانا چاہتے ہیں جس کی پیشکش امریکہ نے کی ہے۔

    اس جنگ کو خود اسرائیلی شہریوں کی بھی زبردست حمایت حاصل ہے تاہم بہت سے اسرائیلیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ نیتن یاہو ایک ایسے لیڈر ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں اور انھوں نے غزہ میں یرغمالیوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔

    لہٰذا وہ ایک متنازعہ کردار ہیں لیکن پارلیمنٹ میں انھیں دائیں بازو کی حمایت حاصل ہے اور وہ سیاسی طور پر محفوظ ہیں۔

    نیتن یاہو کا جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ خطرناک ہے۔

    اگرچہ اسرائیل کے پے در پے حملوں سے حزب اللہ ابھی کمزور ہے لیکن وہ اب بھی واپس حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے دوست اور دشمن، دونوں ہی ابھی بھی بدترین کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

  10. لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملے: اب تک کی صورتحال کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    • لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت اب تک کم از کم 492 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • لبنان کی وزارت صحت کے مطابق مرنے والوں میں 35 بچے اور 58 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 1600 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
    • اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے 1300 اہداف کو نشانہ بنایا۔
    • دوسری جانب حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی اسرائیل کی جانب 200 سے زائد راکٹ لانچ کیے ہیں۔
    • لبنان کے وزیر صحت کے مطابق فضائی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
    • اسرائیل کی جانب سے لبنان پر فضائی حملوں کے بعد اب آپریشن کے اگلے مرحلے کی تیاری کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
  11. تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کا دھرنا: گوادر میں انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد چار روز سے بند ساحلی شاہراہ کو کھول دیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں انتظامیہ اور دھرنے کے شرکا کے درمیان رات گئے کامیاب مذاکرات کے بعد چار روز سے بند ساحلی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

    ضلع کونسل کے چیئرمین معیار جان نوری کی ثالثی میں رات کو ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمان، اسسٹنٹ کمشنر جواد زہری نے پسنی میں نلینٹ زیرو پوائنٹ پر دوبارہ مذاکرات کیے۔

    ساحلی شاہراہ پر دھرنوں کے باعث گوادر کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ منقطع رہا۔

    واضح رہے کہ یہ دھرنے ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں دیے گئے جن کی حمایت ’آل پارٹیز گوادر‘ اور ’حق دو تحریک‘ نے بھی کی تھی۔

    شاہراہ کی بندش کی وجہ سے جہاں گوادر اور دیگر شہروں کے درمیان سفر کرنے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہیں گوادر شہر اور اس کے دیگر علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت پیدا ہوئی۔ احتجاج کی وجہ سے پھنسنے والوں میں وہ زائرین بھی شامل تھے، جو ایران سے گوادر میں داخل ہوئے تھے۔

    یہ احتجاج کیوں کیا گیا؟

    بلوچستان کے دیگر سرحدی اضلاع کی طرح گوادر میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے کاروبار اور روزگار کا انحصار ایران سے آنے والے تیل اور اشیائے خوردونوش پر ہے۔

    جمعے کے روز سے تیل کے کاروبار سے وابستہ پک اپ یونین اور آئل ڈپو مالکان نے سربندن اور نلینٹ زیرو پوائنٹ سے ساحلی شاہراہ کو یہ کہہ کر بند کیا کہ گوادر سے تیل کی چھوٹی گاڑیوں کی بین الاضلاعی نقل و حمل پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    پسنی میں نلینٹ زیرو پوائنٹ پر دھرنے میں شریک امان جمعہ نے فون پر بتایا کہ گوادر میں ماہی گیری اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے سوا روزگار کے دیگر ذرائع نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’دیگر سرحدی علاقوں میں تیل لانے والی چھوٹی گاڑیوں کو دیگر اضلاع میں جانے کی اجازت ہے لیکن گوادر میں کنٹانی کے علاقے سے جو چھوٹی گاڑیاں تیل لاتی ہیں ان کو اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس مقصد کے لیے تلار کے علاقے میں کوسٹ گارڈز کی ایک اضافی چیک پوسٹ حال ہی میں قائم کی گئی حالانکہ تلار کوسٹ سے بہت زیادہ دور ہے۔‘

    ان کے بقول تلار میں پہلے ہی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ قائم ہے جس کے ہوتے ہوئے کوسٹ گارڈز کی اضافی چیک پوسٹ کا کوئی جواز نہیں۔

    امان جمعہ نے کہا کہ گوادر میں کنٹانی کے سرحدی علاقے میں حکومت کی جانب سے تین دن کی چھٹیوں کا اعلان کیا گیا جو بہت زیادہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تیل کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ہفتے میں ایک یا دو دن چھٹی کی جائے کیونکہ وہاں کام کرنے والے مزدوروں کا تعلق سندھ سے ہے اور اگر ہفتے میں تین دن کام بند ہو گا تو مزدور چلے جائیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ رات گئے ہونے والے یہ مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال تیل لانے والی چھوٹی گاڑیوں کے گوادر سے باہر جانے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی جبکہ دس روز بعد کنٹانی سرحدی کراسنگ پوائنٹ پر ہفتے میں تین دن کی بجائے دو دن کاروبار بند ہو گا۔

    احتجاج کے باعث عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گوادر اور کراچی کے درمیان ساحلی شاہراہ کے مختلف مقامات پر دھرنوں کی وجہ سے گوادر کا جمعے کے روز سے کراچی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع رہا۔

    اس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں گاڑِیوں کے پھنس جانے کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں خواتین اور بچوں سمیت زائرین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

    پسنی سے تعلق رکھنے والے صحافی ساجد نور نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں شاہراہ کی بندش سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں گوادر شہر اور اس کے دیگر علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت پیدا ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'گوادر میں سبزیاں اور متعدد دیگر اشیا باہر سے آتی ہیں جبکہ چار روز سے گوادر کے راستے بند ہونے کی وجہ سے سبزیوں کی قلت پیدا ہوگئی۔‘

  12. بریکنگ, لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 492 افراد ہلاک

    لبنان میں پیر کے روز اسرائیلی کے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں خواتین اوربچوں سمیت 492 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق مرنے والوں میں بچے اور 58 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 1600 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

    2006 کے بعد سے پیر کے روز کیے جانے والے اسرائیلی حملے کو حزب اللہ کے خلاف مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے لبنان پر پیر کے روز بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد اب اپنے آپریشن کے اگلے مرحلے کی تیاری کا اعلان کیا گیا ہے۔

    لبنانی وزیر صحت ڈاکٹر فراس ابیاد نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب میں دسیوں ہزار لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کر رہے ہیں۔

    بی بی سی ریڈیو فور میں گفتگو میں انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ واضح ہے کہ اسرائیلی حکومت کا ارادہ جنگ کو بڑھانا اور مشتعل کرنا ہے۔‘

  13. ہم جنگ کے ایک نئے مرحلے میں ہیں: لبنانی وزارت صحت

    لبنان میں پیر کے روز اسرائیل فوج کے فضائی حملوں کے بعد ساڑھے تین سو سے زائد افراد ہلاک اور 1240 سے زایادہ زخمی ہو گئے وہیں جنوب کی جانب سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

    لبنانی وزیر صحت ڈاکٹر فراس ابیاد نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب میں دسیوں ہزار لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کر رہے ہیں۔

    بی بی سی ریڈیو فور میں گفتگو میں انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ واضح ہے کہ اسرائیلی حکومت کا ارادہ جنگ کو بڑھانا اور مشتعل کرنا ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اسرائیل کے ان حملوں کا بنیادی مقصد ان علاقوں کو خالی کروانا تھا۔

    لبنانی وزیر صحت کے مطابق ’ہم جنگ کے ایک نئے مرحلے میں ہیں، شروع میں یہ ٹارگٹڈ حملے تھے لیکن اب یہ بلا امتیاز کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آبادی کی اکثریت جنگ نہیں چاہتی۔ ان کے خیال میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی کشیدگی میں لبنان ملوث نہیں بلکہ جنگ میں اضافے کا فیصلہ سرحد کے اس پار سے کیا گیا۔‘

    دوسری جانب ایران نے لبنان پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہےاور اسرائیل پر وسیع تر تنازع پیدا کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔

  14. اسرائیل کا لبنان پر حملوں کے اگلے مرحلے کی تیاری کا اعلان

    اسرائیل کی جانب سے لبنان پر پیر کے روز بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد اب اپنے آپریشن کے اگلے مرحلے کی تیاری کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی چیف آف سٹاف ہرزی حلیوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بنیادی طور پر ہم اس جنگی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں جسے حزب اللہ نے پچھلے 20 سالوں سے پروان چڑھایا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت اہم ہے۔ ہم ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اپنے حملوں کے اگلے مراحل کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان اور مشرق میں وادی بقاع میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے دسیوں ہزار راکٹوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

  15. بریکنگ, لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 356 سے زائد افراد ہلاک

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 356 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 1240 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں سے مرنے والوں میں 24 بچے اور 42 خواتین بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کی صبح حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد وہ لبنان میں اپنی کارروائی کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    کشیدہ صورت حال کے پیش نظر لبنانیوں کی بڑی تعداد نے جنوب کی جانب سے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نےجنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر اپنے حملوں کو شدید کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس نے لبنان میں 800 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس دوران سب سے زیادہ حملے وادی بقاع میں کیے گئے جس کو اسرائیل حزب اللہ کا گڑھ قرار دیتا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے اپنے بیان میں وادی بقاع کے رہائشیوں کو فوری طور پر ان علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اسرائیل کو اس بات کا قوی یقین ہے کہ اس علاقے میں حزب اللہ اپنے بڑے ہتھیاروں کا ذخیرہ کر رہی ہے۔

    لبنان کے وزیراعظم نے اپنے ملک پر اسرائیل کے حملوں کو ایسا ’تباہ کن منصوبہ‘ قرار دیا ہے جس کا مقصد لبنانی دیہات اور قصبوں کو تباہ کرنا ہے۔

    پیر کو لبنان کی کابینہ کے اجلاس کے دوران نجیب میقاتی نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات ’ہر لحاظ سے صفحۂ ہستی سے مٹا دینے والی جنگ‘ جیسے ہیں۔

  16. لبنان میں اسرائیل کی توجہ زمین کے بجائے فضائی حملوں پر مرکوز ہے, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان پر ان کی فوج کے حملوں میں تیزی اور شدت آ گئی ہے۔

    اس وقت پورے لبنان میں حزب اللہ کے پیجرز کے پھٹنے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل لڑائی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    اسرائیل حزب اللہ کو اس توقع پر ’بیک فٹ‘ پر رکھے ہوئے ہے کہ حکومت کے شمالی علاقوں سے بے دخل کیے گئے شہریوں کو گھروں تک واپس بھیجے کے مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔

    سب سے پہلے پیجرز اور واکی ٹاکیز کا پھٹنا، اس کے بعد حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کا قتل اور اب جنوبی لبنان میں راکٹ لانچرز کے ذریعے فضائی حملے اسی سلسلے کے کڑی ہیں۔

    اسرائیل غزہ کے شہریوں کو ’نقصان سے بچانے‘ کے لیے جہاں انتباہ جاری کر رہا ہے وہیں لبنان کے دیہی علاقوں میں بسنے والوں کو بھی خبردار کر رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کے بڑے ہتھیاروں کو چھپانے والے علاقوں سے نقل مکانی کر جائیں۔

    ہمیں ایک فضائی حملے کی ویڈیو دکھائی گئی جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک ایسے (ترمیم شدہ ) روسی کروز میزائل کو تباہ کیا ہے جسے ایک گھر کے اندر چھپا یا گیا تھا۔

    تاہم فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کے برعکس یہ الرٹس جنوبی لبنان پر زمینی حملے کے خطرے کی نشاندہی نہیں کر رہے۔

    ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ’ہم فی الحال صرف اسرائیل کے فضائی حملوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔‘

    ایسا لگتا ہے کہ فی الحال اسرائیل محض فضائی حملوں سے حاصل ہونے والے نتائج پر ہی اکتفا کرے گا۔

  17. بریکنگ, لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتیں بڑھ کر 182 ہو گئیں، 700 سے زیادہ زخمی

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 182 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 727 لوگ زخمی ہیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان پر ہونے والے حملوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں میں بچے، عورتیں اور طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

    لبنان کے وزیراعظم نے اپنے ملک پر اسرائیل کے حملوں کو ایسا ’تباہ کن منصوبہ‘ قرار دیا ہے جس کا مقصد لبنانی دیہات اور قصبوں کو تباہ کرنا ہے۔

    پیر کو لبنان کی کابینہ کے اجلاس کے دوران نجیب میقاتی نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات ’ہر لحاظ سے صفحۂ ہستی سے مٹا دینے والی جنگ‘ جیسے ہیں۔

  18. آئین کے آرٹیکل 63 اے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست 30 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ نے آئین کے ارٹیکل 63 اے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ 30 ستمبر کو نظرثانی کی اپیل کی سماعت کرے گا۔

    اس پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منیب اختر جسٹس امین الدین جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔

    سابق چیف جسٹس عمر عطا کی سربراہی میں 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس میں اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا تھا کہ پارلیمانی لیڈر کی ہدایت کے خلاف کوئی بھی رکن پارلیمنٹ کسی ترمیم یا تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دے گا تو نہ تو ان کا ووٹ شمار ہوگا بلکہ ایسے رکن پارلیمان کو اپنی نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس صدارتی ریفرنس پر رائے اس وقت دی گئی جب پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے اعتماد کا ووٹ لیا تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کچھ ارکان نے بھی ووٹ دیا تھا۔

    اس عدالتی فیصلے کے خلاف حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی تھی جو کہ ایک سال سے زیر التوا رہی ہے۔

    اس اپیل میں حکمراں اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس عدالتی فیصلے میں آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    دوسری جانب آئین میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ پارٹی پالیسی کے خلاف جو بھی رکن پارلیمنٹ ووٹ دے گا تو اس کا ووٹ لازمی شمار ہوگا تاہم وہ اپنی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

    دوسری جانب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دینے سے متعلق کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اطلاعات کے مطابق کمیٹی کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے شرکت نہیں کی۔

    صدارتی آرڈیننس کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی تشکیل میں ترمیم کے بعد جسٹس امین الدین کو جسٹس منیب اختر کی جگہ پر اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

  19. اسرائیل نے لبنان کے کن مقامات کو نشانہ بنایا

    اسرائیل نے سوموار کی صبح لبنان پرآٹھ اکتوبر 2023 کی جنگ چھڑنے کے بعد سے اب تک کے سب سے مہلک حملے کیے ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت نے ان حملوں میں کم از کم سو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے آج صبح حزب اللہ کے 300 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    نیچے موجود نقشے میں اسرائیلی حملے کی ذد میں آنے والے بعض مقامات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت نے اسرائیل کے ان فضائی حملوں کے نتیجے میں 100 شہریوں کی ہلاکت اور 400 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیل نے زیادہ تر فضائی حملے جنوبی لبنان پر کیے ہیں تاہم ان حملوں میں اسرائیل کی سرحد سے 150 کلومیٹر نزدیک کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں۔

  20. حزب اللہ کا شمالی اسرائیل پر درجنوں راکٹ داغنے کا دعویٰ

    عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ پیر کو لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد شمالی اسرائیل پر درجنوں راکٹ داغے گئے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی کو وسیع کر رہی ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں فوجی اڈوں اور گوداموں کو ’درجنوں‘ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    ایک الگ بیان میں، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے کم از کم 35 راکٹ داغے گئے اور کئی مقامات پر ان کے اثرات کی نشاندہی کی گئی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ زیریں گیلیلی کے علاقے میں ایک 50 سالہ شخص چھرّے لگنے سے معمولی زخمی ہوا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کئی راکٹوں کو فضائی دفاعی نظام کی مدد سے مار گرایا گیا جبکہ دیگر کھلے علاقوں میں گرے۔

    ادھر پیر کی صبح اسرائیلی حملوں کے بعد ایک علیحدہ بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ’آج حزب اللہ کے 300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے‘۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کا کہنا ہے ’ہم اس گھر پر حملہ کرتے ہیں جس میں ہتھیار موجود ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اب ’حزب اللہ کے خلاف اپنے حملوں کو منظم طریقے سے وسیع کر رہی ہے‘۔

    ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج جلد ہی وادی بقاع کے علاقے میں ’دہشت گردوں کے اہداف‘ پر حملہ کرنے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ بقاع شمال مشرقی لبنان کا ایک علاقہ ہے جہاں پہلے بھی حملے کیے جا چکے ہیں۔

    ترجمان نے حزب اللہ کے مبینہ اسلحہ ذخیروں کے قریب رہنے والوں پر زور دیا کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’حزب اللہ ان ہتھیاروں کو اسرائیل پر داغنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے! اپنی حفاظت کے لیے وہاں سے دور رہیں۔‘