پوتن امریکہ روس رابطے پر پرامید مگر مغربی طاقتوں سے نالاں

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے انھیں امید ہوئی ہے کہ مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی اور روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق روسی صدر نے روسی سکیورٹی ایجنسی ایف ایس بی کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے پہلے رابطے سے امید پیدا ہوئی ہے۔
’دونوں جانب تعلقات کو بحال کرنے کی خواہش ہے۔‘
تاہم صدر پوتن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کچھ ’مغربی طاقتیں‘ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان نئے مذاکرات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہر کوئی روسی اور امریکی رابطوں کی بحالی سے خوش نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس کو مدنظر رکھنے اور اس طرح کی کوششوں کو روکنے کے لیے سفارت کاری اور خصوصی خدمات کے تمام امکانات کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
روسی صدر کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ مغرب ’اندر سے‘ زوال پذیر ہونا شروع ہو گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت ’بہت سے مغربی ممالک کی معیشت کے مسائل‘ ہیں۔
دوسری جانب روسی وفد امریکی حکام سے مذاکرات کے لیے استنبول پہنچ چکا ہے۔
مذاکرات کا مقصد واشنگٹن اور ماسکو میں ان کے سفارت خانوں کے کام سے متعلق تنازعات کو حل کرنا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فدان نے بھی کہا ہے کہ ترکی یوکرین جنگ کے خاتمے میں 'اہم کردار' ادا کرے گا۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے آغاز کے بعد سے ، ترکی نے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی اور یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
اس سے قبل فن لینڈ کی وزیر خارجہ ایلینا والٹونن نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں یہ 'بہت اچھا' ہے کہ سٹارمر ٹرمپ سے مل رہے ہیں تاکہ برطانیہ اور یورپ کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔
والٹونن نے بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز ڈے پروگرام کو بتایا کہ فن لینڈ پہلے بھی ہمسایہ ملک روس کی جارحیت سے اپنا دفاع کر چکا ہے اور جانتا ہے کہ 'یوکرین کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے آزادانہ طور پر طویل مدتی خطرہ موجود ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'یہ یورپی مفاد میں ہے کہ وہ یوکرین کی مدد کرے اور روس کو بھی کمزور کرے' جبکہ وہ دیرپا امن کے معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے کیونکہ 'پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔'


























