یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
وفاقی وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی بندش کے حوالے سے جمع کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس پلیٹ فارم نے غلط استعمال کی روک تھام سے متعلق حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہیں کی جس کے باعث اس پر پابندی لگانا ضروری تھا۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کے خلاف درخواست پر رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرواتے ہوئے درخواست کو خارج کرنے کی استدعا کر دی ہے۔
وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی جانے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’ایکس پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی پاکستانی قوانین کی پاسداری کے معاہدے کا شراکت دار جب کہ ایکس نے پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متعلق حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری بھی نہیں کی، حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہ ہونے پر ایکس پر پابندی لگانا ضروری تھی۔‘
وزارت داخلہ نے اپنی رپورٹ میں ’درخواست کو خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست گزار کا کوئی بنیادی حق سلب نہیں ہوا، ایکس کی بندش کے خلاف درخواست قانون و حقائق کے منافی ہے اور ناقابل سماعت ہے۔‘
وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ’ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ’ایکس‘ سے چیف جسٹس کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس پر پابندی کی درخواست کی تھی مگر ایکس حکام نے سائبر کرائم ونگ کی درخواست کو نا صرف نظر انداز کیا بلکہ اس کا کوئی جواب تک نہیں دیا، عدم تعاون پر ایکس کے خلاف ریگولیٹری اقدامات بشمول عارضی بندش کا جواز ہے اور حکومت کے پاس ایکس کی عارضی بندش کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی درخواست پر وزارت داخلہ نے ایکس کی بندش کے احکامات جاری کیے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکس کی بندش کا فیصلہ قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا، شدت پسندانہ نظریات اور جھوٹی معلومات کی ترسیل کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جارہا ہے، چند شرپسند عناصر کی جانب سے امن و امان کو نقصان پہنچانے کیلئے ایکس کو استعمال کیا جارہا ہے، عدم استحکام کو فروغ دینے کیلئے ایکس کو بطور آلہ استعمال کیا جارہا ہے، ٹک ٹاک کے پاکستانی قانون کی پاسداری کے معاہدے پر دستخط کے بعد پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا۔
وزارت داخلہ نے ایکس کی بندش کے خلاف درخواست کو خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایکس کی بندش آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف وزری نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں بدھ کے روز سونے کی قیمت میں 2200 روپے فی تولہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد سونے کی قیمت ملکی تاریخ میں پہلی بار 250000 روپے فی تولہ کی سطح عبور کر کے 251900 روپے فی تولہ کی سطح پر بند ہوئی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت میں گزشتہ کئی ہفتوں سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
دس گرام سونے کی قیمت میں 1887 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد دس گرام سونے کی قیمت 215964 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو اس وقت 2391 ڈالر فی اونس کی قیمت پر موجود ہے۔
سونے کی تجارت کے شعبے کے ماہر احسن الیاس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ بین الاقوامی حالات ہیں۔ انھوں نے کہا امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک کی جانب سے اس سال شرح سود میں کمی کی توقع ہے جس کا اثر سونے کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔
احسن الیاس نے کہا اس شرح سود میں کمی کا مطلب ہے کہ ڈالر کمزور ہو گا اور سونے کی قیمت میں اضافہ ہو گا اور اسی امکان کی بنیاد پر سونے کی قیمت بین الاقوامی میں اوپر گئی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل فلسطین تنازعہ اور اس کے بعد اب ایران کی جانب سے حملے کے بعد کشیدگی کی وجہ سے بھی قیمت اوپر گئی ہے کیونکہ اس صورتحال میں سونے کو زیادہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس کے آغاز پر وزیرِ اعظم نے ابتدائی گفتگو میں کہا کہ ’سعودی وفد کے دورے کے نتیجے میں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی وفد پاکستانی وزرا اور حکام کی تیاری سے متاثر ہوا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود نے اس کا برملا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مشکور ہیں کہ میرے حالیہ دورے کے بعد ان کی خصوصی دلچسپی کے تحت سعودی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ اگر ہم اسی طرح محنت کرتے رہے تو پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور معاشی استحکام کے اہدف جلد حاصل کر لیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہUS STATE DEPT
امریکا نے پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان سٹاف لیول معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پیش رفت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرضوں کے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب امریکا کے دورے پر ہیں، جہاں وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے زیر اہتمام اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
امریکی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی کامیابی کے لیے ہماری حمایت غیر متزلزل ہے، معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقتصادی اصلاحات کو ترجیح دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
میتھیو ملر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تکنیکی معاہدوں کے ساتھ تجارتی، سرمایہ کاری کے ذریعے رابطے جاری رکھیں گے۔ یہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کی ترجیحات ہیں۔
خیال رہے کہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کی معاونت کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ کئی ارب ڈالر قرض کے نئے معاہدے پر بات چیت شروع کر دی ہے اور پاکستان عالمی ادارے سے کم از کم تین سالہ پروگرام کی درخواست کرے گا۔
وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کا نو ماہ پر محیط تین ارب ڈالر کا قرض پروگرام اختتام کے قریب ہے۔ ان کے مطابق ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرات کو دیکھتے ہوئے اس پروگرام کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس معاہدے کی 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط اس ماہ کے آخر میں منظور ہونے کا امکان ہے اور پاکستان نے اربوں ڈالر کے ایک نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے بات چیت شروع کر دی ہے۔
محمد اورنگزیب رمدے کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کا اعتماد اور اتار چڑھاؤ پہلے سے بہت زیادہ بہتر شکل میں ہے اور اسی کے پیش نظر ہم نے اس ہفتے کے دوران فنڈ کے ساتھ ایک وسیع پروگرام کے لیے بات چیت شروع کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGOVT OF PAKISTAN
قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانہ گاڑیوں سے متعلق ریفرنس میں کلین چٹ دے دی ہے۔
نیب نے احتساب عدالت سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بری قرار دینے کی استدعا کر دی ہے۔ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے صدر مملکت آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ گاڑیوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت کی۔
دوران سماعت نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو شامل تفتیش کرنے سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی۔
رپورٹ میں نیب کا کہنا تھا کہ سنہ 1997 میں سعودی عرب حکومت کی جانب سے گاڑی اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو تحفے میں دی گئی۔ نواز شریف نے تحفے میں ملی گاڑی کو توشہ خانہ میں جمع کروا دیا۔
بعد ازاں تحفے میں ملی گاڑی کو وفاقی ٹرانسپورٹ پول میں شامل کر لیا گیا تھا۔
سنہ 2008 میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے نواز شریف کو گاڑی خریدنے کی آفر کی۔ نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے گاڑی توشہ خانہ سے نہیں بلکہ وفاقی ٹرانسپورٹ پول سے خریدی۔
نیب کے مطابق نواز شریف نے گاڑی کی قیمت کی ادائیگی جعلی بینک اکاؤنٹ سے نہیں کی۔
نواز شریف کو جب گاڑی تحفے میں ملی تب انھوں نے گاڑی کو توشہ خانہ میں جمع کرایا۔ جب خریدی تو اس وقت گاڑی توشہ خانہ کا حصہ نہیں تھی۔
نیب نے رپورٹ میں استدعا کی ہے کہ عدالت نواز شریف کو توشہ خانہ ریفرنس سے خارج یا بری قرار دے سکتی ہے۔
دوران سماعت نواز شریف کی جانب سے ان کے پلیڈر رانا محمد عرفان جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور انور مجید کی جانب سے ارشد تبریز ایڈووکیٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
وکیل ارشد تبریز نے موقف اپنایا کہ آصف علی زرداری کو پانچ سال کے لیے صدارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ شریک ملزمان عبدالغنی مجید اور انور مجید پر بھی کیس نہیں چل سکتا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر اس کو دیکھ لیتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت سات مئی تک ملتوی کردی۔
الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر سکندر جناب سلطان راجہ کی قیادت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے معائنہ اور انتخابی مراحل میں اس کے استعمال کے امکانات و ممکنات کا جائزہ لینے کے لیے برازیل کا دورہ کیا۔
واضح رہے کہ اس وقت دنیا میں کئی ممالک انتخابی مراحل میں ای وی ایم کا جزوی طور پر استعمال کر رہے ہیں تاہم برازیل اور انڈیا دو ایسے ممالک ہیں جہاں پر ای وی ایم کا استعمال ملکی سطح پر کیا جا رہا ہے۔
اس حقیقت کے پیش نظر کہ برازیل کا انتخابی نظام دنیا کے بہترین اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جدید ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کے حکام نے برازیل کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان کے تین روزہ دورے کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت چیف الیکشن کمشنر جناب سکندر جناب سلطان راجہ نے کی جبکہ وفد میں صوبائی الیکشن کمشنر (پنجاب) اعجاز انور چوہان، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی خضر عزیز اور ڈائریکٹر ندیم زبیر شامل تھے۔
پاکستانی وفد نے دورے کے دوران برازیل میں الیکشن کے انتظام و انصرام کے ذمہ دار ادارے ’ٹربیونل سپیرئر الیکٹورل (ٹی ایس ای) کے مختلف شعبوں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کیں۔
ان ملاقاتوں میں برازیلین الیکشن حکام نے پاکستانی وفد کو برازیل میں مروجہ و مستعمل انتخابی نظام، اس کے مختلف مراحل اور اس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال پر تفصیلی بریفنگز دیں۔

،تصویر کا ذریعہX/ALIAMIN
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں پیشی کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف تمام تر کیسز جھوٹے ہیں۔
علی امین نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ لوگ بتا رہے ہیں کہ اگر ایک پارٹی میں رہے تو فارم 45 کو فارم 47 میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’قوم اور ملک کو اندھیروں میں نہ دھکیلیں۔‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’پی ڈی ایم ون کے بعد اب پی ڈی ایم ٹو سے ملک و قوم پر تجربے کرنا بند کریں۔‘
ان کے مطابق ’بانی پی ٹی آئی نے کہا میں پاکستان کی خاطر ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں۔ لیکن جب بیٹھنے کا وقت تب یہ لوگ پکڑ دھکڑ کر رہے تھے جبکہ مینڈیٹ بھی ہمارا چوری ہوا ہے۔‘
علی امین کے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کی حکومت ٹک ٹاک پر چل رہی ہے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے نو مئی کے مقدمات کی مزید سماعت سے معذرت کرلی ہے۔
جج ملک اعجاز تحریک انصاف کے رہنماؤں کے نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق مقدمات کی سماعت کر رہے تھے۔
آج سماعت سے قبل ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا معزز جج کے خلاف ریفرنس دائر ہوچکا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز اور شہریار آفریدی عدالت میں پیش ہوئے۔ زرتاج گل، شیریں مزاری، راجہ بشارت، شیخ رشید اور زین قریشی بھی نو مئی کے مقدمات میں عدالت پیش ہوئے۔ عدالت نے نو مئی کے مقدمات کی سماعت بغیر کارروائی کے 30 اپریل تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ارکان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیے ہیں۔ یہ دونوں اراکین گجرانوالہ اور لودھراں سے منتخب ہوئے تھے۔
تحریک انصاف کے ایک کارکن کے ایک امیدوار کی درخواست پر عدالت نے ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے رکن کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جیل میں قید سینیئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 130 سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی کامبیابی کے نوٹیفکیشن کو بھی لاہور ہائیکورٹ میں چینلج کر دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے منگل کو این اے 81 گجرانوالہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے اظہر قیوم ناہرا کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کے خلاف تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار چوہدری بلال اعجاز کی درخواست منظور کی ہے۔ خیال رہے کہ اظہر قیوم ناہرا نے صدارتی انتخابات میں رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے ووٹ بھی کاسٹ کیا تھا۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انھیں ابتدائی نتائج میں 7791 ووٹوں سے کامیاب قرار دیا گیا تھا مگر پھر الیکشن کمیشن کی طرف سے دوبارہ گنتی کے بعد انھیں 3100 ووٹوں سے ناکام قرار دیا گیا۔
ان کے مطابق اس گنتی کے دوران ان کے 1000 ووٹ مسترد بھی کیے گئے۔
لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بینچ نے لودھراں سے ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی عبدالرحمان کانجو کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے این اے 154 سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ رانا فراز نون کو کامیاب قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 264ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں مسلح افواج کے خلاف ’بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم پر اظہار تشویش کیا گیا۔‘
بیان کے مطابق ’کانفرنس کے شرکا نے شہدا کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ آرمی چیف نے متعدد دہشتگردانہ حملوں کو ناکام بنانے پر پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سراہا۔‘
’آرمی چیف نے کمانڈرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو کسی بھی جگہ سے فعال نہ ہونے دیں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔ مسلح افواج پاکستان سے دہشت گردی کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے بشام میں چینی شہریوں پر حملے اور بلوچستان میں معصوم شہریوں کے قتل کی مذمت کی۔
فورم کے شرکا نے ’مسلح افواج کی حوصلہ شکنی کے لیے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز پر بے بنیاد الزامات ایک وطیرہ بن چکا ہے۔ بے بنیاد الزامات کا مقصد عوام اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے۔‘
’شرکا فورم نے کہا کہ ہم ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ فورم نے پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا عزم کیا، غیر قانونی سپیکٹرم، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کے خلاف تعاون فراہم کرنے کا عزم بھی کیا۔‘
آرمی چیف نے فیلڈ کمانڈرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپریشنل تیاری اور مورال کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنائیں اور تربیت کے اعلیٰ معیار کے ذریعے پیشہ ورانہ مہارت حاصل کریں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے موجودہ مالی سال میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 24.8 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 12.7 فیصد تک گرنے کی پیش گوئی کی ہے عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کے معاشی اشاریوں کے بارے میں اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح دو فیصد تک رہنے کی توقع ہے جو اگلے مالی سال میں 3.5 فیصد ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس مالی سال میں جی ڈی پی کا 1.1 فیصد تک رہنے کی توقع ہے جو اگلے سال 1.2 فیصد ہو سکتا ہے جب کہ بیروزگاری کی شرح اس مالی سال میں 8 فیصد اور اگلے مالی سال میں 7.5 فیصد ہو سکتی ہے واضح رہے پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے اور اسے اس مہینے میں 1.1 ارب ڈالر کی قسط ملنی ہے جب کہ پاکستان آئی ایم ایف سے ایک نئے پروگرام کے لیے بھی مذاکراتی کر رہا ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس وقت امریکہ میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی اجلاسوں میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سائفر مقدمے میں سزا کے خلاف اپلیوں پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ سائفر کی کاپی ان کے مؤکل سے نہیں بلکہ وزیراعظم آفس سے گم ہوئی ہے۔
منگل کو سماعت کے دوران سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ سائفر کی کاپی عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری کے سپرد کی گئی تھی اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ان ہی کی تھی۔ ان کے مطابق اعظم خان کو ملزم سے گواہ بنا دیا گیا اور ان کابیان قابل اعتبار نہیں۔
عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے طرف سے اس سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ میں شامل جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ لاپرواہی سے یا جان بوجھ کر سائفر گُم کرنے کا چارج اعظم خان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ جس پر عمران خان کےوکیل نے کہا کہ استغاثہ نے ملزم کو گواہ بنا کر اپنا کیس خود خراب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ اعظم خان کو سائفر کاپی موصول ہوئی لیکن کیا اس کی حفاظت کرنا بانی پی ٹی آئی کی ذمہ داری تصور نہیں ہو گی؟
بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ اعظم خان نے سائفر کاپی وصول کی، کہا گیا ہے پرنسپل سیکرٹری کو جاری کی گئی سائفر کاپی واپس نہیں آئی۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے سائفر لے کر پڑھا لیکن واپس یا گُم کرنے سے متعلق شہادت میں کچھ نہیں آیا، سائفر کی کاپی دی گئی یا نہیں؟ وزیر اعظم نے کاپی لی یا نہیں؟
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی دستاویز ریکارڈ پر نہیں جو یہ ثابت کرتی ہو کہ سائفر کی کاپی بانی پی ٹی آئی کے سپرد کی گئی؟ سلمان صفدر نے جواب دیا بالکل، میں یہی کہہ رہا ہوں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ کوئی دستاویز گُم ہونے پر انسانی غلطی کی گنجائش چھوڑی گئی ہے، قوانین کے مطابق اگر کوئی دستاویز گُم ہو جائے تو وہ مجرمانہ فعل نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اعظم خان نے سائفر دستاویز کی مناسب حفاظت نہیں کی اورسائفر دستاویز گم کرنے کا ذمہ دار عمران خان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ انسانی غلطی پر کسی سابق وزیراعظم کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹس میں کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹسں کا ایک میکانزم دیا گیا ہے جس کے مطابق اگر سائفر گم ہو جائے تو وزارتِ خارجہ کو رپورٹ کرنا ضروری ہے، 28 مارچ کو وزارت خارجہ کو وزیراعظم آفس نے سائفر کاپی کی گمشدگی سے آگاہ کر دیا تھا۔
سلمان صفدر کے مطابق وزارت خارجہ نے فوری طور پر انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کو مطلع کرنا تھا جو کہ نہیں کیا گیا، میکانزم کے مطابق محکمانہ انکوائری وزارت خارجہ کے اعلی افسران نے کرنی ہے جو کہ نہیں ہوئی۔
سلمان صفدر کا کہنا تھاعمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، بانی پی ٹی آئی کے سخت حریف رانا ثناء اللہ کے وزیر داخلہ ہوتے ہوئے مقدمہ درج ہوا تھا۔
دورانِ سماعت انھوں نے الزام عائد کیا کہ اسد عمر پارٹی چھوڑتے ہیں تو ملزم نہیں بنتے، شاہ محمود قریشی پارٹی نہیں چھوڑتے تو بغیر ثبوت سزا دی جاتی ہے۔
عدالت نے پوچھا کیا ریکارڈ پر ایسا کچھ لکھا ہوا ہے؟ جس پر سلمان صفدر نےجواب دیا ریکارڈ پر نہیں لیکن شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں اس حوالے سے کچھ کہا ہے ۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا جو ریکارڈ پر نہیں وہ بات یہاں نہ کریں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا اعظم خان کو گواہ بنانے سے پہلے پروسیجر فالو نہیں کیا گیا، ان کا بیان قابلِ اعتبار نہیں بلکہ کمزور شہادت ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے اعظم خان لاپتہ ہوتے ہیں، ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور پھر وہ اچانک سامنے آجاتے ہیں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک اہم ٹرائل کا مرکزی گواہ لاپتہ ہو گیا، پھر واپس آگیا، کیا اس کا اثر اس کے بیان پر نہیں پڑے گا؟ دو ہفتے یا دو دن لاپتہ رہنے کے بعد کوئی اگر بیان دیتا ہے تو اس کی حیثیت کیا ہو گی؟
سلمان صفدر نے کہا کہ انھوں نے اپنی وکالت میں ایسی صورتحال کبھی نہیں دیکھی۔
بیرسٹر سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر کو دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ کو دلائل کے لیے طویل وقت چاہیے تو سزا معطل کر دیتے ہیں۔
سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہیں دلائل کے لیے تین چار دن چاہئیں جس کے بعد مزید سماعت کل 17 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

،تصویر کا ذریعہPakistani Government
پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ملاقات میں سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے والے سعودی وفد کو زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، توانائی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی گئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سعودی وفد کو ’سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل‘ (ایس آئی ایف سی) کے قیام اور سرمایہ کاروں کی مدد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ہے۔
’پاکستان سعودی سرمایہ کاروں کی بھرپور مدد کرنے، انھیں تحفظ دینے اور انھیں سرمایہ کاری کے لیے اچھا ماحول دینے کے لیے پُرعزم ہے۔‘
اس موقع پر بات کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا وفد ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر پاکستان پہنچا ہے۔
پاکستان کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ دونوں ٹیموں کی جانب سے کیے جانے والے کام کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔
’میں کہہ سکتا ہوں کہ یہاں سرمایہ کاری میں اضافے کے کثیر مواقع موجود ہیں اور ہم نے آج دیگر مواقع پر نظر ڈالی جن پر کام کیا جا سکتا ہے۔‘
سعودی وزیرِ خارجہ کے مطابق ان کا دورہ پاکستان بہت ’مثبت‘ ثابت ہوا ہے اور ’آنے والے چند مہینوں میں اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘
خیال رہے سعودی عرب کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر ہے جس میں سعودی وزیرِ خارجہ، وزیر پانی و زراعت، وزیر صنعت و معدنی وسائل اور معاونِ وزیر برائے سرمایہ کاری سمیت دیگر حکومتی افراد شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا ہے کہ انھوں نے چھ جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن کا نیا اتحاد ’تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان‘ تشکیل دے دیا ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ کہ اس اتحاد کے صدر محمود خان اچکزئی ہوں گے اور اس کا مقصد آئین و قانون کی بالادستی کو بحال کرنا ہوگا۔
اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کے حوالے سے کرتے ہوئے کہا کہ سب جیل قرار دیے گئے بنی گالہ کے گھر میں کیمرے لگائے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بشریٰ بی بی کی کمروں میں آلات لگائے گئے ہیں، کیمرے لگائے گئے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہScreen Grab/PM House
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ہونے والی ملاقات کے دوران کہا ہے کہ پاکستان سعودیہ سٹریٹجک اورتجارتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے،پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ کا خواہاں ہے.
وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان منگل کے روزوزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات ہوئی جہاں وزیرِ اعظم نے وفد کا پاکستان آمد پر خیر مقدم کیا اور سعودی قیادت، خادم الحرمین شریفین عزت مآب سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا۔
یاد رہے کہ وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کی قیادت میں سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد اسلام آباد میں ہے جہاں وہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کوفروغ دینے کے لیے پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔
ملاقات کے حوالے سے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہماز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جسکی نظیر نہیں ملتی.سعودی عرب نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ عید الفطر کے فوری بعد سعودی وفد کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے اور پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ اور برادر ممالک سے شراکت داری کو باہمی طور پر مفید بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے.
بیان کےمطابق پاکستان سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری بڑھانے پر سعودی قیادت کا مشکور ہے.
ملاقات میں وزیرِ اعظم نے سعودی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ملاقات کے دوران سعودی وزیرِ خارجہ عزت مآب شہزاد فیصل بن فرحال آل سعود نے پاکستان سعودیہ تعلقات کی مضبوطی، تجارتی و سرمایہ کاری شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے سعودی عزم کا اعادہ کیا.
ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون و سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے گفتگو ہوئی. وزیرِ اعظم نے وفد کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور اس کے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات سے بھی آگاہ کیا.
وزیرِ اعظم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل میں ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے تمام اداروں کے تعاون اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کے کلیدی کردار پر بھی روشنی ڈالی.
واضح رہے کہ سعودی وفد کا دورہ پاکستان وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے تناظر میں ہو رہا ہے. ملاقات میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی.

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیض آباد دھرنے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کام کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ دھرنے کے نتائج اُس وقت کے رہنما اور خاص طور پر حکومت پنجاب کی معاملے کو سنبھالنے کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ رونما ہوئے۔ فیض حمید کو بطور میجر جنرل ڈی جی (سی) آئی ایس آئی معاہدے پرصرف دستخط کرنا تھے۔
تحقیقاتی کمیشن کے ایک رُکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر 149 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے مندرجات کی تصدیق کی ہے، تاہم اٹارنی جرنل آف پاکستان منصور اعوان کا کہنا ہے کہ انھیں اب تک یہ رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحیقیقاتی کمیشن کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد وفاقی حکومت اسے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گی۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیض حمید کے دستخط پر وزیراعظم شاہد خاقان، وزیرداخلہ احسن اقبال نے بھی اتفاق کیا تھا۔ حکومتی پالیسی میں خامیوں کی وجہ سے فیض آباد دھرنے جیسے واقعات کو ہوا ملتی ہے، پالیسی سازوں کو فیض آباد دھرنے سے سبق سیکھنا ہو گا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر تین رکنی انکوائری کمیشن سابق آئی جی سید اخترعلی شاہ کی صدارت میں قائم کیا تھا جس میں سابق آئی جی طاہر عالم اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سینئر افسر خوشحال خان کمیشن کے ارکان تھے۔
رپورٹ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کام کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی اور قواعد و ضوابط کا مسودہ تیار کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں اسلام آباد پولیس، وزارت داخلہ، پنجاب حکومت، آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس بیورو کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
رپورٹ میں کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدر آمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پالیسی سازوں کو فیض آباد دھرنے سے سبق سیکھنا ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی مارچ کو لاہور میں روکنے کے بجائے اسلام آباد جانے کی اجازت دی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی پولیس میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں۔ سیکڑوں افراد زخمی ہوئےاور وفاقی حکومت نے مظاہرین کی قیادت تک رسائی کے لیے آئی ایس آئی کی خدمات حاصل کیں۔
رپورٹ کے مطابق 25 نومبر 2017 کو ایجنسی کے تعاون سے معاہدہ ہوا جس پر مظاہرین منتشر ہوئے۔ فیض آباد دھرنے کے دوران شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ پنجاب حکومت غافل اورکمزور رہی جس کے باعث خون خرابہ ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امن عامہ حکومت کی ذمہ داری ہے دیگر شعبوں کومداخلت سے گریزکرنا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس وقت کی ملکی قیادت نے کسی ادارے یا اہلکار کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ سویلین معاملے میں فوج یا ایجنسی کی مداخلت سے ادارے کی ساکھ شدید متاثرہوتی ہے، فوج کو تنقید سے بچنے کے لیے عوامی معاملات میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف نے فیض حمید کو معاہدے کی اجازت دی تھی اور اس وقت کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے اس پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق عوامی معاملات کی ہینڈلنگ آئی بی اور سول ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے۔ عقیدے کی بنیاد پرتشدد کے خاتمے کے لیے امن کو اسٹریٹجک مقصد بنانا ہوگا۔ ریاست آئین، انسانی حقوق، جمہوریت ، قانون کی حکمرانی پر سمجھوتہ نہ کرے۔
رپورٹ میں پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم میں کمزوریوں کا احاطہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسلام آباد تعیناتی سے قبل پولیس افسران کو دشوار علاقوں میں تعینات کیا جائے۔ پرتشدد انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی لازمی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں 12 اپریل سے ملک کے مختلف حصوں میں شروع ہونے والے بارشوں کے سلسلے کے دوران مختلف واقعات میں اب تک 49 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی تازہ رپورٹ کے مطابق بارشوں کے حالیہ سلسلے میں مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد ہلاک اور 32 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں نو بچے، تین خواتین اور نو مرد شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں چار بچوں سمیت پانچ خواتین اور 23 مرد شامل ہیں۔ مختلف اضلاع میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے مجموعی طور پر 330 مکانات کو نقصان پہنچا جس میں 53 گھروں کو مکمل جبکہ 277 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 21 افراد موت کے منہہ میں چلے گئے جبکہ اس دوران مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں 21 ہلاکتیں آسمانی بجلی گرنے کے باعث ہوئیں۔
این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں بارشوں کے دوران سات افراد ہلاک ہوئے جن میں پانچ افراد آسمانی بجلی گرنے سے اور دو افراد مکان کی چھت گرنے سے ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے 17 اپریل سے بارششوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کر رکھی ہے جس دوران موسلادھار بارش کے باعث مقامی اور برساتی ندی نالوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ممحکمہ موسمیات کے مطا بق مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ 16 اپریل کی (رات) کو بلوچستان کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا۔ 17 اپریل کو بلوچستان کے بیشتر اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور 18 اپریل کو ملک کے بالائی علاقوں تک پھیل جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ 17 اور 18 اپریل کو موسلادھار بارش کے باعث بلوچستان کے مقامی اور برساتی ندی نالوں خصوصا گوادر ،کیچ، آواران اور قلات جبکہ 18 سے 20 اپریل کے دوران دیر، سوات، چترال، کوہستان اور مانسہرہ کے مقامی ندی نالوں اور دریائے کابل سے ملحقہ علاقوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
18 سے21 اپریل کے دوران تیز بارش کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ۔ ہے۔
آندھی،جھکڑ ، ژالہ باری، گرج چمک اور تیز بار ش کے باعث کھڑی فصلوں، کمزور انفرا سٹرکچر (بجلی کے کھمبے، گاڑیوں سولر پینل وغیرہ)ک و نقصان کا اندیشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کسان اپنی فصلوں خصوصا گندم کی کٹائی کے علاقوں میں موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات ترتیب دیں۔
تیز بارشوں کے دوران سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کا کہا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبرپختونخوا حکومت نے روٹی کی قیمت میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے 100 گرام روٹی کی قیمت 15 روپے جبکہ 200 گرام روٹی کی قیمت 30 روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے اس حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ آٹے کی قیمت میں کمی کے بعد روٹی کی قیمت میں کمی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ظاہرشاہ طورو نے صوبہ بھر کی اضلاع انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے اہلکاروں کو روٹی کی قیمت میں کمی کی باقاعدہ نگرانی کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔
یاد رہے کہ ضلعی انتظامیہ پشاور نے روٹی کی قیمت میں کمی اور نئی قیمت کے حوالے باقاعدہ مراسلہ بھی جاری کردیا ہے جبکہ صوبہ بھر میں روٹی کی قیمت میں کمی کا باقاعدہ اعلامیہ متعلقہ اضلاع انتظامیہ جاری کرے گی۔
صوبائی وزیر خوراک نے دعویٰ کیا کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے صوبائی حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے مشاورت کے بعد روٹی کی قیمت میں پانچ روپے کی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمی زاہد بخاری نے کہا ہے کہ ’ہم خوش ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو بھی سستی روٹی ملے گی اور خوشی کی بات ہے مریم نواز کے اچھے کاموں کو علی امین گنڈا پور کی سرکار فالو کر رہی ہے۔‘