80 ہزار جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے: سہیل آفریدی
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے پاکستانی فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پی ٹی آئی تک محدود نہیں، بلکہ صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
خلاصہ
رودریگیز نے وینزویلا کی عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ پارلیمانی اجلاس کا آغاز معزول رہنما مادورو کی امریکی تحویل سے رہائی کے مطالبات سے ہوا
مادورو نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہوئے نیویارک کی عدالت کو بتاتا ہے کہ وہ ’جنگی قیدی‘ ہیں
امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی نئی رہنما ڈیلسی رودریگیز کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ’صحیح کام نہیں کریں گی تو انھیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی بڑی‘
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنے ملک میں امریکی کارروائی پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے
لائیو کوریج
مادورو اور ان کی اہلیہ کی سماعت سے قبل عدالت کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد موجود
،تصویر کا ذریعہMadeline Halpert/BBC
جیسے جیسے مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف عدالتی سماعت کا وقت قریب آ رہا ہے عدالت کے باہر مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
بہت سے مظاہرین وینیزویلا کے جھنڈے اور بینرز اٹھائے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
وہ ہسپانوی زبان میں نعرے لگا رہے ہیں، اور بظاہر مادورو کے حامی مظاہرین کی تعداد مخالفین سے زیادہ ہے۔ جگہ پر رش بڑھ گیا ہے کیونکہ بڑی تعداد میں صحافی مظاہرین کے گرد جمع ہو گئے ہیں۔
مادورو کی گرفتاری پر اقوامِ متحدہ کا اظہارِ تشویش، وینیزویلا کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں، ڈپٹی سیکریٹری جنرل روزمیری ڈیکارلو نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے ایک بیان پڑھ کر سنایا۔
گوتریس نے کہا کہ وہ ’گہری تشویش‘ میں ہیں کہ وینیزویلا میں امریکی اقدامات کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا احترام نہیں کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’مجھے ملک میں ممکنہ عدم استحکام کے بڑھنے، خطے پر اس کے اثرات، اور اس نظیر پر گہری تشویش ہے جو یہ قائم کر سکتا ہے کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کس طرح قائم اور چلائے جاتے ہیں۔‘
بریکنگ, وینیزویلا بحران پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس شروع
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس وینیزویلا کی موجودہ صورتحال پر بحث کے لیے ابھی شروع ہوا ہے۔ اس ہنگامی اجلاس کے ایجنڈے میں ’بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرات‘ پر غور شامل ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں کولمبیا کے صدر کا مسلح جدوجہد کی طرف واپسی کا عندیہ, خوسے کارلوس کوئیتو، کولمبیا میں بی بی سی منڈو کی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کولمبیا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
اتوار کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو ذہنی ’بیمار‘ قرار دیا، ان پر کوکین تیار کرنے اور اسے امریکہ بھیجنے کا الزام لگایا اور یہ بھی کہا کہ ان کے پاس اقتدار میں زیادہ وقت باقی نہیں بچا ہے۔
درحقیقت پیٹرو کی مدتِ صدارت میں صرف چھ ماہ باقی ہیں۔ کولمبیا میں صدارتی انتخابات مئی میں ہوں گے اور پیٹرو دوبارہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا اشارہ اس حقیقت کی طرف تھا یا کولمبیا اور پیٹرو کے خلاف ممکنہ اقدامات کی طرف تھا۔
گستاوو پیٹرو کا جواب البتہ بالکل واضح تھا۔ کئی گھنٹوں تک نسبتاً محتاط لہجہ اختیار کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ اگرچہ انھوں نے اپنے ماضی کی گوریلا جدوجہد کے بعد دوبارہ ہتھیار نہ اٹھانے کی قسم کھائی تھی، لیکن ’وطن کے لیے‘ وہ ان ہتھیاروں کو دوبارہ اٹھا سکتے ہیں جنھیں وہ اٹھانا نہیں چاہتے تھے۔
ٹرمپ اور پیٹرو کے درمیان امگریشن، انسدادِ منشیات کی پالیسی اور وینیزویلا میں واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں پر بارہا تکرار ہوا۔
یہ نوک جھونک دونوں تاریخی اتحادی ممالک کے درمیان شدید اور غیر معمولی سفارتی بحرانوں کا باعث بنی ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے تازہ بیانات کی شدت نے محتاط حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
نیویارک اور وینیزویلا میں مادورو کے حق میں مظاہرے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر مادورو کے حق میں نیویارک اور وینیزویلا میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔ نیویارک کے بروکلین علاقے میں واقع میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر کے باہر لوگوں نے وینیزویلا میں امریکی مداخلت کے خلاف اور وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی رہائی کے لیے احتجاج کیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلوریس کو سنیچر کے روز امریکی فوج کی جانب سے کاراکس میں حراست میں لیے جانے کے بعد نیویارک منتقل کیا گیا تھا۔ دونوں اس وقت بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں زیرِ حراست ہیں اور ان پر منشیات کی سمگلنگ اور ان گروہوں کے ساتھ کام کرنے سے متعلق وفاقی الزامات عائد کیے جانے کی توقع ہے جنھیں دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مادورو اور ان کی اہلیہ کو اب امریکی اہلکار ہتھکڑیوں میں امریکی عدالت تک لے کر گئے ہیں جہاں ان کے خلاف مقدمے پر سماعت ہوگی۔
نکولس مادورو کے حامیوں نے ہفتے کے اختتام پر کاراکس کے وسطی علاقے میں احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی، جن میں وینیزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔
مادورو کی پیشی سے پہلے نیویارک کی عدالت کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع, میڈلن ہیلپرٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
میں اس وقت نیویارک کی وفاقی عدالت کے باہر موجود ہوں، جہاں چند گھنٹوں میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔
جیسا کہ ماضی میں دیگر ہائی پروفائل ملزمان کی پیشیوں کے دوران ہوتا رہا ہے، آج بھی عدالت کے باہر صحافیوں اور عام شہریوں کی طویل قطار لگی ہوئی ہے، جو اس کمرۂ عدالت میں داخلے کے لیے انتظار کر رہے ہیں جہاں مادورو اور ان کی اہلیہ، سیلیا فلوریس، اس ہفتے کے اختتام پر گرفتاری کے بعد پہلی بار پیش ہوں گے۔
مادورو اور ان کی اہلیہ 92 سالہ جج ایلِون ہیلرسٹین کے سامنے پیش ہوں گے، جہاں ان پر منشیات اور اسلحے سے متعلق الزامات باضابطہ طور پر عائد کیے جائیں گے۔
امید ہے کہ وہ اپنی ابتدائی درخواستیں اس سماعت کے دوران جمع کرائیں گے، جو عام طور پر مختصر کارروائی ہوتی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کا مادورو کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان, جوناتھن جوزفس، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے وینیزویلا کے نکولس مادورو اور ’ان سے وابستہ دیگر افراد‘ کے اثاثے فوری طور پر منجمد کر دیے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ایسے اثاثوں کو ملک سے باہر منتقل ہونے سے روکا جا سکے، اور اگر مستقبل میں قانونی کارروائی سے ثابت ہوا کہ یہ اثاثے غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے تھے تو سوئٹزرلینڈ کوشش کرے گا کہ ان[یں وینیزویلا کے عوام کو واپس کیا جائے۔
سوئٹزرلینڈ نے 2018 سے وینیزویلا پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں 54 افراد کے اثاثے منجمد کرنا اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ مادورو کے سوئٹزرلینڈ میں کون سے اثاثے موجود ہیں، تاہم 2021 میں ایک سوئس اخبار کی لیک شدہ دستاویزات پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سوئس پراسیکیوٹرز نے ایسے بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی تھی جن میں تقریباً 10 ارب ڈالر موجود تھے، جو مبینہ طور پر وینیزویلا کے سرکاری فنڈز کی خوردبرد سے حاصل کیے گئے تھے۔
آج نافذ ہونے والا یہ اثاثہ منجمد کرنے کا حکم فوری طور پر مؤثر ہو گیا ہے اور مزید کسی حکم تک چار سال تک برقرار رہے گا۔
مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہتھکڑیوں میں امریکی اہلکاروں نے کیسے عدالت پہنچایا
،تصویر کا ذریعہKyle Mazza-CNP/Shutterstock
مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلین کے ایک حراستی مرکز سے مین ہٹن کی عدالت منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں آج بعد میں ان کے خلاف الزامات کی مکمل فہرست پڑھ کر سنائی جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
عدالت میں پیشی کے لیے مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک پہنچا دیا گیا
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی فوجیوں کی کارروائی کے نتیجے میں پکڑ کر امریکہ لائے جانے والے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کی اس عدالت میں پہنچا دیا گیا ہے، جہاں آج ان کے خلاف عائد الزامات پڑھ کر سنائے جائیں گے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
مین ہیٹن میں ایک خاتون کے ساتھ مادورو کو ہیلی کاپٹر سے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ خاتون بظاہر ان کی اہلیہ ہیں۔
انھیں منشیات کے انسداد کے امریکی ادارے (ڈی ای اے) کے متعدد اہلکاروں کی نگرانی میں لے جایا جا رہا ہے۔ وہ ایسے لباس میں نظر آ رہے ہیں جو قیدیوں کے یونیفارم معلوم ہوتے ہیں، اور مادورو ہلکا سا لنگڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
مادورو کی گرفتاری کے بعد اب امریکی مداخلت کے بغیر ہی کیوبا کی حکومت بھی گر جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینیزویلا کے صدر کی گرفتاری کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے بعد اب کیوبا کی حکومت امریکی مداخلت کے بغیر ہی گر جائے گی۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت کیوبا کی کوئی کمائی کا ذریعہ نہیں ہے۔ انھیں وینیزویلا سے پیسہ ملتا تھا مگر اب وہاں سے یہ سب سلسلہ بھی بند ہو جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق ’نکولس مادورو کی گرفتاری کے لیے کیے جانے والے آپریشن میں کیوبا کے کافی بندے مارے گئے ہیں جبکہ ہمارا کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔‘
افغان سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے: پاکستان اور چین کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہMOFA Pakistan
پاکستان اور چین نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھائیں۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔
بیجنگ میں ہونے والے چین۔پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک مذاکرات کے ساتویں دور میں دونوں ممالک نے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے یہ مطالبہ کیا ہے کہ "افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھائے جائیں، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کر سکیں اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ پیدا کریں۔"
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں دونوں ممالک نے افغان مسئلے پر قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر افغان حکومت کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے، معتدل پالیسیاں اپنانے، ترقی پر توجہ دینے، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کو فروغ دینے، اور افغانستان کو پائیدار ترقی اور بین الاقوامی برادری میں انضمام میں مدد دینے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں جنوبی ایشیا کی صورتحال بھی نمایاں رہی، جہاں دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کا نظم و نسق بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے چین کو جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، جبکہ چین نے ایک بار پھر کہا کہ کشمیر ایک تاریخی تنازع ہے جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پُرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے کے مطابق سرحد پار آبی وسائل پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری ضروری ہے۔ اسی طرح چین۔افغانستان۔پاکستان سہ فریقی مذاکرات اور چین۔بنگلہ دیش۔پاکستان تعاون کے طریقہ کار کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ علاقائی سطح پر مشترکہ پیش رفت ممکن ہو سکے۔
’سی پیک کے اپ گریڈ ورژن پر اتفاق‘
،تصویر کا ذریعہMOFA
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے اپنے ترقیاتی منصوبوں اور ترجیحات کو مزید ہم آہنگ کرنے اور چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اپ گریڈ شدہ ورژن 2.0 کی تعمیر پر اتفاق کیا، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک پیش رو منصوبہ ہے۔
دونوں ممالک نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے تین کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے، گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور اس کے مؤثر آپریشن کو فروغ دینے، قراقرم ہائی وے کی ہموار آمدورفت کو یقینی بنانے، اور پاکستان کی پائیدار ترقی کی صلاحیت کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے خنجراب پاس کی سال بھر کھلی رہنے والی گزرگاہ کو دوطرفہ تجارت اور عوامی روابط کو مزید گہرا کرنے کے موقع کے طور پر استعمال کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے سی پیک تعاون میں تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم کیا، بشرطیکہ وہ چین اور پاکستان کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہو۔
ایران اور چین کا نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہDonald Trump
وینیزویلا کے اتحادی ممالک چین اور ایران نے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اقدامات ’انٹرنیشنل لا اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی واضح خلاف ورزی‘ ہیں، اور بیجنگ وینیزویلا کی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
چین نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ وینیزویلا کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں بند کرے اور مسائل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ اسی نوعیت کے بیانات چین نے ہفتے کے اختتام پر بھی دیے تھے۔
ایران، جو وینیزویلا کا قریبی اتحادی ہے، کا کہنا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کہا ہے کہ ’یہ کوئی قابلِ فخر بات نہیں، یہ ایک غیر قانونی اقدام ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جیسا کہ وینیزویلا کے عوام نے مطالبہ کیا ہے، ان کے صدر کو رہا کیا جانا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کا بھی سامنا رہا، جنھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر پُرامن مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، اور ایران کے وزیرِ خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک‘ قرار دیا ہے۔
کراچی میں تہرے قتل کے مقدمے میں ملزم مسرور حسین جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے, ریاض سہیل، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کی مقامی عدالت نے تہرے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم مسرور حسین کو پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ انھوں نے تین افراد کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں گٹر میں پھینک دیں۔
ڈاکس پولیس نے مسرور حسین کو عدالت میں پیش کیا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کے خلاف سنگین نوعیت کے قتل کا مقدمہ درج ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولین کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا، اس لیے آلۂ قتل کی برآمدگی اور مزید تفتیش ضروری ہے۔ عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
تین جنوری کو مائی کولاچی روڈ کے قریب ایک خالی مین ہول سے چار لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جن کی شناخت 35 سالہ انیلا، 13 سالہ کشور زہرہ، 12 سالہ حسین اور 10 سالہ کونین کے نام سے ہوئی۔
ایس ایچ او ڈاکس نند لال نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد انیلا کے بھائی نے تھانے آکر شناخت کی، جس کے بعد اس کی نشاندہی پر پولیس نے ملزم مسرور کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کشور کی طلاق ہو چکی تھی اور اس کے بعد مسرور کا اس کے گھر آنا جانا تھا۔ ملزم آگرہ تاج کا رہائشی ہے اور کھارادر میں کرائے کے مکان میں آتا جاتا تھا، جہاں اہلِ محلہ اسے خاتون کا شوہر سمجھتے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے گرفتاری کے بعد اعترافِ جرم کیا اور بتایا کہ اس کی انیلا سے دوستی تھی، لیکن وہ اس پر کالا جادو کرتی تھی جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
پولیس نے ملزم کا اعترافی ویڈیو بیان بھی جاری کیا ہے، جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ انیلا سے تعلق وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا، مگر وہ اس کی فرمائشوں اور مطالبات سے تنگ تھا۔ اس کے مطابق منگل کی رات وہ انیلا کو بوٹ بیسن لے گیا اور طیش میں آکر اس پر ٹوکے سے وار کیے اور لاش گڑھے میں پھینک دی۔ بعد ازاں وہ گھر گیا اور بچوں کو بھی ساتھ لے آیا اور ایک ایک کرکے انھیں بھی قتل کر کے لاشیں اسی گڑھے میں پھینک دیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کے مطابق 13 سے 14 سالہ لڑکے کی لاش پر سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے نشانات تھے۔ 10 سالہ بچے کی تھوڑی اور گلا کٹا ہوا تھا۔ 14 سے 15 سالہ لڑکی کی لاش پر بھی سر اور چہرے پر زخموں کے نشانات تھے، جبکہ 40 سالہ خاتون کے سر پر متعدد زخم پائے گئے۔
مسرور حسین کی گرفتاری سے قبل سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اے ایس آئی محمد اظہر کے مطابق انھیں اطلاع ملی تھی کہ مائی کولاچی روڈ کے جنگل سائیڈ پر واقع ایک خشک مین ہول میں لاشیں موجود ہیں۔ پولیس نے وہاں سے چار لاشیں برآمد کیں، جنھیں کسی نامعلوم مقام سے قتل کرنے کے بعد وہاں پھینکا گیا تھا۔
26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کی بریت کی درخواست مسترد، عدالت کا ٹرائل جاری رکھنے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پیر کے روز 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں علیمہ خان کی بریت کی درخواست خارج کر دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سنایا، جو گذشتہ سماعت میں محفوظ کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کردار صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے بھائی سے جیل میں ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی کا پیغام عوام تک پہنچا رہی تھیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے پُرامن احتجاج کی اپیل کی تھی، جسے آئین اور جمہوریت دونوں کا تحفظ حاصل ہے۔
وکیل نے کہا کہ مقدمے میں نہ تو کوئی صحافی گواہ کے طور پر شامل ہے اور نہ ہی میڈیا چینل کو نامزد کیا گیا ہے، حالانکہ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کا پیغام میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا۔ فیصل ملک نے یہ بھی کہا کہ جیل ملاقات کی گفتگو کا کوئی گواہ موجود نہیں اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات ان پر لاگو نہیں ہوتیں۔ ان کے بقول یہ مقدمہ سیاسی انتقامی کارروائی کے سوا کچھ نہیں۔
دوسری جانب پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان پر فردِ جرم تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر عائد کیا گیا ہے اور احتجاج کے دوران کنٹرول ہمیشہ منتظمین کے پاس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ’تھیوری آف کنٹرول‘ کے تحت ایسے احتجاج میں شامل افراد ذمہ دار ہوتے ہیں۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ میڈیا کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی لوگ میڈیا کے کہنے پر باہر آئے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ احتجاج کے دوران ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا اور 170 اہلکار زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے مسلح جتھے پنجاب لائے گئے اور مقدمے میں 18 گواہوں کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ ہو چکے ہیں، اس لیے اس مرحلے پر بریت کی درخواست کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
پراسیکیوٹر نے علیمہ خان کی میڈیا ٹاکس کا ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کے دوران ملزمان خود اعتراف کر رہے تھے کہ ملک بند کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے پیغام میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ احتجاج کے لیے این او سی ہو یا نہ ہو، اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے علیمہ خان کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔
مادورو کی گرفتاری کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ سونے اور چاندی جیسی دھاتوں کی قیمت میں اضافہ, نک ایڈسر، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنیچر کے اختتام پر پیش آنے والے واقعات کے بعد وینیزویلا کی تیل کی صنعت پر توجہ مرکوز ہونے کے ساتھ ہی پیر کو تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینیزویلا کی تیل برآمدات میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو دنیا کے دیگر حصوں سے سپلائی کے ذریعے آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، سونے اور چاندی جیسے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے اپنی رقم کو نام نہاد ’محفوظ اثاثوں‘ میں منتقل کیا۔
سونے کی قیمت تقریباً دو فیصد بڑھ کر فی اونس 4,408 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ چاندی کی قیمت میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا۔
لندن میں ابتدائی کاروبار کے دوران دفاعی کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔
قیمتی دھاتوں کی کان کنی کرنے والی کمپنیوں اینڈیور اور فریسنِلو کے حصص بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اوپر گئے۔
مادورو کے باقی ماندہ نظام کو ختم کیا جائے اور اپوزیشن کو اقتدار میں لایا جائے: ٹرمپ کے سابق مشیر جان بولٹن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ’درست قدم‘ قرار دیا، لیکن اس پر زور دیا کہ ابھی تک ’نظام کو گرایا نہیں گیا۔‘
جان بولٹن کے مطابق ’شاویز-مادورو کا نظام اب بھی موجود ہے، صرف مادورو کی کمی ہے۔ انھیں چین، روس اور کیوبا کی بیرونی حمایت حاصل ہے، جو چاہتے ہیں کہ یہ نظام قائم رہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہاں عقلی بات یہ ہے کہ مادورو کے باقی ماندہ نظام کو ختم کیا جائے اور اپوزیشن کو اقتدار میں لایا جائے، جب تک آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہو۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو عبوری انتظامیہ چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب تک انتخابات کی تیاری مکمل ہو۔‘
جان بولٹن نے وینیزویلا کی نائب صدر کا بھی ذکر کیا کہ ’میرا خیال ہے کہ ڈیلسی رودریگز کے امریکہ کے سامنے جھکنے کے امکانات صفر ہیں۔‘
سابق عہدیدار نے مزید کہا کہ رودریگز کے بھائی مادورو کے قریبی اتحادی ہیں اور قومی اسمبلی کے صدر ہیں۔
جان بولٹن نے مزید فوجی کارروائیوں کے امکان پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق ’اگر ٹرمپ اس خطے میں فوجی تعیناتی برقرار رکھتے ہیں، تو وہ ہمیشہ مزید حملے کر سکتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے انھیں اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بڑا سوال یہ ہے کہ روس، کیوبا، چین اور ایران اس نظام کو سہارا دینے کے لیے کیا کریں گے۔‘
مادورو کی اقتدار سے بے دخلی وینیزویلا کے لیے امید کے ایک نئے باب کا آغاز ہے: اطالوی وزیرِاعظم
،تصویر کا ذریعہReuters
اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا ملونی نے اتوار کے روز وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر مریا کورینا مچاڈو سے فون پر گفتگو کی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صدر نکولس مادورو کی اقتدار سے علیحدگی ایک پُرامن اور جمہوری انتقالِ اقتدار کے امکانات پیدا کرے گا۔
جورجیا ملونی کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’فون کال کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مادورو کا اقتدار چھوڑنا وینیزویلا کے عوام کے لیے امید کا ایک نیا باب ہے، جس کے ذریعے وہ دوبارہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔‘
گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں دینا بند کریں، ڈینش وزیر اعظم کا ٹرمپ سے مطالبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ڈنمارک کی وزیرِاعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا
ہے کہ وہ گرین
لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں دینا بند کریں۔
میٹ فریڈرکسن نے کہا کہ ’ امریکہ کے
لیے گرین لینڈ پر قبضے کی ضرورت کے بارے میں بات کرنا بالکل بے معنی ہے۔‘
’امریکہ کو ڈنمارک کی بادشاہت کے تین
ممالک میں سے کسی کو ضم کرنے کا حق نہیں ہے۔‘
ان کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے
جب ٹرمپ کے ایک مشیر سٹیفن ملر کی اہلیہ کیٹی ملر نے گرین لینڈ کا نقشہ امریکی
پرچم کے رنگوں میں اور ساتھ لفظ ’جلد‘ لکھ کر ٹویٹ کیا۔
ٹرمپ نے بارہا گرین لینڈ کی سٹریٹجک
اہمیت اور معدنی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اسے امریکہ کا حصہ بنانے کے امکان کا
ذکر کیا ہے۔
مگر اپنے بیان میں فریڈرکسن نے کہا
کہ وہ امریکہ سے ’براہِ راست‘ مخاطب ہیں۔
انھوں نے کہا کہ گرین لینڈ سمیت ڈنمارک
نیٹو رکن ہے۔ ڈنمارک کا امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے جو اسے گرین لینڈ تک رسائی
دیتا ہے اور ڈنمارک نے آرکٹک خطے میں سکیورٹی پر سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔
’میں اس لیے امریکہ سے سختی سے اپیل
کروں گی کہ وہ ایک قریبی اتحادی اور ایک دوسرے ملک اور عوام کے خلاف دھمکیاں دینا
بند کرے۔ ہم نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم فروخت کے لیے نہیں ہیں۔‘
ایئر فورس ون پر سوار ٹرمپ نے کہا
تھا کہ ’ہمیں قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک یہ
نہیں کر سکے گا۔‘
اس سے قبل امریکہ میں ڈنمارک کے سفیر
نے ملر کی پوسٹ کے جواب میں ایک ’دوستانہ یاد دہانی‘ دی تھی کہ دونوں ممالک اتحادی
ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث ہے کہ جب امریکہ
نے سنیچر کے روز کو وینزویلا کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی، اس کے صدر مادورو
اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر نیویارک منتقل کر دیا۔
’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم‘: مادورو کو پکڑنے کی امریکی کارروائی
،تصویر کا ذریعہTRUTH SOCIAL
امریکی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح چار بج پر 21 منٹ پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ امریکہ نے ایک جرات مندانہ مشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر لیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اس ابتدائی پوسٹ کے لگ بھگ سات گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے صدر نکولس مادورو کی ایک تصویر شیئر کی جس میں اُن کی آنکھوں پر ماسک تھا، ہاتھوں میں پانی کی بوتل اور وہ ٹریک سوٹ پہنے ہوئے تھے۔
اِس تصویر کے ساتھ صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘
یاد رہے کہ یو ایس ایس آییوو جیما وہ لڑاکا جہاز ہے جس کے ذریعے وینزویلا کے صدر کو امریکہ پہنچایا گیا ہے جہاں وہ منشیات اور اسلحے سے متعلق الزامات کا امریکی عدالت میں سامنا کریں گے۔
خبررساں ادارے روئٹرز اور امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کے مطابق یہ کارروائی کئی ماہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔
امریکی فوج کی ایلیٹ ’ڈیلٹا فورس‘ نے صدر مادورو کے سیف ہاؤس (گھر) کی نقل تیار کر کے بارہا اس میں کامیابی سے داخل ہونے اور واپس نکلنے کی مشق کی تھی۔ ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا اعلیٰ ترین انسدادِ دہشت گردی یونٹ سمجھا جاتا ہے، جو انتہائی خفیہ اور حساس کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔
جب امریکی فورسز نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں رات کے وقت صدر کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا تو انھوں نے صرف صدر نکولس مادورو کو ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بھی پکڑا تھا۔
69 سالہ سیلیا فلوریس کو طویل عرصے سے وینزویلا کی سب سے طاقتور شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ایک خودمختار سیاسی کردار ہیں اور دہائیوں سے ملک کی سیاست پر اثرانداز رہی ہیں۔
وہ برسوں تک وینزویلا کی نیشنل اسمبلی کی سربراہ رہ چکی ہیں۔ انھوں نے 2013 کے صدارتی انتخاب میں مادورو کی کامیابی کے بعد ان کی حکومت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مادورو نے انھیں بطور خاتونِ اول ’فرسٹ واریئر‘ کا لقب دیا۔ لیکن اس کردار میں انھوں نے عوامی سطح پر پیچھے رہ کر زیادہ خاندانی تصویر پیش کی جسے ناقدین ایک ظالم حکومت کا نرم چہرہ قرار دیتے ہیں۔
انھوں نے ایک ٹی وی شو ’کون سیلیا این فیملیا‘ کی میزبانی کی اور ریاستی ٹی وی پر کبھی کبھار اپنے شوہر کے ساتھ سالسا ڈانس کرتے ہوئے نظر آئیں۔ لیکن پسِ پردہ انھیں مادورو کی بقا کی حکمتِ عملی کی معمار اور اہم مشیر سمجھا جاتا ہے۔
فلوریس پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان کے خاندان کے افراد کو امریکی عدالتوں میں کوکین سمگلنگ کے جرم میں سزا ہوئی ہے۔
اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ نیویارک کی عدالت میں منشیات کی سمگلنگ اور اسلحے کے الزامات کا سامنا کریں گی۔