کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں پیٹرول کی شدید قلت, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں نہ صرف سستا ملنے والا ایرانی پیٹرول نایاب ہو گیا ہے بلکہ جہاں دستیاب ہے وہاں اس کی قیمت پاکستانی آئل کمپنیوں کے پیٹرول سے بھی زیادہ ہے۔
پاکستانی آئل کمپنیوں کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ایرانی تیل فروخت ہوتا ہے۔
عید سے قبل کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول 280 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا لیکن عید سے تین چار روز پہلے اس کی فی لیٹر قیمت 380 روپے تک پہنچ گئی۔ اور اب یہ اس نرخ پر بھی دستیاب نہیں ہے۔
ریلوے کالونی کوئٹہ کے ایک رہائشی بسم اللہ بلوچ نے بتایا کہ ایرانی پیٹرول اس وقت کوئٹہ میں 400 روپے فی لیٹر سے زائد میں فروخت ہورہا ہے۔
ایک جانب ایرانی پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے دوسری جانب پاکستانی آئل کمپنیوں کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول دستیاب ہی نہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے شہر میں تیل کی قلت کا نوٹس لیا ہے اور زیادہ قیمت پر تیل فروخت کرنے والے منی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرکے گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
ایرانی سرحد سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ماشکیل شہر کے تاجر رہنما میر کبیر احمد ریکی نے بتایا کہ قلت کے باعث وہاں ایرانی پیٹرول 500 روپے فی لیٹر سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ماشکیل میں ایران آمد و رفت کے کراسنگ پوائنٹ سے صرف ایرانی ڈیزل لانے کی اجازت ہے، جبکہ پیٹرول کی ترسیل پنجگور کے چیدگی کراسنگ پوائنٹ اور چاغی کے راغے کراسنگ پوائنٹ سے ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عید کی تعطیلات کے باعث بارڈر بند ہونے سے پیٹرول کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اگرچہ ایران سے ملحق اضلاع کیچ اور گوادر میں ایرانی پیٹرول کی قیمتیں دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم ہیں، تاہم قلت کے باعث وہاں بھی نرخ پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہو گئے ہیں۔
ضلع کیچ کے صدر مقام تربت میں تیل کے کاروبار سے وابستہ وارث رند نے بتایا کہ تربت میں ایرانی پیٹرول 340 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برسوں سے ضلع کیچ میں ایران سے پیٹرول نہیں بلکہ صرف ڈیزل آ رہا ہے، اور پیٹرول کے لیے انحصار گوادر پر ہے۔ چونکہ کنٹانی بارڈر سے سپلائی بند ہے اور دیگر راستوں سے آنے والی مقدار محدود ہے، اس لیے طلب پوری نہیں ہو رہی۔
گوادر میں منگل کے روز ایرانی پیٹرول 260 سے 270 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔ گوادر میں تیل کے کاروبار سے وابستہ ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کنٹانی بارڈر سے عید سے قبل بعض وجوہات کی بنا پر تیل کی ترسیل روک دی گئی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ دیگر راستوں سے آنے والا تیل صرف گوادر کی ضروریات پوری کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کیچ اور دیگر اضلاع میں پیٹرول کی سپلائی متاثر ہونے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔






