کراچی پولیس نے اغوا کی کوشش کے دوران پکڑے گئے دو ملزمان کو سیریل ریپسٹ قرار دے کر متعدد بچوں کے ساتھ ریپ کے الزام میں ان کا تین روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔
ان دونوں ملزمان کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔
محمود آباد پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں درجنوں بچوں کے ساتھ ریپ کا اعتراف کیا ہے جس کے بعد سے ملزم سے مزید تفتیش کی جانی ہے جبکہ متاثرہ بچوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہیں۔
عدالت نے ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا۔
ان دونوں ملزمان کو ٹیپو سلطان پولیس نے بچے کو اغوا کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مغوی بچے کے شور کرنے پر لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ ملزم کے خلاف محمود آباد، ٹیپو سلطان، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان صدوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو ایک لیببارٹری رپورٹ موصول ہوئی کہ سات ایسے کیسز ہیں جن میں بچوں کے ساتھ ریپ کی تصدیق کی گئی اور ان میں زیادتی کرنے والا ملزم ایک ہے، اس کو دیکھتے ہوئے ایک تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم سرجانی ٹاون سے ایک بچے کو زیادتی کی نیت سے اغوا کرکے لے جارہا تھا تو پولیس نے اس کو گرفتار کیا۔
’دوران تفتیش سی سی ٹی وی فوٹیج سے ان کی مشابہت ہوئی جس کے بعد متاثرین بچوں کو بلایا گیا جن میں سے تین بچوں نے ملزم کی شناخت کی۔‘
ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان صدوزئی کے مطابق ملزم کا ایک طریقہ کار تھا کہ وہ سنیچر کی شام چھ بجے سے رات بارہ بجے کے درمیان بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ملیر ندی لے جاتا اور ان کا ریپ کرتا تھا۔ یہ بچے دس سے چودہ سال کے لڑکے ہوتے تھے۔
ان کے مطابق ایک بچے کو موٹر سائیکل کا نمبر بھی یاد تھا جس کی بھی تحقیقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ گاڑی چوری کی تھی، ملزم بچوں کو مختلف لالچ دےکر راغب کرتا۔
پولیس تفتیش کے مطابق ملزم ملیر ندی کے قریب ایک کالونی کا رہائشی اور شادی شدہ ہے۔
پولیس کے مطابق کبھی ہفتے میں ایک بار تو کبھی پندرہ دن میں دو بار بچوں کو ورغلا کر لے جاتا اس وجہ سے پولیس کا اندازہ ہے کہ متاثرین کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس وقت تک نو مقدمات دائر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم پر پہلا مقدمہ سنہ 2020 اور آخری مقدمہ 2025 کو دائر کیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ چھ سالوں سے یہ کام کر رہا تھا، ملزم کا ڈی این اے لیا گیا ہے جبکہ متاثرین بچوں کی ڈی این اے رپورٹس پہلے سے موجود ہیں۔