لائیو, پاکستان نے افغانستان میں جائز اہداف کو نشانہ بنایا، انڈیا کا الزام بے بنیاد ہے: ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔‘ یاد رہے کہ انڈیا نے اتوار کی شب افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو ’کھلی جارحیت اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔

خلاصہ

  • ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان پر حملوں کے حوالے سے انڈیا کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کے خلاف اس کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔'
  • عبوری معاہدے کو تحفظ دیا جائے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جائے: چین کا امریکہ اور ایران سے مطالبہ
  • امریکہ اور ایران میں تکنیکی مذاکرات جاری، تہران کے عوامی بیانات ’دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن‘ ہیں: جے ڈی وینس
  • ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود، تہران کی بھی قطر وفد بھیجنے کی تصدیق
  • آبنائے ہرمز کی اہمیت اسی وقت ہو گی جب یہاں روزانہ آمدورفت بڑھے گی نہ کہ کم ہو گی: ایرانی سپیکر انٹرویو کی اچانک بندش، پارلیمان کا احتجاج

لائیو کوریج

  1. میزائل اور ڈرون پروگرام ’قومی سلامتی کی سرخ لکیر ہیں: ایران کے قائم مقام وزیر دفاع کا انتباہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں، خصوصاً میزائل اور ڈرون پروگرام، ’قومی سلامتی کی سرخ لکیر‘ ہیں اور اس معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

    بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ماجد ابن الرضا نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ حالیہ اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے مختلف پہلوؤں اور نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

    ان کے مطابق اس موقع پر زور دیا گیا کہ ایران کا دفاع، میزائل اور ڈرون طاقت قومی سلامتی کی سرخ لکیر ہے اور یہ معاملہ کسی صورت مذاکرات کے لیے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی ان صلاحیتوں کو مقامی وسائل اور تکنیکی مہارت کے ذریعے مزید مضبوط بناتا رہے گا۔

  2. پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان اور انڈیا نے قونصلر رسائی کے دوطرفہ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کر لیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ سفارتی ذرائع کے ذریعے یکم جولائی کو کیا گیا۔

    بیان کے مطابق ’پاکستان نے اسلام آباد میں انڈیا کے ہائی کمیشن کو 250 انڈین قیدیوں کی فہرست فراہم کی جن میں 52 عام شہری اور 198 ماہی گیر شامل ہیں۔‘

    دوسری جانب انڈیا نے 439 (ممکنہ) پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کی، جن میں 386 شہری اور 53 ماہی گیر بتائے جا رہے ہیں، جو انڈیا کی جیلوں میں قید ہیں۔

    یاد رہے کہ 21 مئی 2008 کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایسی فہرستیں ایک دوسرے کو فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

    بیان کے مطابق پاکستان نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ ایسے 97 پاکستانی قیدیوں کو رہا کر کے وطن واپس بھیجے جو اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں اور جن کی شہریت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں 64 شہری اور 33 ماہی گیر شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ زیر حراست تمام پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ان قیدیوں کو جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ ان کی شہریت کی بروقت تصدیق ممکن ہو سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جلد وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

  3. آبنائے ہرمز مزید آٹھ دن ’جنگی آپریشنز زون‘ رہے گی: شپنگ یونینز اور کمپنیوں کا اعلان

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جہاز رانی سے متعلق یونینوں اور کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کم از کم اگلے آٹھ دن تک ’جنگی آپریشنز زون‘ تصور کیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود دو بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق آبنائے ہرمز کم از کم نو جولائی تک ’جنگی آپریشنز زون‘ رہے گی، جبکہ صورتحال کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن اور جہاز مالکان کی نمائندہ تنظیم جوائنٹ نیگوشیئنگ گروپ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’انسانی زندگی کو درپیش سنگین اور مسلسل خطرات اور خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال‘ کے پیش نظر کیا گیا۔

    بی بی سی فارسی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے مطابق اگر گزشتہ جمعرات کے بعد دو مختلف دنوں میں بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنایا جاتا اور آمدورفت معمول کے مطابق رہتی تو اس ہفتے درجہ بندی پر نظرِ ثانی ممکن تھی۔

    یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کو پہلی بار پانچ مارچ کو جنگی آپریشن زون کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا تھا جب توانائی بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    یہ درجہ بندی ان بحری جہازوں پر لاگو ہوتی ہے جن کے مالکان انٹرنیشنل بارگیننگ فورم کے لیبر معاہدوں کا حصہ ہیں، اور ایسے جہازوں کی تعداد دنیا بھر میں تقریباً 15 ہزار ہے۔

  4. پاکستان نے افغانستان میں جائز اہداف کو نشانہ بنایا، انڈیا کا الزام بے بنیاد ہے: ترجمان دفتر خارجہ

    اندرابی

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے اس بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے جس میں افغانستان میں دہشت گردوں کے ڈھانچوں کے خلاف پاکستان کے جائز، ہدفی اور متناسب اقدامات پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ انڈین وزارت خارجہ نے اتوار کی شب افغانستان پر کیے گئے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے حملوں کو ’کھلی جارحیت، افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ پاکستان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے اور اپنی داخلی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کے لیے سرحد پار تشدد کا سہارا لینے کی ناکام کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ انڈیا افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

    بدھ کے روز جاری ترجمان دفتر خارجہ کے بیان میں انڈیا کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز بیان ایک ایسے ملک کی طرف سے سامنے آیا ہے جو ماضی میں اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت میں مداخلت کرتا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے۔‘

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ’ انڈیا غیر قانونی طور پراپنے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو بھی دباتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ قراردادوں کے خلاف ہے۔‘

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈیا افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی نہ صرف معاونت بلکہ سرپرستی بھی کرتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’انڈیا مسلسل خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف اس کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔‘

    pakistani army

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام مناسب اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔‘

    یاد رہے کہ 28 جون کی شب پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔

    پاکستانی دعووں کے برعکس افغان حکام اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کا کہنا ہے پاکستانی حملوں میں دو درجن سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔

  5. عبوری معاہدے کو تحفظ دیا جائے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جائے: چین کا امریکہ اور ایران سے مطالبہ

    China

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ امید کرتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران اپنے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کریں گے تاکہ مذاکرات کے اگلے مراحل کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے۔

    وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کے روز کہا کہ اس وقت ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ عبوری معاہدے کو تحفظ دیا جائے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جائے، مذاکرات کی رفتار برقرار رکھی جائے، اور ایک ایسے طویل المدتی حل کی جانب پیش قدمی کی جائے جس پر نہ صرف امریکہ اور ایران متفق ہوں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور عالمی برادری بھی اسے قبول کریں۔

    ایک حالیہ رپورٹ، جو مشاورتی ادارے ایشیا گروپ کی جانب سے جاری کی گئی، کے مطابق آبنائے ہرمز کے بحران سے ایشیا میں سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوا ہے، اور امریکہ-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اور جغرافیائی سیاسی رجحانات سے بھی چین کو مزید فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

  6. آبنائے ہرمز میں نامزد راستے سے ہٹ کر چلنے والا کنٹینر جہاز پھنس گیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک غیر ملکی کنٹینر جہاز آبنائے ہرمز میں اس وقت ریت میں دھنس گیا جب وہ ایرانی حکام کی طرف سے مقرر کردہ بحری راستے سے ہٹ کر کم گہرے پانیوں میں داخل ہو گیا۔

    رپورٹ میں پاسدارانِ انقلاب کی اس تنبیہہ کو دہرایا گیا کہ جہازوں کو صرف ایران کے جزیرے لارک کے جنوب میں واقع مخصوص بحری راہداری سے ہی گزرنا چاہیے، جسے تہران آبنائے ہرمز سے آنے جانے کا واحد منظور شدہ راستہ قرار دیتا ہے۔

    حالیہ مہینوں میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں نے خلیجی علاقے میں معمول کے مطابق بحری تجارت کی بحالی کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، حالانکہ امریکہ اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد شپنگ سرگرمیوں میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

  7. میناب سکول پر مہلک حملہ کبھی بھلایا نہیں جائے گا: ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر

    میناب سکول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر علی بحرینی نے کہا ہے کہ ایران اس حملے کو دنیا کی یادداشت سے محو نہیں ہونے دے گا۔ انھوں نے یہ بات حملے کے متاثرین اور عینی شاہدین کے ساتھ ایک ورچوئل ملاقات کے دوران کہی۔

    28 فروری کو ہونے والے اس میزائل حملے میں، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، کم از کم 168 بچے اور اساتذہ ہلاک ہوئے۔ متاثرین میں زیادہ تر کم عمر لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرینی نے کہا کہ ’انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرین کی تکالیف اور شہریوں کے خلاف جرائم وقت کے ساتھ فراموش نہ ہوں۔ آج کوئی ایسا ملک نہیں جو اس حملے کی مجرمانہ نوعیت سے ناواقف ہو یا میناب سکول کا نام نہ جانتا ہو۔‘

    امریکہ اور اسرائیل نے اس سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بحرینی کا کہنا تھا کہ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حملے کی ذمہ داری حملہ آور ہونے کے ناتے امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔‘

  8. اسرائیل پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کرے گا: وزیر توانائی و انفراسٹرکچر ایلی کوہن

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل کے وزیر برائے توانائی و انفراسٹرکچر ایلی کوہن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کا کنٹرول مسلسل بڑھتا رہے گا یہاں تک کہ یہ 100 فیصد تک پہنچ جائے۔

    گالی اسرائیل ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کو ’ایک ملی میٹر بھی سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا‘۔

    ان کے مطابق دو ماہ قبل اسرائیل کا کنٹرول تقریباً 53 فیصد تھا۔ ایک ماہ قبل یہ بڑھ کر 60 فیصد ہو گیا۔ جبکہ اب یہ تقریباً 70 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی پالیسی کے تحت اس کنٹرول میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

  9. اسلحہ رکھنے کا حق اندرونی معاملہ ہے اور یہ لبنان کی ضرورت بھی ہے: لبنانی عہدیدار ابراہیم کنعان

    NurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    لبنان کی پارلیمانی فنانس و بجٹ کمیٹی کے سربراہ ابراہیم کنعان نے صدر جوزف عون سے ملاقات کی، جس میں واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی اور آئندہ حکومتی حکمتِ عملی پر بات چیت کی گئی۔

    لبنانی صدراتی دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کنعان کے حوالے سے کہا کہ ’ریاست کا اسلحہ رکھنے کا حق ایک لبنانی معاملہ ہے اور خصوصاً جنگ کے بعد کی صورتحال میں لبنان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔‘

    ابراہیم کنعان نے مزید کہا کہ اس ملاقات کے بعد صدر کے اہداف کے لیے ان کا یقین اور وابستگی مزید مضبوط ہوئی ہے، جن میں سرفہرست بین الاقوامی سرحدوں کے مطابق پورے علاقے کی آزادی، بے گھر افراد کی واپسی، اور پھر تعمیرِ نو شامل ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’قومی اتحاد بنیاد ہے، آج اسے کمزور کرنا صرف تقسیم اور قبضے کو مزید تقویت دے گا اور ملک کی تباہی کا سبب بنے گا۔‘

  10. حالیہ جنگ کے دوران ایران میں 44 سائنسی مراکز کو نقصان پہنچا: رپورٹ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    وزارتِ سائنس کے پارلیمانی امور، قانونی و بلز سینٹر کے سربراہ افشین صفہان نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران ملک بھر میں 44 سائنسی مراکز کو نقصان پہنچا۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک حتمی رپورٹ، جو ایرانی حکومت کو بھی فراہم کی گئی ہے، کے مطابق تعلیمی و سائنسی مراکز کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 700 سے 800 ملین ڈالر سے زائد کا لگایا گیا ہے۔

    حالیہ جنگ کے دوران ایران کے بعض تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔

    اسی طرح پاسچر انسٹیٹیوٹ کی مرکزی عمارت کے کچھ حصوں کی تباہی نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا۔

  11. آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک بدستور جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے: میری ٹائم کمپنی

    @WindwardAI

    ،تصویر کا ذریعہ@WindwardAI

    ونڈورڈ نامی میری ٹائم اے آئی کمپنی کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر بحالی ابھی بھی ممکن نہیں بنائی جا سکی ہے۔

    کمپنی نے کہا کہ 29 جون کو آبنائے ہرمز میں ٹریفک ’جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم‘ رہی، جہاں جہازوں کی آمدورفت محدود اور مشتبہ سرگرمیاں دیکھی گئیں۔

    کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ متعدد پابندیوں کا شکار آئل ٹینکر گزرتے رہے، جن میں ایک اور ایرانی جہاز بھی شامل تھا جو ایک ہفتے میں دوسری بار جعلی یورپی جھنڈا لہراتا ہوا پایا گیا۔

    مزید کہا گیا کہ ’فی الحال صرف امریکی مدد سے چلنے والا جنوبی راستہ، جسے ‘پروجیکٹ فریڈم’ کہا جاتا ہے، محدود اور نسبتاً محفوظ گزرگاہ فراہم کر رہا ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق 16 کارگو جہاز آبنائے میں داخل ہو رہے تھے جبکہ 23 باہر جا رہے تھے۔

    اس سے پہلے خبر دی گئی تھی کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود ویک اینڈ پر بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت جاری رہی، حالانکہ جمعہ اور سنیچر کو دو جہازوں پر حملے ہوئے تھے۔ میری ٹریفک کے مطابق تین دنوں کے دوران 108 مصدقہ ٹرانزٹ ریکارڈ کیے گئے۔

  12. خامنہ ای کی آخری رسومات: 6 جولائی کو تہران میں عام تعطیل کا اعلان

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی حکومت نے منگل 6 جولائی کو تہران میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ اس تعطیل کا مقصد ’ایران کے سابق رہنما کے سوگواروں کی دارالحکومت سے واپسی کو آسان بنانا‘ ہے۔

    ان کے مطابق جمعرات کے روز پورے ایران میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔ علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات 8 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

    سرکاری شیڈول کے مطابق علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقاریب چار سے آٹھ جولائی کے درمیان تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، جبکہ عراق کے شہروں بغداد، کاظمین، کربلا اور نجف میں بھی تعزیتی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں اس وقت مارے گئے تھے جب ان کی رہائش گاہ اور دفتر، جسے ’بیتِ رہبری‘ کہا جاتا ہے، کو نشانہ بنایا گیا، تاہم تاحال ان کی تدفین نہیں کی گئی۔

  13. آبنائے ہرمز میں پھنسے 10 جہاز واپس نکل گئے: تھائی لینڈ

    Thailand

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تھائی لینڈ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 میں سے 10 تھائی جھنڈا بردار یا تھائی کمپنیوں کے زیرِ انتظام جہاز بحفاظت اس آبی گزرگاہ سے نکل چکے ہیں۔

    وزارت نے بتایا کہ ایک جہاز ’ہتھایا ناری‘ اب بھی اس علاقے میں موجود ہے اور کارگو لوڈ ہونے کا انتظار کر رہا ہے، جس کے بعد توقع ہے کہ وہ بھی جلد روانہ ہو جائے گا۔

  14. دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران نے 40 ملین بیرل تیل برآمد کیا: ایرانی سپیکر قالیباف

    ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد دو ہفتوں سے کم عرصے میں 40 ملین بیرل سے زائد تیل برآمد کیا ہے۔

    انھوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف عائد بحری پابندیوں کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری طاقت کے ساتھ سفارت کاری بھی ٹھوس نتائج دے سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کی اصل ضمانت اس کی عسکری قوت ہے، اسی لیے اس کا میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتیں ’کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتیں‘۔

    قالیباف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے بقول ’یورینیم کی افزودگی ہمارا جائز اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت حتمی معاہدے کے لیے دی گئی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، اور مذاکرات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔

    اسی انٹرویو میں قالیباف نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کے نظم و نسق کے حوالے سے قانونی اور سروس سے متعلق تمام امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچ شقوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، جن میں لبنان میں کشیدگی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات کو یقینی بنانا اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران، امریکہ اور لبنان نے ایک ’ڈی کنفلکشن سیل‘ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے، اور تہران اور واشنگٹن اس کے لیے اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ بیروت کی جانب سے بھی جلد نامزدگی متوقع ہے۔

    قالیباف کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا مقصد لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہے، جبکہ امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا الگ فریم ورک اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا اور مفاہمتی یادداشت کے تحت دی گئی 60 روزہ رعایت صرف عارضی نوعیت کی ہے، جس کے تحت سمندری خدمات کی فیس میں چھوٹ دی گئی ہے۔

    ان کے بقول ’یہ ہمارے علاقائی پانی ہیں اور ہم امریکہ کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ یہ تاثر دے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو عسکری شکل دے دی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران ’کسی بھی صورت میں اپنے اس مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘ اور آبنائے ہرمز کو ایک ایسی اہمیت کا حامل قرار دیا جو ان کے بقول ’ہماری سب سے بڑی طاقت کا ذریعہ‘ ہے۔

  15. خلیج میں پھنسا جنوبی کوریا کا جہاز مرمت مکمل ہوتے ہی روانگی کے لیے تیار

    Iran, South Africa, Strait of Harmuz

    ،تصویر کا ذریعہVideograb

    جنوبی کوریا کی وزارتِ سمندر و جہاز رانی کا کہنا ہے کہ کارگو جہاز ’نامو‘، جسے مئی میں ایک حملے میں نقصان پہنچا تھا، مرمت مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے باہر نکل جائے گا۔

    یہ بلک کیریئر جہاز، جسے ایچ ایم ایم کمپنی چلا رہی ہے، 28 فروری سے خلیج میں پھنسا ہوا ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔

    وزارت کے مطابق یہ جہاز اس وقت دبئی کی ایک بندرگاہ پر مرمت کے عمل سے گزر رہا ہے اور توقع ہے کہ جولائی کے آخر تک آبنائے ہرمز سے نکل جائے گا۔ ایران نے اس جہاز کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، جبکہ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ یہ حتمی طور پر تعین نہیں کر سکا کہ حملے کا ذمہ دار کون تھا یا آیا یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا نہیں۔

    ’نامو‘ پر عملے کے 32 افراد سوار ہیں اور یہ ان دو جنوبی کوریائی جہازوں میں سے ایک ہے جو اب بھی آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ اب تک تقریباً 24 جہاز اس آبی گزرگاہ سے نکل چکے ہیں۔

  16. امریکہ اور ایران میں تکنیکی مذاکرات جاری ہیں: نائب صدر جے ڈی وینس

    وینس، وٹکوف، قالیبفاف، عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ ’فارسی طرزِ مذاکرات‘ ہے، جبکہ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح کی بات چیت جاری ہے۔

    دی مائیکل نولز شو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو منگل کو نشر کیا گیا، جے ڈی وینس نے کہا’مقررہ مذاکرات ہونے تھے، دراصل تکنیکی نوعیت کے مذاکرات، جو پہلے سے جاری بات چیت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہ یقینی طور پر یکم جولائی کو ہو رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انھیں ’دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن‘ لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔

    ان کے بقول ’وہ کہتے ہیں کہ نہیں، امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے میں سمجھ نہیں پاتا۔‘

    وائٹ ہاؤس کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ روانہ ہوئے تھے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی براہ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

  17. امریکہ-ایران مذاکرات پر خدشات: تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایشیائی منڈیوں میں غیر یقینی

    امریکہ، ایران مذاکرات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز تک رسائی سے متعلق مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا۔

    برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 33 سینٹ یا 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ 73.28 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 34 سینٹ یا 0.49 فیصد بڑھ کر 69.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

    تیل کی منڈی کے تجزیاتی ادارے وانڈا انسائٹس کی بانی وندانا ہری نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل تو رہی ہے، تاہم صورتحال غیر ہموار، غیر یقینی اور مکمل طور پر شفاف نہیں۔

    ان کے مطابق جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی نئی مفاہمت نہیں ہوتی، منڈی ممکنہ طور پر مستقل امن و سکون کے واضح آثار کا انتظار کرے گی، اس سے پہلے کہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا رجحان دوبارہ شروع ہو۔

    ادھر ایشیا کی سٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

  18. ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام بھی ہوئے تو امریکہ ’مضبوط پوزیشن‘ میں ہوگا: امریکی نائب صدر

    JD Vence

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے مختلف میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام بھی ہو جاتے ہیں تب بھی امریکہ ایک ’بہت مضبوط پوزیشن‘ میں ہوگا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نتائج سے قطع نظر مضبوط حالات میں ہے۔ ان کے بقول امریکہ ’واضح طور پر‘ چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی امریکہ ایران کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن‘ میں رہے گا۔

    جے ڈی وینس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیت کو ’تباہ کر دیا گیا ہے‘۔ انھوں نے خبردار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایران کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں امریکہ فوجی ردعمل دے گا۔

    انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر ایک مستقل حل کے لیے جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران ’بنیادی طور پر تبدیل‘ ہو جائے گا۔

    اس سے قبل نائب صدر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم تہران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے امن مذاکرات کی تردید کی جا رہی ہے۔

  19. پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی اتحاد کا اعلان

    Bilawal Bhutto, Fazlur Rehman

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کے روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی اتحاد کا اعلان کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی جاری صورتحال کے حل کے لیے مذاکرات پر بھی زور دیا ہے۔

    ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات مشترکہ طور پر لڑیں گے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ کشمیر میں جے یو آئی (ف) کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔

    مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ اگر ان کی جماعت کا ’آزاد کشمیر چیپٹر پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرتی ہے تو وہ اس کی مکمل حمایت کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ریاست بھر میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق عام انتخابات 27 جولائی کو منقعد ہوں گے۔ اس خطے کے الیکشن کمشنر غلام مصطفی مغل کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کو پر امن اور شفاف بنانے کے لیے فوج اور رینجرز کی مدد طلب کر لی گئی ہے۔ ‘

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ان سے کشمیر میں جاری صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کو احتجاجی تحریکوں کا وسیع تجربہ ہے۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کشمیر میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے ان سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی ثالثی کی پیشکش کے بعد کمیٹی نے ایک وفد بھی بھیجا اور باضابطہ طور پر ثالثی کی درخواست کی۔

    مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود پارلیمان میں ان کی ثالثی کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کو بھی مشترکہ پیغام دے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ’شہباز شریف آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے مثبت اقدامات کریں گے۔‘

    بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرے۔ ان کے بقول کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور وہ شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں۔

    انھوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرے۔

    کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اس نوعیت کا مواد قابلِ مذمت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت سے نکلتا ہے اور سیاسی تنازعات صرف سیاسی طریقوں سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے اس معاملے کو بھی سیاسی انداز میں نمٹانا ہوگا۔

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ نشستیں نہ احتجاج سے ختم ہوں گی اور نہ ہی دھرنوں سے، بلکہ اس کا واحد حل اسمبلی کے ذریعے آئینی ترمیم ہے۔

    بلاول بھٹو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم اس گروپ نے شرکت نہیں کی۔

    آخر میں انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کی قیمت انھیں ذاتی طور پر ادا ہی کیوں نہ کرنی پڑے، اور یہ کہ کشمیر کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔

  20. تکنیکی مذاکرات جاری، پیش رفت اطمینان بخش: امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کا دعویٰ

    Witkof

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو غیر سرکاری طور پر فراہم کیے گئے بیان میں، دوحہ میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ملاقاتوں اور ایران کے ساتھ ممکنہ اعلیٰ سطح مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی خطے کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت ’بہت مثبت‘ رہی ہے۔ ان کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات بدستور جاری ہیں اور ان میں ہونے والی پیش رفت اطمینان بخش ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت ایک بار پھر تیزی سے بحال ہو رہی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس کے اس اہلکار نے دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں شریک فریقین یا امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ براہِ راست، اعلیٰ سطح مذاکرات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    اس سے ایک روز قبل، منگل کو قطری وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کی ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات طے نہیں ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، ٹرمپ کے نمائندے ثالثوں سے ملاقات کریں گے اور مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے منجمد کیے گئے چھ ارب ڈالر کے فنڈز تاحال تہران کو منتقل نہیں کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کی درخواست پر آج دوحہ میں امریکی وفد کے ساتھ ایک ملاقات ہوگی۔

    اس اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ’اعلیٰ سطح‘ ملاقات میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔

    تاہم کچھ ہی دیر بعد تہران نے ایک وفد کے قطر جانے کی تصدیق کی، لیکن یہ واضح کیا کہ اس کی امریکی حکام سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکی نمائندوں کا قطر کا دورہ ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، اور ایرانی وفد کا سفر ’مفاہمتی یادداشت کی شقوں، بالخصوص شق 11، پر عملدرآمد کی پیروی‘ کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دنوں میں ’کسی بھی سطح پر امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔‘