ماہرنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف تین افراد کے قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو سنیچر کے روز ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا تاہم اب ان پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر پولیس کی کریک ڈاؤن کے دوران مارے گئے تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک تھے اس کے برعکس پولیس کا الزام ہے کہ یہ لوگ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ’بلوائیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے

خلاصہ

  • کینیڈا کے نئے وزیر اعظم مارک کارنی نے مُلک میں فوری اور قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا ہے۔
  • ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو اگرچہ سنیچر کے روز ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا لیکن اب ان کو ان تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔
  • پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد پر شدت پسندوں کی جانب سے در اندازی کی کوشش ناکام بنانے ہوئے 16شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
  • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے اہم حریف کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم امام اوغلو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ یوکرین کے لیے امن فوج کی تجویز دینے والے اتحادی ممالک کے اجلاس کی سربراہی کرے گا

    برطانیہ جمعرات کو یوکرین کے لیے تجویز کردہ امن فوج کے حامی ممالک کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ 20 سے زیادہ ممالک اس اتحاد میں شامل ہوں گے۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیراعظم بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    کہا جا رہا ہے کہ مغربی اتحاد کی اس امن فوج کے آپریشنل مرحلے کی جانب بڑھا جائے گا۔

    اس اتحاد میں شامل ممالک کے سینئیر فوجی افسران جب ناتھ وڈ میں برطانیہ کے مستقل جوائنٹ ہیڈ کوارٹر میں ملیں گے تو یہ بات چیت کریں گے کہ اس منصوبے پر عملی طور پر کیسے کام کیا جائے گا۔

  2. یوکرین کے پاور پلانٹس کو امریکہ چلا سکتا ہے، ٹرمپ کی تجویز

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت کے ایک دن بعد یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل فون کال کو ’بہت اچھا` قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب صدرزیلنسکی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کی قیادت میں اس سال دیرپا امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یوکرین کے جوہری بجلی گھروں پر ممکنہ امریکی ملکیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

    تاہم زیلنسکی نے بعد میں کہا کہ یہ صرف روس کے زیر انتظام زاپوریزیہ تنصیب کے بارے میں تھا۔

    ایک تفصیلی بیان میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ نے یوکرین کو اضافی فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے میں مدد دینے پر اتفاق کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’میدان جنگ کی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنے دفاعی عملے کے درمیان قریبی معلومات کا تبادلہ کرنے پر اتفاق کیا۔‘

    روبیو کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور زیلنسکی نے ٹرمپ کے ساتھ ’یوکرین کو بجلی کی فراہمی اور جوہری بجلی گھروں‘ پر تبادلہ خیال کیا تھا اور کہا تھا کہ ’امریکہ اپنی بجلی اور افادیت کی مہارت کے ساتھ ان پلانٹس کو چلانے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پلانٹس کی امریکی ملکیت اس بنیادی ڈھانچے کے لیے بہترین تحفظ اور یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی مدد ہوگی۔

    پوتن نے منگل کو امریکی صدر کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

    ادھر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے دوران زیلنسکی نے کہا کہ وہ جزوی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ریل اور بندرگاہوں کی تنصیبات پر حملوں کو روکنا شامل ہے-

    لیکن یوکرین کے صدر نے متنبہ کیا کہ اگر ماسکو نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی تو ان کا ملک بھی جوابی کارروائی کرے گا۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس کال کا مقصد یوکرین اور روس کو ان کی درخواستوں اور ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے۔

  3. چین نے منشیات کے جرائم میں ملوث چار کینیڈین شہریوں کو سزائے موت دے دی

    canada

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کینیڈین حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کے چار شہریوں کو منشیات سے متعلق الزامات میں چین میں سزاِئے موت دے دی گئی ہے۔

    کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانی جولی نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ سزا پانے والے چاروں افراد دوہری شہریت کے حامل تھے اور ان کی شناخت اہلِ خانہ کی درخواست پر ظاہر نہیں کی جا رہی۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ذاتی طور پر چین کو اس سلسلے میں نرمی برتنے کو کہا تھا۔

    انھوں نے ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل تلافی نقصان اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    کینیڈا میں چینی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کینیڈین شہریوں کے جرائم کے شواہد ٹھوس اور کافی ہیں اور انھوں نے کینیڈا پر زور دیا کہ وہ 'غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا بند کرے'۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کینیڈا چین کی عدالتی خودمختاری‘ کا احترام کرے۔

    چین دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا اور منشیات کے جرائم پر سخت موقف اختیار کرتا ہے۔

  4. فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کی غزہ میں زمینی کارروائیوں میں توسیع

    اسرائیل، غزہ

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں اپنی زمینی کارروائیوں میں توسیع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں میں 430 سے ​​زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

    اسرائیل کی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس کی فوج اس کوریڈور تک پہنچ گئی ہیں، جو غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب کو تقسیم کرتی ہے۔

    آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں ’ہدف بنا کر زمینی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں۔

    بی بی سی نے شمالی غزہ میں بیت حنون سمیت ان علاقوں سے انخلا کے احکامات دیکھے ہیں، جہاں اسرائیلی فوج جا رہی ہے۔

    ان احکامات کے بعد فلسطینی خاندانوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جو حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے سیز فائر کے بعد اپنے گھروں کو واپس لوٹے تھے۔

    بدھ کے روز اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فلسطینی علاقے کو ’آخری وارننگ‘ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں قید تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے۔

  5. کوئٹہ: سکیورٹی خدشات کی بنا پر تین یونیورسٹیز میں کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ واپس، آج دوبارہ یونیورسٹیز کو کھول دیا جائے گا

    کوئٹہ، بلوچستان، یونیورسٹی

    کوئٹہ کی تین یونیورسٹیوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر فزیکل کلاسوں کی بجائے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ تو کیا تاہم ایک روز بعد انھیں اپنے اس فیصلے کو واپس لینا پڑا۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں غیر معیاری انٹرنیٹ کی وجہ سے نہ صرف طالب علموں کو اس فیصلے سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ طلبا تنظیموں کی جانب سے بھی اس کی مخالفت کی گئی۔

    جن یونیورسٹیوں نے آن لائن کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا ان میں یونیورسٹی آف بلوچستان، سردار بہادرخان وومن یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مینیجمنٹ سائنسز شامل تھے۔

    ان یونیورسٹیوں کے اہم عہدوں پر فائز اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تینوں یونیورسٹیوں نے فزیکل کلاسز کو معطل کرنے اور آن لائن کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کیا۔

    اس حوالے سے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مینیجمنٹ سائنسز کی جانب سے باقاعدہ ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا جس کے مطابق بڑھتے سکیورٹی خدشات، طلبا اور ملازمین کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر آن لائن کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اس فیصلے کے مطابق یونیورسٹی کی ٹرانسپورٹ کی سہولت کو تاحکم ثانی معطل کرنے کے ساتھ ساتھ فزیکل کلاسز کے انعقاد کو عید الفطر کے بعد تک معطل کیا گیا تھا۔

    بہتر اور معیاری انٹرنیٹ سہولت کی فقدان کی وجہ سے طلبا اور ان کی تنظیموں نے کوئٹہ کی بڑی یونیورسٹیوں میں فزیکل کلاسز کی معطلی کے فیصلے کی مخالفت کی۔

    بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین بالاچ قادر بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم کے وفد نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے رجسٹرار سے باقاعدہ ملاقات کی اور یونیورسٹی انتظامیہ سے یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں سرے سے انٹرنیٹ کی سہولت نہیں۔ ان علاقوں کے طلبا کو لازماً کسی اور شہر میں کلاسز لینے کے لیے جانا پڑے گا جہاں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت ہو۔

    انھوں نے بتایا کہ بلوچستان کی حد تک آن لائن کلاسز کا فیصلہ ایک ناقابل عمل فیصلہ ہے جس کی وجہ سے طلبا نے اس کی مخالفت کی اور طلبا کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر فزیکل کلاسوں کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    طلبا تنظیموں کی جانب سے مخالفت کی وجہ سے 18مارچ کو آن لائن کلاسز شروع کرنے کے فیصلے کے نوٹیفیکیشنز کو ایک روز بعد واپس لیا گیا ۔

    یوینورسٹی آف بلوچستان اور بلوچستان یونیورسٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مینیجمنٹ سائنسز کے نوٹیفیکیشنز میں یہ کہا گیا ہے کہ طلبا کی درخواست اور انٹرنیٹ کے حوالے سے مشکلات کی وجہ سے آن لائن کلاسز شروع کرنے کے فیصلے کو واپس لیا جاتا ہے۔

    ان نوٹیفیکشنز کے مطابق 20 مارچ سے یونیوسٹیوں میں دوبارہ فزیکل کلاسز شروع کیے جا رہے ہیں۔

  6. ٹرمپ اور زیلنسکی کا ٹیلیفونک رابطہ، ’ہم بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں‘

    ٹرمپ، زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو ’بہت اچھا‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس فون کال پر زیادہ تر ان موضوعات پر بات ہوئی ہے جو گذشتہ روز ان کی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان فون پر یوکرین اور روس سے متعلق امور زیربحث آئے تھے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ہم بالکل درست سمت پر جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن امور پر گفتگو ہوئی ہے ان سے متعلق تفصیلات جلد جاری کر دی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کا دن وائٹ ہاؤس میں امریکہ اور یوکرین کے بیچ تعلقات کے لیے انتہائی اہم تھا مگر دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات دیکھتے ہی دیکھتے تکرار میں بدل گئی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصبِ صدارت پر براجمان ہونے کے بعد سے ہی مختلف اوقات میں اُن کی جانب سے یوکرین کے لیے ایک سخت موقف دیکھنے میں آیا تھا۔

  7. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان اور افغانستان کی طورخم سرحد 25 روز بند رہنے کے بعد بدھ کے روز جزوی طور پر بڑی گاڑیوں کے لیے کھول دی گئی۔ یہ سرحد دونوں اطراف سے تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کے بعد پاکستان کی طرف سے طورخم سے پہلی گاڑی افغانستان روانہ ہو گئی۔ پیدل اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے سرحد ایک دو روز بعد کھولی جائے گی۔
    • پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر شکست دی جائے گی۔ دورۂ کوئٹہ پر خطاب کے دوران صدر زرداری نے کہا کہ حقوق دے کر ہی لوگوں کا دل جیتیں گے، عید کے بعد بلوچستان میں کیمپ لگاؤں گا۔
    • روس اور یوکرین نے جنگی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کر لیا ہے۔ روس نے یوکرین کے 175 جنگی قیدی رہا بھی کر دیے ہیں۔
    • چینی حکام نے بتایا ہے کہ ایک چینی تحقیقی ادارے کے سابق انجینیئرکو غیر ملکی جاسوسی ایجنسیوں کو خفیہ مواد فروخت کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔