پوتن کو روکا نہ گیا تو وہ جنگ کو ’مزید پھیلا‘ سکتے ہیں: زیلنسکی

نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ولادیمیر پوتن کو روکا نہ گیا تو وہ جنگ کو ’مزید پھیلا‘ سکتے ہیں۔

خلاصہ

  • بلوچستان ہائیکورٹ نے سردار اختر مینگل پر عائد بیرون ملک سفری پابندیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا
  • سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ججز ایک دوسرے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرسکتے۔
  • سمندری طوفان ریگاسا نے تائیوان سمیت چین، ہانگ کانگ، اور تائیوان میں شدید تباہی مچا دی ہے۔
  • ٹرمپ کی شہباز شریف سمیت اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات: ’اسرائیلی مغویوں کی رہائی اس گروپ کے سوا کوئی نہیں کروا سکتا‘
  • فرانسیسی صدر کا نیویارک میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات کا اعلان
  • پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، عالمی بینک کی رپورٹ میں انکشاف

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کے اقوام متحدہ سے خطاب کے اہم نکات

    UNGA

    ،تصویر کا ذریعہEVN

    • ٹوٹے ہوئے ٹیلی پرامپٹر کے بارے میں ایک لطیفے کے ساتھ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنا خطاب شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی اس ٹیلی پرامپٹر کو چلا رہا ہے وہ بڑی مصیبت میں ہے۔‘
    • صدر ٹرمپ اپنی تقریر کے لیے مختص 15 منٹ کے بجائے تقریباً ایک گھنٹے کی تقریر کی۔
    • انھوں نے کہا ان نکات کی طرف توجہ دلائی جو امریکہ کو ’دنیا کا ایک بہت پرکشش ملک‘ بنا دیتا ہے جو اپنے سنہری دور سے گزر رہا ہے۔
    • امریکہ میں سرمایہ کاری، کم افراط زر اور پٹرول کی قیمتیں اور عالمی محصولات میں اضافے کے بعد دستخط کیے گئے ’تاریخی تجارتی معاہدوں‘ کا تذکرہ ٹرمپ کے خطاب میں شامل تھا۔
    • ٹرمپ نے سات جنگوں کے خاتمے کا کریڈٹ لیا کہ ابھی تک وہ اپنی دوسری مدت میں یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔ یوکرین کے بارے میں انھوں نے رائے دی کہ اس تنازعے کو حل کرنا سب سے آسان ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کرنے والوں کو ’یہ کام کرنا ہوگا‘ اور یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔
    • ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا، جیسا کہ حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی اسمبلی میں شرکت کرنے والے متعدد مغربی ممالک نے کیا ہے، حماس کی طرف سے کیے گئے مظالم کا ’انعام‘ ہوگا۔
    • ٹرمپ نے دو موضوعات امیگریشن اور گرین قابل تجدید توانائی کی اعلی قیمت پر بتا کی
    • انھوں نے کہا کہ جو ممالک آزادی کی قدر کرتے ہیں وہ ان دونوں موضوعات پر اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ’تیزی سے زوال پذیر ہیں۔
    • اپنے خطاب کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ دوبارہ عظیم بننا چاہتے ہیں تو آپ کو مضبوط سرحدوں اور روایتی توانائی کے ذرائع کی ضرورت ہے۔‘
  2. اقوام متحدہ کے قریب مواصلاتی نظام کو ’معطل‘ کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا, میڈلائن ہالپرٹ، بی بی سی نیوز

    USA

    امریکی سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ اس نے ٹیلی کمیونیکیشن ڈیوائسز سے لیس ایک ایسے نیٹ ورک کو ناکام بنا دیا ہے جو موبائل فون نیٹ ورکس کو بند کر سکتا تھا اور یہ منصوبہ ایک ایسے وقت پر بنایا گیا تھا جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر 100 سے زائد عالمی رہنما اور وفود مین ہیٹن میں جمع ہو رہے تھے۔

    ایجنسی نے کہا کہ اسے 300 سے زیادہ سم سرورز اور ایک لاکھ سم کارڈز ملے ہیں جو نیویارک، نیو جرسی اور کنیکٹیکٹ کے کچھ حصوں پر محیط علاقے میں ٹیلی کام حملوں کے لیے استعمال ہوسکتے تھے۔

    سیکرٹ سروس کے انچارج ایجنٹ میٹ میک کول نے کہا کہ ’اس نیٹ ورک میں سیل فون ٹاورز کو غیر فعال کرنے اور لازمی طور پر نیو یارک شہر میں فون نیٹ ورک کو بند کرنے کی طاقت تھی۔‘

    یہ آلات جنرل اسمبلی کے اطراف میں 56 کلومیٹر کے فاصلے سے ملےہیں، جہاں دنیا بھر سے عالمی رہنما جمع ہو رہے ہیں۔

    ایجنسی نے کہا کہ حکام ان آلات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں لیکن یہ کہ ’منظم اور اچھی طرح سے مالی اعانت سے چلنے والا‘ منصوبہ تھا جس میں ’ریاستی عناصر شامل ہیں جن کے بارے میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات ہیں۔‘

    حکام کا کہنا ہے کہ ان آلات سے 12 منٹ کے اندر امریکہ کی پوری آبادی کو برقی پیغامات بھیجے جا سکتے تھے۔ اس سے موبائل فون ٹاورز کو بھی غیر فعال کیا جا سکتا تھا اور ایمرجنسی سروسز کے مواصلاتی نظام کو بھی بند کیا جا سکتا تھا۔

    میک کول نے امریکی صحافیوں کو بتایا کہ اس منصوبے میں نامعلوم ریاستی عناصر شامل ہیں جو منظم جرائم پیشہ گروہوں، کارٹلز اور دہشت گرد تنظیموں کو خفیہ پیغامات بھیجتے ہیں۔

    یہ آلات پانچ سے زیادہ مقامات پر خالی پڑی پرانی عمارتوں میں ’سم فارمز‘ سے ضبط کیے گئے تھے۔

    حکام نے ان مقامات کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔

    نامعلوم عہدیداروں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اس منصوبے کے بارے میں معلومات حالیہ عرصے میں امریکی حکومت کے تین عہدیداروں کو گمنام ’ٹیلی فونک دھمکیوں‘ کی تحقیقات کے دوران ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ایک اہلکار سیکرٹ سروس میں کام کرتا ہے اور دوسرے دو وائٹ ہاؤس میں کام کرتے ہیں۔

    تفتیش کاروں نے سی بی ایس نیوز کو یہ بھی بتایا کہ انھیں 80 گرام کوکین، غیر قانونی آتشیں اسلحہ، کمپیوٹر اور فون ملے ہیں۔

    یہ تحقیقات گذشتہ موسم بہار میں امریکی حکومت کے عہدیداروں کو دھمکیوں کے بعد شروع کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں گذشتہ ماہ ان آلات کی دریافت ہوئی تھی۔

  3. صدر ٹرمپ کی ایرانی جوہری پروگرام پر تنقید: ’ہم نے وہ کام کیا جو لوگ 22 سال سے کرنا چاہتے تھے‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری پروگرام پر تنقید کی اور کہا کہ ’آج دنیا کے لیے سب سے سنگین خطرہ وہ تباہ کن ہتھیار ہیں جو انسان کو معلوم ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران، جسے وہ دنیا کا سب سے بڑا ’دہشت گردی کا سرپرست‘ قرار دیتے ہیں، کو سب سے خطرناک ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ان کا اشارہ ایران کے جوہری پروگرام کی طرف تھا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اندر ایرانی سفیروں کو ٹرمپ کی تقریر سنتے ہوئے دکھایا گیا۔

    اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکہ کے حملے کا ذکر کیا اور بتایا کہ انھوں نے اس سال کے شروع میں ایران کی ایک اہم جوہری تنصیب پر بمباری کا حکم دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’ہم نے وہ کام کیا جو لوگ 22 سال سے کرنا چاہتے تھے۔‘

  4. فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کے لیے ’انعام‘ ہوگا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں کا حصہ رہے ہیں تا کہ مذاکرات کرنے والے فریقین اس ہدف کو حاصل کر لیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں کئی طاقتور ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حماس کے مظالم کا ’یہ انعام ہو گا‘۔

    حماس کے تاوان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو لوگ امن چاہتے ہیں انھیں ایک نکتے پر متحد ہونا چاہیے کہ یرغمالیوں کو اب فوری رہا کر دیا جائے۔

  5. اقوامِ متحدہ نے عالمی تنازعات ختم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی: ڈونلڈ ٹرمپ

    EVN

    ،تصویر کا ذریعہEVN

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کر رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران ایک مرتبہ پھر سے اُن سات جنگوں کا ذکر کیا ہے کہ جنھیں وہ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں اب تک ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ لوگوں نے انھیں بتایا تھا کہ یہ تنازعات ایسے ہیں کہ جنھیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    امریکی صدر نے جب ان تنازعات کا ذکر کیا تو ان میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان کشیدگی، کوسوو اور سربیا، پاکستان اور انڈیا، اسرائیل اور ایران، مصر اور ایتھوپیا، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان اور جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان ’خونریز پرتشدد جنگ‘ شامل تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کوئی اور امریکی صدر جو انھوں نے اب تک کیا ہے وہ اس میں سے ذرہ برابر یا اس کے قریب قریب بھی کچھ نہیں کر سکا۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’اقوامِ متحدہ نے ان میں سے کسی تنازعے میں کے حل کے لیے تو ’کوشش تک نہیں کی۔‘

    یہاں ہم امریکی صدر کے جاری خطاب کے حوالے سے آپ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

  6. ’امریکہ اقوامِ متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوشش کو ویٹو کر دے گا‘, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جب بات اسرائیل اور فلسطین کی ہو تو اقوامِ متحدہ کے اہم رکن ممالک شاذ و نادر ہی ایک دوسرے کی رائے سے متفق نظر آتے ہیں۔

    کل کے بعد، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے سوال پر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے صرف امریکہ ہی اقلیت میں رہ گیا ہے۔

    چین اور روس نے یہ دہائیوں پہلے کر لیا تھا۔ برطانیہ نے یہ قدم اتوار کو اٹھایا۔ فرانس نے اس کے ایک دن بعد ایسا کیا یعنی ان تمام مُمالک نے فلسطین کے وجود کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔

    لیکن ایک مستقل رکن کی حیثیت سے امریکہ کے پاس اور جو اکثر استعمال بھی کرتا ہے، ویٹو کا اختیار ہے (جیسا کہ روس بھی کرتا ہے)۔

    اس نے (امریکہ) چار دن پہلے ایسا کیا، جب اس نے غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے کے مطالبے پر مبنی قرارداد کو روک دیا۔ ایسا چھٹی مرتبہ ہوا تھا کہ امریکہ نے ایسی کسی قرارداد کو ویٹو کیا، اس دلیل کے ساتھ کہ مجوزہ قرارداد نے حماس کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کیا۔

    اگر فلسطین کو تسلیم کرنے کی قرارداد سلامتی کونسل میں آتی ہے تو واشنگٹن اسے یقیناً ویٹو کر دے گا۔

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  7. ’ٹرمپ نوبیل امن انعام کے لیے مہم چلا رہے ہیں‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یونیورسٹی آف ایسٹ لندن میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے پروفیسر جان سٹراوسن نے بی بی سی سے امریکی صدر کی آج یعنی منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے متعلق بات کی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر ٹرمپ اپنی تقریر میں خود کو ایک عظیم امن قائم کرنے والے رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘

    پروفیسر جان سٹراوسن نے مزید کہا کہ وہ (امریکی صدر) ’یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے کانگو، انڈیا اور پاکستان، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنزاعات میں امن قائم کیا ہے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ غالباً ان بڑی جنگوں سے گریز کرنے کی کوشش کریں گے جہاں ٹرمپ انتظامیہ کو کوئی کامیابی نہیں ملی جن میں یوکرین اور غزہ کی جنگیں شامل ہیں۔‘

    ’وہ بلاشبہ نوبیل امن انعام کی مہم چلا رہے ہیں، اور میرا خیال ہے یہی پہلو ان کی تقریر کو بھی نمایاں کرے گا۔‘

    اس ماہ کے اوائل میں ٹرمپ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا تھا کہ وہ نوبیل امن انعام جیتنا چاہتے ہیں، تاہم کئی ہفتوں سے اس بارے میں بات کی جا رہی تھی۔

    واضح رہے کہ امن کے نوبیل انعام کے فاتح کا اعلان ناروے کی نوبیل کمیٹی رواں سال 10 اکتوبر کو کرے گی۔

  8. منگل کے روز اسرائیلی بمباری میں 18 فلسطینی ہلاک، ایندھن کی قلت سے غزہ کے باقی ہسپتالوں بھی بند ہو سکتے ہیں: وزارت صحت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں حماس کے زیرِ نگرانی کام کرنے والی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ’ایندھن کی قلت ایک اور سنگین بحران کو جنم دے سکتا ہے‘۔ وزارت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر ایندھن کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو غزہ کی پٹی کے باقی ماندہ ہسپتالوں کو بند کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

    فلسطینی خبر رساں ادارے ’وافا‘ کے مطابق غزہ کی پٹی میں منگل کی صبح سے اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے 18 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق 12 افراد کو الشفا ہسپتال اور 6 کو غزہ کی پٹی کے بپٹسٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’علاقے میں کام کرنے والے ہسپتالوں کے پاس اب بس چند ہی دن کا ایندھن باقی ہے، اور اس کے بعد ان ہسپتالوں میں موجود مریضوں کی جان اعلاج نہ ہونے کی صورت میں خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

    وزارت نے تمام متعلقہ فریقوں سے فوری اپیل کی ہے کہ وہ ’انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ہر قسم کی رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے ہسپتالوں میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔‘

    اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے غزہ میں کام کرنے والے ایک برطانوی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جس ہسپتال میں وہ کام کر رہے ہیں وہاں ادویات کی شدید قلت ہے اور کئی ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں مریضوں کو علاج کے لیے منتقل کرنے کے لیے ایک ایسی راہداری کو بحال کریں کہ جہاں سے ان مریضوں کی مدد کی جا سکے۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دوسری جانب غزہ شہر پر قبضے کے لیے اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ فضائی حملے بھی جاری ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کے روز غزہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں بیشتر ہلاکتیں غزہ شہر میں ہوئی ہیں۔

    غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے پیر کی سہ پہر شائع ہونے والی شماریاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر 61 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد غزہ میں جنگ سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 65,344 تک پہنچ گئی ہے۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنغزہ شہر پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں فلسطینی شہری ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں
  9. امریکی صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آج دُنیا سے متعلق اپنا وژن پیش کریں گے: وائٹ ہاؤس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ’عالمی اداروں‘ کو مخاطب کرتے ہوئے دنیا کے لیے اپنا ’ویژن‘ پیش کریں گے۔

    امریکی صدر روایت کے مطابق برازیل کے صدر لولا کے بعد دوسرے نمبر پر خطاب کریں گے۔ دیگر عالمی رہنما بھی پورے ہفتے تقاریر اور ملاقاتیں کریں گے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق ٹرمپ اپنی تقریر میں ’دنیا بھر میں امریکی اثرو رسوخ اور اہمیت پر زور دیں گے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ صدر اپنی ’صرف آٹھ ماہ میں حاصل کی گئی تاریخی کامیابیوں، بشمول سات عالمی جنگوں اور تنازعات کے خاتمے‘ کا ذکر بھی اپنی تقریر میں کریں گے۔

    لیوٹ نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ یہ بھی بیان کریں گے کہ کس طرح عالمی اداروں نے عالمی نظام کو سنگین نقصان پہنچایا ہے اور وہ دنیا کے لیے اپنا تعمیری ویژن پیش کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا مسئلہ پہلے ہی اسمبلی میں بڑی اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ پیر کے روز فرانس اور سعودی عرب نے غزہ کے تنازعے کے دو ریاستی حل پر ایک کانفرنس کی میزبانی کی تھی۔

    امریکہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی اور لیوٹ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ٹرمپ آج اپنی تقریر میں اس موضوع کا ذکر یا اس پر بات کریں گے یا نہیں۔

  10. جنگ کے خاتمے پر غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے کانفرنس کی میزبانی کریں گے: مصری وزیر اعظم

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنمصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی

    امریکہ میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے کہا کہ جیسے ہی غزہ میں جنگ بندی ہوتی ہے، تو اُن کا ملک غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا تاکہ وہاں کے لوگوں کی مُشکلات کے حل کے لیے فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں۔

    مدبولی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’غزہ سے متعلق ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد یہ ہو گا کہ ’ضروری فنڈز کو فوری طور پر فعال کیا جا سکے‘ تاکہ ’فلسطینی عوام اپنی زمین پر سکونب سے زندگی بسر کر سکیں اور اسرائیلی جارحیت کے باعث ہونے والے بھاری نقصانات کا ازالہ مُمکن ہو سکے۔‘

    وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تعمیرِ نو کی اس کوشش میں اپنا حصہ ڈالے۔

    مصر اس سال کے اوائل میں یہ کانفرنس منعقد کرنے کی تیاری کر رہا تھا، جو کہ قاہرہ میں مارچ میں ہونے والی ہنگامی عرب لیگ کانفرنس میں کیے گئے وعدوں کے مطابق تھی۔ لیکن جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کی وجہ سے اُن کا منصوبہ متاثر ہوا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل نیویارک میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کا قیام جو باہمی طور پر تسلیم شدہ ہوں اور جو بین الاقوامی برادری میں مکمل طور پر ضم ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام انکا حق ہے، انعام نہیں۔‘

  11. وزیرِاعظم شہباز شریف اقوامِ متحدہ میں کشمیر اور فلسطین پر بات کریں گے، صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع: پاکستانی حکومت

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی ریاست نیو یارک پہنچ گئے ہیں۔

    حکومتِ پاکستان کے ایکس پر اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے تفصیلات میں جہاں وزیراعظم پاکستان کے امریکہ پہنچنے کی تصدیق کی گئی ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

    ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد کی گئی اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت کریں گے، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) کی اعلیٰ سطحی میٹنگ اور موسمیاتی کارروائی سے متعلق خصوصی اعلیٰ سطحی تقریب شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اسلامی مُمالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں بھی شرکت کریں گے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

    تاہم وزیراعظم اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  12. معدنیات اور کانکنی سے متعلق نیا قانون غیر آئینی، بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے: حزبِ اختلاف بلوچستان اسمبلی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے معدنیات اور کانکنی سے متعلق بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والے نئے قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر حکومت سے بات چیت کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

    یہ فیصلہ کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف میر محمد یونس زہری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کیا گیا۔ اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے علاوہ سول سوسائٹی اور مائنز اونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    خیال رہے کہ رواں سال مارچ کے مہینے میں بلوچستان اسمبلی نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سنہ 2025 کے نام سے نیا قانون منظور کیا تھا۔

    اس قانون کو بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے بلوچستان کے مفادات اور یہاں کے معدنی وسائل کا اختیار وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ جبکہ اس قانون کے خلاف متعدد درخواستیں بھی بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر کی گئیں۔

    بڑے پیمانے پر تحفظات کے اظہار کے بعد بلوچستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے حزب اختلاف کی جماعتوں پر مذاکرت کی دعوت دی تھی۔

    حزب اختلاف کی جماعتوں کے اجلاس کے بعد نوابزادہ لشکری رئیسانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں اس قانون کا جائزہ لیا گیا اور اسے آئین سے متصادم قرار دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک شورش زدہ صوبہ ہے۔ یہاں لوگوں اور وفاقی اور بلوچستان حکومت کے درمیان عدم اعتماد کی فضا ہے۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اختلاف کی جماعتوں نے یہ طے کیا کہ وزیر اعلیٰ سے بات چیت ہو تاکہ اس قانون کو یکسر ختم کیا جائے۔ ختم کرنے کے بعد اس پر ازسرِنو ایک قانونی کمیٹی بنے جو اس پر نظرِ ثانی کرے تاکہ بلوچستان، اس کے لوگوں اور قبائل کے حقوق کا تحفظ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی تحفظات پر وزیرِ اعلیٰ سے بات چیت کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر اس بات چیت کے ذریعے کوئی بہتری کا راستہ نکلے تو وہ یہ ہے کہ ازسرنو قانون سازی ہو۔

  13. ’امریکہ فلسطینی ریاست کے قیام کا مخالف ہے‘, پال ایڈیمز، سفارتی نامہ نگار

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہreut

    ٹرمپ انظامیہ نے کبھی اس امر کو چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں۔

    بلکہ یہ تو واضح ہے کہ امریکی مخالفت اب اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے تصور کے حق میں بھی نہیں۔

    رواں سال جون میں اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اب امریکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کرتا۔

    رواں ماہ اسرائیل کے دورے کے موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا تھا کہ بین الاقومی برادری کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی کوششوں سے حماس کو مزید شہ ملے گی۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرس کے دوران دیا گیا ان کا یہ بیان اسرائیلی موقف کی تائید کرتا ہے کہ حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے بعد فلسطین کو تسلیم کرنا ’دہشتگردی کو نوازنے‘ کے مترادف ہے۔

    مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی وکالت کرنے کو خبردار کیا ہے کہ یہ عمل اسرائیل کو غربِ اردن کو ضم کرنے پر اکسا سکتا ہے۔

    ’ہم نے انہیں بتایا ہے کہ اس عمل کے اسی طرز کے جوابی اقدامات ہو سکتے ہیں اور یہ [غزہ میں] جنگ بندی کو مزید مشکل بنا دے گا۔‘

  14. غزہ کی صورتحال، صدر ٹرمپ کی پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے آج ملاقات

    UNGA, Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی صورتحال پر منتخب اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کر رہے ہیں اس اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی شرکت کریں گے۔

    منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائن پر ہونے والا یہ اجلاس قطر اور امریکہ کی میزبانی میں ہو رہا ہے ۔

    اس اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارت، قطر، مصر، ،ترکی، اردن، انڈونیشیا اور پاکستان کو مدعو کیا گیا ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ملاقات کے لیے جو دعوت نامہ بھجوایا ہے اس کے تحت یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے ہو گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرلین لیویٹ کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات میں غزہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد مجوزہ منصوبہ پیش کریں گے۔

    ترجمان نے بتایا کہ ٹرمپ اس ملاقات سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کریں گے۔

    بریفنگ کے دوران اُنھوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکہ کی ’تارتخی‘ کامیابیوں کا ذکر کریں گے اور بتائیں گے آٹھ ماہ کے دوران انھوں نے دنیا میں سات جنگوں کو رکوایا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق منگل کی رات صدر ٹرمپ نیویارک میں ایک عشائیے کی میزبانی کریں گے جس میں سو سے زیادہ عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

    امریکہ کے مغربی اتحادی ممالک کے جانب سے فلسطین کو بحیثیتِ ریاست تسلیم کرنے کے معاملے پر کیرلین لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔

    اُن کے مطابق ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ اس سے اقدام جنگ ختم نہیں ہو گی اور نہ ہی مغوی رہا ہوں گے بلکہ یہ حماس کو نوازنے کے مترادف ہے۔

    ادھر پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ منتخب اسلامی رہنماؤں کی ملاقات میں شرکت کریں گے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

    اس ملاقات کا ایجنڈا تو واضح نہیں ہے کہ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد عرب ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور وہ ممکنہ طور پر امریکی صدر سے اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانے کا اصرار کریں گے۔

  15. سپریم کورٹ کا فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دینے کا حکم: ’حکومت 45 دن میں قانون سازی کرے‘

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے ملٹری ٹرائل کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکومت کو فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں کو اپیل کا حق دینے کے لیے قانون سازی کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے رواں سال سات مئی کو حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے شہریوں کے ملٹری ٹرائل کے خلاف پانچ ججز کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا اور فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے اجازت دی تھی۔

    اس سے قبل 23 اکتوبر 2023 کو جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے نو مئی کیسز میں گرفتار شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے خلاف حکومت نے انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں۔

    پیر کے روز جاری ہونے والے انٹرا کورٹ اپیلوں کا 68 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا ہے۔

    بینچ میں شامل جسٹس محمد علی مظہر نے 47 صفحات کا اضافی نوٹ لکھا ہے۔ جسٹس امین، جسٹس حسن رضوی، جسٹس مسرت ہلالی جسٹس شاہد بلال نے اضافی نوٹ سے اتفاق کیا ہے۔

    دوسری جانب، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم افغان نے اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے۔

    عدالت نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کو اپیل کا حق دینے کے لیے حکومت کو 45 دن میں قانون سازی کا حکم دیا ہے،

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں بنیادی ضابطہ موجود تو ہے مگر عام شہریوں کے لیے مناسب اپیل کے فورم کا فقدان ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ شہریوں کے لیے ہائی کورٹس میں آزادانہ اپیل کے لیے قانون سازی کو پورا کیا جانا چاہیے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائلز آئینی طور پر بنیادی حقوق کے نظام سے باہر رکھے گئے ہیں تاہم ان میں بھی آرٹیکل 10 اے میں وضع معیار کی پاسداری ہونی چاہیے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ کیس کے دوران اٹارنی جنرل نے کئی مرتبہ حقِ اپیل پر حکومتی ہدایات کے لیے وقت لیا اور پانچ مئی کو آخری سماعت پر بھی اٹارنی جنرل نے ایسا ہی کہا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے کہا تھا عدالت ہدایت دے تو پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو سکتی ہے۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آزاد حقِ اپیل کی عدم موجودگی میں آرمی ایکٹ میں موجود ضابطہ کار عام شہریوں کے لیے آئینی طور پر مکمل نہیں اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے قانون سازی کے ذریعے سے مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمان حقِ اپیل کے لیے 45 دن میں قانون سازی کریں۔

  16. اسرائیل کا طیاروں اور توپخانے سے غزہ پر حملہ، 25 افراد ہلاک

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 65,344 تک پہنچ گئی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنغزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 65,344 تک پہنچ گئی ہے۔

    فلسطینی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سوموار کی رات اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں نصر سٹریٹ پر واقع اروا (UNRWA) کے سکولوں کے اطراف میں بمباری کی ہے جبکہ اسرائیلی توپ خانے نے شہر کے مغرب میں واقع شطی پناہ گزین کیمپ کے مضافات میں وقت گولہ باری کی ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کے روز غزہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں بیشتر ہلاکتیں غزہ شہر میں ہوئی ہیں۔

    غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے پیر کی سہ پہر شائع ہونے والی شماریاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر 61 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد غزہ میں جنگ سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 65,344 تک پہنچ گئی ہے۔

    وزارت صحت کا کہنا ہے اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے اور مسلسل گولہ باری سے ہونے والے نقصانات اور اسرائیلی ٹینکوں کی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ شہر کے دو ہسپتالوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک شہر کے مزید اندر تک داخل ہو گئے ہیں۔

    غزہ کے حکام کے مطابق، الرنتیسی چلڈرن ہسپتال کو کئی روز قبل اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا تھا۔ اسی دوران قریبی واقع آنکھوں کے ہسپتال کے نزدیک اسرائیلی حملوں کی اطلاع ہے جس کے بعد اسے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    وزارت صحت نے اسرائیلی افواج پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے‘ غزہ کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

  17. فلسطینی صدر کا حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

    UN Session

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطینی صدر محمود عباس جنھیں نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا نہیں دیا گیا انھوں نے ویڈیو خطاب کے دوران مستقل جنگ بندی اور اقوام متحدہ کے ذریعے انسانی امداد تک رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

    انھوں نے ’بغیر کسی تاخیر کے‘غزہ اور مغربی کنارے کی تعمیر نو کے آغاز کا بھی مطالبہ کیا۔

    محمود عباس نے کہا کہ غزہ پر حکومت کرنے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، انھوں نے گروپ کو فلسطینی اتھارٹی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’ہم جو چاہتے ہیں وہ ہتھیاروں کے بغیر ایک متحد ریاست ہے۔‘

    محمود عباس کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے تین ماہ کے اندر ایک عبوری آئین کا مسودہ تیار کیا جائے گا تاکہ اقتدار کی درست منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد انتخابات بین الاقوامی مشاہدے کے تحت ہوں گے۔

    انھوں نے ان 149 ممالک کی تعریف کی جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے اور جن ممالک نے نہیں کیا ان سے ایسا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    محمود عباس نے اقوام متحدہ کی کانفرنس کے دوران منظور کیے گئے کسی بھی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر بھی آمادگی کا اظہار کیا۔

  18. ’فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام انکا حق ہے، انعام نہیں‘

    UNGA, UN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ’فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام انکا حق ہے، انعام نہیں۔‘

    نیویارک میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کا قیام جو باہمی طور پر تسلیم شدہ ہوں اور جو بین الاقوامی برادری میں مکمل طور پر ضم ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریاست سے انکار کرنا انتہا پسندوں کو نوازنے کے مترادف ہوگا۔

    ’ہمیں دو ریاستی حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں یہودی ’بستیوں کی مسلسل توسیع‘ کا کوئی جواز نہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنے رہنما محمد بن سلمان کی جانب سے خطاب کیا۔

    انھوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر ایمانوئل میخواں کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے

  19. فرانس کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان: ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے‘

    French President at UNGA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گی۔

    انھوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ سے خطاب میں فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے سے قبل کہا کہ ’غزہ میں جنگ بند کرنے اور حماس کی جانب سے حراست میں لیے گئے باقی 48 یرغمالیوں کو رہا کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’چند لمحوں کی دوری ہے اور پھر دنیا امن کو روک نہیں پائے گی ‘۔

    انھوں نے مزید کہا ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔‘

    صدر میخواں نے سات اکتوبر کے حملوں کی مذمت کی اور کہا ہے کہ وہ خطے میں امن دیکھنا چاہتے ہیں جو دو ریاستوں کو ساتھ ساتھ رہنے سے پیدا کیا جائے۔

    فراسن کے صدر کا کہنا تھا کہ ’جاری جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے‘۔ ’

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر چیز ہمیں مجبور کرتی ہے‘ کہ اسے حتمی انجام تک پہنچائیں۔

  20. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اٹلی میں اسرائیل کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے باعث مختلف شہروں میں سڑکیں، ریلوے اور بندرگاہیں بند کر دی گئیں۔ میلان کے مرکزی سٹیشن کے اطراف ’فری فلسطین‘ کے نعرے اور امریکی پرچم نذر آتش کرنے پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔
    • فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ’آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہی اس صورتحال کو سیاسی حل فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے اور ایک ایسی صورتحال جس کو روکنا ضروری ہے۔‘
    • شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے جوہری ہتھیار ترک کرنے پر اصرار نہیں کریں تو ان سے بات ہو سکتی ہے۔
    • برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ یویٹ کوپر نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے جواب میں غربِ اردن کے مزید علاقوں کو ضم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔