تل ابیب کے مضافات میں اسرائیلی فوجی اڈے کے قریب ٹرک کی بس سٹاپ سے ٹکر، ایک شخص ہلاک

ٹرک ڈرائیور کی شناخت عرب اسرائیلی شہری رامی ناتور کے نام سے ہوئی ہے جسے مسلح شہریوں نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا، حکام واقعے کی ممکنہ حملے کے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

خلاصہ

  • لبنان کے شہر صیدا پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں: لبنانی وزارتِ صحت۔
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ ایک دم نشانے پر اور بھرپور تھا۔
  • اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
  • ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’دو روز قبل ہونے والے صیہونی حکومت کے حملے کو نہ تو بڑھاوا دیا جائے اور نہ ہی حقیر سمجھا جائے۔‘
  • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’ ٹیکس کے لیے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔‘
  • ایرانی فوج نے اسرائیلی حملوں میں مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے جس سے ہلاکتوں کی کل تعداد چار ہو گئی ہے۔
  • ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد متعدد حکام کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملک میں نظامِ زندگی ’معمول‘ کی طرف لوٹ آیا ہے۔
  • ایران کے شہر تفتان میں مسلح افراد کے حملے میں کم ازکم 10 ایرانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. شہباز شریف کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت: ’پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے‘

    پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف

    ،تصویر کا ذریعہRadio pakistan

    پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے ایران کے خلاف اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان قیام امن اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران اور اپنے دیگر پڑوسی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اس قسم کی کارروائی نہ صرف خطے میں امن واستحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ خود مختاری کے اصولوں اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ہیں۔

    وزیراعظم نے فریقوں پرزوردیا کہ کشیدگی کوکم کرنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    دوسری جانب پاکستانی دفترخارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت پر اسرائیلی فوجی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان حملوں سے نہ صرف علاقائی امن واستحکام کو خطرہ لاحق ہے بلکہ پہلے سے عدم استحکام کا شکار خطے میں تنازع میں شدت کا باعث ہے۔

    بیان میں دفترخارجہ کی ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زوردیا ہے کہ وہ عالمی امن وسلامتی قائم رکھنے کے لیے اپنا کردارادا کرے اور خطے میں اسرائیلی جارحیت اور اس کے مجرمانہ رویے کے خاتمےکے لیے فوری اقدامات کرے۔

  2. اسرائیلی حملے ایرانی خودمختاری کی سراسر خلاف ورزی ہیں: حماس

    ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حماس نے رات گئے ایران میں فوجی مقامات پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    سنیچر کے روز ایک بیان میں حماس نے کہا کہ یہ حملے ایرانی خودمختاری کی سراسر خلاف ورزی‘ اور ’خطے کی سلامتی کو نشانہ بنانے کی کوششیں ہیں۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اسرائیلی حملوں کے اثرات کو زائل کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور حماس فلسطینی عوام اور ان کے مقاصد کے حصول کے لیے ایران کی حمایت کا خیر مقدم کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے مطابق ان حملوں میں اس کے دو فوجی مارے گئے ہیں۔

  3. ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے: ایرانی وزارت خارجہ

    اسرائیل کی جانب سے رات گئے جوابی فضائی حملوں کے تناظر میں اب ایران نے کہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی اور واضح خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران غیر ملکی جارحیت کے خلاف خود کو اپنے دفاع کا حقدار اور پابند سمجھتا ہے۔‘

  4. ایران جانتا ہے کہ اگر اس نے دوبارہ حملہ کیا تو اسرائیل پہلے سے بھی زیادہ سخت جواب دے گا, لیز ڈوسیٹ، سربراہ بین الاقوامی نامہ نگار

    ایران کی ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ مسافر پروازیں شیڈول کے مطابق اڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ ایرانی ٹی وی چینلز کے مطابق شہر میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے کیونکہ وہ اب مختلف صوبوں سے اس کی تصاویر بھی نشر کر رہے ہیں۔

    ایران کے سرکاری موقف کے مطابق اسرائیلی حملوں میں صبح کے اوائل میں فوجی مراکز پر ہونے والے حملوں کو ایران کے فضائی دفاع نے ’کامیابی سے روکا۔‘

    اب تک ایران نے صرف ’محدود نقصان‘ اور دو ایرانی فوجیوں کی ہلاکت سے آگاہ کیا ہے۔ اپریل میں اسرائیل کے پہلے بڑے پیمانے پر علامتی حملے کے بعد ایران نے اس کی اہمیت کو مسترد کر تے ہوئے اس پر بات نہیں کی اور اس بار بھی اس کو دوبارہ دبانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

    تہران کو یہ بھی اندازہ لگانے کی ضرورت ہوگی کہ اس کے فضائی دفاع کو کتنا نقصان پہنچا ہے اور یہ بھی کہ اگر اس کے باوجود بھی اگر اس نے دوبارہ حملہ کیا تو اسرائیل اس سے بھی زیادہ سخت جوابی حملہ کرے گا۔

    اسلامی جمہوریہ ایران اس خطرناک جنگ میں نہیں جانا چاہتا، اپنے اگلے اقدام کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کو اپنے ملک کے اندرونی حالات، خطے میں جوابدہ ہونے کے لیے تیار ہونا پڑے گا بلکہ ساتھ ہی ساتھ سیاسی رد عمل کو بھی مد نظر رکھنا پڑے گا۔

  5. اسرائیلی حملوں سے ایران کے دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے: ایرانی سرکاری میڈیا

    ایرانی فوج نے صبح سویرے ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اپنے دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نے ایران کی فوج کی جانب سے جاری اعلامیے کو نشر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’گزشتہ رات ایران کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے میزائلوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے مطابق میجر جہاندیہ اور استوار شاہروخفار ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات ابھی تک ایرانی حکام اور میڈیا کی جانب سے شائع نہیں کی گئیںکہ یہ دونوں فوجی دستے کیسے مارے گئے اور وہ کہاں موجود تھے۔

    یو اے ای کی ایران پر حملے کی مذمت

    ادھر متحدہ عرب امارات نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کرنے پر بھی زور دیا ہے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی نہ پھیلے۔

    ’عراق میں مسافر طیاروں کے لیے فضائی حدود کھول دی گئی‘

    دوسری جانب عراق کے وزیر ٹرانسپورٹ رزاق محبیس نے ملکی فضائی حدود میں پروازیں دوبارہ شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

    خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق عراقی وزارت ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عراق میں شہری ہوابازی کی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ نے تمام ہوائی اڈوں پر تمام مسافر طیاروں کے لیے فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔

    اس سے قبل ایران نے بھی فضائی حدود کو تھوڑی دیر پہلے بحال کر دیا تھا جنھیں حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

  6. ’حملے اور جوابی حملے روکنا مشکل ہوتا ہے، اب دیکھنا ہے کہ ایران کیا ردِ عمل دیتا ہے‘, جیرمی بوون، انٹرنیشل ایڈیٹر، یروشلم

    اسرائیلی حملے متوقع تھے خاص طور پر یکم اکتوبر کو ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے بعد سے۔ جیسا کہ اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ ایسا کریں گے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران اس کا جواب دے گا؟

    صدر بائیڈن نے اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ ایران کی جوہری، تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنائے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس موقعے پر ان کا مشورہ مان لیا ہے۔

    امریکیوں کو امید ہے کہ صرف فوجی اہداف پر حملے ایران کو اسرائیل پر حملوں کا ایک اور دور شروع نہ کرنے پر قائل کر سکتے ہیں۔

    حملوں اور جوابی حملوں کے لگاتار دور کو روکنا مشکل ہوتا ہے خاص طور پر جب متعلقہ ممالک کو یقین ہو کہ اگر انھوں نے جواب نہیں دیا تو انھیں کمزور سمجھا جائے گا۔

    اس طرح جنگیں بڑھتی ہیں اور بدتر ہوتی جاتی ہیں۔

    یکم اکتوبر کو ایران اپنے اتحادیوں بالخصوص لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی حملہ کر رہا تھا۔

    اب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے کئی ماہ سے جاری مسلسل حملوں کا جواب دے رہا ہے جس میں نہ صرف بیلسٹک میزائل بلکہ ایران کے اتحادیوں اور پراکسیوں کی جانب سے بھی حملے شامل ہیں۔

    اسرائیل شمالی غزہ میں بھی ایک بڑی کارروائی کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اسے غزہ کی جنگ کا سیاہ ترین لمحہ قرار دیا ہے جس میں اسرائیلی فوج نے پوری آبادی کو بمباری، محاصرے اور بھوک کے خطرے کا نشانہ بنایا ہے۔

    یہ جاننا ذرا مشکل ہے کہ آیا ایران پر اسرائیل کے حملوں کے لیے وقت کا انتخاب شمالی غزہ سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا یا نہیں لیکن منصوبہ بندی کے دوران اس پر غور ضرور کیا گیا ہو گا۔

  7. بریکنگ, ایران نے حالیہ حملوں کی قیمت ادا کی ہے: اسرائیلی فوج

    اسرائیل کی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ایک نئے بیان میں نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر اپنے حالیہ حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنا کر حملے کیے۔

    ان اہداف میں میزائل بنانے کی تنصیبات، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور دیگر فضائی صلاحیتیں شامل ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان مقامات کا انتخاب ممکنہ اہداف کی فہرست ’براڈ ٹارگٹ بینک‘ سے کیا ہے اور وہ ’اس فہرست میں سے اضافی اہداف کا انتخاب کرکے ضرورت پڑنے پر ان پر بھی حملہ کرکے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو لوگ اسرائیلی ریاست کے لیے خطرہ بنیں گے انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔'

    یاد رہے کہ ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر 200 کے قریب بیلسٹک میزائل داغے اور ایرانی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ ’اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو ایران مزید حملے کرے گا۔‘

    اس سے قبل رواں سال اپریل میں شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی جانب ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔

  8. سعودی عرب کی جانب سے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب نے اسرائیل کی جانب سے ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اس کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو کم کریں۔

    سعودی عرب نے خطے میں جاری فوجی تنازعات کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

    سعودی عرب نے عالمی برادری اور بااثر اور فعال فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنا کردار اور ذمہ داریاں ادا کریں۔

  9. خلیجی عرب اتحادیوں کی گھبراہٹ امریکہ کو زیادہ دیر غیر متعلق نہیں رہنے دے گی, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    خطے میں ہر کوئی جانتا تھا کہ اسرائیل کا جواب آنے والا ہے لیکن کم از کم کچھ ممالک کو یہ توقع تھی کہ اسرائیل امریکی صدارتی انتخابات کے بعد تک انتظار کرے گا۔

    امریکہ کے خلیجی عرب اتحادیوں کے پاس گھبرانے کی ہر وجہ ہے خاص طور پر آج صبح جب وہ اس انتظار میں ہیں کہ ایران کس طرح جواب دیتا ہے۔

    خلیج کے عرب حصے میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا بحرین میں ایک سٹریٹجک بندرگاہ سے کام کر رہا ہے۔

    امریکہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایران پر اس حملے میں ملوث نہیں تھا لیکن اپنے تھاڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کو چلانے کے لیے اسرائیل میں تقریبا 100 فوجی اہلکاروں کو تعینات کرنے کے بعد امریکہ اب کسی بھی ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خلاف اسرائیل کے دفاع میں مدد کرنے میں ملوث ہوسکتا ہے۔

    دریں اثنا خلیجی عرب حکومتیں جو اس تنازعے سے دور رہنے کی خواہاں ہیں انھوں نے حال ہی میں ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے ممالک کو ایران پر اسرائیلی حملے میں استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

    سعودی عرب کے لیے ابھی اس بات کی یادیں ابھی معدوم نہیں ہوئیں کہ کس طرح عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا 2019 میں ایک ڈرون اور میزائل حملے میں اس کی پیٹرو کیمیکل تنصیبات کو کتنی آسانی سے شدید نقصان پہنچانے میں کامیاب رہی تھی۔

  10. بریکنگ, ایران نے مختصر تعطل کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کر دیں

    ایران نے سنیچر کے روز ملک میں متعدد فوجی مقامات کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے کے بعد مختصر معطلی کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

    سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی نے سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے ’سنیچر ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9:00 بجے سے پروازیں معمول پر آجائیں گی۔‘

  11. ’اب ایران پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح جواب دے‘, سباسٹین اُشر، مشرق وسطی کے علاقائی مدیر

    ایران سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران کے اوپر آسمان پر روشن چیزیں گردش کر رہی ہیں اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

    ایرانی میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے تہران کے مغرب کو نشانہ بنایا ہے لیکن اب تک اس نے زیادہ نقصانات ظاہر نہیں کیے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے مجموعی طور پر تین حملے کیے۔

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے وہاں بھی بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں۔

    شام کے صدر بشار الاسد اقتدار میں رہنے کے لیے طویل عرصے سے ایرانی فوجی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔

    پینٹاگون نے فوری طور پر کہا کہ اسے اسرائیل کی جانب سے پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا اور اس کارروائی میں امریکہ کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

    ایک امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ ان اہداف میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ یا جوہری تنصیبات شامل نہیں ہیں اور یہ کہ بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ حملہ نہ کرے۔

    اب یہ ایرانی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح جواب دے۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کو مناسب رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اسرائیلی فوج پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر ایران کشیدگی میں اضافے کا ایک نیا دور شروع کرنے کی غلطی کرتا ہے تو وہ جوابی کارروائی کا پابند ہوگا۔

  12. بریکنگ, امریکہ کا ایران سے جوابی کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ

    ایران، امریکہ، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کا جواب نہ دے۔

    امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر ایران نے ایک بار پھر جواب دینے کا فیصلہ کیا تو ہم تیار رہیں گے اور ایک بار پھر ایران کے لیے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکہ ایسا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست حملوں کے تبادلے کا اختتام ہونا چاہیے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ’لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کی قیادت کرنے‘ اور اسرائیل سے پکڑے گئے یرغمالیوں کی واپسی سمیت غزہ میں جنگ بندی کے حصول کی کوشش کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یہ بھی پڑھیے

    آئی ڈی ایف کا ایران میں میزائل بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر سنیچر کے روز ایران پر فضائی حملے کیے اور اس کے فضائیہ کے طیاروں نے وہ میزائل بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو ایران نے رواں سال اکتوبر اور اپریل اسرائیل پر داغے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ ہی آئی ڈی ایف نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور اضافی ایرانی فضائی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جن کا مقصد ایران میں اسرائیل کی فضائی آزادی کو محدود کرنا تھا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اپریل اور اکتوبر میں ایران کے حملوں اور خطے میں اس کے پراکسیوں کی حمایت علاقائی استحکام اور سلامتی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

  13. ایران کی اپنے فوجی اڈّوں پر حملوں کی تصدیق اور اسرائیل کا کہنا کہ ’حملے مکمل ہو گئے‘

    ایران کی فضائی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے تہران، خوزستان اور ایلام صوبوں میں اس کے اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا ہے لیکن کچھ مقامات پر ’محدود نقصان‘ ہوا ہے۔

    ادھر اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجی ٹھکانوں پر حملے مکمل ہو چکے ہیں۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کچھ دیر پہلے، آئی ڈی ایف نے ایران کے متعدد علاقوں میں فوجی اہداف کے خلاف درست اور ہدف کے حملے مکمل کیے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ہمارے طیارے بحفاظت گھر واپس آ گئے ہیں۔‘

    بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس نیوز سے بات چیت کرنے والے دو دفاعی عہدیداروں کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیل میں اپنے ہم منصب وزیر دفاع یویو گیلنٹ سے بات کی ہے۔

  14. بریکنگ, ایران اور عراق نے اپنی اپنی فضائی حدود بند کر دیں، تمام پروازیں معطل

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کے سرکاری میڈیا ایجنسی ارنا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

    ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے ارنا کو بتایا کہ ملک نے تمام پروازیں تاحکم ثانی منسوخ کردی ہیں۔

    اس سے پہلے عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر نے کا اعلان کیا ہے۔

    عراق کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا تھا کہ وہ خطے میں جاری فوجی آپریشن کے پیش نظر ملک کی فضائی حدود کو بند کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی این اے کے حوالے سے بتایا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث تمام ہوائی اڈوں پر فضائی آمدورفت تاحکم ثانی معطل کر دی گئی ہیں۔

  15. کیا اسرائیل نے ایران پر حملوں کے حوالے سے امریکی انتباہ پر دھیان دیا؟, سباسٹین اُشر، مشرق وسطیٰ کے علاقائی مدیر

    ایران کے سرکاری میڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ دارالحکومت تہران اور اس کے ارد گرد دھماکے ہوئے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ اہداف کیا تھے اور کیا انھیں اسرائیل نے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

    پاسداران انقلاب کے قریبی نیوز سائٹس نے کہا ہے کہ کچھ فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن فی الحال کم از کم ایرانی میڈیا نقصانات کو کم بتا رہا ہے۔

    جو کچھ ہوا ہے اس کی حقیقی نوعیت ایرانی حکام کی طرف سے ہی سامنے آئے گی۔

    تاہم شاید اسرائیل اپنے حملے کی تفصیلات ظاہر کرنے میں اجلت سے کام لے لیکن اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا وہ ایک اور حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔

    پینٹاگون نے بریفنگ دی ہے کہ امریکہ کو اسرائیل کے منصوبوں سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا اور اس آپریشن میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ یہ بات اس لحاظ سے اہم ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کو تصادم کی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لیے واشنگٹن کوشش کر رہا ہے۔

    امریکہ اس بات کا بھی انتظار کرے گا کہ آیا اسرائیل کے اہداف فوجی اہداف تک محدود ہیں یا اس سے آگے بڑھ کر ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک تنصیبات کو شامل کیا جائے گا اور ممکن ہے کہ اس سے تہران کی جانب سے ایک اور بڑا ردعمل سامنے آئے۔

    فی الحال اسرائیل نے واشنگٹن کے انتباہوں پر کسی حد تک کان دھرے ہیں اور ایرانی حکام کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے اپنے پرعزم منصوبوں پر قدرے لگام لگائی ہے۔

  16. اسرائیل کے ایران میں حملوں کے دوسرے سلسلے میں پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات نشانے پر

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنتہران شہر کا ایک منظر

    اسرائیل کے تین اہم ٹیلی ویژن سٹیشنز نے ایران پر اسرائیلی حملوں کے دوسرے سلسلے کے حوالے سے خبر دی ہے۔

    اسرائیلی چینل 12 نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی حملوں میں مشرقی تہران اور پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    چینل 12 نے یہ بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی پہلی لہر میں میزائل کی پیداوار اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق نئے دھماکوں کے بعد وسطی تہران میں آسمان پر مسلسل دھماکے اور روشنی دیکھی جا سکتی ہیں۔

    ایک اسرائیلی اہلکار نے امریکی سی بی ایس چینل کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ تہران کے وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے چند منٹ قبل تک اسرائیلی حملے جاری تھے۔

    ادھر تسنیم خبر رساں ایجنسی نے پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’ایران اسرائیل کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘

    تسنیم کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ’ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کو کسی بھی کارروائی کا متناسب جواب ملے گا۔‘

    شام میں بھی حملے

    دوسری جانب شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے سانا کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایجنسی فرانس پریس نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ شامی فضائی دفاع نے میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔

    عراق نے ہفتے کے روز اپنے تمام ہوائی اڈوں پر فضائی ٹریفک اور پروازیں بند کر دیں۔

    عراقی وزارت ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ ’علاقائی کشیدگی‘ کے پیش نظر اور مسافروں کی حفاظت کے لیے تمام پروازیں اگلی اطلاع تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔

  17. اسرائیل کے حملے ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کا ردِ عمل

    ایران اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران میں فوجی اہداف پر درست حملے کیے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کون سے مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور نقصان کی حد کیا ہے۔

    اس سے قبل امریکہ نے اسرائیل کو متنبہ کیا تھا کہ وہ جوہری اور تیل کے مقامات پر حملوں سے گریز کرے جس سے خطے میں تنازعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    یہ حملے ایران کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیل پر 200 بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ جوابی حملہ کرے گا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب اور کن مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ، حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے آپریشن کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عباس نیلفورشان ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اب تک ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد ایران کی جانب سے یہ ایک عام ردعمل ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شدید نقصان یا ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں تو صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

    شام میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی نے شام کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام کی فضائی دفاعی فورسز نے میزائلوں کو روکا اور انھیں مار گرایا۔

    پینٹاگون کے مطابق اس حملے میں امریکہ ملوث نہیں تھا۔ وائٹ ہاؤس نے ان حملوں کو ایک دفاعی اقدام قرار دیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس حملوں کے بعد ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    ایران پر اسرائیلی حملوں کا لیک منصوبہ

    یاد رہے کہ گذشتہ جمعے کو ایک ٹیلی گرام چینل نے ’مڈل ایسٹ سپیکٹیٹر‘ کے ذریعے کچھ مبینہ خفیہ امریکی دستاویزات شائع کی تھیں جن میں امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے اسرائیلی منصوبے کا جائزہ لیا گیا تھا۔

    چینل نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دستاویزات امریکی انٹیلیجنس سے وابستہ ایک اہلکار نے انھیں فراہم کی ہیں۔

    امریکی خفیہ امریکی دستاویزات لیک ہونے سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔

    امریکی سپیس انٹیلیجنس ایجنسی اور امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے تیار کردہ یہ دستاویزات ’فائیو آئیز‘ یعنی امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے پانچ ملکی انٹیلیجنس اتحاد کے ساتھ شئیر کی جانی تھیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخاب میں چار ہفتوں سے بھی کم وقت بچا ہے اور ایسی صورتحال میں وائٹ ہاؤس ایرانی تیل کی تنصیبات پر کسی بھی ایسے حملے کا خیرمقدم نہیں کرے گا جس کا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے اور نہ ہی وہ مشرق وسطیٰ کی ایک اور جنگ میں گھسیٹا جانا چاہے گا۔

    یاد رہے ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر تقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں سے زیادہ تر فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    اس سے قبل رواں سال اپریل میں شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی جانب ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔

  18. بریکنگ, اسرائیل کے ایران میں ’عسکری اہداف‘ پر حملے، تہران میں دھماکوں کی آوازیں

    تہران

    جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسرائیل کی جانب سے ایران میں میزائل حملے کیے گئے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا ہدف کیا تھا۔ اب تک اسرائیل نے صرف یہ کہا ہے کہ وہ ’عسکری اہداف‘ پر حملے کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران کے دو ہوائی اڈوں پر آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔

    فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینیئر فیلو بہنام بن طالبلو نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے نیم سرکاری میڈیا اداروں پر موجود تصاویر اور ویڈیوز ایسا تاثر دے رہی ہیں کہ سب کچھ پرسکون ہے لیکن یہ اس کے بالکل برعکس ہے جو ہم ملک میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں۔

    ایران کی سلامتی اور سیاسی امور پر نگاہ رکھنے والے طالبلو کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیل صرف میزائلوں کی پیداواری تنصیبات کو ہدف بنا رہا ہے یا پاسداران انقلاب کا پورا ایرو سپیس نیٹ ورک اس کے نشانے پر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک ہم جن اہداف کو دیکھ رہے ہیں ان کی بنیاد پر اس کا مقصد ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے خطرے کو ختم کرنا ہے۔

    بی بی سی کے فارسی نیوز پروگراموں کے میزبان جمال الدین موسوی جو یروشلم گئے تھے، کہتے ہیں ’ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حملے محدود تھے اور ایران کی تیل یا جوہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔‘

    ایران کے سوشل میڈیا صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے جنوبی تہران میں امام خمینی ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کی آواز سنی اور کہا کہ آواز بہت قریب تھی۔

    ایک صارف نے لکھا ’تہران کے لوگ 2 بج کر 14 منٹ پر یکے بعد دیگرے 3 دھماکوں کی خوفناک آواز سے بیدار ہوئے۔‘

    کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ تہران-کاراج روڈ کے 9 کلومیٹر پر دھماکے کی آواز سنی گئی۔

    ایک صارف نے لکھا ’ہم نے 7 خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔‘

    ’امریکہ حملوں میں شامل نہیں‘

    ادھر امریکہ میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل ایران میں حملے ’اپنے دفاعی عمل‘ کے طور پر کر رہا ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو بتایا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے یکم اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر حملے کر رہا ہے۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس، جو آج رات ٹیکساس میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، دونوں کو ایران پر اسرائیل کے حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔

    ایک امریکی عہدیدار نے بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کو ’بریفنگ دے دی گئی ہے اور وہ اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

    ایک امریکی دفاعی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح ایران پر اسرائیل کے فضائی حملے میں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو اس آپریشن کا پہلے سے علم تھا۔

    یہ بھی پڑھیے

    ایرانی میڈیا کی رپورٹنگ

    بی بی سی فارسی سے تعلق رکھنے والے بہمن کلباسی نے کہا کہ ایران کا سرکاری میڈیا فی الحال ان حملوں سے کوئی بڑا نقصان ہونے کی تردید کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ وہ حملے ناکام رہے۔

    کلباسی نے کہا کہ تاریخی طور پر ایران کی طرف سے یہ ایک عام ردعمل رہا ہے جب بھی اس پر کوئی حملہ کیا گیا۔ اور یہ محض بدلے کا تاثر ختم کرنے کے لیے ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ لیکن یہ حکمت عملی اس صورت میں ناکام ہو سکتی ہے جب نقصان کو ظاہر کرنے والے ثبوت موجود ہوں یا کوئی جانی نقصان ہوا ہو۔

  19. جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 38 افراد ہلاک: غزہ کی وزارت صحت

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 38 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    امدادی کارکنوں نے بتایا کہ جنوبی شہر خان یونس کے مضافات میں ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے نو بچے بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ خان یونس کے واقعے کی جانچ کر رہی ہے۔ لیکن اس سے قبل، اس نے اعلان کیا تھا کہ فوجیوں اور طیاروں نے گذشتہ روز جنوبی غزہ میں متعدد فلسطینی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    یہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر علاقے کے شمال میں کام کرنے والے آخری ہسپتالوں میں سے ایک پر چھاپہ مارا۔

    ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس کا محاصرہ زدہ جبالیہ کے علاقے کے قریب واقع شمالی قصبے بیت لاہیا کے کمال عدوان ہسپتال میں طبی ماہرین سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے وہاں کے عملے، مریضوں اور بے گھر افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی افواج کمال عدوان کے علاقے میں ’شدت پسندوں کی موجودگی کے حوالے سے‘ انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کر رہی ہیں۔

    حالیہ ہفتوں میں جبالیہ میں اسرائیل کی جانب سے ایک نئی زمینی کارروائی میں مبینہ طور پر سینکڑوں فلسطینی ہلاک اور دسیوں ہزار بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد حماس کے جنگجوؤں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا ہے۔

  20. اسلام آباد میں قیدی وینز پر ’حملے‘ میں فرار ہونے والے افراد کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا: آئی جی

    پولیس، اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہPolice

    * اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سنگجانی ٹول پلازہ کے قریب قیدی وینز پر حملے اور قیدیوں کی فرار ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے آئی جی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ تین قیدی وینز میں 82 ملزمان موجود تھے جنھیں پیشی کے بعد اٹک جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ نامعلوم ملزمان کے حملے کے بعد کچھ قیدی وین سے فرار بھی ہوئے لیکن انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ وین میں سوار ملزمان میں خیبرپختونخوا پولیس کے وہ اہلکار بھی موجود تھے جنھیں اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران حراست میں لیا تھا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق وینز میں سوار قیدیوں کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے بعد واپس اٹک جیل منتقل کیا جا رہا تھا اور اسی وقت سنگجانی ٹول پلازہ کے قریب نامعلوم افراد نے گاڑیوں پر فائرنگ کی جس میں کچھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق ان قیدی وینز میں پی ٹی آئی کے دو اراکینِ صوبائی اسمبلی، خیبر پختونخوا پولیس کے 34 اہلکار اور ریسکیو 1122 کے 42 ملازمین شامل تھے۔

    واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس وینز پر اسلحے، ڈنڈوں اور پتھروں سے لیس ملزمان نے حملہ کیا جو کہ چار گاڑیوں میں سوار تھے۔

    ترجمان کے مطابق حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین حملہ آوروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ملزمان کے وکیل انصر محمود کیانی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے دو اراکینِ خیبر پختونخوا اسمبلی، 34 پولیس اہلکاروں اور ریسکیو 1122 کے 42 افراد کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا تھا۔

    ملزمان کے وکیل انصر محمود کیانی کا کہنا تھا کل سارے ملزمان کو کل ضمانت ملی اور آج سیکرٹریٹ پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پی ٹی آئی کا مؤقف

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ سنگجانی تھانے میں درج کیے گئے مقدمے میں عدالت نے ’ہمارے 82 افراد‘ کو ڈسچارج کر دیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انھیں سیکریٹریٹ میں ایک اور مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا ہے۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ وینز میں سوار افراد میں پی ٹی آئی کے اراکینِ صوبائی اسمبلی اور سرکاری ملازم بھی شامل تھے۔

    شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ ’جب ان لوگوں کو اٹک جیل منتقل کر رہے تھے تو اچانک فیصل ٹاؤن کے قریب سے گاڑیوں کو واپس موڑا گیا 26 نمبر کے پاس اور پھر ترنول کی حدود میں انھیں روک کر ترنول تھانے کے ایس ایچ او اور ان کی ٹیم نے ان گاڑیوں کے شیشے توڑے، دورازے کھولے اور زبردستی تمام لوگوں کو باہر نکالا اور انھیں کہا کہ آپ یہاں سے بھاگیں۔‘