ایران کے خلاف جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا، تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنا چاہیے: مارکو روبیو
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔ تاہم انھوں نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا گیا تو امریکہ جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔
خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے امریکہ جنوبی کوریا اور جاپان سے 'زبردست معاہدے' کر رہا ہے
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے اب تک 51 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا جا چکا ہے
پاکستان، انڈیا اور سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی ہے
خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: سعودی عرب
ایران اپنے اقدامات کے ذریعے 'انتہائی نازک جنگ بندی' کو خطرے میں ڈال رہا ہے: اسسٹنٹ سکریٹری جنرل عرب لیگ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ دراصل ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ کے مترادف ہے۔
لائیو کوریج
متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو میزائل الرٹ موصول, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور
متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو ملک کی وزارت داخلہ کی جانب سے میزائل حملے کے متعلق الرٹ موصول ہوا ہے۔
لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد انھیں سب کچھ ٹھیک ہے کا میسج موصول ہوا جس میں لوگوں سے کہا گیا صورتحال مکمل طور پر محفوظ ہے او وہ اپنی روز مرہ کی معمولات جاری رکھ سکتے ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ یہ انتباہی پیغام بھیجے جانے کی وجہ کیا تھی۔
آبنائے ہرمز میں امریکی ڈسٹرائر جہازوں کو متنبہ کرنے کے لیے ’کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون‘ فائر کیے گئے: ایرانی فوج
ایرانی فوج کا دعویٰ
ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ڈسٹرائر بحری جہازوں کی موجودگی کا علم ہونے پر انھوں نے ان جہازوں کو متنبہ کرنے کے لیے ان کے نزدیک انتباہی فائرنگ کی۔
ایرانی فوج کی جانب
سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل امریکی ڈسٹرائر بحری جہازوں نے بحیرہ عمان میں اپنے
ریڈار بند کر دیے تھے اور ان کا ارادہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا تھا۔
بیان میں کہا گیا
ہے کہ جیسے ہی ان جہازوں نے اپنے ریڈار آن کیے اس کے فوراً بعد ان کی شناخت کر لی گئی
اور انھیں ایرانی بحریہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے خطرات کے متعلق ایک ریڈیو
وارننگ بھیجی گئی۔
ایرانی فوج کا دعویٰ
ہے کہ امریکی جہازوں کی جانب سے جواب نہ ملنے پر ایک اور وارننگ جاری کی گئی کہ ’آبنائے
ہرمز میں داخلہ جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔‘
بیان میں مزید
دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ڈسٹرائر جہازوں نے ان انتباہات کو نظر انداز کیا جس کے
بعد ایرانی بحریہ نے ان کے ارد گرد ’کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون‘ فائر کیے۔
تاہم ایرانی فوج کی
جانب سے اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا ان اقدامات کا نتیجہ کیا نکلا۔ بیان میں صرف
اتنا کہا گیا ہے کہ ’اس طرح کے خطرناک اقدامات کے نتائج کی ذمہ دار امریکہ ہوگا۔‘
اس سے قبل ایرانی فوج
کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کی بحریہ نے امریکی ڈسٹرائر جہازوں کو
آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکا ہے۔
دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر گئے، سینٹکام کا دعویٰ
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز ’کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔‘
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں ان جہازوں کے نام فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد خلیج میں کام کر رہے ہیں۔
سینٹکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی افواج تجارتی جہاز رانی کا راستہ بحال کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔
امریکی جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے وارننگ شاٹ فائر کیا گیا تھا: ایرانی اہلکار
ایک سینیئر ایرانی
اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایران نے امریکی بحری جہاز کو آبنائے
ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے وارننگ شاٹ فائر کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ تاہم
یہ واضح نہیں کہ اس سے کوئی نقصان ہوا ہے۔
اس سے قبل ایرانی فوج نے امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک جہاز پر دو میزائل داغے گئے تھے۔
بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘۔
آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی کے ٹینکر پر حملہ
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک سے وابستہ ایک ٹینکر کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ حملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی صریح خلاف ورزی ہے، جس میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت کی تصدیق کی گئی ہے، اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے یا بین الاقوامی سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کو مسترد کیا گیا ہے۔
متحد عرب امارات کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو اقتصادی بلیک میلنگ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا ایران کے پاسداران انقلاب کی طرف سے بحری قزاقی کی کارروائیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی کارروائیاں خطے، اس کے لوگوں اور عالمی توانائی کی سلامتی کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ایران سے حملے بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بریکنگ, ایرانی پاسداران انقلاب کا انتباہ: ’آبنائے ہرمز بند ہے، گزرنے کی کوشش کی تو نشانہ بنایا جائے گا‘, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز سے منسلک ایک ادارے فارس پلس پاسدارانِ انقلاب سے منسوب دو آڈیو پیغامات شائع کیے ہیں۔
ان پیغامات میں فارسی اور انگریزی زبان میں خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان میں موجود بحری جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’بدستور بند‘ ہے۔
میں نے ان پیغامات کو سنا ہے اور ان میں یہ کہا گیا ہے: ’یہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج کی جانب سے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اسلامی جمہوریۂ ایران کی اجازت کے بغیر اور مقررہ راستے کے علاوہ اس سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
’اگر کسی جہاز نے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کی۔۔۔ تو اسے نشانہ بنایا جائے گا اور تباہ کر دیا جائے گا۔‘
امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کے ایرانی دعوے پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی, بین کنگ، بزنس رپورٹر/بی بی سی نیوز
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
یہ دعویٰ سامنے آنے کے چند منٹوں میں ہی برینٹ خام تیل کی بینچ مارک قیمت چار ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 114 ڈالر تک جا پہنچی جو دن کے آغاز پر قیمت کے مقابلے میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ تھا۔
تاہم بعد میں امریکہ کی جانب سے اس حملے کی تردید کے بعد قیمت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔
گذشتہ شب ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج میں پھنسے جہازوں کو باہر نکالنے کے لیے حفاظتی دستہ فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا جسے انھوں نے ’انسانی ہمدردی کا اقدام‘ قرار دیا۔
اگر آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کی کوشش کے نتیجے میں دوبارہ لڑائی چھڑ جاتی ہے تو اس سے تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے اور تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔
ایرانی جہاز توسکا کے عملے کے 15 ارکان کو ایران منتقل کردیا گیا، ڈی سی گوادر کی تصدیق, محمد کاظم، ریاض سہیل، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہBehram Baloch
بلوچستان کے شہر گوادر کے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی بحری جہاز توسکا کے عملے کے 15 ارکان کو ایران منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے تحویل میں لیے جانے والے ایرانی بحری جہاز توسکا کا 22 رکنی عملہ گذشتہ رات بحفاظت پاکستان پہنچ گیا تھا اور انھیں آج ایران منتقل کر دیا جائے گا۔
پاکستانی حکام کے مطابق ایرانی جہاز عملے کے 15ارکان کو بلوچستان کے سرحدی ضلع گوادر میں گبد رمیدان کراسنگ پوائنٹ سے ایرانی حکام کے حوالے کیا گیا ۔
مکران ڈویژن کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران بحری جہاز کے عملے کے 15ارکان کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے گبد رمیدان کراسنگ پوائنٹ پہنچایا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سخت سکیورٹی میں ایف سی کے حکام نے انھیں ایران کے سرحدی علاقے چاہ بہار میں نگور کے علاقے کے ایرانی حکام کے حوالے کیا گیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے معلومات نہیں کہ توسکا کے عملے کے باقی افراد کہاں ہیں اور انھیں ان 15 افراد کے ساتھ کیوں حوالے نہیں کیا گیا۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران کے بحری جہاز کے ان اہلکاروں کو پہلے ضلع گوادر کے علاقے پسنی پہنچایا گیا تھا جہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کو ایران سے متصل سرحدی علاقے پہنچایا گیا تاہم سرکاری سطح پر تاحال اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا: سینٹکام
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘۔
سینٹکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی افواج پراجیکٹ فریڈم کی حمایت کر رہی ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔
اس قبل امریکی نشریاتی ادارت ایگزیوز کے ایک رپورٹر نے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو میزائل سے نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کی جانب سے ’سخت اور بروقت انداز میں خبردار کیے جانے کے بعد امریکی اور صیہونی دشمن ڈسٹرائرز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک جہاز پر دو میزائل داغے گئے تھے۔
انڈیا میں آج ہو رہے انتخابات کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
انڈیا میں آج چار
ریاستوں – مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور آسام – اور وفاقی علاقے پوڈیچڑی میں
انتخابات ہو رہے ہیں۔
اب تک کے ووٹنگ
ٹرینڈ کے مطابق آسام اور مغربی بنگال میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی پارٹی بھارتیہ
جنتا پارٹی بظاہر اپنے حریفوں سے آگے دکھائی دیتی ہے۔
تین مرتبہ برسرِ
اقتدار رہنے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی جیت مشکل دکھائی
دیتی ہے۔
تمل ناڈو سپر سٹار وجے
کی قیادت میں بننے والی نئی پارٹی جیت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
کیرالہ میں، ابتدائی
رجحانات سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کو شکست دیتی
نظر آ رہی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے زیرِ کنٹرول آبنائے ہرمز کے علاقوں کا نقشہ جاری کردیا
ایران کے سرکاری میڈیا
کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں ان علاقوں
کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایرانی افواج کے مطابق ان کے کنٹرول میں ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی
جانب سے جاری نقشے میں ایک لکیر ایران میں کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے
جنوب میں کھینچی گئی ہے جبکہ دوسری لکیر ایران میں قشم جزیرہ اور متحدہ عرب امارات میں
ام القوین کے درمیان کھینچی گئی ہے۔ پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان لکیروں کے
درمیان کے علاقے پر ایرانی افواج کا کنٹرول ہے۔
امریکہ کی جانب سے
تاحال اس نقشے کے متعلق کوئی تنصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہFars
کالعدم تنظیم کا مواد تقسیم کرنے کا الزام: یوٹیوبر سعد بن ریاض جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل, ترہب اصغر، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہAyeshaA_Q
صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت نے مبینہ طور پر کالعدم
شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ میں لوگوں کو شمولیت کی دعوت دینے اور اس تنظیم سے متعلق
لٹریچر رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتار ہونے والے یوٹیوبر سعد بن ریاض کو 14 روزہ
جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سعد بن ریاض کو پیر کی دوپہر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں
پیش کیا گیا جہاں جج منظر علی گُل نے اس کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے
نمائندوں نے عدالت سے استدعا کی ملزم سے تفتیش کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب انھیں
جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سعد بن ریاض کو
جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے۔
سعد بن ریاض کو دو مئی کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی
ڈی) نے متعدد الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا جبکہ اہلِخانہ نے سی ٹی ڈی کے دعوؤں
کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے خلاف بعد از گرفتاری ایک بے بنیاد مقدمہ درج
کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق سعد بن ریاض یوٹیوب چینل ایون نیوز سے
منسلک ہیں۔ یہ ایف آئی آر سی ٹی ڈی ہی کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟
لاہور کے سی ٹی ڈی تھانے کے محرر تو قیر اسلم کی مدعیت میں
درج ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 27 اپریل کی صبح وہ سی ٹی ڈی کے دیگر
اہلکاروں کے ہمراہ اشتہاری مجرمان کی تلاش میں لاہور کے جی پی او چوک پر موجود تھے
جب انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ مزنگ روڈ پر واقع مسجد حنفیہ غوثیہ میں کالعدم تنظیم
القاعدہ کا ایک مبینہ رُکن موجود ہے جو لوگوں کو کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی
دعوت دے رہے ہیں اور اُن میں ممنوعہ کتب بھی تقسیم کر رہا ہیں۔
ایف آئی آر میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ جب صبح کے اوقات میں
مسجد پر ریڈ کی گئی تو وہاں سے گرفتار ہونے والے شخص نے اپنا نام سعد بن ریاض
بتایا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم کے قبضے برآمد
ہونے والے بیگ سے اسامہ بن لادن سے متعلق کتاب کے پانچ نسخے برآمد ہوئے، جو سی ٹی
ڈی کے مطابق ممنوع کتب میں شمار ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ سی ٹی ڈی نے مزید الزام عائد کیا کہ سعد کے قبضے
سے القاعدہ کا ممبرشپ کارڈ بھی برآمد ہوا تھا۔
ایف آئی آر میں اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997 کی دفعات 11 ایف (2)
اور 11 ڈبلیو شامل کی گئی ہیں۔ 11 ایف (2) کا تعلق کالعدم تنظیم کی رکنیت رکھنے
جبکہ 11 ڈبلیو نفرت انگیز مواد یا کسی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم کا مواد شائع کرنے
اور تقسیم کرنے کے متعلق ہے۔
اہلِخانہ اور سعد کے ساتھیوں کا کیا کہنا ہے؟
سعد بن ریاض کی اہلیہ عائشہ قیوم نے ایکس پر جاری اپنے ایک
بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اُن کے شوہر کو گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق
رات تقریباً ساڑھے تین بجے 12 سے 13 نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے
اور سعد کو اپنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
سعد کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس
کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر اُن کے شوہر کے خلاف
ایف آئی آر درج کی۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ ’سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی
کام کر چکے ہیں۔‘
’ایسے افراد جنھیں ریاست نے جانچ پڑتال کے بعد قابلِ اعتماد
سمجھا ہو، اگر انھیں من مانے انداز میں حراست میں لینا پڑے اور بعد ازاں اُن پر
پچھلے قوانین لاگو کیے جائیں، تو پھر یہ سوال تو ناگزیر ہے کہ ریاست آخر کس بنیاد
پر اپنے شہریوں سے اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟‘
ایون نیوز جس سے سعد منسلک ہیں، کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی
گئی تھی جس میں اس گرفتاری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کہا گیا ہے۔
سعد کے دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والے ابراہیم جعفری نے ایکس
پر لکھا تھا کہ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ انھیں مسجد سے حراست میں لیا گیا
جبکہ کیمرے کی فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ انھیں گھر سے اٹھایا گیا۔
تاہم ان کی جانب سے کوئی کیمرہ فوٹیج جاری نہیں کی گئی۔
بی بی سی سی ٹی ڈی اور سعد کے ساتھیوں و اہلخانہ کی جانب سے
کیے گئے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
بریکنگ, امریکی جنگی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، ایرانی فوج کا دعویٰ
ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کی جانب سے ’سخت اور بروقت انداز میں خبردار کیے جانے کے بعد امریکی اور صیہونی دشمن ڈسٹرائرز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔‘
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوج اہم بحری گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی مدد کا آغاز کرے گی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی وضاحت کی ہے کہ وہ اس کارروائی کی حمایت کیسے کرے گی۔
ایرانی بحری جہاز توسکا کے عملے کو آج ایران منتقل کر دیا جائے گا: پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایرانی
بحری جہاز توسکا کا 22 رکنی عملہ گذشتہ رات بحفاظت پاکستان پہنچ گیا تھا اور
انھیں آج ایران منتقل کر دیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے ایکس
پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایرانی بحری جہاز کو بھی پاکستانی سمندری حدود میں واپس
لایا جا رہا ہے تاکہ ضروری مرمت کے بعد اسے اس کے اصل مالکان کو واپس لوٹا دیا
جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ
اقدامات ایرانی اور امریکی حکام کی حمایت کیے جا رہے ہیں اور یقیناً اعتماد سازی میں
اہم کردار ادا کریں گے۔‘
اسحاق ڈار کا مزید
کہنا ہے کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور ثالثی میں سہولت فراہم
کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس اعلان پر کہ امریکی فوج سوموار کے روز سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کی رہنمائی شروع کرے گی، ایران کی طرف سے ایک بار پھر ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ’امریکی دھمکی‘ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران آبنائے ہرمز کا ’نگہبان اور محافظ‘ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو بخوبی علم ہے کہ ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے مجاز حکام کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’جو ممالک قانون کی پاسداری کرتے ہیں، ان کے لیے امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ’غیرقانونی کارروائیوں‘ کی حمایت کرنے کی کوئی وجہ اور ضرورت نہیں۔‘
اس سے قبل ایران کی سینٹرل کمان کے سربراہ نے کہا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے والی کسی بھی غیرملکی مسلح فوج کو نشانہ بنایا جائے گا خصوصاً امریکی فوج کو۔‘
آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی منصوبہ ابہام کا شکار، ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کشیدگی کا خدشہ, بی بی سی نیوز کی یروشلم سے نامہ نگار یولنڈے نیل کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے تحت امریکی
بحریہ کا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو براہِ راست معاونت فراہم کرنا ضروری
نہیں، بلکہ اس کا مقصد جہازوں کو محفوظ سمندری راستوں سے آگاہ کرنا اور ایرانی
حملوں سے بچاؤ کے لیے قریب رہ کر نگرانی کرنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے مطابق اس کا مشن
اہم آبی گزرگاہ میں جہازرانی کی آمدورفت کو آزادانہ ماحول فراہم کرنے میں معاونت کرنا
ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہے
گی۔
ایران کی جانب سے جاری تازہ بیان نے اس امر کو واضح
کر دیا ہے کہ اگر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں داخل ہوئی تو نئے فوجی تصادم اور کشیدگی
میں اضافے کا خدشہ موجود ہے، جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تین ہفتے
پرانی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم متعدد بار واضح
کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ہمارے ہاتھ میں ہے۔‘ اور ایران کی جانب سے اس
بات پر زور بھر دیا گیا ہے کہ ’جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایرانی مسلح افواج
سے اجازت ضروری ہے۔‘
واضح رہے کہ ایران کے خلاف دو ماہ قبل شروع ہونے
والی جنگ کے بعد سے اب تک سینکڑوں بین الاقوامی تجارتی جہاز اس علاقے میں پھنسے
ہوئے ہیں، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار عملے کے کارکُنان سوار ہیں۔
مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی
کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارتی اور توانائی
منڈیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں اب تک کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے اعلان
کے ساتھ ساتھ اپنے تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت
مذاکرات‘ جاری ہیں، جو ان کے بقول ’سب کے لیے کسی بہت مثبت پیش رفت کا باعث ہوں
گے۔‘
ٹرمپ کے یہ تبصرے ایران اور امریکہ کے درمیان امن
کے لیے 14 نکاتی منصوبے پر ہونے والی حالیہ خط و کتابت کے پس منظر میں سامنے آئے
ہیں۔ یہ منصوبہ ایران نے تیار کر کے امریکہ کو بھیجا تھا، جس پر دونوں جانب سے رد
و بدل کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ
تہران واشنگٹن کی جانب سے موصول ہونے والے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔ رپورٹ کے
مطابق یہ جواب پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا، کیونکہ پاکستان اس عمل میں ثالث
کا کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکہ سے مطالبہ
کیا ہے کہ وہ ایران کی سرحدوں کے قریب سے اپنی افواج واپس بلائے، ایرانی بندرگاہوں
کی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور تمام عسکری کارروائیاں بند کی جائیں جن میں لبنان
میں اسرائیلی افواج کی کارروائی بھی شامل ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق تہران نے یہ بھی مطالبہ کیا
ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 30 دن کے اندر معالات کو طے کیا جائے۔
تاہم، امریکہ نے تاحال باضابطہ طور پر اس بات کی
تصدیق نہیں کی کہ اس نے ایران کو کوئی تحریری جواب دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی
نشریاتی ادارے کان نیوز کے مطابق ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ایرانی تجویز
کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
بریکنگ, آبنائے ہرمز میں امریکی افواج داخل ہوئیں تو نشانہ بنایا جائے گا، ایران
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج
آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔
ایرانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں
سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ طور
پر آمدورفت سے متعلق ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے مرکزی فوجی کمان کے سربراہ کی جانب سے
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی
کوشش کرنے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس کو نشانہ بنایا جائے گا، ’خصوصاً امریکی
فوج کو۔‘
ایرانی فوج کے میجر جنرل علی عبداللّہی نے کہا ہے
کہ ’ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول
میں ہے اور اس سے محفوظ آمدورفت کا عمل ہر صورت ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں ہونا
چاہیے۔‘
یہ بیان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے
نشر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے گائیڈڈ
میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی و بحری طیارے، مختلف شعبوں میں استعمال ہونے
والے بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15 ہزار
فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
پاکستان کی توسکا نامی ایرانی جہاز کے عملے کی حوالگی کی تصدیق: ’امریکہ نے اعتماد سازی کے لیے قدم اٹھایا‘
،تصویر کا ذریعہREUTERS
پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس
بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر ضبط
کیے گئے ایرانی کنٹینر جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر موجود 22 ایرانی عملے کے ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا
گیا ہے۔‘
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جن
افراد کو گزشتہ رات پاکستان منتقل کیا گیا تھا، آج ایرانی حکام کے حوالے کر دیے
جائیں گے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب
سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری
ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا عملے سمیت پاکستان منتقل کر
دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا
ہے کہ ’ایرانی جہاز کو ضروری مرمت کے بعد پاکستان کی آبی حدود میں واپس لایا جائے
گا تاکہ اسے واپس ایران بھیجا جا سکے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ایسے اعتماد
سازی کے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے جاری ثالثی
کی کوششوں کے تحت مذاکرات اور سفارت کاری کی سہولت فراہم کرتا رہے گا۔‘
تاہم اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے کہا تھا
کہ ’آج یعنی سوموار کے روز امریکی افواج نے ’ایم وی توسکا‘ کے 22 عملے کے اراکین
کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جب کہ چھ دیگر
مسافروں کو گزشتہ ہفتے ہی منتقل کر دیا گیا تھا۔‘
’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے 15 ہزار امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے: سینٹ کام
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے امریکی صدر کے اعلان کردہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت سے
متعلق تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج چار مئی سے اس منصوبے کی
معاونت کا آغاز کریں گی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازرانی کی آمدورفت کو
آزادنہ طور پر بحال کرنا ہے۔
اتوار کو جاری بیان میں سینٹ کام نے بتایا کہ اس
مشن کے تحت 15 ہزار
اہلکار، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور 100 سے
زائد طیارے تعینات کیے جائیں گے۔
سینٹ کام کے مطابق ’دنیا بھر کی سمندری راستے سے
ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور ایندھن و کھاد کی بڑی
مقدار آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔‘
سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ’ہماری
جانب سے اس دفاعی مشن کی حمایت علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم
ہے جب کہ ہم بحری ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آبنائے ہرمز میں کسی بھی
طرح کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔‘