اسرائیل میں تین بسوں میں دھماکے: ’یہ دہشت گرد حملہ تھا‘ پولیس
اسرائیل کے شہر تل ابیب کے جنوب میں بیت یام کے علاقے میں تین بسوں میں دھماکے ہوئے ہیں جس کے بارے میں اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد حملہ ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ دو دیگر بسوں میں موجود آلات پھٹنے میں ناکام رہے۔
خلاصہ
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی صورت میں ان کی جانب سے بڑی تعداد میں امن فوج کے اہلکاروں کو یوکرین نہیں بھیجا جائے گا بلکہ وہاں ایک 'لائٹر ٹچ ری اشورنس فورس' تعینات کی جائے گی
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ 'ہمیں یوکرین میں نیٹو ممالک کی فوجی نفری کی موجودگی قبول نہیں ہے'
چار مغویوں کے تابوت اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیے گئے
خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے ضلع کرم میں صوبائی حکومت نے انتہائی مطلوب شدت پسندوں کے سر کی قیمت مقرر کردی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے انھیں 'ڈکٹیٹر' قرار دے دیا ہے
اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے کے شہر طوباس کے قریب واقع الفارعہ کیمپ پر فائرنگ سے تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر 'خوشی' ہوگی
راولپنڈی کی عدالت نے بھانجی کا ریپ کرنے پر ماموں کو عمر قید کی سزا سُنا دی
لائیو کوریج
’یوکرین سے محبت ہے لیکن زیلنسکی نے خراب کام کیا ہے‘: صدر ٹرمپ کی یوکرینی ہم منصب پر تنقید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر
زیلنسکی پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر ہے کہ یوکرینی صدر زمینی
حقائق کو تسلیم کرلیں ورنہ اقتدار اور ملک دونوں ان کے ہاتھوں سے نکل سکتے ہیں۔
ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے صدر
زیلنسکی کو ’آمر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یوکرین سے محبت ہے لیکن زیلنسکی نے
خراب کام کیا ہے، ان کا ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور لاکھوں افراد غیر ضروری طور
پر مارے جا چکے ہیں۔‘
اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ
یوکرین میں زیلنسکی کی مقبولیت صرف چار فیصد رہ گئی ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ دوسری
جانب ’کامیابی سے مذاکرات کے ذریعے روس کے ساتھ جنگ کو ختم کر رہا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر یورپ کو بھی تنقید کا
نشانہ بنایا اور کہا کہ یوکرین میں جنگ ’ہم سے زیادہ یورپ کے لیے اہم ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپ خطے میں ’امن لانے میں
ناکام‘ رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر ’خوشی‘ ہوگی، یوکرین کو مذاکراتی عمل سے الگ نہیں کر رہے: صدر پوتن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر ’خوشی‘ ہوگی تاہم ایسی کسی بھی ملاقات سے قبل مکمل تیاری
کرنا ضروری ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی
صدر پوتن نے کہا کہ ان کے صدر ٹرمپ سے ’قریبی تعلقات نہیں‘ ہیں اور ’بڑے عرصے سے‘
دونوں کی ملاقات بھی نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ ان
سے ملنا چاہتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کافی نہیں ہے‘ اور کسی
بھی ملاقات سے قبل دونوں رہنماؤں کی ٹیموں کو متعدد اہم معاملات پر کام کرنا ہوگا۔
اس متوقع ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے
کہا کہ ’یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔‘
صدر پوتن نے ریاض میں جاری مذاکرات پر روشنی
ڈالتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں امریکہ اور روس کے درمیان بات چیت کا مقصد دو طرفہ
تعلقات کی ’بحالی‘ ہے۔
روسی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ اور روس کے
درمیان ’اعتماد میں اضافے‘ کے بغیر ’یوکرین بحران سمیت دیگر مسائل کو حل کرنا
ناممکن ہوگا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس نے ’کبھی بھی
یورپی دنیا سے روابط رکھنے سے انکار نہیں کیا، کبھی یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے عمل
سے بھی گریزاں نہیں رہے۔‘
روسی صدر نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر ہونے والی گفتگو کا ذکر بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں فون پر
بتایا تھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے یوکرین کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے گا۔
خیال رہے سعودی عرب میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے
لیے ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے میں کئیو کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا جس کے
بعد امریکی انتظامیہ پر تنقید بھی ہوئی تھی۔
صدر پوتن کا ان مذاکرات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے
کہنا تھا کہ: ’امریکہ کی پوزیشن یہی ہے کہ مذاکراتی عمل میں روس اور یوکرین بھی شامل
ہوں گے۔‘
’کوئی بھی یوکرین کو اس عمل سے الگ نہیں کر رہا۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف کی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات، ’معاشی و سکیورٹی چیلنجز پر گفتگو‘
،تصویر کا ذریعہPM House
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سپریم کورٹ
کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں ملک کے معاشی و سکیورٹی چیلنجز
پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
بدھ کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس یحییٰ
آفریدی کو ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر التوا ٹیکس تنازعات کے حوالے سے آگاہ کیا اور
’ان کیسز میں میرٹ پر جلد فیصلوں کی استدعا‘ بھی کی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وزیرِ اعظم سے نظام انصاف میں بہتری لانے کے لیے تجاویز
بھی مانگی ہیں۔
وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے
مطابق ’وزیرِ اعظم نے چیف جسٹس کو لاپتا افراد کے حوالے سے مؤثر اقدامات میں تیزی
لانے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔‘
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور وزیرِ اعظم شہباز
شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر برائے اقتصادی
امور احد خان چیمہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، رجسٹرار سپریم کورٹ محمد سلیم
خان اور سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان تنزیلہ صباحت بھی موجود تھیں۔
صدر ولادیمیر زیلینسکی یوکرین میں کتنے مقبول ہیں؟, جیک ہارٹن، بی بی سی ویریفائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس
کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی صدر کی اپنے ملک میں مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے
اور ان کی ’اپروول ریٹنگ صرف چار فیصد ہے۔‘
یہ بات واضح نہیں کہ امریکی صدر کے دعوے کے
پیچھے کیا ذریعہ ہے اور ہم نے اس حوالے سے وائٹ ہاؤس سے وضاحت بھی مانگی ہے۔
یوکرین چونکہ ابھی حالتِ جنگ میں ہے اس لیے وہاں
کوئی مستند سروے کرنا مشکل ہے۔ تاہم رواں مہینے کئیو انٹرنیشنل انسٹٹیوٹ آف سوشیالوجی
کی جانب سے کیے گئے سروے میں معلوم ہوا تھا کہ 57 فیصد یوکرینی عوام اب بھی صدر
زیلینسکی پر اعتماد کرتے ہیں۔
تاہم اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ یوکرینی صدر
کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ مئی 2022 میں ملک میں صدر زیلینسکی کی مقبولیت 90 فیصد
تھی جو کہ سنہ 2023 کے اختتام پر کم ہو کر 77 فیصد رہ گئی تھی۔
اب یہ مقبولیت 77 فیصد سے کم ہو کر 57 فیصد پر آ
گئی ہے۔
دیگر سرویز کے مطابق مقبولیت کے اعتبار سے صدر
زیلینسکی متوقع طور پر اپنے مخالف امیدوار سابق آرمی چیف ولیری زلوجنی سے تھوڑا
پیچھے ہی ہیں۔
یوکرینی پارلیمنٹ کے سپیکر نے ملک میں صدارتی انتخابات کا مطالبہ مسترد کر دیا, بی بی سی مانیٹرنک
یوکرین کی پارلیمنٹ کے سپیکر رسلان سٹیفنشوک نے
ملک میں صدارتی انتخابات کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
اپنی ایک فیس بُک پوسٹ میں رسلان کا کہنا تھا کہ
’یوکرین کو بُلٹس (گولیوں) کی ضرورت ہے، بیلٹ پیپرز کی نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ: ’شیلنگ کے دوران جمہوریت
کو دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش جمہوریت نہیں کہلاتی۔ یہ رچایا گیا ایک ڈرامہ ہے جس کا
فائدہ اٹھانے والا کریملن میں بیٹھا ہے۔‘
ولادیمیر زیلینسکی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے
سپیکر کا یوکرینی صدر کو پیغام دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آپ کو میری پوری حمایت حاصل
ہے۔‘
خیال رہے یوکرینی قانون کے تحت جنگی حالات میں
ملک میں انتخابات کروانا ممنوع ہے۔
راولپنڈی کی عدالت نے بھانجی کا ریپ کرنے پر ماموں کو عمر قید کی سزا سُنا دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی کی ایک عدالت نے ایک شخص کو اپنی 12
برس کی بھانجی کا ریپ کرنے کے جرم میں عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جُرمانے کی سزا سُنا
دی ہے۔
ضلع راولپنڈی میں انسدادِ ریپ کی خصوصی عدالت کے
جج باسط علیم نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت راجہ محمد شعیب کو عمر قید کی
سزا سُنائی ہے۔ تاہم مجرم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر سزا کے خلاف
اپیل دائر کر سکے۔
ریپ کا یہ مقدمہ نومبر 2023 میں 12 سالہ لڑکی کے
والد نے واہ کینٹ تھانے میں درج کروایا تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ لڑکی کی والدہ ایک
مہینے پہلے فوت ہو چکی تھیں اور والد کو ایک جنازے میں جانے کے لیے اپنی پانچ
بیٹیوں اور ایک بیٹے کو ان کے ماموں کے ساتھ گھر میں چھوڑنا پڑا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کے والد نے پولیس کو
بتایا تھا کہ جب 22 نومبر 2023 کی شام وہ اپنے گھر واپس آئے تو ان کی بیٹی نے ان
کی پڑوسن کی موجودگی میں ان کو بتایا کہ ماموں شعیب نے اس کا ریپ کیا اور دھمکی دی
کہ ’اگر کسی کو بتایا تو میں آپ کو مار دوں گا۔‘
معدنیات دینے سے انکار، ’یوکرین کو بیچ نہیں سکتا‘: صدر زیلینسکی کا ٹرمپ کو جواب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر پر
تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت روس کی جانب سے ’بہت غلط معلومات‘ پھیلائی جا رہی
ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’غلط معلومات کی دنیا‘ میں رہ رہے ہیں۔
صدر زیلینسکی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے
آیا ہے جب صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ 2019 میں پانچ برس کے لیے منتخب ہونے والے
یوکرینی صدر کی ’اپروول ریٹنگ چار فیصد تک گر چکی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی انھیں بطور
یوکرین کے سربراہ ہٹانا بھی چاہے تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ابھی بھی ان کی
اپروول ریٹنگ زیادہ ہے۔
انھوں نے یہاں ایک سروے کا بھی حوالہ دیا جس کے
مطابق 58 فیصد یوکرینی عوام اب بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔
نیوز کانفرنس کے دوران صدر زیلینسکی سے امریکی
صدر کی ایک تجویز سے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کے مطابق امریکہ کو روسی معدنیات بشمول
لیتھیم اور ٹائٹینیم کا 50 فیصد حصہ ملے گا۔
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر زیلینسکی نے کہا
کہ وہ یہ تجویز مسترد کر چکے ہیں کیونکہ اس کے مطابق امریکہ کو یوکرینی معدنیات کا
50 فیصد حصہ ملے گا اور اس تجویز میں یوکرین کی سکیورٹی کی بھی ضمانت نہیں دی گئی
ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں یوکرین کی حفاظت کر رہا
ہوں، میں اسے فروخت نہیں کر سکتا، میں اپنی ریاست کو فروخت نہیں کر سکتا۔‘
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس، امریکہ مذاکرات پر ماسکو میں کیا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے؟, سٹیو روزنبرگ، روس ایڈیٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تقریباً تمام ہی روسی اخبارات میں آج صبح ایک
تصویر نمایاں نظر آ رہی تھی اور وہ تھی سینیئر امریکی اور روسی حکام کی جو کہ ریاض
میں مذاکرات کے لیے ایک میز کے گرد بیٹھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
روسی میڈیا اس وقت ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات
بہتر ہونے کے امکانات کا خیر مقدم کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
روسی حکومت کے حامی ایک اخبار نے اس سارے معاملے
پر ایک مضمون میں لکھا کہ: ’ٹرمپ کو معلوم ہے کہ انھیں روس کو رعایت دینی پڑے گی
کیونکہ وہ ایک ایسے فریق سے مذاکرات کر رہے ہیں جو کہ یوکرین میں جیت رہا ہے۔‘
اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایک عرصے سے
یورپ خود کو دنیا کا واحد تہذیب یافتہ خطہ اور باغِ عدن سمجھ رہا ہے۔ لیکن وہ یہ
نوٹس کرنا بھول گئے کہ ان کی عزت و تکریم ختم ہو چکی ہے اور اب بحر اوقیانوس کی
دوسری طرف موجود ان کا پُرانا دوست انھیں یہ باور کروا رہا ہے۔‘
تاہم ماسکو کی سڑکوں پر مجھے ایسا نہیں لگا کہ لوگ
امریکہ اور روس کے درمیان رابطوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہوں۔
ندیزہدا نامی شہری کہتے ہیں کہ: ’ٹرمپ ایک
کاروباری شخصیت ہیں اور ان کی دلچسپی صرف پیسے کمانے میں ہے۔‘
’مجھے نہیں لگتا کہ کچھ بھی تبدیل ہوگا کیونکہ
صورتحال کو بدلنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
جارجی نامی ایک اور روسی شہری نے مجھے بتایا کہ
’شاید سعودی عرب میں جاری مذاکرات کے سبب صورتحال میں تبدیلی آئے۔ وقت آ گیا ہے کہ
ہم دشمن بنانا بند کر دیں۔‘
بیشتر ممالک ’بیرونی احکامات‘ مسترد کر رہے ہیں: روسی وزیرِ خارجہ کی مغربی دنیا پر تنقید
،تصویر کا ذریعہEPA
روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ
دنیا کے بیشتر ممالک اب ’بیرونی احکامات‘ مسترد کر رہے ہیں اور برکس کی طرح کے نئے
اتحاد وجود میں آ رہے ہیں۔
برکس سے مراد برازیل، روس، انڈیا، چین اور ساؤتھ
افریقہ کا گروپ ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ کے مطابق مغربی دنیا اس بات کو
قبول نہیں کر پا رہی اور بین الاقوامی امور پر اپنی سبقت برقرار رکھنے کی کوشش کر
رہی ہے۔
ماسکو میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران سرگئی لاوروف
نے سعودی عرب میں جاری مذاکرات کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ: ’ہم نے اس معاملے پر خصوصی
توجہ دی ہے۔‘
ان کا روس اور یوکرین جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا
تھا کہ ’یہ سب روس کی سکیورٹی کو لاحق خطرات کے خاتمہ کے لیے ہو رہا ہے جو کہ یوکرین
کو نیٹو میں گھسیٹ کر پیدا کیے گئے۔‘
یوکرین فی الوقت نیٹو کا حصہ نہیں ہے لیکن سنہ
2008 میں نیٹو ممالک کی طرف سے یوکرین کو اتحاد میں شامل کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔
جیریمی بوون کا تجزیہ: کیا صدر ٹرمپ کو یوکرین میں فوری امن کی کوششوں سے کوئی فائدہ ہوگا؟, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنیوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی امریکی انتظامیہ کے رویے میں تبدیلی سے کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں.
روس اور امریکہ ایک بار پھر مذاکرات کر رہے ہیں جبکہ دوسری
جانب یورپ کے رہنما اور سفارتکار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان پر زبردستی نافذ کیے گئے مشکل انتخاب پر غور کر رہے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کی یوکرین اور اپنے مغربی
اتحادیوں کو دی جانے والی دھمکیوں سے ان کے اتحاد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا
ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی امریکی انتظامیہ کے رویے میں تبدیلی
سے کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ زیلنسکی کو پہلی ہی
اس بات کا اعادہ ہونا چاہیے تھا خاص طور پر ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلی
ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں کو جاری نہیں رکھیں گے۔
زیلنسکی جب اپنے حالیہ دورے پر ترکی پہنچے تو وہ یہ شکایت
کرتے نظر آئے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اس فریق کو شامل نہیں کیا گیا ہے جو
روسی جارحیت سے براہِ راست متاثر ہے۔
یوکرین کے شمال مشرقی علاقے کا موسم ریاض کے ان ایئر کنڈشنڈ
کمروں سے یکسر مختلف ہے جہاں روسی اور امریکی مذاکرات کاروں کی ملاقات ہوئی تھی۔
روس کی سرحد کے نزدیک برف سے ڈھکے گاؤں اور جنگلوں میں واقع اگلے
مورچوں پر موجود یوکرینی فوجی معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں – ان کا کام جنگ جاری رکھنا ہے۔
یوکرین کے سرحدی علاقے سمی کے نزدیک ایک زیرِ زمین بنکر میں میری
ملاقات ایک یوکرینی کمانڈر سے ہوئی۔ ان کے پاس خبروں کے لیے وقت نہیں۔ ان کے لیے
ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی بات چیت شور شرابے سے زیادہ کچھ نہیں۔
شاید ان کے لیے اس سارے سیاسی عمل کو نظر انداز کرنا ہی
بہتر ہے تاکہ وہ محاذِ جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں جہاں ان کے سپاہی ایک بار پھر جنگ میں
شامل ہونے جا رہے ہیں۔
جہاں ہماری ملاقات ہوئی اس ورکشاپ کی شیلف پر سینکڑوں ڈرون
رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ہر ایک ڈرون تقریباً 300 ڈالز مالیت کا تھا۔
کچھ سپاہی ان ڈرونز کو اگلے مورچوں پر استعمال کے لیے ڈبوں میں پیک کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ ڈرون ہتھیاروں سے لیس ہوں
اور انھیں ایک ماہر پائلت اڑا رہا ہو تو ہر ایک ڈرون ایک ٹینک تباہ کرنے کی صلاحیت
رکھتا ہے۔
چند گھنٹے قبل ہی ان کے ڈرونز نے دن دیہاڑے روسی فوج کی ایک
یونٹ کو تباہ کیا تھا۔ یوکرینی فوجیوں نے مجھے جو ویڈیوز دکھائیں ان میں نظر آ رہا
تھا کہ کچھ گاڑیوں پر روسی جھنڈے کی جگہ سویت یونین کے بینر لگے ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنیوکریکی سپاہیوں کے مطابق 300 ڈالرز مالیت کے یہ ڈرونز ہتھیاروں سے لیس ہوں اور انھیں ایک ماہر پائلت اڑا رہا ہو تو ہر ایک ڈرون ایک ٹینک تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
دن کے وقت تو سمی میں زندگی رواں دواں رہتی ہے تاہم رات ہوتے ہی ایٹی ایئر کرافٹ بندوقیں یہاں سے گزرنے والے روسی ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے متحرک ہو جاتی ہیں۔
شہر میں سویت دور کی بنی عمارتوں میں سے ایک رہائشی عمارت کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا سوراخ ہے جو روسی ڈرون حملے کی نشانی ہے۔ تقریباً دو ہفتے قبل ہونے والے اس حملے میں 11 افراد ہلاک ہو گَئے تھے۔ مخدوش ہونے کی وجہ سے اس عمارت کو خالی کروا لیا گیا ہے۔
لیکن آس پاس ایسی ہی مخدوش عمارتوں میں لوگ رہ بھی رہے ہیں۔
50 سالہ مائکولا اپنے بیٹے کے ساتھ گھر جا رہے تھے جب وہ ہم سے بات کرنے کے لیے رکے۔ وہ اس تباہ شدہ عمارت کے ساتھ بنی ایک عمارت میں رہائش پذیر ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ یوکرین میں قیامِ امن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔
مائکولا کا کہنا تھا کہ ہمیں امن کی ضرورت ہے۔ ’یہ ضروری ہے کیونکہ جنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔ جنگ سے کچھ نہیں حاصل ہوتا۔ اگر آپ دیکھیں کہ روس اب تک کتنے علاقے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے تو آپ کو انداہ ہو جائے گا کہ انھیں یوکرین کے دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے 14 سال تک لڑنا پڑے گا۔ اس سے صرف لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ اسے ختم ہونے کی ضرورت ہے۔‘
تاہم مائکولا کا کہنا ہے کہ زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کی غیر موجودگی میں ہونے والی ٹرمپ اور پوتن ملاقات سے اس مسئلے کا کوئی حل نکلتا دکھائی نہیں دیتا۔
33 سالہ یولیا بھی اسی علاقے کی رہائشی ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ امن ممکن ہے ’لیکن اس کے لیے پہلے انھیں ہم پر بمباری بند کرنی ہوگی۔ امن تب ہی ہو سکتا ہے جب وہ ایسا کرنا بند کر دیں۔ اس کی شروعات ان کی طرف سے ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے ہی اس تباہی کا آغاز کیا تھا۔
’لیکن آپ پوٹن پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔‘
،تصویر کا کیپشنیولیا کہتی ہیں کہ آپ پوٹن پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔
سورج ڈھل رہا تھا جب ہماری 70 سالہ بورس سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ریٹائرڈ کرنل ہیں جنھوں نے سوویت فوج میں 30 سال خدمات انجام دی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اور پوتا دونوں یوکرین کے لیے لڑ رہے ہیں۔
بورس کہتے ہیں کہ امن ممکن تو ہے ’لیکن میں اس پر یقین نہیں رکھتا۔‘
ان کو یقین ہے کہ یوکرین کو انصاف ملے گا لیکن وہ کہتے ہیں کہ یوکرین کو محتاط رہنے کی ضروت ہے۔
’جب تک پوٹن موجود ہیں، آپ روسیوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ پوتن پر اس طرح یقین رکھتے ہیں جیسے وہ ایک مذہب ہو۔ آپ ان کی سوچ نہیں بدل سکتے۔ اس کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔‘
تو اس کا حل کیا ہے – جنگ جاری رکھنا یا امن معاہدہ؟
بورس کہتے ہیں کہ یوکرین کو امن کے بارے میں سوچنا ہوگا ’لیکن ہمیں ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیئیں۔‘
’ہم تب تک لڑیں گے جب تک کہ ہم مضبوط نہیں ہو جاتے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یورپ ہماری مدد کے لیے تیار ہے۔ ہتھیار ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر قائل ہیں کہ پراپرٹی کے کاروبار کے اصولوں کے ذریعے جنگ ختم کی جا سکتی ہے۔ لیکن جلد ہی انھیں احساس ہو جائے گا کہ امن قائم کرنا محض جنگ بندی کروانے اور یہ فیصلہ کرنے سے کہ کونسا فریق کتنی زمین رکھے گا سے کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔
صدر پوتن واضح کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین کی خودمختاری اور ایک آزاد ریاست کے طور اس کی حیثیت ختم کرنا چاہتے ہیں۔
اس بات سے قطع نظر کہ زیلنسکی امریکی صدر کی طرف سے لگائی گئی مذاکراتی میز پر بیٹھیں گے یا نہیں، وہ اس بات سے تو کسی صورت اتفاق نہیں کریں گے۔
اگر دیرپا امن قائم کرنا ممکن ہے تو یہ ایک طویل اور سست رفتار عمل ہے۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے فوری ثمرات چاہتے ہیں تو انھیں کہیں اور کوشش کرنی ہوگی۔
حماس کا جمعرات کو چار مغویوں کی لاشیں واپس کرنے کا اعلان، قیدیوں کا تبادلہ سنیچر کو ہو گا
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبیباس خاندان کے بچے کفیر اور ایریل حماس کی قید میں موجود سب سے کم عمر یرغمالی تھے۔
حماس نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کے روز چار مغویوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی جبکہ قیدیوں کا تبادلہ سنیچر کے روز ہو گا۔
حماس کے مذاکرات کار خلیل الحیا کا کہنا ہے کہ جن چار
قیدیوں کی لاشیں واپس کی جائیں گی ان میں شری اور ان کے دو بچوں کفیر اور ایریل کی لاشیں بھی شامل
ہیں۔ اغوا کے وقت بیباس خاندان کے بچوں کی عمریں نو ماہ اور چار سال تھی۔ یہ دونوں حماس کی قید میں موجود سب سے کم عمر یر غمالی تھے۔
حماس کا الزام ہے کہ ان تینوں کی ہلاکت اسرائیلی بمباری کے
نتیجے میں ہوئی ہے۔ تاحال اسرائیل کی جانب سے اس بارے میں کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا
ہے۔
ان بچوں کے والد یارڈن کو رواں ماہ پہلے ہی رہا کیا جا چکا
ہے۔
خلیل الحیا کا کہنا ہے کہ حماس سنیچر کے روز چھ
دیگر قیدیوں کو بھی رہا کرے گا۔ قیدیوں کی یہ تعداد طے شدہ تعداد سے دو گنا ہے۔
سنیچر کے روز رہائی پانے والے قیدیوں میں سے دو کی شناخت ایورا مینگیستو اور ہشام السید
کے نام سے ہوئی ہے۔ ان دونوں کو بالترتیب 2014 اور 2015 میں اس وقت پکڑا گیا تھا جب
وہ غزہ میں داخل ہوئے تھے۔
اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ وہ دونوں اس وقت ذہنی
صحت کے مسائل سے دوچار تھے۔
اس کے بدلے میں اسرائیل گزشتہ سال اکتوبر کے بعد
گرفتار کی جانے والی تمام خواتین اور 19 سال سے کم عمر مردوں کو رہا کرے گا۔ اس کے
علاوہ مصر کے راستے ملبہ ہٹانے کی کچھ مشینری لانے کی بھی اجازت دی جائے گی۔
خیبر پختونخوا حکومت کا لوئر کرم کے چار گاؤں خالی کروانے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے ضلع کرم میں قافلے پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی سے قبل
لوئر کرم کے چار گاؤں اوچت، مندوری، داد کمر اور بگن کو خالی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان
دیہات کو خالی کروانے کا فیصلہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے
کے لیے لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ہے سوموار کے روز ضلع کرم میں قافلے پر
فائرنگ کے نتیجے میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد
صوبائی حکومت نے شر پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دیہات کو خالی کروا کے
سرچ آپریشنز کیے جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کرم میں ریاست کے خلاف کارروائیوں
میں ملوث افراد کو شیڈول فور میں ڈالا جائے گا جب کہ بدامنی میں ملوث افراد اور
ماسٹر مائنڈز کے سروں کی قیمت بھی مقرر جائے گی۔
گذشتہ روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹل کے ایڈیشنل
اسسٹنٹ کمشنر سید احسان علی شاہ نے بتایا تھا کہ متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کے
لیے ضلعی انتظامیہ نے تین مقامات تیار کر لیے ہیں۔
اسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ ان مقامات پر ضروری
سامان بشمول ٹینٹ، خوراک اور ڈاکٹرز کا انتظام کر لیا گیا ہے۔
یوکرین بہت پہلے ہی جنگ ختم کرنے کے لیے ’ڈیل‘ کر سکتا تھا: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGet
،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین بہت پہلے ہی اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ’ڈیل‘ کر سکتا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر
زیلنسکی کے اس بیان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب
میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین کو مدعو نا کیے جانے پر انھیں حیرت ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین بہت پہلے ہی اس جنگ
کو ختم کرنے کے لیے ’ڈیل‘
کر سکتا تھا۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ بات روسی وزیر خارجہ
سرگئی لاروف کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا تھا روس کسی بھی
امن معاہدے کے تحت یوکرین میں نیٹو ممالک کی امن فوج کی تعیناتی قبول نہیں کرے گا۔
انھوں نے یہ بیان سعودی عرب میں امریکی وزیرِ خارجہ
مارک روبیو سے ملاقات کے بعد دیا تھا۔
ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں روس اور امریکہ کے
درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی ٹیمیں تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے۔
بی بی سی کی جانب سے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ
ان کا یوکرین کے لیے کیا پیغام ہے جنھیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ
ہوا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ انھیں پتا
چلا ہے کہ یوکرین مذاکرات میں شامل نہ کیے جانے پر ناراض ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یوکرین کے پاس تین سال بلکہ اس سے پہلے
بھی وقت تھا اور اس معاملے کو باآسانی حل کیا جا سکتا تھا۔
’آپ کو شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ باآسانی ڈیل کر
سکتے تھے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ریاض میں امریکی اور روسی حکام کے
درمیان ملاقات کے بعد وہ کافی پر امید ہیں۔
’روس کچھ کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس بربریت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘
بارکھان، بلوچستان: کوئٹہ سے لاہور جانے والی بس پر فائرنگ، شناخت کے بعد سات مسافر ہلاک کر دیے گئے, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع
بارکھان میں نامعلوم مسلح افراد نے سات مسافروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔
یہ واقعہ منگل
اور بدھ کی درمیانی شب رڑکن کے علاقے میں پیش آیا۔
ڈپٹی کمشنر
بارکھان وقار خورشید نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے
لاہور جانے والی ایک مسافر بس پر فائرنگ کرکے اس کو روکا۔
ان کا کہنا تھا
کہ بس کے رکنے کے بعد مسلح افراد بس میں داخل ہوئے اور شناخت کے بعد سات افراد کو
بس سے نیچے اتار کر فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا
کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق پنجاب سے تھا۔
رواں سال پنجاب
اور بلوچستان کے درمیان شاہراہ پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ ہے۔
اس سے قبل گذشتہ
سال اگست کے مہینے میں بارکھان سے متصل ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ ہاشم میں اسی شاہراہ پر گاڑیوں سے 22 مسافروں کو اتار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
ان میں سے 20 کا
تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
امریکہ اور روس کے وزرا خارجہ نے آج کی ملاقات کے بارے میں صحافیوں کو کیا بتایا؟
،تصویر کا ذریعہReuters
روس اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے آج ریاض میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں صحافیوں سے بات کی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ آج ہونے والی بات چیت بہت مفید تھی۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر اب میں کہہ سکتا ہوں کہ امریکی ٹیم ہماری پوزیشن سمجھ چکی ہے۔
انھوں نے سفیروں کی تعیناتی سے متعلق کہا کہ پہلے امریکہ اپنا سفیر اور نمائندے مقرر کرے گا جس کے بعد پھر ہم اپنے نمائندوں کا تقرر کریں گے۔
سرگئی لاروف نے اپنا پرانے مؤقف کو دہرایا کہ نیٹو میں کسی بھی قسم کی توسیع اور اس میں یوکرین کی شمولیت کو روس کے خلاف ایک براہ راست خطرہ سمجھا جائے گا۔
یوکرین میں امن کی افواج تعینات کرنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ چاہے کہ یہ نیٹو یا یورپی یونین کے جھنڈے کے تلے ہو یا کسی اور فوج کی صورت میں ہو مگر یہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ یوکرین کی مستقبل میں مذاکرات میں شمولیت سے متعلق انھوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ریاض میں ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
’آج کی ملاقات کا مقصد‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ گذشتہ ہفتے کی گئی فون کال کا فالو اپ کرنا اور ’اس رابطے کی کڑی کو آگے بڑھانا شامل‘ تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ہمیں ’یقین‘ ہے کہ روس یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے ’ایک سنجیدہ عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور روس ایک دوسرے کے ممالک میں سفیروں کو بحال کریں گے۔
’ہمیں متحرک سفارتی مشنز کی ضرورت ہو گی جو ان راستوں کو جاری رکھنے کے لیے عام طور پر کام کر سکیں‘۔
اجلاس میں یوکرین کی عدم موجودگی پر انھوں نے کہا کہ ’کسی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا رہا ہے‘۔ امریکہ یوکرین اور یورپی یونین کو مذاکرات میں شامل کرے گا اور ’اس تنازع میں شامل ہر شخص کو اس کے ساتھ ٹھیک ہونا ہوگا، یہ ان کے لیے قابل قبول ہونا چاہیے‘۔
روس کے خلاف پابندیوں پر انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی تنازع‘ کو ختم کرنے کے لیے ’تمام فریقین‘ کی طرف سے ’رعایتیں‘ دینی پڑتی ہیں۔
یورپی یونین کو ’کسی وقت میز پر بیٹھنا ہوگا کیونکہ انھوں نے بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آج کی ملاقات یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے ’ایک طویل اور مشکل سفر کا پہلا قدم‘ ہے۔
ریاض میں تو وہی ہوا جو روس چاہتا تھا, سارہ رینسفرڈ، نمائندہ برائے مشرقی یورپ
،تصویر کا ذریعہEPA
موجودہ تناظر میں ایک بڑے لکڑی کے میز پر سینیئر روسی اور امریکی حکام کو ایک ساتھ بیٹھا ہوا دیکھنا ایک بڑی پیشرفت تھی اور یہ بہت سے لوگوں خاص طور پر یوکرینی عوام کے لیے تو ناقابل برداشت ہے۔
اس ملاقات کا تنیجہ وہی نکلا جو درحقیقت روس چاہتا تھا۔ اس میز پر روس نے بیٹھ کر عالمی سفارتکارمیں یہ ثابت کیا کہ وہ امریکہ کے برابر کی طاقت ہے اور حتیٰ کے وہ اپنے مطالبات بھی منوا سکتا ہے۔
اس کی صاف وجہ ہے کہ یہ کوئی شکست خوردہ روس نہیں ہے جو بات چیت پر مجبور ہو گیا ہو۔ بلکہ یہ تو امریکہ تھا جس نے روس کو دعوت دی کہ آئیں بیٹھیں اور اس کی اپنی شرائط پر بات آگے بڑھائیں۔
اس ملاقات میں شامل حکام میں سے ایک روس کے طویل عرصے سے وزیر خاجہ سرگئی لاروف بھی شامل تھے جن پر امریکہ نے یوکرین جنگ کے بعد پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ ماسکو کو باہر محسوس کرنے کے بارے میں ہے - یہ دیکھنا کہ آیا وہ اپنے حملے کو ختم کرنے میں سنجیدہ بھی ہے۔
روس اس موقعے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ وہ سعودی عرب میں اس چمکتے میز پر بیٹھ کر یہ ثابت کر سکتا ہے کہ یوکرین کے خلاف جنگ اور پھر روس کی عالمی سطح پر تنہائی محض ایک جھٹکا تھا اور اب ماسکو پہلے کی طرح دنیا کے معاملات میں اپنا معمول کا کردار ادا کرتا نظر آئے گا۔
نیوز کانفرنس میں یوکرین کے صدر بظاہر تھکے ہوئے اور ناراض لگ رہے تھے, وٹالی شیف چنگ کو، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنیوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ترکی میں نیوز کانفرنس کے دوران
ترکی میں اپنی نیوز کانفرنس کے دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بظاہر تھکاوٹ کا شکار اور ناراض لگ رہے تھے اور اس کی وجہ بھی بڑی واضح ہے۔
اب اس معاملے سے ان کا اپنا اور ان کے ملک کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ان پر حملہ کرنے والا ملک سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ان کے سب سے بڑے ڈونر ملک امریکہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جبکہ انھیں اس ملاقات میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔
روسی اور امریکی حکام کے چہروں پر مسکراہٹ سے اب وہ خبردار رہیں گے۔ تاہم انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ جو کچھ ریاض میں طے ہوا ہے اس بارے میں وہ بہت کم ہی کچھ کر سکتے ہیں۔
یوکرین کے صدر جانتے ہیں کہ امریکی حمایت اور معاونت کے بغیر وہ روس کو شکست دینا تو دور کی بات بلکہ اس کے خلاف مزاحمت بھی جاری نہیں رکھ سکتے ہیں۔
یوکرین پر بات چیت یوکرین کے بغیر ہوئی، کوئی نئی غلطی نہ کی جائے: زیلنسکی کی ریاض مذاکرات پر تنقید
،تصویر کا کیپشنیوکرینی صدر کی ریاض میں امریکہ اور روس کی ملاقات میں یوکرین کے بغیر بات چیت پر تنقید
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر بات چیت بغیر یوکرین کے ہی ہو گئیں۔
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاض میں ہونے والے اس اجلاس میں کسی بھی یوکرینی اہلکار کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
یوکرینی صدر نے ترکی کے صدر طیب اردوغان کے ساتھ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ترک ہم منصب کے ساتھ یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق تفصیل سے عالمی کوششوں پر بات کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فریقین کی شرکت کے بغیر جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔
ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق دیرپا امن لانے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی غلطی نہ کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ، یورپ اور یوکرین سمیت مذاکرات کی میز پر تمام فریقین کا ہونا ضروری ہے۔
روس سمیت تمام فریقین پر عائد پابندیوں میں رعایت دینی ہوگی: امریکہ
امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے سمیت تمام متنازع امور کے حل کے لیے روس سمیت تمام فریقین پر عائد پابندیوں میں نرمی لائی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ابھی ہم اس کا فیصلہ نہیں کر رہے ہیں کہ یہ رعایت کیا ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کے علاوہ دوسرے فریقین نے بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہا اس حوالے سے یورپ کو بھی مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا کیونکہ انھوں نے بھی کچھ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مقصد اس جنگ کا شفافیت کے ساتھ خاتمہ ہے جو دیرپا بھی ہو جس میں تمام فریقین شامل ہوں۔
امریکہ اور روس نے آج ریاض میں ہونے والی ملاقات میں کن امور پر اتفاق کیا ہے؟
امریکہ اور روس کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات میں چار اہم نکات پر اتفاق ہوا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک ایسا مشاورتی عمل تشکیل دیں گے کہ جس سے دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی تلخیوں کو کم کیا جا سکے اور دونوں ممالکے درمیان سفارتی تعلقات کو معول پر لایا جا سکے۔
امریکہ کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے اعلی سطح کے وفود تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور امن کے ذریعے معاشی اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
دونوں ممالک نے بروقت اور مرحلہ وار مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔
امریکہ نے اس ملاقات کی میزبانی کرنے پر سعودی عرب کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔
روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور ختم، مذاکراتی ٹیم بنانے پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنروس اور امریکی وزرا خارجہ
امریکہ کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں روسی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات ختم ہو چکی ہے۔
یہ ملاقات چار گھنٹے تک جاری رہی جس میں دن کے کھانے کا وقفہ بھی شامل ہے۔