غزہ میں سات سال تک جنگ بندی کے لیے قطری اور مصری ثالثوں کا نیا فارمولہ زیر غور

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات سے وابستہ ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قطری اور مصری ثالثوں نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا فارمولہ تجویز کیا ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان میں انسداد پولیو مہم شروع: جنوبی وزیرستان میں پولیس ٹیم پر حملہ، لکی مروت میں بائیکاٹ کی کال
  • میانوالی اور مکڑوال میں کارروائی کے دوران 10 سے زیادہ شدت پسند ہلاک: پنجاب پولیس
  • پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی بدولت انڈیکس میں 1200 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ جبکہ ملک میں سونے کی قیمت حالیہ اضافہ کے بعد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
  • یمن میں فضائی حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ تیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں

لائیو کوریج

  1. ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی مذاکرات کا دوسرا دور: تہران مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے آمادہ کیوں ہوا؟, پرہام غوبادی، بی بی سی فارسی

    رواں ماہ کے شروع میں تہران میں ایک نمائش میں

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنرواں ماہ کے آغاز میں تہران میں منعقدہ ایک نمائش کے دوران صدر مسعود پیزشکیان کو ایران کی جوہری ٹیکنالوجی دکھائی گئی تھی۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور سنیچر کے روز روم میں ہوا۔ مذاکرات کے اختتام پر دونوں ممالک نے اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم فوجی کارروائی کی دھمکیوں اور ملے جلے پیغامات کی وجہ سے زیادہ امیدیں نہیں لگائی جا سکتیں کہ ان مذاکرات سے کشیدگی میں کمی واقع ہو گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً روز ہی تہران کو یاد دلاتے نظر آتے ہیں کہ اس کے پاس دو ہی آپشنز ہیں: معاہدہ یا جنگ۔

    وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی قیادت اسرائیل کرے گا۔

    گذشتہ ہفتے بدھ کے روز، نیویارک ٹائمز نے ایک خبر شائع کی تھی کہ صدر ٹرمپ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے اسرائیلی منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

    جمعرات کے روز اس خبر کے حوالے سے جب ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ بالکل بھی جلدی میں نہیں ہیں اور سفارت کاری کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔

    ’میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے پاس ایک عظیم ملک بننے اور تباہی کے بغیر خوشی سے جینے کا موقع ہے... یہ میرا پہلا آپشن ہے۔ اگر دوسرا آپشن ہوتا ہے تو میرے خیال میں وہ ایران کے لیے بہت برا ہوگا۔‘

    دونوں فریقوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کے آخر میں عمان میں ہونے والی بات چیت کے پہلے دور کو تعمیری قرار دینے کے بعد، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’ایران کے حوالے سے بہت جلد فیصلہ کریں گے۔‘

    ایران مذاکرات کی میز پر واپس کیوں آیا؟

    ایران چاہے کچھ بھی کہے لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں فوجی کارروائی کی دھمکی کا بھی کردار ہے۔

    ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ویب سائٹ پر موجود بیان کے مطابق تہران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خوف سے نہیں بلکہ مذاکرات پر صرف اس لیے راضی ہوا ہے کیونکہ امریکہ نے اپنے مطالبات کو جوہری مسئلے تک محدود رکھا ہے۔

    تاہم اب بھی یہ بات یقین سے نہیں کی جا سکتی کہ دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچ پائیں گے۔

    امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادرت کرنے والے مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے منگل کو ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حتمی معاہدہ ایسا ہونا چاہیے جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ایک فریم ورک ملے بلکہ ایران اپنے جوہری افزودگی اور ہتھیاروں کے پروگرام کو ختم کردے۔

    اس بیان سے ایک روز قبل ہی انھوں نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً روز ہی تہران کو یاد دلاتے نظر آتے ہیں کہ اس کے پاس دو ہی آپشنز ہیں: معاہدہ یا جنگ۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً روز ہی تہران کو یاد دلاتے نظر آتے ہیں کہ اس کے پاس دو ہی آپشنز ہیں: معاہدہ یا جنگ۔

    انھوں نے 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے میں مقرر کردہ حد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو 3.67 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

    ایرانی وفد کے سربراہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وٹکوف کے بیانات میں موجود ’تضاد‘ کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’اصل پوزیشن مذاکرات کی میز واضح ہو گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے متعلق پائے جانے والے ممکنہ خدشات کو دور کرنے اور اس کے حوالے سے اعتماد پیدا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن یورینیم کی افزودگی کے اصول پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔

    Ayatollah Ali Khamenei (R), met Saudi Defence Minister Prince Khalid bin Salman

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سفارتی ہلچل

    سنیچر کے روز ہونے والے مذاکرات سے قبل کافی سفارتی ہلچل بھی دیکھنے میں آئی۔

    سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جمعرات کے روز تہران کا دورہ کیا اور اپنے والد شاہ سلمان کا ذاتی پیغام آیت اللہ خامنہ ای کو پہنچایا۔ انھوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔

    ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کے جواب میں وہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان میں سے اکثر اڈے ایران کے عرب پڑوسی ممالک میں ہیں۔

    اسی دوران ایران کے وزیرِ خارجہ نے ماسکو کا دورہ کیا اور خامنہ ای کا ایک خط روسی صدر ولادیمیر پوتن تک پہنچایا۔

    یوکرین میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران اور روس کے مابین فوجی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ تہران پر ماسکو کو ڈرونز فراہم کرنے کا الزام بھی لگتا آیا ہے۔

    تقریباً 10 روز قبل روسی پارلیمنٹ نے ایران اور روس کے درمیان 20 سالہ سٹریٹجک شراکت داری معاہدے کی توثیق کی تھی۔ تاہم اس معاہدے میں باہمی دفاعی شق شامل نہیں۔

    دریں اثنا، گذشتہ ہفتے بین الاقوامی ایٹمی انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے تہران کا دورہ کیا اور ایرانی جوہری حکام اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور معائنہ پروٹوکول کو بحال کیا جا سکے۔

    امریکی ایلچی سٹیو وٹ کوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دونوں مذاکراتی ٹیموں کی سربراہی کر رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنامریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکراتی ٹیموں کی سربراہی کر رہے ہیں۔

    اعتماد کا فقدان

    ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد سے آیت اللہ خامنہ ای نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی مسلسل مذمت کی ہے۔

    فروری میں ایک تقریر کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اس انتظامیہ کے ساتھ بات چیت عقلمندی کا تقاضہ نہیں۔

    بظاہر ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی عدم اعتماد کی وجہ جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی دستبرداری، 2020 میں عراق میں امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور صدر ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی مہم کا اعلان ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے مذاکرات کے پہلے دور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے احسن طریقے سے کیا گیا ہے۔

    لیکن انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس مذاکراتی عمل سے نہ تو وہ سے زیادہ پر امید ہیں اور نہ ہی حد سے زیادہ مایوس۔

    وہ پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی صورت میں تہران جوابی کارروائی ضرور کرے گا۔

    ان کے مشیر علی لاریجانی سمیت بعض عہدیداروں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر حملہ کیا گیا تو ایران ایٹمی ہتھیار بنانے پر ’مجبور‘ ہو جائے گا۔

    براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات؟

    امریکہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات براہ راست ہو رہے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات بالواسطہ ہیں اور عمان بطور ثالث دونوں فریقین کے درمیان تحریری نوٹوں کے تبادلے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

    مسقط میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد عراقچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے سفارتی آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے وٹکوف سے ایک مختصر ملاقات کی ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دونوں چیف مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات 45 منٹ تک جاری رہی۔

    تہران رازداری کو ترجیح دیتا ہے جبکہ واشنگٹن پبلسٹی چاہتا ہے۔

    دونوں فریقوں کی جانب سے پہلے دور کے بارے میں مثبت بیانات سامنے آنے کے بعد، ایران کی کرنسی میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔

    ایران کی قیادت ملک کو درپیش مشکل معاشی حالات پر عوامی عدم اطمینان اور اس کے نتیجے میں عوامی مظاہروں کے امکانات سے بخوبی واقف ہے۔

    ایران صرف فوجی کاروائیوں سے نہیں بلکہ ملک میں ہونے والے احتجاج کے امکانات سے بھی خوفزدہ ہے۔

  2. روسی صدر کا ایسٹر کے موقع پر یوکرین کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی میڈیا کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں ایسٹر کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

    تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی صدر کی جانب سے جنگ بندی کا یہ اعلان 20 اپریل کی رات ایسٹر کے اختتام تک کے لیے کیا گیا ہے۔

    روسی صدر پوتن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے اعلان کردہ جنگ بندی کی مدت کے لیے یوکرین میں تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا حکم دیا ہے تاہم اُن کا کہنا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یوکرین بھی ایسا ہی کرے گا۔‘

    آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیو میں پوتن نے مزید کہا کہ ’اگر اشتعال انگیزی یا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو روسی فوج جواب دینے کے لیے تیار ہو گی۔‘

    دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حال ہی میں ایکس پر اپنے ایک بیان میں اس صورت حال کو ’پوٹن کی جانب سے انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی ایک اور کوشش‘ قرار دیا ہے۔ زیلنسکی نے اپنے بیان میں مزید لکھا ہے کہ ’ہمارے آسمانوں میں موجود ڈرونز ایسٹر اور انسانی زندگی کے بارے میں پوتن کے حقیقی رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔‘

    تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ زیلنسکی یہاں پوتن کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ ’ایسٹر جنگ بندی‘ کا حوالہ دے رہے ہیں یا نہیں۔

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرین کی افواج روس کے کرسک علاقے میں ہیں اور یوکرین کے ’کنٹرول زون‘ نے روسی بیلگورود کے علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی صدر کے حکم کے بعد روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنگ بندی کا اعلان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔‘

    روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس کے ساتھ ساتھ ہمارے فوجیوں کو جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزیوں اور دشمن کی جانب سے اشتعال انگیزی، اس کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کو پسپا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

    روسی وزارتِ دفاع کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سیبیہا کا کہنا ہے کہ ’پوتن کے الفاظ پر ’بھروسہ نہیں کیا جاسکتا‘ اور یہ اس بات پر بھی کہ روس کسی بھی وقت مکمل اور غیر مشروط 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کرسکتا ہے۔‘

    اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ آیا پوتن کی ایسٹر کے موقع پر جنگ بندی امن کی طویل مدت پر بات چیت کا باعث بنے گی یا نہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ماسکو یا کئیو نے امن معاہدے تک پہنچنے میں مشکلات پیدا کیں تو امریکا مذاکرات کے عمل سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

  3. بلوچستان نیشنل پارٹی کے سامنے جمہوری مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں: سردار اختر مینگل, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو نہ عدالتوں سے اور نہ ہی حکومت سے کوئی ریلیف مل رہا ہے اس لیے پارٹی کے سامنے جمہوری مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

    سنیچر کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک میڈیا کانفرنس میں پارٹی کی مرکزی کابینہ کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کی رہائی کے لیے ہم نے 20 روز تک دھرنا دیا جبکہ تھری ایم پی او کے تحت ان کی گرفتاری کو عدالت میں بھی چیلنج کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ سے تھری ایم پی او کے تحت ایک ہی نوعیت کے کیس میں بعض لوگوں کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا گیا جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لوگوں کے کیس کو غیر قانونی قرار دینے کی بجائے محکمہ داخلہ کو بھیجوادیا گیا۔

    ان کے مطابق ’جب لوگوں کو انصاف اور ریلیف نہیں ملے گا تو لوگ مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جہاں ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر کی عدم رہائی کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بلوچستان میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے وہاں بلوچستان نیشنل پارٹی کی کابینہ نے 23 اپریل کو خضدار، 25 اپریل کو گوادر، 27 اپریل کو پنجگور اور 29 اپریل کو نوشکی میں احتجاجی جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ دو مئی کو آخری جلسہ کوئٹہ میں منعقد ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ ’جہاں ہم جمہوری احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے وہاں قانونی محاز پر بھی اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔‘

    سردار اخترمینگل نے بلوچستان کی موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مفاد کے خلاف مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو پاس کیا گیا جبکہ سوئی میں پی پی ایل کے ساتھ بلوچستان کے مفاد کے برعکس لیز کا معاہدہ بھی موجودہ حکومت نے کر دیا۔

    انھوں نے کہا کہ جو پارٹی 18ویں آئینی ترمیم کا کریڈٹ لے رہی ہے اس جماعت کی حکومت نے بلوچستان کے وسائل اور اختیارات کو وفاق کی جھولی میں پھینک دیا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان کے مسائل سیاسی ہیں اور اگر ان کو توپ کے زریعے حل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو پھر بلوچستان کے لوگوں کو باہر جانے کے لیے اور باہر سے یہاں آنے والوں کو ویزوں کی ضرورت ہوگی۔

  4. اسحاق ڈار کا دورہ کابل: ’افغان پناہ گزینوں کو عزت و احترام کے ساتھ ان کے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے‘

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار امیر متقی کے ہمراہ

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کابل دورے کے موقع پر پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو عزت و احترام کے ساتھ ان کے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ اپنی سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی میں استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان میں اپنے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر افغان حکام کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کے حوالے سے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے وزیر خارجہ امیر متقی سے بات چیت میں افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے چار اصولی فیصلے ہوئے ہیں۔

    ’فیصلہ ہوا ہے کہ عزت و احترام کے ساتھ افغان پناہ گزینوں کی واپسی ہو گی یہ ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے اور حکومت کی ہدایات بھی یہیں ہیں۔ تاہم اگر کہیں اکا دکا اس کی شکایت بھی آئے تو اس کا ازالہ کرنے کے لیے وزارت داخلہ اس کا فوری نوٹس لے گی۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد نے اس ملاقات کے حوالے سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ’امیر متقی نے پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں پاکستان میں افعان پناہ گزینوں کے ساتھ واپسی کے عمل میں ناروا رویے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔‘

    ’افغان شہریوں کو اپنے اثاثے اور اپنا سامان لے جانے کی مکمل اجازت ہے‘

    سنیچر کی سہہ پہراسحاق ڈار نے کابل میں اردو زبان کی کی گئی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ افغان قیادت سے درخِواست کی ہے کہ خطے کی ترقی کے لیے مل کر کام کیا جائے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’افغان شہریوں کی واپسی کے عمل میں کسی بھی شکایت کا فوری ایکشن لیا جائے گا۔ کچھ پناہ گزینوں کی جائیداوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ میں واضح کرتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان کی ایسی نہ ہدایت ہے نہ ہو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ افغان شہریوں کو اپنے اثاثے اور اپنا سامان لے جانے کی مکمل اجازت ہے۔ وہ دہائیوں سے ہمارے مہمان تھے اور انھیں عزت سے بھیجنا ہے۔ اگر کہیں اس کے خلاف ہوتا ہے تو اس کو روکنے کے ہم دونوں ممالک ذمہ دار ہیں۔‘

    سکرین شارٹ اسحاق ڈار کا دورہ کابل

    ،تصویر کا ذریعہ@HafizZiaAhmad

    مذاکرات میں تجارت پر مفصل بات چیت

    اسحاق ڈار کے مطابق افغان قیادت کے ساتھ مذاکرات میں تجارت پر مفصل بات ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس 30 جون 2025 تک آپریٹیو ہو جائے گا۔ جس سے دونوں اطراف کو فائدہ ہو گا۔ اس سے تجارتی سامان کی نقل و حمل میں بہتری آ سکتی ہے۔ تجارتی وفود اور ایگزیبیشن ضروری ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت پر فروغ ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ طورخم بارڈر پر آئی ٹی سسٹم بھی جلد بحال کیا جائے گا۔

    ’پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں‘

    انھوں نے پریس کانفرنس کے آخر میں اپنے میزبانوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے روابط بحال رکھنے کی تاکید کی۔

    انھوں نے افغان حکام کو پاکستان آنے کی بھی با ضابطہ دعوت دی اور کہا ’افغان قیادت کو کہا ہے کہ یہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں۔‘

    ’بہترین میزبانی پر افغان قیادت کے شکر گزار ہیں۔ تمام حکام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کو پاکستان آنے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ یہ روابط رہیں گے تو مسائل کم ہوں گے۔‘

  5. پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا پہلا دورۂ افغانستان، سکیورٹی اور سرحدی معاملات پر بات چیت

    اسحاق ڈار ایک روزہ دورے پر کابل میں موجود

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایک روزہ دورے پر کابل میں موجود ہیں جہاں پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق قائم مقام افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ ملاقات میں انھوں نے سکیورٹی، تجارت، ٹرانزٹ، کنیکٹیویٹی اور دیگر معاملات میں تعاون بڑھانے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم نے اس دوران علاقائی تجارت اور خاص طور پر سکیورٹی اور بارڈر مینجمنٹ سے متعلق مسائل کو حل کرنے پر زور دیا۔

    دونوں فریقوں نے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اعلیٰ سطحی روابط کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا ہے۔

    یاد رہے کہ بطور نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا افغانستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران افغان قائم مقام وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند اور قائم مقام نائب وزیراعظم برائے انتظامی امور ملا عبدالسلام حنفی سے ملاقات کریں گے۔

    کابل روانگی سے قبل پاکستان کے سرکاری میڈیا پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، جنھیں مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

    پی ٹی وی کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے خدشات ہیں، اور اس معاملے پر افغان فریق سے بات چیت کی جائے گی۔

    اسحاق ڈار کی ملاقاتیں

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق کابل پہنچنے پر اسحاق ڈار کا استقبال افغان حکومت کے معززین بشمول ڈاکٹر محمد نعیم وردگ ڈپٹی وزیر خارجہ، مفتی نور احمد، ڈی جی وزارت خارجہ، فیصل جلالی، چیف آف سٹیٹ پروٹوکول نے کیا۔

    اس موقع پر افغانستان میں پاکستان کے ہیڈ آف مشن سفیر عبید الرحمان نظامانی اور سفارتخانے کے افسران بھی موجود تھے۔

    یاد رہے کہ جمعے کے روز ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے بھی بریفنگ میں کہا تھا کہ قائم مقام افغان وزیر خارجہ کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے سنیچر کے روز کابل جائیں گے جہاں مذاکرات میں پاک افغان تعلقات کا احاطہ کیا جائے گا۔

    بریفنگ کے مطابق دورہ کابل میں سکیورٹی اور تجارت سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

  6. اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    بین الاقوامی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.9 اور گہرائی 69 کلومیٹر تھی جبکہ زلزلہ سرینگر اور افغانستان کے شہر جلال آباد تک محسوس کیا گیا۔

    دوسری جانب پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی کے مطابق اس زلزلے کی شدت 5.9 اور گہرائی 94 کلومیٹر تھی جبکہ مرکز افغانستان اور تاجکستان بارڈر تھا۔

    واضح رہے کہ یہ اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ایک ہفتے کے دوران آنے والا دوسرا زلزلہ ہے۔ 12 اپریل کو بھی ان علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

  7. خیبرپختونخوا میں بارش، ژالہ باری اور آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے (پی ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران ہونے والی بارش، ژالہ باری اور آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک جبکہ نو زخمی ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں ایک مرد اور ایک خاتون جبکہ زخمیوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں کے باعث مجموعی طور پر 11 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  8. نریندر مودی کا ایلون مسک کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ: ’امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں‘

    مودی، مسک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انھوں نے ایلون مسک کے ساتھ بات چیت کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپنے ملک کی صلاحیت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    جمعے کے روز ایکس پر اپنے پیغام میں مودی نے ایلون مسک کے ساتھ فون پر ہونے والی بات چیت کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے اس برس کے شروع میں امریکہ میں ہونے والی ملاقات میں زیر بحث آنے والے موضوعات ہر بات کی۔

    مودی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ انڈیا ٹیکنالوجی کے شعبے میں ’امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم‘ ہے۔

    مودی اور ایلون مسک کے درمیان بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انڈیا، امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدہ کرنے کی سمت کام کر رہا ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ ٹیرف کے نقصان کو پورا کیا جا سکے۔

    دوسری جانب امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس 21 اپریل کو چار روزہ دورے پر انڈیا پہنچ رہے ہیں، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان معاشی، تجارتی اور جیو پولیٹکل معاملات پر مذاکرات ہوں گے۔

  9. ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور آج روم میں ہو گا

    ایران، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters/Getty Images

    ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور آج روم میں ہو گا۔

    ایران اور امریکہ گذشتہ ہفتے عمان میں ہونے والے ان مذاکرات کے پہلے دور کو تعمیری قرار دے چکے ہیں جبکہ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ’ایران کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو بار بار آپشنز کے بارے میں یاد دہانی کرواتے رہے ہیں: یعنی معاہدہ یا جنگ۔۔۔

    امریکی صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل کی سربراہی میں فوجی ردعمل دیا جائے گا۔

    بدھ کے روز نیو یارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اسرائیلی منصوبہ اگلے ماہ تک روک دیا ہے۔

    جمعرات کے روز اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے ایسا کرنے کی کوئی جلدی نہیں‘۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سفارت کاری کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں ایران کے پاس مرے بغیر خوش و خرم رہنے کا موقع ہے۔ یہ میرا پہلا آپشن ہے اور اگر کوئی دوسرا آپشن ہے تو وہ ایران کے لیے بہت برا ہو گا۔‘

  10. حکومت کینالز کا متنازعہ منصوبہ فوری واپس لے ورنہ پیپلز پارٹی ساتھ نہیں چل سکے گی: بلاول بھٹو

    Bilawal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سندھ اور پاکستان کے عوام کینال کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں، وفاقی حکومت فوری طور پر یہ متنازع منصوبہ واپس لے ورنہ پیپلزپارٹی اس کے ساتھ نہیں چلے سکے گی جبکہ یہ ایشو وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    حیدرآباد میں جلسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ متنازع کینال منصوبہ ایک ایسا ایشو ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کو مسئلے میں ڈال سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب عمران خان نے دو کینالز بنانے کی اجازت دی تو پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور اس کے بعد عوام کی طاقت سے عدم اعتماد کی تحریک لے کر آئے اور دو کینالز کی اجازت دینے والے کو گھر بھیج دیا تھا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کی منصفانہ تقیسم ہماری قومی اور عالمی ذمے داری ہے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم تو متنازع کینالز کے منصوبے کے خلاف مستقل آواز اٹھا رہے ہیں، مگر اسلام آباد والے اندھے اور بہرے ہیں، وہ دیکھنے اور سننے کے لیے تیار نہیں، ہم متنازع کینال منصوبے کی مخالفت اصولوں کی وجہ سے کررہے ہیں، اور اس لیے کہ میرا وفاق خطرے میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عین اس وقت جب دہشت گرد تنظیمیں بلوچستان اور خیرپختونخوا میں حملے کررہی ہیں، اور پورے ملک میں دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے ایک ایسا موضوع چھیڑ دیا گیا ہے جس سے بھائی کو بھائی سے لڑنے کا خطرہ ہے اور وفاق کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیاسے مر جانے کا خطرہ ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ متنازع کینال بنانے والے اسلام آباد میں بیٹھے ہیں، اور ہماری وجہ سے طاقت ان کے پاس ہے، اگر آج شہباز شریف وزیراعظم ہیں تو انھیں سندھ کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں وزارتیں نہیں چاہیئں، اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے تو ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی ترقی ہو، ہم چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں اور ان کے پس پردہ عالمی طاقتوں کو عبرتناک شکست ہو، چاروں صوبوں میں ترقی ہو، مہنگائی میں کمی ہو، روزگار کے مواقع میسر ہوں اور اس حد تک ہم ساتھ چلنے کے لیے تیار تھے۔

    بلاول بھٹو نے حکومتی جماعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ( ن) کی ہر پالیسی کسان دشمن ہے، پہلے انھوں نے گندم سکینڈل کی وجہ سے ہمارے کسانوں اور ہاریوں کے معاشی قتل کا بندوبست کیا، اور پھر امدادی قیمت دینے کے بجائے چاروں صوبوں کو کسانوں کو امدادی قیمت دینے اور گندم خریدنے سے روک دیا، یہ سراسر ظلم ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اب یہ صحرا کو آباد کریں گے، یہ چولستان کے ریگستان میں کاشت کاری کرنا چاہتے ہیں، جبکہ 25 سال سے یہاں پانی کی قلت چلی آرہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر آپ نے نئے علاقے کو آباد کرنا ہے تو ضرور کریں مگر دریائے سندھ پر ہم سودا نہیں کریں گے، ہمارامطالبہ ہے کہ سندھ مخالف منصوبے واپس لیے جائیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر حکومت یہ متنازع منصوبہ روک دیتی ہے تو میں اس کے ساتھ بیٹھ کر زرعی شعبے میں ترقی کے لیے اگلے 50 سال کے منصوبے بنانےکے لیے تیار ہوں۔

  11. مستونگ: ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماوں کی رہائی کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی اور مظاہرہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    احتجاج

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین رہنماوں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام مستونگ شہر میں احتجاجی ریلی نکالنے کے علاوہ مظاہرہ بھی کیا گیا۔

    ادھر کوئٹہ شہر میں ضلعی انتطامیہ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کو پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی۔

    یاد رہے کہ مستونگ میں لکپاس کے مقام پر دھرنا کے خاتمے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین اور کارکنوں کی رہائی کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی نے 18اپریل سے 12مئی تک بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔

    جمعے کے روز اس سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے مستونگ شہر میں ریلی نکالی جس کے شرکا شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    احتجاجی مظاہرے

    احتجاجی مظاہرے سے بلوچستان نیشنل پارٹی ، جمیعت العلما اسلام ،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین کی گرفتاری کی مذمت کی۔

    مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صورتحال پہلے سے خراب ہے لیکن خواتین کی گرفتاری حالات کو مزید ابتری کی جانب دھکیلے گی۔

    انھوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تمام گرفتار خواتین کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس کے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین کی رہائی کے لیے 20 یوم تک دھرنا دیا گیا تھا۔

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر رہنماوں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگانے کی کوشش کی لیکن انتظامیہ نے ان کو کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی۔

    خیال رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کو کوئٹہ شہر میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

  12. ملٹری تنصیبات پر حملے کیا سکیورٹی کی ناکامی تھی، نو مئی پر کسی کا ادارے نے احتساب کیا؟: جسٹس حسن اظہر رضوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل میں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کے حوالے سے وزارت دفاع کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔

    دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے فوج کی بارہ، تیرہ تنصیات پر حملے ہوئے، ملٹری تنصیبات پر وہ حملے سکیورٹی کی ناکامی تھی، اس وقت ملٹری افسران کے خلاف کارروائی کی گئی تھی، کیا نو مئی پر کسی کا ادارے نے احتساب کیا؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے۔

    دوران سماعت وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ پک اینڈ چوز کس طرح سے کیا گیا؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پک اینڈ چوز والی بات نہیں ہے، جو جرم ہوں اس کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے آرٹیکل آٹھ تین میں کیا ہے؟ کیا سویلین اس کے زمرے میں آتے ہیں؟ یہاں پر بات صرف فورسز کے ممبر کو ڈسپلن میں رکھنے کے لیے ہے۔ جہاں پر کلئیر ہو کہ یہ صرف ممبرز کیلئے وہاں پر مزید کیا ہونا ہے؟

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر کوئی عام شہری فوجی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو اس کا اس سے کیا تعلق ہے؟

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ یہ صرف ممبرز کے لیے ہے اور اگر اس میں سویلین کو لانا ہوتا تو پھر اس میں الگ سے لکھا جاتا۔ 1973 کے آئین میں بہت سی چیزیں پہلے والے دو آئین کی چیزیں ویسے کی ویسی ہی آ گئی ہیں۔ مارشل لا ادوار میں انیس سو تہتر کے آئین میں بہت سی چیزیں شامل کی گئی، آئینی ترمیم کر کے مارشل لا ادوار کی چیزیں تبدیل کرکے آئین کو اصل شکل میں واپس لایا گیا، لیکن اس میں بھی آرمی ایکٹ کے حوالے چیزوں کو نہیں چھیڑا گیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آرمی ایکٹ میں ممبر ریلیٹیڈ ٹو آرمڈ فورسز ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے جب کہہ دیا گیا کہ ممبر آف آرمڈ فورسز، تو کیا بچ گیا؟

    خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ ملٹری کورٹ کارروائی کو آئین توثیق کرتا ہے، کورٹ مارشل آئینی طور پر تسلیم شدہ ہے، کورٹ مارشل زمانہ جنگ نہیں زمانہ امن میں بھی ہوتا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا ملٹری کا قانون آئین سے ٹکراتا ہے؟ ہمارا انیس سو تہتر کا آئین بڑا مضبوط ہے۔ خوجہ حارث نے کہا فیئرٹرائل کورٹ مارشل کاروائی میں بھی ہوتا ہے۔

    دوران سماعت خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے خواجہ حارث کا شکریہ ادا کیا۔ عدالت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت اٹھائیس اپریل تک ملتوی کردی۔

    اٹھائیس اپریل کو اٹارنی جنرل دلائل دیں گے۔

  13. کراچی: احمدیوں کی ایک عبادت گاہ کے باہر احتجاج، مظاہرین کے تشدد سے ایک احمدی شہری ہلاک, روحان احمد، بی بی سی اردو، کراچی

    احمدی کمیونٹی

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    کراچی کے علاقے صدر کی پریڈی سٹریٹ پر احمدیوں کی ایک عبادت گاہ کے باہر احتجاج کے دوران مظاہرین کے تشدد سے ایک احمدی شہری ہلاک ہو گیا ہے۔

    کراچی کے تھانہ پریڈی کے ایس ڈی پی او محمد صفدر کے مطابق عبادت گاہ کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران احمدی شہری مظاہرین کے تشدد سے ہلاک ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عبادت گاہ کے باہر کس نے ہنگامہ آرائی کی اور مقتول پر کس نے تشدد کیا اس حوالے سے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد تحقیقات کی جائیں گی۔

    دوسری جانب پریڈی سٹریٹ تھانے میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص عبادت گاہ کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کی ویڈیو بنا رہا تھا اور اسی دوران اس پر تشدد کیا گیا۔

    پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ عبادت گاہ کے باہر جمع ہونے والے افراد کی تعداد تقریبا 200 تھی اور وہ شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔

    دوسری جانب اس سے قبل جمعے کی دوپہر احمدیہ کمیونٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ’احمدیہ ہال واقع موبائل مارکیٹ صدر کراچی کے باہرایک ہجوم جمع ہے جس نے احمدیہ عبادت گاہ کا گھیراو کیا ہوا ہے۔

    بیان کے مطابق اندر تقریبا 40 کے قریب احمدی موجود ہیں جو جمعے کی عبادت کے لیے جمع ہوئے تھے۔

    بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ہجوم کی جانب سے ایک احمدی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی۔‘

  14. کے ایف سی کے خلاف پرتشدد حملوں کے الزام میں 170 سے زائد افراد گرفتار

    کے ایف سی حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان میں گذشتہ چند روز کے دوران مختلف شہروں میں بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز کے ایف سی کے خلاف پرتشدد حملوں کے الزام میں 170 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کے بڑے شہروں جن میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت دیگر شامل ہیں، میں پولیس نے کم از کم 11 ایسے واقعات کی تصدیق کی ہے جن میں مظاہرین نے ڈنڈوں سے لیس ہو کر کے ایف سی کی مختلف برانچز پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

    حکام کے مطابق ان حملوں کے الزام میں کم از کم 178 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ ایسے مظاہرے اس بین الاقوامی مہم سے متاثر ہو کر کیے گئے تھے جس میں ان تمام اشیا اور کمپنیوں وغیرہ کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جن کا تعلق اسرائیل سے ہے یا جو غزہ جنگ میں کسی طرح اسرائیل کے حمایتی کے طور ہر دیکھے جاتے ہیں۔

    تاہم ان اشیا اور کمپنیوں کی لسٹ میں کے ایف سی کا نام شامل نہیں ہے۔ اور دنیا بھر میں مزاحمت اور احتجاج کا یہ طریقہ زیادہ تر پر امن طریقے ہی ہے۔

    تاہم پاکستان میں حال ہی میں احتجاج کے اس طریقے میں تشدد دیکھنے میں آیا ہے اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس میں صرف ایک ہی فاسٹ فوڈ کمپنی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کے ایف سی اور اس کی امریکن کمپنی یم برانڈز نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ لاہور کے مضافات میں واقع ایک کے ایف سی پر نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک ملازم ہلاک ہو گیا ہے۔

    اہلکار نے مزید بتایا کہ اس وقت کوئی احتجاج نہیں ہو رہا تھا اور تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ قتل سیاسی بنیاد پر ہوا یا کسی اور وجہ سے اسے ہلاک کیا گیا۔

    لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں موجود کے ایف سی کی 27 شاخوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔

    یاد رہے کہ پولیس کے مطابق لاہور میں اب تک کے ایف سی پر دو حملے ہو چکے ہیں جبکہ پانچ ممکنہ حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

  15. میں نے کسی کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کا اختیار نہیں دیا: عمران خان

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا اپنی لیگل ٹیم کے ذریعے پیغام میں کہنا ہے کہ ’میں نے کسی کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کا اختیار نہیں دیا ہے۔ میں نے ماضی میں کبھی کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اب میں اس پر بات کروں گا۔‘

    ایکس پر بانی پی ٹی آئی کے نام سے منسوب اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ ’اگر مجھے کوئی معاہدہ کرنے میں دلچسپی ہوتی تو میں دو سال پہلے کی جانے والی پیش کش کو قبول کر لیتا، ایک ایسی پیشکش جس میں دو سال کی خاموشی کے بدلے قانونی کارروائی سے مکمل استثنیٰ کی تجویز دی گئی تھی۔ میں نے اس وقت اسے مسترد کر دیا تھا، اور اب میں اس طرح کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتا ہوں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’علی امین گنڈاپور اور اعظم سواتی نے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہو لیکن میرے خیال میں اس طرح کے مذاکرات بے معنی ہیں۔ مخالف فریق کو مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ علی امین اور اعظم سواتی اپنی مرضی سے بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے ہمیں بات چیت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا اپنی لیگل ٹیم کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوئے۔ لیکن میں یہ واضح کر دوں کہ کوئی بھی بات چیت آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے مفادات پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ میرے یا میری بیوی کے لیے۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف واحد حقیقی قومی سیاسی قوت ہے جو بیرونی حمایت کے بغیر کسی بھی وقت ملک گیر تحریک کو متحرک کر سکتی ہے۔ ایک سیاسی جماعت صرف اس وقت کمزور ہوتی ہے جب وہ عوامی حمایت کھو دیتی ہے اور اس وقت پوری قوم پی ٹی آئی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔‘

  16. شہ رگ میں کوئی غیر ملکی چیز کیسے ہو سکتی ہے؟ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بیان پر انڈیا کا ردعمل

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی آرمی چیف کی جانب سے ’اوورسیز پاکستانیز کنونشن 2025‘ میں اپنے خطاب کے دوران یہ کہا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جس پر انڈیا کے دفترِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ ’شہ رگ میں کوئی غیر ملکی چیز کیسے ہو سکتی ہے؟‘

    ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انڈیا کے دفترِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستانی آرمی چیف کے خطاب سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’کشمیر انڈیا کا ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے اور انڈیا کا ایک اہم حصہ بھی۔ پاکستان کے ساتھ اس کا واحد تعلق اس ملک کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ ’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیر پر پاکستانی فوج اور حکومت کا موقف واضح ہے۔ ہم اسے نہیں بھولیں گے۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو نہیں چھوڑیں گے جو انڈیا کے قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘

    پاکستان کے آرمی چیف کی جانب سے کیا کہا گیا تھا؟

    پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے ’اوورسیز پاکستانیز کنونشن 2025‘ میں کہا کہ ’پاکستانی عوام کو اپنے ملک کی کہانی اپنے بچوں کو سنانی چاہیے تاکہ وہ پاکستان کی کہانی کو نہ بھولیں۔‘

    کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’کشمیر پر پاکستانی فوج اور حکومت کا موقف واضح ہے۔ ہم اسے نہیں بھولیں گے۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو نہیں چھوڑیں گے جو انڈیا کے قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے آباؤ اجداد سمجھتے تھے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں ہندوؤں سے مختلف ہیں۔ ہمارا مذہب الگ ہے، ہمارے رسم و رواج الگ ہیں۔ ہماری ثقافت الگ ہے اور ہماری سوچ الگ ہے۔ ہمارے عزائم مختلف ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ کی بنیاد تھی۔‘

    پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ نے دو قومی نظریہ کی وکالت کی جس کے مطابق برصغیر پاک و ہند کے ہندو اور مسلمان دو الگ الگ ’لوگ‘ ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ اسی بنیاد پر کیا گیا تھا۔‘

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’ہم دو ملک ہیں، ہم ایک ملک نہیں ہیں، ہمارے آباؤ اجداد نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، انھوں نے اس ملک کو بنانے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، ہم اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔‘

    انھوں نے اپنے خطاب میں انڈین فوج کا بھی ذکر کیا ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں جو بھی چھوٹی موٹی دہشت گردی ہو رہی ہے اور جو لوگ یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اس سے پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی، انھیں اب میری بات صاف سننی چاہیے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ دہشت گرد ہمارے ملک کی تقدیر ہم سے چھین سکتے ہیں؟‘

  17. یمن کی اہم بندرگاہ پر امریکی فوج کا حملہ 33 افراد ہلاک

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حوثیوں کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز مغربی یمن میں راس عیسیٰ نامی ایک اہم بندرگاہ پر امریکی حملوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں متعدد پیرا میڈکس بھی شامل ہیں۔

    امریکی فوج کے اس حملے کو ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں پر حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک کا مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائیٹرز نے یمن کے المسیرہ ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد حوثی جنگجوؤں کو ایندھن فراہم کرنے والے ایک بڑے ذریعہ کو تباہ کرنا تھا۔ اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    پینٹاگون نے فوری طور پر حوثیوں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد پر کسی بھی قسم کا بصرہ نہیں کیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ان حملوں کا مقصد حوثیوں کی طاقت کے معاشی ذرائع کو کم کرنا تھا جو اپنے ہم وطنوں کا استحصال کر رہے ہیں اور انھیں شدید تکلیف پہنچا رہے ہیں۔‘

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ نے گذشتہ ماہ حوثی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حوثیوں کے خلاف یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گے کہ جب تک وہ بحیرہ احمر سے گُزرنے والے مال بردار بحری جہازوں پر اپنے حملے بند نہیں کرتے۔‘

    نومبر 2023 سے اب تک حوثی جنگجوؤں نے آبی گزرگاہ سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں پر درجنوں ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں اور ایسا کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اُن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’وہ (حوثی) غزہ کی جنگ کے خلاف احتجاج کے طور پر اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    تاہم غزہ میں دو ماہ کی جنگ بندی کے دوران حوثیوں کی جانب سے اس اہم آبی گُزر گاہ کا استعمال کرنے والے کسی بھی مال بردار بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔ اگرچہ انھوں نے گزشتہ ماہ غزہ پر اسرائیل کے حملے کی تجدید کے بعد دوبارہ حملے شروع کرنے کا عہد کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے انھوں نے کسی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے جمعرات کے روز ہونے والا یہ حملہ جنوری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں حوثی جنگجوؤں پر ہونے والے حملوں میں سے مہلک ترین حملہ تھا۔

  18. حماس نے اسرائیل کی جنگ بندی کی پیشکش کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس نے اسرائیل کی تازہ ترین جنگ بندی کی پیش کش کو باضابطہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہے جس کے تحت جنگ کے خاتمے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی ہوگی۔

    حماس کی جانب سے مذاکرات کی سربراہی کرنے والے خلیل الحیا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’ہم ایسے جزوی معاہدوں کو قبول نہیں کریں گے جو نیتن یاہو کے سیاسی ایجنڈے کو پورا کریں۔‘

    واضح رہے کہ 59 یرغمالی ابھی بھی حماس کی قید میں ہیں جن میں سے 24 کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

    حماس کی جانب سے جس اسرائیلی جنگ بندی کی پیشکش کو باضابطہ طور پر مسترد کیا گیا ہے اُس میں 10 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے 45 دن کی جنگ بندی شامل ہے۔

    انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزل سموٹریچ نے کہا ہے کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ حماس پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں۔‘

    حماس کے عہدے داروں نے اس ہفتے کے اوائل میں بی بی سی کو اشارہ دیا تھا کہ وہ اس منصوبے کو مسترد کر دیں گے۔

    حماس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں خلیل الحیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’نیتن یاہو اور ان کی حکومت جزوی معاہدوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کی آڑ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس کی بنیاد قتل و غارت گری اور جنگ جاری رکھنے پر ہے۔ بھلے ہی اس کی قیمت ان کے تمام قیدیوں (یرغمالیوں) کی قربانی کیوں نہ ہو۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ حماس ’اسرائیل کی جانب سے جیلوں میں بند فلسطینیوں کی متفقہ تعداد کے ساتھ تمام یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے پر فوری طور پر بات چیت کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لئے تیار ہے۔‘

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس سے قبل حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے مجموعی معاہدے پر غور کرے گی لیکن فریقین کسی بھی قسم کے معاہدے کے قریب نہیں ہیں۔

    اسرائیل حماس کو مکمل طور پر ختم اور اسے تباہ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ایسے میں غزہ کے درجنوں شہری فضائی حملوں میں روزانہ ہلاک ہو رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی کوئی انسانی امداد اس پٹی میں داخل نہیں ہو رہی ہے۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیل کے حالیہ حملوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر بے گھر ہونے والے شہری تھے جو ایک خیمہ بستی میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    المواسی میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک ’طاقتور‘ دھماکے کے بعد خیموں میں آگ لگ جانے سے بچوں سمیت درجنوں فلسطینی ہلاک ہوئے۔

    ایک شخص نے بی بی سی کے غزہ لائف لائن پروگرام کو بتایا کہ ’میں باہر گیا اور دیکھا کہ میرے ساتھ والا خیمہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔‘

    اسرائیلی فوج نے اس تازہ صورت حال پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن اُن کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ ان حملوں کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    اس سے قبل اسرائیل نے فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ غزہ کے دیگر حصوں سے الموسی منتقل ہوجائیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والے حملوں میں دہشت گردوں کے 100 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے، فوجی ڈھانچے اور حماس کے زیرِ استعمال دیگر عمارتیں شامل ہیں۔‘

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ ’امداد کی کوئی کمی نہیں ہے اور وہ یکم مارچ کو لگائی گئی ناکہ بندی کو برقرار رکھے گا تاکہ حماس پر باقی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔‘

    تاہم 12 بڑے امدادی گروپوں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں انسانی امداد کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔‘

    واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس نے اسرائیلی سرحدی علاقوں پر حملہ کیا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔

    حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی میں کم از کم 51,065 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  19. امریکہ کا یوکرین سے قیمتی معدنیات سے متعلق معاہدہ 24 اپریل کو ہوگا: صدر ٹرمپ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور یوکرین کے درمیان معدنیات سے متعلق معاہدہ آئندہ جمعرات یعنی 24 اپریل کو ہوگا۔

    جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اس معاہدے پر کہاں دستخط ہوں گے تو اس کے جواب کے لیے صدر ٹرمپ نے اپنے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو جواب کا موقع دیا، جنھوں نے کہا کہ اس معاہدے کی تفصیلات سے متعلق ابھی کام ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ زیادہ تر اسی طرح کا ہے جس پر ہم نے پہلے اتفاق کیا تھا۔

    اس ڈیل کے ابتدائی مسودے کے مطابق جنگ زدہ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا۔ اس فنڈ کے لیے معدنیات سے حاصل ہونے والی رقم سے یوکرین 50 فیصد حصہ ڈالے گا، جسے یوکرین کی ترقی، خوشحالی، فلاح و بہبود، سلامتی اور تحفظ پر خرچ کیا جائے گا۔

    اس فنڈ میں امریکہ زیادہ حصہ ڈالے گا اور وہ اس سے یوکرین کی تعمیر نو کرے گا۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پہلے اس معاہدے پر فروری میں دستخط ہونے تھے جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی امریکہ کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے کے بعد یہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

    جب امریکہ نے یوکرین کی مدد بند کرنے کا اعلان کیا تو یوکرین کے صدر نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر دی۔

    اٹلی کی وزیراعظم جورجا میلونی سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے اپنے پرانے مؤقف کے برعکس یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ سے متعلق کہا ہے کہ وہ اس کا ذمہ دار یوکرین کے صدر کو نہیں سمجھتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ سنہ 2022 میں وہ صدر ہوتے تو یہ جنگ نہ ہوتی۔

    امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں کہا کہ ’میں ان سے خوش نہیں ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں انھیں مؤرد الزام نہیں ٹھہرا رہا مگر میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے کوئی عظیم کارنامہ سرانجام نہیں دیا ہے۔‘

  20. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:

    • جمعرات کی سہ پہر یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ پولیس نے اڈیالہ جیل جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے اور پولیس نے تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں سمیت پارٹی کے وفد کو واپس جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ آپ کی آج ملاقات نہیں کروائی جائے گی۔ عمران خان کی تینوں بہنوں کو اڈیالہ جیل جانے کے لیے داہگل کے مقام پر پولیس ناکے پر روکا گیا تھا۔
    • خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے اپنی جماعت کو مشورہ دیا ہے کہ ایسی تنقید نہ کی جائے جس سے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو نقصان پہنچے۔ جمعرات کے روز لاہور ہائی کورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’میں ایک بات تحریکِ انصاف کو کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی ایسی تنقید مت کرو جس سے تمھارے مقصد، تمھارے لیڈر کو نقصان پہنچے۔‘ انھوں نے اپنی جماعت کو مشورہ دیا کہ وہ متحد ہو کر اپنے مخالفین سے ٹکرا جائیں۔ ’جیسے پشتو میں کہتے ہیں ’یا تو اپنا سر تڑوا لوں گا یا چٹان کو توڑ دوں گا۔‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ذولفقار علی بھٹو کو لانے کے لیے پاکستان کو توڑا گیا اور پھر اسی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
    • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کی دوسری نشست سنیچر کے روز اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوگی۔ بدھ کے روز ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ملاقات کے مقام سے قطع نظر، عمانی وزیر خارجہ مذاکرات کے سہولت کار اور ثالث ہیں۔ خیال رہے کہ اس حوالے سے پہلی نشست گذشتہ ہفتے سنیچر کے روز مسقط میں ہوئی تھی جہاں ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکی وفد کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف نے کی تھی۔