پاکستان
کے سابق وزیر اعظم اور
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا مقصد سپریم کورٹ کے چیف
جسٹس کی پاور کو ختم کرنا اور قاضی فائز عیسیٰ کو وہاں بٹھانا ہے۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کے
مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہِ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے
کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم
کورٹ میں کل سے جو ہو رہا ہے یہ سب گینگ آف تھری کو توسیع دینے کے لیے کیا جا رہا
ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا
کہ چیف جسٹس کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ انھوں نے کہا کہ کل
سے جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہے کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر ملے ہوئے ہیں اور
چیف الیکشن کمشنر کو پتہ ہے اس پر آرٹیکل چھ لگے گا اسی لیے الیکشن فراڈ کو دبایا
جا رہا ہے۔ عمران خان نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس بھی الیکشن
فراڈ کا معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس بجھوا دیتے ہے۔
انھوں نے کہا کہ سب سے
زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن کی تعریف چیف جسٹس کرتے ہیں اور تھرڈ ایمپائر سب کنٹرول
کر رہا ہے وہ ان کی ٹیم کا کپتان ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا مقصد سپریم کورٹ
کے چیف جسٹس کی پاور کو ختم کرنا ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی پاور کو ختم
کرکے قاضی فائز عیسیٰ کو آئینی کورٹ میں بٹھانا چاہتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ جسٹس منصور علی
شاہ کو مکمل بیک کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت یحیی خان پارٹ ٹو حکومت ہے اور
مشرقی پاکستان کے لوگ پاکستان کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے وہ حقوق چاہتے تھے۔ طاقت
کا استعمال کر کے انھیں علیحدگی کی جانب دھکیل دیا گیا۔ یحیی خان نے اپنی طاقت کے
لیے جیتی ہوئی جماعت کو اقتدار نہیں دیا۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق
عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ملک کا بیڑا غرق تو دیا
اب سپریم کورٹ کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔
عمران خان نے الزام
لگایا کہ یہاں سارے فیصلے لکھے ہوئے آتے ہیں ججز آکر سنا دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں
کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز بھی تابع ہو جائیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک
مرتبہ بھی پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز
عیسی نے یہ نہیں کہا کہ ہماری خواتین اور کارکنان جو جیلوں میں ہیں ان کے ساتھ کیا
ہو رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کسی ادارے کا
نام لیے بغیر کہا کہ نو مئی واقعات میں انھوں نے آگ لگائی، آئی ایس پی آر جواب دے
کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کہاں گئیں۔ انھوں نے کہا کہ راولپنڈی میں جلسے کی اجازت نہ
دی گئی تو احتجاج کریں گے۔
دوسری طرف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت میں بشریٰ بی بی کے وکیل کی عدم موجودگی کے باعث مقدمے کے آخری گواہ پر آج پھر جرح نہ ہو سکی۔
بدھ کے روز اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں وکیل صفائی نے جج ناصر جاوید رانا کو بتایا کہ ڈینگی بخار کی وجہ سے وکیل عثمان گل کی طبیعت ناساز ہے لہذا مقدمے کی سماعت کو ملتوی کیا جائے۔
جس پر نیب پراسکیوٹر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کی جانب سے چار وکلا کے وکالت نامے عدالت میں جمع ہیں، عثمان گل موجود نہیں ہیں تو دیگر تین وکلا میں سے کوئی وکیل جرح کر لے۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیس کی سماعت جاری رکھنے کی ہدایات یہ خود لے کر آئے ہیں اور اب خود ان احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا کہ وکلا صفائی کی التوا کی درخواست مسترد کی جائے۔ عدالت نے سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی۔