کینیڈا اور چین کے درمیان دو طرفہ محصولات میں کمی کا اعلان
چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے بیجنگ میں اہم ملاقات کے بعد تجارتی معاہدے کے تحت محصولات میں کمی کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے چین نے کینیڈین کینولا آئل پر محصولات 85 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے جو یکم مارچ سے نافذ ہوگا جبکہ کینیڈا نے چینی برقی گاڑیوں پر محصولات کو 6.1 فیصد پر مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ معاہدہ برسوں سے جاری کشیدہ تعلقات اور ایک دوسرے پر جوابی محصولات کے بعد ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی نے اسے تعلقات میں موڑ قرار دیا جبکہ تقریباً ایک دہائی بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے کینیڈین رہنما وزیرِاعظم کارنی کے لیے بھی یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
مارک کارنی طویل عرصے سے کینیڈا کی تجارت کو اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار امریکہ پر انحصار کرنے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوشش اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار بدلتی ہوئی محصولات کی پالیسی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی۔
چین اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ نہ صرف محصولات میں کمی کا باعث بنا ہے بلکہ اس سے کینیڈا میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔
کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے عندیہ دیا ہے کہ یہ پیش رفت دراصل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جنھوں نے امریکہ کے ایک اہم اتحادی کو اس کے سب سے بڑے حریف کی طرف دھکیل دیا۔
مارک کارنی نے صحافیوں کو بتایا کہ چین کے ساتھ تعلقات حالیہ مہینوں میں زیادہ حقیقت پسندانہ اور بہتر رہی۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اوٹاوا ہر معاملے میں بیجنگ سے متفق نہیں ہے۔ ان کے مطابق صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں انھوں نے کینیڈا کی ’ریڈ لائن‘ پر زور دیا جن میں انسانی حقوق، انتخابات میں مداخلت کے خدشات اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
اپنے تین روزہ دورے کے آغاز میں کینیڈین وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کینیڈا اور چین کی شراکت داری دونوں ممالک کو نئے عالمی نظام کے لیے تیار کرنے جا رہی ہے۔
جمعے کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چینی اور کینیڈین وفود کی ملاقات کے دوران صدر شی نے کہا کہ ’چین اور کینیڈا کے تعلقات کی بہتری اور مستحکم ترقی دنیا کے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے سودمند ہو گی۔‘