ٹرمپ کے اقوام متحدہ سے خطاب کے اہم نکات

،تصویر کا ذریعہEVN
- ٹوٹے ہوئے ٹیلی پرامپٹر کے بارے میں ایک لطیفے کے ساتھ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنا خطاب شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی اس ٹیلی پرامپٹر کو چلا رہا ہے وہ بڑی مصیبت میں ہے۔‘
- صدر ٹرمپ اپنی تقریر کے لیے مختص 15 منٹ کے بجائے تقریباً ایک گھنٹے کی تقریر کی۔
- انھوں نے کہا ان نکات کی طرف توجہ دلائی جو امریکہ کو ’دنیا کا ایک بہت پرکشش ملک‘ بنا دیتا ہے جو اپنے سنہری دور سے گزر رہا ہے۔
- امریکہ میں سرمایہ کاری، کم افراط زر اور پٹرول کی قیمتیں اور عالمی محصولات میں اضافے کے بعد دستخط کیے گئے ’تاریخی تجارتی معاہدوں‘ کا تذکرہ ٹرمپ کے خطاب میں شامل تھا۔
- ٹرمپ نے سات جنگوں کے خاتمے کا کریڈٹ لیا کہ ابھی تک وہ اپنی دوسری مدت میں یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔ یوکرین کے بارے میں انھوں نے رائے دی کہ اس تنازعے کو حل کرنا سب سے آسان ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کرنے والوں کو ’یہ کام کرنا ہوگا‘ اور یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔
- ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا، جیسا کہ حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی اسمبلی میں شرکت کرنے والے متعدد مغربی ممالک نے کیا ہے، حماس کی طرف سے کیے گئے مظالم کا ’انعام‘ ہوگا۔
- ٹرمپ نے دو موضوعات امیگریشن اور گرین قابل تجدید توانائی کی اعلی قیمت پر بتا کی
- انھوں نے کہا کہ جو ممالک آزادی کی قدر کرتے ہیں وہ ان دونوں موضوعات پر اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ’تیزی سے زوال پذیر ہیں۔
- اپنے خطاب کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ دوبارہ عظیم بننا چاہتے ہیں تو آپ کو مضبوط سرحدوں اور روایتی توانائی کے ذرائع کی ضرورت ہے۔‘





















