پونچھ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک، پانچ زخمی: پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پولیس اور مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے علاقے ارجا کے نزدیک حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔
زخمیوں میں سے ایک شخص کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
راولاکوٹ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ راولاکوٹ روڈ پر پولیس کی ایک چیک پوسٹ واقع ہے جسے کچھ روز قبل ایک منصوبہ بندی کے تحت خالی کیا گیا تھا۔
اہلکار نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کو جب پولیس اہلکار اس چیک پوسٹ کو بحال کرنے اور وہاں پر ڈیوٹی ادا کرنے کے لیے جا رہے تھے تو قریبی علاقے میں چھپے ہوئے کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ پولیس اہلکار کے بقول اس کے جواب میں پولیس اہلکاروں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کالعدم تنظیم کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دو اہلکار بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے پندرہ جولائی کو عوامی ایکشن کمیٹی کی لانگ مارچ کی کال کو روکنے اور امن وامان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے مرکز ی حکومت سے مانگی گئی ایف سی اور رینجرز کی اضافی نفری کو وزارت داخلہ نے مرحلہ وار کشمیر روانہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زیادہ تر علاقوں میں انتخابی مہم جاری ہے جبکہ پونچھ ڈویژن کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم جماعت کی جانب سے دھرنا دیے جانے کی وجہ سے انتخابی مہم سُست روی کا شکار ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے انتخابات کا سامان دوردراز علاقوں کے مختلف حلقوں تک پہنچانے کے لیے وفاقی حکومت سے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔