اسرائیل میں تین بسوں میں دھماکے: ’یہ دہشت گرد حملہ تھا‘ پولیس

اسرائیل کے شہر تل ابیب کے جنوب میں بیت یام کے علاقے میں تین بسوں میں دھماکے ہوئے ہیں جس کے بارے میں اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد حملہ ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ دو دیگر بسوں میں موجود آلات پھٹنے میں ناکام رہے۔

خلاصہ

  • مغربی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی صورت میں ان کی جانب سے بڑی تعداد میں امن فوج کے اہلکاروں کو یوکرین نہیں بھیجا جائے گا بلکہ وہاں ایک 'لائٹر ٹچ ری اشورنس فورس' تعینات کی جائے گی
  • کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ 'ہمیں یوکرین میں نیٹو ممالک کی فوجی نفری کی موجودگی قبول نہیں ہے'
  • چار مغویوں کے تابوت اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیے گئے
  • خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے ضلع کرم میں صوبائی حکومت نے انتہائی مطلوب شدت پسندوں کے سر کی قیمت مقرر کردی ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے انھیں 'ڈکٹیٹر' قرار دے دیا ہے
  • اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے کے شہر طوباس کے قریب واقع الفارعہ کیمپ پر فائرنگ سے تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں
  • روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر 'خوشی' ہوگی
  • راولپنڈی کی عدالت نے بھانجی کا ریپ کرنے پر ماموں کو عمر قید کی سزا سُنا دی

لائیو کوریج

  1. کھانے کے وقفے کے دوران میٹنگ روم کے باہر امریکی اور روسی وفود کی آپس میں گپ شپ

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنکھانے کے وقفے میں روسی اور امریکی حکام کی گپ شپ

    روس کے دفتر خارجہ نے ابھی کچھ تصاویر شیئر کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھانے کے وقفے کے دوران امریکی اور روسی حکام سعودی عرب میں میٹنگ روم کے باہر ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    روس امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنامریکی اور روسی وزرا خارجہ کی کھانے کے وقفے کے دوران لی گئی تصویر
  2. جنگ بندی سے متعلق سعودی عرب میں مذاکرات کے موقع پر یوکرین کے صدر ترکی میں موجود

    روس اور یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اس وقت امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ دوسری طرف ان مذاکرات سے دور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اس وقت ترکی میں صدر طیب اردوغان سے ملاقات کے لیے انقرہ میں موجود ہیں۔

    یہ یوکرینی صدر کا ترکی کا تیسرا دورہ ہے۔

    Ukrain

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیال رہے کہ چین نے بھی یوکرین کو مذاکرات کی میز پر مدعو نہ کرنے سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ امن کے لیے جاری بات چیت میں تمام فریقین کو مناسب وقت پر شریک کیا جائے گا۔

  3. یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق تمام فریقین کو شریک ہونا چاہیے: چین

    Trump, Putin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ امن مذاکرات میں جلد ہی تمام فریق شریک ہو سکیں گے۔

    چین کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’وہ امن کی بحالی کے لیے جاری تمام کوششوں کو دیکھ کر خوش ہیں۔‘

    واضح رہے کہ مغربی ممالک چین پر روس کی طر ف سے یوکرین کی جنگ کی حمایت کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود وہ یورپی ممالک سے بھی تعلقات کو بہتر رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

    چین نے ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ روس کو انتہائی خطرناک ہتھیار نہیں فروخت کر رہا ہے۔ سنہ 2023 میں چین نے بھی جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی تھی اور اس متعلق ایک امن کی بحالی پر پلان بھی شائع کیا تھا۔

  4. سعودی عرب میں جاری امریکہ اور روس کی ملاقات کے پہلے تین گھنٹوں میں اب تک کیا ہوا؟

    روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس وقت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق ہونے والی ملاقات میں کھانے کا وقفہ ہے۔

    ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اس پہلی ملاقات کے پہلے تین گھنٹوں میں اب تک کیا ہوا ہے؟

    اس ملاقات میں کون کون شریک ہے؟

    امریکہ کی طرف سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف اس اجلاس میں شریک ہیں۔

    روس کی جانب سے وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور صدر پوتن کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اشاکوف شریک ہیں۔ روس کے سرکاری فنڈ کے سربراہ کریلی دمیتریف بھی ان مذاکرات کے سائیڈ لائن پرمتحرک ہیں۔

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ریاض میں بی بی سی نیوز کے نمائندے ٹام بیٹمین کا کہنا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے ہی کمرے میں موجود رہے۔

    اس ملاقات میں کون شریک نہ ہو سکا؟

    اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ان معاملات میں اہم کردار یوکرین اس ملاقات میں موجود نہیں ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یا کوئی بھی اور یوکرینی نمائندہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہے۔ یوکرین صدر اس وقت ترکی میں موجود ہیں، جہاں وہ ترک صدر طیب اردوغان سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    اس ملاقات میں کن موضوعات پر بات ہو رہی ہے؟

    ابھی تک ہمیں بریفنگ کا انتظا ہے۔ تاہم ان مذاکرات کا انعقاد یوکرین میں جنگ بندی کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔

    امریکہ کا اصرار ہے کہ آج ہونے والی بات چیت مذاکرات کے آغاز کے لیے نہیں کیے جا رہے ہیں بلکہ یہ دیکھنے کے لیے ہو رہے ہیں کہ روس جنگ سے متعلق کتنا سنجیدہ ہے۔ دوسری طرف ماسکو نے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے اپنے تعلقات معمول پر لانے کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔

    ابھی تک امریکی اور روسی صدور کی ملاقات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے مگر روس کا کہنا ہے کہ آج ہونے والے مذاکرات شاید آگے کا نقشہ واضح کر سکیں گے۔

  5. یوکرین کو یورپی یونین میں شمولیت کا حق ہے مگر فوجی اتحاد ایک ’بالکل مختلف‘ معاملہ ہے: ماسکو

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہAlamy

    کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ روس یوکرین کے یورپی یونین میں شمولیت کے خلاف نہیں ہے کیونکہ وہ اسے اپنے ملک کے لیے کسی خطرے کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ کسی ملک کا اپنا آزادانہ فیصلہ ہے۔ ہم تو ایک دوسرے سے اتحاد اور معاشی ترقی کی بات کر رہے ہیں اور اس معاملے پر یقیناً کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘

    انھوں نے کہ روس کا معاملہ صرف سکیورٹی، دفاع یا فوجی انحاد سے متعلق ہے جو کہ بالکل مختلف بات ہے۔ ترجمان کے مطابق ’یہ ایک اور مدعا ہے اور اس معاملے کو ہر کوئی جانتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ٹرمپ اور پوتن کی ممکنہ ملاقات سے متعلق ابھی تک کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں مگر ان کے مطابق آج سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات شاید مستقبل سے متعلق کچھ واضح سمت دی۔

  6. ’اگر ضرورت پڑی‘ تو پوتن یوکرین کے صدر سے بات کریں گے: کریملن

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کریملن کا کہنا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو روس کے صدر ولادیمیر پوتن اپنے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر پوتن نے یہ بات خود کی ہے کہ اگر ضروری ہوا تو پھر وہ صدر زیلنسکی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن معاہدوں کی قانونی بنیاد پر اس حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ (صدر) زیلنسکی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔‘

  7. یوکرین کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے نمائندے کی یورپی رہنماؤں سے ملاقاتیں

    یوکرین یورپ امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنامریکی نمائندے کی پہلی ملاقات برسلز میں یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا فنڈو لائین سے ہوئی ہے

    ایک طرف سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کے لیے نمائندے جنرل کیتھ کیلاگ اس وقت یورپ میں یورپین رہنماؤں سے علیحدہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

    ان کی پہلی ملاقات یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا فنڈو لائین سے برسلز میں ملاقات ہوئی ہے۔

    اُرسلا فنڈو لائین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے نمائندے سے ہونے والی بات چیت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم یوکرین میں دیرپا امن کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔‘

    امریکی صدر کے نمائندہ کی اگلی منزل پولینڈ ہوگی، جہاں وہ اس یورپی ملک کے صدر انڈرے ڈُوڈا سے ملاقات کریں گے۔

    پولینڈ کے بعد جنرل کیتھ یوکرین کے دارالحکومت کیئو جائیں گے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وہ جنرل کیتھ کیلاگ کو ’فرنٹ لائن‘ پر لے جانا چاہتے ہیں۔

  8. یوکرین میں جنگ بندی یا کچھ اور مقاصد، امریکہ اور روس سعودی عرب میں جاری بات چیت سے متعلق کیا مؤقف رکھتے ہیں؟

    روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنہماری ترجیح امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے: روس

    امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین جنگ پر مذاکرات سعودی عرب میں شروع ہو گئے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بند کمرے میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات کتنی دیر تک جاری رہے گی۔ تاہم آج کے اجلاس سے جو تفصیلات سامنے آئیں گی بی بی سی آپ کو ان تفصیلات سے باخبر رکھے گا۔

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اس حوالے سے بات کرنے کے لیے آمنے سامنے ہونے والی یہ پہلی ملاقات ہے۔

    روس کے وزیر خاریہ سرگئی لاروف اور امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کے درمیان یہ ملاقات سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہو رہی ہے تاہم اس ملاقات کے لیے یوکرین یا یورپ کے کسی اور ملک کو مدعو نہیں کیا گیا۔

    امریکہ روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امریکہ اور روس کے درمیان بات چیت جاری

    امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت یہ دیکھنے کے لیے پہلا قدم ہو گی کہ آیا روس جنگ کے خاتمے کے لیے ’سنجیدہ‘ ہے جبکہ دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امریکا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔

  9. ٹورنٹو ایئر پورٹ پر حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے مسافر جو کریش کے بعد ’چمگادڑوں کی طرح الٹے لٹکے ہوئے تھے‘

    کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے پیئرسن ایئر پورٹ پر امریکی ریاست مینیسوٹا سے آنے والا ڈیلٹا ایئر لائنز کا مسافر بردار طیارہ حادثہ کے بعد الٹا ہو گیا تھا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے پیئرسن ایئر پورٹ پر امریکی ریاست مینیسوٹا سے آنے والا ڈیلٹا ایئر لائنز کا مسافر بردار طیارہ حادثہ کے بعد الٹا ہو گیا تھا۔

    ’ہمارا طیارہ کریش ہو گیا ہے۔ یہ الٹ گیا ہے۔‘ یہ الفاظ تھے ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز 4819 کے ایک مسافر جون نیلسن کے۔

    وہ سوموار کے روز امریکی ریاست مینیسوٹا سے کینیڈا آنے والی ڈیلٹا ایئر لائنز کی اس پرواز میں سوار تھے جسے لینڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا۔

    ڈیلٹا ایئر لائنز کے مطابق اس طیارے میں عملے کے چار ارکان سمیت 80 افراد سوار تھے۔

    اس واقعے میں 18 افراد زخمی ہوئے تاہم خوش قسمتی کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    حادثے کے بعد نیلسن کے اکاؤنٹ سے فیسبک پر شیئر کی گئی ویڈیو میں انھیں کہتے سنا جاسکتا ہے زیادہ تر مسافر بخیریت ہیں اور وہ سب جہاز سے نکل رہے ہیں۔

    بعد ازاں امریکی خبر رساں ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کریش سے قبل سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔

    ’ہم ایک جانب پھسلے اور پھر پیٹھ کے بل پلٹ گئے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ طیارے کے بائیں جانب آگ کا ایک بڑا گولہ نمودار ہو تھا۔

    حادثے کے بعد بعد تمام مسافر سر کے بل لٹکے ہوئے تھے۔

    طیارے پر موجود ایک اور مسافر پیٹر کوکوف نے سی این این کو بتایا ’ہم چمگادڑوں کی طرح الٹے لٹکے ہوئے تھے۔‘

    نیلسن اپنی حفاظتی پیٹی کھول کر خود نیچے اترنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’کچھ لوگ لٹکے ہوئے تھے اور انھیں نیچے اترنے میں مدد کی ضرورت پیش آئی۔۔۔جبکہ دیگر خود ہی نیچے اتر گئے۔‘

    سوشل پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں کچھ افراد کو ہاتھوں پیروں کے بل جہاز سے نکلتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فائر بیگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کے لیے فوم کا سپرے کر رہا ہے۔

    حادثے کے وقت ایئر پورٹ پر موجود ڈائین پیری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں وہاں موجود ہونے کے باوجود طیارے کے الٹنے کا اس وقت پتا چلا جب انھیں گھر والوں کی کال آئی۔

    ’یہ بہت عجیب بات تھی ہم ہوائی اڈے پر موجود تھے اور ہمیں نہیں معلوم تھا کہ باہر کوئی حادثہ ہوا ہے۔‘

    تاحال حادثے کی وجوہات کا پتا نہیں چل سکا ہے۔ آئندہ چند روز تک تحقیقات کی وجہ سے ایئر پورٹ کے دو رن وے بند رہیں گے اور اس کی وجہ سے مسافروں کو تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب نیلسن اب بھی اس صدمے سے باہر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے سی این این کو بتایا کہ وہ اب بھی تناؤ کا شکار ہیں۔

    ’یہ کافی حیرت انگیز ہے کہ ہم بچ گئے۔‘

  10. کرم میں قافلے پر حملے میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق، پانچ سکیورٹی اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    کرم میں قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پانچ سکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔

    ،تصویر کا ذریعہDistrict administration Tall

    ،تصویر کا کیپشنکرم میں قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پانچ سکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔

    گزشتہ روز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ضلعی انتظامیہ کے دو اہلکاروں نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    ہلاک ہونے والے چار اہلکاروں کی نماز جنازہ آج صبح جبکہ ایک کی گذشتہ رات ٹل میں ادا کی گئی۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رحیم گل نے بتایا کہ گذشتہ روز قافلے پر حملے کے بعد گیارہ زخمی بی ایچ یو مندوری لائے گئے جبکہ ایک زخمی ڈی ایچ کیو صدہ لے جایا گیا۔

    اس کے علاوہ ایک شہری جن کی شناخت بگن کے رہائشی یاسین کے ام سے ہوئی، کی لاش بی ایچ یو مندوری لائی گئی۔

    گذشتہ رات وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی صدارت میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی حکومت نے لوئر کرم کے علاقے اوچت، مندوری اور دیگر علاقوں کو شرپسندوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرپسندوں کے خلاف موثر کارروائیوں کے لیے ان علاقوں سے مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

    ٹل کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر سید احسان علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی ضرورت پڑتی ہے تو اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے تین مقامات پہلے ہی تیار کر لیے ہیں۔

    اسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ ضروری سامان جس میں ٹینٹ، خوراک اور ڈاکٹرز شامل ہیں، کا انتظام کر لیا گیا ہے۔

    گزشتہ روز کرم جانے والے قافلے کے حوالے سے سید احسان علی شاہ نے بتایا کہ 113 گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں خوراک، ادویات، ایل پی جی اور فیول کے ٹرک شامل تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ہنگو کی ضلعی انتظامیہ نے ان ٹرکوں کو بحفاظت چھپری تک پہنچایا جبکہ آگے کی ذمہ داری کرم انتظامیہ کی تھی۔

    احسان علی شاہ نے بتایا کہ جیسے ہی قافلہ مندوری پہنچا تو فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ان کے مطابق 49 ٹرک بحفاظت ٹل واپس پہنچ گئے ہیں جبکہ آخری اطلاع کے مطابق چھ ٹرکوں کو جلا دیا گیا جبکہ اٹھارہ ٹرکوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔

    سوموار کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ ٹرکوں کو جلایا جارہا ہے جبکہ کچھ ٹرکوں سے اشیا خوردونوش لوٹی جارہی ہیں تاہم ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    اس حوالے سے لوئر کرم کے اسسٹنٹ کمشنر سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    گذشتہ کئی ماہ سے اپر کرم کے راستے بند ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ علاقے کا ملک کے دیگر علاقوں میں زمینی ربطہ منقطع ہے۔

    یاد رہے کہ جنوری کے مہینے میں فریقین کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے بعد سے سرکاری سطح پر قافلے کی صورت میں پاڑہ چنار اور دیگر علاقوں کو بنیادی اشیا کی ترسیل کی جاتی ہے تاہم ان قافلوں پر حملوں کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے۔

  11. امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    سوموار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی ہے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسوموار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی ہے

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سوموار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔

    سعودی ایجنسی کے مطابق ملاقات میں تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال اور استحکام کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مارک روبیو سعودی عرب میں غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے پر بھی بات کریں گے۔

    حالیہ دنوں میں امریکی صدر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تعمیرِ نو کے بعد پوری دنیا سے لوگ آکر غزہ میں رہ سکیں گے جبکہ فلسطینیوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے اردن، مصر اور سعودی عرب سے بات کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ مصر، اردن اور دیگر ممالک اس کام میں ان کی مدد کریں گے۔

    امریکہ صدر کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک اس منصوبے پر رقم لگائیں گے۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات آج سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہوں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ سمیت سینیئر امریکی اہلکار سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں وہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف اور دیگر روسی عہدیاروں سے ملاقات کریں گے۔

  12. فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا ڈونلڈ ٹرمپ، ولادیمیر زیلنسکی سے رابطہ: ’یوکرین میں دیرپا امن کے لیے روسی جارحیت کا خاتمہ ضروری ہے‘

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین میں مضبوط اور دیرپا امن کے خواہاں ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین میں مضبوط اور دیرپا امن کے خواہاں ہیں۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے پیرس میں یورپی رہنماؤں کی یوکرین کے صورتحال پر اجلاس کے بعد ان کا یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ ہوا ہے۔

    سوشل میڈیا پلاٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا وہ یوکرین میں مضبوط اور دیرپا امن کے خواہاں ہیں۔

    ’اس کے لیے ضروری ہے کہ روس اپنی جارحیت روکے اور اس کے ساتھ ہی یوکرین کی سالمیت کے لیے گارنٹی کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر یہ جنگ بندی بھی منسک معاہدے کی طرح ناکام ہو جائے گی۔‘

    اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یورپ کو شامل کیے بغیر یوکرین کے حوالے سے روس کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کے بعد یورپی رہنماؤں کا پیرس میں ایک ہنگامی سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔

    میٹنگ کے بعد یورپی یونین اور نیٹو نے کہا ہے کہ انھیں یوکرین کو قابل اعماد حفاظتی ضمانت فراہم کرنے اور دفاع مقاصد کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

    کیتھ کیلوگ کا کہنا کہ کہ ان کی نظر میں ہر کسی کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا ممکن نہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکیتھ کیلوگ کا کہنا کہ کہ ان کی نظر میں ہر کسی کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا ممکن نہیں۔

    ’یوکرین پر کوئی بھی امن معاہدہ مسلط نہیں کیا جائے گا‘

    دوسری جانب یوکرین کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کیتھ کیلوگ کا کہنا تھا کہ یوکرین پر کوئی بھی امن معاہدہ مسلط نہیں کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بعد میں بات کی جائے گی کہ آیا واشنگٹن مستقبل میں یورپی امن فوجیوں کے لیے ضمانتیں فراہم کرے گا یا نہیں۔

    کیتھ کیلوگ کا کہنا تھا کہ وہ یورپی اتحادیوں سے بات کر رہے ہیں جو مذاکرات میں شامل ہونے پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں ہر کسی کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا ممکن نہیں۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات آج سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہوں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سمیت سینیئر امریکی اہلکار سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں وہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف اور دیگر روسی عہدیاروں سے ملاقات کریں گے۔

  13. نواز شریف کو جس الزام پر نکالا گیا وہ غلط تھا: شیر افضل مروت

    نواز مروت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کو ایون فیلڈ کی جائیداد یا آف شور کمپنیوں کے الزام پر نکالا جاتا تو جواز بھی بنتا تھا۔

    پاکستان تحریکِ نصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نواز کے رہنما نواز شریف کو جس الزام پر نکالا گیا وہ غلط تھا۔

    شیر افضل مروت کی جانب سے یہ بیان پی ٹی آئی سے نکالے جانے کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل فردوس شمیم نقوی کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ شیر افضل مروت کو عمران خان کی ہدایت پر پارٹی سے نکالا گیا ہے۔

    اس نوٹیفکیشن کے سامنے آنے سے قبل ہی شیر افضل مروت نے پارٹی سے نکالے جانے سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’میں نے خان صاحب کو نہیں چھوڑا لیکن اگر وہ مجھے چھوڑ گئے تو میں پھر کبھی ان کے پاس نہیں جاؤں گا۔‘

    تاہم سوموار کے روز ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ’میں نے سیاست خان کے لیے شروع کی۔۔۔۔ خان کا نظریہ، ان کی وژن، ان کا دیا گیا شعور، ان کا پیغام، ان کا کاز خون بن کر میری رگوں میں ڈور رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ انھیں پارٹی سے نکالا جاتا ہے یا نہیں۔

    مروت کا کہنا تھا کہ جب سے انھیں پارٹی سے نکالا گیا ہے تب سے انھوں نے نعرہ بلند کیا ہے کہ ’مجھے کیوں نکالا؟‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب انھیں نواز شریف کا خیال آتا ہے جنھوں نے بطور وزیر اعظم نکالے جانے کے بعد یہی نعرہ بلند کیا تھا۔ مروت کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب کو جس الزام پر نکالا گیا وہ تو غلط تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف کو ایون فیلڈ کی جائیداد یا آف شور کمپنیوں کے الزام پر نکالا جاتا تو جواز بھی بنتا تھا۔

    شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت عمران خان کو جیل سے نکالنے کی خواہشمند تو ہے لیکن یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

    مروت کا کہنا تھا کہ وہ پوری قیادت پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے تاہم ان کے مطابق عمران خان کی رہائی پی ٹی آئی کے کچھ قائدین کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

  14. کینیڈا میں لینڈنگ کے دوران طیارے کو حادثہ، 18 افراد زخمی

    ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز 4819 کو حادثہ لینڈنگ کے دوران پیش آیا جس کے بعد طیارہ رن وے پر پلٹ گیا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز 4819 کو حادثہ لینڈنگ کے دوران پیش آیا جس کے بعد طیارہ رن وے پر پلٹ گیا۔

    کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے پیئرسن ایئر پورٹ پر امریکی ریاست مینیسوٹا سے آنے والے ایک طیارے کو حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں 18 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے مطابق، ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز 4819 کو حادثہ لینڈنگ کے دوران پیش آیا جس کے بعد طیارہ پلٹ گیا۔

    زخمیوں میں سے تین افراد شدید زخمی ہیں۔

    ڈیلٹا ایئر لائنز کے مطابق اس طیارے میں عملے کے چار ارکان سمیت 80 افراد سوار تھے۔

    ایف اے اے کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز کو اینڈیوور ایئر چلاتی ہے۔ ان کے مطابق حادثے کی تحقیقات کینیڈا کا ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کرے گا۔

    جائے وقوعہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے کے بعد طیارہ پلٹ گیا تھا۔

    ٹورنٹو پیئرسن کے فائر چیف ٹوڈ ایٹکن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے جائے حادثہ پر پہنچتے ہی آگ بھجانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب امدادی ادارے کا عملہ وہاں پہلنچا تو کچھ مسافر پہلے ہی طیارے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    فائر چیف کا کہنا تھا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت رن وے گیلا نہیں تھا اور نہ ہی تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔

    انھوں نے حادثے میں 18 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ایئر ایمبولینس سروس اورنج کے مطابق حادثے میں تین افراد کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ ان میں ایک 60 سالہ شخص ، ایک بچہ اور ایک خاتون شامل ہیں جن کی عمر 40 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

    بچے کو علاج کے لیے چلڈرن ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ خاتون کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ٹورنٹو کے سنی بروک ہیلتھ سائنسز سینٹر لے جایا گیا ہے۔

    تاہم ٹورنٹو ایئر پورٹ کی صدر اور سی ای او ڈیبورا فلنٹ نے کہا ہے کہ انھیں اس حادثے میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    ٹورنٹو پیئرسن کے فائر چیف ٹوڈ ایٹکن کا کہنا ہے کہ جب امدادی ادارے وہاں پہلنچے تو کچھ مسافر پہلے ہی طیارے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنٹورنٹو پیئرسن کے فائر چیف ٹوڈ ایٹکن کا کہنا ہے کہ جب امدادی عملہ طیارے کے پاس پہلنچا تو کچھ مسافر پہلے ہی طیارے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
  15. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 7زخمی ہوگئے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سوموار کے روز ایک مرتبہ پھر سامان لے جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اب تک ایک ڈرائیور کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ صوبائی حکومت نے شر پسندوں کے خلاف ’بلاتفریق‘ کارروائی کا فیصلہ کیا ہے،

    برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے تحفظ اور امن مذاکرات کے لیے معاہدے کو یقینی بنانے کی غرض سے برطانوی فوجی دستے یوکرین بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔

    یوکرین کی حکومت کے ایک اعلی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے لیے یوکرین کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔