ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے: عباس عراقچی
ایرانی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی ثالثی سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک یہ اقدامات کسی خاص نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں غیر متعلق ہیں۔
خلاصہ
سینٹکام کا ایران جانے والے گیمبیا کے پرچم بردار جہاز کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی فوجی مداخلت پر کارروائی ہوگی: پاسدارانِ انقلاب
ٹرمپ تیسری بار سفارت کاری سے غداری کر رہے ہیں، امریکی صدر نے ثابت کیا کہ وہ مذاکرات کے اہل نہیں: مشیر رہبر اعلیٰ
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ ’تاحکمِ ثانی پیسوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔ دیگر کم اہمیت کے حامل نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘
ایک ارب ڈالر مالیت کے ایرانی کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط، ایران پر پابندیوں میں نرمی بتدریج ہوگی: امریکی وزیر خزانہ
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے امریکہ کے ساتھ کسی ’معاہدے پر پہنچنے کے لیے مؤثر کوششوں‘ پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
لائیو کوریج
آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی فوجی مداخلت پر کارروائی ہوگی: پاسدارانِ انقلاب
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے جنگی انتظام میں اہم کردار ادا کرنے والے کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کو ایران کی مسلح افواج نشانہ بنائیں گی۔
ہیڈکوارٹر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام بحری جہاز، تجارتی کشتیاں اور آئل ٹینکرز صرف مقررہ راستوں سے ہی سفر کریں اور اس کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے اجازت حاصل کریں۔ بیان کے مطابق ان ضوابط کی خلاف ورزی بحری آمدورفت کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
دوسری جانب بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کچھ جہاز آبنائے ہرمز کے اُس حصے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جو عمان کی سمندری حدود میں واقع ہے۔
چند گھنٹے پہلے عمان نے بھی اپنے پانیوں میں سمندری بارودی سرنگ سے مشابہ ایک شے دیکھنے کے بعد ملاحوں کو خبردار کیا تھا۔
ہم نے ایران جانے والے گیمبیا کے پرچم بردار جہاز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
،تصویر کا ذریعہU.S. Central Command
امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے جمعہ 29 مئی کو خلیجِ عمان میں بحری ناکہ بندی نافذ کرتے ہوئے ایک ایسے تجارتی جہاز کو ناکارہ بنا دیا جو ایران کی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔
سینٹ کام کے مطابق ایم وی لاین سٹار نامی یہ جہاز بین الاقوامی سمندری حدود میں ایران کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ امریکی افواج نے جہاز کو 20 سے زائد بار وارننگ جاری کیں اور اسے بتایا کہ وہ امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق جب جہاز کے عملے نے ان ہدایات کو نظر انداز کیا تو ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بناتے ہوئے ہیل فائر میزائل فائر کیا، جس کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا۔
سینٹکام نے کہا کہ ’یہ جہاز اب ایران کی طرف سفر جاری نہیں رکھ سکتا۔‘
ادارے نے مزید کہا کہ ناکہ بندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اب تک امریکی افواج پانچ تجارتی جہازوں کو تباہ کر چکی ہیں اور 116 جہازوں کا رخ موڑ چکی ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ میں آبنائے ہرمز کے انتظامی اختیار سے متعلق منصوبہ زیرِ غور
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کی پارلیمنٹ کے پریزیڈیم کے ایک رکن نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی نظم و نسق اور خودمختاری کے اطلاق سے متعلق ایک منصوبے کو جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس کی منظوری حاصل کی جائے گی۔
ارکانِ پارلیمنٹ میں شامل علیرضا سلیمی نے سرکاری خبر رساں ادارے اسنا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے پر تفصیلی جائزہ لیا جا چکا ہے اور اس ضمن میں معیشت، نقل و حمل، سلامتی اور دیگر متعلقہ اداروں کی آرا بھی حاصل کی گئی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مجوزہ بل کو کتنے ارکان کی حمایت حاصل ہے یا اسے کب پارلیمانی ایوان میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران میں حالیہ کشیدگی کے باعث اسلامی مشاورتی اسمبلی کے باقاعدہ عوامی اجلاس اپنے مستقل مقام پر معطل ہیں، خصوصاً ان رپورٹس کے بعد جن میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد اس علاقے میں جہاز رانی کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
علیرضا سلیمی کے مطابق عمانی حکام نے بھی اس حوالے سے اپنے ابتدائی معاہدوں کا اعلان کر دیا ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ ’ایران کے لیے درجنوں ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ اہم اور قیمتی‘ ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اس کے انتظام یا خودمختاری کے معاملے پر نہ کبھی سمجھوتہ کیا گیا ہے، نہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس پر کسی قسم کی بات چیت کی گنجائش ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جائے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرنے والے عالمی ادارۂ جہاز رانی نے اس راستے کے استعمال پر کسی قسم کا ٹول عائد کرنے کے خیال کی حمایت نہیں کی۔
امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا زیرِ آب ڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے کا اعلان, ٹیسا وونگ ایشیا ڈیجیٹل رپورٹر، شنگری لا ڈائیلاگ، سنگاپور
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی نے کہا کہ برطانیہ اس نئے منصوبے کے لیے 150 ملین پاؤنڈ کا حصہ ڈالے گا
امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فوجی اتحادی تنظیم اے یو کے یو ایس کے تحت زیرِ آب ڈرون ٹیکنالوجی تیار کریں گے، جس کا مقصد سمندر کی تہہ میں موجود کیبلز کا تحفظ اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔
یہ بغیر عملے کے چلنے والی زیرِ آب گاڑیاں (یویو ویز) اگلے سال تک تیار ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے کہا کہ برطانیہ اس میں تقریباً 201 ملین ڈالر کا حصہ ڈالے گا۔
یہ اعلان سنگاپور میں ہونے والے ایک سکیورٹی اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے کیا گیا، جو اے یو کے یو ایس منصوبوں کی سست پیش رفت کے دعووں کے بعد سامنے آیا ہے۔
تنقید کو تسلیم کرتے ہوئے جان ہیلی نے کہا کہ ’اے یو کے یو ایس میں ہم نے کافی عرصے تک صرف باتیں کیں اور بہت کم عمل کیا، لیکن اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔‘
یہ اے یو کے یو ایس معاہدہ 2021 میں شروع ہوا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک نیوکلیئر آبدوزیں تیار کر رہے ہیں اور عسکری مہارت کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
اس اتحاد کو بڑے پیمانے پر چین کی انڈو پیسیفک خطے میں بڑھتی سمندری موجودگی اور جنوبی بحیرہ چین جیسے متنازع علاقوں میں کشیدگی کے مقابلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہ نیا منصوبہ اے یو کے یو ایس کے پِلر ٹو کے تحت پہلا اہم اقدام ہے، جس میں جدید صلاحیتوں جیسے ہائپر سانک میزائل، زیرِ آب روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت پر کام کیا جا رہا ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق، اس منصوبے کے ذریعے جدید سینسرز اور ہتھیار تیار کیے جائیں گے، زیرِ آب ڈھانچے (کیبلز اور پائپ لائنز) کا تحفظ کیا جائے گا، نگرانی اور جاسوسی کے مشن انجام دیے جائیں گے اور حملے اور لاجسٹکس آپریشنز کیے جا سکیں گے۔
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف دفاع کو مضبوط کرے گی بلکہ روزمرہ زندگی کے لیے اہم زیرِ آب کیبلز اور پائپ لائنز کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں بھی مدد دے گی۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے روس پر شمالی سمندری علاقوں میں کیبلز اور پائپ لائنز کے خلاف خفیہ کارروائیوں کا الزام لگایا تھا، جس کی روس نے تردید کی۔
اسی طرح برطانیہ اور ناروے نے شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی آبدوزوں کی نگرانی کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ برطانیہ تقریباً 60 زیرِ آب کیبلز سے منسلک ہے ۔حالیہ برسوں میں برطانوی پانیوں میں روسی جہازوں کی موجودگی میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب، چین پر بھی تائیوان اور سویڈن کے قریب زیرِ آب کیبلز کو نقصان پہنچانے کے شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔
تاہم تینوں ممالک نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا کہ آیا یہ منصوبہ روس اور چین کے خلاف ہے یا نہیں۔
اے یو کے یو ایس کے ’پِلر ون‘ کے تحت برطانیہ اور آسٹریلیا میں نیوکلیئر آبدوزیں تیار کی جائیں گی۔ آسٹریلیا کے لیے یہ اس کی دفاعی صلاحیت میں ایک بڑی بہتری سمجھی جا رہی ہے۔
آسٹریلیا امریکہ کے بعد دوسرا ملک ہوگا جسے نیوکلیئر پروپلشن ٹیکنالوجی دی جائے گی۔
تاہم آسٹریلیا میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ مہنگا دفاعی منصوبہ وقت پر مکمل ہوسکے گا یا نہیں، کیونکہ نئی آبدوزیں 2040 کی دہائی میں متوقع ہیں۔
تب تک امریکہ اور برطانیہ اپنی آبدوزیں آسٹریلیا میں تعینات کریں گے۔ آسٹریلیا 2030 کی دہائی میں امریکہ سے پرانی نیوکلیئر آبدوزیں خریدے گا۔ آسٹریلوی وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ اس منصوبے کا کوئی متبادل نہیں ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ آبدوزوں کی تعیناتی کا منصوبہ درست راستے پر ہے۔
مارلس کے مطابق سنہ 2027 تک ایچ ایم اے ایس سٹرلنگ نیول بیس مکمل طور پر تیار ہو جائے گا۔ جنوبی آسٹریلیا میں آبدوزوں کی تعمیر کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ مشرقی اور مغربی دنیا میں بڑھتے ہوئے سمندری سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ تیسری بار سفارت کاری سے غداری کر رہے ہیں: محسن رضائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے اور مذاکرات میں ’حد سے زیادہ مطالبات‘ کے ذریعے ’تیسری بار سفارت کاری سے غداری‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے اپنے والد کی جگہ ایران کے تیسرے رہنما بننے کے بعد، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ انھوں نے محسن رضائی کو اپنا فوجی مشیر مقرر کیا ہے۔
محسن رضائی نے ایکس نیٹ ورک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مذاکرات کار کے اہل نہیں ہیں اور دیگر مقاصد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ایرانی-امریکی عہدیداروں نے 12 روزہ جنگ کے آغاز اور حالیہ جنگ کے دوران ایران کے ساتھ مذاکرات کے بیچ فوجی حملہ کرنے اور ’سفارت کاری سے غداری‘ کرنے پر بارہا امریکہ پر تنقید کی ہے۔
اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان اور وادی بیکا کے سات دیہات کو خالی کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور وادی بیکا کے سات دیہات کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کی طرف سے دونوں فریقوں کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کا جواب دے گی۔
عرب میڈیا کے لیے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایکس پلیٹ فارم کے ذریعے جنوبی لبنان اور وادی بیکا کے سات دیہاتوں: مفدون، شوکین، زیبدین، جدیدیت انصار، زرریح، مزرات کوثریہ الروز اور مشغرا سے انخلا کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے سنیچر کے روز اعلان کیا کہ لبنان سے شمالی اسرائیل کی طرف کئی پروجیکٹائل فائر کیے گئے، جن میں سے ایک کریات شمونہ میں گرا۔
فوج نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا: ’لبنان سے اسرائیلی سرزمین کی طرف داغے گئے متعدد پروجیکٹائل کا پتہ چلا۔ ان میں سے زیادہ تر کو روک لیا گیا اور ایک پراجیکٹائل کریات شمونہ کے علاقے میں گرنے کی اطلاع ہے۔ اس کے نتیجے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔‘
ادھر حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جمعے کے روز شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں، سکیورٹی چوکیوں اور فوجی کیمپوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔
گلگت بلتستان میں جاری انتخابی مہم: حکام نے سکردو جانے کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے نہیں دیا رکاوٹ ڈالی گئی، اسد قیصر کا الزام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے
رہنما اسد قیصر نے دعویٰ کیا
ہے کہ انھیں سنیچر کے روز اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے سے روک دیا گیا، جس کے باعث
گلگت بلتستان میں جاری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو جانے والی ان کی پرواز چھوٹ
گئی۔
مبینہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ
یہ واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جنید اکبر کو انتخابی مہم کے دوران گلگت
بلتستان سے نکال دیے جانے کے بعد پیش آیا ہے کہ جو سات جون کو ہونے والے انتخابات
کی انتخابی مہم کے لیے وہاں اپنی ٹیم کے ساھ موجود تھے۔
ٹی ٹی اے پی کے سیکریٹری جنرل اسد
قیصر نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے انھیں اسلام آباد ایئرپورٹ میں داخل
ہونے کی اجازت نہیں دی اور ایئرپورٹ جانے والے راستے بند کر دیے۔
ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے
کہا کہ ’پنجاب پولیس نے میری پرواز روانہ ہونے تک مجھے حراست میں رکھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس
کارروائی کے نتیجے میں نہ صرف وہ اپنی پرواز سے محروم ہوئے بلکہ عام شہریوں کو بھی
شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔‘
اسد قیصر نے اس اقدام کی مذمت
کرتے ہوئے اسے سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ قرار دیا، جبکہ حکام کی جانب سے اس معاملے
پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان
شبیر میر نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر)
یار محمد نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی فون کال اٹینڈ نہیں کی۔
،تصویر کا ذریعہ@AsadQaiserPTI
اپنے ایک بیان میں ترجمان نے بتایا کہ ’جب خیبر پختونخوا سے فون کال موصول ہوئی، اُس وقت نگران وزیر اعلیٰ کمر درد کے باعث ڈاکٹرز کے پاس اُن کا معائنہ چل رہا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جیسے ہی طبی معائنہ مکمل ہوا، نگران وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر کال بیک کیا، تاہم اُس وقت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ دستیاب نہیں تھے۔‘
شبیر میر نے واضح کیا کہ ’گلگت بلتستان میں کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا اور تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دفتر سے جاری بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان اور دیگر پارلیمنٹرینز کی گلگت بلتستان میں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
وزیرِ اعلی کے پی کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز کو جلد رہا نہیں کیا گیا تو گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت اور وہاں جعلی حکومت بنانے کے لیے سرگرم عناصر سے اپنے پارلیمینٹیرینز کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں سوال کرنے کے لیے خود گلگت بلتستان جاؤں گا۔‘
انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایسے رویے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان اقدامات سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ اس قسم کے طرزِ عمل سے تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔ جن کا کام عوامی مینڈیٹ کی حفاظت ہے، وہی ہمیشہ پاکستانیوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو درجن جہاز بحفاظت گزرے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری
ایک بیان مںی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کی بحریہ کے
تعاون اور سکیورٹی نگرانی میں 24 تجارتی بحری جہازوں نے بحفاظت آبنائے ہرمز سے عبور
کر لیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے
مطابق پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کی سہ پہر جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا اور
کہا کہ مذکورہ 24 جہازوں میں تیل بردار ٹینکرز اور کنٹینر بردار بحری جہاز بھی
شامل تھے، جنھوں نے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے سفر کیا اور
اس دوران انھیں ایرانی بحریہ کی سکیورٹی حاصل رہی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاسدارانِ
انقلاب آبنائے ہرمز پر مسلسل اور کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی
جارحیت یا خطرے کا ’فیصلہ کن جواب‘ دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق انھوں
نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں
کے بعد مارچ کے اوائل سے اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول سنبھال رکھا ہے جسے ایران
اپنے دفاعی اقدامات کا حصہ قرار دیتا ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں آبنائے
ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی
اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی
تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے مخالفین نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو استعمال کرتے ہوئے ایران کی قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کیا ہے۔ اسی تناظر میں ایران اور عمان جو آبنائے ہرمز سے متصل دو ساحلی ممالک ہیں، اس وقت ایسے ضوابط پر کام کر رہے ہیں جن کا مقصد آبی گزرگاہ کی سکیورٹی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بھی درجنوں تجارتی جہاز پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی اور رابطہ کاری میں بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔
ایران سمیت عالمی ذمہ داریوں کے باوجود ایشیا کے دوست مُمالک سے منہ نہیں موڑ رہے: امریکی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے
کہا ہے کہ ایران جیسے عالمی معاملات میں مصروف ہونے کے باوجود امریکہ ایشیا سے
اپنی توجہ نہیں ہٹا رہا اور خطے کے لیے اپنے دفاعی وعدوں پر قائم ہے۔
سنگاپور میں منعقد ہونے والی اہم بین
الاقوامی سکیورٹی کانفرنس ’شنگریلا ڈائیلاگ‘ کے دوران خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ
دفاع ہیگستھ نے ایشیا بحرالکاہل کے اتحادی ممالک کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ
امریکہ خطے کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے، جس میں
اسلحہ کی فراہمی سے متعلق معاہدوں کی تکمیل بھی شامل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں
سامنے آیا ہے جب تائیوان کے لیے ایک امریکی اسلحہ پیکیج کی فراہمی معطل ہونے پر
خدشات پیدا ہوئے تھے۔
ہیگستھ نے ایک بار پھر ایشیا میں
اپنے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں، تاہم ساتھ ہی
یہ بھی کہا کہ امریکہ خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے آگاہ ہے لیکن ’غیر
ضروری محاذ آرائی‘ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا
ہے جب چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بیجنگ
میں مثبت مذاکرات کیے تھے۔
شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران جاپان
کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے امریکہ کے
عزم سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک امریکہ اور اس کے اتحادیوں
کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور امریکی وابستگی کو کمزور سمجھ
سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں ہیگستھ نے کہا کہ
امریکی قومی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ بحرالکاہل کے خطے میں اپنی فوجی
موجودگی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنا اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بعض لوگ یہ تاثر
دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری عالمی ذمہ داریاں ہمیں اس خطے سے دور کر رہی ہیں،
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔‘
ہیگستھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم
ایک ہی وقت میں دو کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ ان کے مطابق امریکہ
بحرالکاہل کے خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ خاموش مگر انتہائی سنجیدہ اور مؤثر
انداز میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ساتھ ہی اپنی عالمی ذمہ داریوں کو بھی
نبھا رہا ہے تاکہ، ان کے بقول، ’ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘
پاکستانی فری لانسرز نے نو ماہ میں 95 کروڑ ڈالر مالیت کا غیر ملکی زرمبادلہ کمایا: سٹیٹ بینک آف پاکستان, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران
پاکستان میں فری لائنسنگ کے ذریعے آمدن میں 49 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے اور توقع ہے
کہ رواں مالی سال کے اختتام تک فری لانسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن ایک ارب ڈالر
تک پہنچ جائے گی۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری اعدادوشمار
کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستانیوں نے فری لانسنگ کے ذریعے
95 کروڑ ڈالر مالیت کا غیر ملکی زرمبادلہ کمایا ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق کمپیوٹر اور انفارمیشن
سروسز کے شعبے میں جولائی سنہ 2025 سے اپریل سنہ 2026 کے دوران 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر
مالیت کی غیر ملکی آمدن ہوئی جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران فری لانسنگ سے حاصل
آمدن میں 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔
اس طرح فری لانسنگ سے حاصل آمدن میں
49 فیصد آضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ماہرین کے کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی رسائی نے نوجوانوں کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کے آمدن کے وسیع مواقع میسر آئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ’فری لانسرز کی آمدن میں مختلف فری لانسنگ پلیٹ فارمز جیسے اپ ورک، فائیویر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانی فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے باعث ممکن ہوا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں فری لانسنگ کیمونٹی میں دن بدن اضافہ ہوا ہے اور ان کے پاس رجسٹرڈ فری لانسرز کی تعداد 30 لاکھ ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بیکنگ سمیت دیگر سٹیٹ ہولڈرز کے تعاون کے سبب فری لانسنگ کمیونٹی میں آضافہ ہو رہا ہے۔
آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں افرادی قوت نے فری لانسنگ کے بارے میں آگاہی، آن لائن لرننگ اور مختلف تربیتی پروگرامز کے ذریعے مہارت حاصل کی ہے۔
نیتن یاہو کا لبنانی سرزمین میں مزید پیش قدمی کا اعلان، واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے سکیورٹی مذاکرات جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن
یاہو نے
اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے لبنانی سرزمین میں مزید پیش قدمی کی ہے جبکہ
اسی دوران اسرائیل اور لبنان کے فوجی وفود واشنگٹن میں سکیورٹی مذاکرات میں مصروف
ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی
لبنان پر شدید بمباری کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون کے
دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے
ٹیلیفونک گفتگو میں انھوں نے جنگ بندی کے حصول کے لیے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار
لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ
تنظیم حزب اللہ کے درمیان 17 اپریل سے نافذ ہونے والی جنگ بندی تاحال مکمل طور پر
نافذ نہیں ہو سکی۔ ایران کا بھی مؤقف ہے کہ خطے میں جاری وسیع تر جنگ کے خاتمے کے
لیے امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے۔
اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے
پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں اور اپنے حملوں کو مخالف فریق کی
کارروائیوں کا ردِعمل قرار دیتے ہیں۔
جمعہ کے روز نیتن یاہو نے کہا کہ
اسرائیلی افواج نے لیتانی دریا عبور
کر لیا ہے جو لبنان اور اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع ایک
اہم دریا ہے۔
نیتین یاہو نے اپنے دفتر کی جانب
سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا ’ہماری افواج دریائے لیتانی عبور کر کے علاقے کی
اہم اور بلند پوزیشنوں تک پہنچ چکی ہیں۔‘
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل
براہِ راست حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان
اپریل سے براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جبکہ ان مذاکرات کا چوتھا دور آئندہ ہفتے
واشنگٹن میں متوقع ہے۔
ادھر امریکی محکمہ دفاع کے پالیسی
امور کے نائب سربراہ ایلبرج کولبی نے
جمعہ کے روز ہونے والے فوجی مذاکرات کو ’تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات
کے نتائج امریکی محکمہ خارجہ کی قیادت میں جاری سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد
فراہم کریں گے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی فوج کے درمیان مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے: امریکہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک امریکی عہدیدار نے اعلان کیا
ہے کہ اسرائیلی اور لبنانی فوجی وفود کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات ’تعمیری‘
رہے ہیں اور یہ ملاقات آئندہ سفارتی بات چیت کی راہ ہموار کرے گی۔
امریکی محکمہ دفاع کے نائب سربراہ
ایلبرج کولبی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’آج پینٹاگون میں میں نے
اسرائیلی اور لبنانی فوجی وفود کی میزبانی کی، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری امن
مذاکرات کی حمایت میں سکیورٹی ٹریک کا حصہ تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دونوں فریق
کی افواج کے درمیان تعمیری گفتگو ہوئی، جو اگلے ہفتے امریکی محکمہ خارجہ کی قیادت
میں ہونے والے سیاسی عمل میں مددگار ثابت ہوگی۔‘
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں
جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان
پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی
سطح پر اعتماد سازی اور سکیورٹی معاملات پر پیش رفت مستقبل کے سیاسی مذاکرات کے
لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور خطے میں
استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا عمانی ہم منصب سے رابطہ، عمان کے لیے مکمل حمایت کا اظہار
،تصویر کا ذریعہ@araghchi
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی
کا کہنا ہے کہ عمانی ہم منصب سے ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہی،
جس میں عمان کو درپیش کسی بھی خطرے کے مقابلے میں ایران کی مکمل یکجہتی اور حمایت
کا اظہار کیا گیا۔
عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان
میں مزید کہا کہ ’عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ ہونے والی گفتگو آبنائے
ہرمز اور اس کے مستقبل کے انتظامی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آبنائے
ہرمز سے متعلق معاملات پر عمان اور ایران کی پالیسی خودمختار ذمہ داریوں اور بین
الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق ہوگی۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ’وہ
خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشاورت اور تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں تاکہ اہم
بحری گزرگاہوں میں استحکام اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
تاہم دوسری جانب حالیہ دنوں میں
امریکہ اور عمان کے درمیان بھی کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ امریکی حکام نے عمان کو
خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ٹول یا
کسی مشترکہ انتظامی نظام کے قیام میں تعاون کرتا ہے تو اس کے خلاف پابندیاں عائد
کی جا سکتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک
بیان میں عمان کو سخت نتائج کی دھمکی دی تھی، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا تھا
کہ آبنائے ہرمز میں ٹول نظام کے قیام میں شامل کسی بھی فریق کو نشانہ بنایا جا
سکتا ہے۔
ضرورت پڑنے پر امریکہ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے: امریکی وزیرِ دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے
کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اگر ضرورت پیش آئی
تو وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
سنگاپور میں منعقد ہونے والی ایک
اہم بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس ’شنگریلا ڈائیلاگ‘ کے دوران خطاب کرتے ہوئے امریکی
وزیرٌ دفاع ہیگستھ نے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ہمارے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں
دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔‘
واضح رہے کہ سنگاپور میں یہ
کانفرنس ہس سال منعقد کی جاتی ہے جس میں مختلف ممالک کے وزرائے دفاع، فوجی حکام
اور ماہرین جمع ہوتے ہیں اور اس میں ایشیا اور دنیا کی سلامتی، دفاع اور سکیورٹی
کے مسائل پر بات ہوتی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ
’اس نوعیت کی کسی بھی کارروائی کے لیے ہمارے ہتھیاروں کے ذخائر بڑی تعداد میں
موجود ہیں، خواہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں ہوں یا دنیا کے دیگر حصوں میں کیونکہ
ہم نے جدید اسلحے اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے جنگی سازوسامان کے درمیان
مؤثر توازن قائم کر رکھا ہے۔‘
امریکی وزیرِ دفاع کے اس بیان کو
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے،
تاہم انھوں نے اپنی گفتگو میں کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت یا نوعیت کے بارے
میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایک ایسے ملک کی جانب سے پابندیوں کا نشانہ بننا، جس کا رہنما بحری قزاقی پر فخر کرتا ہے، ہماری مثبت کارکردگی کی علامت ہے: خلیجِ فارس واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے
والے ایک بیان میں خلیجِ فارس واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے اپنے خلاف عائد کی گئی
امریکی پابندیوں پر ردِعمل دیتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
ادارے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایک
ایسے ملک کی جانب سے پابندیوں کا نشانہ بننا، جس کا رہنما بحری قزاقی پر فخر کرتا
ہے، ہماری مثبت کارکردگی کی علامت ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آپ
پابندیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز پر وہ کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے جو آپ میدانِ عمل
اور سفارت کاری میں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘
اتھارٹی نے اس عزم کا بھی اظہار
کیا کہ ’وہ غیر جارحانہ جہازوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ان کے
گزرنے کے اجازت ناموں کا مسلسل جائزہ لینے اور انہیں جاری کرنے کا عمل جاری رکھے
گی۔‘
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے
گزشتہ روز جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس ادارے کا قیام مبینہ طور پر پاسدارانِ
انقلاب کی جانب سے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے آمدنی حاصل کرنے‘ کی کوشش
ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اس ادارے
کے ساتھ تعاون کرنے والے تمام افراد اور اداروں کو بھی اپنی پابندیوں کی فہرست میں
شامل کرنے کا اعلان کیا۔
بیان کے مطابق امریکہ کی جانب سے
آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے بعد ایران نے جہازوں کی
آمدورفت کی نگرانی اور رابطہ کاری کے لیے اس ادارے کو قائم کیا تھا۔
امریکہ نے ایران کے دفاعی ٹیکنالوجی سپلائی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے
مطابق ایران سے متعلق تازہ ترین پابندیوں کے تحت امریکہ نے ایک ایسے نیٹ ورک کو
نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے دفاعی شعبے کو
حساس امریکی ٹیکنالوجی فراہم کر رہا تھا۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز
نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کی ایک فہرست جاری کی
ہے جو انسدادِ دہشت گردی کے ضوابط کے تحت عائد کی گئی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، یہ
نیٹ ورک علی مجد سپہر کی سربراہی
میں کام کر رہا تھا اور مبینہ طور پر فرضی کمپنیوں اور جعلی ویب سائٹس کے ذریعے
درجنوں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دھوکا دے کر ایران کے دفاعی شعبے کے لیے حساس
آلات حاصل کرتا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ
ورک کے ارکان نے خود کو جائز امریکی کمپنیوں کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے جدید
ٹیکنالوجی، جن میں فریکوئنسی سپیکٹرم اینالائزرز اور سکیورٹی آلات شامل ہیں، خریدے
اور بعد ازاں انھیں دبئی میں موجود ثالثوں کے ذریعے ایران منتقل کیا۔
واشنگٹن کے مطابق یہ سرگرمیاں
امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کے ذریعے ایران کی دفاعی
صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملی۔
ٹرمپ صرف اسی معاہدے کو قبول کریں گے جو ان کے بنیادی مطالبات پر پورا اترے: وائٹ ہاؤس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے
بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ’کرائسس روم‘ میں ہونے والا اجلاس تقریباً دو گھنٹے تک
جاری رہا تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس
معاملے پر اپنا حتمی فیصلہ کر لیا ہے یا نہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق
عہدیدار نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ صرف ایسے معاہدے کو قبول کریں گے جو امریکہ کے مفاد
میں ہو اور ان کی مقرر کردہ سرخ لکیروں یعنی ریڈ لائنز پر پورا اترتا ہو۔ ایران کو
کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔‘
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی
ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ معاہدہ ’تکمیل کے قریب‘ ہے، تاہم اسے ابھی تک حتمی
منظوری حاصل نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان
مذاکرات جاری ہیں اور اہم معاملات پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن میں سکیورٹی مذاکرات جاری، اسرائیل نے لبنان میں حملے تیز کر دیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے
لبنانی سرزمین میں مزید پیش قدمی کی ہے جبکہ اسرائیلی اور لبنانی فوجی وفود کے
درمیان واشنگٹن میں سکیورٹی مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے جمعہ کے
روز جنوبی لبنان پر شدید بمباری کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ لبنانی صدر جوزف عون کے دفتر کے مطابق انھوں نے امریکی
وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فونک
گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کے قیام کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کی
جائیں کیونکہ یہ مسئلے کے حل کی جانب پہلا اور ضروری قدم ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ
بندی 17 اپریل سے نافذ ہونا تھی تاہم اس پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی
کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہیں اور اپنے حملوں کو مخالف جانب کی مبینہ
خلاف ورزیوں کا ردِعمل قرار دیتے ہیں۔
حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس
نے جمعہ کے روز شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں، فوجی بیرکوں اور ایک عسکری
کیمپ کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔
گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے
جنگجو جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع تاریخی بیوفورٹ قلعہ کے علاقے میں
پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک ارب ڈالر مالیت کے ایرانی کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط، ایران پر پابندیوں میں نرمی بتدریج ہوگی: امریکی وزیر خزانہ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی مرحلہ وار اور بتدریج کی جائے گی۔
ریگن نیشنل اکنامک فورم میں گفتگو کے دوران، جب ان سے ایران کی ناکہ بندی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’جو بھی پابندیاں ہٹائی جائیں گی، وہ بتدریج ہٹائی جائیں گی۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ امریکی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی معاشی مہم کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے ایرانی کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر ٹرمپ کی ملاقات کا نتیجہ ابھی تک غیر واضح
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے لیے اپنے مشیروں کے ساتھ میٹنگ کی ہے تاہم اس ملاقات کا نتیجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کے کرائسز روم میں ہونے والی اس ملاقات سے قبل انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مذاکراتی معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کرے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو زمین سے باہر نکال کر تلف کر دیا جائے گا۔
تاہم ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاہدے کے مسودے میں فیس وصول کیے بغیر آبنائے ہرمز کو کھولنا اور نہ ہی جوہری مواد کو تباہ کرنے کا عہد شامل ہے۔
تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے ابھی تک جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے تاکہ معاہدے کی مزید پیچیدہ تفصیلات پر بات چیت جاری رکھی جا سکے۔