جنوبی غزہ میں ’حملوں کی نئی لہر‘ کا آغاز، غزہ میں امداد کی ترسیل اگلے نوٹس تک معطل

اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو آگاہ کیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر رہا ہے

خلاصہ

  • اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے بعد سنیچر کی شب فریقین جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
  • قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد فریقین نے جنگ بندی اور مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا
  • امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک، واشنگٹن ڈی سی، شکاگو، میامی اور لاس اینجلس سمیت امریکہ کے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ کے عنوان سے مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا

لائیو کوریج

  1. پاکستان نے کراچی بندرگاہ کے ذریعے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معطل کر دی, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

    Afghan transit

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے جمعرات کو کراچی بندرگاہ کے ذریعے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معطل کر دی ہے۔ افغانستان جانے والے کنٹینرز کو کراچی بندرگاہ کے تمام ٹرمینلز پر ٹرکوں سے اتار دیا گیا ہے۔

    صوبہ قندھار میں سپن بولدک کا راستہ کراچی کی بندرگاہ تک جانے والا سب سے مختصر راستہ ہے، جس کے ذریعے افغانستان میں ٹرانزٹ سامان درآمد کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کسٹم کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ کے زیر صدارت میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو افغان پاکستان بارڈر بند ہونے کے نتیجے میں کراچی کے کارگو ٹرمنل اور افغان پاکستان بارڈر پر کسٹم کے کارگو اسٹیشن پر رش کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہاں پر گنجائش کے زیادہ کنٹینر رکے ہوئے ہیں۔

    حکام نے ان کارگو کی سکیورٹی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    پاکستان افغانستان تجارت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا جو سامان ٹرمنل کے اندر گاڑیوں پر لدھا ہوا ہے ان کو آف روڈ کیا جائے گا اور تمام گیٹ پاس منسوخ کیے جائیں گے۔

    یہ بھی فیصلہ کیا گیا افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے جانے والے تمام کنٹینرز کی آمدورفت کی صورتحال معمول پر آنے تک معطل رہے گی۔

    واضح رہے کہ اس وقت اسلام آباد اور کابل میں جھڑپوں کے بعد عارضی جنگ بندی نافذ ہے۔

  2. ٹی ایل پی کے خلاف پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی کریک ڈاؤن جاری, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

    Pakistan

    تحریک لبیک پاکستان کے خلاف پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کے پولیس سمیت سکیورٹی اداروں کی جانب سے 13 اکتوبر صبح مرید کے میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے آپریشن کیا گیا۔

    اس کارروائی کے دوران ٹی ایل پی کی جانب سے اپنے متعدد کارکنوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے دعوے کیے گئے تاہم پولیس کی جانب سے کل پانچ افراد کی ہلاکت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    اس کارروائی کے بعد باقاعدہ طور پر ٹی ایل پی سے منسلک سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کو عمل میں لایا گیا۔

    پنجاب میں ہونے والی امن و امان کے حوالے سے ایک اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب تک تقریباً 2800 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ابھی بھی چھاپوں اور گرفتاریوں کا یہ عمل جاری ہے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے خلاف قانون حرکت میں آ چکا ہے۔

    دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’لاہور سے ٹی ایل پی سے منسلک تقریباً 600 افراد، فیصل آباد سے 350 جبکہ 200 کے قریب افراد کو شیخوپورہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی درجنوں افراد کی گرفتاری عمل لائی جا رہی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکیورٹی ادارے کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ٹی ایل کے خلاف کریک ڈاؤن بلاتفریق کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ احتجاج کا حصہ تھے وہ اور جو احتجاج کا حصہ نہیں تھے مگر وہ ٹی ایل پی سے وابستہ ہیں انھیں بھی گرفتار کیا جا رہا ہے‘۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کے اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جانے کا کہا گیا ہے۔

    اب تک ٹی ایل کے خلاف پنجاب کے متختلف شہروں میں 76 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جبکہ تحریک لبیک کے زیر انتظام درجنوں مساجد بھی انتظامیہ کی جانب سے سیل کر دی گئی ہیں۔ یہاں پر متعدد امام بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

    اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئی ڈی آئی جی کامران فیصل کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام مساجد کو فوری طور پر محکمہ اوقاف کے زیر انتظام کر کے کھولا جائے تاکہ نمازی نماز ادا کرسکیں۔

    جبکہ ہمیں ان تمام مساجد کے باہر پولیس کی سکیورٹی تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ نمازیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  3. یہ سب انڈیا کی شہ پر ہوا، پاکستان جنگ بندی کے دوران جائز شرائط پر مذاکرات کے لیے تیار ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’افغانستان کی جانب سے دہشتگردوں کو کھلی چھٹی حاصل ہے۔ ان دہشت گردوں نے ہمارے شہریوں، افواج پاکستان کے جوانوں اور افسران، پولیس اہلکاروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ہلاک کیا، حالیہ واقعات کے بعد ہمارے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو گیا ہے۔‘

    اسلام آباد میں وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے افغان حکومت کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی، وہاں بسنے والے لوگ ہمارے بہن بھائی ہیں۔

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کے 48 گھنٹوں میں اگر افغان طالبان ہماری جائز شرائط پر بات چیت کر کے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں تو ہم اُس کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیغام ہماری جانب سے افغانستان کو بدھ کی شب جنگ بند کے آغاز کے ساتھ ہی بھیجوا دیا گیا تھا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب اس بات کا انحصار افغان طالبان پر ہے کہ اگر وہ جنگ بندی سے متعلق اپنی درخواست پر سنجیدہ ہے اور معاملات کو بات چیت کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔‘

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوششوں کے باوجود کوئی حل نہیں نکل سکا، جب یہ حملہ ہو رہا تھا افغان وزیر خارجہ اس وقت انڈیا میں موجود تھے اور یہ سب انڈیا کی شہ پر یہ سب ہو رہا تھا اور اس سب کے بعد ہمیں مجبوراً انھیں جواب دینا پڑا۔‘

    وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس حالیہ کشیدگی کو ختم کروانے کے لیے قطر کی جانب سے بھی ثالثی کی پیش کش کی گئی ہے اور وہ بڑی سنجیدگی سے اس مسئلے کے حل کے لیے فریقین سے بات کونے کو تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر عبدالعزیز الخلیفی کا علاقائی صورتحال کے حوالے سے پیغام موصول ہوا جس میں انھوں نے علاقائی امن و سلامتی کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔

    تاہم اسحاق ڈار نے قطر کی مسلسل حمایت، خطے اور دیگر ملکوں میں امن کو فروغ دینے میں اس کے مثبت کردار پر شکریہ ادا کیا۔

  4. اسرائیل نے مزید 30 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ واپس بھیج دیں: حماس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے 30 مزید فلسطینیوں کی لاشیں غزہ میں انتظامیہ کے حوالے کر دی ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کی جانب سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک بیان میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ ’بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے 30 مزید فلسطینیوں کی لاشوں کی غزہ واپسی میں سہولت فراہم کی ہے۔

    وزارت کے مطابق اب تک اسرائیل کی جانب سے واپس کی جانے والی لاشوں کی کل تعداد 120 ہو گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طبی عملہ لاشوں کا معائنہ کر رہا ہے تاکہ انھیں ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کیا جا سکے۔

    جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کے تحت، اسرائیل ہر ایک ہلاک شدہ اسرائیلی یرغمالی کے بدلے میں 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرنے پر متفق ہوا ہے۔

  5. سپین بولدک پر حملے میں کئی عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے: افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن کا بیان

    UN, Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کا کہنا ہے کہ ’مصدقہ‘ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ لڑائی میں ’بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک‘ ہوئے ہیں۔

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بدھ کو قندھار کے علاقے سپین بولدک میں ہونے والی شدید فائرنگ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    مشن کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد معلوم کرنے کے لیے معلومات اکٹھا کی جا رہی ہیں تاہم حالیہ اطلاعات کے مطابق 17 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں اور 346 زخمی ہوئے ہیں۔

    تاہم بی بی سی آزاد ذریعے سے اقوام متحدہ کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکتی ہے۔

    اقوام متحدہ نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    گذشتہ روز پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کر دی گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اس جنگ بندی کا نفاذ بدھ کی شام چھ بجے سے ہوا ہے۔

    افغانستان میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں یہ بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ گذشتہ روز سے پہلے ہونے والی جھڑپوں میں 15 عام شہری زخمی ہوئے ہیں یہ حملہ پکتیا،کنڑ اور ہلمند میں ہوئے تھے۔

    اقوام متحدہ نے فریقن پر ’عام شہریوں کے تحفظ اور ہلاکتوں کے لیے دشمنی ختم کرنے زور دیا ہے اور دونوں سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری‘ کریں۔

    اس سے پہلے قندھار میں حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ چودہ اور پندرہ اکتوبر کے دوران پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں میں 15 عام شہری ہلاک اور 150 زخمی ہوئے ہیں۔

  6. بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مدارس کو سیل کرنے کا سلسلہ فوراً روکا جائے: مفتی منیب الرحمٰن

    پاکستان میں رویتِ ہلال کمیٹی کے سابق سربراہ اور تنظیماتِ اہلسنت ولجماعت کے سربراہ مفتی منیب الرحمٰن نے مریدکے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مدارس کو سیل کرنے کی خبروں پر ردِ عمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اندھا دھند کارروائی کو فی الفور روکا جائے اور مدارس و مساجد کو معمول کے مطابق اپنا کام کرنے دیا جائے۔

    مفتی منیب کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب پنجاب حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبے بھر میں ٹی ایل پی کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ مریدکے واقعے کے بعد مخصوص لوگوں کی گرفتاریاں تو سمجھ میں آتی ہیں لیکن اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور مساجد و مدارس کو سیل کیا جا رہا ہے یا ان کو حکومت اپنے کنٹرول میں لے رہی ہے۔

    ’یہ حکمت عملی غیر حکیمانہ اور غیر دانشمندانہ ہے‘

    مفتی منیب کا مزید کہنا تھا کہ بلاوجہ خدشات کی پیشگی منصوبہ بندی کے طور پر پورے ملک میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور مذہبی طبقات میں بلاوجہ اشتعال اور نفرت کے اسباب پیدا کرنا کسی بھی صورت میں درست نہیں۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے کو فوراً روکا جائے کیونکہ ملک کے حالات قومی اور دینی اتحاد کا تقاضہ کرتے ہیں۔

  7. ٹی ایل پی کی حمایت میں تقریر کرنے پر تحریک انصاف کی سابق رکن اسمبلی سیمابیہ طاہر کے خلاف مقدمہ درج

    سیمابیہ طاہر

    ،تصویر کا ذریعہx/seemabiatahir

    راولپنڈی پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ رُکن صوبائی اسمبلی سیمابیہ طاہر کے خلاف عوام کو مذ ہبی بنیادوں پر اُکسانے، بدامنی اور نفرت پھیلانے اور افواج پاکستان کے اہلکاروں کو بغاوت پر اُکسانے جیسے الزامات پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    اس ضمن میں سرکاری مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سیمابیہ طاہر نے ایک مذہبی جماعت (تحریک لبیک پاکستان) کے مریدکے میں ہونے والے احتجاج کا بلواسطہ حوالہ دیتے ہوئے ناصرف ’دہشت گردانہ کاروائی میں ملوث ٹی ایل پی جیسی جماعت کی حوصلہ افزائی کی‘ بلکہ بذریعہ تقریر خوف دہشت پھیلانے جیسے خطرناک اور سنگین نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق 14 اکتوبر (منگل) کو راولپنڈی کی اڈیالہ روڈ پر پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنما اور کارکنان جمع ہوئے اور انھوں نے ’عوامی اسمبلی‘ کے نام سے اجتماع کا انعقاد کیا۔

    اس اجتماع کے دوران سیمابیہ طاہر نے ایک تقریر کی اور کہا کہ ’جس طرح آپ نے ہمارے ملک میں لوگوں پر ظلم و ستم کیے ہیں جس طرح اُن کی لاشوں پر آپ کے فوجیوں نے، آپ کی پولیس نے اور آپ کے رینجرز اہلکاروں نے بوٹ رکھ کر بے حرمتی کی ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ آپ نے آج دن تک پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا۔۔۔ آپ نے 17 جون کو 25 مئی کو 26 نومبر کو اور پھر پرسوں (پیر کے روز) گولی کیوں چلائی۔‘

    ایف آئی آر کے مطابق سیمابیہ طاہر کی اس تقریر کا متن انتہائی سنگین اور احساس نوعیت کا ہے اور انھوں نے دانستہ طور پر ایک مذہبی جماعت کے مریدکے میں ہونے والے پر تشدد اجتماع کا بلواسطہ حوالہ دیتے ہوئے ناصرف ٹی ایل پی کی حوصلہ افزائی کی بلکہ مذہبی اور فرقہ وارانہ نفرت اور تعصب کو فروغ دیا جس سے مذہبی بنیادوں پر عوام کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مزید دہشت گردانہ حملوں کے قوی خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔

    ایف آئی آر میں سیمابیہ طاہر پر مزید الزام عائد کیا گیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول فوج و دیگر اداروں کو عوامی نفرت اور غیض و غزب کا شکار بنانے اور بالخصوص افواج پاکستان کے جوانوں کو ریاست پاکستان سے وفاداری نہ نبھانے پر اُکسایا اور کوشش کی اور اداروں کے افسران اور جوانوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘

    اس ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

  8. غزہ میں تباہی کے باعث یرغمالیوں کی لاشیں ڈھونڈنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں: امریکی عہدیدار

    دو سالہ جنگ کے بعد غزہ ایک ملبے کے ڈھیر کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنٹرمپ کے ایک سینیئر مشیر کا کہنا تھا کہ غزہ میں جس پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اس کے تناظر میں لاشوں کی تلاش کے کام میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے باعث یرغمالیوں کی لاشیں ڈھونڈنے اور انھیں نکالنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    حماس اب تک 28 میں سے نو یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کو واپس کر چکا ہے۔ فلسطینی تنظیم کا کہنا ہے کہ انھیں غزہ کے تباہ شدہ ملبے میں سے مزید لاشیں نکالنے کے لیے خصوصی آلات کی ضرورت ہو گی اور اس کام میں وقت لگ سکتا ہے۔

    یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی میں تاخیر کے ردِعمل میں اسرائیل نے غزہ میں جانے والی امداد کی رسد محدود کر دی ہے۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ کے دو مشیروں کا کہنا ہے کہ غزہ کو غیر فوجی زون بنانے اور وہاں ایک عبوری حکومت کے قیام کے لیے کام جاری ہے۔

    انھوں میڈیا کو بتایا ہے کہ امریکی حکومت نہیں سمجھتی کہ حماس نے مزید لاشیں نہ نکال کر معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حماس نے تمام زندہ یرغمالیوں کو واپس کر کے نیک نیتی کا ثبوت دیا ہے اور دیگر یرغمالیوں کی باقیات تلاش کے لیے مختلف شراکتداروں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

    ٹرمپ کے ایک سینیئر مشیر کا کہنا تھا کہ غزہ میں جس پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اس کے تناظر میں لاشوں کی تلاش کے کام میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ معلومات فراہم کرنے والے شہریوں کو انعام بھی دیا جائے اور جلد ہی ترک ماہرین بھی تلاش کے اس کام میں حصہ لیں گے۔

  9. پنجاب حکومت کا تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ٹی ایل پی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان میں صوبہ پنجاب کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ’ریاست کی رِٹ اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی جائے گی۔‘

    یہ فیصلہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے امن و امان سے متعلق اجلاس میں لیا گیا جس کی تفصیلات وزیر اعلیٰ کے آفیشل واٹس ایپ گروپ کے ذریعے شیئر کی گئی ہیں۔

    اس ضمن میں شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق صوبے میں نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے گا جبکہ پولیس افسران کی ہلاکت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی، جس کا حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں انتہا پسند جماعت کہہ کر حوالہ دیا گیا ہے، کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا جبکہ جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کی جائیں گی۔

    اس کے علاوہ ٹی ایل پی کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل بھی پابندی ہو گی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ نفرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے اور جماعت کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔

    ٹی ایل پی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ماضی میں ٹی ایل پی پر پابندی کی کوشش

    یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ تحریکِ لبیک پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کرنے کی بات کی گئی ہے۔

    اس سے قبل اپریل 2021 میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد اُس وقت کی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے تنظیم پر 1997 کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کر دی تھی اور جماعت کی قیادت پر عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے جیسے سنگین مقدمات درج کیے تھے۔

    پی ٹی آئی کی حکومت نے ٹی ایل پی کے خلاف انسداد دہشتگری کے قانون 1997 کے رولز 11 کے تحت پابندی لگائی تھی جس کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس وقت کی حکومت نے بھی یہ قدم پنجاب حکومت کی سفارش پر اٹھایا تھا۔

    اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ٹی ایل پی کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس جماعت کے بینک اکاونٹس اور اثاثے منجمند کردیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، اس جماعت کو بیرون ممالک سے ملنے والی امداد سے متعلق بھی متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی تھیں۔

    تاہم بعدازں طے پا جانے والے ایک منصوبے کے تحت اس ہی برس نومبر میں حکومت نے تحریکِ لبیک پر سے پابندی اٹھالی تھی۔

    کس قانون کے تحت تحریک لبیک پر پابندی لگ سکتی ہے؟

    وفاقی حکومت ٹی ایل پی کے خلاف انسداد ہشگردی کے قانون 1997 کی شق نمبر 11 B کے تحت پابندی عائد کر سکتی ہے۔

    اس کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے جبکہ وزارت داخلہ کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے کہ جس جماعت پر پابندی کرنے کی منظوری دی گئی ہے اس کے خلاف شواہد وغیرہ اکھٹے کر کے ایک ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجے۔

    وفاق کی جانب سے ریفرنس ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ کو ایک ماہ کے اندر اندر اس ریفرنس کے بارے میں اپنا فیصلہ سنانا ہوتا ہے۔

    جب کسی جماعت یا تنظیم پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اسے فرسٹ شیڈول کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے اور فہرست میں شامل تنظیم کے تمام سیاسی دفاتر سیل کر دیے جاتے ہیں اور ان میں موجود تمام آفس ریکارڈ اور مواد بھی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ تنظیم کے تمام مالی اثاثے بھی منجمد کر دیے جاتے ہیں۔ تنظیم کو الیکشن یا کسی اور سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ تنظیم کسی فلاحی یا مذہبی مقاصد کے لیے مالی امداد اکھٹا کر سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ میڈیا تنظیم یا کوئی بھی شخص جو کلعدم تنظیم کے پیغام کو پھیلانے میں مدد فراہم کرے گا اس کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ پولیٹکل پارٹی ایکٹ سنہ2017 میں بھی کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔

    پاکستان کی تاریخ میں اب تک صرف ایک سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے قائم ہونے والی اس سیاسی جماعت پر سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پابندی عائد کی گئی تھی اور اس کے بعد سے آج تک کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ریفرنس سپریم کورٹ میں نہیں بھیجا گیا۔

    ٹی ایل پی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    تحریک لبیک کسی ممکنہ پابندی کے خلاف کیا کر سکتی ہے؟

    اگر حکومت ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دیتی ہے تو جماعت تیس دن کے اندر اندر اس فیصلے کے خلاف وزارت داخلہ میں اپیل دائر کر سکتی ہے۔

    تنظیم کی اس اپیل پر وزارت داخلہ کی ایک کمیٹی جائزہ لے گی اور اگر یہ کمیٹی بھی اپیل مسترد کر دیتی ہے تو اس فیصلے کے تیس دن کے اندر اندر تحریک لبیک پاکستان ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر سکتی ہے۔

    تحریک لبیک کی بطور تنظیم پاکستان میں موجودگی

    تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد خادم حسین رضوی نے 2017 میں رکھی۔ بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی محکمہ اوقاف کی ملازمت کرتے تھے اور لاہور کی ایک مسجد کے خطیب تھے۔

    لیکن 2011 میں جب پنجاب پولیس کے گارڈ ممتاز قادری نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا تو انھوں ممتاز قادری کی کھل کر حمایت کی جس کے نتیجے میں پنجاب کے محکمہ اوقاف کی جانب سے انھیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

    اس کے بعد نہ صرف خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت قانون اور آئین کی شق 295 سی کے تحفظ کے لیے تحریک چلائی بلکہ ممتاز قادری کی رہائی کے لیے بھی سرگرم رہے اور جنوری 2016 میں ممتاز قادری کے حق میں حکومتی اجازت کے بغیر علامہ اقبال کے مزار پر ریلی کا انعقاد بھی کیا۔

    ٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوی

    اسی دھرنے کے اختتام پر مولانا خادم رضوی نے اعلان کیا تھا کہ وہ 'تحریک لبیک پاکستان یا رسول اللہ' کے نام سے باقاعدہ مذہبی جماعت کی بنیاد رکھیں گے۔

    ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر بھی نہیں کیا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی این اے 120 کی نشست پر جب ضمنی الیکشن ستمبر 2017 میں ہوئے تو جماعت کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی نے انتخاب میں حصہ لیا اور 7130 ووٹ حاصل کیے جو جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں سے بھی زیادہ تھے۔

    اس کے بعد تحریک لبیک نے مولانا خادم رضوی کی قیادت میں اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد اور الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترامیم کے خلاف اسلام آباد کا ایک بار پھر رخ کیا اور نومبر 2017 میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم، فیض آباد پر رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنا دیا جس نے نہ صرف مولانا خادم رضوی بلکہ تحریک لبیک پاکستان کی شہرت میں بےحد اضافہ کیا۔

    اس دھرنے کے نتیجے میں وزیر قانون کو استعفی دینا پڑا اور حکومت نے پہلی بار ٹی ایل پی کے ساتھ ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے معاہدہ کیا۔

    خادم رضوی کی نومبر 2020 میں وفات کے بعد ان کی جماعت نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنخادم رضوی کی نومبر 2020 میں وفات کے بعد ان کی جماعت نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا۔

    تحریک نے اس شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2018 کے عام انتخابات میں چاروں صوبوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا اور قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کل 559 امیدوار کھڑے کیے جن میں سے دو امیدوار سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب بھی ہوئے جبکہ ایک امیدوار نے مخصوص نشست حاصل کی۔

    قومی اسمبلی کے انتخابات میں ان کی جماعت ووٹوں کے اعتبار سے ملک میں پانچویں بڑی جماعت تھی اور انھیں 22 لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔

    خادم رضوی کی نومبر 2020 میں وفات کے بعد ان کی جماعت نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا۔

    تحریک لبیک پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح سوشل میڈیا پر سرگرم ہے۔

    تحریک کے سابق سربراہ خادم رضوی کا ٹوئٹر اکاونٹ جس پر لاکھوں فالورز موجود تھے حکومت پاکستان کی شکایت پر بند کر دیا تھا لیکن تنظیم کے فیس بک اور ٹوئٹر پر اب بھی متعدد اکاؤنٹس اور صفحے موجود ہیں جبکہ یوٹیوب پر دو آفیشل چینلز ہیں جن کے 12 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔

    ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے تنظیم نہ صرف عوام کو احتجاجی دھرنوں کے لیے حرکت میں لاتی ہے بلکہ یہ تنظیم کا نظریہ عام کرنے اور اس کے لیے امداد اکھٹی کرنے کا بھی اہم ذریعہ ہے۔

  10. میرا نہیں خیال کہ یہ جنگ بندی زیادہ دیر چلے گی کیونکہ طالبان کے سارے فیصلے دلی سے سپانسر ہو رہے ہیں: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں اور بدھ کے روز 48 گھنٹوں کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں جنگ بندی زیادہ نہیں چلے گی کیونکہ اِس وقت طالبان کے ’سارے فیصلے دلی سے سپانسر ہو رہے ہیں۔‘

    بدھ کی شب جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اس وقت ایک انڈیا کی پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ ’جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور وہ اس وقت انڈیا کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔‘

    کابل میں پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’میں اس بارے میں زیادہ بات نہیں کروں گا، لیکن ہمارے پاس افغانستان کے کسی بھی حصے پر بمباری کرنے کی صلاحیت ہے۔۔۔‘

    تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’افغانستان کے کافی اندر حملے ہوئے ہیں۔‘

    ’اگر انھوں نے اس جنگ کو بڑھایا یا اس کو پھیلایا۔۔۔ ہم بالکل اپنی پوری طاقت کے ساتھ انھیں جواب دیں گے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ بدھ کی دوپہر دارالحکومت کابل پر دو فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

    پاکستانی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان جنگ بندی کچھ دوست ممالک کی مداخلت سے ہوئی ہے۔’لیکن یہ [سیز فائر] بڑا نازک ہے، میں نہیں سمجھتا یہ زیادہ دیر نکالے [چلے] گا۔‘

    اں کا مزید کہنا تھا کہ ’آیا انڈیا کا اثر و رسوخ، ہمارے دوست ملکوں کے اثر و روخ کو کم کر سکتا ہے یا نہیں، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔‘

    ’دونوں فرنچائز ایک ہی ہیں‘

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے نے الزام عائد کیا کہ اس وقت افغان طالبان ٹی ٹی پی کے ساتھ مل گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نے ٹی ٹی پی پر حملہ کیا تھا لیکن اس کے جواب میں ہونے والی کارروائیوں میں افغانستان بھی شامل ہے۔ ’اگر افغانستان خود شامل ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دونوں فرنچائز ایک ہی چیز ہیں، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک افغانستان پر جنگ بندی کے لیے اس طرح زور نہیں ڈال رہے جیسے ان کو کرنا چاہیے، خواجہ آصف کا کہنا تھا، ’میرے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں، اگر اس سلسلے میں کوئی تعمیری بات سامنے آتی ہے تو ہم بالکل اس کا جواب دیں گے۔‘

    وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وہ سیز فائر خلاف ورزیاں کرتے رہے، سرحدی علاقوں پر بمباری کرتے رہے، ہماری پوسٹس پر حملے کرتے رہے تو ہمیں اسی طرح سے جواب دینا پڑے گا، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘

    شہباز شریف ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہPak PM Office

    ’صدر ٹرمپ یہاں بھی جنگ بندی کروانا چاہتے ہیں تو ضرور کریں‘

    جب خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور افغانستان کے درمیان لڑائی کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا:’امریکی صدور نے جنگیں کروائی ہیں، یہ پہلے صدر ہیں جنھوں نے جنگیں بند کروائی ہیں۔۔۔۔ اگر وہ یہاں بھی کرنا چاہتے ہیں تو وہ ضرور کریں۔‘

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ جو دوست ممالک پہلے ہی ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں ان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، وہ اگر چاہیں تو مل کر یہ کام کر سکتے ہیں۔

  11. کابل میں دھماکوں سے پانچ افراد ہلاک: ’میں اس بارے میں زیادہ بات نہیں کروں گا‘ وزیر دفاع خواجہ آصف

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ بدھ کی دوپہر دارالحکومت کابل پر دو فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ان مبینہ حملوں کے بعد کابل کی فضا میں سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے جبکہ طالبان حکام نے شہر کی متاثرہ چند سڑکوں کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا۔

    کابل کے ایمرجنسی سرجیکل سینٹر نے بتایا کہ اِن دھماکوں کے بعد 40 افراد کو ہسپتال لایا گیا، جن میں سے پانچ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔

    دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن، پی ٹی وی، نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی افواج نے کابل اور قندھار میں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ’ان تمام اہداف کا انتخاب باریک بینی سے کیا گیا جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے۔‘

    یاد رہے کہ تاحال پاکستانی فوج اور طالبان حکام نے کابل میں مبینہ فضائی حملوں سے متعلق کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    بدھ کی رات جیو ٹی وی کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں کابل میں پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’میں اس بارے میں زیادہ بات نہیں کروں گا، لیکن ہمارے پاس افغانستان کے کسی بھی حصے پر بمباری کرنے کی صلاحیت ہے۔۔۔‘

    کابل میں ہونے والے دھماکوں سے متعلق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے فقط اتنا کہا ہے کہ ’کابل کے نواح میں ایک آئل ٹینکر دھماکے سے پھٹا ہے، جس کے باعث آگ لگ گئی، چنانچہ پریشان نہ ہوں۔‘ تاہم انھوں نے ان وجوہات کی ذکر نہیں کیا جس کے باعث یہ آئل ٹینکر پھٹا۔

  12. انڈیا روسی تیل کی خریداری ترک کرنے پر تیار ہے اب چین کو بھی ایسا کرنے پر آمادہ کرنا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے کیونکہ امریکہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کریملن پر معاشی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

    ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انھیں مودی کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انڈیا ’جلد ہی‘ اپنی خریداری روک دے گا۔

    واشنگٹن ڈی سی میں انڈین سفارت خانے کے ترجمان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    امریکی صدر نے اپنی تجارتی جنگ میں انڈیا کی روسی تیل کی خریداری کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن نئی دہلی نے اس کی مخالفت کی جس سے سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

    تیل اور گیس روس کی سب سے بڑی برآمدات ہیں اور ماسکو کے سب سے بڑے صارفین میں چین، انڈیا اور ترکی شامل ہیں۔

    ٹرمپ نے بدھ کے روز اوول آفس میں کہا کہ ’اب مجھے چین کو بھی ایسا ہی کرنے کے لیے آمادہ کرنا ہوگا۔‘

    ان کی انتظامیہ بیجنگ اور دیگر تجارتی شراکت داروں پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کردیں جو ماسکو کی توانائی کی مالی اعانت کو روکنے کے وسیع تر دباؤ کا ایک حصہ ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ انڈیا فوری طور پر تیل کی ترسیل کو نہیں روک سکتا، انھوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی ’تھوڑا وقت لے گی لیکن یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔‘

    ٹرمپ انتظامیہ نے انڈیا سے آنے والی اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کی ہیں، جسے ٹرمپ نے روسی تیل اور اسلحہ خریدنے پر نئی دہلی کے خلاف سزا قرار دیا ہے۔

    محصولات جو اگست میں نافذ ہوئے تھے اور دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، ان میں روس کے ساتھ لین دین کے لیے 25 فیصد جرمانہ شامل ہے جو یوکرین میں اس کی جنگ کے لیے فنڈز کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    مودی کئی مہینوں سے اپنے موقف پر قائم رہے ہیں، ان کی دلیل تھی کہ روسی رہنما ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات کے باوجود انڈیا روس یوکرین جنگ میں غیر جانبدار ہے۔

    انڈین حکام نے امریکہ اور یورپ میں روس کے ساتھ جاری تجارت کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ان الزامات کو دوہرا معیار قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں روس کی جنگ سے دہلی کو فائدہ ہوتا ہے۔

    انڈیا اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے روسی خام تیل پر انحصار کرتا ہے، جسے دہلی رعایتی قیمت پر خریدتا رہا ہے، جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔

    روسی تیل کے تنازعے نے ٹرمپ اور مودی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کردی ہے حالانکہ امریکی صدر نے بدھ کے روز انڈین رہنما کو ’عظیم آدمی‘ قرار دیا۔

    مودی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ سے بات کی ہے اور ’تجارتی مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔‘

  13. حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے گذشتہ رات اگلے 15 روز کے لیے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے اپنے ایکس پر جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب پانچ روپے 66 پیسے اور ایک روپے 39 پیسے کمی کی گئی ہے۔

    اس کے بعد پیٹرول فی لیٹر قیمت 263.02 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 275.41 روپے ہو گئی ہے۔

    اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے فی لیٹر کمی کی کے بعد اس کی نئی قیمت 181 روپے 71 پیسے ہو گئی ہے۔

    وزرارت خزانہ کے نوٹیفلیشن مطابق لائٹ ڈیزل آئل نئی فی لیٹر قیمت 162.76 ہو گئی ہے۔ اس میں 2 روپے 74 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔

  14. خطے کی صورتحال پر اسحاق ڈار اور قطر کے وزیرِ خارجہ کا رابطہ

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو قطر کے وزیرِ برائے خارجہ امور، ڈاکٹر محمد عبدال عزیز الخلیفی کی جانب سے خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ایک پیغام موصول ہوا ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر الخلیفی نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔

    ترجمان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے قطر کی مسلسل حمایت اور خطے میں اور اس سے باہر امن کے فروغ میں قطر کے مثبت کردار کے لیے شکریہ ادا کیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. سیٹلائٹ تصاویر ہمیں پاکستان سے جھڑپوں میں افغانستان میں ہونے والے نقصان کے بارے میں کیا بتاتی ہیں؟

    AFGHANISTAN

    بی بی سی نے وڈیو فوٹیجز اور سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا ہے کہ پاکستان سے جھڑپوں میں افغانستان کے اندر ہونے والے نقصانات کے بارے میں کیا معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

    ایک وڈیو جس کی ہم نے اس ہفتے کے شروع میں تصدیق کی ہے وہ تین عمارتوں کی ڈرون فوٹیج ہے جس میں نیلے رنگ کی ایک طرف کو جھکی ہوئی چھتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد وہاں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہیں۔

    سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ پاکستانی فورسز نے 11 سے 12 اکتوبر کے درمیان افغان سرحدی شہر سپن بولدک میں ایک ’طالبان کیمپ‘ پر کیا تھا۔

    بی بی سی نیوز کے ساتھیوں نے ’ہمیں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ طالبان فورسز کے سرحدی سکیورٹی کمپاؤنڈ کا حصہ ہیں۔‘

    بی بی سی نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ فوٹیج 12 اکتوبر سے زیادہ پرانی نہیں تھی اور عمارتوں سے ملنے کے لیے گوگل میپس کا استعمال کرتے ہوئے عین مطابق عمارت کا پتہ لگانے میں کامیاب تھے۔

    14 اکتوبر کی سیٹلائٹ تصاویر میں اس عمارت کو نمایاں نقصان دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں بھی اس جگہ کی تصدیق ہوتی ہے۔

  16. خیبر پختونخوا کے نئے منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ

    سہیل آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    ،تصویر کا کیپشنسہیل آفریدی

    نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا اپنے عہدے کا حلف لینے کے فوری بعد بانی چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے عمران خان سے ملاقات کے لیے کل 16 اکتوبر کو اڈیالہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیر اعلی کی عمران خان سے ملاقات کے انتظامات کے لیے صوبائی حکومت نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا ہے۔

    اس سلسلے میں محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے وفاقی سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری داخلہ پنجاب کو مراسلہ ارسال کیا ہے۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات کروانے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔‘

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

  17. ’مجھے 20 سے زیادہ دفعہ نقل مکانی کرنا پڑی اور اب میں کہیں نہیں جاؤں گا‘

    Gaza

    خالد خلاص کو غزہ کے علاقے شجاعیہ سے متعدد بار نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ وہ ديرالبلح شہر میں اپنے چھ بچوں اور ایک کرائے دار کے ساتھ رہ رہے ہیں اور اب انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شمالی غزہ واپس نہیں جائیں گے کیونکہ ان کا تمام مال و متاع کھو چکا ہے۔

    شجاعیہ کے علاقے کو مکمل طور پر بند ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں سبزی منڈی گیا جہاں فائرنگ شروع ہوئی اور ہمیں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔‘

    ان کے علاقے میں مسلسل فائرنگ ہوتی ہے اور وہاں زندگی مکمل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ وہاں پانی، بجلی اور خیمے تک دستیاب نہیں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے 20 دفعہ سے زیادہ نقل مکانی کرنا پڑی ہے اور اب میں نے یہیں ديرالبلح رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا۔‘

  18. پاکستان اور افغان طالبان کا 48 گھنٹے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کر دی گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اس جنگ بندی کا نفاذ آج شام چھ بجے سے ہو گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس دوران طالبان کی عبوری حکومت نے مذاکرات کی بھی درخواست کی ہے۔

    پاکستان اور افغان حکومت نے اپنے مؤقف میں دوسرے فریق پر جنگ بندی کی درخواست کا ذمہ ڈالا ہے۔ پاکستان کا جہاں یہ مؤقف ہے کہ یہ جنگ بندی افغان طالبان کی درخواست پر عمل میں لائی جا رہی ہے وہیں افغان طالبان کے ترجمان نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ جنگ بندی پاکستان کی درخواست پر نفاذ کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے اپنی سکیورٹی فورسز سے یہ کہا ہے کہ جب تک دسری طرف سے خلاف ورزی نہ ہو تو اس جنگ بندی پر عمل پیرا رہیں۔

  19. بریکنگ, پاکستان کے افغانستان کے اندر ’عسکری اہداف‘ پر مزید حملے

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے عسکری ذرائع کے حوالے سے یہ بتایا ہے کہ انھوں نے افغانستان کے اندر عکسری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    پی ٹی وی نے یہ خبر سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے نشر کی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’تمام اہداف کو باریک بینی سے منتخب کر کے کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے۔‘

    پی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کسی بھی جارحیت کا منھ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

  20. خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    خیبر پختونخوا پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

    پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بدھ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر ہاؤس میں ان سے حلف لیا۔

    تقریب حلف برداری میں سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، آئی جی پولیس، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    13 اکتوبر کو پاکستان میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے پی ٹی آئی کے رُکن سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کی کارروائِی کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا۔

    سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے مطابق سہیل آفریدی کو 145 رُکنی ایوان میں 90 ووٹ ملے۔

    نئے وزیر اعلیٰ کا یہ انتخاب ایک ایسے موقع پر عمل میں لایا گیا ہے جب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسمبلی اجلاس سے چند گھنٹے قبل سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے منظور نہیں کیا تھا۔

    یہ معاملہ پھر پشاور ہائیکورٹ تک پہنچا اور عدالت نے نئے وزیر اعلی کے حلف کے لیے حکمنامہ جاری کیا۔

    علی امین گنڈا پور کا استعفی اور سہیل آفریدی کی نامزدگی پر تنازع

    امین گنڈاپور، سہیل آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے چند روز قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

    جماعت کے بیشتر اراکین کے مطابق خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے اندر کے اختلافات، عمران خان کی رہائی کے لیے مہم میں ناکامی اور صوبے میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات ایسے عوامل تھے جس پر بانی پی ٹی آئی نے علی امین کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    دوسری جانب عمران خان کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رُکن سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ نامزدگی پر تنازع سامنے آیا تھا۔

    پاکستان میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سہیل آفریدی کی نامزدگی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دعوی کیا تھا کہ سہیل آفریدی کو ’دہشت گردوں کی سہولت‘ کے لیے لایا جا رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلی سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف کے ایک نظریاتی کارکن ہیں اور انھوں نے جماعت کی طلبا تنظیم آئی ایس ایف سے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا۔

    سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ وہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 71 سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ انھوں نے اکنامکس میں گریجویشن کی ہے اور جرنلزم میں ڈپلومہ بھی کیا ہے۔

    سہیل آفریدی کی عمر 35 سال ہے اور جماعت کے رہنماؤں کے مطابق وہ 2008-2009 سے پاکستان تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ زمانہ طالبعلمی میں انصاف سٹوڈنٹ فیڈیریشن کے صوبائی صدر بنے اور اس کے بعد مرکزی صدر بنے، اسی طرح وہ انصاف یوتھ ونگ کے صوبائی صدر اور بعد میں مرکزی صدر منتخب ہوئے تھے۔

    گذشتہ چند روز سے اُن کا ایک ویڈیو کلپ بھی وائرل ہے جس میں وہ یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اُن کی لائن ’وہی ہو گی جو عمران خان کی ہے۔‘