لائیو, امریکہ اور ایران کے درمیان مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ’علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھانے‘ کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا۔

خلاصہ

  • پاکستان کی کویت اور بحرین پر حملوں کے بعد فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل
  • ممکن ہے ہفتے کے آخر تک ایران سے معاہدہ طے پا جائے: ٹرمپ
  • میدان جنگ میں شکست کے بعد دُشمن اب ایران میں تقسیم کے بیج بو رہا ہے: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای
  • امریکی ایوانِ نمائندگان کا ایران کے خلاف جنگ روکنے کے حق میں ووٹ
  • حزب اللہ کی جانب سے حملے بند کرنے کی شرط پر اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق

لائیو کوریج

  1. پاکستانی وزیرِ داخلہ کی اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات

    محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہPakistan's Interior Ministry

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے اس ملاقات کی تفصیلات تو جاری نہیں کیں، تاہم بی بی سی فارسی کے مطابق یہ ملاقات کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی ہے۔

    پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی حالیہ ہفتوں میں متعدد مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انھوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    اس سے قبل وہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ بھی ایک مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔

  2. امریکہ اور ایران کے درمیان مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے امریکی صدر کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے اور صدر ٹرمپ کو ’امن کے داعی‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ’امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اعتماد کے اظہار پر امریکہ اور ایران کے شکر گزار ہیں۔

    اپنے خطاب میں انھوں نے ’علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھانے‘ کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ وہ دعا گو ہے کہ جلد خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔

    US

    ،تصویر کا ذریعہUS Emabassy

    اس موقع پر پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 1979 کے انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلی ترین مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کروانے پر پاکستان کی تعریف کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے باعث دو مخالف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے پاکستان کو منفرد حیثیت حاصل تھی۔

    ’یہ پاکستان کا لمحہ تھا اور پاکستان اس پر پورا اترا۔‘

  3. بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی عہدیدرا کی ہلاکت کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Protest

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے سینیئر رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کے بیٹے میر خلیل احمد زہری کی فائرنگ سے ہلاکت کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

    کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ شام کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر کیا گیا۔

    پارٹی کے رہنماؤں نے مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سردار نصیر احمد موسیانی کے بیٹے اور پارٹی کے ضلع خضدار کے مقامی رہنما میر خلیل احمد زہری کی ہلاکت کی مذمت کی۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ خلیل احمد زہری کی ہلاکت سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر بلبل زہری میں کارروائی کے دوران سردار نصیر آباد موسیانی کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں انھوں بلاجواز فائرنگ کی جس سے خلیل احمد زہری شدید زخمی ہوا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے بعد خلیل احمد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کے علاوہ سردار نصیر احمد موسیانی اور ان کے دوسرے بیٹے زہری خان کو حراست میں لے کر گئے اور بعد میں ان کے بقول خاندان کے افراد کو فون کرکے بتایا گیا کہ خلیل احمد زہری کی لاش کو لے جائیں۔

    اس حوالے سے حکومت بلوچستان کا موقف لینے کے لیے دو عہدیداروں سے رابطہ کیا گیا، جن میں سے ایک نے موقف نہیں دیا۔ تاہم دوسرے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ خلیل احمد زہری سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں زخمی نہیں ہوئے۔

    ان کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز پر بلبل زہری میں حملے کے بعد جب سکیورٹی اہلکار ملزمان کی گرفتاری کے لیے گئے تو ان پر، سرکاری عہدیدار کے بقول، فائرنگ کی گئی جس میں ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملے کے بعد اپنے دفاع میں کارروائی کی۔

  4. لبنان اسرائیل کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا: حزب اللہ

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اپنے ایک بیان میں انھوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو ’بے وجہ، ذلت آمیز اور شرمناک‘ قرار دیا اوردعویٰ کیا کہ لبنانی عوام کا ایک بڑا حصہ ان مذاکرات کو ’دوٹوک طور پر‘ مسترد کرتا ہے۔

    حزب اللہ کے رہنما نے خبردار کیا کہ جب تک لبنانی علاقوں پر بمباری جاری رہے گی، شمالی اسرائیل محفوظ نہیں رہے گا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کا اصرار ہے کہ جنگ بندی حزب اللہ کے خلاف اس کے زمینی حملے کو نہیں روکے گی۔

  5. ٹرمپ کی جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے ایوانِ نمائندگان کے ووٹ پر تنقید: ’وہ جانتے ہیں کہ مذاکرات کس مرحلے پر ہیں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان کے ووٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب وہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ’حتمی مذاکرات‘ میں مصروف تھے۔

    امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’کل، ایک بے معنی ووٹ میں، ایوانِ نمائندگان میں چار ریپبلکن ارکان اور تمام ڈیموکریٹس نے میرے جنگی اختیارات محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا، عین اس وقت جب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے میرے حتمی مذاکرات جاری تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا غیر محب وطن اقدام کون کر سکتا ہے؟ وہ جانتے ہیں کہ مذاکرات کس مرحلے پر ہیں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹ

    ،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump

    یاد رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد منظور کی، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی پالیسی کی مخالفت کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ اقدام ایوان میں ریپبلکن قیادت کی خواہشات کے خلاف اٹھایا گیا۔

    امریکی صدر نے ڈیموکریٹس پر ’ٹرمپ سے نفرت کے سنڈروم‘ میں مبتلا ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ’وہ ملک کو ناکامی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ میری متعدد کامیابیوں کے درمیان ایک اور کامیابی حاصل کریں۔‘

    امریکی صدر نے اس بل کے حق میں ووٹ دینے والے چار ریپبلکن ارکان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’محض دکھاوا کرنے والے‘ قرار دیا اور کہا کہ انھیں اپنے طرزِ عمل پر شرم آنی چاہیے۔

    یاد رہے کہ یہ قرارداد امریکی صدر کو جنگ ختم کرنے کا پابند نہیں کرتی بلکہ یہ ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایران کے حوالے سے ان کی جنگی پالیسی کی ایک علامتی مخالفت ہے۔

  6. پاکستان کی امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کے تبادلے کی تردید

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات امریکہ سے شیئر کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

    جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان ان رپورتس کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 29 مئی کو امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطی تنازع کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے اور اسحاق ڈار کے دورہ امریکہ کے دوران بھی امریکی حکام سے اس معاملے میں تبادلہ خیال ہوا۔

    طاہر اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب سے ملاقات میں علاقائی امن، استحکام اور جاری چیلنجوں کے سفارتی حل کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس مکالمے کے دوران کوئی انٹیلی جنس شیئر نہیں کی گئی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری میں امریکہ کی طرف سے ادا کیے گئے مثبت کردار کا خیرمقدم کرتا ہے۔

    صدر ٹرمپ کی جانب سے ممالک کو ابراہم اکارڈ میں شامل کرنے کے سوال پر طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ابراہم معاہدے پر پاکستان کا موقف برقرار ہے۔ ہمارا مطالبہ فلسطین کی ایک قابل عمل، متصل ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور یہ 1967 سے پہلے کی طے شدہ سرحدوں کے اندر ہو۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ اس لیے اس معاملے پر ہمارا موقف ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام سے جڑا ہوا ہے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت اور روس کے مابین ’تکنیکی فوجی معاہدے‘ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ رپورٹس دیکھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاہدہ 27 مئی کو ہوا تھا۔ ابھی تفصیلات معلوم کی جا رہی ہیں۔ اس مرحلے پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔‘

  7. پاکستان کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا، اقتصادی سروے نو جون کو جاری ہو گا, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی کے ایوان میں بجٹ پیش کریں گے جس میں آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی مالی ترجیحات، معاشی حکمتِ عملی اور پالیسی اقدامات کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ بجٹ سے قبل وزارتِ خزانہ و محصولات منگل، نو جون کو اقتصادی سروے جاری کرے گی۔

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اقتصادی سروے پیش کریں گے، جس میں اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی کا جامع جائزہ شامل ہوگا۔ سروے میں مختلف معاشی شعبوں کی پیش رفت، اقتصادی اشاریوں اور مجموعی معاشی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔

  8. ٹیم کے دو ارکان کو ویزے ملنے کے بعد ایرانی فٹبال ٹیم میکسیکو کے سفر کے لیے تیار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی فٹبال ٹیم کے باقی ماندہ دو ارکان کے ویزوں کے اجرا کے بعد فٹبال ٹیم میکسیکو کے سفر کے لیے تیار ہے اور تمام ارکان کے ویزوں کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

    ایرانی فٹبال ٹیم کی مینجمنٹ کے مطابق ایرانی ٹیم سنیچر کو میکسیکو کے لیے روانہ ہو گی۔

    اس سے قبل، ایرانی فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا تھا کہ فیفا کی منظوری سے 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران قومی فٹ بال ٹیم کا کیمپ اور مقام میکسیکو کے سرحدی شہر تیجوانا میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایرانی قومی فٹبال ٹیم کے پہلے دو میچ لاس اینجلس میں ہوں گے اور ایرانی ٹیم کے ارکان اور معاون عملے کو امریکی ویزے جاری کرنے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

  9. ٹرمپ نے ایران جنگ اور صدر کے اختیارات محدود کرنے سے متعلق ایوانِ نمائندگان کی قرارداد کو ’بے معنی‘ قرار دے دیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوان نمائندگان میں جنگ روکنے سے متعلق قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’بے معنی‘ قرار دیا ہے۔

    جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’کل (بدھ) کو ایک بے معنی ووٹ میں چار برے ری پبلکنز اور تمام ڈیمو کریٹس نے میرے اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد منظور کی اور وہ بھی اُس وقت جب ایران کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایسے موقع پر حب الوطنی کے منافی حرکت کون کر سکتا ہے، حالانکہ وہ سب جانتے ہیں کہ ہم مذاکرات کے کس موڑ پر کھڑے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ڈیموکریٹس میری ایک اور کامیابی دیکھنے کے بجائے ملک کو ناکام ہوتا دیکھنا پسند کریں گے۔‘

    قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے چار ری پبلکنز ارکان کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان ارکان کو ’شرم آنی چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ بدھ کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک قرار داد منظور کی تھی جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مزید فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔

    208 کے مقابلے میں یہ قرار داد 215 ووٹوں سے یوں منظور ہوئی کہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے امریکہ کی ایران کی خلاف جنگ کی مخالفت کی۔

    یہ چوتھی بار ہے کہ ایوان نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ایوان کی یہ قرار داد اب بھی ریپبلکن کے زیرِ کنٹرول امریکی سینیٹ کی منظوری کی محتاج ہے۔ حتیٰ کہ اگر یہ سینیٹ میں منظور بھی ہو جائے تو بھی اس سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مکمل طور پر روک دینے کا امکان کم ہے۔

    کیوں کہ ٹرمپ اس کو ویٹو کر سکتے ہیں، اور اس ویٹو کو کالعدم قرار دینے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔

  10. سعودی عرب کی بحرین میں ایرانی حملے کی مذمت

    سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ نے بحرین پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہمسایہ ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعرات کو سعودی وزیر خارجہ فيصل بن فرحان آل سعود نے اپنے بحرینی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی وزیرِ خارجہ نے بحرین کی سلامتی اور خود مختاری کے دفاع کے لیے بحرین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    خیال رہے بدھ کی صبح کویت اور بحرین کی حکومتوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

  11. پاکستان کی کویت اور بحرین پر حملوں کے بعد فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے کویت اور بحرین پر حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

    جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ امریکہ اسی سلسلے کی کڑی تھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا تو پھر سفارت کاری کے راستے محدود ہو جائیں گے۔ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستان مفاہمت کی کوششیں جاری رکھے گا۔

  12. جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا ایک اہلکار ہلاک

    جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    جنوب مشرقی لبنان میں اقوام متحدہ کے ایک دفتر پر مارٹر گولے لگنے سے سربیا کا اقوام متحدہ کا امن فوجی ہلاک ہو گیا۔

    بدھ کو ہونے والے حملے میں دو دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔

    امن مشن نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا اس حملے کی ذمہ داری اسرائیل یا حزب اللہ تھی، تاہم اس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

  13. اسرائیلی وزیرِ دفاع کا جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

    اسرائیل وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے گا اور جنوبی لبنان سے انخلا کرنے والے رہائشی ابھی اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔

    جمعرات کو ایک بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے سیکیورٹی بفر زون میں موجود رہے گی، بشمول بیفورٹ کیسل کا علاقہ، جو 900 سال پرانا قلعہ ہے جس پر اسرائیل نے سنیچر کو قبضہ کیا تھا۔

    اسرائیل کاٹز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کو اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی حمایت کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

    محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں ممالک میں جنگ بندی کا یہ معاہدہ دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کے 'مکمل خاتمے' سے مشروط ہے۔

  14. میدان جنگ میں شکست کے بعد دُشمن اب ایران میں تقسیم کے بیج بو رہا ہے: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سپریم لیڈر مجبتیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ میں ناکامی کے بعد ایران کے اندر تقسیم کا بیج بونا چاہتے ہیں۔

    جمعرات کو جاری کیے گئے اپنے تحریری بیان میں مجبتیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ دشمن کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں شکست ہوئی ہے اور اسے اب ذلت کا سامنا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’دُشمن اب اپنی توجہ ہائبرڈ جنگ پر مرکوز کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ جو آلہ استعمال کر رہا ہے، وہ شک، مایوسی اور بداعتمادی پھیلانا ہے۔‘

    مجبتی خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی قیادت میں سامراج نے پچھلے 80 سالوں میں اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈہ بنایا ہے۔ اور وہ ’گریٹر اسرائیل‘ یعنی دریائے فرات کے مشرق میں جھوٹے، ناجائز جغرافیہ کی مشرقی سرحد پر ایک مضبوط، آزاد ایران کے وجود کو قبول نہیں کرتے۔

  15. وہ لمحہ جب ڈرون کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹکرایا

    ،ویڈیو کیپشنوہ لمحہ جب ڈرون کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹکرایا

    یہ اس لمحے کی فوٹیج ہے جب ایک ڈرون بدھ کی علی الصبح کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آن ٹکرایا۔

    کویت کا دعویٰ ہے کہ ڈرون حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا تاہم ایران نے اس کی تردید کی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی اڈوں کو تو نشانہ بنایا لیکن ایئرپورٹ پر حملہ نہیں کیا۔

    کویت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک انڈین شہری ہلاک جبکہ 63 افراد، بشمول ایئرپورٹ سٹاف اور مسافر، زخمی ہوئے۔

    گذشتہ روز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تازہ لہر دیکھنے میں آئی ہے اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے اہداف پر حملے کیے ہیں۔

  16. کویت اور بحرین پر ایران کے حملوں کے بعد تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب

    جمعرات کی صبح ایشیائی منڈیوں میں برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت تقریباً 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    گذشتہ روز ایران کے کویت اور بحرین پر حملوں اور امریکہ کی جانب سے ایران جانے والے ایک آئل ٹینکر اور جزیرہ قشم کے جنوبی علاقوں پر حملوں نے تیل کی منڈیوں میں دوبارہ بے چینی پیدا کر دی ہے۔

    تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی خبر اختتام ہفتہ تک برینٹ خام تیل کی قیمت کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے سے روک سکتی ہے۔

  17. ممکن ہے ہفتے کے آخر تک ایران سے معاہدہ طے پا جائے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر تک ایران سے معاہدہ طے پانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    وہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔

    امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا کویت پر ایران کے حملوں کے بعد بھی جنگ بندی برقرار ہے؟

    اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہر چیز کی ایک وجہ ہوتی ہے۔‘

    اس ’وجہ‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جس روز ایران نے کویت پر حملے کیے، اس سے پہلے کی رات امریکی فوج نے ایران کو ’بہت شدت سے نشانہ بنایا۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ روز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تازہ لہر دیکھنے میں آئی تھی، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے اور دنوں جانب سے انھیں ’اپنے دفاع میں کیے گئے‘ حملے قرار دیا گیا تھا۔

    ایران نے کہا تھا کہ اس نے خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

    جبکہ امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے ایران کے قشم جزیرے پر ایک فوجی گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ایرانیوں پر بہت شدید حملے کر رہے ہیں، اس لیے کچھ چیزیں کسی وجہ سے ہی ہو رہی ہوتی ہیں۔‘

    تاہم ٹرمپ کے مطابق امریکہ کے پاس ’دنیا کی بہترین فوج‘ ہے جس کی مدد سے ایران کے اقدامات پر قابو پا لیا گیا، تو یہ حالیہ حملے ’کوئی بڑی بات نہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا: ’کچھ لوگ کہیں گے کہ انھیں (ایرانیوں کو) کسی حد تک اشتعال دلایا گیا تھا‘ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ ’وہ اس کا جواب دے رہے تھے‘۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات بہت اچھے جا رہے ہیں۔

    ایران سے ممکنہ معاہدے پر ان کا کہنا تھا: ’ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا، لیکن اگر ہوا تو ممکن ہے ہفتے کے آخر تک ہو جائے۔‘

    جب ان سے جنگ بندی سے متعلق سوال دوبارہ پوچھا گیا تو امریکی صدر کا کہنا تھا: ’یہ دنیا کا مختلف خطہ ہے، اس خطے میں سیز فائر کا مطلب ہوتا ہے کہ فائرنگ نسبتاً کم شدت سے ہو رہی ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی ’دنیا کے دیگر حصوں کی جنگ بندی سے کافی مختلف ہوتی ہے۔‘

  18. ہماری عسکری پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی: ایران

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہElke Scholiers/Getty Images

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’ہماری عسکری پوزیشن اب اس سے زیادہ مضبوط ہے جتنی جنگ سے پہلے تھی۔‘

    ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تنازع کے دوران بھی ایران ہتھیاروں کی پیداوار برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، لہذا ’جتنی دیر بھی ضرورت پڑی ہماری پاس جنگ کو جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

    ’تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں۔‘

  19. امریکی ایوانِ نمائندگان کا ایران کے خلاف جنگ روکنے کے حق میں ووٹ

    کیپیٹل ہل

    ،تصویر کا ذریعہKevin Carter/Getty Images

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مزید فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔

    208 کے مقابلے میں یہ قرار داد 215 ووٹوں سے یوں منظور ہوئی کہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے امریکہ کی ایران کی خلاف جنگ کی مخالفت کی۔

    یہ چوتھی بار ہے کہ ایوان نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ایوان کی یہ قرار داد اب بھی ریپبلکن کے زیرِ کنٹرول امریکی سینیٹ کی منظوری کی محتاج ہے۔ حتیٰ کہ اگر یہ سینیٹ میں منظور بھی ہو جائے تو بھی اس سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مکمل طور پر روک دینے کا امکان کم ہے۔

    کیوں کہ ٹرمپ اس کو ویٹو کر سکتے ہیں، اور اس ویٹو کو کالعدم قرار دینے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔

  20. حزب اللہ کی جانب سے حملے بند کرنے کی شرط پر اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق

    لبنان اور اسرائیل میں معاہدہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی کے نفاذ پر متفق ہو گئے ہیں۔

    محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں ممالک میں جنگ بندی کا یہ معاہدہ دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کے ’مکمل خاتمے‘ سے مشروط ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے: ’تمام ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تعلقات کا مستقبل دونوں خود مختار حکومتوں کو ہی طے کرنا چاہیے۔ انھوں نے کسی بھی ریاست یا غیر ریاستی عنصر کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔‘

    معاہدے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ دریائے لیطانی سے لے کر سرحد تک جنوبی لبنان کا جو علاقہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے، وہاں سے ’حزب اللہ کے تمام اہلکار‘ نکل جائیں گے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’امریکہ ایسے زونز بنانے میں مدد کرے گا، جہاں لبنانی مسلح افواج علاقے پر مکمل کنٹرول سنبھالیں گی اور تمام غیر ریاستی عناصر کو باہر رکھا جائے گا۔‘

    جنگ بندی کا یہ معاہدہ پیر کے روز طے پانے والی ایک جزوی جنگ بندی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں لبنان کا کہنا تھا کہ اس کے تحت اسرائیل بیروت پر بمباری سے گریز کرے گا اور بدلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے نہیں کرے گی۔

    دونوں ممالک 22 جون کو دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ مزید بات چیت کی جا سکے ’اور ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے۔‘

    حزب اللہ نے تا حال اس اعلان پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔