ایران کے خلاف جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا، تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنا چاہیے: مارکو روبیو
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔ تاہم انھوں نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا گیا تو امریکہ جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔
خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے امریکہ جنوبی کوریا اور جاپان سے 'زبردست معاہدے' کر رہا ہے
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے اب تک 51 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا جا چکا ہے
پاکستان، انڈیا اور سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی ہے
خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: سعودی عرب
ایران اپنے اقدامات کے ذریعے 'انتہائی نازک جنگ بندی' کو خطرے میں ڈال رہا ہے: اسسٹنٹ سکریٹری جنرل عرب لیگ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ دراصل ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ کے مترادف ہے۔
لائیو کوریج
ایران اپنے اقدامات کے ذریعے ’انتہائی نازک جنگ بندی‘ کو خطرے میں ڈال رہا ہے: اسسٹنٹ سکریٹری جنرل عرب لیگ
عرب لیگ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل حسام ذکی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں تیل کی بندرگاہ پر ایرانی حملہ انتہائی افسوسناک ہے۔
بی بی سی ریڈیو 4 کو دیے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ایران اپنے اقدامات کے ذریعے ’انتہائی نازک جنگ بندی‘ کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کا فریق بے شک نہیں ہے، تاہم کسی بھی ایسے نتیجے تک پہنچنے کی حمایت کرتا ہے جس سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت یقینی بنے۔
امریکہ ہر جہاز کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، واحد راستہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا ہے: سابق برطانوی سلامتی کے مشیر
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر لارڈ رکیٹس
برطانیہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر لارڈ رکیٹس نے
کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے کی
اطلاعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
لارڈ رکیٹس نے بی بی سی بریک فاسٹ سے گفتگو میں
امریکہ کے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ تجارتی جہازوں کو اس اہم آبی
گزرگاہ سے بحفاظت گزارا جا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سیکڑوں جہاز آبنائے ہرمز
میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ درجنوں جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔
ان کے مطابق ’امریکہ ہر ایک جہاز کو تحفظ فراہم
نہیں کر سکتا،‘ اور انھوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایک یا دو جہاز بھی نشانہ
بن گئے تو جہاز رانی کی صنعت ’محفوظ آمدورفت کے امکان پر مکمل اعتماد کھو بیٹھے گی۔‘
لارڈ رکیٹس نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں قابلِ
اعتماد اور محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کا ’واحد راستہ‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے
تک پہنچنا ہے۔‘
جنوبی لبنان کے دو قصبوں کے رہائشیوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کا حکم
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی فوج کی جانب سے منگل کی صبح اعلان کیا گیا
کہ لبنان کے دو جنوبی قصبوں کے رہائشی اپنے گھر خالی کرکے محفوظ مقامات کی جانب
منتقل ہو جائیں۔
آئی ڈی ایف کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ وہ حزب
اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف ’سخت کارروائی پر
مجبور‘ ہے۔
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ پر جنوبی لبنان میں اپنی
افواج پر مارٹر گولوں سے دو حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاہم تاحال حزب اللہ
کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ پیر
کے روز اسرائیلی حملوں میں 17 افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد جمعرات سے اب تک ہلاک
ہونے والوں کی مجموعی تعداد 110 ہو گئی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ
کشیدگی میں مارچ سے اب تک اس کے 17 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انھوں نے حزب اللہ
پر سینکڑوں راکٹ اور ڈرون حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ گزشتہ ماہ اسرائیل اور لبنان
کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا فریق نہیں تھا، تاہم تنظیم نے کہا تھا
کہ اگر اسرائیل معاہدے کی شرائط پر عمل کرے تو وہ بھی اسے ماننے کے لیے تیار ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ
انھیں ’حملوں‘ کے خلاف کارروائی کی اجازت دیتا ہے، جبکہ لبنانی حکام اسے مسترد
کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے لیے فجیرہ اتنا اہم کیوں ہے؟
جیسا کہ ہم رپورٹ کر چکے ہیں کہ متحدہ عرب امارات
نے ایران پر فجیرہ کے آئل انڈسٹری زون کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہاں اب سوال یہ ہے کہ فجیرہ آئل انڈسٹری زون، جسے ’فوائز‘ کے
نام سے جانا جاتا ہے دراصل ہے کیا اور یہ یو اے ای کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟
فوائز یعنی فجیرہ متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل اور
آبنائے ہرمز کے ٹھیک جنوب میں واقع ہے جس کے باعث بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند تک
براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔
فجیرہ آئل انڈسٹری زون مشرقِ وسطیٰ میں تیل ذخیرہ
کرنے کی سب سے بڑی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے، جہاں تقریباً سات کروڑ بیرل تیل
ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ موازنہ کیا جائے تو دنیا بھر میں روزانہ 10 کروڑ
بیرل سے زائد تیل استعمال ہوتا ہے۔
ابوظہبی کے تیل کی تنصیبات سے فجیرہ تک ایک پائپ
لائن بچھائی گئی ہے، جس کی مدد سے محدود مقدار میں خام تیل کو ٹینکروں میں بھر کر
عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ ایسے حالات میں بھی جب آبنائے ہرمز
مؤثر طور پر بند ہو۔
وزیراعظم پاکستان کی امارات میں شہری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے گذشتہ شب متحدہ عرب
امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے ایکس پر جاری بیان میں امارات
کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ
پاکستان یو اے ای میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون
حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
بیان میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان اس مشکل
وقت میں اپنے اماراتی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی حکومت
کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان جنگ بندی کا ہر صورت
احترام اور اس پر مکمل عملدرآمد نہایت ضروری سمجھتا ہے، تاکہ مذاکرات اور سفارت
کاری کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔‘
امارات پر حملوں کی سخت مذمت، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں: نریندر مودی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے
ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’ہم متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ
میں مذمت کرتے ہیں، جن میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے۔ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو
نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔‘
ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا
کہ ’انڈیا متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور تمام
تنازعات کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کے عزم کا اعادہ
کرتا ہے۔‘
انڈین وزیراعظم نے ایکس پر جاری بیان کے آخر پر اس
بات پر زور دیا کہ ’آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کو یقینی
بنانا خطے میں دیرپا امن و استحکام اور عالمی توانائی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔‘
امریکہ نے توانائی ترسیل خطرے میں ڈال دی ہے: قالیباف کا امریکہ پر الزام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی قیادت میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنما
اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک حالیہ بیان
میں کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئی حکمتِ عملی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔‘
ایکس پر جاری بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’امریکی
اقدامات اور اُن کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی مسلط
کیے جانے کے باعث بحری جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کی سلامتی کو شدید خطرات
لاحق ہو گئے ہیں۔‘
باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی انتظامیہ
کی یہ ’بدنیتی‘ بالآخر کمزور پڑ جائے گی۔‘
انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ہمیں بخوبی
اس بات کا اندازہ ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا امریکہ
کے لیے ناقابلِ برداشت ہے مگر ابھی تک ہماری جانب سے کسی کارروائی کا باضابطہ آغاز
بھی نہیں ہوا۔‘
واضح رہے کہ باقر قالیباف امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے
والے مذاکراتی دور کی قیادت کر چُکے ہیں۔
لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری، گذشتہ چار روز کے دوران 110 افراد ہلاک، متعدد زخمی
،تصویر کا ذریعہEPA
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق سوموار کے روز جنوبی
لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے، جو جنگ بندی
کے آغاز کے دو ہفتے سے زائد عرصے بعد کے سب سے خونریز دنوں میں شمار ہوتے ہیں۔
وزارت کے مطابق جمعرات سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی
مجموعی تعداد 110 ہو چکی ہے۔ اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے لبنان
میں شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
لبنانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد
و شمار میں شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کیا گیا، تاہم وزارتِ صحت نے تصدیق کی
ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے شامل تھے، جبکہ 14 زخمی بھی بچے ہی ہیں۔
تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں اس کے 17
فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور اس نے حزب اللہ پر سینکڑوں راکٹ اور ڈرون حملے کرنے کا
الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی متعدد حملوں کی ذمہ
داری قبول کی ہے، جن میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب واقع ناقورہ میں
اسرائیلی فوجیوں پر ڈرون حملے اور ملک کے جنوب مشرقی علاقے قنطارہ میں فوجی اہداف
پر راکٹ داغے جانا بھی شامل ہیں۔ تنظیم کی جانب سے اسے جوابی کارروائی قرار دیا
گیا ہے۔
اماراتی شہری تنصیبات پر ایرانی حملے بلاجواز اور ناقابلِ قبول ہیں: فرانسیسی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے متحدہ عرب امارات
کے خلاف ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں بلاجواز اور ناقابلِ قبول قرار دیا
ہے۔
فرانسیسی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں
سامنے آیا ہے کہ جب امارات نے اعلان کیا کہ امریکہ اسرائیل جنگ میں ایران کے ساتھ
ہونے والی جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اسے میزائلوں اور ڈرون حملوں
کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
صدر میکخواں نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں
کہا کہ ’امارات کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کسی بھی طور
قابلِ قبول نہیں۔‘
انھوں نے امارات اور خطے کے اتحادی ممالک کی اپنے
علاقوں کے دفاع کے لیے فرانس کی حمایت کا اعادہ کیا۔
فرانسیسی صدر نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز کو
دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور
استحکام کی بحالی کے لیے آزاد بحری آمدورفت ناگزیر ہے۔
جرمنی کے شہر لائپزگ میں گاڑی کے ہجوم پر چڑھ دوڑنے سے دو افراد ہلاک، متعدد زخمی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جرمنی کے مشرقی شہر لائپزگ میں سوموار کے روز ایک
گاڑی کے ہجوم پر چڑھ دوڑنے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو
گئے۔
مقامی حکام کے مطابق واقعے میں مجموعی طور پر 22
افراد زخمی ہوئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
لائپزگ کے میئر برخارڈ یونگ نے بتایا کہ مشتبہ حملہ
آور، جس کی عمر 33 سال ہے اور وہ جرمن شہری ہے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم انھوں
نے کہا کہ تاحال حملے کے محرکات واضح نہیں ہو سکے۔
پولیس کے مطابق گاڑی نے شہر کے مرکزی علاقے
گِرمائشے شٹراسے میں کئی افراد کو ٹکر ماری، جس کے بعد وہ وہاں سے نکل گئی۔
بعدازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔
صوبہ سیکسنی کے وزیرِاعلیٰ مائیکل کریچمر نے کہا کہ
مشتبہ شخص ماضی میں ذہنی مسائل کا شکار رہا ہے۔ واضح رہے کہ ، لائپزگ صوبہ سیکسنی کا
ایک اہم اور مصروف شہر ہے۔
لائپزگ پولیس کی ترجمان سوزان لوبکے نے بتایا کہ ایک
شخص نے آگسٹس پلاٹس سے گزرتے ہوئے گاڑی کو گِرمائشے سٹریٹ اور پھر مارکیٹ سے تیز
رفتاری سے گزرتے ہوئے لوگوں کو زخمی کیا۔
انھوں نے تصدیق کی کہ ’اس واقعے میں متعدد افراد
زخمی ہوئے ہیں اور افسوس کے ساتھ دو ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔‘
لائپزگ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں 63 سالہ خاتون اور 77 سالہ مرد شامل ہیں اور ان دونوں کا تعلق جرمنی سے ہی تھا۔
فجیرہ پر حملے میں تین انڈین شہری زخمی: انڈیا موجودہ صورتحال میں مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی ہے، وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
انڈیا نے آبنائے ہرمز سے آگے متحدہ عرب امارات کے
مشرقی ساحل پر واقع شہر فجیرہ میں ہونے والے حملے کو نا قابلِ قبول قرار دیا ہے۔
اس حملے میں تین انڈین شہری زخمی ہونے کی اطلاعت کی انڈین وزارتِ خارجہ نے تصدیق
کی ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی
جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا فوری طور پر ان کارروائیوں کے
خاتمے، شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور بے گناہ شہریوں پر حملوں کو روکنے کا
مطالبہ کرتا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق انڈیا موجودہ
صورتحال سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی ہے، تاکہ مغربی ایشیا میں
امن اور استحکام بحال ہو سکے۔
انڈیا نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز
سے آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت اور تجارت کی بھی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا مسائل کے پُرامن
حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
چین کے صوبہ ہونان میں آتش بازی کا سامان بنانے والے کارخانے میں دھماکہ، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی
،ویڈیو کیپشناس ڈرون فوٹیج میں چین کے آتش بازی کا سامان بنانے والے کارخانے میں ہلاکت خیز دھماکے کے بعد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق صوبہ ہونان میں آتش
بازی کا سامان بنانے والے ایک کارخانے میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں
کم از کم 21 افراد ہلاک اور 61 زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ دھماکہ سوموار کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 4
بج کر 40 منٹ پر شہر لیویانگ میں قائم ’ہوا شینگ فائر ورکس فیکٹری‘ میں پیش آیا،
جس کے بعد ریسکیو حکام نے کارخانے کے تین کلومیٹر کے دائرے میں موجود تمام افراد
کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
حکام کے مطابق سرچ اور ریسکیو آپریشنز اور زخمیوں
کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تقریباً 500 اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ عمارت کے
اندر پھنسے افراد کو تلاش کرنے کے لیے روبوٹس کی مدد بھی لی گئی۔
چینی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجوہات
جاننے کے لیے پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور آتش بازی کا سامان بنانے والی کمپنی
کے ذمہ دار فرد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
حکام نے بتایا کہ فیکٹری کے احاطے میں موجود دو
بارود کے گودام ریسکیو کارروائیوں کے دوران شدید خطرے کا باعث بنے رہے۔
،تصویر کا ذریعہXinhua
ریسکیو ٹیموں نے تین کلومیٹر کے دائرے میں انخلا کے علاوہ علاقے کو نم رکھنے جیسے حفاظتی اقدامات بھی کیے تاکہ ’ریسکیو کے دوران کسی اور حادثے‘ سے بچا جا سکے۔
سرکاری ٹی وی چینل سی سی ٹی وی کے ایک رپورٹر نے جائے وقوعہ سے براہِ راست رپورٹنگ کے دوران بتایا کہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ فیکٹری کے قریب واقع ایک رہائشی عمارت کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے ہدایت کی ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے جہاز میں آتش زدگی کا معاملہ: تحقیقات کا آغاز جہاز کے قریبی بندرگاہ پر پہنچے کے بعد کیا جائے گا، وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز اعلان
کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے زیرِ استعمال ایک بحری جہاز میں آگ لگنے
کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کی جائیں گی۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے
کہ اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز بحری جہاز کو کسی قریبی بندرگاہ منتقل کیے جانے
کے فوراً بعد ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق واقعے کی اصل وجہ کا تعین
اُس وقت کیا جائے گا جب جہاز کو بندرگاہ تک کھینچ کر لے جایا جائے گا اور اسے
پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ مکمل ہو جائے گا۔
بیان میں حادثے کی نوعیت یا عملے سے متعلق مزید
تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
’ایرانی جزیرے قشم اور ساحلی علاقے بندرعباس میں زور دار دھماکوں کی آوازوں سے گھر لرز اُٹھے‘
ٹیلی گرام چینل واحد آن لائن نے اپنے قارئین کے
حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ ’ایرانی جزیرے ’قشم‘ اور ساحلی علاقے ’بندرعباس‘ میں متعدد
شہریوں نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جو ان کے بقول ’جنگ کے
زمانے میں ہونے والے بم دھماکوں‘ سے مشابہ تھیں۔‘
وحید آن لائن کو موصول ہونے والے پیغامات کے مطابق
یہ دھماکے سوموار اور منگل کی درمیانی شب سنے گئے۔
ایک شہری نے بتایا کہ ’بندرعباس میں دو زور دار
دھماکوں کی آواز سُنائی دی یہ آواز بالکل ویسی ہی تھی کہ جیسی امریکہ اور اسرائیل
کے ساتھ ایران کی کشیدگی کے دوران سُنائی دی جاتی رہی۔۔۔ یہ دھماکے اس قدر شدید تھے
کہ ان سے گھروں کے در و دیوار تک لرز اُٹھے۔‘
امریکہ نے ایرانی فوج کی نہیں بلکہ عام شہریوں کی مال بردار چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا جس سے پانچ افراد ہلاک ہوئے: پاسدارانِ انقلاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے
تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے ایک بار پھر پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی
یعنی ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔
تسنیم کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج
کی جانب سے ’چھ ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں‘ کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد دعوے
کے بعد چونکہ پاسدارانِ انقلاب کے کسی بھی جنگی جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اس
خبر کی نوعیت جانچنے کے لیے مقامی ذرائع سے تحقیقات کی گئیں۔
ادارے کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ’امریکی
افواج نے خُصَب (عمان کے ساحل) سے ایران کے ساحلوں کی جانب جانے والی عوامی سامان
بردار دو چھوٹی کشتیوں پر حملہ اور فائرنگ کی اور انھیں نشانہ بنایا گیا جس کے
نتیجے میں ان میں سوار پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے۔‘
واضح رہے کہ سوموار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا
تھا کہ امریکی افواج نے ایران کی سات چھوٹی فوجی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایک بیان
میں کہا تھا کہ ان کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔
تاہم پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوج کے اس دعوے کو
مسترد کر دیا ہے۔
محمد بن سلمان اور زاید النہیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ: متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں کی مذمت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ولی
عہد اور وزیرِاعظم محمد بن سلمان نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن
زاید النہیان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یو اے ای کے خلاف ایران کے حملوں کی سخت
الفاظ میں مذمت کی اور ان حملوں کو بلا جواز قرار دیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے
مطابق سعودی ولی عہد نے امارات کی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے اپنے ملک کی
مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس
ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور پورے خطے میں امن و
استحکام کے فروغ کے لیے ممکنہ طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک بیان
جاری کرتے ہوئے نہایت سخت لہجے میں ایران کے ان حملوں کی مذمت کی ہے، جنھیں وزارت
نے ’میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں غیر شہری اور معاشی تنصیبات
کو نشانہ بنانے‘ کے مترادف قرار دیا۔
وزارتِ خارجہ نے ایک اماراتی کمپنی کے زیرِملکیت
جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
تاہم ایران نے پیر کے روز امارات پر حملوں کی ذمہ
داری قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس کا امارات کے خلاف کسی قسم کی کارروائی
کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
تاہم پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق رکھنے والی
خبر رساں ایجنسیوں نے ان حملوں سے متعلق خبریں بارہا شائع کیں، جبکہ ایک رپورٹ کے
مطابق ’حنظلہ‘ نامی ہیکر گروہ نے فجیرہ کی تیل تنصیبات سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے
اور حملے سے چند منٹ قبل انھیں منظرِ عام پر لانے کی کوشش کی۔
ٹرمپ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے: برطانوی تھنک ٹینک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحری تحفظ کے ایک ماہر نے آبنائے ہرمز میں امریکہ
کی کارروائیوں کو ’انتہائی خطرناک‘ اور ’کشیدگی میں اضافے کا باعث‘ قرار دیا ہے۔
برطانیہ کے تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے پروگرام برائے
عالمی سلامتی کی محقق نیتیا لیب نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال
شدید تناؤ کی عکاسی کرتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں
بحری جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کی شرائط پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں۔
ان کے مطابق امریکہ نے یہ مؤقف اختیار کر لیا ہے کہ
جہازوں کی آمدورفت کا واحد راستہ ایسے حالات میں سفر کرنا ہے جہاں ایران کی جانب
سے طاقت کے استعمال یا حملوں کا خطرہ بدستور موجود رہے۔
محقق نیتیا لیب کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ
کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ بعض جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے میں کامیاب ہو بھی جائے
تو یہ اقدام زیادہ سے زیادہ عارضی طور پر مقاصد حاصل کرنے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ
اس اہم آبی گزرگاہ کی پائیدار بحالی کے لیے کہیں زیادہ وسیع اور جامع کوششوں کی
ضرورت ہے۔‘
امریکہ کا ’پراجیکٹ فریڈم‘ نہیں بلکہ ’پراجیکٹ ڈیڈلاک‘ ہے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ
آبنائے ہرمز میں امریکہ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ دراصل ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ کے مترادف ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں ایرنی وزیرِ خارجہ کا کہنا
تھا کہ ’آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ
سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔‘
انھوں نے منگل کی صبح ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ
’پاکستان کی سنجیدہ سفارتی کوششوں کے باعث مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم
امریکہ کو چاہیے کہ وہ بدخواہوں کی جانب سے کسی نئے دلدل نما تنازع میں گھسیٹے
جانے سے ہوشیار رہے۔‘
عباس عراقچی نے اپنے اسی بیان میں متحدہ عرب امارات
کی انتظامیہ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یو اے ای کو بھی اسی طرح محتاط رہنے
کی ضرورت ہے۔‘
ایکس پر جاری بیان کے آخر پر ایرانی وزیرِ خارجہ نے
لکھا کہ ’نام نہاد ’پروجیکٹ فریڈم‘ درحقیقت ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ ثابت ہو رہا ہے۔‘
سعودی عرب کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کا مطالبہ، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری موجودہ عسکری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے کشیدگی کم کرنے، مزید تصادم سے گریز اور تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
سعودی وزرات کی طرف سے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پاکستانی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ ایک ایسا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے جو خطے کو مزید کشیدگی، عدم استحکام اور سلامتی کو لاحق خطرات سے بچا سکے، کیونکہ یہ صورتحال خطے اور دنیا کے مفاد میں نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی بحال ہونا انتہائی اہم ہے، اور صورتِ حال کو اپنی قدرتی حالت میں واپس لایا جانا چاہیے جیسا کہ یہ 28 فروری سے قبل تھی، تاکہ جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز امریکی فوجی حفاظت میں آبنائے ہرمز سے گزرا: شپنگ کمپنی
شپنگ کمپنی مرسک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کا ایک امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز امریکی فوج کی حفاظت میں کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے باہر نکل گیا ہے۔
مرسک کے مطابق یہ سفر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بغیر مکمل ہوا اور جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ الائنس فیئر فیکس نامی یہ جہاز فروری 2026 سے خلیج میں پھنسا ہوا تھا، جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔
مرسک کے بیان کے مطابق امریکی فوج نے کمپنی سے رابطہ کیا اور جہاز کو مدد کی پیشکش کی۔ ایک ’جامع سکیورٹی پلان‘ تیار کیے جانے کے بعد جہاز کو خلیج چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔
کمپنی کے مطابق بعد ازاں یہ جہاز امریکی فوجی اثاثوں کے ہمراہ خلیج سے روانہ ہوا، اور مرسک نے اس آپریشن کو ممکن بنانے پر امریکی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر رابطہ کاری کو سراہا ہے۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان دیا تھا کہ امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، تاہم ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکہ کے اس دعوے کو ’واشگاف جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔