جنوبی غزہ میں ’حملوں کی نئی لہر‘ کا آغاز، غزہ میں امداد کی ترسیل اگلے نوٹس تک معطل
اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
دوسری جانب ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو آگاہ کیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر رہا ہے
خلاصہ
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے بعد سنیچر کی شب فریقین جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد فریقین نے جنگ بندی اور مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا
امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک، واشنگٹن ڈی سی، شکاگو، میامی اور لاس اینجلس سمیت امریکہ کے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ کے عنوان سے مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا
لائیو کوریج
بلوچستان کے شہر خاران میں فائرنگ سے ایس ایچ او ہلاک: پولیس, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان کے شہر
خاران میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس کے ایک ایس ایچ او ہلاک ہوگئے ہیں۔
خاران پولیس کے
ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خاران شہر کے ایس ایچ او محمد
قاسم کو جمعے کی شب فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔
رابطہ کرنے پر خاران
پولیس کے اہلکار داد کریم نے کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او محمد قاسم بلوچ کو ڈی ایچ کیو
ہسپتال کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس واقعے کے حوالے
سے جب بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایس ایچ او
خاران دیگر اہلکاروں کے ہمراہ گاڑیوں کی سنیپ چیکنگ میں مصروف تھے۔
ان کا کہنا تھا
کہ اس علاقے میں ایک سرف گاڑی میں نامعلوم مسلح افراد آئے اور ’انھوں نے پہلے ایس ایچ او کے چار مسلح گن مینز کو قابو کرلیا اور
ایس ایچ او کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔‘
’ایس ایچ او کی جانب سے مزاحمت پر مسلح افراد نے فائر کھول دیا جس کی وجہ
سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔‘
بلوچستان کے کسی علاقے میں پولیس اہلکاروں پر دو روز کے دوران
ہونے والا یہ یہ دوسرا حملہ ہے۔
گزشتہ روز ضلع سوراب
میں بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر ہونے والے حملے میں حوالدر بھی ہلاک ہوا تھا۔
پاکستان نے پکتیکا میں بمباری کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی: افغان طالبان کا دعویٰ
افغانستان میں طالبان حکام
نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کو پاکستان نے اس کے سرحدی صوبے پکتیکا میں بمباری کی ہے
اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
طالبان کے حکومت کے ایک
صوبائی عہدیدار نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کہ جمعے کو ’پاکستان نے پکتیکا
صوبے کے ارغون ضلع میں ایک قصاب کے گھر پر بمباری کی ہے جس میں عام شہری ہلاک اور
زخمی ہوئے ہیں۔‘
اس سے قبل طالبان کے مرکزی
ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی تصدیق کی
تھی۔
تاہم پاکستانی حکام نے جنگ
بندی میں توسیع یا افغانستان میں کسی بھی قسم کا کوئی حملہ کرنے کی اطلاعات پر
تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
خیال رہے پاکستان اور افغانستان
نے بدھ کو جھڑپوں کے بعد 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔
دوسری جانب خبر رساں
ایجنسی اے ایف پی کو بھی طالبان کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط
پر بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے سرحدی صوبے پکتیکا میں کارروائی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان
نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا میں تین مقامات پر بمباری کی ہے۔
افغانستان اس کا جواب دے گا۔‘
دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے اختتام تک جنگ بندی برقرار رہے گی: طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر
جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی اور دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے اختتام تک جنگ بندی
برقرار رہے گی۔
افغانستان میں طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد
نے بی بی سی اردو کے روحان احمد کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی
میں توسیع کر دی گئی ہے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام پاکستان کی درخواست پر کیا
گیا۔
بی بی سی ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا
اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان
اور افغانستان نے مشترکہ طور پر جنگ بندی میں
توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ روئٹرز نے پاکستانی
سکیورٹی حکام اور افغان طالبان کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان اور پاکستان
نے دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کی ہے۔
اس سے قبل افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد
نے مقامی نیوز چینل آریانا نیوز کو بتایا کہ پاکستان سے بات چیت کے لیے افغان طالبان
کا وفد دوحہ جائے گا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی اور کشیدگی
میں کمی لانا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی میں
کمی کے لیے مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سنیچر کے روز ہوں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی اور جھڑپوں
کے بعد دونوں ملکوں نے 48 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جو جمعے کو شام 6 بجے
ختم ہونا تھی۔
عالمی قیمتوں میں تیزی کے باعث پاکستان میں سونا فی تولہ 4,56,900 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت فی تولہ
14,100 روپے کے بڑے اضافے کے ساتھ اب 4,56,900 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی
ہے جو عالمی مارکیٹ میں سونے کی تیز رفتار بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق
24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت ریکارڈ 4,56,900 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام سونا
12,089 روپے اضافے کے ساتھ 3,91,718 روپے کا ہوگیا۔ یہ اضافہ اس سال کے سب سے بڑے یومیہ
اضافوں میں سے ایک ہے، جس کی بنیادی وجوہات عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور مقامی
کرنسی کی کمزوری ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 141 ڈالر کے اضافے
سے ریکارڈ 4,358 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، کیونکہ سرمایہ کار جغرافیائی سیاسی کشیدگی
اور بڑی معیشتوں میں ممکنہ سست روی کے خدشات کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل
ہو گئے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ عام طور پر عالمی نرخوں پر 20 ڈالر
کا پریمیم شامل کرتی ہے تاکہ درآمدی اور لین دین کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔
سپین بولدک چمن سرحد کو عارضی طور پر افغان پناہ گزینوں کے لیے کھول دیا گیا: طالبان انتظامیہ
،تصویر کا ذریعہRTA
جنوبی افغانستان کے صوبے قندھار سے موصول ہونے والی
اطلاعات کے مطابق ڈیورنڈ لائن پر واقع سپین بولدک چمن سرحدی گزرگاہ افغانستان واپس
آنے والے افغان پناہ گزین کے لیے کھول دی گئی ہے۔
طالبان حکومت کے سپین بولدک کے انفارمیشن افسر علی
احمد حقمل نے بی بی سی پشتو کو اس بات کی تصدیق کی کہ سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھول دی
گئی ہے اور افغان پنا گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی دوران افغان نیشنل ٹیلی ویژن نے سپین بولدک میں
پاکستان سے واپس افغانستان آنے والے پناہ گزینوں کے ادارے کے ایک اہلکار کے حوالے
سے بتایا کہ سرحد کھلنے کے بعد سے اب تک سیکڑوں افغان شہری وطن واپس آ چکے ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سپین بولدک کے مقامی طالبان
ذرائع نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ پاکستانی حکام سے بات چیت کر رہے
ہیں تاکہ ڈیورنڈ لائن کے اُس پار پھنسے ہوئے افغان پناہ گزین کو افغانستان واپس
آنے کی اجازت دی جا سکے۔
واضح رہے کہ سپین بولدک چمن سرحد تقریباً ایک ہفتے تک
بند رہنے کے بعد آمد و رفت کے لیے کھولی گئی ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں سے
قبل واپس آنے والے پناہ گزینوں کو افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت تھی، تاہم
جھڑپوں کے بعد سرحدی گزر گاہ کو بند کر دی گئی تھی۔
پاکستان ہمیشہ اپنی ناکامیوں کا الزام پڑوسیوں پر لگاتا رہا ہے: ترجمان انڈین وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہIndian FO
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے طالبان
حکومت پر ’انڈیا کے لیے کام کرنے‘ کا الزام لگانے کے بعد انڈیا کی جانب سے یہ بیان
سامنے آیا کہ پاکستان اس بات پر ’برہم‘ ہے کہ طالبان حکومت اپنے علاقے پر
خودمختاری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ
وار پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی صورتِ حال پر قریبی نظر
رکھے ہوئے ہے۔‘
انھوں نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’تین
باتیں واضح ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ ہے اور دہشت گرد
سرگرمیوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ پاکستان کی پرانی عادت ہے کہ وہ
اپنی اندرونی ناکامیوں کا الزام اپنے پڑوسیوں پر لگاتا ہے اور تیسری بات یہ کہ پاکستان
اس بات سے پریشان ہے کہ افغانستان اپنے علاقے پر خودمختاری قائم کیے ہوئے ہے اور
آگے بڑھ رہا ہے۔‘
رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی خودمختاری،
علاقائی سالمیت اور آزادی‘ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور افغانستان کی حمایت جاری
رکھے گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے
والی حالیہ جھڑپوں اور بدھ کے روز 48 گھنٹوں کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے اعلان
پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال
میں جنگ بندی زیادہ نہیں چلے گی کیونکہ اِس وقت طالبان کے ’سارے فیصلے دلی سے
سپانسر ہو رہے ہیں۔‘
بدھ کی شب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’آج
شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ
افغانستان اس وقت ایک انڈیا کی پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ ’جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھا
ہوا ہے اور وہ اس وقت انڈیا کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔‘
انڈیا افغانستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی اور تربیت کر رہا ہے: ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہFO Pakistan
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے
کہا ہے کہ ’انڈیا کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی، تربیت اور دیگر
سرگرمیاں ریکارڈ پر ہیں۔‘
دفترِ خارجہ میں ہونے والے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے
دوران ترجمان شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان دہشت گردی سے متعلق افغان
وزیرِ خارجہ کے اُن بیانات کو مسترد کرتا ہے کہ جس میں انھوں نے انڈیا میں موجودگی
کے دوران کہا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ دہشت گردی سب کا
مسئلہ ہے اور اسے کسی ایک مُلک سے نہیں جوڑا جا سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے سفیر ایک دوسرے کے
ممالک میں موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین معمول کے رابطے جاری ہیں۔‘ اُن کا مزید
کہنا تھا کہ ’اس وقت دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات
فراہم نہیں کی جا سکتیں۔‘
ترجمان دفترِ خارجہ نے بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پاکستان
نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، ہمارے ٹارگٹ اور دفاعی جوابی کارروائی افغان عوام
کے خلاف نہیں تھی۔ افغان طالبان کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے سیز فائر ہوا، پاکستان
ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغان عبوری وزیر خارجہ
امیر خان متقی کے بیان کو مسترد کرتا ہے جو انھوں نے انڈیا میں دیے۔‘
ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’پاکستان افغان عبوری
وزیر خارجہ کے دورہ انڈیا میں مشترکہ اعلامیہ کو بھی مسترد کرتا ہے کہ جس میں انڈیا
کے زیرِ انتظام کشمیر کو انڈیا کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ یہ کشمیر کے عوام کی نفی کرنے
کے مترادف ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے صحافیوں کو ہفتہ
وار بریفنگ میں مزید کہا کہ ’پاکستان نے بارہا افغانستان میں شدت پسندوں اور اس میں
انڈیا کی پشت پناہی سے متعلق افغان طالبان کی حکومت کو آگاہ بھی کیا ہے اور اس پر
اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ پاکستان نے چالیس لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی
اب اُمید کرتے ہیں طالبان حکومت دہشتگردی کے خلاف کام کرے گی۔‘
تاہم اسی کے ساتھ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان
اپنی سرزمین پر افغان شہریوں کی موجودگی پر قانون کے مطابق اقدامات کر رہا ہے۔‘
زیارت کے مغوی اسسٹنٹ کمشنر کے بیٹے کو بازیاب کرا لیا گیا: قریبی رشتے دار کی تصدیق, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع زیارت کے مغوی اسسٹنٹ کمشنر کے بیٹے مستنصر بلال کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
کمشنر سبی ڈویژن اور مغوی اسسٹنٹ کمشنر کے ایک قریبی رشتہ دار نے مستنصر بلال کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر زیارت افضل باقی اور ان کے بیٹے کو رواں سال دس اگست کو ضلع زیارت کے ایک سیاحتی مقام زیزری سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔
مسلح افراد نے گاڑی کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ کمشنر کے گن مین کو چھوڑ دیا تھا تاہم انھیں اور ان کے بیٹے کو اغوا کرکے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے تھے جبکہ ان کی گاڑی کو نذرآتش کر دیا گیا تھا۔
اسسٹنٹ کمشنر کے بیٹے مستنصر بلال گزشتہ شب بازیاب ہوئے۔ ضلع زیارت انتظامی لحاظ سے سبی ڈویژن کا حصہ ہے۔
رابطہ کرنے پر کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے مستنصر بلال کی بازیابی کی تصدیق کی۔ اسسٹنٹ کمشنر کے بھائی عبدالمجید نے بھی اپنے بھتیجے کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ تاحال ان کو ابھی تک گھر نہیں پہنچایا گیا۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسسٹنٹ کمشنر کے بیٹے کی بازیابی کس طرح ممکن ہوئی۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی تھیں کہ اسسٹنٹ کمشنر کو اغوا کاروں نے قتل کر دیا ہے۔ تاہم حکام نے ان کی تردید کی تھی۔
شیخ حسینہ کو سزائے موت دی جائے: استغاثہ کی عدالت سے اپیل
،تصویر کا ذریعہReuters
بنگلہ دیش میں استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو گذشتہ برس طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں پر ’بدترین کریک ڈاؤن‘ پر سزائے موت دی جائے۔
شیخ حسینہ جو گذشتہ برس کے پرتشدد واقعات کے بعد انڈیا فرار ہو گئی تھیں کو بنگلہ دیش میں ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے مقدمے کا سامنا ہے۔
ایک لیک ہونے والے آڈیو کپ کے مطابق شیخ حسینہ نے سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف ’مہلک ہتھیار‘ استعمال کرنے کا حکم دیا۔ تاہم شیخ حسینہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہیں۔
اس آڈیو میں، جو مارچ میں آن لائن لیک ہوئی، شیخ حسینہ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ مظاہرین کے خلاف ’مہلک ہتھیار استعمال کریں اور جہاں بھی انھیں دیکھیں، گولی مار دیں۔‘
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق گذشتہ سال موسم گرما میں مظاہروں کے دوران 1400افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شیخ حسینہ واجد اور ان کی جماعت عوامی لیگ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے جمعرات کو عدالت کو بتایا کہ شیخ حسینہ کو 1400 مرتبہ سزائے موت دینی چاہیے، کیونکہ ایسا ممکن نہیں ہے، لہذا انھیں ایک ہی دفعہ سزائے موت دی جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ ہمیشہ اقتدار میں رہنا چاہتی تھیں اور اُنھیں صرف اپنے خاندان کی پرواہ تھی۔
شیخ حسینہ کے وکیل کا موقف تھا کہ مظاہرین کی ’پرتشدد کارروائیوں‘ کے جواب میں پولیس گولی چلانے پر مجبور ہوئی۔
شیخ حسینہ کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کے سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال اور سابق پولیس چیف چودھری عبداللہ المامون کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
یہ احتجاجی مظاہرے سول سروس میں 1971 کی جنگ میں لڑنے والوں کے رشتہ داروں کو کوٹہ دیے جانے کے خلاف شروع ہوئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی تحریک میں بدل گئے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت گر گئی۔ وہ 15 سال سے ملک میں برسر اقتدار تھیں۔
اس دوران سب سے خونیں مناظر پانچ اگست کو دیکھنے کو ملے۔ اسی دن شیخ حسینہ ایک ہیلی کاپٹر پر ملک سے فرار ہو گئی تھیں جب ہجوم نے ڈھاکہ میں ان کی رہاشگاہ کا رخ کیا۔
تحریک لبیک کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پنجاب میں دفعہ 144 نافذ، خیبرپختونخوا حکومت کا مریدکے واقعے کے خلاف آج احتجاج کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty
صوبہ پنجاب میں تحریک لبیک پاکستان کے خلاف جاری کارروائیوں کے بیچ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر طرح کے جلسے، جلوس یا احتجاج پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے آج بعد نماز جمعہ مریدکے میں تحریک لبیک کے مارچ پر پولیس کے کریک ڈاؤن اور مبینہ ہلاکتوں اور تشدد کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے جمعرات کی شام امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں شہریوں کی جان و مال، املاک کا تحفظ اور قانون کی پاسداری بہرصورت یقینی بنائی جائے گی جبکہ مارکیٹیں، کاروباری مراکز، ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں کھلی رہیں گی۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اُنھوں نے خبردار کیا کہ ’شرپسندی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گی، جن پر 10 سے 14 سال سزا ہو گی۔‘
آئی جی پنجاب کے مطابق آج (جمعہ کے روز) پنجاب پولیس کے 27 ہزار افسران و اہلکار سڑکوں پر ڈیوٹی کریں گے جبکہ سپیشل برانچ کے 12 ہزار اہلکار بھی شرپسندوں کی ممکنہ کارروائیوں پر نظر رکھیں گے۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے خلاف مریدکے میں ہونے والے پولیس کارروائی کے خلاف سنی مسلک کی جماعتوں پر مشتمل گروپ ’تنظیم اہلسنت‘ نے جمعہ کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
’تنظیم اہلسنت‘ نے ان واقعات پر عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔ ’تنظیم اہلسنت‘ میں جمعیت علمائے پاکستان، منہاج القرآن، سنی تحریک، جماعت اہلسنت اور سنی اتحاد کونسل جیسے گروپس شامل ہیں۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق لاہور میں کاروباری مراکز کو کھلا رکھنے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے تناظر میں پولیس حکام نے شہر کے مختلف بازاروں کے صدور سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق شہر کی تمام مارکیٹوں کے گرد و نواح میں موثر پیٹرولنگ اور گشت کیا جائے گا اور تجارتی مراکز کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پولیس افسران نے تاجروں کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے کاروبار بلا خوف و خطر کھلے رکھیں۔
خیبر پختونخوا میں بھی احتجاج کی کال
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلِیٰ سہیل آفریدی نے بھی تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ عمران خان کے حکم پر وہ جمعہ کو سڑکوں پر نکلیں اور پُرامن احتجاج کریں۔
تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اپنی ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ’تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف پورے خیبر پختونخوا میں پرامن احتجاج کیا جائے گا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی ایل پی کے خلاف پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی کریک ڈاؤن جاری
دریں اثنا تحریک لبیک پاکستان کے خلاف پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔
یاد رہے کے پولیس سمیت سکیورٹی اداروں کی جانب سے 13 اکتوبر صبح مرید کے میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے آپریشن کیا گیا۔
اس کارروائی کے دوران ٹی ایل پی کی جانب سے اپنے متعدد کارکنوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے دعوے کیے گئے تاہم پولیس کی جانب سے کل پانچ افراد کی ہلاکت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس کارروائی کے بعد باقاعدہ طور پر ٹی ایل پی سے منسلک سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کو عمل میں لایا گیا جبکہ صوبے میں اس تنظیم سے منسلک متعدد مساجد اور مدارس کا کنٹرول حاصل کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
پنجاب میں ہونے والی امن و امان کے حوالے سے ایک اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب تک تحریک لبیک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2800 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ابھی بھی چھاپوں اور گرفتاریوں کا یہ عمل جاری ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے خلاف قانون حرکت میں آ چکا ہے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'لاہور سے ٹی ایل پی سے منسلک تقریباً 600 افراد، فیصل آباد سے 350 جبکہ 200 کے قریب افراد کو شیخوپورہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی درجنوں افراد کی گرفتاری عمل لائی جا رہی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکیورٹی ادارے کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ٹی ایل کے خلاف کریک ڈاؤن بلاتفریق کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ احتجاج کا حصہ تھے وہ اور جو احتجاج کا حصہ نہیں تھے مگر وہ ٹی ایل پی سے وابستہ ہیں انھیں بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘
جمعرات کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کے اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جانے کا کہا گیا ہے۔
اب تک ٹی ایل پی کے خلاف پنجاب کے متختلف شہروں میں 76 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جبکہ تحریک لبیک کے زیر انتظام درجنوں مساجد بھی انتظامیہ کی جانب سے سیل کر دی گئی ہیں۔
اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئی ڈی آئی جی کامران فیصل کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام مساجد کو فوری طور پر محکمہ اوقاف کے زیر انتظام کر کے کھولا جائے تاکہ نمازی نماز ادا کرسکیں۔
جبکہ ہمیں ان تمام مساجد کے باہر پولیس کی سکیورٹی تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ نمازیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات آج دوحہ میں ہوں گے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوں گے۔
طالبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری تفصیلات کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان کے وفد جس کی قیادت وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد کر رہے ہیں اور پاکستان کے متعدد سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام آج جمعہ کو دوحہ میں مذاکرات کریں گے۔
پاکستان کی طرف سے ابھی ان مذاکرات کے بارے میں تفصیلات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔
قطر نے ثالثی کی پیشکش کی ہے: شہباز شریف
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس حالیہ کشیدگی کو ختم کروانے کے لیے قطر کی جانب سے بھی ثالثی کی پیش کش کی گئی ہے اور وہ بڑی سنجیدگی سے اس مسئلے کے حل کے لیے فریقین سے بات کرنے کو تیار ہیں۔‘
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر عبدالعزیز الخلیفی کا علاقائی صورتحال کے حوالے سے پیغام موصول ہوا جس میں انھوں نے علاقائی امن و سلامتی کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
تاہم اسحاق ڈار نے قطر کی مسلسل حمایت، خطے اور دیگر ملکوں میں امن کو فروغ دینے میں اس کے مثبت کردار پر شکریہ ادا کیا۔
ٹرمپ اور پوتن کے درمیان فون کال دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ روسی پوتن اور صدر ٹرمپ کے مابین بات چیت ’دو گھنٹے سے زیادہ وقت جاری رہی۔‘
واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے ٹرمپ کے مؤقف کو ہی دہراتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت ’اچھی اور نتیجہ خیز‘ تھی اور یہ ’بڑی پیشرفت ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ جب آج زیلنسکی وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے تو اس حوالے سے بات چیت جاری رہے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اتنی جلد امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ٹرمپ ’بہت زیادہ کریڈٹ کے مستحق ہیں‘۔
ادھر ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے کہا ہے کہ ’امریکی اور روسی صدور کے مابین طے شدہ ملاقات دنیا کے امن پسند لوگوں کے لیے بہت اچھی خبر ہے۔‘
انھوں نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ’’ہم تیار ہیں!‘
ٹرمپ نے پوتن سے بات چیت کو بڑی پیشرفت قرار دیا، ’فون کال نتیجہ خیز اور مثبت تھی‘: پوتن کے خصوصی ایلچی
امریکی صدر ٹرمپ نے روسی صدر پوتن کے ساتھ بات چیت کو بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ ’دونوں ممالک کے ’اعلیٰ سطح کے مشیر‘ اگلے ہفتے ملاقات کریں گے، جس کی سربراہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس ملاقات کے لیے مقام کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دونوں رہنما ہنگری کے شہر بوڈاپیسٹ میں ملاقات کریں گے۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ملاقات کب ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ کل اوول آفس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران صدر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت پر تبادلہ خیال کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ آج کی ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔‘
فون کال نتیجہ خیز اور مثبت تھی: پوتن کے خصوصی ایلچی
پوتن کے خصوصی ایلچی کرل دمتریف کا کہنا ہے کہ پوتن اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت ’مثبت اور نتیجہ خیز‘ تھی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگلے اقدامات ’واضح‘ ہیں۔
میں اس وقت روس کے صدر پوتن سے فون پر بات کر رہا ہوں: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہBernd Debusmann Jr/BBC News
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن اس وقت فون پر بات کر رہے ہیں۔ امریکہ اور روس کے صدور کے مابین یہ رابطہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے امریکہ کے دورے کے ایک دن پہلے ہو رہا ہے۔
اس فون کال کے بارے میں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سوشل ٹروتھ پر خبر دی۔
کریملن نے بھی اس فون کال کی تصدیق کی ہے۔ روسی سرکاری میڈیا نے ٹرمپ اور پوتن کی فون کال پر خبر بھی نشر کی ہے۔
یہ دونوں صدور کی امریکی ریاست الاسکا میں اگست میں ملاقات کے بعد پہلا رابطہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ’یہ بات چیت ابھی جاری ہے، یہ طویل ہے، میں اور صدر پوتن اختتام پر اس فون کی کال کی تفصیلات شیئر کریں گے۔‘
دو سال کی جنگ اور اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ اب کیسا دکھائی دیتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میں 23 بار نقل مکانی کر چکی ہیں، لیکن میں اب بھی امید پر قائم ہوں‘, نبیحہ احمد، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہSalma Kaddoumi
میں فلسطینی صحافی 35 سالہ سلمیٰ قدومی سے بات کر رہی ہو جو اس وقت غزہ کی پٹی کے وسط میں مقیم ہیں۔
ان کے اور ان کے بھائی کے گھر جنگ کے آغاز میں تباہ ہو گئے تھے، اور وہ مجھے بتاتی ہیں کہ وہ پچھلے دو سالوں میں 23 بار بے گھر ہو چکی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے پاس واپس جانے کے لیے کوئی گھر نہیں ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس جنگ سے پہلے اپنی زندگی کی ’یادوں کے سوا کچھ نہیں‘ رہ گیا۔
سلمیٰ کا کہنا ہے کہ یہ خاص طور پر ان کے معمر والد اور ان کے بھائی کے چھوٹے بچوں کے لیے مشکل تھا۔ فی الحال، وہ کرائے کے لیے نئے گھر کی تلاش میں ہیں۔
’ہم اب بھی امید پر قائم ہیں۔۔۔ کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، اور یہ کہ ہم اپنے تباہ شدہ گھر واپس جا سکیں گے۔‘
’مودی نے فون پر یقین دہانی کرائی ہے کہ انڈیا روس سے تیل کی درآمد روک دے گا‘، ٹرمپ کے دعوے پر انڈین دفتر خارجہ کی لاعلمی, شان سیڈن، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا نے ٹرمپ کے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی روسی تیل خریدنا بند کردیں گے۔
انڈین وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس فون کال سے آگاہ نہیں ہیں جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
بدھ کو ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے انڈین ہم منصب نے آج مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ روسی تیل کی درآمدات کو روک دیں گے۔‘ امریکہ یہ سب یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے کریملن پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے کر رہا ہے۔
تاہم جمعرات کو ہونے والی کال کے بارے میں پوچھے جانے پر انڈیا حکومت کے ترجمان نے ٹرمپ کے بیان پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گذشتہ روز ہونے والی کسی بات چیت سے آگاہ نہیں ہیں۔
اس سے قبل انڈین حکومت نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ روسی تیل کی خریداری پر بات چیت جاری ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے انڈیا روس کے لیے توانائی کا ایک اہم صارف بن گیا ہے۔ اس سے روس کی صنعت کو سہارا ملا ہے کیونکہ یوکرین کے اتحادی یورپی ممالک نے روس سے توانائی کے شعبے میں تعاون کم کر دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے انڈیا پر عوامی اور سفارتی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ روسی توانائی کی منڈی کے لیے اپنی مدد ختم کرے کیونکہ وہ کریملن کی معاشی تنہائی میں اضافہ اور جنگ کو ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین میں جنگ کا آغاز کیا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
بُدھ کو وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھیں بدھ کو مودی کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انڈیا ’مختصر وقت میں‘ اپنی خریداری روک دے گا۔
اپنے ابتدائی جواب میں انڈین حکومت نے اس بات سے براہ راست اختلاف نہیں کیا کہ ٹرمپ اور مودی کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی۔ اس میں درج تھا کہ ’توانائی کے غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر انڈین صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہماری مستقل ترجیح ہے اور ہماری درآمدی پالیسیاں مکمل طور پر اسی مقصد کے لیے ہیں۔‘
جمعرات کو انڈین حکومت کا دوسرا جواب اس بات پر مزید سوالات اٹھاتا ہے کہ آیا واشنگٹن اور دہلی کے درمیان کوئی معاہدہ ہوا ہے۔
بی بی سی نیوز نے اس پر تبصرہ کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔روسی خام تیل پر دہلی کا مسلسل انحصار، جسے وہ رعایتی طور پر درآمد کرتا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات میں تنازع کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔
انڈیا روس سے تیل درآمد کرنے کے لحاظ سے چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جس کی مالی اعانت روس کی اہم جیواشم ایندھن کی صنعت کے خاتمے کو روکنے میں مدد کرتی ہے۔
مودی کی حکومت نے یوکرین کے اتحادیوں پر دہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے ، جس میں روس کے ساتھ جاری تجارت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جس میں یورپی یونین کو توانائی کی درآمد بھی شامل ہے۔
اس ہفتے پابندیوں کے اپنے تازہ سلسلے میں برطانوی حکومت نے کہا کہ وہ ایک بڑی انڈین آئل ریفائنری کو نشانہ بنائے گی کیونکہ وہ ’روسی تیل کو عالمی منڈیوں میں لانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا کی نیارا انرجی لمیٹڈ نے صرف 2024 میں پانچ ارب ڈالر (3.75 بلین پاؤنڈ) سے زائد مالیت کا 100 ملین بیرل روسی خام تیل درآمد کیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے وزرا خارجہ کے درمیان رابطہ: خطے کے استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب
وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو جمعرات کے روز سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ
شہزادہ فیصل بن فرحان کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں کی
جانب سے خطے کی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے
خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا اور استحکام کے لیے مشترکہ
کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب
کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب
کے ساتھ علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے
قریبی روابط برقرار رکھے گا۔
خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے سنٹرل کرم کے رہائشی ایک بار پھر نقل مکانی پر کیوں مجبور ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے سنٹرل کرم سے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کی جا رہی ہے اور اب تک دو ہزار سے زیادہ خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔
اس علاقے کے لوگ یہ نقل مکانی پہلی مرتبہ نہیں کر رہے بلکہ جولائی 2011 میں بھی اسی طرح مجبور ہو کر ان لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر بچوں خواتین اور بزرگوں سمیت دوسرے علاقوں میں پناہ لی تھی۔
اس سے پہلے 2008 اور 2010 کے دروان بھی نقل مکانی کی گئی تھی اور مختلف علاقوں کے لوگوں کو مختلف ادوار میں نقل مکانی کرائی گئی اور پھر 2016 میں انھیں واپس گھروں کو بھیجا گیا تھا۔
سنٹرل کرم سے لوئر کرم کی جانب نقل مکانی کرنے والے ایک متاثرہ شخص جمیل شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگ چند روز پہلے نقل مکانی کر کے لوئر کرم آ گئے تھے لیکن مشکلات دیکھ کر والد صاحب واپس سنٹرل کرم چلے گئے اور اسی رات ساتھ والے گھر پر گولہ گرا تو دوسرے روز جا کر والد کو ادھر لوئر کرم لے آئے ہیں‘۔
جمیل شاہ بار بار کی نقل مکانی سے پریشان تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم کیا کر سکتے تھے پہلے ہمارے علاقے میں جھڑپیں ہوئیں اور اس کے بعد سرحد پر افغانستان کے ساتھ گولہ باری شروع ہو گئی تھی، مرتے کیا نہ کرتے بچے اور خواتین انتہائی خوفزدہ تھے اور بس جیسے کیسے ہوا سامان ٹریکٹر ٹرالیوں اور پک اپ گاڑیوں میں ڈال کر لے آئے، اب یہاں کرائے کا مکان لیا ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔‘
انھوں نے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ سٹرل کرم میں جینا مشکل ہو گیا ہے جبکہ یہاں سے بھاگنا مجبوری بن گئی ہے۔
سنٹرل کرم میں پہلے بھی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے انھوں نے اپنا گھر بار چھوڑا تھا اور اب پھر ایک مرتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
مقامی صحافی نسیم خان اس علاقے میں موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ لوگ بڑی مشکل سے محفوظ مقامات کی جانب جا رہے ہیں۔
اکثر خاندان پیدل روانہ ہوئے ہیں اور وہ 20 سے 25 کلومیٹر کا فیصلہ طے کرکے اپنے جاننے والوں یا رشتہ داروں کی طرف جا رہے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والے سنٹرل کرم کے سمندر کلی کے نوجوان جمیل شاہ نے بتایا کہ ’ہمارے علاقے سے سنہ 2008 کے بعد سے بار بار نقل مکانی کرائی جا رہی ہے، کچے مکان بنانے میں ہمیں سالوں لگ جاتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ نقل مکانی کریں معلوم نہیں اس مرتبہ ہمارا مکان محفوظ رہے گا یا پھر اسے نقصان پہنچے گا۔‘
جمیل شاہ نے بتایا کہ ان کے والد بنیادی ضروریات نہ ہونے اور حالات دیکھ کر نقل مکانی کرنے کے باوجود واپس اپنے گھر سنٹرل کرم چلے گئے تھے جس سے ہم سارے اہل خانہ پریشان تھے۔
ان کے جانے کے بعد رات کو ہمارے گھر کے ساتھ والے مکان پر گولہ گرا تھا جہاں بڑا نقصان ہوا تو ہمیں فکر لاحق ہوئی اور واپس جا کر اپنے والد صاحب کو ادھر لوئر کرم لے آئے تھے۔
جمیل شاہ نے بتایا کہ ان کے ساتھ ایک دو اور خاندان بھی نقل مکانی کرکے لوئر کرم آئے تھے لیکن یہاں مشکلات کی وجہ سے وہ پشاور چلے گئے ہیں۔
گذشتہ پانچ روز سے جاری نقل مکانی میں اب تک مقامی انتظامیہ کے مطابق 2200 سے زیادہ خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر علاقوں کو چلے گئے ہیں۔
سنٹرل کرم کے انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک 19 گاؤں ایسے ہیں جہاں سے نقل مکانی کی جا رہی ہے۔ ان میں تورنازون، جنگل، سمندر کلے، ڈار، منجن، ایسارک، جگی ماسوزئی، جار، گوازا، کٹاسری، پخے کلی، ڈنگر گوڈو، لکی کلی، نجاب کلی، کپردپ، لغار پخا اور ببرو پخہ شامل ہیں۔
نقل مکانی، پھر سے کیوں؟
بنیادی طور پر اس نقل مکانی کا اعلان اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد کیا گیا تھا اور مقامی لوگوں سے کہا گیا تھا کہ یہ علاقہ خالی کر دیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں عسکریت پسند زیادہ متحرک ہیں اور ان کی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔
ضلع کرم اور ضلع اورکزئی کے سرحدی علاقوں سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ لگ بھگ 10 روز پہلے مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فروسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
اس واقعہ کے بعد فوج کے دو افسران سمیت سکیورٹی اہلکار اس علاقے میں سرچ آپریشن کے لیے گئے جہاں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں دونوں افسران سمیت 11 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں کہ پانچ اہلکار لاپتہ ہو گئے اور پھر دو روز بعد ان کی لاشیں بھی اسی علاقے سے ملی تھیں۔
فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سرچ آپریشن کے دوران جھڑپ میں 19 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد ان علاقوں میں کارروائیاں کی گئی تھیں جن میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں مسلح عسکریت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔ اس علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کے لیے آپریشن کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟
سنٹرل کرم سے نقل مکانی کرنے والے افراد مختلف علاقوں کی جانب جا رہے ہیں۔
کرم کے قریب ضلع ہنگو میں ٹل کے مقام پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے انتظام کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹل میں ایک گرلز ڈگری کالج کے حصے میں ان متاثرین کے لیے انتظام کیا گیا ہے لیکن اب تک ان کی اطلاع کے مطابق اس کالج میں کوئی بھی نہیں آیا۔
انھوں نے بتایا کہ ان متاثرین کے لیے بنیادی ضروریات کا انتظام بھی کیا گیا ہے جن میں پانی، واش رومز، بجلی اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً یہ متاثرہ لوگ اپنے رشتہ داروں کے ہاں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر اشفاق خان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ تفصیل معلوم کر کے بتا سکیں گے لیکن اس کے بعد سے ان کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکا۔
سنٹرل کرم کے ایک انتظامی افسر نے بتایا کہ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں اور ان کے لیے سنٹرل اور لوئر کرم کے کے درمیان ایک مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں انھیں بنیادی ضروریات کا سامان اور نقد رقم بھی دی جا رہی ہے۔
کیسے لوگ کیسا سفر مقامی صحافی نسیم خان نے بتایا کہ سنٹرل کرم سے لوئر کرم تک کا کوئی 25 کلومیٹر کا راستہ ہے اور اس میں لوگوں نے سامان تو ٹرکٹر ٹرالیوں اور پک اپ گاڑیوں میں رکھا تھا لیکن بڑی تعداد میں لوگ پیدل بھی روانہ تھے۔
ان میں ایسے لوگ تھے جس کے پاس مال مویشی تھے تو وہ گاڑیوں میں نہیں آ سکتے تھے اس لیے انھوں نے پیدل سفر اختیار کیا۔ اکثر لوگوں نے حکومت کی جانب سے بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کا شکوہ کیا اور کہا کہ ان کے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور لوئر کرم سے کوئی گاڑی سامان لینے کے لیے اپر کرم کی طرف نہیں آتی جبکہ سنٹرل کرم میں ٹریکٹر اور پک اپ گاڑیاں اتنی نہیں ہیں کہ اتنی بڑی آبادی نقل مکانی کر سکے۔
سنٹرل کرم میں غربت ہے، اکثر مکان کچے ہیں، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی کھیتی باڑی کا سلسلہ بھی محدود ہے۔ کچھ گھرانوں کے لوگ خلیجی ممالک میں کام کرکے کچھ رقوم بھیج دیتے ہیں ایسے میں ان کے لیے نقل مکانی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے، جہاں وسائل نہ ہوں اور دوسری جانب جان کو خطرہ لاحق ہو۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ ماضی میں اس علاقے میں شدت پسندی عروج پر تھی اور یہاں فوجی آپریشنز کے بعد امن قائم ہو گیا تھا لیکن اب ایک مرتبہ پھر علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
پاکستان افغانستان کشیدگی: سپین بولدک میں ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئی، محکمہ صحت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بدھ کے روز افغانستان اور پاکستان کے درمیان صوبہ قندھار
کے ضلع سپین بولدک کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں
کی تعداد کے حوالے سے مختلف رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق سپین بولدک کے محکمہ صحت کے
ڈائریکٹر سید زبیر آغا نے بی بی سی کے نمائندے حافظ اللہ معروف کو بتایا کہ ان
واقعات میں اب تک عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 170 کے
قریب شہری زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن
(یوناما) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سب سے زیادہ جانی نقصان سپین بولدک میں ہوا
جہاں 17 افراد ہلاک اور 360 سے زائد زخمی ہوئے۔
تاہم اقوام متحدہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ
تازہ ترین معلومات جمع کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب سپین بولدک کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر
سید زبیر آغا کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں ضلع سپین
بولدک کے مرکزی علاقے میں ہوئیں۔
زبیر آغا کا دعویٰ ہے کہ ’زیادہ تر جانی نقصان اس
جگہ ہوا جہاں ایک گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی اور جب پاکستان کی جانب سے بمباری
ہوئی تو بڑی تعداد میں مہمان اندر موجود تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ رات دیر تک امدادی کارکن
متاثرہ علاقوں سے لاشیں اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف تھے اسی وجہ سے بعد میں
ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ سامنے آیا ہے۔‘