تل ابیب کے مضافات میں اسرائیلی فوجی اڈے کے قریب ٹرک کی بس سٹاپ سے ٹکر، ایک شخص ہلاک
ٹرک ڈرائیور کی شناخت عرب اسرائیلی شہری رامی ناتور کے نام سے ہوئی ہے جسے مسلح شہریوں نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا، حکام واقعے کی ممکنہ حملے کے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔
خلاصہ
لبنان کے شہر صیدا پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں: لبنانی وزارتِ صحت۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ ایک دم نشانے پر اور بھرپور تھا۔
اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’دو روز قبل ہونے والے صیہونی حکومت کے حملے کو نہ تو بڑھاوا دیا جائے اور نہ ہی حقیر سمجھا جائے۔‘
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’ ٹیکس کے لیے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔‘
ایرانی فوج نے اسرائیلی حملوں میں مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے جس سے ہلاکتوں کی کل تعداد چار ہو گئی ہے۔
ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد متعدد حکام کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملک میں نظامِ زندگی ’معمول‘ کی طرف لوٹ آیا ہے۔
ایران کے شہر تفتان میں مسلح افراد کے حملے میں کم ازکم 10 ایرانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
لائیو کوریج
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ، 10 اہلکار ہلاک: وزارتِ داخلہ
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا
کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر حملے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف
سی) کے 10 اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔
جمعے کو پاکستان کی وزارتِ
داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ایف سی کی
چیک پوسٹ پر ’رات کی تاریکی میں‘ حملہ ہوا تھا جس میں 10 سکیورٹی اہلکار ہلاک
ہوئے۔
ترجمان وزیرِ داخلہ کے
مطابق ’شہید جوانوں نے جانیں نچھاور کر کے خوارجی دہشتگردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ
ناکام بنایا۔‘
وزارتِ داخلہ کے بیان کے
مطابق ہلاک ہونے والے ایف سی اہلکاروں میں سے چھ کا تعلق جنوبی وزیرستان اور چار
کا تعلق ضلع کرک سے تھا۔
ہلاک ہونے والے ایف سی
اہلکاروں کی شناخت نائب
صوبیدار محمد جان، نائیک عارف، لانس نائیک سعید الرحمان، سپاہی اخونزادہ، سپاہی
حضرت اللہ، سپاہی مشتاق، سپاہی عبدالصمد، سپاہی عمران خان، سپاہی بصیر اللہ اور
سپاہی مہتاب کے نام سے ہوئی ہے۔
عمران خان کی بہنوں کی ضمانت کی درخواستیں منظور، عدالت کا رہا کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف ڈی چوک احتجاج کیس میں ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے 20، 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عمران خان کی دونوں بہنوں کی ضمانتیں منظور کی ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی رہائی کی روبکار جاری کر دی۔
رہائی کی روبکار لے کر پی ٹی آئی وکلا جوڈیشل کمپلیکس سے جیل کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان 4 اکتوبر سے گرفتار تھیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کی بجائے اس کے دروازے کھول دیے: جسٹس منصور علی شاہ کا خط, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الوداعی فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے شرکت نہیں کی۔
ان میں سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔اس الوداعی ریفرنس میں مجموعی طور پر 16 ججز نے شرکت کی جن میں سپریم کورٹ کے دو ایڈہاک ججز کے علاوہ فیڈرل شریعت کورٹ کے بھی دو ججز شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے سینئیرجج جسٹس منصور علی شاہ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے الوداعی فل کورٹ میں شرکت نہ کرنے سے متعلق وضاحت جاری کی ہے۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے الوداعی فل کورٹ ریفرنس میں بھی شرکت نہیں کی تھی کیونکہ ان کی تعیناتی قواعد سے ہٹ کر کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا الوداعی ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات مذید پرشان کن ہیں۔
اپنے خط میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا کردار عوام کے حقوق کا تحفّظ کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا دفاع کرنا بھی ہے لیکن اس معاملے میں قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباؤ نظر انداز کیا۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کی بجائے اس کے دروازے کھول دیے۔
اس خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مداخلت اور اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں مداخلت قاضی فائز عیسیٰ کی ملی بھگت سے ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مداخلت پر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے رکھا۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ قاضی فائزعیسیٰ عدلتی رواداری اور ہم آہنگی قائم کرنے میں ناکام رہے اور ان کی نظر میں عدلیہ کے فیصلوں کی کوئی قدروقمیت نہیں ہے۔
قاضی فائز عیسی کے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں کہا کہ انھوں نے شرمناک انداز میں کہا کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔
انھوں نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ساتھی ججز میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی اور ججز میں تفریق کے اثار تادیر عدلیہ پر رہیں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ان کے اس خط کو فل کورٹ ریفرنس کے ریکارڈ کے طور پر رکھا جائے۔
جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ دیگر جن چار ججز نے اس الوداعی ریفرنس میں شرکت نہیں کی انھوں نے اپنی عدم شرکت کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا۔
’آزادی میں چند گھنٹے رہ گئے ہیں‘: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں اپنی اہلیہ اور ساتھی ججوں کو خراج تحسین
،تصویر کا ذریعہGoP
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کا
اجلاس جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر 1 میں ہوا۔
اس موقع پر ساتھی ججوں نے تقاریر کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ
کی بطور چیف جسٹس پاکستان خدمات کو سراہا اور ان کی تحسین کی۔
اپنی تقریر میں قاضی فائز عیسیٰ نے ساتھی ججوں کا شکریہ ادا
کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ قانون و آئین کی باتیں نہیں کریں گے بلکہ وہ باتیں بتائیں
گے جن کا لوگوں کو علم نہیں۔ اپنی تقریر کے ابتدا میں انھوں نے اپنے خاندانی پسِ
منظر کا تفصیلی احوال بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں نے میٹرک تک تعلیم بلوچستان سے حاصل
کی اور اس کے بعد میں کیمبرج چلا گیا۔ میرے دادا قندہار سے ہجرت کر کے آئے تھے۔
میرے والد اس وقت فوت ہوئے جب میں 16 برس کا تھا۔۔۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ملک میں آئینی بحران تھا تب
انھوں نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنے کام کا آغاز کیا اور اُس
وقت میں واحد جج تھا جسے وکیلوں سے سیکھنے اور بلوچستان کی غیرفعال عدالت عالیہ کا
کام شروع ہوا۔
اپنی تعیناتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ
سابق رجسٹرار ڈاکٹر فقیر محمد نے فون کر کے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری آپ کو بلا رہے ہیں۔ میں نے ریٹرن ٹکٹ بُک کیا
اور اسلام آباد پہنچا۔ یہاں افتخار چوہدری نے کہا کہ آپ جائیں اور بلوچستان
ہائیکورٹ کو سنبھالیں۔ یہاں سے راتوں رات میری زندگی بدل گئی مگر بہرحال میں
بلوچستان چلا گیا۔‘ مارگلہ میں واقع ریسٹورنٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا
تھا کہ ماحولیات کا خیال رکھنا انتہائی اہم ہے۔ ’اگر ماحول اچھا نہ رہا تو ناصرف جانوروں بلکہ
انسانوں کے لیے بھی رہنا مشکل ہو جائے گا۔‘
اپنی اہلیہ کو تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں اہم معاملات میں اُن کی
مشاورت دستیاب رہی اور انھوں نے اپنے سارے فیصلے اپنی اہلیہ کی مشاورت سے کیے۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے کاز لسٹ بنانے کے کام میں کبھی
مداخلت نہیں کی کیونکہ کون سا کیس لگنا ہے اور کون سا نہیں، یہ میرا کام نہیں ہے۔
وکیل کی جج کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم
کیس سُنتے ہیں، کاغذ کے ایک ٹکڑے پر چند سطریں لکھی ہوتی ہیں، ان کو دیکھ کر
اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بے پناہ فیصلے
ہم نے غلط کیے ہوں، سچ کیا ہے اوپر والا جانتا ہے کیونکہ ہم تو کاغذ پر چلتے ہیں
کہ اس پر جو لکھا ہے اور جو اپنا کیس ثابت
کر دے ۔‘
اس موقع پر انھوں نے ایک خاتون کی جانب سے اُن کے نام لکھا گیا خط بھی پڑھا
جس میں خاتون نے ان کے ماضی کے ایک فیصلے کو سراہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’انصاف فراہم کرنا جج کا فرض ہے اور اسی
لیے اُن کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ
’آزادی میں کچھ گھنٹے رہ گئے ہیں۔‘
بریکنگ, انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح حملے، انڈین فوج کی جانب سے الرٹ جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرانتظام کشمیرمیں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی قیادت میں نئی منتخب حکومت قائم ہوتے ہی فوج اور بڑے تعمیراتی منصوبوں پر مسلح حملوں کا
سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
گاندربل میں چینی سرحد کی طرف جانے والی شاہراہ پر بننے والی سرنگ کے قریب کام کرنے والے سات ملازمین کی ہلاکت کے صرف چار روز بعد
جمعرات کو فوج پر ایک اور مسلح حملہ ہوا۔
فوج کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے لیس گلمرگ کے بوٹا پتھری
جنگلاتی خطے میں مسلح شدت پسندوں نے فوج کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس میں دو فوجی
اور فوج کا سامان ڈھونے والے دو مقامی مزدور (پورٹرز) مارے گئے۔
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کشمیر کے سب سے بڑے سکیورٹی
ادارے ’یونیفائڈ ہیڈکوارٹر‘ کا اجلاس طلب کرکے ’دہشت گردی کے خلاف زیرو
ٹالرنس‘ کی پالیسی کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایات جاری کردی۔
اس دوران انڈین فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل
ایم وی سچندرا کمار نے وادی کا دورہ کرکے یہاں کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
اسی دوران پلوامہ کے ترال قصبہ میں ایک غیر مقامی مزدور کو نامعلوم مسلح افراد نے
گولی مار کر زخمی کردیا ہے۔
وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ان سلسلہ وار حملوں کو تشویشناک
قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے۔ یہ حملے ایسے وقت ہورہے ہیں جب عمر عبداللہ کی سربراہی والی
نئی حکومت جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کروانے کے لیے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔
کابینہ کی پہلی میٹنگ میں اس سلسلے میں جو قرار داد منظور کی گئی تھی وہی قرار داد لے کرعمرعبداللہ نے گذشتہ روز نئی دلی میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ سے
ملاقات بھی کی۔
اسی دوران بی جے پی کے ایک مقامی رہنما اشوک کول نے ایک
بیان میں کہا کہ ’جب تک دہشت گرد حملے بند نہیں ہوں گے، جموں کشمیر کا سٹیٹ ہُوڈ
بحال نہیں ہوسکتا۔‘
واضح رہے 2019 میں انڈین پارلیمنٹ نے آرٹیکل 370 کو آئین سے خارج کرکے جموں کشمیر کی
خودمختاری کو ختم کیا تھا اور ریاست کا درجہ گھٹا کر اسے دو الگ الگ مرکزی انتظام
والے خطوں میں تقسیم کیا تھا۔
پارلیمنٹ میں ’مناسب وقت پر‘ سٹیٹ ہوُڈ کی واپسی
کا وعدہ خود وزیرداخلہ امیت شاہ نے کیا تھا لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہوپایا ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 90000 پوائنٹس کی بلند ترین سطح عبور کر گیا, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کاروبار کے آغاز میں اس کا انڈیکس 90000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا جو ملکی سٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔
مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے دوران انڈیکس میں 1000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ پاکستان اسٹاک میں گزشتہ کئی روز سے تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں نے پاکستان کے معاشی اشاریوں میں بہتری کو سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ قرار دیا۔
تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تیزی کی وجہ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری کے ساتھ پارلیمان کی جانب سے گذشتہ دنوں پاس ہونے والی آئینی ترمیم بھی ہے جس کے سٹاک مارکیٹ میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ملکی سیاسی صورتحال میں اب استحکام کی امید ہے جس نے سرمایہ کاروں میں اعتماد کو بڑھایا۔
تجزیہ کار طاہر عباس نے بھی ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری کو سٹاک ایکسچینج میں کاروبار میں تیزی کی وجہ قرار دیا۔
انھوں نے کہا پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام، عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے فنانسنگ کی امید، شرح سود میں مزید کمی کا امکان، مہنگائی کی شرح میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری ملکی معیشت میں بہتری کی جانب اشارہ دیتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ملک میں شرح سود میں مزید کمی کے امکان کی وجہ سے بینکوں میں فکسڈ انکم کا پیسہ بھی سٹاک ایکسچینج میں آرہا ہے جس کی وجہ سے تیزی کو فروغ ملا۔
طاہر نے بتایا کہ اس وقت فرٹیلائزرز، بینک، تیل و گیس کے شعبوں کی کمپنیوں میں بہت زیادہ کام ہو رہا ہے جو انڈیکس میں ہیوی ویٹ کمپنیاں ہیں اور اس کہ وجہ سے انڈیکس بڑھ رہا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات شروع ہونے کی امید, ٹام بینیٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ، اسرائیل اور قطر کے حکام نے کہا ہے کہ غزہ میں ممکنہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر مذاکرات آنے والے دنوں میں دوحہ میں دوبارہ شروع ہوں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی وفد اتوار کو قطر کا دورہ کرے گا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حماس نے مذاکرات میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے یا نہیں۔
امریکہ کاخیال ہے کہ گذشتہ ہفتے حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی ہلاکت سے معاہدے کے دروازے کھل سکتے ہیں، حالانکہ حماس کا الزام ہے کہ کسی بھی معاہدے میں بڑی رکاوٹ اسرائیل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے صحافیوں سے بات چیت میں بتایا کہ ’سنوار کے جانے کے بعد یرغمالیوں کی واپسی اور مقاصد کے حصول کا موقع ہے۔‘
بلنکن کا کہنا تھا کہ مقصد کسی معاہدے تک پہنچنا تھا تاکہ ’اسرائیل جنگ ختم کرے، حماس دوبارہ بحال نہ ہو، اور فلسطینی اپنی زندگیاں اور مستقبل دوبارہ بنا سکیں۔‘
ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کے ایک وفد نے جمعرات کی شام مصری انٹیلی جنس حکام سے غزہ کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی کو روکنے کے لیے حائل رکاوٹوں پر قابو پانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
مصر کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ مصر کے اعلیٰ سطحی سکیورٹی حکام قاہرہ میں حماس کے ایک وفد سے ملاقات کریں گے۔
قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا ہے کہ سنوار کی ہلاکت کے بعد سے قطری ثالثوں نے حماس کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی ہے لیکن جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے گروپوں کے موجودہ منصوبوں کے بارے میں’کوئی وضاحت‘ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ چند دنوں میں ان کے ساتھ کچھ ملاقاتیں کی ہیں اور مصر حماس کے ساتھ بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
،تصویر کا کیپشناسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ بلنکن کا مشرق وسطیٰ کا گیارہواں دورہ ہے
اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ ’یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے مصر کی آمادگی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ‘
اس طرح کے معاہدے پر ماضی میں ہونے والی بات چیت مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن کی ایک تجویز پر مرکوز رہی ہے، جسے حماس نے ’مثبت‘ طور پر قبول کیا تھا۔
اس تجویز میں تین مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کیا گیا تھا جس کا آغاز چھ ہفتوں کی جنگ بندی سے ہوگا، جس میں اسرائیلی دفاعی افواج غزہ کے آبادی والے علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی۔ انسانی امداد میں ’اضافے‘ کے ساتھ ساتھ فلسطینی قیدیوں اور کچھ یرغمالیوں کا تبادلہ بھی ہوگا۔
پر آخر کار اس کے نتیجے میں غزہ کے لیے مستقل طور پر ’جنگ بندی‘ اور تعمیر نو کا ایک بڑا منصوبہ سامنے آئے گا۔
لیکن مذاکرات ناکام ہو گئے اور ایک اہم نکتہ نتن یاہو کی جانب سے غزہ اور مصر کی سرحد پر اسرائیلی فوج کی موجودگی پر اصرار تھا، جسے فلاڈلفی کوریڈور کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ایک سال قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ بلنکن کا مشرق وسطیٰ کا گیارہواں دورہ ہے جو جمعے کو ختم ہو رہا ہے۔
دورے کے دوران انھوں نے غزہ، مغربی کنارے اور خطے میں فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد، پانی، صفائی ستھرائی، زچگی کی صحت کے لیے اضافی 135 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی امداد کی مجموعی رقم 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
غزہ کے ایک سکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں 17 افراد ہلاک، 52 زخمی
،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ کے وسطی علاقے میں ایک سکول پر
اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 52 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
العودہ ہسپتال کی انتظامیہ کی
جانب سے خبر رساں ادارے اے ایف پی اور رائٹرز کو بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو ہونے
والے اس حملے میں نصرت پناہ گزین کیمپ کے الشہدا سکول کو نشانہ بنایا گیا۔
حماس کے زیر انتظام سرکاری میڈیا
آفس کے مطابق سکول کو بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی فضائیہ کے اس حملے کی بی
بی سی کو جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی ویڈیوز میں زخمی بچوں کو طبی امداد کے لیے
ہسپتال لے جاتہ ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کی جانب
سے حماس کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے جسے دہشت گرد اسرائیل اور اس کے
فوجیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال کر رہے
تھے۔
سرکاری میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ ’ہزاروں
بے گھر افراد‘ سکول کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے، جن میں ’زیادہ تعداد
بچوں اور خواتین کی تھی۔‘
حماس کے زیر انتظام سرکاری میڈیا
آفس کے مطابق ہلاک ہونے والے 17 افراد میں 9 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 52 سے زائد
زخمی ہیں۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے
ترجمان محمود بسال نے بھی اے ایف پی کو 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی دفاعی
افواج (آئی ڈی ایف) نے غزہ میں پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والی متعدد
عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے اور حملوں کے بعد اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے کہا
جاتا رہا ہے کہ ان کی جانب سے حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد پشاور پہنچ گئیں, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہSocial Media
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی
اہلیہ بشریٰ بی بی جمعرات کو تقریباً نو ماہ بعد اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد پشاور پہنچ
گئیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے پشاور
ریجن کے صدر ارباب محمد عاصم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی
اہلیہ کے پشاور پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو اسلام آباد
کے سپیشل جج سینٹرل شاہ رُخ ارجمند نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست
ضمانت منظور ہونے کے بعد ان کی رہائی کی روبکار جاری کردیے تھے۔
جمعرات کو بشریٰ بی بی کے دس، دس
لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں جمع کروا
گئے تھے۔
خیال رہے گذشتہ روز اسلام آباد
ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بِی بی کی
ضمانت منظور کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انھیں
رہا کر دیا جائے۔
،تصویر کا ذریعہBaber Malik
واضح رہے کہ توشہ خانہ کے ایک اور مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دی جانے والی سزائیں پہلے ہی معطل کرچکی ہے۔
اس سے قبل بشریٰ بی بی کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں بھی بری کردیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں بھی بری ہوچکی ہیں اور اب ان کے خلاف کوئی ایسا مقدمہ نہیں ہے جس میں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہوں۔
انقرہ حملے کے بعد ترکی کا عراق اور شام میں کرد ٹھکانوں پر فضائی حملہ، کم از کم 59 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترک حکومت کی جانب سے جاری ہونے
والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اُن کی فوج نے عراق اور شام میں کرد عسکریت پسند گروپ
کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ترک حکومت کا کہنا ہے کہ ان حملوں
میں 59 افراد ہلاک ہوئے ہیں جنھیں ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے برعکس شام
میں کرد عسکریت پسند گروپ پی کے کے کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال اور مشرق میں 12
شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز ترکی کے
دارلحکومت انقرہ کے قریب ہونے والے حملے کی مختلف ویڈیوز میں کم از کم دو افراد کو
ترکش ایرو سپیس انڈسٹریز کے داخلی دروازے پر حملہ آور ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، جو
دارالحکومت سے تقریبا 40 کلومیٹر دور واقع ہے۔
انقرہ کے قریب ترکش ایرو سپیس
انڈسٹریز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی بھی گروپ کی جانب سے قبول
نہیں کی گئی ہے جس میں 22 افراد زخمی ہوئے۔
ترکی کی وزارت دفاع نے ابتدائی
طور پر کہا تھا کہ جوابی حملوں میں ’دہشت گردوں کے 32 اہداف کو کامیابی سے نشانہ
بنایا گیا۔‘
تُرک صدر رجب طیب اردوغان نے ایکس
پر ایک پوسٹ میں ٹی اے آئی پر حملے کو ’گھناؤنی کارروائی‘ قرار دیا۔
تاہم اس سے قبل گزشتہ روز ترک وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پی کے کے، کے اس حملے میں ملوث ہونے کا قوی امکان ضرور ہے مگر ابھی یہ واضح نہیں لیکن اس حملے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور بہت جلد حملہ آوروں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائیں گے۔‘
کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کیا ہے؟
کردستان ورکرز پارٹی یعنی پی کے کے کئی دہائیوں سے ترکی کے لیے مُشکلات اور مسائل کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پی کے کے کی بنیاد 1970 کی دہائی کے اواخر میں رکھی گئی تھی اور اس نے 1984 میں ترک حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور ترکی کے اندر ایک آزاد کرد ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔
کینیڈا کا عارضی غیر ملکی ورکرز کی تعداد میں کمی لانے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیڈا کے وزیرِ
اعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں عارضی غیر ملکی کارکنوں
کی تعداد میں کمی لائے گی۔
سماجی رابطے کی
ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کمپنیوں کے لیے
سخت قوانین لے کر آ رہی ہے جس کے بعد ان کمپنیوں کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ کسی ملازمت
کے لیے مقامی کارکنوں کی خدمات حاصل کیوں نہیں کر سکتیں۔
خیال رہے کہ رواں
سال سے کینیڈا کی حکومت نے غیر ملکی طالبعلموں کو جاری ہونے والے ویزوں کی تعداد میں
کمی کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا اطلاق پچھلے ماہ سے ہو گیا ہے۔
کینیڈا کی حکومت کے مطابق یہ عارضی اقدامات دو سال کے لیے ہوں گے اور سنہ 2025 کے سٹڈی پرمٹس کے اجرا سے پہلے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت اوپن ورک پرمٹ صرف ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ پروگراموں کے بین الاقوامی طلبا کے شریک حیات حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ انڈرگریجویٹ اور کالج پروگراموں میں داخل بین الاقوامی طلبا کے شریک حیات اب اوپن ورک پرمٹ حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی
کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل
سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن
اورنگزیب نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی
معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی شامل کیا جائے۔
اسلام آباد ہائی
کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بورڈ تشکیل دے کر اس کی
رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کروئیں۔
عدالت نے اپنے
فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے آرڈر کی ایک کاپی سپرانٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو
بھی بھیجئے کہ ہدایت کی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن
اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان 72 سال کے
ہیں اور وہ سابق وزیراعظم اور انڈر ٹرائل قیدی ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں سکیورٹی انتظامات کسی کوالیفائیڈ ڈاکٹر کے بی
کلاس قیدی کے چیک اپ میں رکاوٹ نہیں ہو سکتے۔
سابق وزیرِ اعظم
نے اپنے ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر
کی تھی۔
توشہ خانہ کیس: عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے رہا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیرِ اعظم
عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو تقریباً نو ماہ بعد اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل اسلام
آباد کے سپیشل جج سینٹرل شاہ رُخ ارجمند نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی
درخواست ضمانت منظور ہونے کے بعد ان کی رہائی کی روبکار جاری کردیے تھے۔
جمعرات کو بشریٰ
بی بی کے دس، دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کی
عدالت میں جمع کروا گئے تھے۔
تازہ ترین
اطلاعات کے مطابق بشریٰ بی بی کی روبکار لے کر عدالتی اہلکار پی ٹی آئی کے وکلا کے
ساتھ سینٹرل جیل اڈیالہ روانہ ہو گئے ہیں۔
خیال رہے گذشتہ
روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ
بِی بی کی ضمانت منظور کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں
تو انھیں رہا کر دیا جائے۔
واضح رہے کہ
توشہ خانہ کے ایک اور مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سابق وزیر اعظم عمران خان
اور بشریٰ بی بی کو دی جانے والی سزائیں پہلے ہی معطل کرچکی ہے۔
اس سے قبل بشریٰ
بی بی کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں بھی بری کردیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک
انصاف کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ دہشت گردی کے متعدد مقدمات
میں بھی بری ہوچکی ہیں اور اب ان کے خلاف کوئی ایسا مقدمہ نہیں ہے جس میں وہ قانون
نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہوں۔
عمران خان کو وکلا سے ملاقات کے لیے آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ آج دوپہر تین بجے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کریں تاکہ وہ اپنے وکلا سے ملاقات کر سکیں۔
عمران خان سے جیل میں وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ کروانے پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر جمعرات کو جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سماعت کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 13 اکتوبر سے اب تک عمران خان کی جیل میں وکلا سے ملاقات نہیں کروائی گئی ہے۔
دوران سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کہہ رہا ہے کہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عمران خان کی وکلا سے ملاقات کروانے کے حوالے سے جاری کیے گئے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی ان کے وکلا سے ملاقات اس لیے کروائی گئی کیونکہ اس دوران عدالتی سماعتیں نہیں ہو رہی تھیں۔
انھوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 اکتوبر کے بعد سکیورٹی خطرات کے باعث ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے سرکاری وکیل کی بات پر کہا کہ عدالت سکیورٹی خطرات کو نہیں مانتی، عمران خان کو ان کے وکلا سے بھی نہیں ملنے دیا گیا اور یہ توہینِ عدالت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن ان کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وزارتِ داخلہ کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں اور بتائیں کہ کیا سکیورٹی خطرات ہیں۔
عدالت کی جانب سے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا گیا کہ اگر عمران خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا تو انتظامیہ کو سکیورٹی خطرات کے حوالے سے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔
دوران سماعت عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے کہا کہ ’اے جی صاحب، یہ توہین میرے احکامات کی ہے، وزارت داخلہ کو وضاحت دینا ہوگی کہ وہ میرے احکامات سے کیسے لاعلم رہے۔‘
قاضی فائز عیسیٰ کے بغیر 26ویں آئینی ترمیم ممکن نہیں تھی، کالے سانپ کے نام پر پورے عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی: بلاول بھٹو
،ویڈیو کیپشنبلاول بھٹو زرداری
پاکستان میں حال ہی میں پارلیمان کی جانب سے منظور کی جانے والی 26ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کردار کلیدی رہا۔ بی بی سی اردو کی فرحت جاوید کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے ترمیم کے مسودے پر کیے جانے والے اعتراضات خصوصاً فوجی عدالتوں کے معاملے پر مختلف جماعتوں کے مؤقف کے بارے میں بات کی۔
ایرو سپیس انڈسٹریز پر حملے کے بعد ترکی کی عراق اور شام میں کُردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر کارروائیاں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کی رات کو عراق اور شام میں کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ترکی کی وزارتِ دفاع کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جوابی حملے میں ’مجموعی طور پر دہشتگردوں کے 32 ٹھکانے کامیابی سے تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘
خیال رہے گذشتہ روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب واقع ترکش ایرو سپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) پر حملہ ہوا تھا جس میں پانچ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔
گذشتہ روز وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دو حملہ آوروں کو ٹی اے آئی کے داخلی دروازے کے قریب فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے تاحال قبول نہیں کی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حملے کو ’سنگین‘
جُرم قرار دیا تھا۔
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث ایک مرد اور
خاتون حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس حملے میں پی کے کے
کے ملوث ہونے کا قومی امکان موجود ہے۔
پی کے کے پر ترکی، امریکہ اور برطانیہ میں پابندی عائد ہے اور اس کے جنگجو ترکی
میں کُرد اقلیت کے حقوق کے لیے 1980 کی دہائی سے ترک ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ترک نائب صدر جودت یلماز کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے چار افراد ٹی
اے آئی کے ملازمین تھے جبکہ پانچواں شخص ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔
اس سے قبل ترکی کے مقامی میڈیا پر اطلاعات نشر کی گئیں تھیں کہ حملہ آوروں نے ٹیکسی
ڈرائیور کو قتل کر کے ان کی گاڑی کو ٹی اے آئی پر حملے میں استعمال کیا۔
اطلاعات کے مطابق ٹی اے آئی کے داخلی دروازے پر دھماکہ اس وقت ہوا جب شفٹ
تبدیل ہو رہی تھی اور اسی وقت تمام ملازمین کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی
احکامات جاری کیے گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ حملے میں زخمی
ہونے والے 22 افراد میں سپیشل فورسز کے سات اہلکار بھی شامل ہیں۔
ترک صدر اردوغان اس وقت برکس کے اجلاس میں شرکت کے لیے روس میں موجود ہیں۔
انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران انقرہ کے قریب ہونے والی عسکریت
پسندوں کی کارروائی کو ’گھناؤنا حملہ‘ قرار دیا ہے۔
بعد میں ایکس پر جاری کیے گئے ایک تفصیلی بیان میں صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ
سکیورٹی فورسز نے برق رفتاری سے عسکریت پسندوں سے نمٹا اور یہ کہ ’ہماری سکیورٹی
کو خطرے میں ڈالنے والی کوئی بھی دہشتگرد تنظیم، کوئی بھی شیطانی قوت اپنے مقاصد
میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔‘
ترک حکام نے ٹی اے آئی پر ہونے والے حملے کے حوالے سے میڈیا پر تفصیلات نشر
کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور ملک کے ایک بڑے حصے میں سوشل میڈیا صارفین یہ
شکایت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ وہ یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بُک اور ایکس تک
رسائی نہیں حاصل کر پا رہے۔
ترکی کے ریڈیو اور ٹی وی ریگولیٹر کے صدر نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے
کہ اس واقعے سے متعلق تمام تصاویر سوشل میڈیا سے ہٹا دی جائیں۔ انھوں نے سوشل
میڈیا صارفین سے گزارش کی کہ وہ بھی یہ تصاویر ڈیلیٹ کر دیں کیونکہ اس سے ’دہشتگردوں
کے مقصد کو تقویت‘ ملے گی۔
ترکی میں جنگی سازوسامان، ایف 16 اور ایروسپیس ٹیکنالوجی کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
ٹی اے آئی ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب قائم ایک سرکاری ادارہ ہے۔
یہ ادارہ سویلین اور فوجی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ڈرونز بھی بناتا ہے۔ جو نہ صرف ترک فوج استعمال کرتی ہے بلکہ دنیا بھر میں فروخت بھی کیے جاتے ہیں۔
ٹی اے آئی کی ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے کے قیام کا مقصد ایروسپیس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترکی کی دفاعی درآمدات میں کمی لانا تھا۔
یہ کمپنی ترکی میں امریکی ڈیزائن کردہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی لائسنس یافتہ مینوفیکچرر ہے۔
ٹی اے آئی ترک فوج کے استعمال کے لیے پرانے طیاروں کو جدید بنانے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ فرم ترکی کی مسلح افواج اور ترک حکومت کے دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ایک ادارے کے ماتحت ہے۔
ٹی اے آئی کا ہیڈکوارٹر انقرہ کے شمال مغرب میں 17 میل (28 کلومیٹر) کے فاصلے پر کہرامانکازان کے علاقے میں واقع ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ٹی اے آئی کا ہیڈکوارٹر تقریباً چار مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ہیڈکوارٹر میں کہاں یا کس چیز پر حملہ ہوا ہے۔
کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
کردستان ورکرز پارٹی یعنی پی کے کے کئی دہائیوں سے ترکی کے لیے مُشکلات اور مسائل کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پی کے کے کی بنیاد 1970 کی دہائی کے اواخر میں رکھی گئی تھی اور اس نے 1984 میں ترک حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور ترکی کے اندر ایک آزاد کرد ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔
جولائی سنہ 2015 میں دو سال سے جاری جنگ بندی ختم ہونے کے جھڑپوں کا ایک مرتبہ پھر آغاز ہوا۔ پھر جولائی سنہ 2016 میں ترک حکام کی جانب سے صدر رجب طیب اردوغان کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد پی کے کے کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔
پی کے کے کو ہی عراق اور شام میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
انقرہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی، کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے: ترک وزیرِ داخلہ
،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا کا کہنا ہے کہ ’انقرہ میں دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔‘
علی یرلیکایا کے مطابق سکیورٹی اداروں نے ترکش ایرو سپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) پر حملہ کرنے والے دو افراد کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے میں کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔‘
ترک وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پی کے کے، کے اس حملے میں ملوث ہونے کا قوی امکان ضرور ہے مگر ابھی یہ واضح نہیں لیکن اس حملے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور بہت جلد حملہ آوروں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائیں گے۔‘
واضح رہے کہ ترک وزیرِ داخلہ سے قبل مُلک کے وزیرِ دفاع نے بھی اس حملے کے ذمہ داری کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے پر ہی عائد کی تھی۔
انقرہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی امور کے نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی میں دہشت گردانہ حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔
ترکی ماضی میں ہونے والے اکثر حملوں کا الزام کرد علیحدگی پسندوں پر لگایا آیا ہے۔
ترک فضائیہ شمالی شام اور خطے کے دیگر علاقوں میں ان علیحدگی پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بناتی آئی ہے۔
تاہم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی ترکی میں موجودگی بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔
اس کے علاوہ ٹی اے آئی کی اپنی اہمیت ہے جس کے تیار کردہ ڈرونز نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ کا رخ مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
روس کے حملے بعد یوکرین نے روسی ٹینکوں کو نشانہ بنانے کے لیے ترک ساختہ بیراکتر آقنجی ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ بعد ازاں یوکرین نے مقامی طور پر بڑے پیمانے پر ڈرونز تیار کرنے شروع کر دیے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے اور اس سے فائدہ کون اٹھا سکتا ہے؟
اردوغان کی انقرہ حملے کی مذمت، ’کوئی دہشت گرد تنظیم اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ ہلاک ہونے والوں کے لیے دُعا گو ہوں۔‘
واضح رہے گذشتہ روز انقرہ کے قریب کہرامانکازان میں قائم ترکش ایرو سپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) پر عسکریت پسندوں کے حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روس میں ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر والادیمیر پوتن نے انقرہ کے قریب جنگی سازوسامان بنانے والی سرکاری کمپنی کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور ہلاک ہو جانے والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ ’ہمارے ملک کی بقا اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘
حال ہی میں ایکس پر شیئر کیے گئے ایک طویل بیان میں اردوغان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی دہشت گرد تنظیم ہماری سلامتی کو نشانہ بنانے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی گی۔‘
روس میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر والادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد صدر کا کہنا ہے کہ وہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ملازمین کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ’ہماری دفاعی صنعت کے لیے فخر کا باعث ہیں۔‘