چینی صدر نے کہا وہ ایران کو عسکری ساز و سامان نہیں دیں گے، آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ

ایک انٹرویو کے دوران فوکس نیوز کے میزبان سے ان سے سوال کہ کیا چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس ’حمایت‘ سے متعلق بات ہوئی ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’آپ حمایت کہہ رہے ہیں۔۔۔ وہ (چین) ہمارے ساتھ جنگ تو نہیں لڑ رہا۔‘ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ایران کو ’عسکری ساز و سامان نہیں دے گا‘ اور ٹرمپ کے مطابق ’یہ ایک بڑا بیان ہے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ نے مذاکرات کو ’بہترین‘ کہا لیکن تائیوان سے متعلق سوال کا جواب نہ دیا
  • صدر ٹرمپ کا دورہ چین: امریکی و چینی صدور کی بات چیت دو گھنٹوں پر محیط رہی
  • چینی صدر کی ٹرمپ کے ہمراہ موجود امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقات: چین کے دروازے امریکی کمپنیوں کے لیے مزید کشادہ ہوں گے، صدر شی
  • ’تعاون میں فائدہ جبکہ محاذ آرائی میں نقصان‘:چینی صدر کا ٹرمپ کو ’حریف نہیں، شراکت دار بننے‘ کا مشورہ
  • چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کر لیں گے: مارکو روبیو

لائیو کوریج

  1. ایران جنگ پر کم گفتگو اور چین کا پس پردہ ثالثی کا کردار

    ایران میں جاری جنگ، جس نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے، توقع کی جا رہی تھی کہ آج کے مذاکرات میں نمایاں طور پر زیرِ بحث آئے گی۔

    بیجنگ روانگی کے دوران ایئر فورس ون میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بیجنگ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو حل کرنے میں فعال کردار ادا کرے۔

    تاہم چین کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق آج کی ٹرمپ اور شی ملاقات میں اس موضوع کا زیادہ ذکر نہیں کیا گیا۔

    بیان میں تجارت اور تائیوان کے موضوعات پر تفصیلی بات کی گئی، لیکن ایران کا ذکر نمایاں نہیں تھا اگرچہ اس میں یہ ضرور کہا گیا کہ دونوں صدور نے ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال‘ سمیت دیگر عالمی امور پر ’خیالات کا تبادلہ‘ کیا۔

    امریکہ چاہتا ہے کہ چین، ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کرے، جبکہ اس تنازع میں براہِ راست شامل ہوئے بغیر چین خاموشی سے پس پردہ ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

  2. ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں کی باڈی لینگوئج کیا ظاہر کرتی ہے؟

    امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    دورۂ چین پر بیجنگ میں موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن مکڈونل نے دونوں رہنماؤں کی باڈی لینگوئج کا تجزیہ کیا ہے۔

    ان کے مطابق ٹرمپ ایک منفرد شخصیت ہیں اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں ان کی باڈی لینگویج بھی اکثر طاقت اور اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔

    تاہم جب وہ شی جن پنگ کے ساتھ نظر آئے تو یہ تاثر ملا کہ وہ ایک ایسے رہنما سے مل رہے ہیں جو طاقت کے لحاظ سے ان کے ہم پلہ ہے، اور بظاہر ٹرمپ کو اس بات کا احساس بھی تھا۔

    چینی صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    مثال کے طور پر مصافحے کے دوران دیکھا گیا کہ شی جن پنگ کا ہاتھ اوپر اور ٹرمپ کا نیچے تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے اپنے دوسرے ہاتھ سے چینی صدر کے ہاتھ کو ہلکے سے تھپتھپایا۔

    ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ مصافحہ کر رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سٹیفن مکڈونل کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک غیر محسوس سا رابطہ موجود تھا۔

    دوسری جانب ٹرمپ اپنے استقبال سے محظوظ ہوتے بھی دکھائی دیے اور اس موقع پر انہوں نے تالیاں بھی بجائیں۔

    نامہ نگار کے مطابق چینی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ٹرمپ کو کیسے خصوصی اہمیت کا احساس دلایا جائے۔

    ٹرمپ اور شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. دورۂ چین پر آئے ٹرمپ کے وفد میں کون کون سی کاروباری کمپنیوں کے سربراہ شامل ہیں؟

    امریکی صدر کے ہمراہ چین کے دورے پر آیا وفد

    ،تصویر کا ذریعہAlex Wong/Getty Images

    بیجنگ کے دورے کے لیے ٹرمپ کے ساتھ امریکی وفد میں اعلیٰ سطح کے کاروباری رہنما شامل ہیں۔ کئی رہنماؤں کی کمپنیاں ایسے شعبے میں کاروبار کر رہی ہیں جن سے متعلق امریکہ اور چین میں اقتصادی اختلافات پائے جاتے ہیں، جیسے کہ ٹیکنالوجی اور الیکٹرک گاڑیاں۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق یہ سی ای اوز (چیف ایگزیکٹو آفیسرز) ٹرمپ کے ہمراہ آئے ہیں:

    • ٹم کُک (ایپل)
    • سٹیفن شوارزمان (بلیک سٹون)
    • کیلی اورٹبرگ (بوئنگ)
    • برائن سائکس (کارگل)
    • جین فریزر (سٹی گروپ)
    • ہنری لارنس کلپ (جی ای ایروسپیس)
    • ڈیوڈ سولومون (گولڈمین سیچس)
    • جیکب تھیسن (الومینا)
    • مائیکل میباخ (ماسٹر کارڈ)
    • سنجے مہروترا (مائیکرون ٹیکنالوجی)
    • جینسن ہوانگ (اینویڈیا)
    • کرسٹیانو ایمون (کوالکام)
    • ایلون مسک (ٹیسلا اور سپیس ایکس)
    • ریان میک انیرنی (ویزا)

    توقع کی جا رہی ہے کہ مزید سی ای اوز اس وفد میں شامل ہوں گے۔

  4. تائیوان کو ٹرمپ، شی مذکرات میں کسی ممکنہ لین دین کا حصہ بنائے جانے پر تشویش, تنگ چیان، بی بی سی نیوز، تائی پے

    تائیوان

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    تائیوان میں بہت سے لوگوں کو یہ تشویش ہے کہ امریکہ کاروباری مفادات کے بدلے تائیوان پر چین سے سمجھوتہ کر لے گا۔

    اپریل میں تائیوان کے نائب وزیر خارجہ فرانسوئس وو نے بلومبرگ سے گفتگو میں کہا تھا کہ انھیں سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ تائیوان کو شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ کے درمیان مذاکرات میں کسی لین دین کا حصہ نہ بنا دیا جائے۔

    اب تک ایسی کوئی علامت سامنے نہیں آئی کہ ٹرمپ تائیوان سے متعلق امریکی مؤقف تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ تائیوان کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ’عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات‘ دونوں ممالک کے ’باہمی مفاد‘ میں نہیں ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ نے تائیوان سے متعلق اپنی حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔

    تائیوان کا معاملہ کیا ہے؟

    چین تائیوان کو اپنا ایک ایسا صوبہ سمجھتا ہے جو اس سے الگ ہو چکا ہے اور جو بالآخر اس کے قبضے میں آنا چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے چین طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتا۔

    حالیہ برسوں میں بیجنگ نے تائیوان کے ارد گرد فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں براہ راست فائرنگ کی مشقیں اور بندرگاہوں کے محاصرے کی فرضی مشقیں شامل ہیں۔

    تائیوان حکومت ایسی مشقوں سے تشویش کا شکار ہوئی ہے۔

    امریکہ ’ایک چین‘ کی پالیسی پر عمل کرتا ہے، جس کے تحت وہ بیجنگ کو چین کی واحد حکومت تسلیم کرتا ہے، تاہم وہ تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔

    امریکہ قانونی طور پر تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے مدد فراہم کرنے کا پابند بھی ہے۔

    گذشتہ برس ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو 11 ارب ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر چین نے ناراضی کا اظہار کیا۔ تاہم رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اس معاہدے کی باضابطہ منظوری ابھی دینی ہے، اور ٹرمپ، شی مذاکرات میں یہ معاملہ زیر بحث آ سکتا ہے۔

  5. ٹرمپ نے مذاکرات کو ’بہترین‘ کہا لیکن تائیوان سے متعلق سوال کا جواب نہ دیا, ٹام بیٹ مین، بیجنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار برائے امریکی محکمۂ خارجہ

    ٹرمپ اور شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ اور شی جن پنگ آہستہ آہستہ ٹیمپل آف ہیون کی جانب بڑھ رہے تھے جبکہ ایک گائیڈ انھیں اس مقام کے بارے میں بتا رہے تھے۔

    جب دونوں رہنما نیلے اور سنہرے رنگ والے ٹیمپل آف ہیون کے سامنے کھڑے تھے تو باقی وفد ان سے کچھ فاصلے پر پیچھے رہا۔

    شی جن پنگ مسکرا رہے تھے جبکہ ٹرمپ گائیڈ کی بات غور سے سنتے نظر آئے۔ اس کے بعد چینی صدر نے انھیں ایک جگہ لے گئے جہاں دونوں رہنماؤں نے تصاویر بنوائیں۔

    جب امریکی صدر کے ساتھ آئے صحافیوں نے مذاکرات کے بارے میں پوچھا تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’بہترین‘۔

    جب ایک اور رپورٹر نے پوچھا کہ کیا تائیوان پر بات ہوئی تو ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’زبردست جگہ ہے، ناقابل یقین، چین خوبصورت ہے۔‘

    جب یہ سوال دوبارہ کیا گیا کہ کیا تائیوان پر بات ہوئی، تو ٹرمپ سیدھا سامنے دیکھتے رہے، اور شی جن پنگ بھی۔

    یہ سوال تیسری بار اس وقت پوچھا گیا جب دونوں رہنما ٹیمپل کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

  6. ٹرمپ کے دورۂ چین کے پہلے روز کیا ہوا

    امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    • ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچے، جہاں فوجی دستے اور جھنڈے لہراتے بچوں نے ان کا استقبال کیا
    • دونوں رہنماؤں نے ریڈ کارپٹ پر دوستانہ ماحول میں مصافحہ کیا
    • ابتدائی کلمات میں شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ’حریف نہیں بلکہ شراکت دار‘ ہونا چاہیے اور یہ کہ پوری دنیا اس ملاقات کو دیکھ رہی ہے۔
    • ٹرمپ نے کہا کہ صدر شی سے ملاقات ان کے لیے ’اعزاز‘ ہے
    • ٹرمپ کے ہمراہ ایلون مسک اور اینویڈیا کے جینسن ہوانگ سمیت ٹیکنالوجی کے شعبے کے اہم رہنما بھی موجود ہیں
    • دو طرفہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے جاری رہے، جو متوقع وقت سے زیادہ تھے
    • مذاکرات کے بعد دونوں صدور نے ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا
    • توقع کی جا رہی ہے کہ تائیوان اس دورے کا اہم موضوع رہے گا، جبکہ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے اس معاملے پر ممکنہ ’تنازعے‘ سے خبردار کیا ہے
  7. زبردست: مذاکرات سے متعلق سوال پر ٹرمپ کا جواب

    ٹرمپ اور شی جن پنگ بیجنگ کے ٹیمپل آف ہیون میں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس سے پہلے ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ بیجنگ کے ٹیمپل آف ہیون میں تصویر بنواتے ہوئے جب ٹرمپ سے مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب میں کہا تھا ’انتظار کریں۔‘

    تاہم امریکی صدر کی میڈیا ٹیم میں موجود نمائندوں نے اب وضاحت جاری کی کہ ٹرمپ نے ’انتظار کریں‘ نہیں بلکہ ’بہترین‘ کہا تھا۔

    اس وقت ٹرمپ ٹیمپل آف ہیون سے روانہ ہو گئے ہیں۔ آج کے شیڈول کے مطابق بعد ازاں ان کے اعزاز میں ایک سرکاری ضیافت منعقد کی جائے گی۔

    ٹرمپ ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کرنے والے دوسرے امریکی صدر ہیں۔

    ٹیمپل آف ہیون قدیم چینی تاریخ میں ایک مقدس مقام ہے۔ یہ 15 ویں صدی میں منگ سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے جنت اور زمین کے درمیان تعلق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ اس مقام پر آ کر قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کے لیے دعا کرتے تھے۔

    جدید دور میں بھی اس مقام پر اہم عالمی شخصیات آتی رہی ہیں۔ ٹرمپ یہاں کا دورہ کرنے والے دوسرے امریکی صدر ہیں، ان سے پہلے سنہ 1975 میں جیرالڈ فورڈ یہاں آئے تھے۔

    چینی میڈیا کے مطابق امریکی سفارتکار ہنری کسنجر اس مقام کا 15 مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔ ہنری کسنجر وہی سفارتکار ہیں جنھوں نے 1970 کی دہائی میں بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

  8. یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے: ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کرتے ہوئے ٹرمپ کا تبصرہ

    امریکی اور چینی صدر بیجنگ میں ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کرتے ہوئے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    چین آئے امریکی صدر نے بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے اور ایک اہم سیاحتی مرکز، ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا۔ کچھ دیر بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی وہاں پہنچے اور دونوں رہنماؤں نے تصاویر بنوائیں۔

    ایک مرکزی حال کے سامنے تصویر بنواتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا: ’یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے، چین خوبصورت ہے۔‘

    قدیم عبادت گاہوں کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس وہ مقام ہے جہاں منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کے لیے دعا کرتے تھے۔

    ٹرمپ کے ہمراہ آنے والے میڈیا کے نمائندوں نے دو مرتبہ سوال کیا کہ کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ہے، مگر ٹرمپ اور شی جواب دیے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے۔

    اور جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا: ’انتظار کریں۔‘

  9. چینی صدر کی امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقات

    چینی صدر امریکی وفد سے مل رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر سے دو گھنٹے طویل دو طرفہ بات چیت کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کی۔

    انھوں نے کہا کہ چین کے دروازے امریکی کمپنیوں کے لیے مزید کشادہ ہوں گے اور انھیں چین میں زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔

    چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا بہت زیادہ کردار ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو فائدہ ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ بیجنگ باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کا خیر مقدم کرتا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ساتھ جو وفد لائے ہیں اس میں اینویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ایپل کے ٹم کک سمیت ایک درجن سے زائد بڑی کاروباری شخصیات شامل ہیں۔

    وفد میں ان کاروباری رہنماؤں کی شمولیت سے دونوں ممالک کے درمیان نئے معاہدوں کی امید بڑھ گئی ہے۔

    امریکی صدر چین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زیادہ امریکی مصنوعات خریدے۔

  10. چینی اور امریکی صدور میں دو گھنٹے طویل بات چیت کا اختتام

    چین کے دورے پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے چینی ہم منصب سے دو طرفہ بات چیت دو گھنٹے تک جاری رہی۔ مذاکرات کا یہ دورانیہ طے شدہ وقت سے دگنا تھا۔

    شام کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اعزاز میں دی گئی ایک سرکاری ضیافت میں شرکت کریں گے۔

  11. تائیوان پر امریکہ سے ممکنہ ’تنازع‘ پر شی جن پنگ کا انتباہ: چینی سرکاری میڈیا

    امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے امریکہ سے تائیوان کے ممنکہ ’تنازع‘ سے خبردار کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے ’چین، امریکہ تعلقات کا سب سے اہم معاملہ‘ قرار دیا ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ’اگر اس مسئلے کو درست طریقے سے سنبھالا گیا تو دوطرفہ تعلقات عمومی طور پر مستحکم رہ سکتے ہیں، لیکن اگر اسے مناسب انداز میں نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک تصادم یا حتیٰ کہ تنازعے کی طرف بڑھ سکتے ہیں، جس سے چین، امریکہ تعلقات ایک نہایت خطرناک صورتحال میں داخل ہو جائیں گے۔‘

    پس منظر اس بات کا یہ ہے کہ تائیوان ایک خود مختار ملک ہے جسے بیجنگ اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور اسے طاقت کے ذریعے اپنے قبضے میں لینے کا امکان مسترد نہیں کرتا۔

    یہ ملک چاروں طرف سے سمندر میں گھرا ایک جزیرہ ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے اس جزیرے کے گرد فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں محاصرے کی مشقیں بھی شامل ہیں۔ ان سے تائیوان اور اس کے اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔

    گذشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو 11 ارب ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کی چین نے مذمت کی تھی اور آج کی ملاقات سے قبل اس پر خبردار بھی کیا تھا۔

  12. صدر شی کا کہنا ہے کہ تجارتی ٹیموں نے ’مثبت نتائج‘ حاصل کیے: سرکاری میڈیا چین

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کی تجارتی ٹیموں کے درمیان گذشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں ’مجموعی طور پر متوازن اور مثبت نتائج‘ حاصل ہوئے۔

    آج دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے گذشتہ روز جنوبی کوریا میں چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فنگ سے ملاقات کی تھی۔

    شی جن پنگ کا کہنا تھا: ’حقائق بار بار ثابت کر چکے ہیں کہ تجارتی جنگ میں فاتح کوئی بھی نہیں ہوتا، اور چین، امریکہ معاشی اور تجارتی تعلقات کی بنیاد باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابی پر ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو اس مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

  13. انڈیا کے سابق آرمی چیف پاکستان سے مذاکرات اور دو طرفہ تعلقات کے حامی

    سابق انڈین آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ منوج نروانے

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق سابق انڈین آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ منوج نروانے نے آر ایس ایس رہنما دتاتریہ ہوسبالے کے پاکستان سے مذاکرات کی ضرورت سے متعلق مؤقف کی حمایت کی۔

    انڈیا کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما دتاتریہ ہوسبالے نے پی ٹی آئی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں اور ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق بدھ کے روز اسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق انڈین آرمی چیف نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے عوام کے درمیان دوستی بہتر دوطرفہ تعلقات کا باعث بن سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’سرحد کے دونوں جانب عام لوگ رہتے ہیں جنھیں روٹی، کپڑا اور مکان جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا ہے۔‘

    پی ٹی آئی کے مطابق جنرل ریٹائرڈ منوج نے کہا: ’عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب دونوں اطراف کے عوام کے درمیان دوستی ہو گی تو دونوں ممالک کے درمیان بھی دوستی قائم ہوگی۔‘

  14. آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز ہے: ٹرمپ کا چینی صدر سے مکالمہ

    امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران اپنے ابتدائی کلمات میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات ان کے لیے ’ایک اعزاز‘ ہے۔

    ٹرمپ نے کہا: ’ہمارے تعلقات اچھے رہے ہیں اور جب مسائل پیش آئے تو ہم نے انھیں حل کر لیا۔ میں آپ کو فون کر لیا کرتا تھا اور آپ مجھے فون کر لیتے تھے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے ’ہمیں جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا تھا ہم بہت جلد اسے حل کر لیتے تھے۔‘

    چینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا: ’میں سب سے کہتا ہوں کہ آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ چین کے اس دورے میں دنیا کے ’بہترین کاروباری رہنماؤں‘ کو اپنے ساتھ لائے ہیں اور ’آج یہاں صرف چوٹی کے لوگ ہی آپ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے موجود ہیں۔‘

    انھوں نے کہا: ’آپ کے ساتھ ہونا اعزاز ہے، آپ کا دوست ہونا بھی اعزاز ہے‘ اور امریکہ اور چین کے تعلقات ’پہلے سے کہیں بہتر‘ ہوں گے۔

  15. ایک دوسرے سے تعاون میں چین اور امریکہ کا فائدہ ہے، جبکہ محاذ آرائی سے نقصان: شی جن پنگ

    چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    دورۂ چین پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے آغاز پر ابتدائی کلمات میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا: ’پوری دنیا اس ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور عالمی صورتحال ہنگامہ خیز ہے۔‘

    چینی صدر نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے، کیا چین اور امریکہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں؟

    صدر ٹرمپ کے لیے ابتدائی کلمات میں شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ کیا چین اور امریکہ ’مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کے لیے زیادہ استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا، دونوں ممالک کے شہریوں اور انسانیت کے مستقبل کے لیے باہمی تعلقات پر مبنی روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں؟‘

    چینی صدر نے کہا: ’یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ، دنیا اور عوام کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کا جواب بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کی حیثیت سے مجھے اور آپ کو دینا ہے۔‘

    صدر شی نے ٹرمپ اور امریکہ کو آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر مبارک باد بھی دی۔

    انھوں نے مزید کہا: ’میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات، اختلافات سے زیادہ ہیں۔ ایک کی کامیابی دوسرے کے لیے موقع ہوتی ہے اور مستحکم دو طرفہ تعلقات دنیا کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے، جبکہ محاذ آرائی سے نقصان۔

    چینی صدر نے کہا: ’ہمیں حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے، ہمیں کامیابی اور خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔‘

    چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر سمت دے سکیں گے۔

  16. چین خلیج فارس میں رویہ تبدیل کرنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے: امریکہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’ایران اس وقت خلیج فارس میں جو کر رہا ہے‘ اسے روکنے میں چین فعال کردار ادا کرے۔

    وزیر خارجہ نے صدارتی طیارے ایئر فورس ون سے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیا۔

    انٹرویو میں انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کر لیں گے۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) عام طور پر اس آبی راستے سے گزرتا ہے۔ اس بندش کا نتیجہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت میں نکلا، جبکہ اس راستے سے ہونے والی دیگر مصنوعات کی تجارت بھی متاثر ہوئی۔

    مارکو روبیو نے بتایا کہ امریکہ نے چین کو قائل کرنے کے لیے تین دلائل پیش کیے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے چین کو ایک دلیل یہ دی گئی ہے کہ خود چین کے جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں پھنسے ہیں، دوسری دلیل یہ ہے کہ چین خود اس توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

    مارکو روبیو کے مطابق چین کو تیسری دلیل یہ دی گئی کہ اس کی معیشت برآمدات پر انحصار کرتی ہے اور آبنائے ہرمز پر بحران کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں۔ جب چینی مصنوعات خریدنے والے ممالک کی معیشتیں تباہ ہوں گی تو وہ ممالک اپنی خریداری کم کر دیں گے اور ’چین کی برآمدات بھی کم ہو جائیں گی۔‘

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’اس تنازع کا حل ہونا چین کے اپنے مفاد میں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’یہ دلائل ہم نے چین کو پیش کر دیے ہیں اور امید ہے کہ یہ دلائل مضبوط ہیں۔‘

  17. بریکنگ, متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے مبینہ دورۂ امارات کی خبروں کو مسترد کر دیا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیسا کے اب سے کُچھ ہی دیر قبل ہم نے آپ تک ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بیان کے حوالے سے خبر پہنچائی تھی کہ جس میں انھوں نے متحدہ عرب امارات پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر تنقید کی تھی۔

    اب متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے مبینہ دورۂ امارات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

    اماراتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران نیتن یاہو کے یو اے ای کے دورے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’متحدہ عرب امارات ان خبروں کی تردید کرتا ہے جن میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دورے یا کسی اسرائیلی فوجی وفد کے استقبال کا دعویٰ کیا گیا ہے۔‘

    یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی میڈیا، بشمول رائٹرز اور سی بی ایس نیوز، نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ بنیامن نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر امارات کا دورہ کیا اور صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔

    تاہم اس کے بعد اب سے کُچھ دیر قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سخت لہجے میں ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی ایک احمقانہ جوا ہے اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔‘

  18. عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی ایک احمقانہ جوا اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے: عباس عراقچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’نیتن یاہو نے اب کھل کر اس بات کا انکشاف کر دیا ہے جس سے ایران کے سکیورٹی ادارے کافی عرصہ پہلے ہی قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔‘

    عراقچی نے سخت لہجے میں ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی ایک احمقانہ جوا ہے اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔‘

    اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’جو عناصر اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘

    ان کے ان بیانات کو متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

    ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے جنگ کے دوران ممکنہ دورۂ امارات کی خبر سامنے آنے کے علاوہ، حالیہ دنوں میں امریکی میڈیا کی جانب سے یہ رپورٹس بھی خاصی زیرِ بحث رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امارات اور سعودی عرب نے ایران کے خلاف خفیہ فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

  19. بارکھان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن: سات شدت پسند ہلاک جبکہ میجر سمیت پانچ اہلکار بھی مارے گئے، آئی ایس پی آر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں پر تشدد کارروائیوں کے دوران سات شدت پسند جبکہ پاکستانی فوج کے ایک افسر سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 13 مئی 2026 کی صبح پاکستانی فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کے دستوں نے ضلع بارکھان کے علاقے نوشام میں شدت پسندوں کے سرچ اینڈ سینیٹائزیشن آپریشن شروع کیا۔

    بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ایک گروہ کا سراغ لگا کر انھیں نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں سات شدت پسند ہلاک ہوئے۔ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔‘

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں میجر توصیف احمد بھٹی، لائنس نائک فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی محمد ایاز شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود مزید ممکنہ شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن بدستور جاری ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بارکھان میں شدت پسندوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے میجر توصیف احمد اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میجر توصیف احمد اور جوانوں نے شدت پسندوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔‘

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ضلع بارکھان کے علاقے نوشم میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران جوانوں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ ’شدت پسندوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں دینے والے پوری قوم کا فخر ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’شدت پسند اور ان کے سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں، ریاست دشمن قوتوں کے مذموم عزائم ہر صورت ناکام بنائیں گے۔

    واضح رہے کہ بارکھان صوبہ بلوچستان کا صوبہ پنجاب سے متصل سرحدی ضلع ہے جبکہ اس کی سرحدیں بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی اور موسیٰ خیل سے بھی لگتی ہیں۔

    میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    اس واقعے سے قبل بارکھان سے ملحقہ بلوچستان کے نئے بننے والے ضلع اپر ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو افراد زخمی ہوئے۔

    ڈیرہ بگٹی میں ایک پولیس اہلکار منظور حسین نے فون پر بتایا کہ ضلع کے علاقے پیرکوہ میں نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گیا۔

    دھماکے کے باعث موٹر سائیکل پر سوار دو افراد زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    اہلکار کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کا تعلق امن فورس تھا۔

  20. ایرانی حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر سے ایندھن کا اخراج ہوا، جہاز عمان میں لنگر انداز ہے: ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی

    متحدہ عرب امارات

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    متحدہ عرب امارات کی ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک یونٹ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک آئل ٹینکر کو گذشتہ ہفتے ایرانی ڈرونز نے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں اس سے عمان کے ساحل قریب ایندھن کا معمولی اخراج ہوا تھا۔

    آبنائے ہرمز کی بندش نے اس اہم بحری راستے پر جہاز رانی کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے اور اس وقت سینکڑوں جہاز خلیج خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جہاز ایم وی براکا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام اور ماہرین کی ٹیموں کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔

    کمپنی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت جہاز چار مئی کو دو ایرانی ڈرونز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد سے عمان کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہے۔ بدقسمتی سے اس واقعے کے نتیجے میں بظاہر بنکر فیول کی معمولی مقدار خارج ہوئی۔‘

    تاہم ترجمان نے اخراج کی مقدار کی وضاحت نہیں کی۔

    حملے کے وقت ٹینکر کوئی کارگو نہیں لے کر جا رہا تھا اور نہ ہی عملے کے کسی رکن کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔