ماہرنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف تین افراد کے قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو سنیچر کے روز ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا تاہم اب ان پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر پولیس کی کریک ڈاؤن کے دوران مارے گئے تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک تھے اس کے برعکس پولیس کا الزام ہے کہ یہ لوگ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ’بلوائیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے

خلاصہ

  • کینیڈا کے نئے وزیر اعظم مارک کارنی نے مُلک میں فوری اور قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا ہے۔
  • ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو اگرچہ سنیچر کے روز ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا لیکن اب ان کو ان تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔
  • پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد پر شدت پسندوں کی جانب سے در اندازی کی کوشش ناکام بنانے ہوئے 16شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
  • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے اہم حریف کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم امام اوغلو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کوئٹہ میں تین مظاہرین کی میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری، پولیس کی فائرنگ کے الزام کی تردید

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کوئٹہ میں تین مظاہرین کی میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری، پولیس کی فائرنگ کے الزام کی تردید

    ،تصویر کا ذریعہBYC

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کا الزام ہے کہ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر اس کے دھرنے کے شرکا پر پولیس کی مبینہ فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ تاہم بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے کے خلاف پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے جبکہ ’یہ تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ مظاہرین کس کی میتیں روڈ پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔‘

    میڈیا کو جاری تحریری بیان میں بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ ’شاہراہ کی بندش کے باعث کراچی و دیگر شہروں سے آنے والے مسافر اذیت سے دوچار ہوئے۔ پولیس نے روڑ کھلوانے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ جب تک ’لاشیں ہسپتال لا کر ضابطے کی کارروائی مکمل نہیں کی جاتی وجوہات کا تعین ممکن نہیں۔‘

    حکومتی ترجمان کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور تشدد کیا اور اس دوران ’لیڈی پولیس کانسٹیبل اور پولیس اہلکاروں سمیت دس زخمی افراد ہسپتال لائے گئے۔‘

    خیال رہے کہ جمعے کو کوئٹہ کے سریاب روڈ پر موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ دھرنے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا تھا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 12 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔

    تھانہ سریاب کے سب انسپکٹر عتیق الرحمان نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اس وقت 300 کے قریب مظاہرین سریاب روڈ پر دھرنا دے رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ دھرنے کے مقام پر لاشیں بھی پڑی ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی تاہم فائرنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ایسا کچھ ہمارے علم میں نہیں ہے۔‘

    خیال رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے گذشتہ روز سے سریاب روڈ پر بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے دھرنا دیا جا رہا تھا۔

    یہ دھرنا گذشتہ دونوں میں بلوچ یکہجہتی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور مرنے والے افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہ کرنے اور شناخت کے لیے نہ لے جانے کے خلاف دیا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب کوئٹہ کے قمبرانی روڈ پر گرفتار ہونے والے بلوچ افراد کے اہل خانہ جن میں زیادہ تر خواتین ہیں کی جانب سے احتجاج ریلی نکالی گئی تھی۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یونیورسٹی کے سامنے دھرنا جاری تھا کہ دو بجے پولیس کی بھاری نفری آئی۔ انھوں نے شیلنگ کی اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین لوگ ہلاک اور تیرہ لوگ زخمی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ زخمی افراد سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں موجود ہیں۔ تاہم بی بی سی کی جانب سے ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

    ان کا الزام ہے کہ پولیس نے دو بجے سے چھ بجے تک آنسو گیس کی شلینگ کی۔

    ادھر حکومتی ترجمان نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ امن و امان میں خلل ڈال کر افراتفری پھیلائی جا رہی ہے۔ ’قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، قانون ہاتھ میں لیکر نقص امن کا ارتکاب کیا جائے گا تو حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔‘

  2. اسرائیلی وزیر دفاع کا فوج کو غزہ کے ’مزید علاقوں پر قبضے کا حکم‘

    اسرائیلی وزیر دفاع کا فوج کو غزہ کے ’مزید علاقوں پر قبضے کا حکم‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے فوج کو غزہ میں ’اضافی علاقوں پر قبضے‘ کا حکم دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے تمام بقیہ یرغمالی رہا نہ کیے تو اِن علاقوں پر مستقل قبضہ کر لیا جائے گا۔

    وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج اس وقت تک غزہ میں پوری قوت کے ساتھ زمینی کارروائی جاری رکھے گی جب تک ’زندہ اور مردہ‘ یرغمالیوں کی واپسی نہیں ہوتی۔

    خیال ہے کہ غزہ میں 59 یرغمالیوں میں سے 24 زندہ ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے اسرائیل اور حماس کے بیچ مذاکرات میں ناکامی ہوئی ہے۔

    جنوری کے دوران غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا تاہم رواں ہفتے اس کا خاتمہ ہوا جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری اور زمینی کارروائی دوبارہ شروع کر دی جس سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ حماس نے جنگ بندی کی توسیع کی پیشکش مسترد کی تھی۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ ’مکمل ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ ثالثوں سے رابطے میں ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیر دفاع نے جمعے کو کہا ہے کہ ’حماس کی طرف سے جتنا انکار کیا جائے گا، اس کے اتنے ہی علاقے اسرائیل کے پاس چلے جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے امریکی سفیر سٹیو وٹکوف کی پیشکش پر اتفاق کیا تھا جس کے مطابق ’جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں تمام زندہ اور مردہ یرغمالی رہا کیے جائیں گے۔‘

    ’ہم لڑائی میں زمینی، سمندری اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے شدت لائیں گے۔ ہم اس وقت تک زمینی کارروائی وسیع کریں گے جب تک یرغمالی رہا نہ ہوجائیں اور حماس کو شکست نہ ہو جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل ’غزہ کے رہائیشیوں کی رضاکارانہ منتقلی سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر عملدرآمد کرے گا۔‘

    ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دو لاکھ فلسطینیوں کی منتقلی کے بعد امریکہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کرے۔

    فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے اس منصوبے کو مسترد کیا تھا جبکہ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے سے شہریوں کی جبری منتقلی ممنوع ہے اور یہ ’نسل کشی کے مترادف ہے۔‘

  3. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احمدی برادری کے قبرستان پر حملہ: ’انتہا پسندوں نے 76 قبروں کے کتبے توڑ دیے‘

    Jamat Ahmadiyya

    ،تصویر کا ذریعہJamat Ahmadiyya

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک قبرستان میں موجود تمام قبروں کے کتبے توڑ دیے گئے ان قبروں کی تعداد 76 بتائی گئی ہے۔

    اس کمیونٹی کے میڈیا سیل کے مطابق یہ واقعہ جمعے کو سحری کے اوقات میں پیش آیا جب نامعلوم انتہاپسندوں نے 1984 سے یہاں موجود احمدیہ کمیونٹی کے قبرستان پر حملہ کیا۔

    پولیس نے تھانہ سٹی کوٹلی میں زیر نمبر 110 نامعلوم افراد کے خلاف زیر دفعہ 297 مقدمہ درج کیا ہے۔

    پاکستان میں موجود احمدیہ کمیونٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ رواں برس پنجاب کے مختلف علاقوں، کراچی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قبروں کے کتبے اور عبادت گاہوں کے مینار توڑے گئے۔

    احمدیہ کمیونٹی کے ترجمان عامر محمود بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس سے قبل جنوری میں جہلم، میر پور، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں کل 93 قبروں کے کتبوں کو توڑا گیا۔

    رواں برس کل چھ واقعات میں احمدیہ کمیونٹی کی عبادت گاہوں کے میناروں کو توڑا گیا۔

    احمدیہ کمیونٹی کا دعویٰ ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے اور احتجاج کرنے کی ان کارروائیوں میں مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان، ٹی ایل پی پیش پیش ہے۔

    اس جماعت کی جانب سے عبادت گاہوں کے مینار توڑنے اور انھیں سیل کرنے کے لیے انتظامیہ اور پولیس پر دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔

    سیالکوٹ میں تین واقعات میں عبادت گاہوں کی محرابوں کو توڑا گیا۔ ایک واقعہ گوجرانوالہ، ایک رحیم یار خان جبکہ ایک بہاولنگر میں پیش آیا۔

    احمدیہ کمیونٹی کے ترجمان عامر محمود کے مطابق مقامی افراد نے محرابوں کو توڑا تاہم پولیس اہلکاروں نے بھی اس کارروائی میں ان کا ساتھ دیا۔

    تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ واقعات میں پولیس نے احمدیہ کمیونٹی کی عبادگاہوں کو توڑنے کے بجائے انھیں کور کر دیا۔

    متعدد واقعات ایسے بھی تھے جن میں اس کمیونٹی سے منسلک افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

    Jamat Ahmadiyya

    ،تصویر کا ذریعہJamat Ahmadiyya

  4. یوم پاکستان کے موقع پر بڑی گاڑیوں کا اسلام آباد اور راولپنڈی میں داخلہ ممنوع

    یومِ پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یومِ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرک، مسافر بسوں اور مال بردار گاڑیوں سمیت دیگر ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی ہوگی۔

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ڈے کی پریڈ کے موقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں 22 مارچ کو دوپہر 12 بجے سے لے کر 23 مارچ کو دوپہر تین بجے تک بڑی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق:

    • پشاور سے براستہ جی ٹی روڈ جڑواں شہر آنے والی بڑی گاڑیوں کو ٹیکسلا کے مقام پر روک دیا جائے گا۔
    • پشاور سے براستہ موٹروے پر آنے والی تمام بڑی گاڑیوں کو بُرہان انٹرچینج پر روک دیا جائے گا۔
    • لاہور سے براستہ موٹروے پر آنے والی تمام بڑی گاڑیاں چکری انٹرچینج کے مقام پر روک دی جائیں گی۔
    • لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ پر آنے والی تمام بڑی گاڑیوں کو مندرا ٹول پلازہ کے مقام پر روک دیا جائے گا۔
    • کشمیر اور مری سے آنے والی تمام بڑی گاڑیاں 17 میل ٹال پلازہ سے 20 کلومیٹر پہلے روک دی جائیں گی۔

    خیال رہے اس برس رمضان المبارک کے باعث یومِ پاکستان کی پریڈ محدود پیمانے پر ایوانِ صدر میں منعقد کی جائے گی۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق تقریب کے مہمانِ خصوصی صدر آصف زرداری ہوں گے اور اس تقریب میں تینوں مسلح افواک کے دستے بھرپور شرکت کریں گے۔

  5. ’ریاست مخالف مواد نشر‘ کرنے پر صحافی فرحان ملک چار روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    FARHAN

    ،تصویر کا ذریعہRAFTAR

    کراچی کی ایک مقامی عدالت نے صحافی فرحان ملک کو 4 روز کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

    خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صحافی اور نجی ٹی وی چینل کے سابق ڈائریکٹر نیوز اور سوشل میڈیا چینل کے چیئرمین فرحان ملک کو ایف آئی اے کے سائبر سرکل نے گذشتہ روز گرفتار کیا تھا۔

    ان کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آر میں الزامات میں درج کیا گیا ہے صحافی فرحان ملک اپنے یو ٹیوب چینل، ’رفتار ٹی وی` پر مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد نشر کرتے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزامات ہیں کہ وہ ایسی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جو فیک نیوز پر مشتمل ہیں اور عوام میں اشتعال پھیلا رہے ہیں۔

    پیر کو پیشی کے موقع پر صحافی فرحان ملک کے وکیل عبدالمعیز جعفری نے عدالت کو بتایا کہ صحافی فرحان ملک کے خلاف پہلے سے انکوائریز جاری تھیں۔

    عدالت نے فرحان ملک کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

    بی بی سی سے گفتگو میں ان کے وکیل عبدالمعیز جعفری نے بتایا کہ فرحان ملک کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائریز کا یہ سلسلہ گذشتہ برس نومبر میں شروع ہوا تھا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’پہلا نوٹس نومبر میں آیا تھا۔ اور ان کے یو ٹیوب چینل کے کچھ لنکس لگا کر کہا گیا تھا کہ آپ ریاست مخالف کام کر رہے ہیں۔‘

    وکیل عبدالمعیز جعفری نے بتایا کہ اس وقت ایف آئی اے کی جانب سے انھیں گرفتارکرنے سے پہلے ہی ہم عدالت گئے تھے اور عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا تھا۔

    وہ بتاتے ہیں نے اس کے بعد انھیں کراچی اور اسلام آباد میں متعدد بار ایف ائی اے کے سامنے جانا پڑا۔

    خیال رہے کہ فرحان ملک کے خلاف ایف آئی اے نے پیکا کے ترمیمی ایکٹ کے تحت بھی ایف آئی آر کاٹی ہے۔

    ان کے وکیل نے کہا کہ ایک بار عدالت میں وہ پیش نہیں ہو سکے جس پر حکم امتناعی کو ہٹا دیا گیا، جس کی وجہ سے ایف آئی اے کو موقع ملا اور انھوں نے فرحان ملک کو گرفتار کر لیا۔

    وکیل عبدالمعیز جعفری کہتے ہیں کہ فرحان ملک کا نام پہلے ای سی ایل میں بھی ڈالا گیا تھا اور تاحال ان کے خلاف ریاست مخالف بات کیے جانے کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

  6. صحافی احمد نورانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست، عدالت نے ایس ایچ او سے ریکارڈ طلب کر لیا

    YouTube/Ahmad Noorani

    ،تصویر کا ذریعہYouTube/Ahmad Noorani

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکہ میں مقیم صحافی احمد نورانی کے دو بھائیوں کی بازیابی کی درخواست میں تھانہ نون کے ایس ایچ او سے پیر تک اس معاملے کا ریکارڈ اور رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    احمد نورانی کے دو بھائیوں کی بازیابی کی درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے کی۔

    یاد رہے کہ احمد نورانی کی والدہ نے لاپتہ بیٹوں کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    درخواست گزار کی جانب سے اس معاملے میں ان اداروں کے ملوث ہونے کے الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی اور نہ ہی تاحال اس بارے میں متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

    جب اس واقعے سے متعلق حقائق جاننے کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار روحان احمد نے اسلام آباد پولیس کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انھوں نے پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کا چھاپہ مارے جانے کی تردید کی۔

    تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ صحافی احمد نورانی کے اہلخانہ کی جانب سے ان کے بھائیوں کو مبینہ طور پر زدوکوب کرنے اور اغوا کرنے کے واقعے کی درخواست دی گئی ہے تاہم تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔

    جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت کے موقع پر ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس اور دیگر حکام سے جواب طلب کر لیا جائے، جس طرح تشدد کرکے لے کر گئے ہیں بچوں کی جان کو بہت خطرہ ہے۔

    جسٹس انعام امین منہاس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’میں چاہتا ہوں ایسا آرڈر نا کروں جس پر عمل نا ہو۔`

    سماعت کے دوران احمد نورانی کی والدہ نے کہا کہ ہم تین دن سے انتظار میں ہیں آج ہی جواب مانگیں۔

    عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر ایس ایچ او تھانہ نون کمان خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    جسٹس انعام امین منہاس نے ان سے پوچھا کہ ایس ایچ او صاحب آپ کے علاقے میں کیا ہو رہا ہے بندے اٹھائے جا رہے ہیں۔‘

    اس کے جواب میں جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ تفتیش جاری ہے جلد پیشرفت ہو جائے گی۔

    عدالت نے ان سے پوچھا کہ’کیا آپ اب تک انکوائری سے متعلق کوئی ریکارڈ لائے ہیں؟

    جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ڈیوٹی پر تھا، سیدھا وہیں سے عدالت میں پیش ہوا ہوں۔

    درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ صرف پیش ہو کر کہہ دینا کہ انکوائری کی ہے یہ کافی نہیں۔

    اس موقع پر جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ ’پہلے مجھے معلوم کرنے دیں کہ انھوں نے کیا کیا ہے، ایس ایچ او پیر کو تحریری طور پر بتائیں گے کہ انھوں نے کیا کیا۔‘

    ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے اس موقع پر کہا کہ تین دنوں میں ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی، اس سے پتہ چلتا ہے۔

    جسٹس انعام امین منہاس نے جواب میں کہا کہ ’ان کی رپورٹ آنے دیں ورنہ میں آئی جی اسلام آباد کو طلب کروں گا۔‘

    عدالت نے کیس کی سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    بی بی سی سے گفتگو میں درحواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ معاملے کی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔

    ’بار بار وہ (ایس ایچ او) کہہ رہے تھے کہ ہم دریافت کر رہے ہیں، ان کو بتا دیں کہ ایف آئی آر سے پہلے کوئی پیشگی تحقیقات نہیں ہوتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایف آئی آر کاٹنے کے بعد تفتیش کی جاتی ہے جبکہ ایس ایچ او نے آئینی عدالت میں بتایا کہ اغوا کے پرچے کی درخواست موصول ہوئی لیکن تین دن گزر جانے کے باوجود ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔

    انھوں نے ایس ایچ او کو معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

  7. رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے پاکستان میں قیام کی مدت 30 جون 2025 تک ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ

    رجسٹرڈ افغان پناہ گزین

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میں مقیم رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے خلاف کیس میں درخواست گزاروں کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    اس ضمن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے جلال الدین و دیگر افغان پناہ گزینوں کی درخواست نمٹاتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    فیصلے کے مطابق اس مقدمے میں درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ حکومت پاکستان نے خود بطور پناہ گزین رجسٹر کیا ہے۔ درخواست گزاروں کو کارڈ کے زائد المعیاد ہونے تک ہراساں کرنے اور زبردستی بے گھر کرنے سے روکا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 جولائی 2024 کے نوٹیفکیشن کے مطابق قانون پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔

    یاد رہے کہ اس نوٹیفکیشن کے مطابق رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے پاکستان میں قیام کی مدت 30 جون 2025 تک ہے اور اس نوٹیفیکیشن میں حکومت سے قانون پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات موجود ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی ہے۔

  8. ٹرمپ نے امریکی محکمہ تعلیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟, اینا فگائے، بی بی سی نیوز

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کو ان کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں اور قدامت پسندوں کے دیرینہ مقصد پوراکرنے سے جوڑا جا رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو ’ہوش ربا ناکامیاں‘ قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جلد ہی اس کنٹرول سے حاصل ہونے والی رقم ان کی ریاستوں کو واپس کریں گے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم جتنی جلدی ممکن ہو اسے بند کرنے جا رہے ہیں۔‘

    تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ایجنسی کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کانگریسمیں قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔

    واضح رہے کہ یہ اقدام پہلے ہی ان افراد کی جانب سے قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جو ایجنسی کی بندش اور گزشتہ ہفتے اعلان کردہ اس کے عملے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کو روکنا چاہتے ہیں۔

    جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں سکول کی میزوں پر بیٹھے بچوں کے درمیان گھِرے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ تعلیم پر کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود امریکی طلبہ درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر آتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے بیان میں کہا کہ ان کی انتظامیہ قانونی دائرہ کار میں آنے والے حصوں میں کٹوتی کرے گی۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ ایگزیکٹو آرڈر بھی ممکنہ طور پر اسی طرح کے قانونی چیلنجز کا سامنا کرے گا جیسا ٹرمپ انتظامیہ کے وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کے لیے کیے گئے دیگر کئی اقدامات چیلینج کیے گئے ہیں۔

    ایگزیکٹو آرڈر کی دستخطی تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کی سربراہ لنڈا میک میہن کی خدمات کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آخری سیکریٹری آف ایجوکیشن ہوں گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان کے لیے انتظامیہ میں ’کوئی اور ذمہ داری‘ تلاش کریں گے۔

    ٹرمپ کے آرڈر پر دستخط کرنے کے بعد لوزیانا کے ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی نے اعلان کیا کہ وہ اس محکمے کو بند کرنے کے لیے قانون سازی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    تاہم سینیٹ میں کسی وفاقی محکمے کو بند کرنے کے لیےدرکار 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں جبکہ ریپبلکنز کوسینیٹ میں معمولی اکثریت حاصل ہے جس سے ان کا مقصد حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

  9. گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔

    تاہم اگر آپ نے ہمارا لائیو پیج ابھی جوائن کیا ہے توآپ اہم خبروں کے خلاصے پر نظر ڈال سکتے ہیں۔

    • وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی نئے فوجی آپریشن کا آغاز نہیں کیا جا رہا اور پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں اس موضوع پر بات ہوئی ہے۔
    • سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں 10 شدت پسند جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن حسنین اختر ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • حماس کے زیر انتظام شہری دفاع کے ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں رات بھر اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 85 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ حماس نے جمعرات کی سہ پہر غزہ کی پٹی سے تل ابیب کی طرف راکٹوں سے حملہ کرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ شہریوں کے قتل عام کے جواب میں اٹھایا گیا اقدام ہے۔
    • پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کوئی بھی ایسی رسم و رواج جو خاندان کی کسی خاتون کو اس کے وراثت کے حق سے محروم کردے اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
    • پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’رفتار‘ سے وابستہ صحافی فرحان ملک کو کراچی سے گرفتار کرلیا ہے۔اس گرفتاری کی خبر بھی سوشل میڈیا پر ’رفتار‘ کی جانب سے دی گئی کہ انھیں ایف آئی اے نے حراست میں لے لیا ہے
    • انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے ایک قانون میں متنازع ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت حکومتی امور میں فوج کا کردار بڑھ جائے گا۔ قانون میں تبدیلی کے بعد فوجی حکام کو ریٹائرمنٹ یا عسکری اداروں سے استعفیٰ دیے بغیر حکومتی عہدوں پر کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
    • لوئر کرم میں مقامی آبادی کا انخلا جاری، ہم نے کیمپ لگا دیے ہیں: ڈی سی ہنگو
  10. حماس نے تل ابیب پر تین راکٹ فائر کیے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: اسرائیل

    Israel, Hamas

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس نے جمعرات کی سہ پہر غزہ کی پٹی سے تل ابیب کی طرف راکٹوں سے حملہ کرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ شہریوں کے قتل عام کے جواب میں اٹھایا گیا اقدام ہے۔

    حماس کے عسکری ونگ ’القسام بریگیڈ‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’القسام بریگیڈ نے شہریوں کے خلاف صیہونی قتل عام کے جواب میں M90 راکٹوں سے تل ابیب شہر پر بمباری کی ہے۔‘

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے جنوبی غزہ سے اسرائیل میں داخل ہونے والے تین راکٹوں کا پتا لگایا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی فضائیہ نے ایک راکٹ کو کامیابی سے روکا، اور دو اضافی راکٹ ایک کھلے علاقے میں گرے۔‘

    یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ جمعرات کو غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 91 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    طبی ذرائع نے بتایا کہ ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے نے مرنے والوں اور زخمیوں کو خان ​​یونس میں واقع یورپی غزہ ہسپتال منتقل کیا ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل نے ہسپتالوں اور مریضوں کا ہدف بنایا ہے جو کہ جنگی جرائم کے مترادف ہے۔

    Hamas

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ میں جنرل سکیورٹی سروس کے سربراہ راشد جہجوہ گزشتہ چند دنوں کے دوران غزہ کی پٹی میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں مارے گئے ہیں۔

    امریکی صدر کی اسرائیلی کی حمایت میں بیان

    وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی "مکمل حمایت" کرتے ہیں، جس میں حماس کو نئی جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے غزہ میں جنگ بندی کی بحالی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی صدر ’اسرائیل اور اسرائیلی فوج کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ان تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو انھوں نے حالیہ دنوں میں کیے ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ میں جنرل سکیورٹی سروس کے سربراہ راشد جہجوہ گزشتہ چند دنوں کے دوران غزہ کی پٹی میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں مارے گئے ہیں۔

    حماس نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    Palestine

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ فوج اور داخلی سیکیورٹی سروس نے بیت لاہیا کے علاقے میں ’دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے‘ اور حماس کے اینٹی ٹینک میزائل لانچنگ پوائنٹس پر حملہ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایکس پر کہا کہ فوج اور اسرائیلی داخلی سلامتی سروس نے ’حالیہ دنوں میں حماس کی جنرل سکیورٹی سروس کے اس سربراہ راشد الجہجوہ کو ہلاک کر دیا ہے، جنھوں نے جولائی 2024 میں اپنے پیشرو سامی عودیہ کے مرنے کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔

    گذشتہ دو گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ ہونے والے اپنے گھروں کے ملبے تلے دبے درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔

    بی بی سی کے غزہ کے نامہ نگار عدنان البرش نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے شہروں خان یونس اور رفح کے علاقوں پر پُرتشدد حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس سے ایک ہی وقت میں چھ آباد مکانات تباہ ہو گئے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ فوج اور داخلی سیکیورٹی سروس نے بیت لاہیا کے علاقے میں ’دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے‘ اور حماس کے اینٹی ٹینک میزائل لانچنگ پوائنٹس پر حملہ کیا ہے۔

  11. لوئر کرم میں مقامی آبادی کا انخلا جاری، ہم نے کیمپ لگا دیے ہیں: ڈی سی ہنگو, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    کرم

    ،تصویر کا ذریعہRehan Khan

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کی صبح تک جو رجسٹریشن کی گئی ہے اس کے مطابق آٹھ سو کے قریب فیملی علاقہ چھوڑ کر جا چکی ہیں جبکہ اب بھی لوگ آ رہے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ لوئر کرم کی طرف سے علاقہ خالی کرنے کی ڈیڈلائن انیس مارچ کو ختم ہوگئی ہے اور اب تک ایک ماہ میں آٹھ سو فیملی اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔

    اس سے پہلے 19فروری کو لوئر کرم کے چار دیہات خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد گزشتہ ہفتے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ 19مارچ تک علاقہ خالی کرنے کی آخری بار اطلاع دی جاتی ہے کہ علاقہ خالی کریں۔

    جن علاقوں کو خالی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں بگن، اوچت کلے، ڈاڈکمر اور مندوری شامل تھے۔

    ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کی صبح تک جو رجسٹریشن کی گئی ہے اس کے مطابق آٹھ سو کے قریب فیملی علاقہ چھوڑ کر جا چکی ہیں جبکہ اب بھی لوگ آ رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ فوج کی طرف سے گمن چیک پوسٹ پر رجسڑیشن ڈیسک قائم کیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے چھپری چیک پوسٹ پر رجسٹریشن ڈیسک قائم ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے دو مقام پر رہائش کی سہولت قائم کی گئی ہے تو ہم ابھی تک وہاں کسی فیملی نے حالیہ بے دخلی کے بعد رجسٹریشن نہیں کی ہے۔

    ڈاڈکمر سے تعلق رکھنے والے شکیل بھی دو دن پہلے اپنا علاقہ چھوڑ کر ٹل کے علاہ میں آگئے ہیں۔

    شکیل کے مطابق ڈاڈ کمر کے علاقے میں اسی کے قریب مکانات ہیں جس میں اکثر گھروں میں دو یا تین فیملی رہائش پذیر ہیں سب علاقہ چھوڑ کر نکل گئے ہیں صرف گھروں میں ایک یا دو مرد رہ گئے ہیں تاکہ پیچھے چھوڑے ہوئے سامان کی حفاظت کی جا سکے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب آخری بار حکومت نے پانچ دن میں علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تو اس کے بعد بڑی تعداد میں فیملیز دوسرے شہروں کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق جس کا جو ضرورت کا سامان تھا وہ ساتھ لیا باقی سب کچھ گھروں میں ہی رہ گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے اپنے پانچ جانور گھر میں رہ گئے ہیں، استطاعت نہیں کہ انھیں ساتھ لا سکوں۔ ہمسایہ میں ایک آدمی کو کہا کہ اپنے جانور کے ساتھ میرے جانوروں کی دیکھ بھال بھی کریں۔‘ انھوں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ ہے مشکل ہے بہت ٹل میں ایک کمرہ کا مکان کرایہ کا لیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر وزیر نے بی بی سی بات کرتے ہوہے بتایا کہ انتظامیہ نے ٹل گرلز ڈگری کالج میں تین ماہ سے زائد عرصہ سے کئمپ قائم کیا ہوا ہے، جس میں سو کے قریب فیملیز موجود ہیں۔

    اسی طرح ہنگو کے رئیسان کے علاقے میں تین سو افراد پر مشتمل کیمپ قائم ہے وہاں پر اہل تشیع کی کمیونٹی کے لوگ موجود ہیں۔

    گوہر وزیر کا کہنا ہے کہ حالیہ نقل مکانی میں سے کسی بھی فیملی نے قائم کردہ کیمپ میں رپورٹ نہیں کیا۔ انتظامیہ نے سرائے کے ایریا میں مستقل کیمپ قائم کیا ہے وہاں ہم نے گراؤنڈ میں چند ٹینٹس اور باقی سامان لگایا ہے لیکن جیسے ہی تعداد بڑھے گی اسی حساب سے انتظامات تیار ہیں۔

    کرم

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو۔۔ بگن سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد ریحان نے بتایا کہ یہ تیسری بار ہے کہ آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے حالانکہ ایک بار اسلحہ جمع کرنے اور دوسری بار سرچ آپریشن کے نام پر آپریشن کیا گیا۔

    بحالی ویلفئیر آرگنائزیشن لوئر کرم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے علاقے میں جاری یکطرفہ آپریشن کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    آرگنائزیشن کے صدر خیالی اورکزئی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے آپریشن سے حالات گھمبیر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس رمضان میں لوگوں کو گھروں سے زبردستی نکالے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے سنٹرل کرم کنڈالی بابا میں لوگوں کو گھروں کو ایک گھنٹے کے سرچ آپریشن کے بہانے خالی کرانے کو کہا تھا لیکن سرچ کے بہانے ان کے گھروں کو مکمل طور پر جلائے گئے۔‘

    بگن سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد ریحان نے بتایا کہ یہ تیسری بار ہے کہ آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے حالانکہ ایک بار اسلحہ جمع کرنے اور دوسری بار سرچ آپریشن کے نام پر آپریشن کیا گیا۔

    اب ایک دم ایک ہفتے کا نوٹس دیکر علاقہ خالی کرایا گیا جس کی ڈیڈ لائن 19مارچ تھی۔ ریحان کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ کیمپوں میں ابھی تک کوئی نہیں گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے علاقے کے لوگ تھوڑا سخت مزاج ہیں اس لیے وہ کیمپوں کے بجائے کرایہ کے گھروں یا رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘

    اس سے پہلے ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا ’اگر کرم ایجنسی میں کچھ ہوتا ہے توظاہر سی بات ہے پہلا پڑاؤ ہنگو ہی بنے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے بگن میں حالات جو خراب ہوئے تھے اس کی وجہ سے لگ بھگ 600 افراد پناہ گزین کے طور پر آئے ہیں جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کو ضلعی انتظامیہ شیلٹرراشن فراہم کررہی ہیں۔

    ان کے مطابق ’اگر کوئی بڑی تعداد میں ٹی ڈی پی اپنے علاقے چھوڑ کر آتے ہیں تو ضلعی انتظامیہ نے ٹل کے مقام پر ایک جگہ کی نشاندہی کرکے دے دی ہے جو کہ محمد خواجہ کیمپ سابقہ افغان مہاجرین کیمپ ہے جس میں ٹیوب ویل اور دیگر وسائل بھی دستیاب ہیں۔ اب وہاں صرف وہاں ٹینٹ لگانے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس قبل ازیں 17جنوری کو ڈپٹی کمشنر کرم کی جانب سے جاری ایک لیٹر میں پی ڈی ایم کو کہا گیا ہے کہ بگن، مندوری، چپری پڑا اور چھپری کے علاقوں سے ممکنہ طور پر1079خاندانوں اور 17626 افراد کے لیے کیمپوں انتظامات کیے جائیں۔

    دوسری طرف کرم کے مختلف علاقوں میں بنکرز کی مسماری کا عمل بھی جاری ہے پولیس ترجمان کے مطابق اب تک پانچ سو سے زائد بنکرز کو گرایا جاچکا ہے اور مزید کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔

    ادھر کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں بھی تین ہفتوں سے راستوں کی بندش کے خلاف دھرنا جاری ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ مستقل بنیادوں پر راستہ کھولا جائے۔

  12. ڈی آئی خان میں فوج کا ایک کیپٹن ہلاک، آپریشن میں دس شدت پسند بھی مارے گئے: آئی ایس پی آر

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں 10 شدت پسند جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن حسنین اختر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20 مارچ کو سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں آپریشن کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تمام 10 دہشتگرد مارے گئے۔ تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں جہلم سے تعلق رکھنے والے 24 برس کے کیپٹن حسنین اختر بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن حسنین اختر ایک بہادر افسر تھے اور گذشتہ آپریشنز کے دوران دلیرانہ اور جرات مندانہ کارروائیوں کے لیے مشہور تھے۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشن کے دوران مارے گئے شدت پسدنوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں پائے جانے والے کسی اور خارجی کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے۔

  13. ایف آئی اے نے صحافی فرحان ملک کر گرفتار کر لیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’رفتار‘ کا دعویٰ

    Farhan Malik

    ،تصویر کا ذریعہRaftar

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’رفتار‘ سے وابستہ صحافی فرحان ملک کو کراچی سے گرفتار کرلیا ہے۔

    اس گرفتاری کی خبر بھی سوشل میڈیا پر ’رفتار‘ کی جانب سے دی گئی کہ انھیں ایف آئی اے نے حراست میں لے لیا ہے۔ بی بی سی نے جب ایف آئی اے سے اس کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے نے نہ صرف اس خبر کی تصدیق کی ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرحان ملک کے خلاف تقریباً تین ماہ قبل انکوائری شروع کی گئی تھی۔

    صحافی پر الزامات سے متعلق ایف آئی اے نے پاکستانی میڈیا کو بتایا کہ فرحان ملک نے ’سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف متعدد پروگرام کیے تھے اور آج انکوائری مکمل ہونے کے بعد باضابطہ طور پر انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

    صحافی فرحان ملک

    ،تصویر کا ذریعہRaftar

    ’رفتار‘ کی طرف سے کی جانے والی پوسٹ میں کہا گیا کہ ’گذشتہ روز ایف آئی اے حکام بغیر کسی پیشگی اطلاع کے دفتر آئے اور انھوں نے ہماری ٹیم کو ہراساں کیا جب کہ ان کے پاس دورہ کرنے کی کوئی وضاحت بھی نہیں دی‘۔

    اس پوسٹ کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے صحافی فرحان ملک کو جمعرات کی دوپہر ایک بجے اپنے دفتر طلب کیا جس پر فرحان ملک آج ایف آئی اے کے دفتر پہنچے، جہاں انھیں گھنٹوں انتظار کروانے کے بعد شام چھ بجے حراست میں لے لیا گیا۔

    ڈیجیٹل پلیٹ فارم رفتار نے کہا کہ ’ہم فرحان ملک کی گرفتاری پر حکام سے وضاحت اور صحافیوں، میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

  14. خواتین کو وراثت کے حق سے محروم رکھنے والی رسمیں غیرقانونی ہیں: وفاقی شرعی عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    وفاقی شرعی عدالت

    ،تصویر کا ذریعہFederal Shariat Court/Webiste

    پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کوئی بھی ایسی رسم و رواج جو خاندان کی کسی خاتون کو اس کے وراثت کے حق سے محروم کردے اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمٰن، جسٹس خادم حسین ایم شیخ اور جسٹس امیر محمد خان پر مشتمل چار رُکنی بینچ نے 21 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ ضلع بنوں کے کچھ حصوں میں رائج چادر یا پرچی کے رواج کے خلاف دائر درخواست پر سنایا۔

    شرعی عدالت نے خواتین کو وراثت کے حق سے محروم کرنے کے عمل کو غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے مجرمانہ اقدامات پر سزا دی جاسکتی ہے۔

    اپنی درخواست میں سیدہ فوزیہ جلال شاہ نے نہ صرف بنوں میں رائج روایات پر روشنی ڈالی تھی بلکہ اپنی والدہ سیدہ افتخار بی بی کے لیے بھی ریلیف کی درخواست کی تھی، جو مبینہ طور پر مقامی رسم و رواج کی وجہ سے اپنے والد اور شوہر کی وراثت میں حصے سے محروم تھیں۔

    تاہم وفاقی شرعی عدالت نے اس درخواست کو جزوی طور پر قبول کر لیا، جس میں درخواست گزار مقامی رسم کو غیر اسلامی قرار دینے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

    درخواست گزار نے اپنی درخواست میں سورۃ النساء کی آیات 7، 11، 12 اور 14 کا بھی حوالہ دیا جس میں خواتین کی وراثت کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان آیات کے مطابق میت کے ہر اہل قانونی وارث کو وراثت کا مناسب حصہ دیں۔

    وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ دستیاب اعداد و شمار اور مختلف فریقین کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس سے یہ واضح ہے کہ اس طرح کا مجرمانہ عمل، جس میں خواتین کو وراثت کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، بہت عام بات ہے۔

  15. انڈونیشیا میں نیا قانون: حاضرِ سروس فوجی مزید سویلین عہدوں پر کام کر سکیں گے, بی بی سی انڈونیشیا

    انڈونیشیا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے ایک قانون میں متنازع ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت حکومتی امور میں فوج کا کردار بڑھ جائے گا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی نئی قانون سازی انڈونیشیا کو ایک بار پھر فوجی آمر سہارتو کے دورِ اقتدار کے تاریک دنوں میں دھکیل سکتی ہے۔ خیال رہے سہارتو تقریباً 32 برس انڈونیشیا پر حکمرانی کرتے رہے تھے اور ان کا اقتدار سنہ 1998 میں اختتام پزیر ہوا تھا۔

    قانون میں کی گئی تبدیلیوں کو صدر پروبوا سبیانتو کی حمایت بھی حاصل ہے جو کہ سپیشل فورسز کے سابق کمانڈر اور سہارتو کے داماد ہیں۔

    انڈونیشیا کے قانون میں تبدیلی کے بعد فوجی حکام کو ریٹائرمنٹ یا عسکری اداروں سے استعفیٰ دیے بغیر حکومتی عہدوں پر کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

    ملک کے قانون میں ترامیم کے بعد بدھ سے جمہوریت کے حامی احتجاجی مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے ہیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

    انڈنیشین ایسوسی ایشن آف فیمیلیز آف دا ڈس اپیرڈ سے منسلک انسانی حقوق کے کارکن ولسن کہتے ہیں کہ ’جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ فوج کو سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ فوج صرف بیرکس اور قومی دفاع کی ذمہ دار ہونی چاہیے۔‘

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنہ 1998 کے بعد سے جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے اور آج یہ اپنی انتہا پر پہنچ گیا ہے۔‘

    ’جمہوریت کا قتل ایوانِ نمائندگان نے کیا ہے۔‘

    قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد فوج اہلکار انڈونیشیا کے 14 حکومتی اداروں میں عہدے لے سکیں گے اور فور سٹار جرنلز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بھی 60 سے بڑھا کر 63 برس کر دی گئی ہے۔

    انڈونیشیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعرات کی شام تک پارلیمٹ کے باہر جمع ہونے والے احتجاجی مظاہرین کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

    احتجاجی مظاہرین کے ہاتھ میں موجود متعدد بینرز پر لکھا تھا کہ: ’فوج کو بیرکس میں بھیجو۔‘

    اس احتجاجی مظاہرے کے موقع پر پارلیمٹ کے باہر پولیس اور فوجی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

    انڈونیشیا میں گذشتہ 25 برسوں سے سیاست اور حکومتی امور میں فوجی مداخلت کو محدود کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن مقامی انسانی حقوق کے ادارے امپارشل کا کہنا ہے کہ قانون میں کی گئیں ترامیم سے قبل بھی تقریباً 2600 آن ڈیوٹی فوجی حکام سویلین اداروں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

    گلوبل کونسل نامی ادارے سے منسلک تجزیہ کار ڈیڈی ڈنارٹو کہتے ہیں کہ انڈونیشیا کے قوانین میں تبدیلیاں صدر پروبوا کے اقتدار کی ’طاقت کو وسعت‘ دینے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی مرکزی اپوزیشن جماعت نے ابتدائی طور پر ان ترامیم کی مخالفت کی تھی لیکن بعد میں ان کی جانب سے بھی اس عمل کی توثیق کر دی گئی ہے۔

    ’سویلین امور میں فوجی سوچ کو شامل کرنے کے حوالے سے قانون سازی انڈونیشیا کی پالیسی کو ہی یکسر تبدیل کر سکتی ہے، جہاں استحکام اور ریاستی کنٹرول کو جمہوری اقدار اور شخصی آزادیوں پر فوقیت حاصل ہوگی۔‘

    ڈنارٹو کہتے ہیں کہ فوج کا سکیورٹی اور اتنظامی امور میں ’دوہرا کردار‘ سہارتو کی حکومت کا بھی مرکزی ستون تھا۔

    انڈونیشیا کے کچھ شہریوں کو صدر پروبوا کی حکومت بھی آمرانہ دور کی یاد دلا رہی ہے۔ سنہ 1997 اور 1998 میں جب انڈونیشیا کی فوج پر جمہوریت پسند کارکنان کے اغوا کا الزام لگا تو اس وقت پروبوا سپیشل فورسز کے یونٹ کی قیادت کر رہے تھے۔

    اس سے قبل لوگوں نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ پروبوا کی سیاست میں واپسی اور صدر بننے سے انڈونیشیا کی جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    گذشتہ برس اکتوبر میں صدر بننے کے بعد سے اب تک صدر پروبوا سویلین امور میں فوج کا کردار بڑھاتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے بچوں اور حاملہ خواتین کو مفت کھانا فراہم کرنے کے پروگرام میں بھی لوجسٹیکل سپورٹ فوجی ادارے فراہم کرتے ہیں۔

    دوسری جانب انڈونیشیا کی حکومت قانون میں گئی ترامیم کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وزیرِ دفاع جعفری شمس الدین نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ’علاقائی تبدیلیاں اور بین الاقوامی عسکری ٹیکنالوجی‘ اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ فوج ’روایتی اور غیر روایتی تنازعات‘ کو سنبھالنے کے لیے خود کو تیار کرے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم انڈونیشین عوام کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔‘

  16. ’ٹرین کی حفاظت کرنا فوج کا کام نہیں‘: وزیرِ مملکت برائے داخلہ کی ملک میں نیا آپریشن شروع کرنے کی تردید

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی نئے فوجی آپریشن کا آغاز نہیں کیا جا رہا اور پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں اس موضوع پر بات ہوئی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ’پچھلے دو دنوں سے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور لگاتار قومی سلامتی کی میٹنگ کے بارے میں بیانات دے رہے ہیں اور کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    خیال رہے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ وہ اپنے صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے کہا کہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ میں بالکل واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ کسی نئے آپریشن کا آغاز کرنے کی بات ہی نہیں ہوئی۔ کوئی نیا آپریشن ہونے ہی نہیں جا رہا، نئے آپریشن کا شوشہ صرف کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے چھوڑا جا رہا ہے۔‘

    طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے گا اور آپریشن عزمِ استحکام کو آگے بڑھایا جائے گا۔

    ’میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ دہشتگردوں کے سامنے نہیں کھڑے ہو سکتے تو ان کے دوست بن کر ان کے ساتھ بھی کھڑے نہ ہوں۔‘

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ نے ایک ہفتے کے بعد جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے پر افسوس کیا اور اپنا بیان میں اسے سکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا۔

    طلال چوہدری کے مطابق ’خفیہ ایجنسیاں اور سکیورٹی فورسز معلومات دیتی ہیں، مگر آپ کے ادارے اس قابل ہی نہیں ہیں، آپ کے پاس ادارے ہیں نہیں ہیں، نہ خیبر پختونخوا میں اور نہ بلوچستان میں کہ وہ اس معلومات پر عمل کر سکیں۔‘

    ’فوج کا کام تو نہیں ہے کہ وہ ٹرین کی حفاظت کرے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ رواں برس یکم جنوری سے 16 مارچ تک بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 1127 افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    ’اگر خیبر پختونخوا اور بلوچستان نہیں لڑیں گے تو دہشتگردی کیسے ختم ہو گی؟ صوبوں کو یہ جنگ ویسے ہی لڑنی پڑے گی جیسے وفاقی حکومت اور فوج لڑ رہے ہیں۔‘

  17. بریکنگ, غزہ پر اسرائیلی حملوں میں مزید 85 فلسطینی ہلاک

    حماس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس کے زیر انتظام شہری دفاع کے ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں رات بھر اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 85 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے رواں ہفتے علاقے میں بمباری اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد، دو دنوں کے دوران فضائی حملوں میں 450 سے ​​زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے میں توسیع کے لیے بات چیت میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد منگل کو دوبارہ حملے شروع کیے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بدھ کو اعلان کردہ زمینی کارروائی جنوری میں شروع ہونے والی جنگ بندی معاہدے کی 'نئی اور خطرناک' خلاف ورزی ہے۔

    اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حماس باقی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرتی غزہ میں حملے تیز کیے جائیں گے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمالی ہیں اور خیال ہے کہ ان میں سے 24 زندہ ہیں۔

    جنگ بندی میں توسیع کیوں نہ ہو سکی؟

    اسرائیل اور حماس اس بات پر متفق ہونے میں ناکام رہے ہیں کہ جنگ بندی کو اس پہلے مرحلے سے آگے کیسے لے جانا ہے، جس کی میعاد یکم مارچ کو ختم ہو گئی تھی۔ حماس نے اسرائیل کی شرائط پر جنگ بندی پر دوبارہ گفت و شنید سے اتفاق نہیں کیا۔

    اسرائیل نے حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے مارچ کے آغاز میں غزہ میں خوراک، ایندھن اور طبی سامان کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ اس سامان کو اسرائیل کے خلاف اپنی حکمت عملی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    اسرائیل اور حماس کی یہ لڑائی سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے شروع ہوئی تھی جس میں تقریباً 1,200 افراد، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، مارے گئے تھے اور 251 دیگر کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران 25 اسرائیلی اور پانچ تھائی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔

    حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والے حملے کا جواب اسرائیل نے ایک بڑے فوجی حملے کے ساتھ دیا، جس میں 48,500 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اسرائیل کی جارحیت سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑی مقدار میں تباہی ہوئی ہے۔

  18. ’آغوش پروگرام‘: پنجاب میں حاملہ خواتین کو نقد رقم دینے کا منصوبہ کیا ہے؟

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سےماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے ایک ایسے منصوبے کا اعلان سامنے آیا ہے جس کے تحت دو سال سے کم عمر بچوں کی ماؤں اور حاملہ خواتین کو ان کی صحت کے اقدامات کے تحت 23 ہزار روپے کی رقم ادا کی جائے گی۔

  19. ’غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کریں‘:چار شہریوں کی سزائے موت پر کینیڈا اور چین کے تعلقات میں تناؤ, کوہ ایو، بی بی سی نیوز

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کینیڈین حکام نے تصدیق کی ہے کہ چین نے منشیات سے جُڑے جرائم میں ملوث ہونے پر کینیڈا کے چار شہریوں کو رواں برس سزائے موت دے دی ہے۔

    کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانی جولی کا کہنا ہے کہ جن افراد کی موت کی سزا پر عمل ہوا وہ چاروں چین اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھتے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق کینیڈا میں چینی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے کینیڈین حکام سے گزارش کی ہے کہ وہ ’غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کریں۔‘

    کینیڈا اور چین کے تعلقات گذشتہ کئی برسوں سے تناؤ کا شکار ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ چار شہریوں کی پھانسی کا معاملہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کا جمعرات کو کہنا تھا کہ چین نے سب ’اپنے قانون کے مطابق‘ کیا ہے جبکہ چینی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ سزائے موت پانے والے افراد کے خلاف ’ٹھوس‘ شواہد موجود تھے۔

    چینی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ چین نے ’متعلقہ کینیڈین شہریوں کو تمام حقوق فراہم کیے تھے‘ اور کینیڈا کو چاہیے کہ وہ ’چین کی عدالتی خودمختاری کا احترام‘ کرے۔

    چین میں دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور وہاں منشیات سے متعلق جرائم پر سخت کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔ تاہم وہاں غیرملکی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد شاز و نادر ہی ہوتا ہے۔

    کینیڈا کی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کیس کو مہینوں تک بہت قریب سے دیکھا ہے اور دیگر حکام بشمول سابق وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ مل کر سزائے موت رُکوانے کی بھی کوشش کی تھی۔

    کینیڈین میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں گلوبل افیئرز کینیڈا کی ترجمان شارلٹ میکلیوڈ کا کہنا تھا کہ کینیڈا نے ’اعلیٰ ترین سطح پر ان افراد کے لیے متعدد بار رحم کی اپیل کی تھی اور ہم ہر جگہ تمام مقدمات میں سزائے موت کے مخالف ہیں۔‘

    چین میں سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر لوگوں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ ان جرائم میں منشیات کی خرید و فروخت، کرپشن اور جاسوسی شامل ہیں۔

  20. امریکہ کی جانب سے پاکستانیوں کو ویزا دینے پر کوئی پابندی نہیں لگی: دفتر خارجہ, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانیوں کو ویزا دینے پر کوئی پابندی نہیں لگی یہ ساری میڈیا کی پھیلائی ہوئی افواہیں ہیں۔

    پاکستانیوں پر امریکی ویزا پابندیوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ 'اصل میں ایسی کسی پابندی کا اطلاق نہیں ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ترکمانستان میں پاکستان کے سفیر کے امریکہ سے ڈیپورٹ کئے جانے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت کا ملوث ہونا ایک ثابت شدہ بات ہے اور بھارت کا جعفر ایکسپریس حملے کی مذمت نہ کرنا بھی ایک واضح اس کے ملوث ہونے کا واضح اشارہ ہے۔

    جعفر ایکسپریس حملے پر بھارت کے ملوث ہونے کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ بریفنگ میں نے کہا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے میں ملوث ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کی جانب اس بیان کو مسترد کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔

    افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    افغان ناظم الامور کو طلب کیے جانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سفارت خانے ملکوں کے درمیان بات چیت کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان ناظم الامور کی طلبی ایک معمول کا معاملہ تھا۔ طورخم گذشتہ روز گاڑیوں کے لیے کھل گیا تھا اور کل سے پیدل رستہ بھی کھل جائے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین کا دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی، کے ذریعے استعمال ہونا ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔

    ’ہم مسلسل افغان حکام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان عناصر کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کریں۔'

    پاکستان مہاجرین کے کنونشن کا حصہ نہیں ہے، ہم نے گزشتہ 50 سالوں میں افغانوں کے لیے جو کچھ بھی کیا، وہ ہماری اپنی نیک نیتی کی بنا پر کیا، اگر کوئی افغان پاکستان آنا چاہتا ہے تو اسے پاکستان کا باقائدہ ویزا حاصل کرنا ہوگا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں سوشل میڈیا پر رپورٹس آئی تھیں جس پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے تحقیقات کا کہا اور ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

    سپین میں گرفتار پاکستانیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہمارا سفارت خانہ رابطے میں ہیں اور وہاں کے عدالتی عمل پورا ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف 19 سے 22 مارچ کے دوران سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں۔

    دورے کے دوران وزیر اعظم کی سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان سے سے ملاقات ہوئی۔