ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے: عباس عراقچی
ایرانی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی ثالثی سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک یہ اقدامات کسی خاص نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں غیر متعلق ہیں۔
خلاصہ
سینٹکام کا ایران جانے والے گیمبیا کے پرچم بردار جہاز کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی فوجی مداخلت پر کارروائی ہوگی: پاسدارانِ انقلاب
ٹرمپ تیسری بار سفارت کاری سے غداری کر رہے ہیں، امریکی صدر نے ثابت کیا کہ وہ مذاکرات کے اہل نہیں: مشیر رہبر اعلیٰ
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ ’تاحکمِ ثانی پیسوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔ دیگر کم اہمیت کے حامل نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘
ایک ارب ڈالر مالیت کے ایرانی کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط، ایران پر پابندیوں میں نرمی بتدریج ہوگی: امریکی وزیر خزانہ
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے امریکہ کے ساتھ کسی ’معاہدے پر پہنچنے کے لیے مؤثر کوششوں‘ پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
لائیو کوریج
شہباز شریف سے گفتگو میں معاہدے تک پہنچنے کے لیے موثر کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا: ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی ’موثر کوششوں‘ پر شکریہ ادا کیا ہے۔
انھوں نے لکھا: ’ملیشیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے عید الاضحیٰ کی مبارک باد کے لیے گفتگو کی۔‘
مسعود پزشکیان کے مطابق گفتگو کے دوران انھوں نے ایران کی سفارت کاری سے وابستگی پر زور دیا۔
انھوں نے لکھا: ’انسانی ہمدردی پر مبنی موقف پر ملائیشیا کا اور معاہدے کے لیے قدم بڑھانے اور اس تک پہنچنے کے لیے موثر کوششیں کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔‘
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی پالیسی تمام شعبوں میں مسلمان اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
امریکہ اور ایران معاہدے کے ’بہت قریب‘ تو ہیں مگر ابھی معاہدے تک ’پہنچے نہیں ہیں‘: جے ڈی وینس
،تصویر کا ذریعہMatt Rourke-Pool/Getty Images
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے امریکہ اور ایران کو اب بھی کئی اہم نکات طے کرنا ہوں گے۔
بی بی سی کے اس سوال پر، کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں، وینس نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ دونوں فریق ’کب اور کیا‘ کسی معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔
اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کرے گا اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بات چیت کا آغاز کرے گا۔
اس سے پہلے جمعرات کو امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں ممالک ایک معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں، بس ٹرمپ اور ایران کی قیادت کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ معاہدے کو نہ تو حتمی شکل دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔
جمعرات کی شام نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کار معاہدے میں استعمال کی جانے والی ’زبان پر بات کر رہے ہیں‘ جس میں ’افزودگی کا سوال‘ بھی شامل ہے۔
انھوں نے صحافیوں سے کہا: ’ہم ابھی معاہدے تک نہیں پہنچے لیکن اس کے بہت قریب ہیں اور اس پر کام جاری رکھیں گے۔‘
امریکہ طویل عرصے سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکے اور اپنے پاس پہلے سے موجود ذخیرے کو ختم کرے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وینس کا لہجہ پرامید تھا، انھوں نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے ایرانی ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پا گیا: امریکی حکام, میکس ماٹزا اور برنڈ ڈیبُسمن جونیئر، وائٹ ہاؤس رپورٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق اسے ابھی حتمی منظوری درکار ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت جنگ بندی کو مزید 60 دن تک بڑھایا جائے گا اور اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نئے جنگ بندی معاہدے کی ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ایرانی قیادت نے منظوری نہیں دی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔
گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
ایران نے وائٹ ہاؤس کے بیان کی تصدیق نہیں کی۔
بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک غیر سرکاری مسودے کے کچھ نکات شائع کیے، جسے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مجوزہ مسودے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے قریب سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی، اور آبنائے ہرمز میں غیر فوجی بحری آمد و رفت بحال کی جائے گی، جس کا نظم و نسق ایران اور عمان کے پاس ہوگا۔
دنیا کی تقریباً ایک تہائی مائع قدرتی گیس اور تیل اس اہم بحری راستے سے گزرتے ہیں، اور اس کی بندش نے عالمی توانائی تجارت کو متاثر کیا ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے اس مبینہ مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیا۔
گذشتہ ہفتے دونوں فریقوں نے معاہدے کی جانب پیش رفت کے اشارے دیے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ جلد کوئی اعلان متوقع ہے۔
8 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے صدر ٹرمپ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب ہیں، لیکن اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
مثال کے طور پر، چند روز بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی ٹھوس نتیجے پر ختم نہیں ہوئے تھے۔
تقریباً ہر موقع پر، اور حالیہ دنوں میں بھی، ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ’دوسرا راستہ‘ یعنی فوجی کارروائی اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دینے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، لیکن اتحادی ممالک کی درخواست پر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
بدھ کو کابینہ اجلاس میں ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، مگر ایران کی پیشکش ابھی قابلِ قبول سطح تک نہیں پہنچی اور مزید کام باقی ہے۔
یہ واضح نہیں کہ اگلے 24 گھنٹوں میں کیا پیش رفت ہوئی یا صدر ٹرمپ اس مجوزہ معاہدے کی منظوری کب، یا آیا دیں گے بھی یا نہیں۔
تاہم اگر جنگ بندی میں توسیع ہو جاتی ہے تو دونوں ممالک کو پیچیدہ معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، پر تفصیلی بات چیت کا موقع ملے گا۔
ٹرمپ نے پہلے یہ تجویز دی تھی کہ امریکہ اس یورینیم کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے یا ایران کے ساتھ مل کر اسے کسی تیسرے مقام پر کم درجے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق، ٹرمپ کو اس مجوزہ معاہدے پر بریفنگ دی جا چکی ہے، مگر انھوں نے فوری منظوری نہیں دی اور مزید چند دن غور کرنے کا کہا ہے۔
امریکی ذرائع کی جانب سے اس رپورٹ کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے پہلے سے زیادہ قریب آ چکے ہیں، اگرچہ حتمی پیش رفت ابھی باقی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی، جبکہ ایران کو 30 دن کے اندر اس راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔
اس کے بدلے میں امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کر سکتا ہے اور ایران کو تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پابندیوں میں نرمی دے سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں اس معاہدے کی تصدیق کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ’صدر سے پہلے کوئی حتمی بات کہنا درست نہیں، یہ فیصلہ انہی نے کرنا ہے۔‘
گذشتہ روز کی چند اہم خبریں
گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ کی طرف لوٹنے سے گریز کریں اور بات چیت جاری رکھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ روس ایران سے افزودہ یورینیم ہٹانے میں مدد کے لیے تیار ہے لیکن ماسکو ’یہ پیشکش نہیں کرے گا۔‘
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوششوں کے تحت ایرانی ایئرلائنز کو ہوائی اڈوں تک رسائی سے روک دے گا۔ سکاٹ بیسنٹ نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ امریکہ ’دونوں ایرانی ایئر لائنز کو لینڈنگ، ایندھن بھرنے اور ٹکٹوں کی فروخت سے روک دے گا،‘ لیکن انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری پیغام شائع کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل شکست کے بعد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور اور غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔‘ اس تحریری پیغام میں 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو اقتدار میں آنے کے بعد سے عوام کے سامنے نہیں آئے، نے ایرانی قوم کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کی صبح بندر عباس کے علاقوں پر امریکی حملے کی ’سختی سے مذمت‘ کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’جارحیت کا یہ عمل ایران کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے خلاف ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
کینیا کے دار الحکومت نیروبی سے تقریباً 120 کلومیٹر مغرب میں واقع گلگل کے ایک بورڈنگ سکول میں آگ لگنے سے 16 طالبات ہلاک ہو گئی ہیں۔ یہ بات موقع پر موجود ایک پولیس اہلکار نے صحافیوں کو بتائی۔ کینیا ریڈ کراس اور پولیس کے مطابق اتومیشی گرلز سکول میں یہ آگ جمعرات کی صبح اس وقت لگی جب طالبات سو رہی تھیں۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔