انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ممکنہ سیلاب کے انتباہ جاری کیے گئے، انڈین میڈیا کا دعویٰ
انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اسلام آباد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ممکنہ سیلاب سے متعلق انتباہ جاری کیے تھے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی ریاستوں شدید بارشوں کے باعث بڑے ڈیمز سے پانی چھوڑا گیا جس کے بارے میں پاکستان کو مطلع کیا گیا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلاب کا ’قوی امکان‘ ہے۔
خلاصہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی شب بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد ایک بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 13 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے ہیں
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملے میں ملوث پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے
ادھر صوبہ پنجاب میں دریائے توی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام کے مطابق حالیہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے متاثرین کی تعداد 24 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 26 اگست سے اب تک مختلف واقعات میں 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اور اب تک 32 سو دیہات متاثر ہوئے ہیں
لائیو کوریج
زلزلے سے متاثرہ خواتین کے علاج میں تاخیر کے خدشات, شعیب شریقی، بی بی سی
اگرچہ ہم ہسپتالوں میں خواتین یا بچوں کی کوئی تصویر نہیں دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ یقیناًً متاثرہ افراد میں شامل ہیں۔
ایک مقامی فری لانس رپورٹر ابھی جلال آباد کے مرکزی ہسپتال پہنچے ہیں، جہاں اُنھوں نے تصدیق کی کہ وہاں خواتین مریض ہیں جنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا ہے۔
لیکن رپورٹر کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں اس وقت خواتین سے کہیں زیادہ مرد ہیں۔
کنڑ ایک بہت قدامت پسند علاقہ ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ خواتین کا بعد میں علاج کیا جائے۔
یہ بھی خدشہ ہے کہ شاید کچھ خواتین نے علاج کے لیے جانے سے گریز کیا ہو یا اُنھوں نے اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہسپتال جانے کے لیے صبح ہونے کا انتظار کیا ہو۔
سنہ 2022 میں پکتیکا میں آنے والے زلزلے کے دو روز بعد ہسپتالوں میں زخمی خواتین مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت کوئی خاتون ریسکیو ورکر متاثرہ علاقوں میں موجود نہیں ہے۔
’خوف اور دہشت کا ماحول تھا‘, ٹام جوئنر, بی بی سی
آدھی رات کے قریب جب زلزلہ آیا تو فرید اللہ فضلی دریائے کنڑ کے کنارے اسد آباد میں واقع اپنے گھر میں گہری نیند سو رہے تھے۔
زلزلے کے جھٹکے سے وہ جاگ گئے۔ انھوں نے واٹس ایپ کے ذریعے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ایک بہت زور دار زلزلہ آیا، اس کے ساتھ آوازیں بھی آئیں جو بہت خوفناک تھیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں صبح تک نیند نہیں آئی۔ زلزلے کے بعد آفٹر شاکس محسوس ہوتے رہے اور اب بھی ہو رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اُنھوں نے کپڑے پہنے اور جلدی سے لوگوں کی مدد کے لیے شہر کے کلینک کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کلینک پر پہلے سے ہی لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔
فرید اللہ فضلی کہتے ہیں کہ اُنھوں نے مرنے والوں اور زخمیوں کو ننگرہار کے جنوب میں واقع ہسپتالوں میں منتقل کرنے میں ریسکیو ورکرز کی مدد کی۔
اُن کا کہنا تھا یہ بہت ہی خوفناک صورتحال تھی، صرف خوف اور دہشت کا ماحول تھا۔
ہر پانچ منٹ بعد ایک زخمی ہسپتال لایا جا رہا ہے: افغان ڈاکٹر, حفیظ اللہ معروف، بی بی سی افغان سروس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر ملا داد پوری رات سو نہیں سکے، اُنھیں زلزلے کے بعد زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر سٹاف کو جمع کرنا تھا۔ وہ کنڑ کے اسد آباد کے علاقے میں قائم ہسپتال کے سربراہ ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ صورتحال یہ ہے کہ ہر پانچ منٹ کے بعد ایک نیا زخمی ہسپتال لایا جا رہا ہے اور پورا ہسپتال زخمیوں سے بھر چکا ہے۔
ڈاکٹر ملا داد کے مطابق زلزلے سے متاثرہ 188 افراد کو ہسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں گنجائش سے زیادہ مریض آ چکے ہیں جس کی وجہ سے بعض زخمیوں کا علاج کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈاکٹر ملا داد کے مطابق یہ ایک بحران جیسی صورتحال ہے جس کا کبھی اُنھوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
زلزلے کے بعد لگ بھگ 250 زخمیوں کو کنڑ سے ملحقہ ننگرہار صوبے کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ملاداد کہتے ہیں کہ اب تک اُن کے ہسپتال میں چار لاشیں بھی لائی جا چکی ہیں جبکہ درجنوں میتوں کو دیگر ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔
چلاس میں فوج کا ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ، دو میجر سمیت عملے کے پانچ افراد ہلاک: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہGilgit Baltistan Government
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز کے دوران گِر کر تباہ ہو گیا ہے جس میں دو میجر سمیت عملے کے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ یکم ستمبر کی صبح 10 بجے ’ایم آئی سیون‘ ہیلی کاپٹر کینٹونمنٹ سے 12 گلو میٹر دور ہڈر گاؤں کے قریب گِر کر تباہ ہوا۔
اس کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز پر تھا جب اس میں تکنیکی مسئلہ پیدا ہوا جو کریش کا باعث بنا۔
فوج کے مطابق اس حادثے میں عملے کے پانچ افراد پائلٹ اِن کمانڈ میجر عاطف، کو پائلٹ میجر فیصل، فلائٹ انجینیئر مقبول، کریو چیف جہانگیر اور کریو چیف نائیک عامر ہلاک ہوئے ہیں۔
اس کا کہنا تھا کہ تربیتی مشن آرمی ایوی یشن کی معمول کی سرگرمیوں میں سے ایک ہے جن کا مقصد رسکیو اور انسانی مدد کے آپریشنز کی تیاری ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی تھی کہ چلاس کے علاقے ہڈر گاؤں کے قریب آرمی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا ہے۔
فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ اس ہیلی کاپٹر کو گلگت بلتستان کی حکومت امدادی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کرتی رہی ہے۔
فیض اللہ فراق کا
کہنا ہے کہ آئی جی پولیس، کمشنر دیامر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام موقع پر پہنچ چکے
ہیں اور تمام ادارے ریسکیو کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا
ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے ہیلی کاپٹر حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ہولناک زلزلہ: معاشی مشکلات سے دوچار افغانستان کے لیے ایک اور دھچکا, یوگیتا لمائے، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کی شب زلزلے کے خوفناک جھٹکوں نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ جھٹکے کئی سیکنڈز تک جاری رہے۔ زلزلے کے بعد رات دیر تک آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا۔
پیر کی صبح سے ہمیں یہ معلومات موصول ہو رہی تھیں کہ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں تباہی ہوئی ہے۔ خاص طور پر مشرقی افغانستان میں کنڑ میں نقصان ہوا ہے جو زلزلے کا مرکز بھی ہے۔
مقامی ذرائع نے ہمیں بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے زلزلے کے مرکز تک جانے کا زمینی راستہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس مقام تک اب صرف پیدل جایا جا سکتا ہے۔
طالبان حکومت کے اہلکار اس مقام تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹرز استعمال کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ زلزلے کی وجہ سے ہونے والی تباہی کا تخمینہ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ میں اس علاقے میں پہلے جا چکی ہوں، زلزلے سے پہلے بھی ان علاقوں کے دُشوار گزار راستے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔
یہ زلزلہ پہلے سے ہی معاشی مشکلات میں گھرے افغانستان کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ جہاں قحط جیسی صورتحال ہے اور عالمی امداد بھی معطل ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے افغانستان میں قحط کو ایک غیر معمولی بحران قرار دے رکھا ہے۔
افغانستان میں تباہ کن زلزلہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں تباہ کن زلزلے کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ اتوار کی شب آنے والے زلزلے سے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ان دونوں صوبوں میں تباہی ہوئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کے پانچویں بڑے شہر جلال آباد سے 27 کلو میٹر اور دارالحکومت کابل سے 140 کلومیٹر دُور تھا۔
حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ متعدد دیہات میں کئی مکانات ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں زلزلہ آیا ہے وہ دُشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے معلومات تاخیر سے موصول ہو رہی ہیں۔
افغان وزارتِ داخلہ نے ہلاکتوں کی تعداد 620 سے زیادہ بتائی ہے جبکہ مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دُشوار گزار علاقوں کی وجہ سے ریسکیو اور امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت نے عالمی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔
بریکنگ, افغانستان میں زلزلے سے 600 سے زیادہ افراد ہلاک، 1500 زخمی
افغان حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں آنے والے زلزلے سے 600 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت چھ بتائی گئی ہے اور یہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کنڑ اور ننگرہار کے صوبوں میں آیا۔
کنڑ اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے اور افغان وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان مِں کہا گیا ہے کہ اس صوبے میں 610 افراد کی ہلاکت اور 1300 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ صوبہ ننگرہار میں بھی 12 افراد ہلاک اور 255 زخمی ہوئے ہیں۔
زلزلے کی وجہ سے ان صوبوں میں بڑے پیمانے پر مکانات تباہ ہوئے ہیں۔
وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے متعلقہ صوبوں کے مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو متاثرہ
علاقوں میں جلد از جلد پہنچنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
افغانستان میں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟
افغانستان میں ہر
وقت زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ متعدد فالٹ لائنز کے اوپر واقع ہے جہاں انڈین
اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔
سنہ 2022 میں
مشرقی افغانستان میں 5.9 شدت کے زلزلے سے کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک اور دیگر تین
ہزار زخمی ہوئے تھے۔ یہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں آنے والا سب سے بدترین زلزلہ
تھا۔
اگرچہ ریکٹر اسکیل
پر اس زلزلے کی شدت کم تھی، لیکن اس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی جو زیادہ تباہی
کی وجہ بنی۔
اتوار کو آنے
والے زلزلے کی گہرائی آٹھ کلومیٹر سے بھی کم تھی جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد کے
ہلاک یا زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ افغانستان میں زلزلے سے نقصانات کی دوسری بڑی وجہ
وہاں کی کمزور عمارتیں ہیں۔ یہاں زیادہ تر گھر مٹی کی اینٹوں یا کمزور کنکریٹ سے
بنے ہیں جو زلزلے برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
افغانستان میں
زلزلے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ بھی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ
سے سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں
میں پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سنہ 2023 میں افغان صوبے ہرات میں آنے والے زلزلے سے ایک ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ سنہ 2022 میں صوبہ پکتیکا میں آنے والے زلزلے میں بھی ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن پانچویں روز بھی معطل
،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami
سیلاب کے باعث پاکستان کے صوبہ پنجاب کے
شہر سیالکوٹ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن پانچویں روز بھی مکمل طور
پر بند ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹم میں کہا گیا ہے کہ آج رات دس
بجے تک فلائٹ آپریشن معطل رہے گا۔
ترجمان سیالکوٹ
ایئرپورٹ محمد عمیر خان کے مطابق، سیلابی پانی کو مشینری اور پمپس کی مدد سے نکالا جارہا ہے اور رن
وے سمیت ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کو خشک کردیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ایئرپورٹ پر نصب تمام تر آلات مکمل محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹ ٹرمینل، بلڈنگ، پارکنگ، رن وے سمیت بیشتر تر مرکزی حصہ محفوظ ہے۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد سیلابی پانی کا اخراج مکمل ہو جائے گا۔
ترجمان کے مطابق، سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ دس سے گیارہ بین الاقومی پروازیں اڑان
بھرتی ہیں لیکن سیلاب کے باعث گذشتہ پانچ دنوں سے لگ بھگ پچاس سے زیادہ پروازوں کی آمدورفت معطل ہوئی ہے۔
دریائے چناب میں سیلابی ریلا تریموں ہیڈ ورکس کی جانب بڑھ رہا ہے: پی ڈی ایم اے
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں
سیلابی ریلا تریموں ہیڈ ورکس کی جانب بڑھ رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے
ڈائریکٹر جنرل عرفال علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ تریموں ہیڈ پر اس وقت پانی کا بہاو
4 لاکھ 79 ہزار کیوسک ہے جو آج شام تک بڑھ کر سات لاکھ کیوسک تک پہنچ جائے گا۔
یہ بات انھوں نے ریلیف
کمشنر پنجاب نبیل جاوید کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
عرفان علی کاٹھیا
کا کہنا ہے کہ انڈیا کی طرف سے دریائے چناب میں پانی چھوڑے جانے کے پیش نظر تمام
متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم
اے کے مطابق، دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ بلوکی
کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 68 ہزار کیوسک ہے جبکہ دریائے ستلج میں
پانی کا بہاؤ دو لاکھ 53 ہزار کیوسک ہے۔
عرفان علی کاٹھیا
نے بتایا کہ دو سے تین ستمبر کے دوران تقریبا 10 لاکھ کیوسک پانی ہیڈ پنجند پر
پہنچے گا۔
27 اگست سے بارشوں اور سیلاب سے سیالکوٹ میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں: ریسکیو 1122, احتشام شامی، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ریسکیو 1122 نے ضلع
سیالکوٹ میں چار روز کے دوران سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والے 20 افراد کی لسٹ جاری
کردی ہے۔
ریسکیو ترجمان کے
مطابق 27 اگست کو تین، 28 اگست کو دس، 29 اگست کو 5 اور 30 اگست کو 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے
مطابق، سب سے زیادہ 15 اموات تحصیل سمبڑیال میں ہوئیں جبکہ تحصیل سیالکوٹ میں چار
اور تحصیل پسرور میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ تحصیل ڈسکہ سے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں
ہے۔
پنجاب کے آئی جی
جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کے مطابق، سیلاب سے سیالکوٹ جیل بھی متاثر ہوئی ہے اور
تین فٹ پانی جیل کے اندر داخل ہو گیا ہے۔
پنجاب کے محکمہ
جیل کے مطابق، پہلے مرحلے میں کمزور بیرکوں میں قید ایک ہزار قیدیوں کو فوری طور
پر گوجرانوالہ، نارووال اور حافظ آباد کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔
اسرائیل کا حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل نے حماس
کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حماس کی جانب سے تاحال
ابو عبیدہ کی ہلاکت کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ سنیچر کے
روز غزہ شہر میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد
ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی صحافیوں کا
کہنا ہے کہ غزہ شہر کے علاقے الریمل میں ہونے والے حملے میں کم از کم سات افراد
ہلاک جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔
ابو عبیدہ کا
شمار حماس کے مسلح ونگ کے ان چند سینیئر رہنماؤں میں ہوتا ہے جو سات اکتوبر 2023
کو اسرائیل پر حملے سے قبل تنظیم کی قیادت کا حصہ تھے۔
اسرائیلی فوج اور اسرائیلی سکیورٹی تنظیم شن بیٹ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شن بیٹ اور آئی ڈی ایف کے انٹیلی
جنس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جمع کی گئی پیشگی انٹیلی جنس معلومات میں اس جگہ کی نشاندہی
کی گئی تھی جہاں ابو عبیدہ چھپے ہوئے تھے۔ اس ہی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق، الریمل محلے میں چھ
منزلہ اپارٹمنٹ کی دوسری اور تیسری منزل پر بیک وقت دو مختلف سمتوں سے پانچ میزائل سے
داغے گئے تھے۔
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
،تصویر کا ذریعہTaliban government
بی بی سی افغان
سروس کے نامہ نگار حفیظ اللہ معروف کا کہنا ہے کہ انھوں نے افغانستان میں زلزلے سے
متاثرہ صوبہ کنڑ میں متعدد ذرائع سے بات کی ہے۔ ذرائع نے انھیں بتایا ہے کہ ’سینکڑوں
افراد ہلاک ہو چکے ہیں‘ جبکہ بہت سے افراد زخمی ہیں۔
ہیلی کاپٹروں کے
ذریعے لاشوں کو منتقل کرنے کے ذمہ دار ایک طالبان عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایک گاؤں
میں 21 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا
تھا کہ اب بھی صوبے کے کئی اضلاع میں آفٹر شاکس محسوس کیے جا رہے ہیں۔
کنڑ صوبے کے ایک
اور عہدیدار نے بتایا ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
تاہم اس مرحلے
پر، کوئی بھی صحیح اعداد و شمار فراہم نہیں کر سکتا کیونکہ متاثرہ علاقے دور دراز
ہیں اور ان تک پہنچنا مشکل ہے۔
کچھ علاقوں میں
موبائل نیٹ ورک کام نہیں کر رہے جبکہ دیگر علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث
رابطہ سڑکیں منقطع ہیں۔
،تصویر کا ذریعہTaliban government
افغانستان میں زلزلے سے 20 سے زائد افراد ہلاک، طالبان حکومت کی فوری مدد کی اپیل, حفیظ اللہ معروف، بی بی سی افغان سروس
،تصویر کا ذریعہUGC
افغان حکام نے بی
بی سی کو تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب مشرقی افغانستان میں آنے والے 6.0 شدت کے
زلزلے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق 115 سے زائد زخمیوں کو ننگرہار اور کنڑ صوبوں کے ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل
سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق، اتوار کی شب 11 بج کر 47 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق پیر 12بج کر 17 منٹ) پر مشرقی افغانستان میں آنے والے زلزلے کی گہرائی محض آٹھ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کے بعد سے اب تک کم از کم تین آفٹر شاکس آچکے ہیں جن کی شدت 4.5 اور 5.2 کے درمیان تھی۔
یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ اس کے اندازوں کے مطابق، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، اتوار اور پیر کی درمیانی شب آنے والے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، مری، پشاور، ایبٹ آباد، اٹک سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں محسوس کیے گئے۔
طالبان حکام کی امدادی تنظیموں سے مدد کی اپیل
طالبان حکام نے امدادی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں امدادی
کارروائیوں میں مدد فراہم کریں۔
افغانستان کے صوبہ کنڑ کے پولیس
چیف نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب اور زلزلے کے آفٹر شاکس کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ
کی وجہ سے علاقے میں رابطہ سڑکیں بند ہیں۔
انھوں نے کہا کہ
امدادی کارروائیاں صرف ہوائی راستے سے کی جا سکتی ہیں۔
طالبان حکام کا
کہنا ہے کہ ان کے پاس وسائل محدود ہیں اور وہ متاثرہ علاقوں تک ہیلی کاپٹر فراہم
کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔
کنڑ صوبے کے دو ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ آج صبح کم از کم چار ہیلی کاپٹر طبی عملے کو لے کر کنڑ کے علاقے وادی مزار پہنچے ہیں۔
یہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ طبی عملہ زخمیوں کا علاج کرنے کی کوشش کرے گا، اور شدید زخمیوں کو ہوائی راستے سے دارالحکومت کابل یا قریبی علاقوں کے ہسپتالوں تک پہنچانے کی کوشش کرے گا۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں یکم سے تین ستمبر تک شدید موسلادھار بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں مزید بارشوں کے امکان کے باعث سیلابی صورتحال میں شدت آ سکتی ہے۔
پاکستان نے آرمینیا کو خود مختار ریاست تسلیم کر لیا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں۔
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ڈیم سے پانی کے اخراج سے حسّاس صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کے بعد تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث دو ہزار سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں جبکہ حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔