وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی میں تکرار: ’امن کے لیے تیار ہوں، تب واپس آئیں‘ ٹرمپ

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران سخت جملوں کے تبادلے کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں اور دونوں صدور کی طے شدہ مشترکہ پریس کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں یوکرینی صدر کی امریکی صدر اور نائب صدر سے معدنیات سے متعلق معاہدے پر بات چیت کے دوران تکرار ہوئی ہے۔
  • ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ معدنیات کا 'معاہدہ کریں ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔' جس پریوکرینی صدر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ 'کوئی سمجھوتہ' نہیں ہونا چاہیے۔
  • جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں، انھوں نے امریکہ کی توہین کی اور جب وہ امن کے لیے تیار ہوں واپس آ سکتے ہیں۔
  • خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں ہونے والے ممکنہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) سمیع الحق گروپ کے سربراہ مولانا حامد الحق بھی شامل ہیں۔
  • سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے نو مئی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق کیس میں تحریک انصاف کو اضافی دستاویزات جمع کروانے کی مہلت دے دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کیجئے

  2. ٹرمپ اور زیلنسکی میں کیا بات چیت ہوئی جو تلخ کلامی تک پہنچ گئی؟

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیسا کہ ہم آپ کو رپورٹ کر رہے کہ ہیں امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں ایک غیر معمولی تکرار ہوئی ہے۔

    جس کے بعد نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں بلکہ زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس سے چلے جانے پر دونوں صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی منسوخ ہو گئی ہے۔

    اس ملاقات کا مقصد دونوں کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے پیش نظر تھا جو آگے نہیں بڑھ سکا۔

    مگر ان دونوں سربراہوں کے درمیان ایسی کیا گفتگو ہوئی جو تکرار تک جا پہنچی آئیے جانتے ہیں۔

    تلخ جملوں کے تبادلے کے دوران دونوں رہنما ایک دوسرے کو بار بار اس انداز میں ٹوکہ جو وائٹ ہاؤس میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے۔

    ملاقات کے آغاز پر معاملات اس وقت تلخی کی طرف بڑھے جب صدر ٹرمپ کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’یہ بہت اچھا ہو گا اگر وہ اور زیلنسکی روس اور یوکرین کی جنگ کا خاتمہ کر سکیں۔‘

    جس پر صدر زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ’کوئی سمجھوتہ‘ نہیں ہونا چاہیے - لیکن ٹرمپ نے کہا کہ روس کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے کیئو کو رعایتیں دینا ہوں گی۔‘

    اس پر صدر زیلنسکی نے ٹرمپ کو روس کے جنگی مظالم کی تصاویر دکھائیں اور کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ہمارے ساتھ ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ وہ روس کے ساتھ معاہدے کریں ورنہ امریکہ پیچھے ہٹ جائے گا۔

    اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر آپ کو ابھی جنگ بندی کا موقع ملے تو میں آپ سے کہوں کا کہ فوراً اس پر آمادہ ہو جائیں تاکہ گولیاں چلنے تو بند ہوں۔‘

    زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ’یقیناً میں جنگ روکنا چاہتا ہوں‘، یہاں ٹرمپ نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے کہا کہ آپ جنگ بندی نہیں چاہتے۔‘ جس پر زیلنسکی نے جواب دیا کہ وہ جنگ بندی کا معاہدہ چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کچھ شرائط اور ضمانتیں دی جائیں۔

    انھوں نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ یوکرینی عوام سے پوچھیں کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے متعلق کیا سوچتے یا چاہتے ہیں۔‘

    ایک موقع پر غصے میں نظر آنے والے صدر ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی امریکہ کی فوجی اور سیاسی حمایت کے لیے کافی شکر گزار نہیں ہیں، اور یہ کہ وہ ’تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا، آپ بہت مشکل میں ہیں۔ آپ کا ملک بہت بڑی مشکل میں ہے۔ آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے نکل سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے صدر بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے زیلنسکی سے کہا کہ ’ہم نے آپ کو 350 ارب ڈالر کی امداد دی، اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا اسلحہ اور عسکری سازوسامان نہیں ہوتا تو یہ جنگ دو ہفتوں میں ہی ختم ہو جاتی۔‘

    ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ا’ٓپ کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں، آپ کے لوگ مر رہے ہیں، آپ کو فوجیوں کی کمی کاسامنا ہے۔‘

    اس دوران یوکرینی صدر متعدد مرتبہ امریکی صدر کی بات کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

    جس پر زیلنسکی نے کہا ’میں جانتا ہوں۔‘

    ٹرمپ نے ملاقات میں میڈیا نمائندوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ امریکی عوام کو صورتحال معلوم ہو اسی وجہ سے میں نے یہ ملاقات جاری رکھی ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ایسے آپ کے ساتھ چلنا یا معاہدہ کرنا بہت مشکل ہو گا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں، آپ امریکہ کی توہین کر رہے ہیں۔‘

    اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا؟

    جس پر زیلنسکی نے کہا بہت بار، جس پر جے ڈی وینس نے کہا کہ میں آج کی ملاقات کے دوران کی بات کر رہا ہوں۔‘

    امریکی نائب صدر نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ آپ نے گذشتہ برس اکتوبر میں پنسلوینیا کا دورہ کیا اور اپوزیشن کے لیے مہم چلائی۔ امریکہ اور اس صدر کے لیے تعریفی الفاظ پیش کریں جو آپ کے ملک کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    زیلنسکی نے جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’براہ کرم، آپ کو لگتا ہے کہ اگر آپ جنگ کے بارے میں بہت اونچی آواز میں بات کریں گے...‘ یہاں پر صدر ٹرمپ نے ان کی بات کاٹی اور کہا کہ ’اگر میں روس اور یوکرین کی طرفداری نہ کروں تو آپ میں جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہو سکتا، میں پوتن یا کسی کی طرفداری نہیں کر رہا میں امریکہ کی طرفداری کر رہا ہوں۔‘

    انھوں نے اس موقع پر کہا کہ ’زیلنسکی کے دل میں پوتن کے لیے بے پناہ نفرت ہے۔ جبکہ دوسری طرف انھیں بھی ان سے کوئی محبت نہیں ہے۔‘

    آپ مجھے سختی کرنا چاہتے ہیں میں کسی بھی انسان سے زیادہ سخت ہو سکتا ہوں لیکن اس صورت میں آپ کا معاہدہ نہیں ہو گا۔‘

    اس کے بعد یوکرین کے صدر اور ان کا سٹاف اوول دفتر سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا اور کچھ دیر بعد ہی صدر زیلنسکی کو غصے میں اپنی گاڑی میں وائٹ ہاؤس سے جاتے دیکھا گیا۔

  3. بریکنگ, ’زیلنسکی نے امریکہ کی توہین کی، جب امن کے لیے تیار ہوں واپس آ سکتے ہیں‘: صدر ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکہ کی توہین کی ہے اور جب وہ امن کے لیے تیار ہوں واپس آ سکتے ہیں۔

    امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں سخت جملوں کے تبادلے، اور صدر زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس سے اٹھ کر چلے جانے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج ہماری بڑی وائٹ ہاؤس میں بڑی معنی خیز ملاقات ہوئی، اور اس تکرار اور تناؤ میں بہت کچھ ایسا جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا جس کے بارے میں اس سخت تبادلے کے بنا جاننا مشکل تھا۔

    یہ بہت حیران کن ہے کہ ہم جذبات میں وہ سب کیسے کہہ گئے، اور مجھے یہ علم ہوا کہ اگر امریکہ ثالثی یا امن کی کوششوں میں شامل ہوتا ہے تو صدر زیلنسکی امن کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ہماری شمولیت سے انھیں مذاکرات میں بہت فائدہ ہو گا۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں فائدہ نہیں امن چاہتا ہوں۔ انھوں نے اوول دفتر میں امریکہ کی توہین کی اور جب وہ امن کے لیے تیار ہوں واپس آ سکتے ہیں۔‘

  4. بریکنگ, وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی میں تکرار: ’روس سے سمجھوتہ نہیں ہو گا‘، زیلنسکی، ’امن کے لیے تیار ہوں تب واپس آئیں‘، ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں اس وقت بدمزگی ہو گئی جب یوکرینی صدر کی امریکی صدر اور نائب صدر سے معدنیات سے متعلق معاہدے پر بات چیت کے دوران تکرار ہوئی۔

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران سخت جملوں کے تبادلے کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں اور دونوں صدور کی طے شدہ مشترکہ پریس کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    جمعے کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں کے سامنے ہونے والی بات چیت میں اس وقت ماحول گرم ہوا جب امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ’روس کے ساتھ معاہدہ کریں ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔‘

    جس کے جواب میں یوکرین کے صدر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ’کوئی سمجھوتہ‘ نہیں ہونا چاہیے - لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کئیو کو روس کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے رعایتیں دینا ہوں گی۔

    ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے کہا کہ آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا، آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے نکل سکتے ہیں۔ اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا اسلحہ اور عسکری سازوسامان نہیں ہوتا تو یہ جنگ دو ہفتوں میں ہی ختم ہو جاتی۔

    اس ملاقات کے دوران ٹرمپ نے زیلنسکی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا؟ آپ کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں، آپ کے لوگ مر رہے ہیں، آپ کو فوجیوں کی کمی کاسامنا ہے۔ ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں، آپ ’امریکہ‘ کی توہین کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کے الفاظ انتہائی غیر مناسب ہیں۔‘

    اس پر زیلنسکی نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی یوکرین کا دورہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت دینا امریکہ کی نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے ، چاہتے ہیں امریکہ یوکرین کی مدد بند نہ کرے۔

  5. بریکنگ, زیلنسکی یوکرین جنگ اور معدنیات کے معاہدے پر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے صدر ولامیر زیلنسکی یوکرین جنگ اور معدنیات کے معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔

    دونوں صدور یوکرین جنگ کے مستقبل اور معدنیات کے معاہدے اسے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ معاہدے امریکہ کو یوکرین کے معدنیات تک رسائی فراہم کرے گا۔

    اس سے قبل یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدہ‘ مزید معاہدوں کی راہ ہموار کرے گا تاہم انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ اس ضمن میں ابھی تک امریکہ کی جانب سے سیکورٹی کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی ہے۔

    ادھر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے امریکی ٹیکس دہندگان کو جنگ کے دوران یوکرین کو بھیجی جانے والی امداد کی صورت میں ’اپنی رقم واپس لینے‘ میں مدد ملے گی لیکن انھوں نے کہا کہ کیئو کی سیکورٹی کی ذمہ داری یورپ پر آنی چاہیے۔

    اس معاہدے کی شرائط پر پہلے ہی دونوں فریقوں کی جانب سے اتفاق ہو چکا ہے تاہم یوکرینی صدر کوشش کر رہے کہ اس معاہدے کی شرائط میں امریکی کی جانب سے سیکورٹی کی ضمانت مل سکے جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ یورپ کی ذمہ داری ہے۔

    جمعے کو ہونے والی دونوں صدور کی یہ ملاقات زیلنسکی کے اس بیان کہ ٹرمپ ’روس کی بنائی ہوئی غلط بیانی کی دنیا میں رہ رہے ہیں‘ کے ایک ہفتے بعد ہو رہی ہے۔ جبکہ ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو جواب میں آمر قرار دیا تھا۔

    اس معاہدے کی کن شرائط پر اب تک اتفاق ہوا ہے؟

    بدھ کو یوکرین کے وزیر اعظم ڈینس شمیہل نے کہا کہ یوکرین اور امریکہ نے معدنیات کے معاہدے کے ایک مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    ابتدائی معاہدے میں یہ کہا گیا ہے کہ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ایک ’سرمایہ کاری فنڈ‘ قائم کیا جائے گا۔

    شمیہل نے کہا کہ کیف اور واشنگٹن فنڈ کا انتظام ’برابر کی بنیاد کی شرائط‘ پر کریں گے۔

    معاہدے کے مطابق یوکرین مستقبل کی آمدنی کا 50 فیصد سرکاری ملکیتی معدنی وسائل، تیل اور گیس سے فنڈ میں دے گا، اور اس کے بعد یہ فنڈ ’یوکرین کی حفاظت، سیکورٹی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے‘ سرمایہ کاری کرے گا۔

    معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت، امریکی قانون کے تابع، ’مستحکم اور اقتصادی طور پر خوشحال یوکرین کی ترقی کے لیے طویل مدتی مالیاتی وعدے کو برقرار رکھے گی۔‘

    بدھ کو یوکرین صدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فنڈ قائم کرنے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس میں ’پیسوں کی بات کرنا قبل از وقت ہے۔‘

    معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی قانون کے تحت منظور شدہ فنڈ کی زیادہ تر رقم کا مالک امریکہ ہو گا۔

    معدنیات کے معاہدے کی شرائط پر اختلاف بھی اس نکتے پر ہے۔

  6. بریکنگ, رمضان کا چاند نظر نہیں آیا، پہلا روزہ دو مارچ بروز اتوار کو ہو گا: مرکزی رویت ہلال کمیٹی

    Moon Sighting

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ماہ رمضان کا چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی، لہٰذا ملک میں پہلا روزہ دو مارچ بروز اتوار کو ہو گا۔

    پشاور میں رمضان کا چاند دیکھنے سے متعلق ہونے والے اجلاس کے بعد چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیشتر مقامات پر مطلع ابر آلود رہا، کچھ مقامات پر مطلع صاف بھی رہا تاہم ملک کے کسی بھی مقام سے ماہ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کی کوئی شہادت کوئی موصول نہیں ہوئی، لہٰذا اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ پہلا روزہ دو مارچ 2025 بروز اتوار کو ہو گا۔

    اجلاس میں علما کرام کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات کے افسران بھی شریک تھے۔

    محکمہ موسمیات کا بھی کہنا تھا کہ آج ملک میں رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔

  7. انڈیا: اتراکھنڈ میں گلیشیئر پھٹنے سے 57 مزدور برف تلے دب گئے، مسلسل برفباری سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات

    گڑھوال سیکٹر میں بی آر او کیمپ کے قریب برفانی تودہ گر گیا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہ@suryacommand

    ،تصویر کا کیپشنگڑھوال سیکٹر میں بی آر او کیمپ کے قریب برفانی تودہ گر گیا ہے۔

    انڈین ریاست اتراکھنڈ میں بدری ناتھ دھام کے قریب گلیشیئر پھٹنے سے 57 مزدور برف کے نیچے دب گئے ہیں جن میں سے 16 مزدوروں کو ریسکیو کرنے کے بعد قریبی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

    چمولی کے ضلع مجسٹریٹ سندیپ تیواری نے بتایا ہے کہ ’منا گاؤں اور مانا پاس کے درمیان بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے قریب برفانی تودہ گرنے کی اطلاع ملی ہے۔‘

    بی آر او کے ایگزیکٹیو انجینئر سی آر مینا نے خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ تین سے چار ایمبولینس جائے وقوع پر بھیجی گئی ہیں لیکن شدید برف باری کی وجہ سے ریسکیو کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن میں تقریباً 65 افراد شامل ہیں۔

    ایس ڈی آر ایف یا ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی ایک ٹیم جوشی مٹھ سے روانہ ہوگئی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ لمبا گڈ میں راستے کو صاف کرنے کے لیے فوج سے بھی رابطہ کیا گیا ہے جو راستے بند ہونے کی وجہ سے ابھی تک پہنچ نہیں پائی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایک اور ٹیم ہیلی پیڈ پر تیار کھڑی ہے۔ جیسے ہی موسم کی صورتحال بہتر ہوگی ریسکیو ٹیم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی جگہ پر اتارا جائے گا۔

    ایس ڈی آر ایف کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ریدھیم اگروال نے بتایا کہ ایس ڈی آر ایف ڈرون ٹیم بھی تیار رکھی گئی ہے تاہم شدید برف باری کی وجہ سے ڈرون آپریشن فی الوقت ناممکن ہے۔

    ادھر انڈیا میں محکمہ موسمیات نے اتراکھنڈ سمیت کئی پہاڑی علاقوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے جس میں جمعہ کی دیر رات تک بہت زیادہ بارش (20 سینٹی میٹر تک) کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  8. مولانا حامد الحق پر حملہ میرے گھر اور مدرسے پر حملہ ہے: مولانا فضل الرحمان

    fazlur rehman

    جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مولانا حامد الحق کی ہلاکت سمیت دارالعلوم حقانیہ پر دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے دارالعلوم حقانیہ اور مولانا حامد الحق کی ہلاکت کے بعد اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا حامد الحق پر حملہ میرے گھر اور مدرسے پر حملہ ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی معاشرے کے لیے ناسور بن چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے اور ’کے پی میں بدامنی کے بارے میں عرصے سے رونا رو رہے ہیں لیکن ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘

  9. کوئٹہ: جان محمد روڈ پر بم دھماکے میں دس افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    QUETTA

    ،تصویر کا ذریعہBBC/ KHAIR MUHAMMAD

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعے کو بم دھماکے کے نتیجے میں دس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ عبداللہ عارف نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ تین بج کر دس منٹ کے لگ بھگ جان محمد روڈ پر ہوا۔

    متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی انورعلی کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کرکے اسے جان محمد روڈ اور گیلانی روڈ کے سنگم پر کھڑا کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد کو اس وقت اڑایا گیا جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزررہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو قریب میں سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں منتقل کیا گیا۔

    ٹراما سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ارباب کامران نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا دھماکے کے دس زخمیوں کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    ڈی ایس پی انورعلی نے بتایا کہ دھماکے کے لیے دو سے ڈھائی کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا دیا گیا۔

    دھماکے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نقصان پہنچنے کے علاوہ قرب و جوار کی دکانوں کے بھی شیشے ٹوٹ گئے۔

    خیال رہے کہ جان محمد روڈ شہر کا گنجان آباد علاقہ ہے اور اس کا شمار شہر کے اہم تجارتی مراکز میں ہوتا ہے۔

  10. جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: آئینی بینچ میں مزید پانچ ججز شامل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    sc

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں مزید پانچ ججز کو شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    جوڈیشل کمیشن نے یہ منظوری اکثریت رائے سے دی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس عامر فاروق، جسٹس شکیل احمد، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہور آئینی بینچ کا حصہ بن گئے ہیں۔

    اب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں ججز کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔

    جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کمیشن کے چار ممبران نے رائے دی کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز کو آئینی بینچ میں شامل کیا جائے۔

    اس کے علاوہ اجلاس میں راجہ غضنفر علی خان، طارق محمود باجوہ، عبہر گل خان اور تنویر احمد شیخ کو لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔

    راجہ غضنفر علی خان کو 14 ووٹ ملے، عبہر گل خان کو 11 ووٹ، تنویر احمد شیخ کو 10 ووٹ جبکہ طارق محمود باجوہ کو 12 ووٹ ملے۔

  11. جامعہ دارالعلوم حقانیہ کب اور کیسے بنا؟

    haqqania

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں جمعے کو ہونے والے خودکش حملے میں مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حملے میں نشانہ بننے والا مدرسہ پاکستان کے مدارس میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور مختلف ادوار حکومت میں اس مدرسے کو حکومتی گرانٹ بھی دی جاتی رہی ہے۔

    دھماکے میں ہلاک ہونے والے مولانا حامد الحق جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ تھے اور وہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔

    ان کے والد مولانا سمیع الحق معروف سیاسی اور مذہبی شخصیت تھے۔ مدرسے کی بنیاد مولانا سمیع الحق کے والد شیخ الحدیث مولانا عبدالحق نے پاکستان بننے کے ایک ماہ بعد یعنی ستمبر 1947 میں رکھی تھی۔

    یہ مدرسہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سابق سربراہ مولانا سمیع الحق کی وجہ سے بھی زیادہ شہرت رکھتا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ میں مولانا سمیع الحق کو بابائے طالبان بھی کہا جاتا رہا ہے۔

    مولانا سمیع الحق کو سال 2018 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    ماضی میں افغانستان سے تجارت اور آمد و رفت کے لیے یہ ایک اہم مقام رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے ماضی میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اس مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے رہے ہیں۔

    Jamia Haqqania

    ،تصویر کا ذریعہJamia Haqqania

  12. دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے: وزیر اخلہ

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جامع مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے نوشہرہ میں جمعے کی نماز کے بعد ہونے والے دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت دیگر افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہا ہے، قوم کی حمایت سے دشمن کی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں دھماکے کی مذمت کی ہے اور متعلقہ حکام سے افسوسناک واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے بھی مولانا حامد الحق پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ملزمان اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    مرکزی سیکریٹری جنرل جے یو آئی و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ جیسے علمی مرکز پر دہشت گردوں کے حملے سے دل زخمی ہے۔

    مولانا عبد الغفورحیدری کا کہنا ہے کہ مولانا حامدالحق ایک بے ضرر انسان تھے اور خالص تعلیمی اور تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب ایسی شخصیات ٹارگٹ پر ہیں تو جو سرعام ظلم کو چلینج کرتے ہیں ان کا کیا بنے گا۔‘

  13. دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں ’خودکش‘ دھماکہ: مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    Darul Uloom Haqqania

    ،تصویر کا ذریعہDarul Uloom Haqqania

    خیبر پختونخوا کی پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ ضلع نوشہرہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والے دھماکے میں مدرسے کے نائب مہتمم اور جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    57 سالہ حامد الحق حقانی دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم تھے۔ وہ 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے اور 2018 میں اپنے والد سمیع الحق کے قتل کے بعد جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ بنے تھے۔

  14. بریکنگ, دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں ’خودکش‘ دھماکہ، ہلاکتوں کا خدشہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    خیبر پختونخوا کی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ضلع نوشہرہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں ایک ممکنہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تین افرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے نجی ٹی وی جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ جمعے کی نماز کے بعد ہوا اور حملہ آور کا ٹارگٹ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) سمیع الحق گروپ کے سربراہ اور مدرسے کے منتظم مولانا حامد الحق تھے جو شدید زخمی ہوئے ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔

    57 سالہ حامد الحق حقانی دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم ہیں۔ وہ 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے اور 2018 میں اپنے والد سمیع الحق کے قتل کے بعد جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ بنے۔

    ریسکیو 112 کے مطابق کنٹرول روم کو حقانیہ مدرسہ اکوڑہ خٹک میں دھماکہ کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد ان کی چھ ایمبولینس بمعہ میڈیکل اور فائر ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔

    ریسکیو 1122 نوشہرہ کے مطابق دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقلی کا عمل جاری ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی کے مطابق پشاور، مردان اور نوشہرہ سمیت آس پاس کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری آفس سمیت تمام مراکز صحت کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

    ادھر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق زخمیوں کی ممکنہ آمد کے پیش نظر ایل آر ایچ ایمرجنسی کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش حملہ اور کے اعضا ملے ہیں اور بم ڈسپوزیبل یونٹ کی ٹیمیں مزید شواہد اکھٹے کررہی ہیں اور دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔

  15. غزہ میں رمضان کی آمد سے قبل بازاروں کی رونقیں لوٹ آئیں

    غزہ میں تباہی اور مُشکل حالات کے باوجود رمضان کی آمد سے قبل ہی رونقیں لوٹ آئیں ہیں۔

    غزہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ میں بچے اور بڑے، سب ہی مل کر اپنے گلی محلوں کو سجانے میں مصروف تھے۔ بازاروں اور گلی محلوں میں رمضان کی آمد کے موقع پر جھنڈیاں لگائی گئیں ہیں۔

    رمضان کی آمد پر غزہ کے مناظر:

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا مصر میں آغاز

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مصر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر ’بات چیت‘ قاہرہ میں شروع ہو گئی ہے۔

    حماس نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ سنیچر 24 فروری کو ختم ہو گیا تھا لیکن معاہدے کے مطابق مذاکرات کا دوسرا مرحلہ ہونے تک جنگ بندی برقرار رہے گی۔

    تاہم گزشتہ روز اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے چار یرغمالیوں کی لاشیں وصول کرنے کے بعد مذاکرات کاروں کا ایک وفد بھی مصر بھیج دیا تھا تاکہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر بات چیت کا آغاز کیا جا سکے۔

    غزہ میں اب بھی تقریباً 60 یرغمالی زیرِ حراست ہیں جن میں سے اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ صرف 24 یرغمالی زندہ ہیں۔

    جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے بڑی تعداد میں اسرائیلی یرغمالیوں کا تبادلہ ہونا ہے اور غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کا خاتمہ بھی متوقع ہیں۔

    جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے آخری دور میں حماس نے چار اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ان کے حوالے کیں اور اسرائیل نے 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

    حماس کے مطابق بقیہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اسی وقت ہوگی جب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں تمام اسرائیلی افواج غزہ سے نکل جائیں گی۔

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو پر اپنے سیاسی اتحادیوں کی جانب سے جنگ دوبارہ شروع کرنے اور حماس کو تباہ کرنے کی کوششوں کے لیے دباؤ ہے۔

    غزہ جنگ بندی کا معاہدہ قطر، امریکہ اور مصر کی ثالثی سے 19 جنوری کو طے پایا تھا اور اس کے تین مراحل ہیں۔

    جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ چھ ہفتوں پر محیط تھا جس کے دوران غزہ سے تقریباً 1900 فلسطینی قیدیوں کے بدلے مجموعی طور پر 33 اسرائیلی یرغمالیوں کا تبادلہ کیا گیا۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں میں سے آٹھ ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسرے مرحلے میں باقی یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا منصوبہ ہے۔

    تاہم تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہوگی یعنی یہ ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں کئی سال لگیں گے۔ اس میں ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی بھی شامل ہوگی۔

  17. تمام مقدمات جعلی ہیں، عوام دیکھ رہی ہے کہ یہ کیا سرکس جاری ہے: شبلی فراز

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعے کے روز نو اور 10 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

    سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’تمام مقدمات مکمل طور پر جعلی مقدمات ہیں۔ لوگ اس ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیب کی جانب سے جو تفصیلات بتائی گئی ہیں 40 ارب سے زائد کا سرمایہ اس ملک سے چلا گیا ہے۔ ہم بھیک مانگ رہے ہیں۔‘

    سپریم کورٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں عالیہ حمزہ اور شہریار آفریدی سمیت دیگر کی ضمانتیں منسوخی کی اپیلوں پر سماعت کے دوران پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ سے رپورٹ جمع کروانے کے لیے عدالت سے وقت مانگ لیا۔

    پنجاب حکومت کی اس استدعا پر عدالت نے کیس سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ ضمانت منسوخی کی اپیلیں پنجاب حکومت کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’ایسی صورتحال میں نقصان صرف عوام کا ہو گا۔ گزشتہ روز کی کانفرس میں فسطائیت کی انتہا کر دی گئی۔ یہ اپنے آپ کو سیاسی اور اخلاقی طور پر اتنا کمزور سمجھتے ہیں کہ ایک کانفرنس کا انعقاد بھی نہیں ہونے دیتے۔ ملک کی بھلائی کے لئے کوئی پلان نہیں ہے۔ کل وزیروں کا ایک جھرمٹ انھوں نے شامل کیا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے لوگوں کو نوازا گیا ہے جنھوں نے اپنے ضمیر کو بیچا ہے۔ پاکستان کی عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیا سرکس جاری ہے۔

    عدالت کے باہر ہی موجود رہنما پاکستان تحریکِ انصاف عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ ’اس حکومت کا فسطائیت کا چہرہ سب کے سامنے ہے۔ یاسمین راشد، عمر چیمہ کسی کی ضمانت نہیں ہو رہی۔ ہمیں فئیر ٹرائل کا حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ آج سپریم کورٹ میں ان ضمانتوں کو چیلینج کرنے آئی تھی۔ عوام کے ٹیکس پئیرز کا پیسہ عوام کو دبانے پر استعمال کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنی مرضی کے قوانین لانا، اپنے فائدے کے لیے 26ویں آئینی ترمیم پاس کروانا۔ میڈیا پر پیکا ایکٹ مسلط کر دیا گیا۔ ایک اپوزیشن الائنس سے کیوں گھبرا رہے ہیں۔ مجھے مینار پاکستان پر ایک جلسہ کرنے کی اجازت دے دیں لوگوں کو گرفتار نا کریں راستے کھول دیں۔

    عالیہ حمزہ نے مزید کہا کہ ’مان لیں آپ ہار گئے ہیں وہ ایک شخص جیل میں بیٹھا اپنی عوام کی جنگ لڑ رہا ہے۔‘

  18. سپریم کورٹ میں نو مئی واقعات سے متعلق کیس کی سماعت: تحریک انصاف کو اضافی دستاویزات جمع کروانے کے لیے مزید مہلت

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے نو مئی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق کیس میں تحریک انصاف کو اضافی دستاویزات جمع کروانے کی مہلت دے دی ہے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس آمین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے تحریک انصاف کی نو مئی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

    ایڈووکیٹ حامد خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ نو مئی کے ملزمان کو کس انداز سے پراسیکیوٹ کیا جا رہا ہے۔‘

    پانچ رکنی آئینی بینچ میں شامل جسٹس جمال خان مندو خیل نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنائیں؟ آپ نے درخواست میں لکھا ہے نو مئی کو درجنوں لوگ مارے گئے، کسی کا ڈیٹھ سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ نہیں لگایا گیا۔‘

    عدالت کے اس استفسار کے جواب میں ایڈووکیٹ حامد خان نے کہا کہ ’انکوائری جوڈیشل کمیشن کرے گا تو اموات کا پتہ چلے گا۔‘

    جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے اور کہا کہ ’ایک سرٹیفکیٹ یا ایف آئی آر کی کاپی تو لگا سکتے تھے۔‘

    جسٹس امین الدین نے ایڈووکیٹ حامد خان سے سوال کیا کہ ’9 مئی کے واقعہ پر کوئی پرائیویٹ شکایت کا اندراج کروایا گیا؟‘

    جس کے جواب میں ایڈووکیٹ حامد خان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملہ پر عدالت کو از خود نوٹس لینا چاہیے تھا۔ عدالت نے ماضی میں میمو گیٹ کیس میں کمیشن تشکیل دیا۔ 9 مئی کو بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا۔‘

    جس پر جسٹس محمد علی خان کا کہنا تھا کہ ’اب صورتحال کافی تبدیل ہو چکی ہے۔ 9 مئی کے کیسز اب عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ اس پوزیشن میں نہیں فوری کمیشن بنا دیں۔ اگر کمیشن بن جائے تو خصوصی عدالت سے متعلق پانچ رکنی بینچ فیصلے کا کیا بنے گا۔‘

    جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس کے بعد جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ ’کمیشن بن بھی جائے نو مئی کا فیصلہ عدالت کو ہی کرنا ہے۔‘

    اس پر ایڈووکیٹ حامد خان کا کہنا تھا کہ ’اصل سوال یہ ہے نو مئی کو ذمہ دار کون ہے۔‘

    جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’غلط یا صیح اس وقت سینکڑوں لوگوں کو ذمہ دار بنا دیا گیا۔ سینکڑوں لوگوں کیخلاف عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں۔‘

    اس پر ایڈوکیٹ حامد خان کا کہنا تھا کہ ’سینکڑوں لوگوں کے علاوہ بھی لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔‘

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ’جو لوگ بچ گئے ہیں کیا ان کو بھی پھنسانا چاہتے ہیں؟‘

    اس پر ایڈوکیٹ حامد خان کے ساتھ عدالت میں موجود سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’عام انتخابات کے پہلے کے معاملات کو بھی دیکھے۔ الیکشن کے معاملہ پر جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے۔ بانی تحریک انصاف نے معاملہ پر خط بھی لکھا ہے۔ الیکشن سے پہلے ہمارے لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔ انتظار پنجھوتہ کو اغواء کیا گیا۔ الیکشن معاملہ پر کمیشن انکوائری ایکٹ 2015 میں بھی بتایا گیا۔‘

    سلمان اکرم راجہ کے دلائل پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ وہ 35 پنچر والے کیس کی بات کر رہے ہیں۔‘

    اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’انکوائری کمیشن مجموعی طور پر الیکشن کے دوران حالات حاضرہ کا جائزہ لے گا۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’ہر الیکشن کی کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے۔ آپ نے تو غلطی کا اعتراف کرلیا کہ آئندہ غلطی نہیں ہوگی۔‘

    سلمان اکرم راجہ نے جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’شکریہ میرا بیان پڑھ لیا۔ یہاں فیصلہ کوئی اور کرتا ہے۔ نو مئی کو کوئی سی سی ٹی وہ فوٹیج نہیں دی گئی۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے اس پر ریمارکس دیے کہ ’سی سی ٹی وی فوٹیج نو مئی کیسز میں یہ آپکا بہت اچھا دفاع ہو سکتا ہے۔‘

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’کس نے صوفہ کو جلایا کس نے گیٹ کھولا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے سب پتہ چل جائے گا۔‘

    بعد ازاں عدالت نے تحریک انصاف کو مزید دستاویزات جمع کروانے کی مہلت دیتے ہوئے نو مئی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے نو اور دس مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق کیس میں پنجاب حکومت کو رپورٹ جمع کروانے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دے دیا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نو اور دس مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

    پراسیکیوٹر جزل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔ عالیہ حمزہ اور شہریار آفریدی و دیگر کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر پنجاب حکومت نے رپورٹ جمع کروانے کے لیے عدالت سے وقت مانگ لیا گیا۔

    عدالت نے کیس سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ ضمانت منسوخی کی اپیلیں پنجاب حکومت کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

  19. جیل میں قید کرد رہنما کا اپنی تحریک ختم کرنے اور پیروکاروں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جیل میں قید کالعدم کرد گروپ پی کے کے کے رہنما عبداللہ اوکلان نے اپنی تحریک کو ختم یا تحلیل کرنے اور اس میں شامل مسلح افراد سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    عبداللہ اوکلان کا یہ پیغام کردوں کی حامی ایک جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے پڑھ کر سُنایا گیا۔ عبداللہ کی جانب سے لکھے گئے اس خط اور اُن کے بیان کا مقصد جنوب مشرقی ترکی میں چار دہائیوں سے جاری مسلح جدوجہد کو ختم کرنا ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اس سے قبل 75 سالہ اوکلان نے استنبول کے جنوب مغرب میں بحیرہ مرمرہ کے ایک جزیرے امرالی میں ارکان پارلیمنٹ سے کئی گھنٹوں تک ملاقات کی تھی جہاں وہ 1999 سے قید تنہائی میں ہیں۔

    ان کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ماہ قبل ترکی کی حکومت کے اتحادی انتہا پسند رہنما ڈیولٹ بہسیلی نے تنازع کے خاتمے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا تھا۔

    اوکلان کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’جمہوری اتفاق رائے ہی سیاسی نظام کے استحکام کا بنیادی راستہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

    حالیہ مہینوں میں امرالی جزیرے کے تیسرے دورے کے بعد پیپلز ایکویلیٹی اینڈ ڈیموکریسی پارٹی (ڈیم پارٹی) کے ارکان احمد ترک اور پروین بلدان نے استنبول کے ایک ہوٹل میں کرد اور ترک دونوں زبانوں میں یہ خط پڑھ کر سنایا۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہDem Party

    کردستان ورکرز پارٹی کے ارکان سے اپیل کرتے ہوئے اوکلان نے کہا کہ ’تمام گروہوں کو ہتھیار ڈالنے چاہئیں اور پی کے کے کو خود کو اب تحلیل کر دینا چاہئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ترکی، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا میں دہشت گرد گروپ کے طور پر کالعدم قرار دی جانے والی یہ تحریک بنیادی طور پر اس لیے قائم کی گئی تھی کیونکہ ’جمہوری سیاسی نظام کو مسائل کا سامنا تھا اور ایسی تحریک چلانے کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔‘

    کرد رہنماؤں نے اس بیان کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا اور مقامی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں افراد کرد اکثریتی جنوب مشرقی شہروں دیار باقر اور وان میں بڑی اسکرینوں پر اس بیان کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔

    تاہم، کرد اور ترک عوام دونوں ہی اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ اب آگے چل کر کیا ہوگا کیونکہ کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ چیزیں اور حالات اس طرح سے بدل جائیں گے۔

    گزشتہ ہفتے پی کے ایک سینئر کمانڈر، ڈوران کالکن نے متنبہ کیا تھا کہ حکمراں اے کے پی کسی حل کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ ’قبضہ کرنے، تباہ کرنے اور سخت اقدامات کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کرد سیاستدانوں اور صحافیوں کو کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ترک فوج عراقی کردستان اور شمال مشرقی شام میں فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔‘

    شمال مشرقی شام میں ترکی کی حمایت یافتہ افواج نے کرد فورسز کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں اور گذشتہ ماہ شام کے نئے رہنماؤں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کردوں کی زیرِ قیادت سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو ختم کریں۔

    واضح رہے کہ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی جانب سے گزشتہ سال 14 دسمبر کو این ٹی وی نیوز ویب سائٹ کو بتایا تھا کہ ’کردوں کی قیادت والے گروپوں کو خود کو ختم کر دینا چاہیے ورنہ وہ تباہ ہو جائیں گے۔ وائی پی جی اور پی کے کے میں شامل وہ لوگ جو شامی نہیں ہیں اور جنھیں شام میں بین الاقوامی دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے، انھیں چاہیے کہ ملک چھوڑ دیں۔‘

  20. اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر شدید ٹریفک جام

    Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہHaseeb Ahmad

    پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں گزشتہ شب بد ترین ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ شہر کی مختلف شاہراہیں تین سے چار گھنٹے تک بند رہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں سفر کے دوران شدید مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے گزشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں پہلے بتایا گیا کہ ’غیر مُلکی مہمان کی اسلام آباد آمد کی وجہ سے دن کے مختلف اوقات میں ٹریفک کی روانی میں کُچھ دیر کے لیے سُست روی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    اس کے بعد ایک اور بیان میں آئی ٹی پی کی جانب سے ایک اور بیان میں بتایا گیا کہ ’غیر مُلکی ٹیم کی آمدورفت کے باعث مختلف اوقات میں ٹریفک متاثر ہوگی۔‘

    واضح رہے کہ ایک جانب تو راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان میں جاری چیمپیئنز ٹرافی کے میچز کی وجہ سے مختلف اوقات میں ٹریفک کی روانی میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تو دوسری جانب گزشتہ روز ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے جن مقامات پر گزشتہ روز شہریوں کو ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا اُن میں ایکسپریس ہائی وے، مری روڈ، سری نگر ہائی وے، کرال چوک، کھنہ پل، فیض آباد، زیرو پوائنٹ، فیصل ایونیو اور دیگر شامل تھے۔