ضمنی الیکشن: 21 حلقوں میں پولنگ کا وقت ختم اور گنتی شروع، نارووال میں ایک شخص کی ہلاکت پر رپورٹ طلب

پاکستان میں آج قومی و صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا وقت ختم اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی پی 54 نارووال میں پولنگ سٹیشن کے قریب ایک شخص ہلاک ہوا جس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ صاحب نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کی ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان میں آج قومی و صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا وقت ختم اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے
  • الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی پی 54 نارووال میں پولنگ سٹیشن کے قریب ایک شخص ہلاک ہوا جس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ صاحب نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کی ہے
  • ضمنی الیکشن کے دوران بعض حلقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی
  • پی ٹی اے کے مطابق ضمنی الیکشن کے دوران موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ ’انتخابی عمل کو بلاتعطل اور شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کیا گیا‘

لائیو کوریج

  1. صدر کے پارلیمان سے خطاب کے دوران ہنگامہ آرائی، دو ارکان کی رکنیت اجلاس کے خاتمے تک معطل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے جمعرات کو صدرِ پاکستان آصف زرداری کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران شور کرنے اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر دو اراکینِ اسمبلی جمشید دستی اور اقبال احمد خان کی رکنیت موجودہ سیشن کے خاتمے تک معطل کر دی ہے۔

    سپیکر نے اس ضمن میں ایوان کے سامنے اس بارے میں سوال رکھا اور ایوان سے منظوری کے بعد ان دونوں ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی۔

    اس سے قبل جمعے کو ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ریاست کے آئینی سربراہ کے خطاب کے دوران جو رویہ اختیار کیا گیا وہ شرمناک تھا۔

    خیال رہے کہ جمعرات کو صدر کے خطاب کے دوران تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران وہ شدید نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔

  2. بریکنگ, کراچی میں جاپانی شہریوں کی گاڑی پر خودکش حملہ، تین افراد زخمی, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    کراچی دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ جاپانی شہریوں کی گاڑی پر خودکش حملے اور فائرنگ کے واقعے میں دو حملہ آور ہلاک اور کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ واقعہ جمعے کی صبح لانڈھی میں مانسہرہ کالونی کے قریب پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جاپانی شہری ایک ویگن میں سوار تھے اور زم زمہ سے لانڈھی صنعتی پراسیسنگ زون جا رہے تھے۔

    ڈی آئی جی اظفر مہیسر نے جائے وقوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے جاپانی شہریوں کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا لیکن گاڑی ابھی کچھ فاصلے پر تھی اس لیے اس میں سوار غیرملکی محفوظ رہے۔

    ان کے مطابق خودکش حملہ آور کے ساتھی نے فائرنگ بھی کی جس پر جاپانی شہریوں کے ساتھ موجود محافظوں اور قریب موجود پولیس موبائل میں سوار اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس سے حملہ آور ہلاک جبکہ جاپانی شہریوں کا ایک محافظ اور دو راہ گیر زخمی ہوئے ہیں۔

    واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جاپانی شہریوں کو قریبی پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے ایک سب مشین گن اور دستی بموں سے بھرا بیگ بھی ملا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق شبہ ہے کہ حملہ آوروں نے غلط فہمی میں جاپانی شہریوں پر حملہ کیا ہے اور ان کا نشانہ چینی تھے ، ڈی آئی جی کے مطابق غیر ملکی شہریوں پر حملے کے خطرات موجود تھے اسی لیے انھیں پابند کیا گیا تھا کہ وہ سکیورٹی کے ساتھ سفر کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس واقعے پر آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ پولیس کی بروقت کارروائی بہترین اقدام تھا اور ملک دشمن عناصر امن و امان خراب کرنا چاہتے ہیں جس کی کسی قیمت اجازت نہیں دی جائے گی۔

  3. بریکنگ, بلوچستان میں کابینہ کی حلف برداری آج, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان میں عام انتخابات کے ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد نئی صوبائی کابینہ کی تقریب حلف برداری جمعہ کو ہو رہی ہے۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق کابینہ میں 14 وزرا شامل ہوں گے جو دوپہر 12بجے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں حلف اٹھائیں گے۔

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دو مارچ کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا اور ان کی حلف برداری کے بعد سے کابینہ کی تشکیل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

    بلوچستان میں اکثر مخلوط حکومتوں کے باعث کابینہ کی تشکیل میں ماضی بھی تاخیر ہوتی رہی ہے لیکن اس سے قبل اتنی طویل تاخیر نہیں ہوئی۔

    شاہد رند نے اس معاملے پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ کابینہ کی تشکیل کے فارمولے پر اتحادیوں میں اتفاق رائے موجود ہے تاہم ناگزیر وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد صدارتی انتخاب اور پھر سینیٹ کے انتخاب کا معاملہ آیا جس کے بعد وزیر اعلٰی کو اپنے بھائی کے طبی معائنے کے لیے ہنگامی طور پر بیرون ملک جانا پڑا یوں کابینہ کی تشکیل کا معاملہ طول پکڑتا گیا۔

  4. سڈنی شاپنگ مال حملہ: آسٹریلیا میں ’بہادری کا مظاہرہ‘ کرنے والے زخمی پاکستانی سکیورٹی گارڈ کو شہریت دینے پر غور

  5. پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پہلا ٹی 20: صرف دو گیندیں، ایک وکٹ اور کھیل ختم

    کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچ میچوں کی سیریز کے پہلا ٹی 20 میچ میں بارش کے باعث صرف دو گیندوں کا کھیل ہو سکا جس کے بعد میچ کو بے نتیجہ ختم کر دیا گیا۔

    راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا تاہم میچ شروع ہونے سے قبل ہی بارش شروع ہو گئی۔ میچ کا آغاز بھی بارش کے باعث تاخیر سے ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کئی گھنٹوں سے راولپنڈی میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور محکمہ موسمیات نے اس سلسلے کے جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

    کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بارش رکنے کے بعد میدان کو خشک کرکے میچ کو پانچ پانچ اوورز تک محدود کیا گیا تاہم ابھی میچ کی صرف دو گیندیں ہی کرائی گئی تھیں کہ بارش دوبارہ شروع ہوگئی جس پر میچ کو ختم کر دیا گیا۔

    میچ کی صرف دو گیندوں پر نیوزی لینڈ نے ایک وکٹ کے نقصان پر دو رنز بنائے، کیوی اوپنر ٹم رابنسن بغیر کوئی رن بنائے شاہین آفریدی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

    پاکستان کی جانب سے آج تین کھلاڑیوں عثمان خان، عرفان خان اور ابرار احمد نے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں اپنا ڈیبیو کیا۔

    cricket

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. بریکنگ, بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے تباہی، مزید سات افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہDC Chaman

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعرات کو بلوچستان کے 13 اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ صوبے کے سرحدی شہر چمن میں مختلف واقعات میں مزید سات افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد حالیہ بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر چمن راجہ اطہر عباس کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں سے چمن میں کلی ٹاکئی، بوستان، رحمان کہول ، بائی پاس ، گلدارہ باغیچہ، محمود آباد اور روغانی میں گھروں کو نقصان پہنچا اور مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں سے تین خواتین اور دو بچے شین تالاب کے علاقے میں طغیانی کے باعث بہہ گئے جبکہ رنگین چوک کے علاقے میں دو خواتین کی موت واقع ہوئی۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق چمن میں گرڈ سٹیشن میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی ہے۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق اس سے قبل بارشوں کے حالیہ سلسلے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے پانچ کی موت آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے ہوئی۔

    ادھر ساحلی ضلع گوادر کے مختلف علاقوں میں بارش کے پانی کا نکاس نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے جس کے خلاف پسنی اور گوادر شہر میں لوگوں نے احتجاج بھی کیا جبکہ پسنی میں حکام کے مطابق 90 کے قریب کشتیاں سمندر میں ڈوب گئی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق بارشوں کے باعث چمن، گوادر ، نوشکی اور چاغی اور کوئٹہ کے متعدد علاقوں میں صورتحال سنگین ہے۔

    گوادر کے شہر پسنی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ساجد نور نے بتایا کہ پسنی شہر سے بارش کے پانی کے اخراج کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاسی آب کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے خلاف شہر میں لوگوں نے بطور احتجاج کوسٹل ہائی وے کو بند کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ احتجاج میں گوادر سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے بھی شرکت کی۔ ساجد نور کے مطابق پسنی میں ماہی گیروں کے سو کے قریب کشتیاں بھی سمندر برد ہوگئیں جبکہ اس سے زیادہ کشتیوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہDC Chaman

    رابطہ کرنے پر تحصیلدار پسنی اکبر علی بلوچ نے بتایا کہ آج شادی کور ڈیم سے آنے والا پانی پسنی میں داخل ہوگیا جس سے ماہی گیروں کی کشتیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ماہی گیروں کے مطابق 80سے 90 کے قریب کشتیاں ڈوب گئی ہیں تاہم ابھی تک ان کی صحیح تعداد کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پسنی کے نشیبی علاقوں میں 35کے لگ بھگ گھر گر چکے ہیں۔ علی اکبر بلوچ کا کہنا تھا شہر سے بارش کے پانی کے اخراج کے لیے کوششیں جاری ہیں، توقع ہے کہ رات تک پانی کو نکالنے کا عمل مکمل ہوگا۔

    پسنی کے علاوہ گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کے پانی کو نکالنے کے لیے اقدامات نہ ہونے کے خلاف بھی لوگوں نے احتجاج کیا۔ گوادر سے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے پسنی ، اورماڑہ ، جیونی سمیت گوادر کے شہری اور دیہی علاقوں میں بارش کا پانی کھڑا ہے جس سے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پانی کو نکالنے اور اس حوالے سے لوگوں کو مشکلات کو کم کرنے کے لیے حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جو اقدامات ہونے چائیے تھے وہ نہیں ہورہے ہیں۔

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہDC Chaman

    جمعرات کو بارشوں کے باعث کوئٹہ میں سریاب کے بعض علاقے زیر آب آگئے جن کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلع پشین اور قلعہ سیف اللہ کے مختلف علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی جس سے فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کے کنٹرول روم کے مطابق گوادر،پنچگور،کیچ،نوشکی کے کچھ علاقوں میں اربن فلڈنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم مجموعی صورتحال کنٹرول میں ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ گوادر،کیچ پنچگور اور چاغی،نوشکی متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں اورِنکاسی آب آپریشن میں مصروف عمل ہے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی طرف سےریسکیو ٹیمیں،کشتیاں و دیگر ضروری سامان ضلع نوشکی کے لیے بھجوائی گئی ہیں تاکہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو بروقت ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے۔

    پی ڈی ایم اے کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی سامان کے ترسیل کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مشکل کی گھڑی میں متاثرین تک بروقت امدادی سامان پہنچ پائیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعہ کے روز بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔ متوقع بارش و سیلابی صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے کی طرف سے تمام اضلاع کے انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت سے بروقت نمٹا جا سکے اور ان کے خطرات کو کم کیا جا سکیں۔

  7. ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹم انٹیلیجنس کی گاڑی پر فائرنگ، پانچ اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک, عزیزاللہ خان، نامہ نگار بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پحتونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب سگو کے مقام پر نا معلوم افراد نے کسٹم انٹیلیجنس کے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس میں پانچ کسٹم اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی سہہ پہر 4 بجے کے قریب پیش آیا ہے۔ کسٹم انٹیلی جنس کے اہلکار ڈیوٹی کے بعد درابن سے ڈیرہ اسماعیل خان کی جا رہے تھے جب مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

    پولیس کے مطابق کسٹم انٹیلیجنش کی گاڑی مخالف سمت سے آنے والی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی ہے جس میں سوار ایک بچی اور ایک نوجوان بھی اس واقع میں ہلاک ہوئے ہیں۔ کسٹم انٹیلیجنس کی گاڑی میں پانچ اہلکار سوار تھے جو اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں پولیس کے اہلکاروں نے بتایا کہ انٹیلیجنس افسر اسلام خان، اکبر زمان حوالدار، عنایت اللہ حوالدار، شہاب علی سپاہی اور افتخار عالم سپاہی شامل ہیں۔

    درابن پولیس کے اہلکاروں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد انسپکٹر اور دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے ہیں جہاں تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ مسلح افراد اس کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اس حملے کی زمہ داری تاحال کسی گروہ یا تنظیم کی جانب سے نہیں لی گئی۔

    یہ واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان درابن روڈ پر پیش آیا ہے اور اس روڈ پر اس سے پہلے بھی تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ درابن میں گزشتہ سال دسمبر میں شدت پسندوں نے پولیس تھانے کے قریب سیکیورٹی فورسز کی کیمپ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی اور فائرنگ کی تھی جس سے میں حکام کے مطابق 23 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد اس علاقے میں چودھوان کے مقام پر ایک پولیس تھانے پر سنائپر گنز سے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا تھا جس میں 10 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا تھا۔

    انسداد دہشت گردی کے محکمے کے مطابق گزشتہ سال اور اس سال اب تک تشدد کے سب سے زیادہ واقعات خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے مضافات میں پیش آئے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور ان واقعے کی سخت الفاظ میںمذمت کی ہے اور اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہارکیا ہے۔ وزیر اعلی نے پولیس حکام کو واقعے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

  8. آپوزیشن کے شور شرابے میں پارلیمنٹ کا پہلا مشترکہ اجلاس: ’ملک کو درپیش مُشکلات میں ہم اختلاف لے کر نہیں چل سکتے‘ صدر آصف علی زرداری

    Zardari

    ،تصویر کا ذریعہ@NAofPakistan

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام لوگوں اور صوبوں کے ساتھ یکسان سلوک ہونا چاہیے، آج میری رائے میں آج ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا وقت ہے۔‘

    صدر کا مزید کہنا تھا ’اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کرنے اور عوامی ضروریات پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔‘

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی، وزیراعظم شہباز شریف، آصفہ بھٹو زرداری، بلاول بھٹو زردرای بھی ایوان میں موجود تھے۔

    اس کے علاوہ مختلف ممالک کے سفیر بھی بطور مہمان قومی اسمبلی میں موجود تھے، تاہم اس دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پوسٹر اٹھائے ایوان میں پہلے تو بیٹھے دیکھائی دیے مگر چند ہی لمحات کے بعد ان تمام ارکان نے سپیکر قومی اسمبلی کے ڈائس کا گھراؤ کرنے کی کوشش کی بلکہ صدرِ مملکت کے خطاب کے دوران شدید نعرے بازی کی۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف زرداری نے سیاسی جماعتوں کو مفاہمت کی تجویز دیتے ہوئے اختلافات مل بیٹھ کر حل کرنے کا مشورہ دیا۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ ’پہلے پارلیمانی سال کے آغاز پر تمام معزز مہمانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘

    صدر آصف زرداری نے کہا کہ ’درپیش مشکلات میں ہم اختلافات لے کر نہیں چل سکتے،ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے، ملک کو حالیہ سیاسی بحران سے نکالنا ہوگا، ہمیں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے،مل کر آگے بڑھیں گے تو جمہوریت مضبوط ہوگی۔‘

    صدر نے کہا کہ ’ہمیں عوام کی ترجیحات کو پورا کرنا ہو گا، ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے تقسیم سے نکلنا ہو گا، پارلیمانی نظام پر اعتماد کے لیے دونوں ایوانوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔‘

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر زرداری نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، عوام کے لیے صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا، ہم فوڈ سکیورٹی کی طرف جا رہے ہیں، ہماری پاس خوراک کی کمی ہے، موسمیاتی اثرات کے باعث ہماری آمدن کم ہو رہی ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان مؤثر روابط کو بڑھانا ہو گا۔‘

    صدر زرداری نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’ہم دہشت گرد عناصر کو ختم کریں گے، افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فخر ہے،جنھوں نے قوم کے دفاع میں قربانیاں دیں۔‘

    اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ’زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، آبی و سمندری حیات،ٹیکسٹائل کے شعبوں میں موجود بے پناہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جانا چاہیے۔‘

    صدر کا اپنے خطاب میں مزید کہا تھا کہ ’دہشت گردی سے ہماری قومی سلامتی، علاقائی امن و خوشحالی کو خطرہ ہے۔ پاکستان دہشت گردی کو ایک مشترکہ خطرہ سمجھتا ہے اور دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ ہم پڑوسی ممالک سے دہشت گرد گروہوں کا سختی سے نوٹس لینے کی توقع رکھتے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’دہشت گرد گروہ ہماری سیکورٹی فورسز اور عوام کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔‘

    صدرِ مملکت نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کیا۔

    صدرِ مملکت نے اپنے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے اختتام پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر اور فلسطین کا بھی ذکر کیا اور دونوں جانب عالمی دُنیا کی توجہ مبزول کرواتے ہوئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

  9. ’حکومتِ پاکستان کے خدشات کو سمجھنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں‘ ایکس

    X

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں فروری سے تعطل کے شکار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹویٹر) نے بدھ کے روز پاکستانی وزارتِ داخلہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی جانے والی تحریری رپورٹ پر بیان جاری کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی جانب سے اپنے ہی پلیٹ فارم پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ حکومتِ پاکستان کے خدشات کو سمجھنے‘ کے لئے حکومت کے ساتھ مل کر کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    یہ مختصر بیان ایکس کے گلوبل گورنمنٹ افیئرز نے بدھ کی رات دیر گئے جاری کیا، جو پاکستان میں اس سوشل میڈیا پلٹ فارم کی بندش یا اس تک رسائی میں صارفین کو پیش آنے والی مُشکلات کے بعد سامنے آنے والا پہلا تبصرہ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستانی وزارتِ داخلہ کی ایکس سے متعلق رپورٹ

    واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ کے روز پاکستانی وزارتِ داخلہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کے خلاف درخواست پر رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرواتے ہوئے درخواست کو خارج کرنے کی استدعا کی تھی۔

    وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی جانے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’ایکس پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی پاکستانی قوانین کی پاسداری کے معاہدے کا شراکت دار جب کہ ایکس نے پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متعلق حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری بھی نہیں کی، حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہ ہونے پر ایکس پر پابندی لگانا ضروری تھی۔‘

    وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ’ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ’ایکس‘ سے چیف جسٹس کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس پر پابندی کی درخواست کی تھی مگر ایکس حکام نے سائبر کرائم ونگ کی درخواست کو نا صرف نظر انداز کیا بلکہ اس کا کوئی جواب تک نہیں دیا، عدم تعاون پر ایکس کے خلاف ریگولیٹری اقدامات بشمول عارضی بندش کا جواز ہے اور حکومت کے پاس ایکس کی عارضی بندش کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی درخواست پر وزارت داخلہ نے ایکس کی بندش کے احکامات جاری کیے تھے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایکس کی بندش کا فیصلہ قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا، شدت پسندانہ نظریات اور جھوٹی معلومات کی ترسیل کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جارہا ہے، چند شرپسند عناصر کی جانب سے امن و امان کو نقصان پہنچانے کیلئے ایکس کو استعمال کیا جارہا ہے، عدم استحکام کو فروغ دینے کیلئے ایکس کو بطور آلہ استعمال کیا جارہا ہے، ٹک ٹاک کے پاکستانی قانون کی پاسداری کے معاہدے پر دستخط کے بعد پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا۔

    بدھ کے روز وزارت داخلہ نے ایکس کی بندش کے خلاف درخواست کو خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایکس کی بندش آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف وزری نہیں ہے۔

  10. اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت کا نقشہ تبدیل، صحافیوں پر عمران خـان سے سوال کرنے پر بھی پابندی عائد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اڈیالہ جیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت کے لیے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کمرہ عدالت کے نقشے کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے اس کمرے میں سیکورٹی انتظامات کو بھی سخت کر دیا گیا ہے۔

    کمرہ عدالت میں تین شیشے اور لکڑی کی دیواروں کی اونچائی نو فٹ کر دی گئی ہے۔ میڈیا باکس میں کوریج کے لیے نئے ایس او پیز کا حکم نامہ چسپاں کر دیا گیا اور ایس او پیز کے مطابق میڈیا بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وکلا سے کمرہ عدالت میں سوال نہیں کر سکے گا۔

    ایس او پیز کے مطابق سوال کرنے والے میڈیا نمائندگان کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا۔ سوال کرنے والے میڈیا نمائندگان پر دوبارہ جیل داخلے پر پابندی ہو گی۔

    میڈیا باکس میں کیمرہ بھی نصب کر دیا گیا ہے۔

    جیل حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جیل کو سیکیورٹی تھریٹ ملنے کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت جمعرات کو ہو گی۔

  11. ہر سطح پر ججز کو کھلے عام ہراساں کر کے عدالتوں کو کینگرو کورٹس میں بدلا جارہا ہے: تحریک انصاف

    Judge

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ہر سطح پر ججز کو کھلے عام ہراساں کرکے عدالتوں کو کینگرو کورٹس میں بدلا جارہا ہے۔

    ترجمان تحریک انصاف نے راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے ایک جج کے خلاف حکومتی ریفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اہلِ طاقت، ان کی باج گزار انتظامیہ اور ان کی کٹھ پتلی سیاسی اشرافیہ باہم یکجا ہوکر عدل کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے میں مصروف ہیں۔‘

    ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ سے لیکر ذیلی عدالتوں تک ہر سطح کے ججز کو کھلے عام ہراساں کرکے عدالتوں کو کینگرو کورٹس میں بدلا جارہا ہے۔

    ترجمان کے مطابق سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنان کے مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز جس سطح پر بھی ریاست کے خفیہ ایجنٹوں کی ’ڈکٹیشن‘ کی بجائے قانون کی روشنی میں فیصلوں پر اصرار کرتے ہیں انھیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    ترجمان کے مطابق خفیہ آڈیو ویڈیوز، ریفرنسز، الزام و دشنام کی ریاستی مہمات اور اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے خلاف اغوا و تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرکے ججوں کو خوف کی نکیل ڈالی جارہی ہے۔

    ترجمان نے اپیل کی کہ وکلا برادری خصوصاً نمائندہ تنظیمات اور بار کونسلز عدلیہ کی تباہی کے اس منظم سلسلے کی راہ روکنے کے لیے آگے آئیں۔

  12. رواں ماہ مزید بارشوں کا امکان ہے، پہاڑی علاقوں کی طرف سفر سے گریز کریں: محکمہ موسمیات, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو

    بارش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رواں ماہ پاکستان کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کے مطابق ملک بھر میں 17 تا 22 اپریل تک بارشوں کے امکانات موجود ہیں جبکہ 25 تا 29 اپریل کے دوران بارش کا دوسرا سپیل شروع ہو گا۔ پیش گوئی کے مطابق بارش کے ساتھ تیز ہواؤں کے ساتھ ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر کے طور پر خطرے سے دوچار پہاڑی علاقوں کی طرف سفر اور برساتی ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں۔

    بجلی کے کھمبوں، کمزور انفراسٹرکچر سے دور رہیں۔

  13. صدرمملکت آصف زرداری آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے

    Asif Zardari

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام چار بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔ ترجمان قومی اسمبلی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت آصف علی زرداری خطاب کریں گے۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر مملکت ہر سال پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہیں۔ صدر مملکت کا خطاب کا جہاں ایک قانونی پہلو ہے وہیں یہ ایک پارلیمانی روایت کی صورت بھی اختیار کر چکا ہے۔

    اس خطاب کو سننے کے لیے اہم آئینی، انتظامی اور عسکری شخصیات بھی مدعو کی جاتی ہیں۔

    ماضی میں متعدد بار ایسا بھی ہوا کہ جب صدر مملکت پارلیمنٹ سے خطاب کرنے آئے تو اپوزیشن جماعتوں نے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

    اس اجلاس میں کون کون مدعو ہے؟

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان، صوبائی گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو شرکت کے دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔

    مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی سمیت تینوں سروسز چیفس کو خصوصی دعوت دی گئی ہے۔

    مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر، گورنر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

    مشترکہ اجلاس میں چاروں صوبائی سپیکرز، سپیکر آزاد جموں کشمیر اور سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ مشترکہ اجلاس کی کوریج کے لیے میڈیا کے نمائندوں کو بھی خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے۔

    مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے کے لیے خصوصی دعوت نامے کا ہونا ضروری ہے۔

  14. بشریٰ بی بی کی بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقلی کا مقدمہ سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    عمران خان، بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالا کی سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے سے متعلق مقدمے پر پیر کو سماعت ہو گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ سے بشریٰ بی بی کی بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقلی کی عدم پیروی پر خارج کی گئی تھی۔ اس درخواست کو اب دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔

    سرکاری وکیل عبد الرحمٰن نے بھی بشریٰ بی بی کی درخواست بحالی کی مخالفت نہیں کی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’سب جیل کے لوازمات کیا ہیں آئیندہ سماعت پیر کو عدالت کی معاونت کی جائے۔‘

    بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل عثمان ریاض گل جبکہ سرکاری وکیل عبد الرحمٰن پیش ہوئے۔ گذشتہ سماعت پر عدالت نے عدم پیروی پر بشریٰ بی بی کی درخواست خارج کردی تھی۔

    بشریٰ بی بی کے وکلا نے درخواست بحال کرنے کے لیے دوبارہ متفرق درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے مرکزی درخواست پیر کو مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

  15. وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے کی ڈونلڈ لو سمیت امریکی عہدیداران سے ملاقات، معاشی تعاون پر تبادلہ خیال

    @Financegovpk

    ،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے کی امریکا کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو اور امریکی محکمہ خارجہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری الزبتھ ہورسٹ سے ملاقات ہوئی، جس میں پاک امریکا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے واشنگٹن کے عزم کا اعادہ کیا۔

    پاکستان کی وزارت خزانہ کے مطابق یہ ملاقات ورلڈ بینک ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں وزیر خزانہ نے امریکی عہدیداران کو پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر بریفنگ دی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس کی بنیادکو وسیع، توانائی کے شعبےکو ہموار اور نجکاری ترجیح ہے۔

    ملاقات میں متبادل توانائی، زراعت، آب وہوا اور ٹیک انڈسٹری کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی، وزیرخزانہ نے پاک امریکا اقتصادی شراکت داری کو اپ گریڈ کرنے پر بھی زور دیا۔

    وزیرخزانہ نے آئی ٹی، زراعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر بھی گفتگو کی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ساتھ مل کر کام کرے گا، پاکستان ایگزم بینک کے ساتھ بھی کام کرے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. حکومت تبدیلی سے متعلق سعودی عرب کے کردار پر شیر افضل مروت کا بیان حقائق سے منافی ہے: تحریک انصاف

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کے حکومت تبدیلی میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے خیالات سے اعلان لاتعلقی کردیا ہے۔

    گذشتہ روز شیر افضل مروت نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو ممالک امریکا اور سعودی عرب کے تعاون سے رجیم چینج آپریشن ہوا ہے۔ انھوں نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عزم کو بھی اس سلسلے کی کڑی قرار دیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ایما پر بطور مرکزی ترجمان شیر افضل مروت کے رجیم چینج آپریشن میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں پیش کردہ خیالات کو حقائق سے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے ان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔‘

    ترجمان کے مطابق شیرافضل مروت کے خیالات پاکستان تحریک انصاف کی حکمتِ عملی یا مؤقف کی کسی طور پر بھی نہ تو غمازی کرتے ہیں نہ انھیں حقیقت پر مبنی بیان سمجھتے ہیں۔

    ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق یہ مکمل طور پر ان کی ذاتی رائے تو ہوسکتی ہے جسے کسی سطح پر بھی پاکستان تحریک انصاف کی قیادت یا کارکنان کی تائید و توثیق حاصل نہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا شمار پاکستان کے نہایت قریبی اور بااعتماد برادر اسلامی ممالک میں ہوتا ہے جس کی حکومت اور عوام سے پاکستان کے تعلقات کو بانی چیئرمین عمران خان، پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کے مابین باہم احترام، اعتماد اور برادرانہ اخوت کا رشتہ قائم ہے جسے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان نہایت اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ کثیرالجہتی مفادات کے امین اور لائقِ تحسین ہیں۔

    پی ٹی آئی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ماضی اور حال کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے مابین قریبی اشتراک اور بھائی چارے کے فروغ کی خواہاں ہے اور اس ضمن میں بطور جماعت اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

    شیر افضل مروت نے اپنے بیان کی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ ان کی ذاتی رائے ہے اور انھوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس موقف کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے۔

  17. ’اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو عاصم منیر کو نہیں چھوڑوں گا‘: عمران خان

    بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ’گذشتہ سماعت پر جنگل کے بادشاہ کا نام لیا تھا تو آج عدالت میں اضافی شیشے لگا کر دیواریں بنا دی گئی ہیں، ملک میں جنگل کا قانون ہے اور یہ سب جنگل کا بادشاہ کروا رہا ہے۔‘

    ایکس پر عمران خان کے ہینڈل اور تحریک انصاف کی طرف سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جنگل کا بادشاہ چاہتا ہے تو نواز شریف کے تمام کیسز معاف ہو جاتے ہیں اور جب چاہتا ہے تو پانچ دن میں ہمیں تین، تین کیسز میں سزا دے دی جاتی ہے-

    عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ’جنرل عاصم منیر میری بیوی کو سزا دلوانے میں براہ راست ملوث ہے-‘

    ان کے مطابق جج کہتا ہے کہ میری کنپٹی پر گن رکھ کر فیصلہ کروایا گیا- اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو عاصم منیر کو نہیں چھوڑوں گا، جب تک زندہ ہوں عاصم منیر کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، اس کے غیر آئینی اور غیرقانونی اقدامات کو بے نقاب کرتا رہوں گا-‘

    عمران خان نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے نہیں سرمایہ کاری سے معیشت مستحکم ہو گی-

    ان کے مطابق ’جنگل کے قانون کے باعث ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی-‘

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کا آنا اچھی بات ہے لیکن سرمایہ کاری کے لیے ملک میں Rule of Law ہونا لازم ہے-

    عمران خان نے کہا کہ بہاول نگر میں قانون توڑ کر پولیس کو پھینٹا لگایا گیا، لیکن ہمارے لوگوں پر ظلم کرنے والے آئی جی اور وائسرائے نے پھینٹی لگانے والوں سے ہی معافی مانگ لی۔ ان کے مطابق ’وائسرائے نے کہا کہ ’یہ ہمارے بھائی ہیں‘، ایسا سلوک بھائیوں سے نہیں غلاموں سے کیا جاتا ہے، طاقتور نے پھینٹا بھی لگوایا اور معافی بھی منگوائی-

    عمران خان نے الزام عائد کیا ہے ’ہمارے لوگوں کو ضمنی الیکشن میں بھی روکا جا رہا ہے- اس وقت ظلم کے سامنے کھڑا ہونا جہاد ہے- ہمارے کارکنان نے ایک ایک ووٹ کی حفاظت کرنی ہے، ووٹ پر پہرہ دینا ہے-‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام