امریکہ کے بعد پاکستان کو انڈیا سے بھی شکست، ورلڈ کپ میں آگے بڑھنے کے امکانات اگر مگر پر منحصر
نیو یارک کے نساؤ کاؤنٹی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کو انڈیا نے شکست دے دی ہے۔ انڈیا کے 119 رنز کے تعاقب میں پاکستان سات وکٹوں کے نقصان پر صرف 113 رنز ہی بنا سکا۔
خلاصہ
نیو یارک کے نساؤ کاؤنٹی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کو انڈیا نے شکست دے دی ہے۔
انڈیا کے 119 رنز کے تعاقب میں پاکستان سات وکٹوں کے نقصان پر صرف 113 رنز ہی بنا سکا ہے۔
لائیو کوریج
پیشکش: منزہ انوار، اعظم خان
بارش کے باعث ٹاس میں تاخیر
ہمارے پاس آپ کے لیے ایک بری خبر ہے۔
نیویارک کے نساؤ کاؤنٹی سٹیڈیم میں بارش ہو رہی ہے، پچ پر کور آ چکے ہیں اور ٹاس میں تاخیر ہے۔
بارش کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑی میدان میں وارم اپ کر رہے ہیں۔
آئی سی سی کی پلیئنگ کنڈیشنزکے مطابق ڈیڑھ گھنٹے تک مزید تاخیر کی گنجائش ہے جس کے بعد اوور کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
امید ہے کہ ہمیں میچ شروع ہونے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’ہمارا مقصد ایسی پچز تیار کرنا تھا جو تیز ہوں، جن میں مستقل باؤنس ہو رہا ہو اور کھلاڑی اپنے بہترین شاٹس کھیل سکیں‘
،تصویر کا ذریعہOPTUS
ایڈیلیڈ اوول کے پچ کیوریٹر ڈیمیان ہاگ کو آسٹریلیا میں پچز بنا کر امریکہ منتقل کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ انھوں نے رواں برس اپریل میں بی بی سی ساؤنڈز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ہمارا مقصد ایسی پچز تیار کرنا ہے جو تیز ہوں اور جن میں مستقل باؤنس ہو رہا ہو اور جس پر کھلاڑی اپنے بہترین شاٹس کھیل سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تفریحی کرکٹ چاہتے ہیں لیکن چیلنجز بھی موجود ہیں۔‘
دس ڈراپ ان پچز پر اکتوبر 2023 کے آغاز میں کام شروع ہوا اور انھیں ابتدائی طور پر ٹرے میں لگایا گیا تھا۔ ہر پچ کو دو ٹریز میں تقسیم کیا گیا تھا جس کا مقصد میچوں کے لیے چار تیار پچز اور چھ پریکٹس سٹرپس بنانا تھا۔
ان پچوں کی تیاری میں چکنی مٹی کو ایک خاص گھاس کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ٹرے جنوری میں ایڈیلیڈ سے فلوریڈا تک ایک شپنگ کنٹینر کے ذریعے لائی گئیں۔ انھیں نیویارک لے جانے سے قبل ایک گرم آب و ہوا والے علاقے میں رکھا گیا کیونکہ نیویارک میں اُس وقت شدید سردی کا موسم تھا-
ڈیمیان نے اس حوالے سے غیر یقینی کا بھی اظہار کیا تھا۔ ’ہم نے راستے میں ہر ممکنہ نتیجے اور مسئلے کے بارے میں اچھی طرح سے سوچا ہے اور ہم امید کر رہے ہیں کہ اچھی کرکٹ پچز ثابت ہوں گی۔‘ نیو یارک کی متنازع پچ کے بارے میں مزید پڑھیے >>
جب 1989 میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے انڈیا کو امریکہ میں شکست دی اور انڈین کرکٹ میں بھونچال پیدا کر دیا
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان اور انڈیا کے کھلاڑی نیویارک میں کرکٹ میچ کھیل رہے ہوں۔ دونوں ٹیمیں اس شہر میں اس سے قبل 1989 میں بھی مدِمقابل آ چکی ہیں۔
درحقیقت یہ تین نمائشی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ تھا۔ تقریباً 15 ہزار شائقین دن بھر کے کام کاج کے بعد 40 اوور کا ڈے نائٹر دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
پاکستان کی قیادت عمران خان کر رہے تھے اور ان کے ساتھ بہت سے ’کارنر ٹائیگرز‘ تھے جو آگے چل کر 1992 کا ورلڈ کپ جیتیں گے۔ ان میں جاوید میانداد، سلیم ملک اور مشتاق احمد شامل تھے۔
انڈین ٹیم کی قیادت دلیپ وینگسرکر نے کی اور ٹیم میں محمد اظہر الدین، کپل دیو، اور سنجے منجریکر شامل تھے۔
انڈیا کے آل راؤنڈر روی شاستری نے پاکستان کے خلاف میچوں کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ کے انعقاد میں بھی مدد کی۔
پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ یہ ایک نمائشی کھیل تھا ہم پھر بھی انھیں ہرانا چاہتے تھے۔
سلیم کے 53 رنز کی بدولت پاکستان نے 162 رنز بنائے لیکن انڈیا فاتح رہا۔
انڈیا کے رابن سنگھ نے سب سے زیادہ 47 رنز بنائے اور جب تین گیندیں رہ گئیں تو وینگسرکر نے فاتحانہ رنز بنائے جس سے مشتاق کو ایک زبردست چھکا لگا۔
تاہم پاکستان نے ٹورنٹو میں سیریز برابر کر دی، عمران خان کے شاندار 91 ناٹ آؤٹ کے بعد انھیں 222 رنز کا تعاقب کرنے میں مدد ملی۔
اس کے بعد پاکستان نے لاس اینجلس میں رمیز کے 47 رنز کی بدولت چار وکٹوں سے میچ جیت کر نارتھ امریکن کپ جیت لیا۔
امریکہ میں انڈیا بمقابلہ پاکستان فکسچرز میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے حصے میں دو دو ہزار ڈالر فی کھلاڑی آئے۔ یہ وہ دور تھا جب کھلاڑی اس کھیل سے پیسہ کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے امریکہ جانے والے کھلاڑیوں سے ’چھٹی‘ پر جانے کا معاہدہ کیا تھا لیکن انھیں کرکٹ کھیلنے سے منع کیا تھا۔
انڈین کھلاڑی ویسٹ انڈیز کے دورے میں بدترین شکست کے بعد امریکہ اور کینیڈا گئے جس سے بظاہر بی سی سی آئی ناراض ہوا۔
انڈیا واپسی پر بورڈ نے وینگسارکر، دیو، شاستری، اظہرالدین، کرن مورے اور ارون لال پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کردی جبکہ باقی کھلاڑیوں کو جرمانہ کیا گیا۔
انڈیا میں کرکٹ پر لکھنے والے مصنف آر موہن نے اسے ’کرکٹ کا سنگین ترین بحران‘ قرار دیا تھا۔
تاہم احتجاج، اخباری مہمات اور تین ماہ کی عدالتی لڑائی کے بعد فیصلے کو پلٹ دیا گیا۔اس کے برعکس پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ’عمران ان دنوں کرکٹ کے کرتا دھرتا تھے، وہی بورڈ تھے، وہی سلیکٹرز کے چیئرمین تھے، وہ کپتان تھے اس لیے ہمیں امریکہ میں انڈین ٹیم سے کھیلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔‘
بلے بازوں کی زندگی عذاب بنانے والی ’خطرناک‘ پچ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیویارک سٹیڈیم کی جس پچ پر آج پاکستان انڈیا کے ساتھ میچ کھیلنے جا رہا ہے وہاں اب تک ہمیں اچھے اچھے بلے باز بھی باؤنسرز کے سامنے لڑکھڑاتے نظر آئے ہیں۔
انڈین کھلاڑیوں اور کوچز سے لے کر کئی سابق کرکٹرز اور ماہرین نے اس پچ پر تنقید کی ہے اور یہ پچ پاکستان انڈیا میچ کا پانسہ کیسے پلٹ سکتی ہے اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
سابق کرکٹر اور کوچ اینڈی فلار نے نیو یارک کی پچ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پچ پر غیر مستحکم باؤنس ہے۔ کبھی گیند بہت نیچے رہ جاتی ہے اور کبھی اچانک بہت زیادہ باؤنس کر جاتی ہے اور یوں کھلاڑیوں کے انگوٹھوں، دستانوں اور ہیلمنٹ کو جا کر لگ رہی ہے اور بیٹرز کی زندگی عذاب بنا رہی ہے۔
کرکٹ کے حوالے سے سکور اور تجزیوں کی ویب سائٹ کرک انفو سے بات کرتے ہوئے اینڈی فلار نے اس پچ کو ’خطرناک‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا یہ ایسی پچ نہیں ہے جس پر انٹرنیشنل میچ کھیلا جائے اور کسی بھی ٹیم کے لیے اس پچ پر بیٹنگ کرنا آسان نہیں ہو گا۔
سابق انڈین کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر کے مطابق اس پچ کی تیاری میں کچھ غلط ہوا ہے۔ ’یا تو یہ پچ مکمل تیار نہیں ہوئی یا کچھ ایسا ہوا ہے جو اسے تیار کرنے والوں کے کنٹرول سے باہر تھا۔‘
کرک انفو کے شو ’ٹائم آؤٹ‘ میں بات کرتے ہوئے سنجے کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے اس پچ کی تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی مگر اس میں بنیادی مسئلے ہیں۔‘
سنجے نے مزید کہا کہ نیویارک میں کرکٹ میچز کی ہائپ بہت ہے مگر سب سے اہم چیز ’پچ‘ ہوتی ہے اور بدقسمتی سے وہی ٹھیک نہیں ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھیے>>
’اگر انڈیا کے خلاف پاکستان اپنے فینز کو اپ سیٹ کر پایا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
زوال کے سفر میں ایک مقام ایسا آتا ہے جب مزید گرنا ممکن نہیں رہتا، اس لیے نہیں کہ زوال پذیروں میں مزید گرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ اس لیے کہ مزید گرنے کو جگہ ہی نہیں بچ پاتی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم بھی ایک زوال کے سفر پر چلی آ رہی ہے۔ پچھلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں اس نے زمبابوے سے شکست کھائی، سات ماہ پہلے ون ڈے ورلڈ کپ میں افغانستان کے ہاتھوں خفت اٹھائی اور اس ایونٹ میں اپنی کمپین کی شروعات نومولود امریکی ٹیم سے ہار کر کی۔
مگر امریکی کرکٹ ٹیم نہ تو زمبابوے کی طرح ٹیسٹ سٹیٹس کی حامل تھی اور نہ ہی افغانستان کی طرح اتنی پختہ کار تھی۔ یہ ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے کو بھی یوں آ گئی کہ بغیر کسی کوالیفائر، محض میزبانی کی بنیاد پر ایونٹ میں شامل کی گئی۔ بہرحال ورلڈ کپ امریکہ میں کھیلنے کا کوئی جواز نہ ہوتا اگر میزبان ٹیم کھیل ہی نہ رہی ہوتی۔
لیکن اس نوآموز ٹیم نے بابر اعظم جیسے تجربہ کار کپتان اور کامیاب ترین بلے باز کے ہوش یوں اڑائے کہ میچ ختم ہونے کے بعد بھی وہ پاور پلے میں اپنی کاہلی کا ملبہ بولرز پر ڈالنے کو بضد رہے۔ گویا اپنے بیٹنگ کارڈ میں انھیں کوئی عیب دکھائی نہیں دیا مگر میچ ہارنے کا سبب اپنے بولرز کا ڈسپلن نظر آیا۔
ماضی میں پاکستان اور انڈیا کے مابین میچوں پر ایک نظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب بھی عالمی مقابلوں میں کوئی پاک انڈیا میچ آتا ہے تو اس کو بیچنے کے لیے ہمہ قسمی میڈیا پر ایسا ہنگامہ مچایا جاتا ہے کہ ڈھول کی تھاپ میں ناچتے گاتے دونوں جانب کے شائقین کسی میدانِ جنگ کی تصویر بن جاتے ہیں اور کرکٹرز کو محاذ پر کھڑے فوجی سمجھ لیا جاتا ہے۔
گویا وہ ماضی کی پاک انڈیا عسکری مہم جوئیوں کا حساب بے باق کرنے کو میدان میں اترے ہوں۔ مگر یہاں یہ یاد رکھیں کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان اور انڈیا نے 12 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں سے انڈیا نے آٹھ اور پاکستان نے محض تین میچ جیتے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دونوں حریفوں کے مابین سات مرتبہ ٹاکرا ہوا ہے جن میں سے چھ مرتبہ انڈیا میچز جیتا ہے جبکہ پاکستان نے صرف ایک میچ جیتا ہے۔
آج ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا آٹھویں مرتبہ آمنے سامنے آئیں گے۔
کیا نیو یارک کی متنازع ’ڈراپ اِن‘ پچ پاکستانی بولرز کے لیے زیادہ مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسرے براعظم سے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے آنے والے ایک مٹی کے ٹرے نے ایسی غیر یقینی کو جنم دیا ہے جو ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچ کو متنازع بنا سکتی ہے۔
اگر آپ پاکستان اور انڈیا کے میچ پر شرط لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو ذرا ٹھہریے کیونکہ نیو یارک کی ’ڈراپ ان‘ پچ آپ کی پیشگوئی غلط ثابت کر سکتی ہے۔
امریکی ٹیم سے تاریخی شکست کے دھچکے کے بعد پاکستانی مداح ابھی پوری طرح سنبھلے بھی نہیں تھے کہ انڈیا کے خلاف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ سر پر آن پہنچا ہے۔
نیویارک کی پچ سے جڑی غیر یقینی نے میچ سے قبل ہی صورتحال اس قدر دلچسپ بنا دی ہے کہ پچ کے بارے میں ہمسایہ ملک کے خدشات ہیں کہ اس پر پاکستانی فاسٹ بولرز ’انڈین ٹاپ آرڈر کو کھا جائیں گے۔‘
آل راؤنڈر عماد وسیم ’فٹ‘ ہیں: پاکستانی ٹیم کے کوچ گیری کرسٹن
،تصویر کا ذریعہicc
پاکستان ٹیم کے کوچ گیری کرسٹن کا کہنا ہے کہ آل راؤنڈر عماد وسیم ’فٹ‘ ہیں۔
اس بیان کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ آج کے بڑے میچ کے لیے انھیں ٹیم کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
گیری کرسٹن کا کہنا ہے کہ پچھلے دو دنوں کو واپس نہیں لا سکتے اور ٹیم اس بارے میں بھول چکی ہے، ہمیں پچھلے میچ کی کارکردگی بھول کر آگے کے بارے میں سوچنا ہے۔
گیری کرسٹن کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے لیکن آپ اس کا فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں ہمیں بس اپنی پوری قابلیت اور فیصلہ سازی کے ساتھ مقابلے کے لیے اترنا ہے۔
گیری کرسٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی انھیں محض 13 دن ہی ہوئے ہیں مگر وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ بہت لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
نیو یارک کی پچ کیوں ’قابل بھروسہ‘ نہیں؟
،ویڈیو کیپشنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان بمقابلہ انڈیا: نیو یارک کی متنازع پچ کیوں ’قابل بھروسہ‘ نہیں
گیری کرسٹن: 2011 میں انڈیا کو ورلڈ کپ جتوانے والے کوچ کیا پاکستان کے لیے اپنی کارکردگی دہرا پائیں گے؟
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
اگست 2008 کے دوران سچن ٹنڈولکر کے بائیں بازو کی کہنی پر چوٹ لگی اور اس انجری کے باعث وہ سری لنکا کے خلاف سیریز سے باہر ہو گئے۔ یہی وہ وقت تھا جب وراٹ کوہلی کے کیریئر کا آغاز ہوا۔
تب انڈین کرکٹ ٹیم کے کوچ گیری کرسٹن تھے جن کے پاس، اُن کے بقول، اس نوکری سے قبل کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
ایک انٹرویو میں گیری کرسٹن نے بتایا کہ انھیں ایک روز انڈین کرکٹ بورڈ میں سنیل گواسکر کی طرف سے ای میل موصول ہوئی کہ ’کیا آپ انڈین کرکٹ ٹیم کی کوچنگ میں دلچسپی لیں گے؟‘
گیری کے مطابق یہ ای میل دیکھ کر انھیں لگا کہ شاید اُن کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے چنانچہ انھوں نے اس ای میل کا جواب نہیں دیا۔ دو روز بعد انھیں ایک اور ای میل موصول ہوئی جس میں اسی آفر کے ساتھ ساتھ بزنس کلاس کا ٹکٹ بھی تھا۔ گیری کے مطابق یہ ای میل دیکھ کر ان کی اہلیہ کو لگا شاید کسی سے نام کی غلطی ہوئی ہو گی۔
جب گیری کرسٹن انڈین کوچ بننے سے قبل انٹرویو دینے جا رہے تھے تو انھوں نے راستے میں اس بارے میں انڈین بولر انیل کمبلے کو بتایا جو یہ سب سُن کر ہنس پڑے۔
انٹرویو میں ان سے پہلا سوال یہ ہوا کہ آپ کا انڈین کرکٹ کے لیے کیا وژن ہے؟ اس پر انھوں نے جواب دیا ’میرے پاس کوئی وژن نہیں ہے۔‘ لیکن پھر انھیں ’کوچنگ کے صفر گھنٹوں کے تجربے کی بنیاد پر دنیا کی سب سے ہائی پروفائل ٹیم کا کوچ بنا دیا گیا۔‘
مگر یہ وہی گیری کرسٹن تھے جن کی کوچنگ میں چند سال بعد انڈین کرکٹ ٹیم نے سنہ 2011 کا ورلڈ کپ جیتا۔ اب انھیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ مگر کیا وہ کیا پاکستان کے لیے اپنی کارکردگی دہرا پائیں گے؟ مزید پڑھیے>>
روہت شرما ’اپوزیشن کی فارم کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ سکتے کیونکہ اس فارمیٹ میں فارم واپس آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا‘
،تصویر کا ذریعہicc
انڈین ٹیم کے کپتان روہت شرما کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی فارم کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ سکتے کیونکہ اس فارمیٹ میں فارم واپس آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
وہ امریکہ سے ہار کے بعد پاکستانی ٹیم کے کم بیک کے متعلق سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فارمیٹ ایسا ہے کہ آپ مخالف ٹیم کو ہلکا نہیں لے سکتے۔
روہت کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی میں مسلسل اچھی کارکردگی کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ یہ اہم ہے کہ اس دن آپ کیسی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے پاکستان ٹیم نے بھی پچھلے میچ کی غلطیوں کے بارے میں سوچا ہو گا اور وہ چاہیں گے کہ اس میچ میں وہ غلطیاں نہ دہرائیں۔
’کرکٹ میں ایسا نہیں ہوتا کہ مخالف ٹیم پچھلا میچ ہار کر آئی تو یہ میچ بھی ہارے گی۔‘
روہت کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے کہ ہمارا یہاں دو میچوں کا تجربہ ہے لیکن یہاں وکٹ ہر روز مختلف طرح سے ردِعمل دے رہی ہے اور ایسے گراؤنڈ میں فوکس ایک ایک بال پر ہونا چاہیے۔
نیو یارک کی پچ کیوں ’قابل بھروسہ‘ نہیں؟
انڈیا کے ساتھ میچ سے قبل پاکستانی ٹیم کے ٹریننگ سیشن کی کچھ تصاویر
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان بمقابلہ انڈیا: بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
،تصویر کا ذریعہgettyinages
بی بی سی کی جانب سے اپنے قارئین کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے 19ویں میچ میں خوش آمدید۔
امریکہ اور ویسٹ اینڈیز میں کھیلے جا رہے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آج پاکستان اور انڈیا نیویارک نساؤ کاؤنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں مدمقابل آرہے ہیں۔
اور یہ کوئی معمولی میچ نہیں، بلکہ عالمی مقابلوں میں چند اہم ترین روایتی حریف انڈیا اور پاکستان کے مابین مقابلہ ہے۔
دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا پاکستانی ٹیم امریکہ کے خلاف کھیلے گئے پچھلے میچ کے مقابلے میں آج بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں کم بیک کر پائے گی یا نہیں۔