یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
29 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
حکومتی مذاکرات کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے عملی طور پر آج مذاکرات ختم کر دیے ہیں تاہم حکومتی کمیٹی 31 جنوری تک موجود رہے گی، اس دوران پی ٹی آئی نے دوبارہ سپیکر سے رابطہ کیا تو ہماری کمیٹی ان کے ساتھ بیٹھ جائے گی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
29 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہم سے مشورہ لیے بغیر فیصلے کیے جاتے ہیں، ان فیصلوں کے نتائج ہم بھگتتے ہیں۔
کراچی میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بجلی، گیس اور پانی کے مسائل پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ٹیرف سیٹ کیے جاتے ہیں پالیسی بنتی ہے لیکن ہم سے مشورہ نہیں لیا جاتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 2008 سے پہلے جس طریقے سے کراچی چلتا تھا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر کے حالات بدلنے میں پیپلز پارٹی کا تھوڑا سا ہاتھ ہے تاہم انھوں نے کہا اب بھی کچھ مسائل ہیں اور ہم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم ملک کا واحد صوبہ ہے جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ چل رہی ہے۔
انھوں نے بزنس کمیونٹی کو مخاطب کر کے کہا کہ صنعتی زون میں انرجی پلانٹس بنا سکتے ہیں، اس پر مل کر کام کریںگے۔
’گیس پر ہمارا آئینی حق ہے، کیسی حکومت ہے جو آئین کو نہیں مانتی۔
’ہمیں مل کر وفاق سے بات کرنی چاہیے اور پم آپس میں طے کریں کہ ہم نے حکومت کو کتنا ٹائم دینا ہے اور وہاں سے سنوائی نہ ہو تو قانونی راستہ موجود ہے۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پانی کا مسئلہ بنیادی مسئلہ ہے، یہ ہر ملک کا مسئلہ ہے، 1991 معاہدے میں کراچی کے لیے اضافی پانی دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ کراچی کی ڈیمانڈ کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ کم ہے مگر دیگر شہروں میں 12، 14 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔
بلاول بھٹو نے تاجروں سے کہا کہ ہم گرین انرجی پارکس بنا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تین منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں لیکن اگلے بجٹ میں ہم پورے سندھ میں یہ منصوبے لے کر جائیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’سندھ حکومت کی زمین ہو، آپ آئیں سولر لگائیں، ونڈ لگائیں، اس کے لیے ہم وفاقی حکومت سے بات کر رہے ہیں کہ اگر وفاق دوسرے ادارے پرائیوٹائز کرنے جا رہا ہے تو سندھ کے ڈیسکو ان کو سندھ حکومت پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں ٹیک اور کرنا چاہے گی تاکہ ڈسٹربیوشن ہمارے ہاتھ میں ہو اس سے اسلام آباد جا کر بات نہیں کرنی پڑے گی، ڈسٹربیوشن اور کلیشن پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے تحت ہم مل کر کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ 2025 تک حکومت بجلی کی خرید و فروخت کی نگرانی نہیں کرے گی۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیر توانائی نے کہا کہ ملک میں اضافی بجلی انرجی کاسٹ پر رعایتی بجلی فراہم کرنے سے متعلق پلاننگ ہو رہی ہےجسے صنعتوں کو فراہم کیا جائے گا۔
وزیر توانائی نے حال ہی میں متعارف کروائی گئی نیشنل الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی پر بھی بات کی جس کا مقصد ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کے ٹیرف کو نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کے لیے الیکٹرک گاڑیاں زیادہ سستی اور قابلِ رسائی بن سکیں۔
آئی پی پیز کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
وزیر توانائی نے اعلان کیا کہ 2025 تک حکومت بجلی کی خرید و فروخت کی نگرانی نہیں کرے گی۔ اس کے بجائے، صارفین اور بجلی کمپنیاں براہ راست مذاکرات کرکے بجلی خرید اور فروخت کریں گی، جس سے مسابقت کو فروغ ملے گا اور تمام فریقین کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی صنعتی زونز اور اکنامک زونز اپنے پاور ڈسٹری بیوشن سسٹم کو خود چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔
’بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل جاری ہے اور عوام پر بجلی کے ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
چینی کمپنیوں کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ یہ پاور پلانٹس درآمدی کوئلے کے بجائے بتدریج تھر کے کوئلے پر منتقل ہو جائیں گے۔ یہ تبدیلی درآمدی اخراجات کو کم کرے گی اور مقامی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرے گی، جو ملکی معیشت کی مدد کرے گی۔
اپنی اختتامی تقریر میں وزیر لغاری نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اضافی بجلی کو نیلامی کے ذریعے صنعتوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی وجہ سے ہر پاکستانی کو ریلیف ملے گا۔
بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق گلستان میں سکیورٹی فورسز کے قلعے کی جانب پہلے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد کئی گھنٹے تک شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے گلستان میں سکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملے کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں نے قلعے کے اندر داخل ہونے کی کوشش جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنایا جس پر شدت پسندوں نے پوسٹ کے دیوار سے بارود سے بھری گاڑی کو ٹکرا دیا۔
سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے دو خود کش حملہ آوروں سمیت پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا جبکہ حملے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے جن کا تعلق ٹانک اور کرک سے تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں سینٹائیزیشن آپریشن کیا گیا اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے گا۔
حملے کے بارے میں علاقہ مکینوں نے کیا بتایا ؟
اس حملے کے بارے میں بی بی سی نے گلستان میں بعض علاقہ مکینوں سے بات کی۔
علاقے کے قبائلی عمائد جبار خان اچکزئی نے بتایا کہ پہلے دھماکے کی آواز اندازاً 8 بجے سے کچھ پہلے سنائی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلا دھماکہ بہت زوردار تھا جس کے بعد فائرنگ کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ بھی شدید تھا۔
ایک اور علاقہ مکین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکہ بہت زیادہ شدید تھا جس کی آواز نہ صرف گلستان ٹائون بلکہ دوردور تک دیہاتوں میں بھی سنی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے دھماکے کے مقابلے میں تین سے چار کم شدت والے دھماکوں کی بھی آواز سنائی دی جو کہ غالباً راکٹوں کے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے اور بعد میں فائرنگ کی وجہ سے قرب و جوار کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق حملے کے باعث آج صبح سے ایف سی کے قلعے کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا۔
ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ حملے میں 8 سے زائد سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جن کو طبّی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
گلستان کہاں واقع ہے؟
گلستان افغانستان سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ کی ایک تحصیل ہے۔
گلستان کوئٹہ سے شمال مغرب میں اندازاً 84 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ یہ ضلع قلعہ عبداللہ کے ہیڈکوارٹر سے مغرب میں 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
گلستان سمیت قلعہ عبداللہ کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔
گلستان میں سکیورٹی فورسز کے کسی قلعے پر اپنی نوعیت کا یہ پہلا بڑا حملہ ہے تاہم اس سے قبل 80 کی دہائی کی نصف کے بعد 90 کی دہائی تک وہاں دو قبائل کے درمیان خونی تنازعے کے باعث نہ صرف بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے بلکہ گلستان بازار بھی طویل عرصے تک ویران رہا۔
تاہم گذشتہ پانچ چھ سال سے گلستان کے بازار کے بڑے حصے کو دوبارہ بحال کردیا گیا۔
بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں کی طرح اس کے پشتون آبادی والے علاقوں میں بھی بدامنی کے سنگین واقعات پیش آرہے ہیں تاہم بلوچ آبادی والے علاقوں کے مقابلے میں ان کی شدت کم ہے۔
پشتون آبادی والے علاقوں میں بدامنی کے ان واقعات اور ان علاقوں میں لوگوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے 24 سے 26 جنوری تک کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ایک بڑا جرگہ ہوا۔
پشتون اولسی جرگے کے سربراہ نواب ایاز خان جوگیزئی کی سربراہی میں ہونے والے اس جرگے میں قبائلی اور سیاسی عمائد ین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جرگے میں بدامنی کے واقعات کی روک تھام اور ان علاقوں کے دیگر مسائل کے حل کے لیے غور خوض ہوا۔

،تصویر کا ذریعہNA
پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ چوتھی نشت کے لیے شرط تھی کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور وہ نہ بننے کی وجہ سے آج کی مذاکراتی نشست نہیں ہوئی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے جمعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔
اسلام آباد میں جے یو آئی سے ملاقات کرنے کے بعد پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ عمران خان سے ہماری ملاقات کروائیں گے لیکن وہ پورا نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نو مئی اور 26 نومبر پر کمیشن بنانے کے بنیادی مطالبات پورے نہیں کیے، آئین اور قانون کے مطابق قیدیوں کی رہائی نہیں ہوئی، ہم نے تیسری نشست میں باآواز بلند کہا گیا تھا کہ یہ مطالبات پورے کریں لیکن وہ نہیں کیے گئے اس لیے ہم مذاکرات میں نہیں گئے اور مذاکرات ختم ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پیکا ایکٹ کے خلاف نیشنل اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی میں ووٹ دیا اور حکومت کو کہا کہ آپ یہ ترامیم کیوں کر رہے ہیں۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے پیکا ایکٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آواز بلند کرنے کا آئنی حق نہیں دیا جا رہا۔
انھوں نے کہا کہ ہم پورے پاکستان کو دعوت دیتے ہیں کہ ہم آئین کی بقا کے لیے ایک نکتے پر اکھٹے ہوں۔
اس موقع پر جے یو آئی کے رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کے درمیان کوئی چپقلش نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم سے پہلے جو چپقلش تھی وہ ختم ہو گئی، وقفہ یقیناً آیا تھا لیکن وہ کسی بری نیت کے ساتھ نہیں تھا وہ ہماری یا ان کی کوتاہی ہو سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ غلط فہمی سے بچنے کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان میکنزم بنا دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کا جنین شہر اور اس کے کیمپ میں مسلسل آٹھویں روز بھی فوجی آپریشن جاری ہے۔
بی بی سی عربی سروس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے آج بھی فوجی آپریشن جاری ہے جبکہ فلسطینی خبر رساں ادارے ’وفا‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے صبح کے وقت علاقے میں اپنی کارروائیوں میں توسیع کے بعد طولکرم کیمپ میں موجود خاندانوں کو اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور کیا۔
عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ’کچھ خاندانوں کو ہوائی اڈے اور حنون سکوائر کے محلوں میں بندوق کی نوک پر ان کے گھروں سے نکالا اور انہیں کہا کہ وہ ایک ہفتے تک وہاں واپس نہ آئیں۔‘
فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ کیمپ کے اندر 100 گھروں کو تباہ کر کے جلا دیا گیا۔
ادھر منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین پر بحث کے لیے ایک عوامی اجلاس منعقد کرے گی۔
اس ماہ کونسل نے فلسطین پر کئی اجلاس منعقد کیے جن میں سے ایک وزارتی سطح پر تھا۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ جنین میں ’دہشت گردی کو شکست دینے‘ کے لیے ایک ’وسیع اور اہم‘ آپریشن شروع کیا، جسے طویل عرصے سے فلسطینی مسلح گروہوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
اس وقت فلسطینی وزارت صحت نے کہا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی فوج کی ایک بڑی کارروائی کے دوران کم از کم 10 فلسطینی ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
وفاقی حکومت نے بینچز مقرر کرنے کے کیس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ سمیت 2 رکنی بینچ کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کا آرڈر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس منصورعلی شاہ کا 13 اور 16 جنوری کے آرڈر واپس لیتے ہوئے توہین عدالت کیس کا ریکارڈ کسٹم ڈیوٹی کیس کیساتھ منسلک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
منگل کو اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو وفاقی حکومت کے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا مگر وہ یہ اختیار استعمال نہیں کرسکتے تھے اور غیر آئینی فیصلہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت اس فیصلے کو چیلنج کرے گی۔
واضح ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اور ججز آئینی کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
منگل کو جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بنچ نے کسٹم ریگولیٹرڈیوٹی کیس کی سماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس منصورعلی شاہ کا 13اور16جنوری کے آرڈرزپرنظرثانی دائرکرنے کا فیصلہ ہوا۔
بینچ میں موجود جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جسٹس منصورعلی شاہ نے کسٹم ڈیوٹی کا کیس اپنے بینچ میں لگانےکا حکم دیا ہے، کیا اس آرڈرکی موجودگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی فکرصرف چند کو نہیں سب کو ہے، جوکام کریں وہ تو ڈھنگ سے کریں، کونسی قیامت آگئی تھی ، یہ بھی عدالت ہی ہے۔
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے 13جنوری کوآرڈردیا کہ سماعت 27 جنوری کو ہوگی ، پھرسماعت اچانک اگلے روزکے لیے کیسے مقرر ہو گٸی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تین رکنی بینچ سے ایک جج الگ ہو گٸے، کیا وہ جج یہ آرڈردے سکتے تھے کہ یہ کیس مخصوص بینچ کےسامنے لگے؟ بینچ میں جسٹس حسن اظہررضوی نے کہا کہ کیا بینچ دوبارہ قاٸم کرنے کا اختیاراسی جج کے پاس تھا؟
جسٹس نعیم افغان کا اپیل کندہ کے وکیل بیرسٹرصلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہمیں لگتا ہے اس سارے معاملے کے ذمہ دارآپ ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکمنامے کے مطابق آپ کا اصرار تھا کہ ریگولر بینچ یہ کیس سن سکتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کیا آپ کو ہم ججز پر اعتماد نہیں؟ میں نااہل ہو یا مجھے قانون نہیں آتا تومجھے بتا دیں؟
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ میرے پاس 13 جنوری کے دو حکمنامے موجود ہیں، ایک میں کہا اگلی تاریخ 27 جنوری ہے جبکہ دوسرے میں کہا کیس کی اگلی تاریخ سولہ جنوری ہے جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی اٹارنی جنرل کونوٹس دیے بغیرکہا گیا کیس سنا ہوا سمجھا جائے۔
بینچ میں موجود جسٹس نعیم اختر افغان بولے کل کے فیصلے میں کہا گیا کیس اسی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے مقررکیا جائے اورفیصلے میں توججزکے نام تک لکھ دیے گئے، غلط یا صحیح لیکن جو ڈیشل آرڈرہے، کیا ہم یہاں کیس سن سکتے ہیں؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بدقستمی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ بتا دیں کہ کیس کس بینچ کے سامنے چلے گا؟ ہماری بھی عزت ہے۔
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے اس کے پابند ہیں، جو مقدمہ ہمارے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔
عدالت نے اس اپیل کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد آج سینیٹ نے بھی متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے تاہم اپوزیشن جماعتیں اور صحافتی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئےسینیٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔
صدر کی منظوری کے بعد یہ بل قانون کی شکار اختیار کر لے گا اور فی الفور نافذ العمل ہو گا جبکہ صحافتی تنظیموں نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا واحد مقصد جھوٹی خبروں کا قلع قمع کرنا ہے نہ کہ آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن۔
حکمراں جماعت کے جمیعت علمائے اسلام ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت پیکا ایکٹ کی شق 29 میں ترمیم کرے کیونکہ اس شق میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت ہونے والے اقدامات کو کسی عدالت یا ایجنسی کے سامنے چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ’یہ بِل پروفیشنل صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف ہے۔‘
متنازع بِل میں کیا کہا گیا ہے؟
جمعرات کو قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے اس بِل کو ’دی پریوینشن آف الیکٹرنک کرائمز (ترمیمی) بل 2025‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو تحلیل کر کے ایک نئی تحقیقاتی ایجنسی تشکیل دیے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
بل میں’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن یا رجسٹریشن کی منسوخی اور معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو بھی یقینی بنائے گی۔
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہو گی۔
اس بِل کے ذریعے پیکا ایکٹ میں ایک نئی شق، سیکشن 26 (اے) کو شامل کیا گیا ہے جو آن لائن فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سزا سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر (فیک نیوز) پھیلاتا ہے جو عوام اور معاشرے میں ڈر، گھبراہٹ یا خرابی کا باعث بنے اس شخص کو تین سال تک قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘
سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں سے متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں ’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ کو درخواست دینے کا پابند ہو گا۔ اس اتھارٹی میں کل نو ممبران ہوں گے جبکہ سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا بر بنائے عہدہ اس اتھارٹی کا حصہ ہوں گے۔
اس مجوزہ اتھارٹی سے متعلق مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے چیئرمین اور پانچ اراکین کی تعیناتی پانچ سال کی مدت کے لیے کی جائے گی اور اتھارٹی کے چیئرمین سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر قانونی مواد کو فوری بلاک کرنے کی ہدایت جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔
اس بِل کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اتھارٹی سے رجسٹر کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عارضی یا مستقل طور پر بھی بند کیا جا سکے گا۔
یہ اتھارٹی ’نظریہ پاکستان کے خلاف اور شہریوں کو قانون توڑنے پر آمادہ کرنے والے مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہو گی۔‘
اس ترمیمی ایکٹ کے مطابق اتھارٹی پاکستان کی مسلح افواج، پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کے خلاف غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہو گی جبکہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی جانب سے حذف کیے گئے مواد کو سوشل میڈیا پر نہیں اپلوڈ کیا جا سکے گا۔ ترمیمی بل کے مطابق پابندی کا شکار اداروں یا شخصیات کے بیانات بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہیں کیے جا سکیں گے۔
ترمیم کے تحت سوشل میڈیا شکایت کونسل قائم کی جائے گی جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اتھارٹی ٹربیونل سے رجوع کرے گی۔
اس بل کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی قائم کرے گی جس کے سربراہ کا تعیناتی تین سال کے عرصے کے لیے ہو گی۔
نئی تحقیقاتی ایجنسی کے قیام کے ساتھ ہی ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ تحلیل کر دیا جائے گا۔ اس ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کرے گی جس کا چیئرمین ہائیکورٹ کا سابق جج ہو گا۔ ترمیمی بل کے مطابق ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں 60 دنوں میں چیلنج کیا جا سکے گا۔
تحریکِ انصاف سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے منگل کو مذاکرات کے دور میں شرکت نہ کر کے عملی طور پر بات چیت کے عمل کا خاتمہ کر دیا ہے۔
منگل کو پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے آج اس مذاکراتی عمل کو ختم کر دیا ہے جس کا آغاز خود اس نے کیا تھا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی 31 جنوری تک قائم رہے گی اور اگر اس دوران تحریکِ انصاف کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے دوبارہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے رابطہ کیا گیا تو حکومتی کمیٹی ان سے بات چیت کرے گی۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف نے اپنے مطالبات پیش کرنے میں 42 دن کا وقت لیا جس کے بعد حکومتی کمیٹی نے صرف سات دن مانگے اور اس دوران جامع کام کیا گیا اور قانونی ماہرین کی مدد سے کوشش کی گئی کہ مطالبات کو زیادہ سے زیادہ قابل عمل بنایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی اپنے جواب کی تفصیلات جاری نہیں کرے گی کیونکہ یہ معاملہ دونوں کمیٹیوں کے درمیان تھا اور اگر تحریکِ انصاف کی کمیٹی آتی تو حکومتی کمیٹی اپنا جواب ان کے سامنے رکھتی۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی کا طے شدہ اجلاس پی ٹی آئی کے ممبران کمیٹی کی عدم موجودگی کی وجہ سے شروع نہیں ہو سکا تاہم حکومتی کمیٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کو ابھی ختم نہیں کیا جا رہا۔
خیال رہے کہ جمعے کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے کہا تھا کہ ’بانی عمران خان کی ہدایت کے مطابق اب کسی اور مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔‘
پی ٹی آئی اراکین میڈیا کے ساتھ گفتگو میں عمران خان کا یہ مؤقف دہراتے دکھائی دیتے ہیں کہ حکومت نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنا رہی ہے اس وجہ سے وہ مذاکرات کے عمل سے باہر نکلنے کا اعلان کرتے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی کے رکن ایاز صادق نے منگل کو میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ حکومتی کمیٹی نے اپوزیشن اراکین کا پینتالیس منٹ تک انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے۔
انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی سے حکومتی مذاکرات میں گذشتہ میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ سات ورکنگ دنوں کے بعد 28 جنوری کو اجلاس بلایا جائے گا۔
’ہم نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا کسی ممبر نے نہیں کہا تھا کہ ہم نہیں آئیں گے، حکومت کی جانب سے سب اراکین ملاقات کے لیے موجود ہیں، ہم نے پینتالیس منٹ انتظار کیا، اپوزیشن لیڈر کے سیکریٹری کو میسج بھی کیا جن کا جواب آیا کہ وہ میٹنگ میں شاید نہ آ سکیں۔‘
ایاز صادق نے کہا ہمیں توقع تھی کہ مذاکرات آگے بڑھیں گے۔ ہم تو توقع کر رہے تھے کہ مذاکرات ہی واحد طریقہ ہے جس سے سب آگے چل سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کی عدم موجودگی میں اجلاس آگے نہیں چل سکا اور اس میٹنگ کو جاری رکھنے کا اور بات کرنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا۔
کمیٹی تحلیل نہیں ہوئی
حکومتی کمیٹی کے رکن سپیکرایاز صادق نے کہا کہ ’میرے دروازے پھر بھی کھلے ہیں اور اپوزیشن اور حکومت سے توقع رکھتا ہوں کہ مذاکرات کا راستہ نکالا جائے، جب مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ نہیں ہوتا کہ شرائط پہلے سے رکھی جائیں، اس میں یہ فیصلہ ہوتا کہ آپ نے یہ بات مانی یا نہیں مانی یا نہیں مانیں گے، متبادل تجویز دی جاتی ہے۔‘
حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ کمیٹی وزیراعظم نے بنائی ہے وزیراعظم ہی تحلیل کریں گے ہماری طرف سے رابطہ نہیں ہوگا، سپیکر رابطہ کرسکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ٹی آئی نے مذاکرات سے کیوں انکار کیا
جمعے کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے متعلق پیش رفت کو فوٹو سیشن سے آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’بانی عمران خان کی ہدایت کے مطابق اب کسی اور مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔‘
پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہمارے خلاف لمبی چارج شیٹ ہے، اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا کہا اور دو مطالبات رکھے تھے، حکومت نے تحریری مطالبات مانگے، ہم نے وہ بھی دے دیے، دن گزر گیا حکومت نے کل کے دن کے بعد بھی جوڈیشل کمیشن کا اعلان نہیں کیا۔‘
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ ’حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اجلاس بلائیں، اور خود ہی چائے پی لیں۔‘
مگر ان اعلانات کے بعد پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل کا حصہ رہنے سے متعلق مشروط رضامندی بھی ظاہر کی۔ بیرسٹر گوہر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تین ججز پر مشتمل کمیشن بننے کی صورت میں مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ جب عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کر کے آئے تو انھوں نے بھی عمران خان کا یہ مؤقف دہرایا کہ حکومت نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنا رہی ہے اس وجہ سے وہ مذاکرات کے عمل سے باہر نکلنے کا اعلان کرتے ہیں۔ تاہم صحافیوں کے سوالات کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے بھی حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
عمران خان کے وکلا میں سے ایک فیصل فرید نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تحریک انصاف نے آخری اجلاس میں تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کیے تو اس پر حکومتی وزرا نے پریس کانفرنس کر کے یہ واضح جواب دے دیا تھا کہ زیر سماعت مقدمات پر کمیشن نہیں بنائے جا سکتے ہیں۔
وکیل فیصل فرید کے مطابق ’ایک طرف حکومتی رہنما اور وزرا اس مذاکراتی عمل کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ مطالبات پر غور کے لیے تیار ہیں۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت یہ کبھی نہیں چاہتی کہ نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی سچائی سامنے آئے۔
فیصل فرید کے مطابق اس مذاکرات کے عمل کے دوران ’حکومت پارٹی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات تک کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے اور دعوے سنجیدگی کے کیے جا رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران مذاکراتی کمیٹی کے ایک اہم رکن حامد رضا کے مدرسے پر چھاپہ مارا گیا اور انھیں حبس بے جا میں رکھا گیا۔
تاہم ایاز صادق نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی چھاپہ نہیں مارا گیا بلکہ حامد رضا کو سکیورٹی فراہم کی گئی تھی، کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج، کوئی ویڈیو کوئی کلپ دکھا دیں۔‘
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بریت کی درخواست خارج کر دی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے منگل کو پراسیکیوشن کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی بریت کی درخواست خارج کی۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں اب تک 12 گواہان کے بیانات قلم بند ہو چکے ہیں مقدمے کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے اور اس دوران بریت کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔ اس لیے اسے خارج کیا جائے۔
عمران خان کی جانب سے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران بریت کی درخواست پر ان کے وکیل محمد فیصل ملک نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے بھی شیخ رشید احمد کی بریت کی درخواست پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ کورٹ مارشل کے فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں۔
مقدمے کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سات رکنی آئینی بینچ نے کی۔
منگل کے روز وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے آرمی ایکٹ اور پولیس کی ایف آئی آر میں چارج فریم کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا۔
جسٹس حسن اظہر کے سوال پر کہ آرمی ایکٹ میں انکوائری کون کرتا ہے، خواجہ حارث نے بتایا کہ چارج کے بعد انکوائری کمانڈنٹ افسر کرتا ہے۔
جسٹس مسرت حلالی نے استفسار کیا کہ فردجرم عائد کرنے کے بعد انکوائری کیسے کی جاتی ہے اور ایف آئی آر کیسے ہوتی؟
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ الزام لگا دیتے ہیں اور اسی کے لیے لفظ چارج استعمال ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چارج کی بنیاد پر تفتیش کی جاتی ہے۔
دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ جب تک الزام نہ ہو تو آرمی ایکٹ کا مرتکب نہیں کہا جاسکتا، چارج فریم ہونا ضروری ہے۔
جسٹس مسرت حلالی کے سوال پر کہ کیا دوران ٹرائل بھی چارج فریم ہوتا ہے، کواجہ حارث نے بتایا کہ دوران ٹرائل چارج فریم ہوتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو آپ بڑھ رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ قانون ہے۔
انھوں نے سوال کیا کہ یہ قانون جتنا بھی سخت ہو، کیا یہ سویلین پر لاگو ہوگا؟
وزارتِ دفاع کے وکیل نے جواب دیا کہ وہ تمام چیزیں عدالت کے سامنے رکھیں گے کہ یہ قانون کیسے لاگو ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ کورٹ مارشل کے فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے وزارتِ دفاع کے وکیل سے سوال کیا کہ جو قانون وہ بتا رہے ہیں کیا ان پر واقعی عملدرآمدبھی ہوتا ہے؟
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل سے قبل ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ اسے جج پر اعتراض تو نہیں۔
اس پر جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ آج کل تو یہاں بھی ججوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے جواب کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جیل میں سہولیات سے متعلق درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔
عمران خان کی ذاتی معالج تک رسائی، اہلیہ سے ملاقات اور بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے متعلق درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کی۔
منگل کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ عمران خان کو کیٹیگری بی کے تحت تمام سہولیات دی جا رہی ہیں۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان 16 ٹی وی چینلز دیکھتے ہیں اور انکو دو اخبارات مہیا کیے جاتے ہیں جبکہ ایک باورچی بھی دیا گیا ہے۔
سپرنٹینڈنٹ غفور انجم نے بتایا کہ جیل میں ہفتے میں دو مرتبہ ملاقات کی اجازت ہے لیکن ہم تین چار مرتبہ بھی ملاقات کروا دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اوورسیز کالز نہیں کروا سکتے۔ سپرنٹینڈنٹ نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں 8 ہزار قیدی ہیں، اگر اجازت دی گئی تو دیگر قیدی اسکو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے پاس 25 قیدی ہیں جو دوسرے ممالک کے شہری ہیں۔ ’اگر ہم بات کرائیں گئے تو ایک ٹرینڈ سیٹ ہو جائے گا، جیل رولز اور حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل کالز کی اجازت نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بتایا کہ جب قیدی اتا ہے تو اسکو ایک کوڈ دیا جاتا ہے جس سے وہ فون کال کر سکتا ہے۔
سپرنٹینڈنٹ غفور انجم کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ملاقات تواتر کے ساتھ ہو رہی ہیں لیکن جب ٹرائل آ جائے تو ملاقات ملتوی ہو جاتی ہے۔
انھوں نے موقف اپنایا کہ اڈیالہ جیل میں صحت کی سہولیات پاکستان میں سب سے بہترین ہیں، ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد چیک اپ کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نے ہدایات جاری کرتے ہوئے عمران خان کی جیل سہولیات فراہم کرنے کی درخواست نمٹا دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں انٹرنیٹ صارفین میں مقامی سطح پر تیار کی گئی مصنوعی ذہانت کی ایپ ڈیپ سیک کا کافی چرچہ ہے اور لوگ اسے بنانے والے ’اے آئی ہیروز‘ کو سراہ رہے ہیں۔
کافی عرصے کے بعد ڈیپ سیک کی شکل میں چین کی ٹیکنالوجی کے شعبے سے کوئی مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ حالیہ دنوں میں چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر امریکہ میں پابندی کی خبروں کے چلتے چین کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی چکا چوند کافی ماند پڑ چکی تھی۔
لیکن اب انھیں ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ سرخرو ہو گئے ہیں۔
ڈیپ سیک ایک اے آئی چیٹ باٹ ہے جو اپنے کسی حریف ایپ کے مقابلے میں بہت سستی ہے۔ گذشتہ ہفتے لانچ ہونے کے بعد سے اس کا شمار امریکہ میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں ہونے لگا ہے۔
چین میں نئے قمری سال کے موقع پر سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت اور ڈیپ سیک سب سے زیادہ زیرِ بحث ہیں۔
چین میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر آج صبح سب سے زیادہ ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز ڈیپ سیک کے متعلق ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کی پوسٹ ’ڈیپ سیک کیا ہے‘ کے اب تک ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد ویوز ہو چکے ہیں۔
دیگر ہیش ٹیگز میں ’گوانگ ڈونگ کے تین اے آئی ہیروز‘ بھی کافی مقبول ہوا ہے۔ ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وینگ فینگ ان تین افراد میں سے ایک ہیں جن کے متعلق یہ ہیش ٹیگ ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور ہیش ٹیگ جو سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہا ہے وہ ’ہانگ جو کے چھ ننھے ڈریگن‘ ہے۔ اس فقرے سے مراد ہانگ جو سے تعلق رکھنے والی چھ کامیاب ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیں۔
ویبو پر سب سے زیادہ لائیک کیے جانے والے کمنٹس میں ایک یہ ہے کہ ’ڈیپ سیک نے دکھا دیا کہ اگر آپ واقعی قابل ہیں تو تمام تر مشکلات کے باوجود آپ کامیاب ہوں گے۔‘
ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ ’یہ اس نئے سال کا سب سے بہترین تحفہ ہے۔ امید ہے ہمارا ملک ایسے ہی ترقی کرتا رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری طرف چین کی تیار کردہ اس مصنوعی ذہانت کی ایپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے امریکہ اور یورپ میں سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
سوموار کے دن ڈیپ سیک کی اچانک مقبولیت کے بعد امریکہ میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی اینویڈیا سمیت مصنوعی ذہانت کی عالمی صنعت کے بڑے ناموں، بشمول مائیکروسافٹ اور گوگل، کی سٹاک مالیت میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔
مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چند گھنٹے قبل امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو تنبیہ کی اور کہا کہ چینی ایپ کے بعد ’ہماری انڈسٹری کو جاگ جانا چاہیے۔‘
انھوں نے چینی ایپ کو ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیا اور کہا کہ ’امریکہ کے پاس سب سے عظیم سائنس دان ہیں اور یہ بات مجھے چینی قیادت بھی بتا چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈنمارک کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطے کی سکیورٹی میں اضافے کے لیے وہ گرین لینڈ اور جزائر فیرو کے ساتھ شراکت میں دو ارب ڈالرز سے زیادہ خرچ کرے گا۔
اس منصوبے کے تحت تین نئے آرکٹک جہازوں کے علاوہ طویل رینج کے ڈرون اور بہتر سٹیلائیٹ کی صلاحیت حاصل کی جائے گی۔
ڈنمارک کے وزیرِ دفاع ٹرولس لنڈ پولسن کا کہنا ہے کہ ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ آرکٹک اور شمالی اٹلانٹک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گرین لینڈ کی آزادی اور خارجہ امور کی وزیر ویوین موٹزفیلڈ کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کو لاحق خطرات کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔
اس سے قبل گذشتہ سال دسمبر میں ڈنمارک نے اعلان کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ کے دفاع پر تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالرز خرچ کرے گا۔
رواں سال کی پہلی ششماہی میں گرین لینڈ کی سکیورٹی کے لیے مزید فنڈنگ کا اعلان متوقع ہے۔
ڈنمارک کی جانب سے یہ اعلان نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان متعدد بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں انھوں نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے عسکری یا اقتصادی طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کر سکتے۔
ویسے تو گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے لیکن اسے وسیع خودمختاری حاصل ہے۔
دنیا کا سب سے کم آبادی والا یہ علاقہ تقریباً 56,000 مقامی انوئٹ لوگوں کا گھر ہے۔
ایک طویل عرصے سے امریکہ کی گرین لینڈ میں سلامتی کے نقطہ نظر سے دلچسپی رکھتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے ڈنمارک پر قبضے کے بعد امریکہ نے گرین لینڈ پر حملہ کر کے پورے علاقے میں فوجی اور ریڈیو سٹیشن قائم کر دیے تھے۔ تب سے امریکہ کی اس خطے میں موجودگی برقرار ہے۔
گرین لینڈ شمالی امریکہ اور یورپ کے درمیان سب سے مختصر راستہ ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ امریکہ کے لیے سٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔
اس کے علاوہ، حالیہ برسوں میں گرین لینڈ میں موجود معدنیات کے ذخائر جن میں یورینیم بھی شامل ہے میں کافی دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے حماس کی جانب سے مزید جن 26 افراد کو رہا کیا جانا ہے ان میں آٹھ اب زندہ نہیں ہیں۔
مینسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل کو حماس کی جانب سے ایک فہرست موصول ہوئی ہے پہلے مرحلے میں رہائی پانے والے تمام 33 یرغمالیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’حماس کی یہ فہرست اسرائیل کی انٹیلی جنس معلومات سے مطابقت رکھتی ہے۔ لہذا میں یہاں یہ کہ سکتا ہوں کہ ہمارے 25 یرغمالی زندہ ہیں اور آٹھ حماس کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔‘
مینسر نے اپنے بیان میں 33 یرغمالیوں کا ذکر کیا ہے تاہم ان میں سے سات کو پہلے ہی زندہ رہا کیا جا چکا ہے۔
تاہم ایک اسرائیلی فوجی ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ غزہ سے حماس کی جانب سے اب تک رہا کیے گئے سات یرغمالیوں میں سے کچھ کو جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں مسلسل آٹھ ماہ تک سرنگوں میں رکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کی میڈیکل کور کے ڈپٹی چیف کرنل ڈاکٹر اوی بانوو کا کہنا ہے کہ ’رہا کیے گئے کچھ یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی ماہ زیر زمین سرنگوں میں گزارے ہیں۔‘
یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ ’رہائی سے پہلے کے دنوں میں ان کے تاھ حماس کے برتاؤ میں بہتری آئی۔ انھیں نہانے، کپڑے تبدیل کرنے اور بہتر کھانا فراہم کیا جانے لگا۔‘
مگر انھوں یہ نہیں بتایا کہ یرغمالیوں پر تشدد یا بدسلوکی کے آثار تھے یا نہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو پکڑے جانے کے بعد سے کچھ یرغمالیوں کے زخموں پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کا مناسب علاج ہوا۔‘
تاہم دوسری جانب 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد سے شروع ہونے والی اسرائیلی افواج کی کارروائی کے نتیجے میں غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کے بارے میں تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں۔
غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب تک 47 ہزار 317 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کم از کم ایک لاکھ 11 ہزار 494 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق دو لاکھ سے زائد فلسطینی شمالی غزہ میں داخل ہو چُکے ہیں۔
شمالی غزہ کی میں داخلے کے لیے استعمال ہونے والی ایک اہم راہداری سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور اسے فلسطینیوں کے لیے کھولے جانے کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں بے گھر ہو جانے والے لوگوں نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔
خبررساں اداروں کے جانب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیدل چلنے والے افراد کی کثیر تعداد کی وجہ سے گاڑیوں پر سوار لوگوں کو شمالی غزہ تک پہنچنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔
راہداری کُھلنے کے بعد اپنے گھروں کی جانب جانے والے فلسطینیوں کے سفر چند مناظر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی غزہ کے کچھ علاقے ایسے ہیں کہ انھیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہاں بہت شدید زلزلہ آیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف قاہرہ سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ کچھ دنوں سے وہ دو ایسے خاندانوں کی سٹوری کور کر رہے تھے جو چیک پوسٹ پر شمالی غزہ جانے کے منتظر ہیں۔
ان میں سے ایک کا نام محمد عماد الدین ہے جو کہ حجام ہیں اور بے چینی سے گھر لوٹنے کے منتظر تھے۔
لیکن وہاں پہنچنے کے بعد انھوں نے فون پر نامہ نگار کو بتایا کہ میرا گھر مکمل طور پر جل چکا ہے اور میرا بیوٹی سیلون چوروں نے لوٹ لیا اور بعد میں جب اسرائیلی ہوائی حملوں میں قریبی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تو یہ اور زیادہ تباہ ہو گیا۔
بی بی سی کی نامہ نگار ایلس کڈی نے کچھ ایسے لوگوں سے بات کی جو ابھی واپسی کے قافلے میں شامل نہیں ہوئے۔
خان یونس میں موجود خالد ربا جن کی عمر 55 برس ہے کا کہنا ہے کہ میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ کا رہنے والا ہوں اور ابھی خان یونس میں ہوں۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم واپسی کی تیاری کر رہے تھے لیکن جبالیہ میں موجود میرے ایک عزیز نے بتایا کہ ہم تمھیں یہ مشورہ نہیں دیتے کہ تم واپس آؤ۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے بھائی نے کہا کہ واپس مت آؤ، گھر تباہ ہو کر زمین بوس ہو چکے ہیں، لوگوں گلیوں میں سو رہے ہیں اور کوئی بھی ان کی مدد نہیں کر رہا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
خلیل شبیر مرکزی غزہ کے علاقے نصیرت میں اپنی بہن کے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ شعبے کے لحاظ سے ایک انجینئیر ہیں۔
اس سے پہلے وہ اپنی حاملہ بیوی کے ہمراہ ایک ٹینٹ میں مقیم تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ابھی بہت سے لوگ گھر واپس جا رہے ہیں لیکن وہ رش کم ہونے کے منتظر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر میری بیوی حاملہ نہ ہوتی تو میں اتنا تیز بھاگ کر شمالی غزہ کی جانب جاتا جتنا تیزی سے ریس میں بھاگتے ہیں۔
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور جو بھی تباہی ہوئی ہم اس کے بعد ہر چیز دوبارہ بنا لیں گے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
غزہ کے مکینوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک دو لاکھ سے زیادہ مکین شمالی غزہ میں لوٹ چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے غزہ میں موجود ایک سکیورٹی افسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد شمالی غزہ کی جانب دو گھنٹے پیدل چل کر لوٹ چکے ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق صبح نو نجے چیک پوائنٹس کو گاڑیوں کے لیے کھولا گیا۔ اس کے دو گھنٹے بعد پیدل چلنے والوں کے لیے کراسنگ کو کھولا گیا۔
حکومتی اندازوں کے مطابق غزہ شہر اور شمالی حصے میں ایک لاکھ پینتیس ہزار ٹینٹ ان لوگوں کے لیے ضرورت ہیں جو اپنے علاقوں میں لوٹ رہے ہیں لیکن ان کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال سے باخبر ایک فلسطینی افسر کے مطابق شمالی غزہ کی جانب جانے والے قافلے بہت سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ حماس کی نگرانی میں موجود فلسطینی پولیس چیک پوسٹ سے 300 میٹر کی دوری پر موجود دو سکینرز نصب ہیں جن کی جانب ایک وقت میں 20 گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
یوں ہر چالیس منٹ کے بعد 20 کے قریب گاڑیوں کو سکین کرنے کے لیے مخصوص مقام سے گزارا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہاں ریڈ کراس کی ٹیمیں، امریکی اور مصری اہلکاروں کے ساتھ موجود ہیں جبکہ کچھ دوری پر موجود اسرائیلی فوج اس سارے عمل کی نگرانی بھی کر رہی ہے۔
بظاہر لگتا ہے کہ ہزاروں گاڑیوں کی اس قطار کو شمالی غزہ میں داخلے میں کئی روز لگ جائیں گے۔
59.8 فیصد تک شمالی غزہ میں تباہی
بی بی سی ویری فائی کے مطابق شمالی غزہ کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے غزہ کی پٹی میں سب سے زیادہ نقصان اس حصے میں پہنچا۔
تجزیہ نگار کوی سچر جو کہ کیونی گریجوایٹ سنٹر سے وابستہ ہیں اور جیمون وان ڈین ہوک جن کا تعلق اوریگن سٹیٹ یونیورسٹی سے ہے وہ غزہ کے ان سیٹلائٹ امیجز کی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے 11 جنوری کو انھوں نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ ساتک اکتوبر کو حماس کی جانب سے ہونے والے حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی کے 59.8 فیصد تباہ شدہ حصے کے مقابلے میں شمالی غزہ میں موجود عمارتوں اور اتنظامی علاقے کا دو تہائی یعنی 69 اعشاریہ نو فیصد حصے سے زیادہ کا علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اندازے کے مطابق غزہ شہر کا انتظامی علاقہ 74.2 فیصد تک تباہ ہو گیا ہے۔
سٹلائیٹ کی تصاویر میں یہ باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPlanet Labs PBC

،تصویر کا ذریعہPlanet Labs PBC

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک تجویز سامنے آئی تھی کہ جس میں اُن کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کو اردن اور مصر میں ہی آباد کیا جائے۔ جس پر مصر اور اردن کی جانب سے امریکی صدر کی اس تجویز کو کر دیا گیا تھا۔
تاہم اب جرمنی کی وزارت خارجہ نے بھی ٹرمپ کی تجویز کی مذمت کی ہے اور اس بارے میں وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین، عرب شراکت داروں اور اقوام متحدہ کا مؤقف یہ ہے کہ فلسطینی آبادی کو غزہ سے بے دخل نہیں کیا جانا چاہیے اور غزہ پر اسرائیل کی جانب سے مستقل طور پر قبضہ یا دوبارہ آبادکاری نہیں کی جانی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود میں ایک فیصد تک کے لیے کمی کر دی گئی ہے اور اسے 13 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کر دیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ شرح سود 22 سے 12 فیصد پر آنے کی وجہ سے شرح نمو پر اثر پڑے گا۔
انھوں نے کہا معاشی سرگرمیان بڑھ رہی ہیں اور کہ نمو کا اثر آہستہ آہستہ ہو گا۔
’سرح نمو ڈھائی سے ساڑھے تین فیصد رہنے کی توقع ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبے کی پیدوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور رواں سال مہنگائی کی شرح پانچ اعشاریہ پانچ سے سات اعشاریہ پانچ فیصد رہنے کی توقع ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سٹیٹ بینک کے گورنر نے بتایا کہ قرضوں کی مد میں چھ اعشاریہ چار ارب ڈالر ادا کر دیے گئے ہیں۔
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے 6 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر سرپلس رہا جبکہ گزشتہ برس کرنٹ اکاؤنٹ 1.4 ارب ڈالر کے خسارے سے دو چار تھا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مالی سال 2025 کی مکمل افراط زر ساڑھے 5 سے ساڑھے 7 فیصد رہے گی۔