پی ٹی آئی نے آج عملی طور پر مذاکراتی عمل کا خاتمہ کر دیا ہے: عرفان صدیقی

حکومتی مذاکرات کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے عملی طور پر آج مذاکرات ختم کر دیے ہیں تاہم حکومتی کمیٹی 31 جنوری تک موجود رہے گی، اس دوران پی ٹی آئی نے دوبارہ سپیکر سے رابطہ کیا تو ہماری کمیٹی ان کے ساتھ بیٹھ جائے گی۔

خلاصہ

  • پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی کا طے شدہ اجلاس پی ٹی آئی کے ممبران کمیٹی کی عدم موجودگی کی وجہ سے شروع نہیں ہو سکا تاہم حکومتی کمیٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کو ابھی ختم نہیں کیا جا رہا۔
  • پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد منگل کوسینیٹ نے بھی متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے تاہم ملک بھر میں اپوزیشن جماعتیں اور صحافتی تنظیمیں اس کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔
  • انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بریت کی درخواست خارج کر دی ہے۔
  • ڈنمارک کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطے کی سکیورٹی میں اضافے کے لیے وہ گرین لینڈ اور جزائر فیرو کے ساتھ شراکت میں دو ارب ڈالرز سے زیادہ خرچ کرے گا۔
  • خبر رساں ادارے اے ایف پی نے غزہ میں موجود ایک سکیورٹی افسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد شمالی غزہ کی جانب دو گھنٹے پیدل چل کر لوٹ چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. چین نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات اور سی پیک منصوبے کے حوالے سے دی گارڈئین کے آرٹیکل کو من گھڑت قرار دے دیا

    PAK CHINA

    ،تصویر کا ذریعہCHINA EMBASSY

    چینی سفارخانے کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھی چین اورپاکستان کے درمیان سی پیک کے معاملے پر مبینہ طور پر موجود تحفظات سے متعلق میڈیا رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خاجہ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ون چائنا پالیسی جو کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مستقل بنیاد ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    خیال رہے کہ برطانوی اخبار دی گارڈئین نے ایک روز قبل سی پیک کے مستقبل اور سکیورٹی کے حوالے سے ایک تفصیلی آرٹیکل شائع کیا تھا۔

    اخبار نے پاکستان کے لیے چین کے پولیٹیکل سیکریٹری وانگ شن جی کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’اگر سکیورٹی بہتر نہ ہوئی تو کون اس ماحول میں آنا اور کام کرنا پسند کرے گا؟ گوادر اور بلوچستان میں چینیوں کے خلاف نفرت ہے۔۔۔، کچھ برائی کی طاقتیں سی پیک کے خلاف ہیں اور وہ اسے سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔‘

    وانگ شن جی کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ انھوں نے پاکستان پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پاکستانی حکومت نے سی پیک کے حوالے سے کچھ ’جھوٹی بیان بازی‘ بھی کی ہے جس نے مقامی افراد کو غلط توقعات دلائی۔

    ’ہم پاکستان جیسی بیان بازی سے کام نہیں لیتے، ہم فقط ترقی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، اگر ایسی ہی سکیورٹی صورتحال رہی تو اس سے ڈویلپمنٹ متاثر ہو گی۔

    تاہم چینی سفارتخانے نے دی گاڈئین کے آرٹیکل اور چینی سفارتکار کے حوالہ دے کر لکھی گئی باتوں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

    سفارتخانے کی جانب سے جہاں گاڈئین کے آرٹیکل کو من گھڑت اور صحافتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا وہیں حالیہ عرصے میں پاکستان میں سی پیک، گوادر پورٹ اور بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھجوائی جانے والی امداد پر شکریہ بھی ادا کیا۔

    سفارتخانے کے مطابق چین نے گذشتہ برس مارچ میں بلوچستان میں ایک لاکھ امریکی ڈالر امداد فراہم کی، مئی میں 10 ہزار سولر لائٹس کے لیے آلات فراہم کیے۔

    جون میں گوادر میں پاک چین دوستی ہسپتال اور پانی صاف کرنے کا پلانٹ پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

    بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں گوادر ائیر پورٹ کو مکمل کیا گیا اور نومبر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے چین کا دورہ کیا۔

    چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جلد ہی بلوچستان اور گوادر سے طلبا کو سکالر شپ بھی دیا جائے گا۔

    چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں اخبار گاڈئین کے اس دعوے پر کوئی بات نہیں کی گئی جس میں ایک اعلیٰ پاکستانی افسر کا نام لیے بغیر یہ بتایا گیا ہے کہ چین سکیورٹی کے لیے چائنا پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کو پاکستان میں اپنے پروجیکٹس پر تعیبنات کرنا چاہتا ہے۔

  2. شدید بحث کے بعد پیکا ترمیمی بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے منظور

    fake news

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ترمیمی بل پرشدید بحث کے بعد منظوری دیں دی ہے۔

    کمیٹی کے چیئرمین فیصل سلیم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صحافتی تنظیموں نے بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراضات اٹھائے۔

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پیکا بل پیش کیا گیا جس پر صحافیوں کی تنظیموں نے فیک نیوز کی تشریح کی وضاحت کی کمی کو بل میں ایک بڑی خامی قرار دیا اور اس بات پر سوالات اٹھائے کہ فیک نیوز کے حوالے سے کیسے فیصلہ کیا جائے گا۔

    سینٹر کامران مرتضیٰ نے اس بل کی جلدی منظوری پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کم وقت میں قانون کا بغور مطالعہ نہیں کیا جا سکتاگ

    چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے صحافتی تنظیموں سے اپنی تحریری سفارشات پیش نہ کرنے پر سوالات اٹھائے اور انہیں کمیٹی میں اپنے تحفظات پیش کرنے کو کہا۔

    وزیر اطلاعات نے بل کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے اور اس میں کچھ ترامیم لائی گئی ہیں تاکہ بہتر طریقے سے اس کا اطلاق ہو سکے۔

    سینٹر عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ فیک نیوز کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون سازی ضروری ہے، تاہم انھوں نے اس بل پر صحافیوں سے مشاورت کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔

    صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مختلف ارکان نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر یہ قانون صحافیوں کی آزادی پر اثر انداز ہو گا تو وہ اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔

    اجلاس میں پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی گئی، تاہم اس پر مزید مشاورت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

  3. پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مغوی ملازمین کی بازیابی کے لیے لکی مروت میں شٹر ڈاؤن ہرتال, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    لکی مروت

    ،تصویر کا ذریعہMuhammad Zubair Marwat

    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے قبول خیل منصوبے پر کام کرنے والے مغوی ملازمین کی عدم بازیابی پر آج ضلع لکی مروت میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ مقامی افراد کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے دفاتر کے کمپلیکس کے سامنے دھرنا بھی دیا جائے گا۔

    یہ احتجاج مروت گرینڈ جرگہ کی اپیل پر کیا جا رہا ہے جس میں وکلا، تاجر، سول سوسائٹی کے نمائندے اور سیاسی قائدین شامل ہیں۔

    شٹر ڈاؤن ہرتال کے باعث شہر میں دکانیں بند ہیں جبکہ وکلا کی جانب سے آج عدالتی کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

    اس احتجاج کا اعلان گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران کیا گیا تھا۔ اس مظاہرے میں اباشہید خیل جرگہ کے رہنما نصیر تراب نے کہا تھا کہ اگر ملازمین جلد سے جلد بازیاب نہ ہوئے تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیں گے جس میں قبول خیل پراجکٹ کی بندش، انسداد پولیو مہم کا بائیکاٹ اور گیس پائپ لائن کی بندش شامل ہے۔

    لکی مروت

    ،تصویر کا ذریعہMuhammad Zubair Marwat

    مقامی افراد کے مطابق کہ تین روز پہلے لکی مروت کے مضافات سے ایک مغوی ریحان اللہ کی لاش ملی ہے جبکہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کمیشن کے ملازمین کے ساتھ اغوا کیے گئے نجی گاڑی کے ڈرائیور کو رہا کر دیا ہے۔

    ریحان اللہ کی ہلاکت کے بارے میں سرکاری سطح پر کچھ نہیں بتایا جا رہا۔ ایک انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انھیں مختلف جانب سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور جب تک ان کی تصدیق نہیں ہو جاتی وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    لکی مروت میں دو ہفتے پہلے جب 16 ملازمین اور ایک ڈرائیور صبح کے وقت جب کام کے لیے فیکٹری جا رہے تھے تو راستے میں مسلح افراد نے گاڑی کو روک کر ملازمین کو اتارا اور گاڑی کو دور لے جا کر آگ لگا دی تھی اور ملازمین کو نامعلوم مقام کی طرف لے گئے تھے۔

    سکیورٹی فورسز اور مقامی پولیس کی جانب سے ان ملازمین کی بازیابی کے لیے کوششیں کی گئیں اور اس دوران سات ملازمین کو بازیاب کر لیا گیا جبکہ ان میں تین ملازمین زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس وقت آٹھ ملازمین مسلح تنظیم کی تحویل میں ہیں جن کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    ان ملازمین کے اغوا کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے تین ویڈیوز جاری کی گئی تھیں جن میں یہ ملازمین کہہ رہے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں اور طالبان کی تحویل میں ہیں۔

    ان ملازمین نے ویڈیوز میں کہا ہے کہ طالبان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ ان کی بازیابی ممکن ہو سکے۔ ان ملازمین کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

  4. ہزاروں فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپسی شروع

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سوموار کے روز ہزاروں فلسطینوں نے شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا ہے۔

    جنگ بندی معاہدے کے تحت سنیچر کے روز شمالی غزہ کے رہائشیوں کی نیٹزارم راہداری کے ذریعے اپنے گھروں کو واپسی کا عمل شروع ہونا تھا جس کے لیے ایک بڑا مجمع وہاں جمع ہو گیا۔

    نیٹزارم کاریڈور ایک سات کلومیٹر لمبی راہداری ہے جو شمالی غزہ کو باقی علاقے سے الگ کرتا ہے جس پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔

    خیال کیا جا رہا ہے تقریباً پانچ لاکھ فلسطینی شمالی غزہ واپسی کے منتظر ہیں۔

    نیٹزارم کوریڈور

    تاہم اسرائیل نے حماس کی جانب سے سنیچر کو اسرائیلی شہری اربیل یہود کو رہا نہ کیے جانے کے بعد فلسطینیوں کو واپس جانے سے روک دیا تھا۔

    تاہم اب اسرائیل اور حماس کے درمیان اتفاق ہو گیا کہ اربیل یہود اور دیگر دو یرغمالیوں کو جمعرات کے روز رہا کیا جائے گا جبکہ حماس کی جانب سے مصری ثالثوں کو اربیل یہود کے زندہ ہونے کے ثبوت فراہم کیے گئے۔ اس پیشرفت کے بعد فلسطینیوں کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان افيخائی ادراعی کا کہنا ہے کہ اس راستے سے ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی شمالی غزہ واپسی کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuter

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  5. نکاح کیس میں عمران خان، بشریٰ بی بی کی بریت کے خلاف اپیل: نئے بینچ کی تشکیل کے لیے کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا گیا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ طور پر دورانِ عدت نکاح کیس میں بریت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس اعظم خان نے کی۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ کی بریت کے خلاف درخواست بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے دائر کر رکھی ہے۔

    سوموار کے روز درخواست گزار خاور مانیکا کی جانب سے زاہد آصف چوہدری، اقبال کاکڑ و دیگر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عمران خان کی جانب سے علی بخاری، شعیب شاہین ایڈووکیٹ، نیاز اللہ نیازی اور دیگر پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت خاور مانیکا کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے 13 جولائی 2024 کے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے دیا گیا بریت کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے مقدمے کو کسی دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی استدعا کی۔

    شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آپ پہلے ہی اپنا مائنڈ ڈسکلوز کر چکے ہیں اس لیے کیس کسی دوسرے بنچ کو منتقل کر دیا جائے۔

    اس پر جسٹس اعظم خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک آرڈر کے خلاف نظرثانی درخواست سُنی تھی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نیا بینچ تشکیل دینے کیلئے فائل چیف جسٹس کو بھیج دیتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ سال فروری میں مبینہ ’عدت کے دوران‘ نکاح کے مقدمے میں اسلام آباد کے سینیئر سِول جج قدرت اللہ نے مران خان اور ان کی اہلیہ کو سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ جرمانہ کیا گیا تھا۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت سے رجوع کیا۔ گذشتہ سال جولائی میں عدالت نے سول جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوتے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ کو بری کر دیا تھا۔

  6. سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بینچ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج کرے گا

    پاکستان کے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ 26ویں ائیُنی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت آج کرے گا۔

    سات رکنی آئینی بینچ کے علاوہ جسٹس عائشہ ملک کو بھی اس بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔

    حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ مختلف بار ایسوسی ایشنز نے بھی 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    چھبیس ویں آئینی ترمیم کے خلاف تیس سے زیادہ درخواستیں دائر ہیں۔

    ان درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ یہ ترمیم ٹرائیکاٹومی آف پاور کے اصول کے خلاف ہے اور اس کے بعد پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے اختیارات بھی لینے کی کوشش کی ہے۔

    درخواست گزاروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ترمیم حکومت کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں کو اپنے زیر اثر لانے کے مترادف ہے لہذا اس ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  7. لبنان جنگ بندی معاہدے میں 18 فروری تک توسیع

    لبنان اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لبنان اور امریکہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں 18 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    لبنان جنگ بندی معاہدے کے مطابق اتوار کے روز جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے انخلا کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود اپنے فوجی لبنان سے نہیں نکالے تھے۔

    اسرائیل کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ لبنانی حکومت معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کر رہی ہے۔

    اتوار کے روز لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے کہا گیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 124 زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد جنگ بندی معاہدے میں 18 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    اتوار کے روز وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انخلا کی ڈیڈ لائن اب 18 فروری تک بڑھا دی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد پکڑے گئے لبنانی قیدیوں کی واپسی کے لیے بھی مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔

    نومبر میں طے پائے جانے والے معاہدے کے نتیجے میں 14 ماہ سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع ختم ہوا تھا۔

  8. بینچوں کی تشکیل کا معاملہ: سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ نے بینچوں کی تشکیل کے معاملے میں ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف جاری نوٹس واپس لے لیا۔

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ عدالت میں بینچوں کی تشکیل کے حوالے سے تنازع اس وقت سامنے آیا جب ٹیکس قوانین سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کسٹم حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جسے 13 جنوری کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی کی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عرفان سعادت شامل تھے۔

    تاہم ابتدائی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے اس بات کا تعین کرنا ہوگا کہ یہ معامہ آئینی بینچ سنے گا یا دوسرا بینچ جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔

    لیکن 20 جنوری کے نوٹیفیکیشن کے تحت یہ اپیل جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ سے ڈی لسٹ کر دی گئی اور اسے آئینی بینچ کو بھجوا دیا گیا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ کیسے اپیل کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا گیا اور کیسے یہ اپیل آئینی بینچ کو بھیج دی گئی۔

    عدالت نے اس ضمن میں ایڈیشنل رجسڑار کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

    سوموار کے روز جاری فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کے اختیار کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کیلئے درخواست چیف جسٹس کو بھیج دی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ انتظامی سطح پر جوڈیشل احکامات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں توہین عدالت کی کارروائی ججز کمیٹی کے خلاف بنتی ہے۔ تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کمیٹیوں کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ججز کمیٹیوں کے پاس اختیار نہیں کہ زیر سماعت مقدمہ بینچ سے واپس لے سکے۔

  9. لبنان میں اسرائیلی فوج کی کاروائیوں میں 22 افراد ہلاک، 124 زخمی: لبنانی وزارتِ صحت

    ایک اسرائیلی سنائپر لبنان کے شہر یارون میں اپنے گاؤں کو واپس آنے والے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایک اسرائیلی سنائپر لبنان کے شہر یارون میں اپنے گاؤں کو واپس آنے والے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 124 زخمی ہو گئے ہیں۔ لبنانی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے انخلا کی ڈیڈ لائن ختم ہو جانے کے باوجود اب بھی اسرائیلی فوج ملک کے مختلف علاقوں میں تعینات ہے۔

    لبنانی اور اسرائیلی افواج کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی خبردار کیے جانے کے باوجود اتوار کی صبح ہزاروں باشندے سرحد سے متصل قصبوں اور دیہاتوں میں واپس چلے گئے، جن کے بارے میں انھیں بتایا گیا تھا کہ یہ علاقہ غیر محفوظ ہیں۔

    لبنانی اور اسرائیلی افواج کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی خبردار کیے جانے کے باوجود اتوار کی صبح ہزاروں باشندے سرحد سے متصل قصبوں اور دیہاتوں میں واپس چلے گئے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلبنانی اور اسرائیلی افواج کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی خبردار کیے جانے کے باوجود اتوار کی صبح ہزاروں باشندے سرحد سے متصل قصبوں اور دیہاتوں میں واپس چلے گئے

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے انتباہی فائرنگ کی تھی۔ تاہم ان کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ان کی فائرنگ کے نتیجے میں کسی کو گولی لگی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کچھ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ 60 روزہ جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے کتنے فوجی لبنان میں رہیں گے یا وہ کتنے عرصے تک رہیں گے۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے لوگوں پر اس وقت حملے کیے گئے جب وہ ان علاقوں میں داخل ہوئے جو اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں عورتیں اور بچے بھی ہیں۔

    لبنانی فوج کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے ان کا ایک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

  10. حماس رواں ہفتے اربیل یہود سمیت چھ افراد کو رہا کرے گا: اسرائیلی وزیرِ اعظم

    اسرائیلی شہری اربیل یہود

    ،تصویر کا ذریعہBring Them Home Now

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی شہری اربیل یہود کو جمعے کو روز رہا کیا جائے گا

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے حماس چھ قیدیوں کو رہا کرے گا جبکہ سوموار سے فلسطینیوں کو شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت ہو گی۔

    حماس کی جانب سے رہا کیے جانے والوں میں اسرائیل شہری اربیل یہود کا نام بھی شامل ہے۔

    اس سے قبل سنیچر کے روز حماس نے چار اسرائیلی فوجیوں کو رہا کیا تھا لیکن رہائی پانے والوں میں اربیل شامل نہیں تھیں جس کے بعد اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کو شمالی غزہ لوٹنے سے روک دیا تھا۔

    اسرائیلی حکومت کا کہنا تھا کہ غزہ کے شہریوں کو اس وقت تک شمال کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک اسرائیلی شہری اربیل یہود کو رہا نہیں کیا جاتا۔

    جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان دو مرتبہ قیدیوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم اور جنگ بندی معاہدے کے ثالث قطر کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز حماس اربیل یہود سمیت تین قیدیوں کو رہا کرے گا جبکہ سنیچر کے روز تین مزید افراد رہا کیے جائِں گے۔

    اس کے بدلے میں اسرائیل سوموار کے روز سے فلسطینیوں کو شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے گا جبکہ مزید فلسطینی قیدی بھی رہا کیے جائیں گے۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کاروائیوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لبنانی انتظامیہ کے مطابق علاقے سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے انخلا کی ڈیڈ لائن ختم ہو جانے کے باوجود اب بھی وہ ملک کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔

    بلوچستان کے ضلع خضدار میں اتوار کو بم کے ایک دھماکے میں کم ازکم ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

    اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کو شمالی غزہ اپنے گھروں کو واپس جانے سے روک دیا۔

  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔