آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو: ٹرمپ کے وزیر خزانہ

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو، اور اگر وہ امریکہ کا حصہ ہو تو اسے دفاع کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرا یقین ہے کہ یورپی ممالک سمجھ جائیں گے کہ یہ گرین لینڈ کے لیے بہتر ہے، یورپ کے لیے بہتر ہے اور امریکہ کے لیے بھی بہتر ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ایک کارروائی میں تین امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث القاعدہ کے ایک رہنما مارے گئے ہیں۔
  • کراچی کے گُل پلازہ میں لگنے والی آگ میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی۔ آگ بجھانے کا عمل تاحال جاری۔
  • ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا اعتراف، امریکی صدر کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔
  • امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے الزامات پر کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلا جائے۔‘
  • مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر 'غزہ بورڈ آف پیس' کے رُکن نامزد

لائیو کوریج

  1. کینیڈا اور چین کے درمیان دو طرفہ محصولات میں کمی کا اعلان

    چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے بیجنگ میں اہم ملاقات کے بعد تجارتی معاہدے کے تحت محصولات میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    اس حوالے سے چین نے کینیڈین کینولا آئل پر محصولات 85 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے جو یکم مارچ سے نافذ ہوگا جبکہ کینیڈا نے چینی برقی گاڑیوں پر محصولات کو 6.1 فیصد پر مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    یہ معاہدہ برسوں سے جاری کشیدہ تعلقات اور ایک دوسرے پر جوابی محصولات کے بعد ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    چینی صدر شی نے اسے تعلقات میں موڑ قرار دیا جبکہ تقریباً ایک دہائی بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے کینیڈین رہنما وزیرِاعظم کارنی کے لیے بھی یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

    مارک کارنی طویل عرصے سے کینیڈا کی تجارت کو اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار امریکہ پر انحصار کرنے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوشش اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار بدلتی ہوئی محصولات کی پالیسی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی۔

    چین اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ نہ صرف محصولات میں کمی کا باعث بنا ہے بلکہ اس سے کینیڈا میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

    کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے عندیہ دیا ہے کہ یہ پیش رفت دراصل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جنھوں نے امریکہ کے ایک اہم اتحادی کو اس کے سب سے بڑے حریف کی طرف دھکیل دیا۔

    مارک کارنی نے صحافیوں کو بتایا کہ چین کے ساتھ تعلقات حالیہ مہینوں میں زیادہ حقیقت پسندانہ اور بہتر رہی۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اوٹاوا ہر معاملے میں بیجنگ سے متفق نہیں ہے۔ ان کے مطابق صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں انھوں نے کینیڈا کی ’ریڈ لائن‘ پر زور دیا جن میں انسانی حقوق، انتخابات میں مداخلت کے خدشات اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔

    اپنے تین روزہ دورے کے آغاز میں کینیڈین وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کینیڈا اور چین کی شراکت داری دونوں ممالک کو نئے عالمی نظام کے لیے تیار کرنے جا رہی ہے۔

    جمعے کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چینی اور کینیڈین وفود کی ملاقات کے دوران صدر شی نے کہا کہ ’چین اور کینیڈا کے تعلقات کی بہتری اور مستحکم ترقی دنیا کے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے سودمند ہو گی۔‘

  2. تہران میں نیوزی لینڈ کا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا گیا

    ایران میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں نیوزی لینڈ نے تہران میں اپنے سفارت خانے کو عارضی طور پر بند کرتے ہوئے اپنے عملے کو فوری واپسی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران میں تعینات سفارت کار کمرشل فلائیٹ سے ایران روانہ ہو گئے ہیں۔

    وزارت خارجہ کے اہلکار نے بتایا کہ ’ہم اپنے کسی بھی شہری کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور ہم نے ایران میں اپنے شہریوں کو جلد از جلد وہاں سے نکل جانے کو کہا ہے۔‘

    نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش اور مواصلاتی مسائل کی وجہ سے انھیں ایران میں اپنے شہریوں کو قونصلر امداد فراہم کرنے میں ’سخت مشکلات‘ کا سامنا ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ، انڈیا اور جرمنی کے سفارت خانوں نے بھی ایران میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی تھیں۔

  3. مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے، گفت و شنید سے ملک آگے بڑھ سکتا ہے: شاہ محمود قریشی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت ضروری ہے اور مزاحمت کے بعد بھی مفاہمت ہی راستہ ہے۔

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے اور وہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ فواد چوہدری کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا حصہ بنیں گے جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین ہیں اور پارٹی پالیسی سے ہٹ نہیں سکتے۔

    فواد چوہدری سے ملاقات کے سوال پر قریشی نے کہا کہ وہ اور فواد چوہدری ایک ہی پارٹی میں رہے ہیں۔ ’ہسپتال میں وہ ان کی عیادت کے لیے آئے تھے اور اب گھر آئے مہمان کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیوں ملنے آئے ہو۔‘

    شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ ’جب میرے بہنوئی کی وفات ہوئی تو میں نے پیرول پر رہائی مانگی تاکہ جنازے میں شرکت کر سکوں مگر اس کی اجازت نہیں دی گئی۔‘

    افغانستان کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کی خوشحالی کا راستہ پاکستان سے جڑا ہے اور اگر افغانستان استحکام چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے ہوں گے۔

    ایران کے بارڈر پر صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ فی الحال حالات قابو میں ہیں جبکہ انڈیا کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ میں انڈیا کو شکست دی تاہم خطرہ ابھی تک مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔

  4. روس کی ایران اور اسرائیل کو ثالثی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور اس دوران دونوں ممالک کو ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

    کریملن کے مطابق ان ٹیلیفون کالز میں صدر پوتن نے زور دیا کہ ’روس ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔‘

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ماسکو ’ایرانی صدر کے ساتھ اس ٹیلیفونک گفتگو کے نتائج کا بہت جلد اعلان کرے گا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’روسی صدر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

  5. ایمان مزاری اور ہادی علی کو 24 گھنٹے میں گرفتار کر کے پیش کیا جائے: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور ان کو 24 گھنٹے میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

    سماعت کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ جج افضل مجوکا نے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ایک شخص گرفتار نہیں ہوتا تو بلوچستان یا دیگر صوبوں میں کیا کریں گے۔

    تفتیشی افسر عمران حیدر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے اور جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔

    این سی سی آئی اے حکام نے کہا کہ چار افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی لیکن ملزمان ایڈریس پر موجود نہیں تھے۔ حکام نے مزید وقت دینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے دونوں ملزمان کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ انھیں گرفتار کر کے کل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے واضح کیا کہ وارنٹ گرفتاری پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے اور پولیس کو کل صبح گیارہ بجے تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

  6. نئی دہلی: ایئرانڈیا جہاز کے انجن نے کارگو کنٹینر کو کھینچ لیا، واقعے کی تحقیقات شروع, ابھیشیک دے،بی بی سی، انڈیا

    انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ایئرپورٹ پر ایئر انڈیا کی ایک ایئر بس A 350 کے انجن میں کارگو کنٹینر کو کھینچے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    یہ واقعہ دہلی ایئرپورٹ پر اس وقت پیش آیا جب طیارہ رن وے سے نکل کر پارکنگ ایریا کی طرف جا رہا تھا۔

    نیو یارک جانے والا یہ طیارہ جمعرات کو ایران کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد دہلی واپس آ گیا تھا جہاں لینڈنگ کے بعد، طیارہ پارکنگ ایریا کی طرف ٹیکسی کر رہا تھا کہ کارگو کنٹینرکو دائیں انجن نے کھینچ لیا۔

    ایئر انڈیا کے ترجمان نےبتایا کہ کنٹینر اس وقت گرا جب سامان لے جانے والی ایک گاڑی کے ساتھ جڑے کارٹ کا پہیہ نکل گیا۔ گاڑی کے آپریٹر نے باقی سامان صاف کر دیا تاہم گرنے والا کنٹینر وہیں رہ گیا اور انجن کو اس نے اپنے اندر کھینچ لیا۔

    یاد رہے اس وقت شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ کم تھی۔ اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں تاہم انجن کو کافی نقصان پہنچا ہے اور طیارہ مرمت کے لیے گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق اس کا ملبہ صاف کر دیا گیا ہے اور طیارے کو مخصوص جگہ پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔

    ایئر انڈیا کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کنٹینر انجن میں داخل ہوا تو طیارے میں تقریباً 240 مسافر جبکہ چھ سے آٹھ کے درمیان عملے کے افراد تھے۔

    ڈی جی سی اے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی تصاویر میں طیارے کے انجن کے بیرونی حصے اور پنکھوں کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ ساتھ ٹیکسی وے پر پڑا ملبہ بھی دکھایا گیا ہے۔

    اس واقعے نے انڈیا کے مصروف ایئرپورٹس پر زمینی حفاظت کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    گزشتہ سال جون میں ڈی جی سی اے نے انڈیا کے بڑے ایئرپورٹس اور ایئر لائنز میں سنگین حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن میں دھندلے رن وے مارکنگ، ناقص سیمولیٹر ٹریننگ، عملے کی بے آرامی ، ناکافی مرمت اور کاک پٹ تک غیر مجاز رسائی شامل تھیں۔

    ایئر انڈیا نے بھی خبردار کیا ہے کہ چونکہ یہ طیارہ گراؤنڈ کر دیا گیا ہے، اس لیےاے 350 کے کچھ روٹس پر ممکنہ خلل پڑ سکتا ہے تاہم ایئر لائن نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے روٹس متاثر ہو سکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایئر انڈیا کے پاس چھ ایئر بس اے 350 طیارے ہیں جو لندن اور نیو یارک سمیت طویل فاصلے کی پروازوں پر استعمال ہوتے ہیں۔

  7. ایران کے ساتھ معاملات سفارتی طور پر حل ہو سکتے ہیں: امریکی مندوب سٹیو وٹکوف کا دعویٰ

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سٹیو وٹکوف نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی امریکی کونسل میں خطاب کے دوران جب ان سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کا سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ میں امید کرتا ہوں کہ ہم سفارتکاری کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری، افزودگی، میزائل اور پراکسی فورسز پر مشتمل چار غیر حل شدہ مسائل ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب نے واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں یہ مسائل سفارتکاری کے ذریعے حل ہوں کیونکہ ان کے بقول ’متبادل نتیجہ ایران کے لیے بہت برا ثابت ہو سکتا ہے۔‘

  8. سپورٹس اتھارٹی انڈیا کے ٹریننگ سینٹر میں دو زیرِ تربیت کھلاڑیوں کی ہلاکت، ’کمرے سے ایک سوسائیڈ نوٹ ملا ہے،‘ پولیس, عمران قریشی، بی بی سی ہندی

    کیرالہ کے ضلع کولم میں سپورٹس اتھارٹی انڈیا (سائی) کے ٹریننگ سینٹر میں جمعرات کی صبح دو زیرِ تربیت کھلاڑی مردہ حالت میں پائی گئیں۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والی ایک کھلاڑی 17 سال کی تھیں جو ایتھلیٹکس کی تربیت حاصل کر رہی تھیں اور کوژیکوڈ کی رہائشی تھیں۔ وہ بارہویں جماعت کی طالبہ تھیں۔ دوسری کھلاڑی 15 سال کی تھیں جو کبڈی کی تربیت لے رہی تھیں اور ترواننت پورم میں دسویں جماعت کی طالبہ تھیں۔

    ابتدائی طور پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں کی موت خودکشی کے باعث ہوئی ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی ہلاک کی خبر اُس وقت سامنے آئی کہ جب وہ دونوں صبح پانچ بجے ہونے والی ٹریننگ میں شریک نہ ہوئیں۔ دونوں کو الگ الگ کمروں میں رکھا گیا تھا، تاہم بدھ کی رات 15 سالہ کھلاڑی نے 17 سالہ کھلاڑی کے کمرے میں رات گُزارنے کے لیے قیام کیا تھا۔

    پولیس کمشنر کرن نارائنن نے بتایا کہ کمرہ کھولنے پر ایک سوسائیڈ نوٹ ملا، جس میں صرف اپنی جان لینے پر معافی مانگی گئی تھی، تاہم کوئی واضح وجہ درج نہیں تھی۔

    پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ والدین شدید صدمے میں ہیں۔ دیگر ٹرینی کھلاڑیوں، کوچز اور اہلِ خانہ کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

  9. محمود خان اچکزئی کا بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری کا نوٹیفکیشن جاری

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے گزشتہ سال اگست میں محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا تھا، کیونکہ اس عہدے پر فائز رکن قومی اسمبلی عمر ایوب نو مئی سنہ 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل ہوچکے تھے۔

    گزشتہ منگل کو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قائد حزبِ اختلاف کی تقرری کے عمل کا ازسرِنو آغاز کیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے خالی تھا جو اگست سنہ 2025 میں پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی نااہلی کے بعد خالی ہوا تھا۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 266 قلعہ عبداللہ اور چمن سے کامیاب قرار پائے تھے۔

  10. کینیڈا کے وزیراعظم اور چینی صدر کی بیجنگ میں ملاقات: زراعت، توانائی اور معاشی شعبوں میں آگے بڑھنے پر اتفاق

    کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں ملاقات کی۔ یہ کئی برسوں بعد کسی کینیڈین رہنما کا چین کا پہلا دورہ ہے۔

    آخری بار سنہ 2017 میں جسٹن ٹروڈو نے چین کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک ایک طویل سفارتی کشیدگی میں مبتلا رہے۔

    ابتدائی کلمات میں حالیہ ملاقات میں وزیرِاعظم کارنی نے کہا کہ دونوں ممالک کو زراعت، توانائی اور معیشت میں فوری پیشرفت پر توجہ دینی چاہیے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ’یہ آپ کا پہلا دورہ ہے جب سے آپ نے منصب سنبھالا ہے اور آٹھ برس بعد کسی کینیڈین وزیرِاعظم کا چین کا دورہ ہے۔‘

    شی جن پنگ نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ چین اور کینیڈا کے تعلقات عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے سودمند ہیں۔

    وزیرِاعظم کارنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم دونوں مُمالک کے درمیان ماضی کے بہترین تعلقات کو دوبارہ قائم کر سکتے ہیں اور ایک نیا باب رقم کر سکتے ہیں۔ ہم دونوں طرف کے عوام کے لیے استحکام، سلامتی اور خوشحالی لا سکتے ہیں اور اسی کے لیے کوشش کریں گے۔‘

    صدر شی نے اس موقع پر کہا کہ ’گزشتہ برس جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن اجلاس کے دوران کارنی سے ملاقات کے بعد چین اور کینیڈا کے تعلقات میں ’مثبت تبدیلی‘ آئی ہے۔

    جمعرات کو چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اس ’مثبت تبدیلی‘ کو سراہتے ہوئے اسے ایک ’نئے دور کا آغاز‘ قرار دیا تھا۔

  11. ایران میں مظاہروں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس: ایرانی اور امریکی مندوبین کے ایک دوسرے پر الزامات

    ایران کے نمائندے نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران میں بد امنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    سلامی کونسل کے اجلاس میں ایران کے مستقل مندوب کے معاون حسین درزی نے امریکی نمائندے کے الزامات کہ ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا ہے کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔ انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’اگر امریکہ واقعی بے گناہوں کی ہلاکت پر فکر مند ہے تو اسے منیسوٹا میں پولیس افسران کے ہاتھوں خاتون کے قتل پر توجہ دینی چاہیے۔‘

    درزی نے مزید کہا کہ ’وہ ان شہریوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں جو گزشتہ دو ہفتوں میں ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل کی سازش کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، جن میں احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ایرانی سفیر کی تقریر کا زیادہ تر حصہ امریکہ سے متعلق تھا، جس کے کہنے پر سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’احتجاجی مظاہروں کا رخ اور اس کے بعد ہونے والے خونریز واقعات دراصل امریکہ اور اسرائیل کی تحریک کا نتیجہ ہیں۔‘

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شمولیت کے الزامات عائد کیے۔

    والٹز نے کہا کہ ’ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کر رہا ہے، بالخصوص اپنے مسلح گروہوں کے ذریعے۔‘ ان کے مطابق ایران نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے جوہری اور میزائل پروگرام اور اپنے مسلح گروہوں کی حمایت کو ترجیح دی ہے، جس کے نتیجے میں عوام اب شدید دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں۔

    امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’عملی طور پر آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں، محض باتوں کی حد تک نہیں‘ اور یہ کہ ’ایران میں پرتشدد واقعات روکنے کے لیے تمام آپشنز اب بھی امریکی صدر کے سامنے موجود ہیں اور ایرانی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔‘

  12. امریکہ کا ایران میں مظاہروں کے دوران پُرتشدد اقدامات کے ذمہ دار افراد پر نئی پابندیوں کا اعلان

    امریکہ نے ایران میں مظاہروں کے دوران پُرتشدد اقدامات کے ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی وزیر خزانہ سکات بسنت نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں اُن شخصیات اور اداروں پر عائد کی گئی ہیں جنھیں ’ایران میں احتجاجی مظاہروں میں شامل افراد پُرتشدد کا کی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔‘

    جاری کردہ فہرست میں ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، اور صوبہ لرستان اور فارس میں پاسداران انقلاب کے کمانڈرز نعمت اللہ باقری اور یداللہ بوعلی کے نام شامل ہیں۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ پابندیاں اُن نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بناتی ہیں جنھیں ’شیڈو بینکانگ‘ کہا جاتا ہے، جو ایرانی حکام کو قدرتی وسائل کی فروخت سے حاصل آمدنی کو چوری کرنے اور منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

  13. ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام مل گیا، مگر کیسے؟

    وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا ہے۔

    ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن وینزویلا والوں کے لیے تاریخی دن ہے۔ یہ مرِیا کورینا مَچاڈو کی صدر ٹرمپ سے پہلی ملاقات ہے۔‘

    یہ ملاقات امریکہ کی جانب سے ویزنویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکس سے حراست میں لے کر امریکہ لائے جانے کے دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔

    ٹرمپ نے تروتھ سوشل پر ایک بیان میں مَچاڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام ’باہمی احترام کا ایک شاندار مظاہرہ‘ ہے۔

    تاہم امریکی صدر مَچاڈو کی وینزویلا کے نئے رہنما کے طور پر حمایت نہیں کر رہے۔ مَچاڈو کی جماعت وینزویلا کے سنہ 2024 انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرتی آئی ہے۔

    اس کے بجائے ٹرمپ وینزویلا کی قائم مقام سربراہ ڈیلسی روڈریگز جو کہ مادورو کی نائب صدر تھیں کے ساتھ معاملات کر رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے مَچاڈو سے ملاقات کو ’اعزاز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ’حیرت انگیز خاتون‘ ہیں جنھوں نے بہت کچھ سہا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد مَچاڈو نے باہر موجود اپنے حامیوں سے ہسپانوی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا ’ہم صدر ٹرمپ پر اعتماد کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے صحافیوں سے انگریزی میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے امریکہ کے صدر کو نوبل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔‘ انھوں نے اپنے اس اقدام کو ’ہماری آزادی کے ساتھ ان کی منفرد وابستگی کا اعتراف‘ قرار دیا۔

    بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ایکس پر صدر ٹرمپ اور مَچاڈو کی تصویر شیئر کی جس میں صدر ٹرمپ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کا نوبل انعام کا تمغہ تھامے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

  14. یورپی فوج کی گرین لینڈ آمد، ’دستوں کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوگی،‘ وائٹ ہاؤس

    گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں ایک چھوٹا فرانسیسی فوجی دستہ پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعیناتی یورپی ممالک کے محدود فوجی مشن کا حصہ ہے، جس میں جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کو ’ریکنائسنس مشن‘ یعنی ’جائزہ لینے والا مشن‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ابتدائی دستے کو جلد ہی زمینی، فضائی اور بحری اثاثوں کے ساتھ مزید مضبوط کیا جائے گا۔ فرانسیسی سفارتکار اولیویئر پووردآور نے اس مشن کو ایک سیاسی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی مشق ہے۔۔۔ ہم امریکہ کو دکھائیں گے کہ نیٹو موجود ہے۔‘

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ ’اگرچہ بات چیت تعمیری رہی، لیکن فریقین کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ برقرار ہے۔‘ انھوں نے صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ حاصل کی کوشش پر بھی تنقید کی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا، تاہم کہا کہ ڈنمارک کے ساتھ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اگر روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہیں تو ڈنمارک کچھ نہیں کر سکتا، لیکن ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔‘

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو کہا تھا کہ یورپی فوجی دستوں کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوگی اور نہ ہی گرین لینڈ کے حصول کے ہدف کو متاثر کرے گی۔

    پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ان کا ملک گرین لینڈ میں یورپی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے وہاں فوجی مداخلت کی تو یہ ’سیاسی تباہی‘ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ’نیٹو کے ایک رکن ملک کی سرزمین پر دوسرے رکن ملک کا قبضہ دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔‘

    روس کے سفارتخانے نے بیلجیم میں جاری بیان میں آرکٹک کی صورتحال پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا اور نیٹو پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو اور بیجنگ کے خطرے کے بہانے فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔

  15. غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں حماس کے رہنما سمیت 10 افراد ہلاک

    حماس نے کہا ہے کہ اس کے عسکری ونگ کے ایک سینئر کمانڈر جمعرات کو وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اسرائیلی فوج نے تاحال اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ حماس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں محمد الحولی شامل ہیں، جو دیر البلح میں عسکری ونگ کے کمانڈر تھے۔

    مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسلامی جہاد کے عسکری ونگ ’القدس بریگیڈز‘ کے کمانڈر اشرف الخطیب بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    حماس نے الحولی خاندان کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا، بلکہ اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ کے عوام کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جا سکے۔

    فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک 400 سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے میں عمارتیں مسمار کر کے لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے، جہاں اب 20 لاکھ سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے منگل کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے بعض ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔

  16. ٹرمپ کا مظاہرین کی سزائے موت رکنے کا خیرمقدم، ’حکومت کا مظاہرین کو سزائے موت دینے کا ارادہ نہیں،‘ ایرانی وزیرِ خارجہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار ایک نوجوان کی ممکنہ سزاِ موت کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی اطلاعات کا خیرمقدم کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ عرفان سلطانی نامی نوجوان پر عائد الزامات سزائے موت کے زمرے میں نہیں آتے۔

    امریکی صدر نے اس پیشرفت کو ’اچھی خبر‘ قرار دیا اور اُمید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انھوں نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر ایران مظاہرین کی سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرتا ہے تو امریکہ ’انتہائی سخت اقدام‘ کرے گا۔

    دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت کا ایسے افراد کو جو احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے باعث گرفتار ہوئے ہیں سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔

    گزشتہ روز ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا تھا کہ ’عرفان سلطانی‘ کو تاحال سزائے موت نہیں سنائی گئی۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے عدلیہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’10 جنوری کو بدامنی کے دوران عرفان سلطانی کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف اجتماع، سازش اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘

    مزید بتایا گیا کہ وہ اس وقت کرج سینٹرل جیل میں زیرِ حراست ہیں۔

    جمعرات کے روز ایرانی عدلیہ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ ’اگر ان کے (عرفان سلطانی) خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور کسی عدالت سے قانونی فیصلہ جاری ہوتا ہے تو قانون میں اس جرم کی سزا قید ہے۔ ایسے الزامات کے لیے سزائے موت کا قانون موجود نہیں۔‘

    واضے رہے کہ اس سے قبل عرفان سلطانی کے ایک رشتہ دار نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ ’انتہائی تیز رفتار کارروائی میں صرف دو دن کے اندر عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور خاندان کو بتایا گیا کہ انھیں 14 جنوری کو پھانسی دی جائے گی۔‘

  17. غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان: ’20 نکاتی امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے،‘ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ اس بورڈ کے اراکین کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم یہ بات پوری یقین دہانی کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ تاریخ کے کسی بھی دور اور کسی بھی مقام پر تشکیل دیا جانے والا سب سے عظیم اور باوقار بورڈ ہے۔‘

    اسی بیان اور بورڈ آف پیس کے قام سے متعلق بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک اور بیان میں اس بورڈ سے متعلق کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کے اعلان کے مطابق، غزہ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے اگلے مرحلے میں باضابطہ طور پر داخل ہو گئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’جنگ بندی کے بعد ٹیم نے غزہ میں انسانی امداد کی ریکارڈ سطح پر ترسیل کو یقینی بنایا ہے، جو شہریوں تک تاریخی رفتار اور پیمانے کے ساتھ پہنچی۔ حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اس کامیابی کو بے مثال قرار دیا ہے۔ یہی نتائج اس نئے مرحلے کی بنیاد بنے ہیں۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بطور چیئرمین ’بورڈ آف پیس‘، ایک نئی فلسطینی تکنیکی حکومت ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کی حمایت کی جا رہی ہے، جسے بورڈ کے ہائی ریپریزنٹیٹو کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ فلسطینی قیادت امن کے مستقبل کے لیے پر عزم ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مصر، ترکی اور قطر کی حمایت سے حماس کے ساتھ ایک جامع غیر عسکری معاہدہ طے کیا جائے گا ہے، جس میں تمام ہتھیاروں کی حوالگی اور ہر سرنگ کے خاتمے کو شامل کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے اپنے پیغام کے آخر پر کہا کہ ’حماس کو فوری طور پر اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا، جس میں اسرائیل کو آخری لاش کی واپسی اور مکمل غیر عسکری ہونا شامل ہے۔‘

  18. خاران میں مسلح افراد کا حملہ، تھانے سے قیدیوں کو بھی چھڑوا لیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران کے مرکزی شہر میں جمعرات کے روز مسلح افراد کی بڑی تعداد داخل ہوئی اور شہر کے مختلف حصوں میں حملے کیے۔ مقامی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے سٹی پولیس تھانے کو نشانہ بنایا اور سرکاری و نجی بینکوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر شہر میں داخل ہوئے۔ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تھانے کی گاڑیوں اور اسلحے کو نقصان پہنچایا گیا اور کچھ اسلحہ حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلکار کے مطابق حملہ آور حوالات میں موجود زیرِ سماعت قیدیوں کو بھی زبردستی چھڑا کر لے گئے۔

    پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے کچھ افراد بازار میں داخل ہوئے اور دو سے تین بینکوں کو نقصان پہنچایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ بینکوں سے رقم لے جانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔

    سول ہسپتال خاران کے ایم ایس ڈاکٹر مشتاق نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں پانچ زخمیوں کو لایا گیا، جن میں ایک نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا جبکہ چار بچے دھماکے کے نتیجے میں اسپلنٹرز لگنے سے زخمی ہوئے۔

    شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد کے داخل ہونے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ خاران شہر کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

    خاران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے متاثر ہیں۔ اگرچہ اس ضلع میں بدامنی کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، لیکن مرکزی شہر میں مسلح افراد کی اتنی بڑی تعداد میں داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

  19. مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ کا ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

    امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے دنیا بھر کے بینکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک بیان میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ جن ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں۔

    جمعرات کو ویڈیو پیغام میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ ’آپ چوری شدہ فنڈز دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں۔ ہم آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ابھی بھی وقت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ تشدد روک دیں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔‘

    بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ ہر وہ اقدام کرے گا جس سے ایران کی ’آمرانہ حکومت کو نشانہ بنایا جا سکے۔‘

    امریکہ نے 18 دیگر افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ امریکہ کے مطابق یہ افراد غیر ملکی منڈیوں میں ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل فروخت کر کے بینکاری کے خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ایرانی تیل کی برآمدات اور جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کو روکنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان پابندیوں کے تحت افراد اور کمپنیوں کو امریکہ میں موجود کسی بھی جائیداد یا مالی اثاثے تک رسائی نہیں دی جائے گی اور امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔ تاہم یہ پابندیاں زیادہ تر علامتی ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس امریکی اداروں میں فنڈز موجود نہیں ہیں۔

    ان پابندیوں کے حوالے سے امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے 18 افراد اور کمپنیوں کو نامزد کیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے ’شیڈو بینکنگ نیٹ ورک‘ کے ذریعے ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کی منی لانڈرنگ میں حصہ لیا۔ شیڈو بینکنگ سے مراد وہ مالیاتی سرگرمیاں اور ادارے ہیں جو بینکوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن روایتی بینکاری نظام کے ضوابط سے باہر ہوتے ہیں۔

  20. ایران میں پُرامن حل کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ ’امن و استحکام قائم رہے گا اور ہم اس صورتحال کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    ہفتہ وار بریفننگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بطور پڑوسی، دوست اور برادر ملک، پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ایران دیکھنا چاہتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حالیہ مظاہرے عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مالیاتی اقدامات عوامی مشکلات کم کریں گے۔

    انھوں نے ایران کو ایک ’مضبوط قوم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایران موجودہ چیلنجز پر قابو پا لے گا۔