پاکستان میں بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چین نشانے پر: کیا پُرتشدد احتجاج کسی منظم مہم کا حصہ ہیں؟

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گذشتہ چند روز کے دوران مختلف شہروں میں بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز کے خلاف پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں جہاں مشتعل افراد نے کھانے پینے کے ان مقامات پر دھاوا بول کر انھیں زبردستی بند کروانے کی کوشش کی۔
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

پاکستان میں گذشتہ چند روز کے دوران مختلف شہروں میں بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز کے خلاف پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں جہاں مشتعل افراد نے کھانے پینے کے ان مقامات پر دھاوا بول کر انھیں زبردستی بند کروانے کی کوشش کی۔

ایک دو کو چھوڑ کر لگ بھگ تمام ہی واقعات میں امریکی فاسٹ فوڈ چین کے ایف سی کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں کے ایف سی پر ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہرے میں توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے دوران ریستوران کے ایک ملازم کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق آصف نواز نامی شخص کچن میں کام کر رہا تھا جب اسے گولی لگی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل افراد ریسٹورنٹ پر موجود ہیں جب کچھ افراد زخمی ملازم کو اٹھا کر باہر لے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق انھیں ہسپتال پہنچایا گیا تاہم ان کی موت واقع ہو گئی۔

اسی طرح راولپنڈی میں بھی کے ایف سی کے ریستوران میں مشتعل افراد داخل ہوئے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل افراد نے بیس بال بیٹ اور ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں اور وہ ریسٹورنٹ میں عملے اور میزوں پر بیٹھے کھانا کھانے والے افراد کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں بھی اس ہی نوعیت کا ایک واقعہ دیکھنے میں آیا۔

حال ہی میں اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون ٹو میں واقع کے ایف سی کے ریستوران پر بھی مشتعل افراد نے دھاوا بولا۔ شالیمار تھانے میں درج واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین کی تعداد 25 سے 30 کے درمیان تھی جنھوں نے زبردستی ریستوران کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔

انھیں روکنے پر ان میں سے چند افراد نے ریستوران کے سکیورٹی کے عملے کے ساتھ جھگڑا کیا۔ پولیس کے مطابق وہاں پہنچنے والی پولیس پارٹی نے معاملے کو قابو کیا اور وہاں سے لگ بھگ 12 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایسے مظاہرے اس بین الاقوامی مہم سے متاثر ہو کر کیے جا رہے ہیں جس میں ان تمام اشیا اور کمپنیوں وغیرہ کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جن کا تعلق اسرائیل سے ہے یا جو غزہ جنگ میں کسی طرح اسرائیل کے حمایتی کے طور ہر دیکھے جاتے ہیں۔

تاہم ان اشیا اور کمپنیوں کی لسٹ میں کے ایف سی کا نام شامل نہیں ہے۔ اور دنیا بھر میں مزاہمت اور احتجاج کا یہ طریقہ زیادہ تر پر امن طریقے ہی ہے۔

تاہم پاکستان میں حال ہی میں احتجاج کے اس طریقے میں تشدد دیکھنے میں آیا ہے اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس میں صرف ایک ہی فاسٹ فوڈ کمپنی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کسی خاص مہم کے تحت کیا جا رہا ہے؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شیخوپورہ میں کیا ہوا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخوپورہ کے ریجنل پولیس آفیسر اطہر اسماعیل نے بتایا کہ یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا۔ کچن میں کام کرنے والے آصف نواز کو جو گولی لگی وہ پسٹل سے چلائی گئی تھی۔

’یہ گولی لگ بھگ سو فٹ سے زیادہ کی دوری سے چلائی گئی جو ملازم کو کندھے پر لگی۔ عموماً اتنے زیادہ فاصلے سے پسٹل کی گولی زیادہ تر جان لیوا ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق کندھے میں لگنے کے بعد گولی ان کے سینے کی طرف آ گئی جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔‘

آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل کے مطابق جس وقت گولی چلی اس وقت بہت سے مشتعل افراد ریستوران کے باہر موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس نے ویڈیوز اور سی سی ٹی وی کی مدد سے لگ بھگ چالیس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔

کیا یہ حملہ کسی منظم مہم کا حصہ تھا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل نے بتایا کہ تاحال اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ شیخوپورہ میں کے ایف سی کے باہر مظاہرے کے دوران ہلاک ہونے والے ملازم کو کسی ذاتی عناد یا باقاعدہ ٹارگٹ کر کے مارا گیا ہو۔

’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مظاہرین میں سے کسی شخص کی طرف سے گولی چلائی گئی جو بدقسمتی سے ریستوران کے ملازم کو جا لگی۔‘

اطہر اسماعیل کے مطابق پولیس کو اب تک کی تحقیقات سے اس بات کے بھی کوئی شواہد نہیں مل پائے کہ خاص طور پر کے ایف سی ہی کو کسی منظم مہم کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے جن افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں سے کچھ نے اپنا تعلق مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان سے بتایا ہے تاہم زیادہ تر لوگ عام شہری تھے۔

’پولیس تحقیقات کا ایک پہلو یہ بھی ہے جس میں پولیس یہ جاننے کی کوشش بھی کر رہی ہے کہ کیا یہ پرتشدد مظاہرے کسی جماعت یا گروہ کے اکسانے پر کیے جا رہے ہیں۔ تاہم تاحال ہمیں اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ لاعلمی میں کے ایف سی ہی کو نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ شاید اس کا نمایاں ہونا بھی ہو سکتا ہے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا پُرتشد واقعات کے پیچھے ٹی ایل پی یا کسی مذہی جماعت کی کال ہے؟

حال ہی میں پاکستان میں چند نمایاں مذہبی سکالروں نے اپنے بیانات جاری کیے ہیں جن میں انھوں نے لوگوں سے پر امن طریقے سے احتجاج کرنے اور مقامی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی اپیل کی ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے چند پیپفلٹ میں دیکھا گیا ہے کہ چند مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کی جو کال دی گئی تھی اس میں کے ایف سی سمیت دو بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز کا باقاعدہ طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

لاہور پولیس کے مطابق ڈیفنس میں ہونے والے واقعے میں پولیس نے زیادہ تر ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان ملزمان سے پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ جس شخص نے انھیں کے ایف سی جا کر احتجاج کرنے پر اکسایا اس کا تعلق تحریک لبیک پاکستان سے تھا۔

تاہم ٹی ایل پی کے مرکزی صدر نشر و اشاعت ریحان خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کی جماعت کی طرف سے ایسی کوئی احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ٹی ایل پی کی طرف سے اس وقت کسی بھی قسم کی کوئی احتجاج کی کال موجود نہیں ہے۔ نہ ہی ٹی ایل پی کی طرف سے کسی قسم کے پرتشدد مظاہرے کی کال پہلے کبھی دی گئی ہے۔‘

ریحان خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت یہ واضح طور پر بتا چکی ہے کہ اس قسم کی کوئی بھی کال یا تو ٹی ایل پی کے سربراہ یا مرکزی شوری کی جانب سے دی جاتی ہے۔ اور اس وقت ان میں سے کسی نے بھی کوئی کال نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹی ایل پی احتجاج میں تشدد پر یقین نہیں رکھتی اور نہ جماعت کی کبھی یہ پالیسی رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مقام سے کوئی ایسا شخص پکڑا گیا ہے جو خود کو ٹی ایل پی سے منسوب کر رہا ہے ’تو وہ ذاتی حیثیت میں وہاں موجود ہو گا۔ ٹی ایل پی جماعت کا اس کے ایسے کسی فعل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب پولیس کی طرف سے ٹی ایل پی کی مقامی قیادت سے اس بابت رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جماعت کی مرکزی قیادت کی طرف سے ایسی کوئی کال نہیں دی گئی تھی۔

’بظاہر سے ایک شخص کا ذاتی فیصلہ تھا جس نے ذاتی حیثیت میں باقی لوگوں کو اس طرح احتجاج کرنے پر اکسایا۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا ایک ہی فوڈ چین کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اب تک کی تحقیقات میں انھیں اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ کسی سازش کے تحت یا کسی منظم طریقے سے مہم چلا کر صرف ایک ہی بین الاقوامی فوڈ چین کو ہر جگہ نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ہونے والے واقعے میں گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے موبائل فونز کے ریکارڈ وغیرہ چیک کیا گیا۔

’اس سے یہی بات سامنے آئی ان کو ایک شخص نے ذاتی حیثیت میں اس طرح احتجاج کرنے پر اکسایا اور انھوں نے کے ایف سی کا رخ کر لیا۔‘

ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق ملزمان میں زیادہ تر ایسے نوجوان شامل ہیں جو پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ انھوں نے پولیس کو بتایا کہ انھیں کے ایف سے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ کیونکہ باقی مقامات پر اس کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا تو انھوں نے بھی اسی جگہ کا انتخاب کیا۔

’اب تک بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ پہلا احتجاج جو کراچی میں شروع ہوا تھا وہ کے ایف سی کے خلاف تھا اس ہی کی دیکھا دیکھی باقی تمام مقامات پر بھی کے ایف سی ہی کو نشانے پر رکھا گیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ لاہور میں پولیس نے چار سے پانچ مزید مقامات پر بھی وقت پر کارروائی کرتے ہوئے فوڈ چین کے ریستوران کو ایسے پرتشدد احتجاج سے بچایا ہے۔

فیصل کامران کے مطابق شہر میں موجود تمام پرابچز پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی اور ان کو پولیس کا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ اطہر اسماعیل کا بھی کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں بھی پولیس کے ایف سی اور دیگر تمام بین الاقوامی کمپنیوں اور فوڈ چینز کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔