شام کے دارالحکومت دمشق کے ایک کیفے میں بم دھماکہ، چھ افراد ہلاک، متعدد زخمی

شام کی وزارتِ داخلہ اور سرکاری میڈیا کے مطابق دارالحکومت دمشق کے مرکزی علاقے حجاز میں ایک کیفے میں دیسی ساختہ بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • دمشق کے مرکزی علاقے حجاز میں ایک کیفے میں دیسی ساختہ بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں
  • شام کے وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر 'مفادات کا تقاضا ہوا' تو دمشق حزب اللہ سے ملاقات کے لیے تیار ہے
  • یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں روسی حملوں میں 20 افراد ہلاک اور تقریباً 90 زخمی ہو گئے ہیں
  • لاہور میں زیرِ تعمیر عمارت کی چھت گرنے سے 10 سالہ بچہ ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے
  • ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے

لائیو کوریج

  1. ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام بھی ہوئے تو امریکہ ’مضبوط پوزیشن‘ میں ہوگا: امریکی نائب صدر

    JD Vence

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے مختلف میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام بھی ہو جاتے ہیں تب بھی امریکہ ایک ’بہت مضبوط پوزیشن‘ میں ہوگا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نتائج سے قطع نظر مضبوط حالات میں ہے۔ ان کے بقول امریکہ ’واضح طور پر‘ چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی امریکہ ایران کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن‘ میں رہے گا۔

    جے ڈی وینس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیت کو ’تباہ کر دیا گیا ہے‘۔ انھوں نے خبردار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایران کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں امریکہ فوجی ردعمل دے گا۔

    انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر ایک مستقل حل کے لیے جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران ’بنیادی طور پر تبدیل‘ ہو جائے گا۔

    اس سے قبل نائب صدر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم تہران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے امن مذاکرات کی تردید کی جا رہی ہے۔

  2. پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی اتحاد کا اعلان

    Bilawal Bhutto, Fazlur Rehman

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کے روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی اتحاد کا اعلان کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی جاری صورتحال کے حل کے لیے مذاکرات پر بھی زور دیا ہے۔

    ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات مشترکہ طور پر لڑیں گے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ کشمیر میں جے یو آئی (ف) کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔

    مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ اگر ان کی جماعت کا ’آزاد کشمیر چیپٹر پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرتی ہے تو وہ اس کی مکمل حمایت کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ریاست بھر میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق عام انتخابات 27 جولائی کو منقعد ہوں گے۔ اس خطے کے الیکشن کمشنر غلام مصطفی مغل کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کو پر امن اور شفاف بنانے کے لیے فوج اور رینجرز کی مدد طلب کر لی گئی ہے۔ ‘

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ان سے کشمیر میں جاری صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کو احتجاجی تحریکوں کا وسیع تجربہ ہے۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کشمیر میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے ان سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی ثالثی کی پیشکش کے بعد کمیٹی نے ایک وفد بھی بھیجا اور باضابطہ طور پر ثالثی کی درخواست کی۔

    مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود پارلیمان میں ان کی ثالثی کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کو بھی مشترکہ پیغام دے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ’شہباز شریف آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے مثبت اقدامات کریں گے۔‘

    بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرے۔ ان کے بقول کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور وہ شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں۔

    انھوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرے۔

    کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اس نوعیت کا مواد قابلِ مذمت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت سے نکلتا ہے اور سیاسی تنازعات صرف سیاسی طریقوں سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے اس معاملے کو بھی سیاسی انداز میں نمٹانا ہوگا۔

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ نشستیں نہ احتجاج سے ختم ہوں گی اور نہ ہی دھرنوں سے، بلکہ اس کا واحد حل اسمبلی کے ذریعے آئینی ترمیم ہے۔

    بلاول بھٹو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم اس گروپ نے شرکت نہیں کی۔

    آخر میں انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کی قیمت انھیں ذاتی طور پر ادا ہی کیوں نہ کرنی پڑے، اور یہ کہ کشمیر کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔

  3. تکنیکی مذاکرات جاری، پیش رفت اطمینان بخش: امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کا دعویٰ

    Witkof

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو غیر سرکاری طور پر فراہم کیے گئے بیان میں، دوحہ میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ملاقاتوں اور ایران کے ساتھ ممکنہ اعلیٰ سطح مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی خطے کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت ’بہت مثبت‘ رہی ہے۔ ان کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات بدستور جاری ہیں اور ان میں ہونے والی پیش رفت اطمینان بخش ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت ایک بار پھر تیزی سے بحال ہو رہی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس کے اس اہلکار نے دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں شریک فریقین یا امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ براہِ راست، اعلیٰ سطح مذاکرات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    اس سے ایک روز قبل، منگل کو قطری وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کی ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات طے نہیں ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، ٹرمپ کے نمائندے ثالثوں سے ملاقات کریں گے اور مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے منجمد کیے گئے چھ ارب ڈالر کے فنڈز تاحال تہران کو منتقل نہیں کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کی درخواست پر آج دوحہ میں امریکی وفد کے ساتھ ایک ملاقات ہوگی۔

    اس اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ’اعلیٰ سطح‘ ملاقات میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔

    تاہم کچھ ہی دیر بعد تہران نے ایک وفد کے قطر جانے کی تصدیق کی، لیکن یہ واضح کیا کہ اس کی امریکی حکام سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکی نمائندوں کا قطر کا دورہ ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، اور ایرانی وفد کا سفر ’مفاہمتی یادداشت کی شقوں، بالخصوص شق 11، پر عملدرآمد کی پیروی‘ کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دنوں میں ’کسی بھی سطح پر امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔‘

  4. پاسداران انقلاب سے حالیہ جھڑپوں میں ہمارے بھی چار اہلکار ہلاک ہوئے: کردستان فری لائف پارٹی

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہMizan

    ایران کی سکیورٹی فورسز اور کردستان فری لائف پارٹی (پی جے اے کے) کے جنگجوؤں کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد، پی جے اے کے نے اپنے چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ’دو مرد اور دو خواتین‘ شامل ہیں۔ بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس جھڑپ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے متعدد اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب سے قریبی سمجھے جانے والے ذرائع نے کچھ لاشوں اور اسلحے کی تصاویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پی جے اے کے کے چھ ارکان مارے گئے ہیں۔

    کردستان فری لائف پارٹی کے عسکری ونگ کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کا جواب دیں گے۔

    ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے آج صبح رپورٹ کیا کہ پیر کی شام، 29 جولائی کو صوبہ کرمانشاہ کے شہر پاوہ میں ایک گھر کے سامنے فائرنگ کے واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    کرمانشاہ میں پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ اس واقعے میں تنظیم کے مزید دو اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اپنے بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کو ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

  5. آبنائے ہرمز کی اہمیت اسی وقت ہو گی جب یہاں روزانہ آمدورفت بڑھے گی نہ کہ کم ہو گی: ایرانی سپیکر

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہRashedul Hasan

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سینیئر رکن محمد باقر قالیباف نے ایک تفصیلی ٹی وی انٹرویو میں حالیہ پیش رفت پر بات کی ہے، جس میں اندرونِ ملک ہونے والی حالیہ تنقید بھی شامل ہے جو گذشتہ چند دنوں میں ایک نئی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

    اپنی گفتگو کے دوران قالیباف نے کہا کہ ’جہاں لڑنے کی ضرورت ہوگی، ہم لڑیں گے اور جہاں ہم اس مفاہمتی یادداشت کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھا سکتے ہیں، وہاں ہم بات چیت کا راستہ اختیار کریں گے۔ یہ جان لیں کہ جس طرح لبنان ہمارے لیے ایک سرخ لکیر ہے، اسی طرح آبنائے ہرمز پر ہمارا انتظام اور خودمختاری بھی یقینی اور طے شدہ ہے، اور ہم وہاں بہترین انداز میں سکیورٹی قائم کریں گے۔‘

    ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے مزید کہا کہ ’ہماری قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ لوگ جو بد نیت ٹرمپ کی باتوں کو مان لیتے ہیں مگر ہماری بات قبول نہیں کرتے، کم از کم ایک بار اپنے دینی بھائی پر بھی اعتماد کریں۔ اگر آپ کو مجھ سے، یعنی قالیباف سے، کوئی سیاسی اختلاف ہے تو پھر آپ قوم کو کیوں پریشان کر رہے ہیں؟ یہ واقعی انصاف نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیا ہم میدان میں موجود نہیں؟ کیا ہم قوم کے حقوق حاصل کرنا نہیں چاہتے؟ آپ نے اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات کو اس معاملے میں کیوں گھسیٹ لیا ہے اور قوم کے حقوق کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟ یہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔‘

    انھوں نے امریکہ کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی شق اور ایران و اومان کے درمیان اس آبی گزرگاہ کے نظم و نسق سے متعلق بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس آبنائے کو اس کے برعکس نہیں بنانا چاہیے۔ اس کی اہمیت اسی وقت ہے جب اس میں آمدورفت روز بروز بڑھتی جائے، نہ کہ کم ہو۔‘

  6. ٹرمپ نے کرپٹو سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمائے، امریکی صدر کے اثاثوں کی تفصیلات جاری

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی مالیاتی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق گذشتہ برس امریکی صدر نے کرپٹو کرنسی کاروبار سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمائے۔

    927 صفحات پر مشتمل گوشوارے میں امریکی صدر نے بتایا کہ انھوں نے 635 ملین ڈالر ٹرمپ میم کوائن سے حاصل کیے۔

    امریکی صدر نے ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ نامی ایک کرپٹوکرنسی فرم سے 500 ملین ڈالر سے زائد آمدن بھی ظاہر کی، جس کی بنیاد ان کے اپنے بیٹوں اور ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف کے بچوں نے رکھی تھی۔

    امریکی صدر نے رئیل اسٹیٹ سے بھی لاکھوں ڈالر کمائے تاہم وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تردید کی کہ ٹرمپ صدارت سے مالی فائدہ اٹھا رہے تھے۔

    ٹرمپ کے مالیاتی اثاثوں کی تازہ تفصیلات سنہ 2024 کے مقابلے میں ان کی آمدنی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں، جس میں ٹرمپ نے 600 ملین ڈالر سے زائد آمدن ظاہر کی تھی۔

    لیکن وائٹ ہاؤس بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ٹرمپ نے اپنا کاروبار اپنے بیٹوں کے زیر انتظام ایک ٹرسٹ میں رکھا ہوا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے کہا ہے کہ صدر نے امریکہ کو ’دنیا کا کرپٹو دارالحکومت‘ بنایا۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر اور نہ ہی ان کے خاندان نے کبھی مفادات کے ٹکراؤ میں حصہ لیا اور نہ ہی کبھی لیں گے۔‘

  7. ایرانی نشریاتی ادارے پر قالیباف کے انٹرویو کی اچانک بندش پر پارلیمان کا احتجاج

    ْڈاکٹر محمد باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا وہ ٹی وی انٹرویو، جس میں وہ جنگ، آبنائے ہرمز اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر گفتگو کر رہے تھے، اچانک درمیان ہی میں روک دیا گیا۔ اس پر ایران کی مجلس کے میڈیا سینٹر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا ہے۔

    پارلیمان کے میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج شرائط پر عملدرآمد کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد باقر قالیباف، جو نہ صرف مقننہ کے سربراہ ہیں بلکہ ملک کے مذاکراتی وفد کی قیادت بھی کر رہے ہیں، نے ایرانی نشریاتی ادارے کے تعاون سے عوام کو ایک رپورٹ پیش کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنس کی۔ یہ پروگرام مقررہ وقت سے دو گھنٹے پہلے نشریاتی ادارے کو فراہم کر دیا گیا تھا، تاہم اسے دورانِ نشریات ہی روک دیا گیا۔

    بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ گفتگو پہلے سے ریکارڈ شدہ تھی اور اگر نشریاتی ادارہ اس کے کسی حصے کو نشر نہیں کرنا چاہتا تھا تو طریقہ کار کے مطابق مجلس کے میڈیا سینٹر سے مشاورت کی جا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

    مجلس کے میڈیا سینٹر کے مطابق انٹرویو کے وہ حصے نشر نہیں کیے گئے جن میں ایران کے جوہری مراکز کے معائنے سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی کے دعوے کا جواب، منجمد اثاثوں کی رہائی سے متعلق پیش رفت، مفاہمتی متن میں 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو کریڈٹ کی تفصیلات، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر وضاحت اور 18 جون کو رہبرِ اعلیٰ کے سٹریٹیجک پیغام کی تشریح شامل تھی۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق اس انٹرویو کا دوسرا حصہ اگلے روز بدھ کی شب نشر کیا جائے گا، اور اس بارے میں پروگرام کے اختتام پر سب ٹائٹلز کے ذریعے ناظرین کو آگاہ بھی کیا گیا تھا۔

    اسی دوران ایرانی نشریاتی ادارے کے ٹیلیگرام چینل نے انٹرویو کے مختلف حصے شائع کیے ہیں جن میں وہ مواد بھی شامل ہے جو براہِ راست نشریات کے دوران کاٹ دیا گیا تھا۔ ان میں ایک حصے میں محمد باقر قالیباف ایران کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے جاری ہونے کی وضاحت کرتے ہیں اور ساتھ ہی 2023 میں ایران اور جو بائیڈن انتظامیہ کے درمیان طے پانے والے چھ ارب ڈالر کے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے ملک کے اندر ہونے والی تنقید کا جواب بھی دیتے ہیں۔

  8. لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ: ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے حادثے میں 14 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

    لاہور کی کمشنر مریم خان کے مطابق ایک ٹیچر بھی زخمی ہیں جبکہ حادثے کے وقت عمارت میں قریب 35 بچے موجود تھے۔

    صوبہ پنجاب کے ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق ہلاک ہونے والے 12 بچوں کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان ہیں جبکہ دو بچیوں کی عمریں بالترتیب 11 اور 16 سال ہیں۔

    خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے پر پولیس سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے اور پولیس نے اب تک مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے ’تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔‘

  9. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • قطر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سطحی نمائندے دوحہ میں موجود ہیں لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان کسی اعلیٰ سطح کی ملاقات کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
    • تہران نے قطر کے لیے ایک وفد کے سفر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔
    • ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی نمائندوں کے دورۂ قطر کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ایرانی تکنیکی وفد صرف مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے دوحہ جا رہا ہے۔
    • ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے اتنظامات کے ذمہ دار شعبے نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے میں شرکت کا فیصلہ رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور اگر اس حوالے سے کوئی منصوبہ بنایا گیا تو اس کا اعلان ان کے دفتر کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔
    • امریکہ کی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کا حکم نامہ مسترد کر دیا ہے۔