عارضی تعطل کے بعد 110 فلسطینی قیدی رہا، حماس کی تصدیق

حماس نے تصدیق کی ہے کہ 110 فلسطینی قیدی رملہ پہنچ گئے ہیں، اس سے قبل اسرائیلی قیدیوں کی خان یونس میں حوالگی کے موقع پر افراتفری کے مناظر سامنے آئے تھے اور اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی بسوں کو روک لیا تھا۔

خلاصہ

  • اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ حماس نے سات مزید قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاہم اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو روک دیا ہے۔
  • پائلیٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
  • وفاقی وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کے مقدمے میں اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا جس کے تحت ملک ریاض اور ان کے بیٹے سمیت دیگر ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیِے گئے ہیں۔
  • امریکن ایئرلائنز کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں تین امریکی فوجی سوار تھے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    29 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. اسرائیل کی جانب سے 110 فلسطینی قیدی رہا، حماس کی تصدیق

    حماس کے زیر اتنظام میڈیا دفتر نے تصدیق کی ہے کہ آٹھ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد 110 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

    رملہ میں بسوں کے ذریعے ان قیدیوں کو اسرائیلی جیل سے تقریباً ایک گھنٹے سے زائد کی مسافت طے کر کے پہنچایا گیا۔

    رملہ میں اس وقت سخت سکیورٹی ہے اور حماس کا کہنا ہے کہ جشن منانے کو روکے جانے کے لیے سکیورٹی کے خصوصی اقدامات ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی حکام نے ان قیدیوں کی رہائی اس وقت ملتوی کر دی تھی جب خان یونس پر اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کے موقع پر افراتفری کے مناظر سامنے آئے۔

    19 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر کے معاہدے کے بعد یہ قیدیوں کی رہائی کا تیسرا مرحلہ ہے۔

  3. زمینی رابطوں کی بندش کے باعث کرم میں ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز, بلال احمد، بی بی سی اردو

    وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایات پر کرم کے لیے صوبائی حکومت کی ہیلی کاپٹر سروس کا فراہم کی گئی۔

    خیال رہے کہ کرم میں فرقہ ورانہ فسادات کے بعد حالات کشیدہ ہونے پر زمینی راستے بند ہیں۔

    وزیراعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جمعرات کو صوبائی حکومت کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کی کل دس پروازیں ہوئیں۔

    ان پروازوں کے ذریعے 299 افراد کو ائیر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔

    آج کی ابتدائی پروازوں میں 31 افراد اور ایک ڈیڈ باڈی کو پشاور سے علیزئی منتقل کیا گیا، 38 افراد کو علیزئی سے ٹل منتقل کیا گیا، 22 افراد کو ٹل سے بوشیرا پہنچایا گیا، ایک شخص کو بوشیرا سے صدہ پہنچایا گیا، صدہ سے تری منگل کے لیے پرواز میں سات افراد کو ائیر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔

    اسی طرح 38 افراد کو تری منگل سےٹل منتقل کیا گیا، 33 افراد کو ٹل سے تری منگل پہنچایا گیا اور 48 افراد کو تری منگل سے ٹل منتقل کیا گیا اور 40 افراد کو ٹل سے علیزئی منتقل کیا گیا۔

    دسویں اور آخری پرواز میں 41 افراد کو علیزئی سے پشاور پہنچایا گیا۔ ان پروازوں میں کل 1800 کلوگرام سامان کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

  4. فلسطینی جنھیں رہا کیا جائے گا وہ کون ہیں؟

    palestine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس کے قیدیوں کے حوالے سے چلائے جانے والے میڈیا آفس کے مطابق 110 افراد جن میں زیادہ تر فلسطینی ہیں کو کچھ دیر بعد رہا کیا جائے گا۔

    ان میں سے 32 ایسے ہیں جنھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور 48 ایسے ہیں جو لمبی سزا کاٹ رہے تھے۔

    اس فہرست میں 32 بچے شامل ہیں اور سب سے کم عمر دو بچوں کی عمر 15 برس ہے۔

    ان میں سے 21 ایسے قیدی ہیں جنھیں بیرون ملک ڈی پورٹ کیا جانا ہے۔

    آخری اطلاعات کے مطابق جن بسوں کو واپس موڑا گیا تھا اب وہ اسرائیلی جیل سے نکل کر اپنا سفر شروع کر چکی ہیں۔

    رملہ میں اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

  5. فلسطینی قیدیوں کی رہائی کچھ دیر میں متوقع

    خان یونس پر اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کے وقت شدید رش تھی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنخان یونس پر اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کے وقت شدید رش تھی

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حماس کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے جو کہ گرینیج کے تین بجے ہے فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔

    اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کے مناظر میں افراتفری دیکھنے کے بعد اسرائیل نے 100 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے عمل کو ملتوی کر دیا تھا۔

    اس سے پہلے نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ہمارے یرغمالیوں کے محفوظ انخلا تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی التوا میں ہی رہے گی۔

    ادھر رملہ کے میونسپل سینٹر میں بہت سے فلسطینی خاندان اپنے پیاروں سے ملنے کے منتظر ہیں۔

    رغاد حسین اور ہدایہ حسین بھی انھیں میں شامل ہیں۔

    رغاد جن کی عمر 21 برس ہے کہتی ہیں کہ میں بہت تھک چکی ہوں اور مایوس ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ دوسری بار ہے کہ میں نے تیار ہوئی تاکہ اپنے والد کی رہائی پر ان سے ملنے جانے کے لیے۔

  6. قیدیوں کی حوالگی کے مناظر پر اسرائیل برہم، فلسطینی قیدیوں کی رہائی ملتوی

    اسرائیلی قیدی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ حماس نے سات مزید قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاہم اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو روک دیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا سے سامنے آنے والی مختلف رپورٹس میں اس کی وجہ خان یونس میں اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کے حوالے سے سامنے آنے والے افراتفری کے مناظر بتائی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ حوالگی کے موقع کے مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم سمیت اعلیٰ حکام نے اپنے ردعمل میں شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ جو بسیں فلسطینی قیدیوں کو لے کر جا رہی تھیں انھیں کہا گیا ہے کہ وہ واپس لوٹ جائیں۔

    خیال رہے کہ اس سے پہلے ہم نے حماس کے قیدیوں کے حوالے سے جاری میڈیا بیان کو رپورٹ کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 110 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے بعد رہا کیا جائے گا۔

    فی الحال یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بظاہر فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل تعطل کا شکار ہے اس حوالے سے جلد مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔

    دوسری جانب رہا ہونے والے افراد کو غزہ میں ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا اور پھر وہ اسرائیلی دفاعی افواج اور اسراییلی سکیورٹی اہلکاروں سے ملے۔

    خیال رہے کہ ان سات قیدیوں میں ایک اسرائیلی خاتون اور مرد اور پانچ تھائی شہری شامل ہیں جبکہ جمعرات کی صبح ہی بیس سالہ اسرائیلی خاتون اگم ہرجر کو بھی رہا کیا گیا تھا۔

    ہرجر پہلے ہی اسرائیل پہنچ چکی ہیں جبکہ اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ سات مزید رہائی پانے والے قیدی اسرائیلی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔

    رہائی پانے والے افراد ابھی جنوبی اسرائیل میں داخلے کے ابتدائی مقام پر ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کے پانچ شہری اپنے حکومتی افسران سے ملیں گے۔

  7. پائلیٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پی آئی اے

    ،تصویر کا ذریعہBLOOMBERG

    وفاقی کابینہ نے سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دور میں اس وقت کے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے پائلٹس کی مبینہ طور پر جعلی ڈگریوں سے متعلق بیان کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔

    یہ کمیٹی مذکورہ مبالغہ آرائی پر مبنی بیان کے محرکات کا پتہ چلائے گی اور اس بیان کے نتیجے میں قومی ائیر لائن اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی تخمینہ لگائے گی۔

    فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں کون کون ہوگا اس بارے میں ابھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

    خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان میں مختلف ائرلاننز کے پائلیٹس کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں اور یہ بیان انھوں نے کراچی میں قومی ائرلائن کے طیارے کو حادثے کے بعد پارلیمنٹ میں دیا تھا اور اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں جعلی یا مشکوک لائسنس کے الزام کے تحت حکومت نے پاکستان ائیرلائنز (پی آئی اے) کے 141 پائلٹس سمیت 262 پائلٹس کی لسٹ جاری کی تھی۔

    جمعرات کو وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ کو وزارت قانون انصاف کی جانب سے 2020 میں پارلیمنٹ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائین کے پائلٹس کے حوالے سے دئے گئے بیان پر بریفنگ دی گئی-

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک سابق وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز کے پائلٹس کے حوالے سے دیا گیا بیان غیر ذمہ دارانہ اور مبالغہ آرائی پر مبنی تھا جس سے نہ صرف ملک اور قومی ائیر لائین کا تشخص شدید متاثر ہوا بلکہ قومی خزانے کو بھی شدید نقصان ہوا۔

    پارلیمنٹ میں بیان دینے کے بعد میڈیا کے نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں۔ ان میں پی آئی اے میں 141جبکہ باقی ماندہ نجی ائرلائنز میں کام کرتے ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ یہ سارے مشتبہ ہیں، 121 پائلٹس ایسے ہیں جن کے فرانزک کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ان کا ایک پرچہ بوگس تھا اور ان کی جگہ کسی اور نے بیٹھ کر پرچہ دیا۔

    مشکوک لائسنس والے پاکستانی پائلٹس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 30 جون 2020 کو یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپین ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کیلئے معطل کیا تھا۔

    اس کے علاوہ ملائیشیا نے بھی پاکستانی پائلٹوں کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا جب کہ متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایمریٹس ائیرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور فلائٹ آپریشن افسران کے مشکوک لائسنس کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستانی حکام کو خط لکھا تھا۔

  8. بھکاریوں کی روک تھام کا ترمیمی بِل سینیٹ میں پیش

    beggars

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے کے واقعات کے معاملے پر سینیٹ میں بھکاریوں کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل پیش کر دیا گیا۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جمعرات کو انسداد انسانی اسمگلنگ سے متعلق ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا جس میں منظم بھیک مانگنے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔

    ترمیمی بل کے مطابق منظم بھیک مانگنےکا مطلب فراڈ، زور زبردستی سے بھیک منگوانے یا خیرات لینا ہے۔

    اس کے علاوہ دھوکہ دہی، زبردستی، ورغلا کر یا لالچ دےکر خیرات لینا بھی بھیک کے زمرے میں آتا ہے۔

    بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ کسی عوامی مقام پر خیرات مانگنا یا وصول کرنا بھی بھیک کہلاتا ہے۔

    قسمت کا حال بتا کر، کرتب دکھا کر بھیک مانگنا بھی منظم بھیک مانگنا ہے، منظم بھیک مانگنے سے مراد بہانے سے اشیا فروخت کرنا بھی ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کیے گئے ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دینا، زبردستی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا بھی منظم بھیک ہے، روزگار کے بغیر گھومتے رہنا اور تاثر دینا کہ گزارا بھیک پر ہے، یہ بھی منظم بھیک ہے۔

    ’منظم بھیک مانگنے سے مراد کسی نجی احاطے میں داخل ہو کر بھیک مانگنا اور خیرات لینا ہے۔ ‘

    بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی زخم، چوٹ، بیماری، معذوری یا نقص کو دکھا کر بھیک حاصل کرنا بھی منظم بھیک ہے، خود کو بطور نمائش استعمال ہونے دینا کہ بھیک یا خیرات لینے میں سہولت ہو، یہ بےی منظم بھیک ہے۔

    ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ منظم بھیک مانگنے، اس کے لیے بھرتی کرنے، پناہ دینے یا منتقلی پر7 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔

    وزارت داخلہ کے ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سفارتی مشنز نے بھیک مانگنے والوں کا ذکر کیا ہے، کچھ پاکستانی حج، عمرہ، زیارت یا ذاتی دوروں میں بھیک مانگنے لگتے ہیں، ان ممالک نے زور دیا ہےکہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

    بل کے مطابق ملوث ایجنٹ اور گینگ آسانی سے قانونی کارروائی سے بچ جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بھیک مانگنا قانون میں جرم نہیں ہے جو ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں ہو۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسئلےکی حساسیت کے پیش نظر بھیک مانگنے کو جرم قرار دینا ضروری ہے

  9. 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل: ملک ریاض اور ان کے بیٹے سمیت دیگر ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    malik riaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کے مقدمے میں اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق وزارت داخلہ نے چار اشتہاری ملزمان چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض،ان کے صاحبزادے علی ریاض، سابق وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور فرح شہزادی کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے ہیں۔

    نیب حکام کے مطابق اشتہاری ملزمان فرار ہو کر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ملک ریاض ’عدالتی مفرور‘ ہیں اور ساتھ یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کو ’منی لانڈرنگ‘ تصور کیا جائے گا۔

    ملک ریاض اس وقت دبئی میں مقیم ہیں اور اس وقت نیب نے کہا تھا کہ ’حکومتِ پاکستان قانونی چینلز کے ذریعے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطہ کر رہی ہے۔‘

    وفاقی وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق نیب نے 28 جنوری کو ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔

    یاد رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس وہی مقدمہ ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 14 برس اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سُنائی گئی۔

    نیب کے بیان کے بعد ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا نام تو نہیں لیا لیکن سوشل میڈیا پر جاری ہونے والا ان کا بیان پڑھ کر یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں کسی مقدمے میں گواہی دینے کو کہا جا رہا ہے۔

    ان کے طویل بیان کی پہلی سطر میں لکھا تھا کہ ’میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہ فیصلہ ہے کہ چاہے جتنا مرضی ظلم کر لو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا۔‘

  10. 20 سالہ اسرائیلی یرغمالی اگم برجر رہا، مزید سات قیدیوں کو آج رہا کیے جانے کا امکان

    اگم برجر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کی قید سے رہائی پانے والی 20 سالہ اسرائیلی شہری اگم برجر اسرائیل پہنچ گئی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ انھیں جنوبی اسرائیل میں ایک ابتدائی استقبالیہ کے مقام پر لے جایا گیا ہے جہاں ان کی اپنے والدین سے ملاقات کروائی جائے گی۔

    حماس کی جانب سے آج جن آٹھ قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے ان میں تین اسرائیلی اور پانچ تھائی شہری شامل ہیں۔

    برجر کے علاوہ جن دیگر دو اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا ان میں 29 سالہ اربیل یہود اور 80 سالہ غدی موسی شامل ہیں۔ ان افراد کے بدلے اسرائیل 100 فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔

    تین اسرائیلی شہریوں کے علاوہ حماس کی جانب سے آج پانچ تھائی شہریوں کو بھی رہا کیے جانے کا امکان ہے۔ ان افراد کی رہائی حماس اور تھائی لینڈ کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت ہو رہی ہے۔

    حماس اور اسرائیل کی جانب سے آج رہائی پانے والے تھائی قیدیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

    اس سے قبل تھائی لینڈ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس کے چھ شہری واچارا سریوان، بنناوت سیٹھو، ساتھیان سوواناکھم، نٹاپونگ پنٹا، پونگساک تننا اور سورساک لامنا حماس کی قید میں ہیں۔ اس کے علاوہ دو دیگر تھائی شہری سدتھیساک رنتھلک اور سنتھیا اوکھارسری کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ان تمام افراد کو سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل کے قریب ایک فارم سے اغوا کیا گیا تھا۔

  11. واشنگٹن میں مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر میں تصادم: ’19 افراد کی لاشیں‘ نکال لی گئیں، غوطہ خوروں نے ایک بلیک باکس ڈھونڈ لیا

    واشنگٹن طیارہ حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس کو بتایا ہے کہ حکام نے اب تک 19 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں۔

    سی بی ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق تصادم کے بعد جہاز مختلف حصوں میں تقسیم ہوگیا جبکہ ہیلی کاپٹر کا بیشتر حصہ سلامت رہا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاز کے حصے پانچ سے آٹھ فٹ گہرے پانی میں ہیں جبکہ غوطہ خور جہاز کے دو بلیک باکس میں سے ایک ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

  12. ہیلی کاپٹر نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کی وارننگ کا جواب نہیں دیا: سی این این

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق بدھ کے روز واشنگٹن میں ہونے والے فضائی حادثے سے چند لمحے قبل ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر کو ہیلی کاپٹر سے پوچھتے سنا جا سکتا ہے کہ کیا اسے امریکن ایئر لائنز کا طیارہ دکھائی دے رہا ہے۔

    ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے دوسری وارننگ کے چند سیکنڈ بعد ہی ہیلی کاپٹر امریکن ایئر لائنز کے طیارے سے ٹکرا گیا۔

    ایئر ٹریفک کنٹرول کی یہ آڈیو لائیو اے ٹی سی نامی ایک ویب سائٹ نے جاری کی ہے۔ لائیو اے ٹی سی 1200 سے زیادہ ہوائی اڈوں کی مواصلات پر نظر رکھتی ہے۔ بی بی سی کی جانب سے اس آڈیو کی آزادانہ ظور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

    آڈیو میں ہیلی کاپٹر کی جانب سے کوئی جواب سنائی نہیں دے رہا ہے۔

  13. مسافروں کی تلاش کا کام جاری، روشنی کی کمی اور سخت موسم کے باعث امدادی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا

    حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے مسافروں کی تلاش کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

    اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں رات کے دو بج رہے ہیں اور ای ایم ایس کے سربراہ جان ڈونیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کو کم روشنی اور سرد موسم کی وجہ سے پانی میں امدادی سرگرمیوں میں مشکالت کا سامنا ہے۔

    جائے حادثہ پر امدادی کارکنوں کو پانی میں موجود طیارے کے حصوں پر چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال نہیں بتا سکتیں کہ تحقیقات میں کتنا وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ٹیمیں اس وقت جائے وقوعہ پر موجود رہیں گی جب تک طیارے پر سوار تمام افراد کو تلاش نہیں کر لیا جاتا۔

    امریکن ایئر لائنز حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکن ایئر لائنز حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکن ایئر لائنز حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. بریکنگ, نہیں معلوم کہ کوئی زندہ بچ سکا ہے یا نہیں: جان ڈونیلی

    ڈی سی فائر اور ای ایم ایس کے چیف جان ڈونیلی
    ،تصویر کا کیپشنڈی سی فائر اور ای ایم ایس کے چیف جان ڈونیلی

    ڈی سی فائر اور ای ایم ایس کے چیف جان ڈونیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کی پہلی ترجیح طیارہ حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ کوئی زندہ بچا ہے کہ نہیں۔

    ’ہمیں نہیں معلوم کہ کوئی زندہ بچ سکا ہے یا نہیں‘۔

    ڈونیلی کا کہنا ہے کہ جہاں امدادی کارکنوں کی پہلی ترجیح زندہ بچ جانے والوں کی تلاش ہے وہیں وہ حادثے کے ثبوت محفوظ رکھنے میں نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی مدد بھی کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جمعرات کی صبح ہی علم ہو گا کہ امدادی آپریشن کہاں پہنچا ہے اور تب ہم صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔‘

  15. ’تلاش اور بچاؤ کی کارروائی رات بھر جاری رہے گی‘

    میٹروپولیٹن واشنگٹن ایئرپورٹ اتھارٹی کے صدر جیک پوٹر
    ،تصویر کا کیپشنمیٹروپولیٹن واشنگٹن ایئرپورٹ اتھارٹی کے صدر جیک پوٹر

    میٹروپولیٹن واشنگٹن ایئرپورٹ اتھارٹی کے صدر جیک پوٹر کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد دریائے پوٹومک میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ٹیمیں اس وقت جائے حادثہ سے لوگوں کے بچاؤ کے آپریشن میں مصروف ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ریسپانس ٹیمیں ریسکیو موڈ میں ہیں، اور وہ ریسکیو موڈ میں رہیں گی۔‘ انھوں نے بتایا کہ امدادی کارکن رات بھر کام کرتے رہیں گےـ

    جیک پوٹر نے یہ بھی بتایا کہ حادثے کے بعد فضا میں موجود 19 طیاروں کو ریگن ہوائی اڈے سے ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا تھا اور ریگن ایئرپورٹ کم از کم جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے تک بند رہے گا۔

  16. تاریکی اور شدید سرد موسم میں 300 امدادی کارکن ریسکیو آپریشن میں شریک

    واشنگٹن حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واشنگٹن ڈی سی میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ جان ڈونیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کا عمل ایک انتہائی پیچیدہ آپریشن ہے اور جائے حادثہ پر حالات انتہائی خراب ہیں۔

    واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب رات آٹھ بج کر 58 منٹ پر امدادی کارکن جائے حادثہ پر پہنچے تو انھیں پانی میں گرا ہوا طیارہ ملا تھا۔

    جان ڈونیلی کے مطابق امدادی کارروائیاں زورشور سے جاری ہیں اور اس وقت دریا میں 300 امدادی کارکن موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں ہوا چل رہی ہے۔ پانی میں برف کے ٹکڑے ہیں اور وہاں بہت زیادہ روشنی نہیں ہے۔ یہ غوطہ خوروں کے لیے بہت سخت حالات ہیں‘۔

    اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے حادثے کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد دریائے پوٹومک میں ریسکیو آپریشن کو سرانجام دینے کے لیے واشنگٹن کے میٹروپولیٹن علاقے سے ہنگامی خدمات کے کارکن ’انتہائی تاریک اور سرد حالات میں مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔‘

    باؤزر کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکن ایئر لائنز کے اہلکار ہوائی اڈے پر موجود ہیں اور مسافروں کے اہل خانہ سے بات کر رہے ہیں۔

  17. واشنگٹن ڈی سی میں حادثے کے مقام پر امدادی کارروائیاں جاری

    ،ویڈیو کیپشنواشنگٹن ڈی سی میں طیارہ حادثے کے مقام پر امدادی کارروائیاں جاری

    امریکہ میں مسافر بردار طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    حکام کی جانب سے اب تک اس حادثے میں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکن ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں تین امریکی فوجی سوار تھے۔

  18. ’ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں‘

    واشنگٹن حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے خوفناک حادثے کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا کرتے ہوئے امدادی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں اور جیسے ہی تفصیلات سامنے آئیں گی فراہم کر دی جائیں گی۔‘

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسٹ کا کہنا ہے کہ ’آج رات کے واقعات بہت افسوسناک ہیں۔‘ ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ تلاش اور بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں اور فوج اور محکمہ دفاع کی طرف سے فوری طور پر تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

    ورجینیا کے گورنر گلین ینگکن کا کہنا ہے کہ شمالی ورجینیا، واشنگٹن ڈی سی اور میری لینڈ بھر سے امدادی کارکن پوٹومک دریا پر ہونے والے حادثے کے بعد متحرک ہو چکے ہیں۔

    ادھر امریکن ایئر لائنز کے سی ای او نے ایک ویڈیو میں تصادم کے بارے میں گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے رابرٹ آئسوم کا کہنا ہے کہ ایئر لائن مقامی، ریاستی اور وفاقی حکام کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی تحقیقات کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا ’ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں۔‘

  19. واشنگٹن پولیس کی طیارہ حادثے میں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    US

    امریکہ میں مسافر بردار طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے تصادم میں ابتدائی طور پر واشنگٹن پولیس کی جانب سے 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکن ایئرلائنز کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔ دوسری جانب بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں تین امریکی فوجی سوار تھے۔

    فضا میں تصادم کے بعد طیارہ دو حصوں میں ٹوٹ کر دریائے پوٹومک میں جا گرا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق بلیک ہیلی کاپٹر بھی دریا میں ہی گرا ہے۔

    حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا ہے۔ لیکن جلد ہی انتظامیہ کی جانب ایک نیوز بریفنگ کی توقع کی جا رہی ہے تاہم پولیس حکام نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر چینل سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں مصروف عملے نے جائے حادثہ سے 18 لاشیں برآمد کی ہیں اور اب تک کوئی بھی مسافر زندہ نہیں پایا گیا ہے۔

    ہوم لینڈ سکیورٹی کی نئی وزیر کرسٹی نوئم نے کہا ہے کہ وہ تلاش اور امدادی کارروائی میں تیزی لانے کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ کو تعینات کر رہی ہیں۔

  20. واشنگٹن ڈی سی میں امریکن ایئرلائنز کا طیارہ فوج کے ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا

    US

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حکام کے مطابق دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے فضا میں تصادم کے نتیجے میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بدھ کی شب ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے رن وے 33 کے قریب مقامی وقت کے مطابق نو بجے کے قریب پیش آیا جب ایئرپورٹ پر اترنے کی کوشش کرنے والی امریکن ایئرلائنز کی پرواز بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گئی۔

    امریکی ایگل فلائٹ 5342 وچیٹا، کنساس سے واشنگٹن ڈی سی آ رہی تھی اور امریکن ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ اس طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹر ورجینیا میں فورٹ بیلوئر کے اڈے سے اڑا تھا اور یہ ایک تربیتی پرواز تھی۔

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نے بتایا ہے کہ واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب جس بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے کے درمیان حادثہ پیش آیا ہے اُس میں تین امریکی فوجی سوار تھے۔

    ایک اور عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان فوجیوں کے حوالے سے تو ابھی کُچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ بات واضح ہے کہ ہیلی کاپٹر میں کوئی سینئر عہدیدار سوار نہیں تھا۔

    حادثے کے بعد رونالڈ ریگن نیشنل ایئر پورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئیں۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ کی جانب سے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’ڈی سی اے میں تمام ٹیک آف اور لینڈنگ کو روک دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایئر فیلڈ پر طیارے کے حادثے کے بعد ایمرجنسی اہلکار کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ اس حادثے کی نگرانی کر رہے ہیں اور بہتری کی امید کرتے ہیں۔