80 ہزار جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے: سہیل آفریدی
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے پاکستانی فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پی ٹی آئی تک محدود نہیں، بلکہ صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
خلاصہ
رودریگیز نے وینزویلا کی عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ پارلیمانی اجلاس کا آغاز معزول رہنما مادورو کی امریکی تحویل سے رہائی کے مطالبات سے ہوا
مادورو نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہوئے نیویارک کی عدالت کو بتاتا ہے کہ وہ ’جنگی قیدی‘ ہیں
امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی نئی رہنما ڈیلسی رودریگیز کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ’صحیح کام نہیں کریں گی تو انھیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی بڑی‘
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنے ملک میں امریکی کارروائی پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے
لائیو کوریج
بلوچستان میں پھر سے ایک ماہ کے لیے اجتماعات پر پابندی, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ
بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان و قبائلی امور کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ 31 جنوری تک برقرار رہے گا۔ دفعہ 144 کے تحت بلوچستان بھر میں پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے، دھرنوں، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ اسلحے کی نمائش، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، اور عوامی مقامات پر شناخت چھپانے کے لیے ماسک یا مفلر کے استعمال پر بھی پابندی عائد ہوگی۔
محکمہ داخلہ نے پولیس، لیویز اور ایف سی کو ہدایت دی ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے۔
محکمہ داخلہ کے سینیئر حکام سے ایک مرتبہ پھر پورے بلوچستان میں دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔
تاہم اس وقت بلوچستان میں سرکاری ملازمین کی جانب سے ڈِسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے لیے احتجاج جاری ہے۔ انھوں نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں بلوچستان بھر میں شاہراہیں بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔
مادورو کو امریکہ میں ’نارکو ٹیررازم‘ سمیت کن الزامات کا سامنا ہے؟
،تصویر کا ذریعہHANDOUT
نیکولس مادورو کو بروکلین کے ایک بدنام حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ یہاں سے انھیں اپنی اہلیہ سیلیا فلوریس کے ساتھ وفاقی عدالت لے جایا
جائے گا جہاں انھیں ان الزامات سے آگاہ کیا جائے گا جن کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔
25 صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس جوڑے نے
ایک پُرتشدد جرائم پیشہ گروہ سے فائدہ اٹھایا جو امریکہ میں کوکین سمگل
کرتا تھا۔
مادورو نے بارہا ان الزامات کو محض اقتدار سے ہٹانے کا بہانہ قرار
دیا ہے۔
یہ جوڑا اپنی درخواستِ ضمانت کے ساتھ عدالت میں پیش ہوگا۔ تاہم ضمانت
ملنے کا امکان نہایت کم ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ اب امریکہ وینزویلا کو
چلائے گا اور اس کے تیل کے شعبے تک ’مکمل رسائی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس دباؤ کو کم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ امریکی
صدر نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر مادورو کے باقی اتحادی احکامات پر عمل نہیں
کریں گے تو پھر سے فوجی حملہ کیا جا سکتا ہے۔
جب ٹرمپ سے یہ پوچھا گیا کہ مادورو کے ’اغوا‘ کے دعوے پر ان کا کیا
ردعمل ہے تو انھوں نے کہا کہ یہ ’برا لفظ نہیں ہے۔‘
مادورو پر درج الزامات میں ’نارکو-ٹیررازم‘، کوکین سمگلنگ اور امریکہ
کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش شامل ہے۔
لیورپول جان مورز یونیورسٹی میں جسٹس اسٹڈیز کی پروفیسر جولیا بکسٹن
کے مطابق یہ ’انتہائی کمزور بنیاد‘ ہے۔
انھوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ وینزویلا ’کوکین کا بڑا
برآمد کنندہ نہیں ہے۔‘
’امریکہ جانے والی زیادہ تر کوکین بحرالکاہل کے ساحل سے میکسیکو اور
کولمبیا کے راستے آتی ہے۔ وینزویلا سے کوئی فینٹانائل نہیں آ رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ
کو مادورو کو نارکو-ٹیررسٹ کے طور پر پیش کرنے کا تصور گھڑنا پڑا تاکہ رجیم چینج
کی پالیسیوں پر عمل کیا جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ تیل کی امریکی کمپنیاں وینزویلا
میں آئیں لیکن یہ ان کمپنیوں کے لیے خاص طور پر پُرکشش موقع نہیں ہے۔
ان کے مطابق عالمی منڈیوں میں تیل کی بھرمار ہے اور وینزویلا کی تیل
کی صنعت کو درست کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
لکی مروت میں بس پر حملہ، ایک شخص ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو/پشاور
،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے حکام کے مطابق پیر کی صبح لکی سیمنٹ فیکٹری کی طرف جانے والی بس پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا جس میں ایک شخص ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
لکی مروت کے ضلعی پولیس افسر نذیر خان نے بتایا کہ یہ حملہ بیگو خیل روڈ پر ناورخیل موڑ کے قریب ہوا جس کے بعد وہ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ علاقے میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
سول ہسپتال لکی مروت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کفایت اللہ نے بتایا کہ ہسپتال میں 12 زخمیوں کو لایا گیا تھا جن میں سے ایک جان کی بازی ہار چکا ہے۔
لکی مروت کے مختلف علاقوں میں امن کمیٹیاں قائم ہیں جن میں بیگو خیل بھی شامل ہے۔ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں مقامی امن کمیٹی اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بس میں بیگو خیل سے تعلق رکھنے والے لکی سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین بھی سوار تھے۔
ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لکی مروت کے دیہات جیسے تختی خیل اور بیگو خیل میں شدت پسندوں کے خلاف امن کمیٹیاں سرگرم ہیں جہاں سے جھڑپوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ گذشتہ دنوں تختی خیل میں بھی امن کمیٹی اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں شدت پسندوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122
اتوار کو لکی مروت کے علاقے نورنگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مقامی ٹریفک پولیس کے انچارج سمیت تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک کی تدفین آج آبائی علاقے میں کی جا رہی ہے۔
تحصیل نورنگ ضلع بنوں اور لکی مروت کی سرحد پر بڑی شاہراہ پر واقع ہے۔
2025 کے دوران علاقے میں پُرتشدد واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
ضلع بنوں کے ساتھ واقع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی سے بھی تشدد کی اطلاعات ہیں۔ میر علی میں سنیچر کی شام ایک سکول اور ریسکیو 1122 کی گاڑی پر حملے کیے گئے۔
میر علی کے ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہفتے کی شام ایک نجی سکول پر دھماکہ ہوا، جو بظاہر کواڈ کاپٹر سے کیا گیا، جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو لے جانے کے لیے جب ریسکیو 1122 کی گاڑی پہنچی تو اس پر بھی حملہ ہوا، جس میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔
اس بارے میں شمالی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر سے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
یہ واقعہ اس وقت ہوا جب جمعہ کو میر علی میں ’میر علی پاسون‘ کے نام سے ایک بڑا عوامی مظاہرہ ہوا جس میں قیام امن کا مطالبہ کیا گیا۔
اس پاسون میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ملک نثار علی خان نے کہا کہ یہ علاقے کا المیہ ہے کہ جب بھی امن کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے تو اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو بدامنی کو ہوا دیتا ہے۔
ملک نثار علی خان کے مکان پر حالیہ دنوں میں ایک ہفتے کے دوران دو مرتبہ مارٹر گولے گرے، جن میں ان کے گھر کے 6 افراد زخمی ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ اس امن پاسون میں تمام فریقین کو 20 جنوری تک کا وقت دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس دوران جرگے منعقد ہوں گے تاکہ امن قائم کیا جا سکے، اور اگر ایسا نہ ہوا تو 20 جنوری کے بعد وہ اپنا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔
ٹرمپ کے لیے وینزویلا کے تیل کے ذخائر حاصل کرنا کیوں مشکل ہو گا؟, آرچی مچل اور نیٹلی شرمین، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہReuters
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر استعمال کرے
گا اور ملک کو ’اس وقت تک چلائے گا جب تک اقتدار محفوظ انداز میں منتقل نہیں ہو
جاتا۔‘
امریکی صدر چاہتے ہیں کہ تیل کی امریکی کمپنیاں تیل کے ذخائر سے مالا
مال وینزویلا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں تاکہ بڑی حد تک غیر استعمال شدہ
وسائل کو متحرک کیا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ امریکی کمپنیاں وینزویلا کے ’شدید خراب‘ تیل کے
انفراسٹرکچر کو درست کریں گی اور ’ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں گی۔‘
لیکن ماہرین نے ٹرمپ کے منصوبے میں بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی ہے۔ ان
کا کہنا ہے کہ اس پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے اور تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ
کرنے میں کم از کم ایک دہائی لگے گی۔
تو کیا امریکہ واقعی وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کر
سکتا ہے؟
وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور موجودہ صورتحال
تقریباً 303 ارب بیرل کے تخمینے کے ساتھ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے
ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا مالک ہے۔ لیکن ملک کی موجودہ پیداوار اس کے مقابلے میں
نہایت کم ہے۔
کچھ مغربی کمپنیاں بشمول امریکی کمپنی شیورون اب بھی ملک میں سرگرم
ہیں۔ لیکن ان کے آپریشنز نمایاں طور پر سکڑ گئے ہیں کیونکہ امریکہ نے پابندیاں سخت
کر دی ہیں اور تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا ہے تاکہ مادورو کی معاشی رسائی محدود
کی جا سکے۔
یہ پابندیاں پہلی بار 2015 میں صدر اوباما کے
دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر لگائی گئی تھیں۔ اس سے ملک سرمایہ
کاری سے محروم رہا ہے۔
انویسٹیک کے ہیڈ آف کموڈٹیز کالوم میکفرسن کہتے ہیں کہ ’اصل چیلنج
انفراسٹرکچر ہے۔‘
نومبر میں وینزویلا نے روزانہ تقریباً 8.6 لاکھ بیرل تیل پیدا کیا جو
دس سال پہلے کی پیداوار کا صرف ایک تہائی ہے اور عالمی کھپت کا 1 فیصد سے بھی کم۔
ملک کے تیل کے ذخائر ’بھاری اور کھٹے‘ کہے جانے والے تیل پر مشتمل
ہیں جسے ریفائن کرنا مشکل ہے۔ لیکن ڈیزل اور اسفالٹ بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
امریکہ عام طور پر ’لائٹ اور میٹھا‘ تیل پیدا کرتا ہے جو پیٹرول بنانے میں استعمال
ہوتا ہے۔
قانونی اور سیاسی رکاوٹیں
کپلر کے سینئر کموڈٹی تجزیہ کار ہمایوں فلق شاہی نے بی بی سی کو
بتایا کہ وینزویلا میں ڈرلنگ کرنے کے خواہشمندوں کو حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنا
ہوگا جو مادورو کے جانشین کے آنے تک ممکن نہیں۔
انھوں نے کہا کہ کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری صرف تب کریں گی
جب مستقبل مستحکم ہو۔ یہ عمل ’مہینوں لے سکتا ہے اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری
شروع کرنے سے پہلے نئے حکومتی معاہدے ضروری ہوں گے۔‘
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کی سابقہ پیداوار بحال کرنے میں
اربوں ڈالر اور ممکنہ طور پر ایک دہائی لگے گی۔
کیپیٹل اکنامکس کے چیف اکانومسٹ نیل شیئرنگ نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے
کا عالمی تیل کی فراہمی اور قیمت پر محدود اثر ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ منصوبے کئی سالوں میں نتیجہ دیں گے اور موجودہ
رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ملک 30 لاکھ بیرل یومیہ کی سابقہ پیداوار
پر واپس بھی آ جائے تو بھی یہ دنیا کے ٹاپ 10 پروڈیوسرز میں شامل نہیں ہوگا۔ شیئرنگ
نے کہا کہ اوپیک پلس ممالک کی بلند پیداوار کے باعث دنیا کو فی الحال تیل کی کمی
کا سامنا نہیں۔
شیورون واحد امریکی کمپنی ہے جو اب بھی وینزویلا میں سرگرم ہے جسے
2022 میں صدر بائیڈن کے دور میں لائسنس ملا تھا۔
کمپنی وینزویلا کے تیل کے تقریباً پانچویں حصے کی پیداوار کرتی ہے۔
اس نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی حفاظت پر توجہ دے رہی ہے اور تمام قوانین کی
پابندی کر رہی ہے۔ دیگر بڑی کمپنیاں فی الحال خاموش ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ
اندرونی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
فلق شاہی نے کہا کہ ’سیاسی صورتحال اور وسائل، یہی دو عوامل ہیں جو
فیصلہ کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ غیر یقینی سیاسی حالات کے باوجود ممکنہ انعام
اتنا بڑا ہے کہ نظرانداز کرنا مشکل ہوگا۔
’سندھ طاس معاہدے کی معطلی مودی کا پاکستان کو واضح پیغام ہے‘, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو/سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام میں موجود سلال ڈیم جو دریائے چناب پر واقع ہے
انڈیا میں توانائی کے وزیر منوہر لال نے اتوار کے روز کہا
کہ دریائے سندھ اور چناب پر بجلی کے منصوبوں کی تعمیر سے متعلق پاکستان کا کوئی
بھی اعتراض قابل قبول نہیں ہوگا۔
انڈین وزیر نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے کشتواڑ، رام بن
اور ریاسی اضلاع میں سلال پن بجلی منصوبے پر جاری کام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ
’وزیراعظم مودی نے سندھ طاس آبی معاہدے کو معطل کر کے پاکستان کو واضح پیغام دیا
ہے۔
ہم ان دریاؤں کا پانی اپنے لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال
کریں گے۔ ہمارے لیے قومی مفاد سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔‘
منوہر لال نے سنیچر اور اتوار کو کشمیر کے سلال، ساولاکوٹ،
رتلے اور دوسرے بجلی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔
انھوں نے دورے کے دوران ریاسی ضلع کے مہادیو محلے کے مندر
میں آر ایس ایس کی ایک تقریب سے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے
کہ کوئی ہمیں ہمارے کام سے روکے اور اگر کوئی منفی ارادوں کے ساتھ ایسا کرے گا تو
ہمارا عزم واضح ہوچکا ہے۔ ہم ایسے عناصر کو چھوڑیں گے نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر کافی مشکل دور سے گزرا ہے
لیکن آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے۔ اور
اب یہاں ہندوتوا کی لہر ہر طرف ہے۔ ’ہندوتوا بلالحاظِ مذہب ہر ایسے شہری کو ساتھ
کے کر چلتا ہے جو وطن دوست ہو اور نیشن فرسٹ کی پالیسی کو دل سے قبول کرے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ برس اپریل میں پہلگام میں حملے کے بعد انڈیا
نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔
انڈین وزیر منوہر لال نے دورے کے دوران پن بجلی منصوبوں کے
نگران ادارہ نیشنل ہایئڈل پاور کارپوریشن یا این ایچ پی سی کے افسروں کو ہدایت دی
کہ سلال ڈیم کی صفائی کا کام فوراََ مکمل کرلیں۔
ریاسی ضلعے میں چناب دریا پر بنے سلال پروجیکٹ پر سندھ طاس
معاہدے کی معطلی کے بعد ہی توسیع کا کام شروع کیا گیا تھا حالانکہ اس پر کئی برس
قبل پاکستان کے اعتراض کے بعد کام روک دیا گیا تھا۔
شہریت قانون کو چیلنج کرنے والے طالبعلم رہنما عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت سپریم کورٹ سے بھی مسترد, شکیل اختر بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دلی
،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کی سپریم کورٹ نے شہریت کے
ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والے طلبہ رہنما خالد عمر اور شرجیل امام کی ضمانت کی
درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ فروری 2020 کے دلی فسادات کی
مبینہ سازش میں جن افراد نے حصہ لیا، ان میں ان دونوں کی شراکت ’سب سے اونچی سطح‘
پر تھی۔ شہریت قانون کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران دلی میں مذہبی فسادات پھوٹ
پڑے تھے۔
خالد عمر، شرجیل امام اور کئی دیگر
طلبہ اور نوجوان رہنماؤں پر الزام ہے کہ یہ فسادات خودبخود نہیں ہوئے بلکہ ایک
منظم سازش کے تحت کرائے گئے۔ خالد عمر اور شرجیل امام تقریباً پانچ برس سے جیل میں
ہیں۔ عدالت نے ان کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا کہ پانچ برس گزرنے کے باوجود مقدمے
کی سماعت شروع نہیں ہوئی اور انھیں قید میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے میں کہا کہ
خالد عمر اور شرجیل امام اس فیصلے کے ایک سال بعد یا گواہوں کے بیانات کا عمل مکمل
ہونے کے بعد دوبارہ ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔
تاہم عدالت نے اس معاملے کے پانچ
دیگر ملزمان، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاءالرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم
خان، کو مشروط ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی
انجاریا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کہا کہ عدالت نے ہر ملزم پر عائد الزامات کا
جائزہ لیا اور یہ دیکھا کہ آیا ان کی نوعیت قانون کے مطابق ہے یا نہیں، اور کیا انھیں
قید میں رکھنے سے کوئی قانونی مقصد پورا ہوتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ان ملزمان کو
ضمانت دینے سے استغاثہ کے ’سازش کے کیس‘ پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی اس سے
شراکت کی نوعیت طے ہوتی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ مقدمے کی سماعت
سے قبل ملزمان کو قید میں رکھنے کا عمل بے جا، غیر ضروری یا خودساختہ نہ ہو، اور
اس میں قانونی تحمل، تناسب اور جواز کا خیال رکھا جائے۔
عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ کے
پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر خالد عمر اور شرجیل امام کا معاملہ دیگر ملزمان سے ’بالکل
مختلف‘ نظر آتا ہے۔
اس سے قبل خالد عمر کے وکیل کپل
سبل نے دلی پولیس کے سازش کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ فروری 2020 کے
فسادات کے سلسلے میں 751 ایف آئی آر درج ہوئیں، مگر خالد کے خلاف سازش کا صرف ایک
مقدمہ قائم کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر خالد واقعی سازشی ہوتے تو یہ بات حیران کن
ہوتی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فسادات کے دوران خالد دلی میں موجود نہیں تھے اور نہ
ہی ان کے قبضے سے کوئی ہتھیار، اسلحہ، تیزاب یا قابلِ مواخذہ مواد برآمد ہوا۔
انڈیا کی حکومت نے پانچ برس قبل
شہریت کا ترمیمی بل پیش کیا تھا جس کے تحت پڑوسی ممالک میں مذہب کی بنیاد پر ستائے
گئے ہندو، مسیحی، بدھ اور سکھ شہریوں کو انڈیا کی شہریت دینے کا انتظام کیا گیا،
لیکن مسلمانوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ انڈیا کے مسلمانوں نے اسے امتیازی
قانون قرار دے کر 2020 میں ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی۔ خالد عمر اور دیگر ملزمان
نے دلی میں اس تحریک کی قیادت کی تھی۔ تحریک کے دوران شمال مشرقی دلی میں مذہبی
فسادات پھوٹ پڑے جن میں 38 مسلمان اور 15 ہندو شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
دلی پولیس نے ضمانت کی مخالفت کرتے
ہوئے کہا تھا کہ فسادات میں 53 افراد مارے گئے اور یہ ایک ’مجرمانہ سازش‘ کے تحت
منظم طریقے سے کرائے گئے تھے، جس کا مقصد دلی میں حکومت کو ہٹانا تھا۔ پولیس کے
مطابق ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ سازش اس طرح تیار کی گئی تھی کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کے سرکاری دورۂ انڈیا کے دوران جب فسادات ہوں تو بین الاقوامی توجہ حاصل ہو
اور شہریت قانون کو ’مسلم مخالف قانون‘ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
اس سے پہلے دلی ہائی کورٹ نے بھی
ان تمام ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم تین دیگر ملزمان، نتاشا
ناروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا، کو سنہ 2021 میں اور عشرت جہاں کو سنہ
2022 میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 2100 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ کھلنے کے بعد آغاز میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2172 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد
یہ 181207 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔ یہ اب تک انڈیکس کی بلند ترین
سطح ہے۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار مارکیٹ میں تیزی کی وجہ مالیاتی اداروں کی جانب
سے حصص کی خریداری اور تیل و گیس کے شعبے کی کمپنیوں کی جانب سے اچھے مالیاتی نتائج اور
شیئر ہولڈرز میں منافع کی تقسیم کے امکانات کو قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ مالیاتی اداروں کی جانب
سے کافی زیادہ حصص کی خریداری کی گئی جس نے انڈیکس کو بڑھایا۔ انھوں نے کہا کہ کارپوریٹ
سیکٹر کے مالیاتی نتائج کا سیزن شروع ہو گیا ہے جس میں اچھے مالیاتی نتائج کی توقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ تیل و گیس کے شعبے میں حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے کمپنیوں
کو پیسوں کی فراہمی سے اس شعبے کی کمپنیوں کے حصص خریدنے والوں کو اچھا منافع ملنے
کی توقع ہے۔
ان کے بقول اس وجہ سے ان کے حصص کی خریداری میں تیزی دیکھی گئی ہے اور مارکیٹ انڈیکس میں ان کا بڑا حصہ ہونے کی وجہ
سے انڈیکس بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔
ٹرمپ کی وینزویلا کی نئی رہنما کو دھمکی: ’رودریگیز کو مادورو سے بھی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی نئی رہنما ڈیلسی
رودریگیز کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ’صحیح کام نہیں کریں گی‘ تو انھیں ’بہت بڑی
قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی بڑی۔‘
امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے بات کرتے
ہوئے ٹرمپ نے یہ بیان اس وقت دیا جب معزول صدر نیکولس مادورو پیر کو نیویارک کی
عدالت میں پیش ہونے والے ہیں۔
امریکہ مادورو پر منشیات کی سمگلنگ
اور اسلحے سے متعلق الزامات عائد کرتا ہے جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
زور دیا کہ امریکہ وینزویلا سے جنگ نہیں کر رہا۔ تاہم کچھ ڈیموکریٹ ارکان نے امریکی
فوجی کارروائی کو ’جنگی اقدام‘ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر نئی رہنما ’صحیح
کام نہیں کرتیں تو انھیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی بڑی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’رجیم چینج، جو
بھی آپ اسے کہیں، موجودہ صورتحال سے بہتر ہے۔ اس سے بدتر نہیں ہو سکتا۔‘
ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ ملک
کو اس وقت تک ’چلائے گا‘ جب تک ’محفوظ اور مناسب منتقلی ممکن نہ ہو۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی
تیل کی کمپنیاں انفراسٹرکچر درست کرنے اور آمدنی پیدا کرنے کے لیے وینزویلا جائیں گی۔
مادورو کے اتحادی اب بھی اقتدار میں
ہیں۔ کیوبا کی حکومت نے کہا کہ امریکی حملے کے دوران 32 کیوبن شہری ہلاک ہوئے۔
روبیو نے اتوار کو کئی ٹی وی
انٹرویوز میں کہا کہ یہ کارروائی وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں بلکہ منشیات کے نیٹ
ورکس کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم منشیات فروش تنظیموں سے جنگ کر رہے ہیں،
وینزویلا سے نہیں۔‘
روبیو نے مزید کہا کہ اگر وینزویلا ’صحیح
فیصلے نہیں کرتا‘ تو امریکہ کے پاس دباؤ ڈالنے کے کئی طریقے ہیں جن میں تیل پر
لگائی گئی ’قرنطینہ‘ بھی شامل ہے۔
دریں اثنا ٹرمپ نے کولمبیا کو بھی
دھمکی دی ہے اور کولمبیا کے صدر کو ’بیمار آدمی‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کولمبیا
بھی بیمار ہے۔ ایک بیمار آدمی کے زیرِ انتظام، جو کوکین بنا کر امریکہ کو بیچتا ہے
اور وہ یہ زیادہ دیر تک نہیں کرے گا۔‘
مادورو 2013 سے اقتدار میں تھے۔ ان پر
اپوزیشن کو دبانے اور تشدد کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ان پر 2024 کے انتخابات میں دھاندلی
کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔
تاہم مادورو نے الزامات کی تردید
کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ منشیات کے خلاف جنگ کو بہانہ بنا کر انھیں ہٹانا اور
وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
مادورو کی نائب صدر ڈیلسی رودریگیز
کو سپریم کورٹ نے عبوری صدر کے طور پر حلف دلایا ہے اور فوج نے بھی ان کی حمایت کی
ہے۔ وہ پیر کو کاراکس میں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گی۔
’زمین پر جہنم‘: بروکلین کا حراستی مرکز جہاں مادورو کو قید کیا گیا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وکلا کے بقول بروکلین کا حراستی مرکز ’زمین پر جہنم‘ ہے۔ ماضی میں بعض جج بھی مجرموں کو وہاں بھیجنے سے انکار کر چکے ہیں۔ یہ بروکلین کی وہ جیل ہے جہاں مادورو کو رکھا گیا ہے۔
کاراکس میں کارروائی کے بعد پہلے فوجی طیارے اور پھر ہیلی کاپٹر پر مادورو کو اس حراستی مرکز تک پہنچایا گیا۔
ایک ویڈیو میں نیویارک پہنچنے پر مادورو کو ’گُڈ نائٹ‘ اور ’نیا سال مبارک‘ کہتے سنا جا سکتا ہے۔
ہاتھوں پر ہتھکڑی کے ساتھ وہ دو ایجنٹس کے ساتھ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے سپورٹس جیکٹ، سر پر سیاہ ٹوپی اور موزوں کے ساتھ سینڈل پہنے ہوئے ہیں۔
بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں ایک سیل میں بند کیے جانے سے قبل انھیں ڈی ای اے ہیڈکوارٹر لے جایا گیا تھا۔ ان کی بیوی سیلیا فلوریس کو بھی اسی مرکز میں قید کیا گیا ہے۔
یہ جیل کیسی ہے؟
یہ بنیادی طور پر کنکریٹ اور اسٹیل کا عمودی ڈھانچہ ہے اور اس میں کئی منزلیں ہیں۔ یہ جیل نیویارک کی بندرگاہ اور سینٹرل پارک سمیت دیگر مشہور مقامات سے قریب ہے۔
یہ جیل 1990 کی دہائی کے اوائل میں کھولی گئی تھی تاکہ شہر میں جیلوں کی بھیڑ کو کم کیا جا سکے۔
اگرچہ اس کا مقصد مین ہٹن اور بروکلین کی عدالتوں میں مقدمات کے منتظر مرد و خواتین قیدیوں کو رکھنا ہے تاہم فیڈرل بیورو آف پرزنس کے مطابق یہاں مختصر سزائیں کاٹنے والے مجرم بھی رکھے جاتے ہیں۔
یہ نیویارک میں فیڈرل بیورو آف پرزنس کی واحد جیل ہے کیونکہ ایجنسی نے 2021 میں مین ہٹن کی ایک جیل بند کر دی تھی جہاں 2019 میں جیفری ایپسٹین نے پراسرار حالات میں خودکشی کی تھی۔
یہ جیل پراسیکیوٹر کے دفتر اور دو وفاقی عدالتوں کے درمیان واقع ہے اور اندرونی راہداریوں کے ذریعے منسلک ہے تاکہ ملزمان کو عوامی نمائش کے بغیر منتقل کیا جا سکے۔
عمارت اسٹیل کی رکاوٹوں اور دور سے تصاویر لینے والے کیمروں سے گھری ہوئی ہے اور حالیہ گھنٹوں میں بیرونی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہاں کھیلوں کے لیے جگہیں، طبی یونٹس اور حتیٰ کہ ایک لائبریری بھی موجود ہے۔ جیل کے سیل چند میٹر کے ہیں جہاں قیدی زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔
’زمین پر جہنم‘
بروکلین کی اس جیل میں بھیڑ، غیر صحت مند حالات اور تشدد جیسے مسائل رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ جیل 1,000 قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی لیکن 2019 میں یہاں 1,600 قیدی موجود تھے۔ فی الحال یہاں 1,336 قیدی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران جیل صرف 55 فیصد عملے کے ساتھ چل رہی تھی۔
زیادہ بھیڑ اور عملے کی کمی لڑائیوں اور تشدد کی وجوہات میں شامل ہیں۔ عمارت کی حالت بھی ناقص ہے جیسا کہ 2019 میں ظاہر ہوا جب ایک برقی خرابی نے سردیوں کے وسط میں کئی دن تک قیدیوں کو حرارت سے محروم رکھا۔
اس وقت نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کہا تھا کہ جیل کی حالت ’ناقابل قبول اور غیر انسانی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’قید ہونا انسانی حقوق کی نفی نہیں ہونا چاہیے۔‘
ایڈون کورڈرو جیسے وکلا نے اس جیل کو ’زمین پر جہنم‘ قرار دیا تھا۔ سی این این کے مطابق ان کے موکل یوریل وائٹ جون 2024 میں دیگر قیدیوں کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔
سابق ڈائریکٹر فیڈرل ڈیفینڈرز آف نیویارک ڈیوڈ پیٹن نے بھی یہ رائے دی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ جیل کے مسائل ’طبی سہولت کی کمی سے لے کر صفائی کی سنگین ناکامیوں، کھانے میں کیڑوں کی موجودگی اور تشدد تک‘ ہیں۔
یہاں 2021 سے 2024 کے درمیان کم از کم چار قیدیوں کی خودکشی رپورٹ ہوئی ہے۔ کچھ جج بھی جیل کی حالت سے ناخوش ہیں اور انھوں نے وہاں مزید مجرم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک مثال ڈسٹرکٹ جج گیری براؤن ہیں جنھوں نے اگست 2024 میں کہا کہ اگر حکام نے ایک 75 سالہ شخص کو اس حراستی مرکز بھیجا تو وہ اس کی نو ماہ کی سزا ختم کر کے انھیں گھر پر نظر بند کر دیں گے۔
مشہور قیدی
خراب حالات کے باوجود بروکلین کی یہ جیل نمایاں قیدیوں کو رکھنے کے لیے منتخب کی گئی ہے۔ مادورو پہلے لاطینی امریکی سیاستدان نہیں ہیں جو یہاں پہنچے ہیں۔ ہونڈوراس کے سابق صدر خوان اورلاندو ہرنانڈیز نے تین سال سے زیادہ یہاں گزارے۔ گزشتہ دسمبر ٹرمپ نے انھیں صدارتی معافی دی تھی۔
میکسیکو کے سابق سیکریٹری برائے عوامی سلامتی جینارو گارسیا لونا بھی یہاں رہے۔ مشہور منشیات فروش جوآکین ’ایل چاپو‘ بھی یہاں قید رہ چکے ہیں۔ دیگر نمایاں قیدیوں میں منظم جرائم کے تاریخی کردار جیسے جان گوٹی اور القاعدہ کے ارکان شامل ہیں جو نائن الیون حملوں کے بعد گرفتار ہوئے تھے۔
وینزویلا میں امریکی حملوں سے گھروں کو پہنچنے والا نقصان
،تصویر کا ذریعہReuters
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وینزویلا میں سنیچر کو امریکی
فوجی آپریشن کے دوران کتنے لوگ زخمی یا ہلاک ہوئے۔ اس روز امریکی فورسز صدر
مادورو کو پکڑ کر اپنے ساتھ امریکہ لے گئے تھے۔ اس دوران وینزویلا میں فضائی حملہ بھی کیا گیا تھا۔
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس کے متاثرہ علاقوں میں اس فوجی کارروائی
کے بعد نقصانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کاراکس کے قریب واقع قصبے کیٹیا لا
مار میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا اور کچھ تباہ ہو گئے۔
ایک موٹرسائیکل ٹیکسی ڈرائیور جوناتن میلورا اور اس کے پڑوسی اینجل
الواریز نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ سنیچر کے روز دھماکوں کی آوازوں سے بیدار ہوئے۔
میلورا نے کہا کہ ’یہ ایک معجزہ ہے کہ انھوں نے میرے بچوں کو نہیں
مارا۔
الواریز نے بھی کہا کہ ’ہم ایک معجزے سے زندہ ہیں۔‘
وینزویلا کی عبوری صدر کی امریکہ کو مفاہمت کی پیشکش، مادورو کے بیٹے کی عوام سے سڑکوں پر احتجاج کی اپیل
،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM
وینزویلا کی عبوری صدر نے اتوار کی رات کابینہ کے پہلے اجلاس کی
صدارت کرنے کے بعد امریکہ اور ٹرمپ کے لیے مفاہمتی پیغام پوسٹ کیا ہے۔
انسٹاگرام پر ان کا کہنا ہے کہ ’وینزویلا کی طرف سے دنیا اور امریکہ
کو پیغام:
’وینزویلا
امن اور باہمی بقا کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ ہمارا ملک احترام اور
بین الاقوامی تعاون کے ماحول میں بیرونی خطرات سے آزاد رہنے کا خواہاں ہے۔ ہمارا
ماننا ہے کہ عالمی امن سب سے پہلے ہر ملک کے اندر امن کی ضمانت دے کر قائم ہوتا
ہے۔‘
رودریگیز نے مزید کہا کہ ’ہم امریکہ اور وینزویلا کے درمیان، اور
وینزویلا اور اس خطے کے ممالک کے درمیان مساوات اور عدم مداخلت کی بنیاد پر متوازن
اور باہمی تعلقات کی طرف بڑھنے کو اپنی ترجیح سمجھتے ہیں۔‘
’ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے فریم
ورک کے اندر رہتے ہوئے مشترکہ ترقی کی جانب تعاون کے ایجنڈے پر مل کر کام کیا
جائے۔‘
انھوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لوگ اور ہمارا خطہ
امن اور بات چیت کے مستحق ہیں، جنگ نہیں۔
’یہ ہمیشہ سے صدر نیکولس مادورو کا موقف رہا ہے۔ یہی وینزویلا کی
پوزیشن ہے۔‘
’وینزویلا کو امن، ترقی، خودمختاری اور مستقبل کا حق حاصل ہے۔‘
دوسری طرف مادورو کے بیٹے نے عوام سے سڑکوں پر احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’تاریخ بتائے گی کہ غدار کون تھے۔‘
امریکی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی فردِ جرم میں نیکولاس مادورو کے بیٹے نیکولاس مادورو گیورا پر بھی منشیات کی سمگلنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مگر امریکی فورسز نے انھیں نہیں پکڑا تھا۔
انڈیا پر مزید ٹیرف بڑھانا بہت بُرا ہوگا: ٹرمپ
انڈیا کی طرف سے روسی تیل کی درآمدات پر امریکی صدر ٹرمپ کا
کہنا ہے کہ مودی کو ’معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں۔‘
ایئر فورس ون پر سفر کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ مجھے خوش کرنا
چاہتے تھے۔ پی ایم مودی بہت اچھے آدمی ہیں۔ وہ اچھے آدمی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ میں
خوش نہیں ہوں۔ مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔
’وہ تجارت کرتے ہیں اور ہم ان پر بہت جلد محصولات بڑھا سکتے
ہیں۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈیا پر مزید ٹیرف بڑھانا ’بہت بُرا
ہوگا۔‘
خیال رہے کہ امریکہ نے روسی تیل خریدنے کے معاملے پر انڈیا پر بعض دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ٹیرف عائد کر رکھا ہے۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایئر فورس ون
پر موجود تھے، نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف
اس لیے لگایا ہے کیونکہ وہ روس سے تیل خریدتا ہے۔
گراہم نے کہا کہ ’تقریباً ایک ماہ پہلے میں انڈین سفیر کے گھر پر تھا
اور وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ انڈیا اب روس سے کم تیل خرید رہا ہے۔ وہ چاہتے تھے
کہ صدر ٹرمپ ٹیرف کم کریں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ٹرمپ کے انڈیا کے ساتھ رویے
کی وجہ سے آج انڈیا روس سے بہت کم تیل خرید رہا ہے۔‘
سونے کی قیمت میں تیزی مگر کیا تیل کی قیمت کم ہو گی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر کو ایشیائی سٹاکس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ مادورو کی امریکہ میں قید اور ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں خام تیل کی پیداوار بحال کرنے کے اعلان کے بعد پہلا تجارتی دن ہے۔
ابتدائی کاروبار میں جنوبی کوریا کا کوسپی 2.4 فیصد سے زیادہ بڑھا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس بھی 2 فیصد سے زیادہ اوپر گیا ہے۔
قیمتی دھاتوں سونے اور چاندی کو سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں ’محفوظ سرمایہ کاری‘ سمجھتے ہیں۔ ان کی قدر میں بھی 1.4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
دوسری جانب کاراکس میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ریسرچ فرم تھرڈ برج کے تجزیہ کار پیٹر مک نیلی کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو استعمال کریں گے لیکن ایسا کرنے کے لیے ’10 ارب ڈالر‘ اور کم از کم ایک دہائی تک مغربی تیل کمپنیوں کی بڑی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ یہ امکان کم ہے کہ سنیچر کے واقعات فوری طور پر پیٹرول پمپ پر نظر آنے والی تیل کی قیمتوں کو متاثر کریں گے۔ ’وینزویلا میں کوئی فوری حل نہیں ہے کیونکہ ملک میں بہت سی بنیادی تنصیبات کی کمی ہے۔ یہ بات صرف تیل کی صنعت کے لیے نہیں بلکہ تمام صنعتوں کے لیے درست ہے۔‘
ڈیلسی رودریگیز آج صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی
،تصویر کا ذریعہReuters
وینزویلا کی سابق نائب صدر ڈیلسی رودریگیز پیر کو مقامی وقت کے مطابق صبح 08:00 بجے کاراکس میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔
ایک آپریشن میں نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوجی اہلکاروں نے پکڑ لیا تھا اور تب سے رودریگیز وینزویلا کی عبوری صدر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
مادورو کو ملک سے ہٹائے جانے کے بعد رودریگیز نے اسے ’اغوا‘ قرار دیا اور زور دیا کہ وینزویلا امریکہ کی ’کالونی نہیں بنے گا۔‘
سابق نائب صدر وینزویلا میں تیل کی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ اس ملک میں دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔
انھوں نے پہلے ہی وینزویلا کے تمام عدالتی اور سیاسی اداروں کے ساتھ ساتھ فوج کی حمایت حاصل کر لی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے دی اٹلانٹک سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے رودریگیز کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ صحیح کام نہیں کرتیں تو انھیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی بڑی۔‘
پاکستان کو وینزویلا کی صورتحال پر تشویش، خطے کے دیگر ممالک نے کیا کہا؟
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان نے وینزویلا کی صورتحال پر
تشویش ظاہر کی ہے۔
ایک بیان میں پاکستان کی وزارت خارجہ کا
کہنا ہے کہ ’پاکستان وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود کو بہت اہمیت دیتا ہے اور وینزویلا
کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘
’ہم بحران کو ختم کرنے کے لیے تحمل اور
نرمی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ہم تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر
کے اصولوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیتے
ہیں۔‘
اس کا
مزید کہنا تھا کہ وینزویلا میں پاکستانی برادری کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس سے قبل انڈیا نے بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وینیزویلا کے قانونی صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا ’ریاستی دہشت گردی‘ اور ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے۔‘
ایران اور وینزویلا طویل عرصے سے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ فون پر بات چیت کے دوران وینزویلا کے وزیرِ خارجہ نے ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کیا تھا۔
جبکہ چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا میں کارروائی کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور جنوبی امریکہ کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چین نے نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکہ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے چین نے روس اور ایران کے ساتھ صف آرا ہو کر مادورو کے اتحادیوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جنھوں نے پہلے ہی امریکی کارروائی کو مسترد کیا تھا۔
آنکھوں پر پٹی اور کانوں میں ہیڈفون: مادورو کو اس حالت میں کیوں رکھا گیا؟, ازابیل کارو، بی بی سی منڈو
،تصویر کا ذریعہTruth Social/BBC
امریکہ کی تحویل میں وینزویلا کے صدر مادورو کی پہلی تصویر بہت سے لوگوں کی یادداشت میں نقش ہو جائے گی۔
یہ تصویر اس وقت سامنے آئی جب امریکی ایلیٹ فورسز نے 2013 سے وینزویلا کے حکومتی نظام کے سربراہ کو ٹرمپ کے حکم پر ایک فوجی آپریشن میں پکڑا تھا۔ ٹرمپ نے یہ تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ اس وقت وینزویلا کے حکام نے صدر اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگا تھا۔
خیال ہے کہ امریکہ میں ان دونوں کو منشیات، دہشت گردی کی سازش، کوکین اسمگلنگ اور اسلحے سمیت الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بی بی سی مونڈو نے دفاع اور فوجی آپریشنز کے ماہرین سے یہ جاننے کے لیے بات کی کہ مادورو کی پہلی تصویر سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس تصویر میں صدر نے کھیلوں کا لباس پہنا ہوا ہے، ان کے ہاتھوں میں بظاہر ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔
امریکی میرین کور کے ریٹائرڈ کرنل اور سینئر مشیر مارک کینسیان کے مطابق امریکی حکومت نے اسے فوجی آپریشن نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے کا معاملہ کہا۔ اسی لیے مادورو کے ساتھ ’عام ملزم جیسا سلوک کیا گیا۔‘
’یہ بات پہلے تو بیانیے میں نظر آتی ہے اور پھر سلوک میں۔ انھیں تحویل میں لیا گیا، حراستی مراکز منتقل کیا گیا اور وہ تمام طریقہ کار اپنایا گیا جو کسی بھی ملزم کے لیے ہوتا ہے۔‘
ماہرین کے مطابق ایسے آپریشنز میں امریکہ میں یہ عمل عام ہے کہ نظر اور سماعت جیسے حواس کو محدود کیا جائے۔
جنگی امور کے ماہر جان اسپینسر کہتے ہیں کہ ’یہ تکنیکیں عام طور پر فوجی گرفتاریوں میں استعمال ہوتی ہیں تاکہ ملزم کو خاموش یا الگ رکھا جا سکے، تاکہ وہ دوسروں سے رابطہ نہ کر سکے اور آپریشن کی سکیورٹی برقرار رہے۔‘
برطانوی ماہر میٹیو سیول کہتے ہیں کہ یہ پروٹوکولز بنیادی طور پر حفاظتی اور حکمتِ عملی کے تحت ہوتے ہیں۔ ’یہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ ملزم زیادہ قابو میں رہے، فرار کا امکان کم ہو اور وہ ٹیم کے کسی رکن کو شناخت نہ کر سکے۔‘
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مادورو کے کانوں پر ہیڈ فون لگانے کی وجہ صرف ہیلی کاپٹر کا سفر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں یہ حفاظتی پروٹوکول کا حصہ ہے۔
تصویر میں مادورو کے ہاتھوں میں پانی کی بوتل بھی نظر آتی ہے۔ کینسیان کے مطابق ’یہ صحت اور حفاظت کے لیے عام اقدام ہے۔ پانی ضروری ہے۔ یہ بالکل معمول کی بات ہے۔‘
ماہرین کے بقول تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مادورو نے لائف جیکٹ بھی پہنی ہوئی ہے۔
کچھ تجزیہ کار نارنجی اور سیاہ ٹیگ کا بھی ذکر کرتے ہیں جو کیمیائی لائٹس ہیں اور رات کے وقت حرکت کے دوران شناخت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
ہاتھوں کی پوزیشن سے لگتا ہے کہ ان میں ہتھکڑی لگائی گئی ہے۔ انھوں نے اسپورٹس لباس پہن رکھا ہے۔ یہ بظاہر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپریشن رات گئے ہوا۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ مادورو اور اس کی اہلیہ ایک محفوظ کمرے میں چھپنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ ایک محفوظ جگہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے جو کہ دراصل محفوظ نہیں تھی کیونکہ ہم اس دروازے کو 47 سیکنڈ میں اڑا دیتے۔‘
’وہ دروازے تک پہنچے لیکن اسے بند نہ کر سکے۔ انھیں اتنی جلدی قابو کر لیا گیا کہ وہ اندر داخل نہ ہو سکے۔‘
’مادورو کو ہٹانا درست فیصلہ تھا‘: ٹرمپ کے ناقد اور قومی سلامتی کے سابق مشیر بولٹن کی رائے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران جان بولٹن قومی سلامتی کے مشیر تھے اور بعد میں ان کے ناقد بنے۔ وہ بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ مادورو کو ہٹانا ’درست فیصلہ تھا۔‘
’ہم نے 2018 اور 2019 میں یہی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ (اب) ہم نے مادورو کو نکال دیا ہے لیکن حکومت کو نہیں گرایا۔‘
بولٹن کہتے ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ اس کا امکان کم ہے کہ قائم مقام صدر رودریگیز ’امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گی۔‘ لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وینزویلا کے قریب امریکی فوجی موجودگی سے ٹرمپ کو دباؤ ڈالنے کا موقع ملے گا۔
’یہاں عقلمندانہ کام یہ ہے کہ مادورو حکومت کے باقی ماندہ حصے کو ختم کیا جائے اور آزاد و منصفانہ انتخابات تک اپوزیشن کو اقتدار میں لایا جائے۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو عبوری انتظامیہ چلا سکتے ہیں، جب تک انتخابات ہوں۔‘
تاہم صدر ٹرمپ نے مار-اے-لاگو میں اپنی پریس کانفرنس میں اس امکان کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوبیل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کے پاس ملکی قیادت کے لیے ’حمایت یا احترام‘ نہیں ہے۔
بولٹن کہتے ہیں کہ جب وہ وائٹ ہاؤس میں کام کر رہے تھے تو وینزویلا کے معاشی مستقبل سے متعلق کافی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ بولٹن کے مطابق اس وقت کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ وینزویلا کو عالمی معیشت میں دوبارہ شامل کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ امریکہ میں وینزویلا کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور یورپی یونین کے ممالک سے بھی یہی کروایا جائے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ’بڑا سوال یہ ہے کہ روس، کیوبا، چین اور ایران وینزویلا کی حکومت کو سہارا دینے کے لیے کیا کریں گے۔‘
مادورو کے خلاف کارروائی کے دوران کیوبن شہریوں کی ہلاکت
کیوبا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران کیوبا کے 32 شہری ہلاک ہوئے۔ کیوبا
میں اس پر دو روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کو نیویارک پوسٹ کو
دیے گئے ایک انٹرویو میں اس کارروائی کے نتیجے میں کیوبا کے شہریوں کی ہلاکت کا
حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کیوبا کے بہت سے لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ مادورو کی
حفاظت کر رہے تھے۔ یہ اچھا قدم نہیں تھا۔‘
کیوبا کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ شہری وینزویلا کی
درخواست پر مختلف مشنز کا حصہ تھے اور ’مزاحمت کے دوران جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔‘
ان شہریوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی مگر کہا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی
وجہ ’براہِ راست حملہ آوروں کے خلاف لڑائی یا تنصیبات پر بمباری‘ تھی۔
وینزویلا کے وزیرِ دفاع کے مطابق امریکی فوج نے مادورو کی حفاظت پر
مامور زیادہ تر باڈی گارڈز کو’قتل کیا تھا۔‘
حملوں کے تقریباً 48 گھنٹے بعد ہلاکتوں کی واحد تصدیق شدہ تعداد وہی
ہے جو کیوبا کی حکومت نے فراہم کی ہے۔
صحافی کے ’تیل یا رجیم چینج؟‘ کے سوال پر ٹرمپ کا جواب ’ہم نے قیام امن کے لیے ایسا کیا‘
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر مار-اے-لاگو کے گالف کورس سے واشنگٹن واپس جاتے ہوئے صحافیوں کے کچھ سوالات کے جواب دیے ہیں۔
ان سے ان کے ماضی کے بیانات کے بارے میں پوچھا گیا جو ’رجیم چینج‘ یعنی حکومت کی تبدیلی اور قوم کی تعمیر کے خلاف تھے۔ اس پر انھوں نے کہا ’یہ ہمارا علاقہ ہے۔ ڈان-رو ڈاکٹرائن۔‘
’ہم اس کام میں ہیں کہ ہمارے اردگرد ایسے ممالک ہوں جو قابلِ عمل اور کامیاب ہوں، جہاں سے تیل آزادانہ طور پر نکل سکے۔‘
صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو ’واپس لانا‘ چاہتا ہے۔ انھوں نے موجودہ وینزویلا کو ’مردہ‘ قرار دیا ہے۔ ’ہمیں تیل کی کمپنیوں کی بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ انفراسٹرکچر کو واپس لایا جا سکے۔‘
بعد میں انھوں نے کہا کہ امریکہ ’کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا‘ اور امریکہ ’ملک کا خیال رکھے گا۔ اور لوگوں کا، بشمول وینزویلا کے شہریوں کا جو ہمارے ملک میں رہ رہے ہیں کیونکہ انھیں اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔‘
ایک رپورٹر نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز اب ملک کی قیادت کریں گی؟
تو انھوں نے کہا کہ امریکہ ان سے رابطے میں ہے لیکن ’اگر وہ امریکی رہنمائی نہیں مانتیں تو انھیں مادورو جیسا انجام دیکھنا پڑے گا۔‘
بعد میں صدر سے کیوبا کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں اور اس بارے میں پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کیوبا کے خلاف بھی ایسا ہی قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ یہ ملک ’خود ہی گر جائے گا۔‘
ایک رپورٹر نے صدر سے پوچھا کہ وینزویلا میں آپریشن اصل میں کس بارے میں تھا: تیل یا حکومت کی تبدیلی؟
جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’زمین پر امن قائم کرنے کے لیے تھا۔‘
’مونرو ڈاکٹرائن اس وقت بہت اہم تھی جب اسے بنایا گیا۔ بہت سے صدور اس کو بھول گئے تھے۔‘
’میں اسے نہیں بھولا۔‘
یاد رہے کہ مونرو ڈاکٹرائن 19ویں صدی کے اوائل میں امریکی خارجہ پالیسی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مغربی نصف کرہ یورپی طاقتوں کے اثر سے آزاد ہونا چاہیے۔
صدر تھیوڈور روزویلٹ نے بعد میں اس ڈاکٹرائن کو وسعت دی جس سے امریکہ کو یہ حق مل گیا کہ اگر ممالک استحکام کو برقرار نہ رکھ سکیں تو وہ مداخلت کرے۔
مادورو کہاں ہیں اور امریکہ آگے کیا کر سکتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کی صبح ہمیں وینزویلا میں امریکی حملوں سے ہونے والی تباہی کی پہلی تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کو ملیں۔ یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ کتنے لوگ زخمی یا ہلاک ہوئے ہوں گے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے آج صبح متعدد میڈیا اداروں سے بات کی اور جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وینزویلا کو ’امریکہ چلا رہا ہے؟‘ تو انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ اس سمت کو ’چلا رہا ہے‘ جو معاملات کو آگے بڑھاتی ہے۔
ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ عبوری صدر ’ڈیلسی رودریگیز اب وینزویلا کی جائز صدر ہیں؟‘ روبیو نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جائز صدر کے بارے میں نہیں ہے‘ کیونکہ امریکہ موجودہ حکومت کو جائز نہیں سمجھتا۔
ایک اور انٹرویو میں وزیرِ خارجہ سے پوچھا گیا کہ امریکہ نے ’مادورو کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟‘ تو روبیو نے جواب دیا کہ ’آپ اندر جا کر سب کو نہیں پکڑ سکتے‘۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ’سب سے اہم ہدف‘ حاصل کر لیا ہے۔
وینزویلا کے وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو نے قومی ٹیلی ویژن پر کہا کہ فوج نے نائب صدر ڈیلسی رودریگیز کو عبوری صدر کے طور پر کام کرنے کی حمایت دی ہے۔
دریں اثنا مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو پیر کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ وہ اس وقت بروکلین کے میٹروپولیٹن حراستی مرکز میں زیرِ حراست ہیں۔