انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ممکنہ سیلاب کے انتباہ جاری کیے گئے، انڈین میڈیا کا دعویٰ
انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اسلام آباد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ممکنہ سیلاب سے متعلق انتباہ جاری کیے تھے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی ریاستوں شدید بارشوں کے باعث بڑے ڈیمز سے پانی چھوڑا گیا جس کے بارے میں پاکستان کو مطلع کیا گیا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلاب کا ’قوی امکان‘ ہے۔
خلاصہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی شب بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد ایک بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 13 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے ہیں
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملے میں ملوث پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے
ادھر صوبہ پنجاب میں دریائے توی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام کے مطابق حالیہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے متاثرین کی تعداد 24 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 26 اگست سے اب تک مختلف واقعات میں 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اور اب تک 32 سو دیہات متاثر ہوئے ہیں
لائیو کوریج
چنیوٹ کے دیہات میں سیلابی ریلے اور ریسکیو اہلکاروں کی مشکلات
پنجاب میں سیلابی صورتحال کے دوران دریائے چناب سے نکلنے والا ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک کا ریلا ضلع چنیوٹ سے گزرا اور اب دیہات جھیل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ کیا اب بھی لوگ پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان تک امداد کیسے پہنچائی جا رہی ہے۔
یہ دیکھنے کے لیے بی بی سی کی ٹیم تحصیل بھوانہ میں ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ نکل پڑی۔
رپورٹر: عمر دراز ننگیانہ
فلمنگ اینڈ ایڈیٹنگ: فرقان الٰہی
بونیر میں مسلسل بارش سے ہنگامی صورتحال، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں مسلسل
بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں
کا سلسلہ جاری ہے۔
صوبہ خیبر ہختونخوا میں ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال
احمد فیضی کے مطابق متاثرہ اضلاع میں ضلع خیبر، بونیر، شانگلہ، سوات، پشاور اور
چارسدہ شامل ہیں۔
اُن کے مطابق اب تک کی تطلاعات کے مطابق ضلع بونیر
سب سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے متاثر ہوا ہے تاہم ضلع خیبر میں ایک شخص کے ہلاک اور
دو بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعت ہیں۔
بونیر کے ڈپٹی کمشنر کاشف قیوم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان
کے مطابق ’بٹئی‘ اور ’قدر نگر‘ میں پانی کی سطح بلند ہے اور یہ تیزی سے پیر بابا خوڑ
کی طرف بہہ رہا ہے۔‘
ڈپٹی کمشنر بونیر کا کہنا ہے کہ ’مساجد اور باہر اعلانات
کیے جا رہے ہیں کہ عوام محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ مسلسل بارش کے باعث تیز پانی
اور سیلاب کا خطرہ زیادہ ہے۔ تاہم اس صورتحال میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے
کی کوششیں جاری ہیں۔‘
تاہم دوسری جانب صوبائی دارلحکومت پشاور میں شدید بارش
کے باعث کوریڈور اور فیڈر روٹس پر پانی آنے کی وجہ سے بی آر ٹی سروس عارضی طور پر معطل
کر دی گئی ہے۔
بونیر کے ساتھ ساتھ پشاور میں بھی وقفے وقفے سے بارش
کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق بارش کے اس حالیہ سلسلے کے کی وجہ
سے پشاور کے کُچھ علاقوں سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ جہاں گھروں کے اندر
پانی داخل ہو گیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کادو
کور میچنئی، قندارو صافی (جاز ٹاور والی کور)
اور خوازئی کونگ کے علاقے شامل ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق بڈھنی پل کے علاقے سمیت متاثرہ
علاقوں میں امدادی اداروں ٹیمیں لوگوں کی مدد کر رہی ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق جن علاقوں کے گھروں
میں پانی داخل ہوا ہے وہاں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری
ہے۔ جن علاقوں میں پانی داخل ہوا ہے اُن میں حیات آباد، ورسک روڈ اور بڈھنی پل کے اطراف
کے علاقے شامل ہیں۔
کیا انڈیا کے ڈیم پاکستانی ریاؤں میں دوبارہ سیلاب کا باعث بن سکتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں موجود سلال ڈیم اس وقت زیرِ بحث آیا جب پاکستان میں بارہا اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ اس ڈیم سے لاکھوں کیوسک پانی چھوڑنے سے پنجاب کے دریائے چناب میں دوبارہ سیلاب آ سکتا ہے۔
افغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری: افغان سرمایہ کار کا متاثرین کے لیے 50 کروڑ افغانی روپے کی امداد کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان سرمایہ کار اور عزیزی بینک کے مالک میرویس
عزیزی نے مشرقی افغانستان میں آنے والے زلزلے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین
کے لیے ’50 کروڑ افغانی روپے‘ عطیہ کرنے
کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’میں نے
عزیزی فاؤنڈیشن کے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں کا
دورہ کریں اور ان کی ضروریات کا جائزہ لیں اور امداد کی تقسیم کا عمل جلد از جلد
شروع کریں۔‘
افغانستان میں اتوار کی شب آنے والے قیامت خیز
زلزلے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد سے بین الاقوامی اداروں اور
مُمالک کی جانب سے امداد کے اعلانات سامنے آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں
آنے والے چھ اعشاریہ صفر شدت کے زلزلے کے بعد بین الاقوامی امداری اداروں اور
مقامی انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے تاہم اب تک
800 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ نے مشرقی افغانستان میں زلزلے
کے متاثرین کے لیے ایک دس لاکھ پاؤنڈ کی ہنگامی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملک کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ
رقم اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ
کراس (آئی ایف آر سی) کے ذریعے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے خرچ کی
جائے گی۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ایک بیان میں کہا
کہ ’اس ہنگامی امداد سے ہمارے شراکت داروں کو سب سے زیادہ متاثرہ افراد کو صحت کی
خدمات اور ہنگامی سامان کی فراہمی میں مدد ملے گی۔‘
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ حکومت کی جانب سے جاری ہونے
والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مشرقی افغانستان میں زلزلے کے متاثرین کو
امداد فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ملک کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر
لکھا ہے کہ وہ کابل میں اپنے انسانی امداد اور تعاون کے دفتر کے ذریعے زلزلے سے
متاثرہ علاقوں میں اپنے شراکت داروں کی مدد کرے گا۔ سوئٹزرلینڈ نے واقعے کے
متاثرین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
سوڈان میں لینڈ سلائیڈنگ سے 1000 افراد ہلاک، باغی گروپ کی بین الاقوامی تنظیموں سے امداد کی اپیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوڈان میں باغی گروپ لبریشن موومنٹ کے مطابق مغربی
سوڈان کے دور دراز علاقے ’مارا‘ کے پہاڑوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از
کم 1000 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
باغی گروپ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں
کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں کی جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے اتوار کے روز لینڈ
سلائیڈنگ ہوئی جس کی وجہ سے ’تاراسین‘ نامی گاؤں میں صرف ایک فرد زندہ بچا ہے جبکہ
باقی پورا گاؤں مبلے تلے دب جانے کی وجہ سے تباہ ہو گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
باغی گروپ لبریشن موومنٹ کی جانب سے اقوام متحدہ اور دیگر علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں سے انسانی امداد کی اپیل کی گئی ہے۔
سوڈانی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جنگ کے بعد شمالی دارفور ریاست کے بہت سے رہائشیوں نے ’مارا‘ نامی پہاڑی علاقے میں پناہ لی تھی۔
سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان اپریل سنہ 2023 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے ملک کو قحط کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغربی دارفور کے علاقے میں نسل کشی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
خانہ جنگی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد کا تخمینہ کافی مختلف ہے لیکن گزشتہ سال ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سنہ 2023 میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم اس جنگ کے بعد سے اب تک تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چُکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں زلزلے سے تباہی اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ: ’میں نے اپنے ہاتھوں سے ایک گاؤں میں دس قبریں کھودیں‘, افتخار خان، بی بی سی پشتو سروس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشرقی افغانستان میں زلزلے کے نتیجے میں 800 سے
زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں زندہ بچ جانے والے
افراد نے رات کھلے میں تلے گزاری۔
افغانستان میں طالبان حکومت اور اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ کنڑ اور ننگرہار صوبوں میں 800 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 2500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
مشرقی افغانستان کے صوبہ کنڑ کے دور افتادہ پہاڑی
علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن خراب موسم کی وجہ سے اب بھی متعدد
علاقوں تک پہنچنے میں شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے باعث متعدد
زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کنڑ سینٹرل ہسپتال اور دارالحکومت منتقل کیا گیا ہے
تاہم بتایا جارہا ہے کہ متعدد دیہات میں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کی 20 تشخیصی ٹیمیں
سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کا صوبہ کنڑ اتوار کی شب 6.0
شدت کے آنے والے زلزلے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
کئی ممالک پہلے ہی امداد کا وعدہ کر چکے ہیں، جبکہ
کچھ دیہات تک رسائی نہیں ہے اور مقامی صحت کی سہولیات بھی اس ہنگامی صورتحال کے
لیے ناکافی ہیں۔
افغانستان کو اس وقت شدید خشک سالی کے ساتھ ساتھ
طالبان کے مُلک پر قبضے کے بعد سے امداد میں کٹوتی جیسی مُشکلات اور چیلنجز کا
سامنا ہے۔
میری آنکھ بچوں اور عورتوں کے چیخنے سے کھُلی۔ جب
میں نے گھر کی طرف دیکھا تو چھت گر چکی تھی۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ یہ قیامت کی
گھڑی کی طرح رات تھی۔ میرے بچے مجھ سے چپکے ہوئے تھے اور خوف سے رو رہے تھے۔ ہوا
میں ہر جانب دھول اور مٹی تھی۔‘
یہ الفاظ ہیں کنڑ کے ایک عینی شاہد کے انھوں نے بی
بی سی سے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ’زلزلے کے فوری بعد موبائل نیٹ ورکس بند ہو
گئے، ہم اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر سکے۔ بجلی نہیں تھی، ہم نے صرف اپنے
موبائل فون پر لائٹس کا استعمال کیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں کی مدد کے لیے مساجد
میں اعلانات کیے گئے اور کہا گیا کہ بہت سے خاندان غم زدہ ہیں اور انھیں مرنے
والوں کی تدفین میں مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے بھی ایک گاؤں میں جا کر دس قبریں
کھودیں۔ یہ صرف ایک گاؤں تھا اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ہم دوسرے گاؤں میں نہیں
جا سکتے تھے، تاہم کچھ لوگ پیدل وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔‘
وہاں ریسکیو کارکنان لاشیں اور زخمی افراد کو ریت
اور پتھروں کے نیچے سے نکال رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد کو ایمبولینسز اور کچھ
کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جلال آباد علاج کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں زلزلے کے حوالے سے اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
اتوار کی شب افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں زلزلہ
آیا تھا جس کی ریکٹر سکیل پر شدت چھ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس زلزلے
کا مرکز جلال آباد سے صرف 27 کلومیٹر دور تھا۔
اس زلزلے کے جھٹکے نہ صرف افغانستان کے دارالحکومت
کابُل میں محسوس کیے گئے تھے بلکہ اس کے اثرات پڑوسی ملک پاکستان میں بھی نظر آئے
تھے۔
اب تک ہم اس زلزلے کے اثرات کے بارے میں کیا جانتے
ہیں:
اس زلزلے میں اقوامِ
متحدہ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 800 سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
طالبان
کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق متاثرہ افراد کے لیے ایک ارب افغانی (ایک
کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ) مختص کیے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید بھی مختص کیے جائیں گے۔
طالبان حکومت کے
ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اس زلزلے سے کُنڑ کے علاوہ لغمان، نورستان
اور ننگر ہار میں بھی نقصانات ہوئے ہیں۔
افغانستان میں
زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقے دارالحکومت کابُل سے بہت دور واقع ہیں جس کے
سبب ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا ہے۔
انڈیا
کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین
کے لیے ایک ہزار خیمے کابُل پہنچا دیے ہیں۔
طالبان
افسر کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور
دوسری جانب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہیلی کاپٹرز کی منتظر ہے کیونکہ سڑکوں کے ذریعے
ان علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔
بریکنگ, یکم ستمبر سے تین ستمبر تک بارشوں کے باعث سیلاب کا الرٹ جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسی آپریشنز سینٹر
نے یکم ستمبر سے تین ستمبر تک ممکنہ
بارشوں کے باعث متعدد علاقوں کے لیے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔
الرٹ
کے مطابق یکم سے تین ستمبر کے دوران ممکنہ بارشوں کے نتیجے میں مشرقی دریاؤں کے
بہاؤ میں شدید اضافہ متوقع ہے۔
دریائے
ستلج میں اس وقت 2 لاکھ 53 ہزار 68 کیوسک کا غیر معمولی بہاؤموجود ہے۔ اور بالائی علاقوں میں مزید بارش اور ڈیموں
سے اخراج کے باعث مزید 3 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا متوقع ہے۔ ۔
این ڈی
ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں جسر کے مقام پر اس وقت 60 ہزار 94 کیوسک کے ساتھ
نارمل بہاؤ موجود ہے۔ تھین ڈیم سے پانی کے اخراج اور ممکنہ بارشوں کے باعث جسر کے
مقام پر دریائے راوی کا بہاؤ 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک ہو سکتا ہے۔ ‘
این ڈی
ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ’بالائی
علاقوں میں ممکنہ بارشوں کے باعث دریائے راوی سے منسلک نالے بین، بسنتر اور ڈیک میں
طغیانی کا خدشہ ہے۔ جبکہ دریائے چناب میں
مرالہ کے مقام پر 94 ہزار 728 کیوسک کے ساتھ نچلی سطح کا بہاؤ موجود ہے۔ ‘
این ڈی
ایم اے کے مطابق ’انڈیا کے زیر انتظام
کشمیر میں بارشوں اور بالائی ڈیمز بشمول سلال، بگلیہار، ڈل ہستی سے اخراج کے باعث
بہاؤ میں شدید اضافہ متوقع ہے۔ بالائی علاقوں میں بارشوں اور ڈیموں سے اخراج شدہ
پانی کی آمد کے باعث مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا باعث بن سکتی ہے۔‘
این ڈی
ایم اے کا کہنا ہے کہ ’نشیبی و دریا
کناروں کے علاقے زیر آب آنے، پشتوں میں شگاف اور فصلوں و بستیوں کے زیرِآب آنے کا
خدشہ ہے۔ اس لیے مقامی آبادی، کسان اور متعلقہ ادارے ہائی الرٹ رہیں، بروقت حفاظتی
اقدامات اختیار کریں۔‘
ادارے
نے خبردار کیا ہے کہ ’دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور
پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ اور ممکنہ طور پر زیر آب آنے کے خطر ے سے
دوچار علاقوں کے مکین انخلا کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ ‘
این ڈی
ایم اے نے لوگوں سے کہا ہے کہ سیلاب زدہ
علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔
بریکنگ, اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد ڈیموں کے سپل ویز کھولنے کا اعلان، مارگلہ ٹریلز بند کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکام کا کہنا ہے کہ سملی ڈیم کا سپل وے
کھول دیا گیا۔ حکام کے مطابق سملی ڈیم میں
پانی کی سطح 2314.90 فٹ پہنچ گئی تھی۔
ایک
سرکاری بیان کے مطابق ’سملی ڈیم کا ایک گیٹ 2 فٹ تک کھولا جائے گا۔ موجودہ پانی کے
بہاؤ اور مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سپل وے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘
اس کے
علاوہ اسلام آباد میں موجود دوسرےے ڈیم راول ڈیم کے سپل ویز کل 2 ستمبر، صبح 7 بجے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام
کا کہنا ہے کہ راول ڈیم کا لیول 1751.70 فٹ پر پہنچ چکا ہے۔
حکام کے مطابق سپل
ویز کھولے جانے کے بعد کورنگ نالہ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔ اس لیے این
ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہ کر دیا ہے۔ حکام نے کورنگ نالہ سے
ملحقہ رہائشی آبادیوں کے مکوں کو محتاط رہنے
کی ہدایت کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب اسلام آباد میں واقع مارگلہ ہلز پر موجود ٹریلز کو بند کرنے کے احکامات جاری کیِ گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ٹریل 2، 3، 4، 5 اور سیدپور گاؤں کے پیچھے والا ٹریل بند کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں اور ہائیکرز کی حفاظت کے پیش نظر ٹریل بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق’ یکم ستمبر سے ٹریل بند رہیں گے۔ مزید احکامات تک عوامی رسائی پر پابندی رہے گی۔ ‘
بیا وضاحت دی گئی ہے کہ ’„ضلعی انتظامیہ کا یہ اقدام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے اٹھایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ آج پیر کی شام دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں شدید بارش ہوئی ہے جس کے سبب متعدد سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو اسلام آباد میں 95 جبکہ راولپنڈی میں 60 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں دیگر علاقوں میں کتنی بارش ہوئی؟
سیدپور ویلیج 40 ملی میٹر
گولڑہ 66 ملی میٹر
بوکرا (آئی 12) 46 ملی میٹر
پی ایم ڈی (ایچ 8 ٹو) 95 ملی میٹر
شمس آباد 25 ملی میٹر
کچہری (چکلالہ) پانچ ملی میٹر
پیر وداھی 35 ملی میٹر
گوالمنڈی پانچ ملی میٹر
نیو کٹاریاں 60 ملی میٹر
محکمہ موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ بارش کے باعث نالہ لئی اور اور نشیبی علاقوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’شدید بارش کے باعث ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ ہے، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس فیلڈ میں موجود ہیں۔‘
بی بی سی نے زلزلے سے متاثرہ افغان صوبے ننگرہار کے ہسپتال میں کیا دیکھا؟, یاما بریز، ننگرہار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم گذشتہ ایک گھنٹے سے افغان صوبے ننگرہار کے
مرکزی ہسپتال میں موجود ہیں۔ اس ہسپتال میں بہت سارے زخمیوں کو ہیلی کاپٹرز کے
ذریعے طبی امداد کے لیے لایا گیا ہے۔
میں نے یہاں متعدد ایمبولینسز کو زخمیوں کو لاتے
ہوئے دیکھا ہے۔ یہاں ایک افراتفری کا عالم ہے، بے بس لوگ اپنے رشتے داروں کو ڈھونڈ
رہے ہیں، جبکہ قریب ہی رضاکار اور ریسکیو کارکنان امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
مجھے یہاں ایک اور ڈاکٹر نے بتایا کہ اس ہسپتال
میں زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے تقریباً 460 افراد کو لایا گیا ہے۔ ان میں
سے 250 افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کو طبی امداد کے بعد
ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
میری ہسپتال میں ایک انتہائی دکھی بررگ خاتون سے
ملاقات ہوئی جن کے متعدد رشتے دار اس زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کی
حالت بہت ہی خراب تھی۔
میں نے ایک بزرک شخص کو بھی دیکھا جو کہ غنودگی
کی حالت میں کہیں اپنے ہی خیالات میں کھوئے ہوئے نظر آئے۔
یہ دونوں کسی سے بات کرنے کی حالت میں نہیں تھے،
کبھی با آواز بلند رو رہے تھے اور کبھی خاموشی سے۔ یہ دونوں ہی صدمے کی حالت میں
تھے۔
ان دونوں کا تعلق افغان صوبے کنڑ سے تھا۔
اس ہسپتال میں موجود ایک اور ڈاکٹر نے مجھے
بتایا کہ ان کے پاس وسائل کم ہیں اور ہسپتال میں سینکڑوں کی تعداد میں مریض موجود
ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق انھیں غیرسرکاری تنظیموں کی
طرف سے مدد مل رہی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد دینے کی کوشش کر
رہے ہیں۔
ہسپتال میں آنے والے متعدد مریضوں اور ان کے خاندان
کے افراد سے بھی میری بات ہوئی۔ ان سب کا یہی کہنا تھا کہ زلزلے میں ہونے والی
تباہی بیان نہیں کی جا سکتی۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ سب اس وقت سو رہے تھے
جب ان پر گھر کی چھتیں گِریں۔
انڈیا نے ٹیرف تقریبًا ختم کرنے کی پیشکش لیکن اب تاخیر ہو گئی ہے: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انڈیا نے
امریکہ کی مصنوعات پر ٹیرف میں اس حد تک کمی کی پیشکش کی ہے کہ اب ’ٹیرف نہ ہونے کے برابر‘ ہو گا لیکن اب ’اس میں بہت تاخیر
ہو گئی ہے۔‘
انڈیا کی جانب سے باضابطہ طور پر امریکہ کے لیے
ٹیرف کم کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا
تھا کہ’تھوڑے ہی لوگ جانتے ہیں کہ ہم انڈیا کے ساتھ بہت کم کاروبار کرتے ہیں لیکن
وہ (انڈیا) ہمارے (امریکہ کے) ساتھ بہت زیادہ کاروبار کرتے ہیں۔‘
’دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیجیے کہ وہ ہمیں بڑی
تعداد میں مصنوعات فروخت کرتے ہیں لیکن ہم انھیں بہت کم (چیزیں) فروخت کرتے ہیں۔‘
انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے مزید لکھا کہ
’انھیں ایسا (ٹیرف میں کمی) برسوں پہلے کر دینا چاہیے تھا۔‘
امریکی صدر کے مطابق ’انڈیا اپنے لیے زیادہ تر
تیل اور عسکری مصنوعات روس سے خریدتا ہے اور امریکہ سے بہت کم۔‘
افغانستان میں زلزلے سے تباہی: ’ترجیح ملبے سے لاشیں نکالنا نہیں بلکہ زخمیوں تک پہنچنا ہے‘, حفیظ اللہ معروف، بی بی سی افغان سروس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’تباہی اتنی زیادہ ہوئی ہے کہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، پورے کے
پورے دیہات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں اور پہاڑی علاقوں تک جانے والی سڑکیں تاحال
بند ہیں۔ اس وقت ہماری ترجیح ملبے سے لاشیں نکالنا نہیں بلکہ زخمیوں تک پہنچنا ہے۔‘
یہ الفاظ افغان صوبے کنڑ میں تعینات ایک اعلیٰ
سطح کے طالبان افسر کے ہیں جو کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر بھیج رہے
ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر لاشیں ملبے تلے دبی
ہیں۔ ہم سب کچھ کر رہے ہیں لیکن سب کچھ اتنی جلدی کرنا آسان نہیں ہوگا۔‘
طالبان افسر کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں
تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری جانب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہیلی
کاپٹرز کی منتظر ہے کیونکہ سڑکوں کے ذریعے ان علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔
تصاویر: کنڑ میں زلزلے سے متاثرہ افغان شہری کھیتوں میں رہنے پر مجبور
یہ تصاویر افغانستان کے صوبے کنڑ کے ایک دیہات
مزاد دارا کی ہیں جہاں زلزلے سے متاثرہ افراد نے کھیتوں میں پناہ لی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارش، نالہ لئی میں طغیانی کے سبب نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی
میں گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران مختلف علاقوں میں شدید بارش ہوئی ہے جس کے سبب متعدد
سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو اسلام
آباد میں 95 جبکہ راولپنڈی میں 60 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں دیگر علاقوں میں کتنی
بارش ہوئی؟
سیدپور ویلیج 40 ملی میٹر
گولڑہ 66 ملی میٹر
بوکرا (آئی 12) 46 ملی میٹر
پی ایم ڈی (ایچ 8 ٹو) 95 ملی میٹر
شمس آباد 25 ملی میٹر
کچہری (چکلالہ) پانچ ملی میٹر
پیر وداھی 35 ملی میٹر
گوالمنڈی پانچ ملی میٹر
نیو کٹاریاں 60 ملی میٹر
محکمہ موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ بارش کے
باعث نالہ لئی اور اور نشیبی علاقوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’شدید بارش کے باعث ضلعی
انتظامیہ ہائی الرٹ ہے، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس فیلڈ میں موجود ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نکاسی آب کا عمل جاری
ہے جبکہ نشیبی علاقوں اور نالوں کی خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔‘
خیال رہے اس سے قبل پاکستان کے محکمہ موسمیات نے
پیش گوئی کی تھی کہ پیر کو ملک کے زیرِ انتظام کشمیر، شمال مشرقی پنجاب، اسلام
آباد اور خیبر پختونخواہ میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔
انڈیا نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے ایک ہزار خیمے، 15 ٹن کھانے پینے کی اشیا فراہم کر دیں: جے شنکر
،تصویر کا ذریعہ@DrSJaishankar/X
انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ
انڈین حکومت نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے ایک ہزار خیمے کابُل پہنچا دیے
ہیں۔
پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان
میں ایس جے شنکر کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے افغان ہم منصب مولوی امیر خان متقی سے
ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے اور انھوں نے زلزلے میں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار
کیا ہے۔
’انڈیا نے ایک ہزار خیمے کابل پہنچا دیے ہیں۔
کابُل میں انڈین مشن فوری طور پر 15 ٹن کھانے پینے کی اشیا کنڑ پہنچا رہا ہے۔‘
اس سے قبل ایک بیان میں وزیرِ اعظم نریندر مودی
نے کہا تھا کہ ’انڈِیا متاثرین کو ہر ممکن امداد اور ریلیف دینے کے لیے تیار ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے
بھی مشرقی افغانستان میں زلزلے اور اس سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا
تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ افغانستان میں زلزلے سے
متاثرہ علاقوں میں ’ہم ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہیں۔‘
افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے ایک ارب افغانی مختص کیے گئے ہیں: طالبان ترجمان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
طالبان میں وزیرِ اعظم کے دفتر نے زلزلے سے متاثرہ
افراد کی امداد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہی۔
طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے
مطابق متاثرہ افراد کے لیے ایک ارب افغانی (ایک کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ) مختص کیے گئے
ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید بھی مختص کیے جائیں گے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کے
انخلا اور انھیں کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے کے لیے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔
افغانستان میں زلزلے کے عینی شاہدین: پورے کے پورے گاؤں ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں, یاما بریز، بی بی سی افغان سروس
میں افغانستان کے مشرقی علاقے کی طرف سفر کر رہی
ہوں جہاں گذشتہ رات زلزلے نے تباہی مچائی ہے۔ ننگرہار اور کنڑ میں زلزلہ آئے ہوئے
12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔
اس زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان کنڑ میں ہوا ہے۔
یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں جانے کے راستے بھی محدود ہیں۔ حال ہی میں اس صوبے میں
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب متعدد علاقوں کی طرف جانے والے سڑکیں تباہ ہو گئی
تھیں۔
یہاں صرف ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ہی رسائی اور ریسکیو
سرگرمیاں ممکن ہیں۔
میری جلال آباد کے مرکزی ہسپتال میں عینی شاہدین
سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایمبولینسز کے ذریعے زخمیوں کے آنے کا سلسلہ
جاری ہے۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ خواتین اور بچوں سمیت
سینکڑوں زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے، یہاں لاشیں بھی بڑی تعداد میں لائی گئی
ہیں۔
میں کنڑ کے رہائشیوں سے بھی رابطے میں ہوں۔ ان
سے رابطے قائم رکھنے میں مجھے مشکلات درپیش ہیں کیونکہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی
موجودگی بہت محدود ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے اطراف میں پورے
کے پورے گاؤں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کو نکالنے کی
کوشش کر رہے ہیں۔
طالبان کی حکومت اور غیر سرکاری اداروں نے ریسکیو
ٹیمیں ان علاقوں میں بھیجی ہیں لیکن یہ سب کافی نہیں ہے۔
جلال آباد میں مقامی طبی حکام کا کہنا ہے کہ کنڑ
میں دو وادیاں ایسی ہیں جہاں تک رسائی کا کوئی ذریعے ہی موجود نہیں ہے کیونکہ لینڈ
سلائیڈنگ کے سبب سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔
انھیں ڈر ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں کی
تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
’لوگ اب بھی پتھروں کے نیچے دبے ہوئے ہیں‘: افغان صوبے کنڑ میں زلزلے کے بعد کیا صورتحال ہے؟, ٹوم جوئنر، لائیو رپورٹر
افغانستان میں پہاڑوں سے گھرے صوبے کنڑ میں سید رحیم
اپنے پڑوسی کے گھر کے ملبے کے درمیان کھڑے ہیں۔
اس زلزلے میں تباہ ہونے والے گھروں میں ان کا اپنا
گھر بھی شامل ہو سکتا تھا لیکن ان کے پاس یہ سب سوچنے کا وقت نہیں ہے۔ انھیں ابھی
بہت کام کرنا ہے۔
وہ ایمرجنسی کارکنان، ڈاکٹرز اور طبی عملے کو
دور دراز دیہاتوں میں بھیج رہے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو بچایا جا سکے۔
وہاں ریسکیو کارکنان لاشیں اور زخمی افراد کو ریت
اور پتھروں کے نیچے سے نکال رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد کو ایمبولینسز اور کچھ
کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جلال آباد علاج کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے۔
اپنے دیہات سے فون پر بی بی سی سے بات چیت کے
دوران ان کا کہنا تھا کہ: ’ریسکیو کارکنان نے بہت سے سارے لوگوں کو بچایا ہے۔ دیہاتوں
میں لوگ بہت ڈرے ہوئے ہیں۔‘
ان کا خیال ہے کہ سرکاری طور پر بتائی جانے والی
اموات کی تعداد اصل تعداد سے کم ہے۔
سید رحیم کا کہنا ہے کہ ’کچھ لوگوں نے ہمیں
پیغامات بھیجے کہ ان کے گھر تباہ ہوگئے ہیں اور کچھ لوگ اب بھی پتھروں کے نیچے دبے
ہوئے ہیں۔‘
انھیں اپنے خاندان کی بھی فکر ہے۔ ’جب میں گھر
جاؤں گا تو وہاں رُک جاؤں گا۔ ہم سو نہیں پا رہے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں زلزلہ دوبارہ
آجائے گا۔‘
افغانستان میں زلزلے کے حوالے سے اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
گذشتہ رات افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں
زلزلہ آیا تھا جس کی ریکٹر سکیل پر شدت چھ نوٹ کی گئی تھی۔ اس زلزلے کا مرکز جلال
آباد سے صرف 27 کلومیٹر دور تھا۔
اس زلزلے کے جھٹکے نہ صرف افغانستان کے
دارالحکومت کابُل میں محسوس کیے گئے تھے بلکہ اس کے اثرات پڑوسی ملک پاکستان میں
بھی نظر آئے تھے۔
اب تک ہم اس زلزلے کے اثرات کے بارے میں کیا
جانتے ہیں:
اس زلزلے میں اب تک 800 سے زیادہ اموات کی تصدیق
ہو چکی ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اس زلزلے سے لغمان،
نورستان اور ننگر ہار میں بھی نقصانات ہوئے ہیں۔
طالبان حکومت کے ترجمان کے مطابق صرف کنڑ میں اس
زلزلے کے نتیجے میں 2500 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زلزلے
میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔
زلزلے کی گہرائی زیادہ نہیں تھی اس لیے اس کے
سبب زیادہ تباہی دیکھنے میں آئی ہے۔
افغانستان میں زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقے
دارالحکومت کابُل سے بہت دور واقع ہیں جس کے سبب ریسکیو آپریشن میں دشواری کا
سامنا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار برائے جنوبی ایشیا اور افغانستان یوگیتا لیمائے
کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ملبے تلے دبے ہونے کے خدشات کو رد نہیں کیا جا
سکتا۔
فرید اللہ فضلی دریائے کنڑ کے قریب رہتے ہیں۔ ان
کے مطابق زلزلے کے بعد رات کو انھوں نے ’ڈر اور دہشت کا ماحول‘ دیکھا تھا۔
طالبا حکومت کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کچھ
دیہات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ ہلاکتیں، زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ
مجاہد نے کہا ہے کہ گذشتہ رات ملک میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 800 سے زیادہ
افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پیر کو جاری ایک بیان میں ذبیح اللہ مجاہد کا
کہنا تھا کہ زلزلے سے کنڑ میں اب تک 800 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ننگر
ہار میں 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق، اتوار کی شب 11 بج
کر 47 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق پیر 12بج کر 17 منٹ) پر مشرقی افغانستان میں آنے
والے زلزلے کی گہرائی محض آٹھ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کے بعد سے اب تک کم از کم تین
آفٹر شاکس آچکے ہیں جن کی شدت 4.5 اور 5.2 کے درمیان تھی۔
طالبان حکومت کے ترجمان کے مطابق زلزلے سے لغمان
اور نوستان سمیت دیگر صوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کنڑ میں 2500، لغمان میں 58
اور نورستان میں زلزلے سے چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔