یوکرینی فوجی دستوں کی روس میں داخل ہو کر 30 کلو میٹر تک پیش قدمی
فروری 2022 میں روس کی مداخلت کے بعد اسے یوکرین کی سب سے بڑی جوابی کارروائیوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کیئو پر الزام لگایا ہے کہ اس نے روس کی پُرامن آبادی کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔
خلاصہ
یوکرینی دستوں نے روس میں داخل ہو کر 30 کلو میٹر تک پیش قدمی کی ہے۔ فروری 2022 میں روس کی مداخلت کے بعد اسے یوکرین کی سب سے بڑی جوابی کارروائیوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے۔
چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کی ’خودمختاری، سکیورٹی اور قومی عصمت‘ کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان میں اگلے دو روز میں ملک بھر میں موسلادھار بارشوں اور خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے (گلوف) کے سبب سیلاب آنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
امریکہ کی نائب صدر کمیلا حارث نے سنیچر کو غزہ کے ایک سکول پر اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت کی ہے جس میں متعدد سویلین ہلاک ہوئے ہیں۔
لائیو کوریج
ایران کو شاہین تھری میزائل فراہم کیے جانے کی خبریں جھوٹی ہیں: پاکستانی دفترِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے
ایک اسرائیلی اخبار کی خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور
ایران کے درمیان مزید کشیدگی بڑھنے کی صورت میں پاکستان پڑوسی ملک ایران کو شاہین
تھری میزائل فراہم کرے گا۔
اسرائیلی اخبار ’یروشلم
پوسٹ‘ نے یہ خبر ’متعدد عرب ذرائع‘ سے منسوب کر کے رپورٹ کی تھی۔
جمعے کو پاکستانی دفترِ
خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ ’یہ اطلاعات جھوٹی ہیں۔ ان بے بنیاد
اطلاعات پر توجہ دینے سے پہلے یہ اہم ہے کہ اس کے ذریعے اور پیچھے چھپے گھناؤنے
ایجنڈے کو دیکھا جائے۔‘
ترجمان کا مزید کہنا تھا
کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں ابھی نازک وقت چل رہا ہے۔ ہم میڈیا سمیت تمام فریقین سے گزارش
کریں گے کہ وہ فیک نیوز پھیلانے گریز کریں۔‘
پاکستان نے اپریل 2022 میں
زمین سے زمین تک مار کرنے والے شاہین تھری میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ پاکستانی فوج کے مطابق یہ میزائل 2750 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ 31 جولائی کو ایران کے
دارالحکومت تہران میں ایک دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم اسرائیل کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید تناؤ پایا
جاتا ہے اور ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ حماس کے سابق سربراہ کی ہلاکت پر
سخت ردِ عمل دے گا۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے رُکن مظہر مشوانی کے بھائیوں کو بازیاب کرواکر عدالت میں پیش کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ٹیم کے رُکن اظہر مشوانی کے دونوں
لاپتہ بھائیوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اظہر مشوانی کے دو بھائی پروفیسر
مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن رواں برس چھ جون کو لاپتہ ہوئے تھے۔
ان کے والد نے اسلام آباد
ہائی کورٹ میں اپنے بیٹوں کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر جمعے کو جسٹس
میاں گُل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔
دونوں لاپتہ بھائیوں کے والد کی طرف سے وکیل بابر اعوان
عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ
گرفتار ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار گرفتار نہیں ہیں بلکہ یہ
دو لاپتہ بھائیوں کے والد ہیں۔
وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ اظہر مشوانی سوشل
میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں، پہلے ان کو بھی اٹھایا گیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ دونوں پروفیسر بھائیوں کو چھ جون
کو اٹھایا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما رؤف حسن کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
جج نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بیرسٹر گوہر گرفتار
ہونا چاہتے تھے، لیکن انھیں گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ معیار پر ابھی پورا نہیں
اترتے۔
بابر اعوان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں ہم نے پہلے پٹیشن
دائر کی تھی جو پانچ اگست کو واپس لے لی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد سے خفیہ ادارے کا واٹس
ایپ پر اظہر مشوانی کے پاس پیغام آیا کہ ’سوشل میڈیا سرگرمیاں بند کر دیں۔‘
وکیل بابر اعوان نے عدالت کو مزید بتایا کہ اظہر مشوانی
کی اہلیہ کو بیرونِ ملک جانا تھا اور اس کے لیے ہم نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست
دائر کی ہے۔
دورانِ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ نے اظہر مشوانی کے
دونوں بھائیوں کو بازیاب کروا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے
مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ آپ آئندہ سماعت پر کیا کہتے ہیں۔
وکیل بابر اعوان نے کہا کہ وزارت داخلہ نے پشاور ہائی
کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق باقاعدہ ناراضگی
کا اظہار کیا تھا، موبائل نمبر سے اظہر مشوانی کو کال کی گئی اور بتایا گیا کہ اس
کے بھائی ’اسلام آباد کے خفیہ ادارے کے پاس ہیں۔‘
وکیل بابر اعوان نے کہا کہ لاپتا دونوں بھائیوں کا سیاست
سے کوئی تعلق نہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی۔
ایلون مسک اور صدر مادورو کے درمیان جھگڑا، وینیزویلا نے ’ایکس‘ بلاک کر دیا
،تصویر کا ذریعہReuters
وینیزویلا کے صدر نکولاس
مادورو نے ملک میں 10 دن کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کو بلاک کردیا ہے۔
صدر مادورو گذشتہ مہینے
وینیزویلا میں متنازع صدارتی انتخاب کے بعد ملک کے صدر بنے تھے اور اس کے بعد ان کے
اور ’ایکس‘ کے مالک ایلون مسک کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بحث بھی ہوئی
تھی۔
مسک نے وینیزویلا کے صدر
کو ایک ’آمر‘ اور ’مسخرہ‘ قرار دیا تھا جبکہ صدر مادورو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے
مالک پر ’نفرت، فسطائیت اور خانہ جنگی‘ پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔
حالیہ ہفتوں میں وینیزویلا
میں انتخابی نتائج کے بعد حکومت مخالف مظاہروں میں تیزی آئی ہے اور ملک کی سکیورٹی
فورسز نے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے۔
گذشتہ مہینے 28 جولائی کو
ہونے والے صدارتی انتخاب کو آزاد مبصرین نے ’غیرجمہوری‘ قرار دیا تھا جبکہ حزبِ اختلاف
کی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس موجود ثبوت یہ بتاتے ہیں کہ ایڈمنڈو گونزالیز
یہ انتخابات بھاری اکثریت سے جیتے ہیں۔
صدر مادورو کا الزام ہے کہ
صدارتی انتخاب کے دوران ملک کی نیشنل سائبر کونسل پر سائبر حملہ ہوا تھا اوراس ’حملے‘
کے پیچھے ایلون مسک کا ہاتھ تھا۔
وینیزویلا میں انتخابی عمل
کی نگرانی کرنے والے ادارے کارٹر سینٹر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سائبر حملے کے ’کوئی
ثبوت موجود نہیں۔‘
جمعرات کی رات کو نشریاتی اداروں
پر نشر ہونے والی تقریر میں صدر مادورو کا کہنا تھا کہ ملک میں مواصلاتی نظام کو
ریگولیٹ کرنے والی ایجنسی ’ایکس‘ کو بلاک کر دے گی۔
اپنی تقریر میں انھوں نے
کہا کہ ’ایلون مسک ایکس کے مالک ہیں اور انھوں نے وینیزویلا کے تمام قوانین کی
خلاف ورزی کی ہے۔‘
خیال رہے وینیزویلا میں
صدارتی انتخاب سے پہلے ایلون مسک نے حزبِ اختلاف کی جماعت کی حمایت کا عندیہ دیا
تھا اور کہا تھا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ وینیزویلا کے لوگوں کو بہتر مستقبل حاصل کرنے
کا موقع دیا جائے۔‘
انتخابی نتائج کے اعلان کے
بعد ایلون مسک نے صدر مادورو پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وینیزویلا میں ’بڑا
انتخابی فراڈ‘ ہوا ہے اور ’آمر مادورو کو شرم آنی چاہیے۔‘
الیکشن کمیشن کا اسلام آباد میں 29 ستمبر کو بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان
الیکشن کمیشن نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 29 ستمبر کو بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے جبکہ اسلام آباد میں کسی بھی نئی سکیم کے اعلان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوارکاغذات نامزدگی 16 سے 20 اگست تک جمع کروا سکیں گے اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 22 سے 26 اگست تک ہو گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی حکومت کی 5 سالہ مدت فروری 2021 میں مکمل ہو گئی تھی اور قانون کے مطابق 3 ماہ میں انتخابات ہونے تھے۔
اداروں کے درمیان بحران کی وجہ عدلیہ ہے: بلاول بھٹو
،تصویر کا ذریعہSCREEN GRAB
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مخصوص نشستوں کے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ادارہ پارلیمنٹ میں بار بار مداخلت کرتا ہے۔ اداروں کے درمیان فاصلہ نظرآ رہا ہے اور یہ کرائسز جوڈیشری کی وجہ سے ہی ہے۔
قومی اسمبلی میں جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’جو ایک سیاسی جماعت نے مانگا ہی نہیں اور آئین و قانون میں اس کی اجازت بھی نہیں تاہم عدلیہ نے ان کو وہ دیا۔ ہماری عدلیہ نے ارشد ندیم کی طرح ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر کے قتل اور عام شہریوں کے کیسز پر فیصلے نہیں آتے۔ ہمیں انصاف کے لیے تین نسلوں تک جدوجہد کرنا پڑی۔ آخر عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو اس حد تک انصاف دیا کہ ہاں ان کو صحیح انصاف نہیں دیا گیا تاہم عدلیہ نے تاریخ درست کرنے سے واضح اقدام کرنے سے معذوری کی۔ پوری دنیا کی کوئی جوڈیشری ہماری عدلیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔‘
بلاول بھٹو نے نام لیے بغیر کہا کہ ’ان کو نشستیں ایسے ملیں جیسے ٹافی ملی ہو۔ اس فیصلے سے ایک پوری جماعت موبلائز ہو گئی۔‘
بلاول بھٹو کی تنقید پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے شور شرابا کیا اور احتجاج کیا جس پر بلاول بھٹو نے کہا کہ قائد حزب اختلاف مجھے بولنےتو دیں، میرا اشارہ آپ کی جانب نہیں۔‘
جماعت اسلامی کا حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا مؤخر، جلسے کے پیش نظر فیض آباد کنٹینر لگا کر بند
،تصویر کا ذریعہTwITTER/JIPOFFICIA
جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے خلاف کئی روز سے جاری دھرنا مؤخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
راولپنڈی میں جماعت اسلامی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ’پوری قوم کے سامنے حکومتی نمائندے اعلان کر رہے ہیں تو توقع رکھتا ہوں کہ یہ وعدہ پورا کریں گے۔‘
اس دوران انھوں نے جمعے کے روز اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
یاد رہے کہ حالیہ ماہ میں بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی نے دھرنے اور پر امن احتجاج کی کال دی تھی۔
اس اعلان کے بعد نعیم الرحمان کی سربراہی میں جماعت کے کارکنوں اور رہنماوں نے راولپنڈی میں مری روڈ پر دھرنا دیا ہوا تھا۔
اس دوران ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور بھی ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو میں حافظ نعیم نے کہا کہ ’معاہدے میں حکومت سے طے کیا ہے کہ انھیں ریلیف دینا ہی ہو گا۔ تحریری معاہدوں میں پانچ شقوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ہمارے معاہدے کا حصہ ہے کہ اب ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب نہیں اٹھائے گا۔ پورے ملک سے بڑے جاگیردار صرف پانچ سے چھ ارب روپے کا ٹیکس دیتے ہیں لہذا جاگیرداروں اور زمینداروں کوٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے ٹھوس عملی اقامات کیے جائیں گے۔‘
جماعت اسلامی کے جلسے کے پیش نظر فیض آباد کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا
جماعت اسلامی کا دو ہفتے سے جاری دھرنا موخر کرنے کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی کے کارکنان نے لیاقت باغ مری سے اپنے کیمپ اتار لیے۔
جمعے کے روز علی الصبح سے لیاقت باغ مری روڈ پر صفائی ستھرائی کا عمل بھی جاری ہے جبکہ لیاقت باغ مری روڈ دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی۔
کامیاب مذاکرات کی خبر کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس بھی بحال کر دی گئی جو دھرنے کے باعث تعطلل کا شکار رہی تھی۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کے بیان کے مطابق فیض آباد کو جماعت اسلامی کے جلسے کے پیش نظر بند کیا گیا ہے اور راولپنڈی سے اسلام آباد کے داخلی راستے کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والی مری روڈ کے ٹریفک کو آئی جے پی روڈ پر موڑ دیا گیا ہے جبکہ کمیٹی چوک، چاندنی چوک سے شمس آباد آنے والی ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔
بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی: محسن نقوی
جماعت اسلامی کے ساتھ ہونے والے حکومتی مذاکرات کی کمیٹی کے رکن وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی جو جلد نظر آئیں گی۔
محسن نقوی کے مطابق ’ہم نے وعدہ کیا ہے کہ اس پر عمل کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ جو بل جاری ہوئے ان پر 15 دن کی توسیع کردی ہے۔
’سب کی سوچ پاکستان کو پرامن بنانا ہے، جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر مذاکرات ہوئے اور وزیر اعظم نے کہا کہ جماعت اسلامی کو عزت دینی ہے۔‘
اسرائیل غزہ جنگ: امریکہ، مصر اور قطر کا جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی بحالی کے لیے فریقین پر زور, ٹام بینیٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل اورغزہ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے امریکہ، قطر اور مصر نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ثالثی مذاکرات کی بحالی اور مغویوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی کی شرائط پر گفتگو کو مزید آگے بڑھائیں تاکہ ان پر عمل درآمد کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جائے۔
اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ مصر اور قطر کی ثالثی کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی ممالک کی جانب سے ایک ’فریم ورک معاہدہ‘ بنایا گیا تھا جس پر (ان کے مطابق) صرف عمل درآمد کی تفصیلات طے کرنا باقی رہ گئی تھیں۔
مذاکرات کی بحالی کے بیان پر اسرائیل نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ وہ مجوزہ مذاکرات کے لیے اپنے مذاکرات کار بھیجے گا تاہم حماس نے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ اسراعیل غزہ جنگ بندی کے لیے ثالثی مذاکرات 15 اگست کو دوحہ یا قاہرہ میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ ہفتے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد نئے سفارتی دباؤ کو علاقائی کشیدگی کو کنٹرول سے باہر ہونے سے روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران نے اسرائیل پر اسماعیل ہنیہ کے قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی اور بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کے قتل پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں تینوں ممالک نے اسرائیل اور حماس کو 15 اگست کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی دعوت دی تاکہ بقیہ خلا کو ختم کر کے بغیر کسی تاخیر کے معاہدے پر عمل درآمد شروع کیا جا سکے۔
،تصویر کا کیپشناسماعیل ہنیہ کو تہران میں اس وقت ایک حملے میں ہلاک کیا گیا تھا جب وہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے موجود تھے
بیان میں کہا گیا کہ اگر ضرورت پڑی تو بطور ثالث فریقین کے لیے ایسی حتمی تجویز پیش کرنے کے لیے تیار ہیں جو نہ صرف دونوں ممالک کی توقعات پر پورا اترے بلکہ اس پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کر سکے۔
اس مشترکہ بیان پر امریکی صدر جو بائیڈن، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے دستخط موجود ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے لیے بنایا گیا فریم ورک معاہدہ صدر بائیڈن کے 31 مئی کو بیان اصولوں پر مبنی ہے جس کا آغاز جنگ کے مکمل خاتمے اور متعدد یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ ہوگا۔
یاد رہے کہ اس فریم ورک معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی تھی۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعرات کی شام ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ سے بات چیت میں انھیں خطے میں امریکی افواج میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بات چیت میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی کی شق بھی شامل ہے۔
ماضی قریب میں مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے کا چیلنج اب تک مبہم ثابت ہوا ہے۔
اس سے قبل حماس کی جانب سے جنگ بندی پر زور دیا جاتا رہا ہے تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ تنازع صرف حماس کو شکست دینے پر ہی تھم سکتا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بھی اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔
غزہ کی سول ڈیفنس فورس نے کہا کہ ان حملوں میں دو سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 18 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق انھوں نے حماس کے کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔
حماس کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کی جگہ یحیٰی السنوار کو اپنا نیا سربراہ منتخب کرنے کے فیصلے کے بعد کوئی بھی مجوزہ مذاکرات مزید مشکل ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اسرائیل یحییٰ سنوار کو سات اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور انھیں گروپ میں شامل انتہا پسند شخصیات میں سرفہرست میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اسرائیل کے نیوز چینل 13 نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران یا اس کے اتحادیوں کے حملوں کے خدشات کے پیش نظر جمعرات کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے اپنی میٹنگ معمول کی ملاقات کی جگہ کے بجائے ایک زیر زمین بنکر میں کی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا حکومت سے مذاکرات کے بعد کئی روز سے گوادر میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہBalochYakjehtiC
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حکومت سے مذاکرات کے بعد 11 روز سے گوادر میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ جمعے کے روز گوادر سے تربت کی جانب مارچ کریں گے۔
بلوچ یک جہتی کمیٹی کی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’آج حکومتی وفد نے دھرنے کے مطالبات منظور کر لیے ہیں۔ مطالبات پر عمل درآمد ہونے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنا دھرنا ختم کرے گی۔
ایکس پر جاری بیان کے مطابق ’’دھرنا ختم ہونے کے بعد جمعہ کی صبح گوادر میں راجی سوگندی دیوان (قومی حلف) ہوگا جس کے بعد یہ کاروان تربت کی جانب مارچ کرے گا۔‘
یاد رہے کہ اس اعلان کے باوجود ابھی تک تسلیم شدہ مطالبات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
واضح رہے کہ جولائی آخری ہفتے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں دھرنا دیا تھا۔
مکران ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بھی رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران معاملات طے پا گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے دوسرے دور کے مذاکرات بلوچستان کے سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی کی سربراہی میں ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو وہاں مذاکرات کے لیے پہنچے تھے۔
،تصویر کا ذریعہtwitter./BalochYakjehtiC
کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ گوادر میں دھرنے کے شرکا جمعے کی صبح دس بجے کے بعد تربت کے لیے روانہ ہوں گے۔
'بلوچ راجی مچی ایک تحریک ہے'
جمعرات کی شب میرین ڈرائیو پر دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچ راجی مچی ایک پروگرام یا جلسہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے
’ہم یہ حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم نے بلوچوں کو دوسو سال کی غلامی کے خلاف اکٹھا کرنا ہے۔ یہ تحریک بلوچوں کو ایک طاقت بنانے کی تحریک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ 11 روز میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور ہم نے ان کو بتایا کہ آپ کے فورسز نے مبینہ طور پر ہمارے تین نوجوانوں کو ہلاک کیا ہے اور خواتین پر لاٹھیاں اٹھائیں۔‘
گوادر میں جلسے کو بطور احتجاج دھرنے میں تبدیل کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 28جولائی کو گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کے نام سے جلسہ منعقد کرنےکا اعلان کیا گیا تھا۔
اس اجتماع میں ایران اور افغانستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم بلوچوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق گوادر میں اس اجتماع کا مقصد مبینہ بلوچ نسل کشی ، جبری گمشدگیوں ، انسانی حقوق کی پامالی اور بلوچوں کے وسائل کے استحصال کے خلاف لائحہ عمل طے کرنا تھا۔
تاہم حکومت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو گوادر میں اس جلسے کی اجازت نہیں دی تھی جس کے باعث 27 جولائی سے حکومت نے بلوچستان میں ان تمام شاہراہوں کو بند کیا تھا جن کے زریعے لوگ گوادر پہنچ سکتے تھے۔
شاہراہوں کی بندش کی جواز کے حوالے سے سرکاری حکام نے یہ کہا تھا کہ یہ اقدام لوگوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جلسے کے لیے گوادر کے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس کا مقصد سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ترقیاتی منصوبوں اور گوادر میں سرمایہ کاری کوسبوتاژ کرنا تھا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ نہ صرف گوادر کے اجتماع میں لوگوں کو شرکت سے روکا گیا بلکہ لوگوں پر مبینہ طور پر گولیاں بھی چلائی گئیں جن میں تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب سرکاری حکام نے تشدد کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کی تشدد سے گوادر میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 16زخمی ہوگئے ۔
گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے ایف آئی آر میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ سمیت چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
بلوچ یکجتی کمیٹی نے گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دھرنے کی شرکا پر مبینہ تشدد اور دھرنے کے شرکاء کو گوادر جانے سے روکنے اور اس سلسلے میں گرفتاریوں کے خلاف میرین ڈرائیو پر جلسے کو دھرنے میں تبدیل کیا تھا جو کہ 11روز تک جاری رہا۔
نوبیل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نوبیل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کے طور پر حلف اُٹھا لیا ہے۔
انھوں نے بنگلہ دیش پہنچتے ہی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بہت کام کرنا باقی ہے۔‘
جمعرات کو فرانس سے دارالحکومت ڈھاکہ پہنچنے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 84 سالہ عبوری سربراہ نے کہا کہ ’لوگ پرجوش ہیں۔‘
بنگلہ دیش پر 15 سال تک حکمرانی کرنے والی شیخ حسینہ واجد نے کئی ہفتوں تک طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پروفیسر یونس کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر نامزد کرنے کا فیصلہ صدر محمد شہاب الدین، فوجی رہنماؤں اور طلبہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
طالب علموں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ فوج کی قیادت والی حکومت کو قبول نہیں کریں گے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پروفیسر یونس چیف ایڈوائزر کے طور پر سامنے آئیں۔
نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا
بنگلہ دیش کے نئے سربراہ محمد یونس کی کابینہ میں کون کون شامل ہے؟
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے جمعرات کی شب ڈھاکہ میں مُلک کے عبوری سربراہ محمد یونس سے حلف لیا۔
اس کے بعد 16 ایڈوائزری کونسلرز کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ پروفیسر محمد یونس کی کابینہ میں ڈاکٹر صالح الدین احمد، ڈاکٹر آصف نذرل، عادل الرحمن خان، حسن عارف، توحید حسین، سیدہ رضوانہ حسن، شرمین مرشد، فاروقی اعظم، بریگیڈیئر جنرل (ر) ایم سخاوت حسین، سپردیپ چکما، بیدھن رنجن رائے، اے ایف ایم خالد حسن اور فریدہ اختر شامل ہیں۔
تاہم محمد یونس کی کابینہ میں شامل ان 16 افراد میں سے حلف بردادی تقریب میں 13 نے حلف اُٹھایا تاہم تین ممبران ایسے تھے کہ جو شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے حلف بردادی کی تقریب میں شامل نہیں ہو سکے۔
پروفیسر محمد یونس کی کابینہ میں طلبہ تنظم کے رہنما ناہید اسلام بھی شامل ہیں کہ جن کی سربراہی میں بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف اُس احتجاج کا آغاز ہوا تھا کہ جس نے مُلک کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے اور مُلک چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔
’غریبوں کے بینکار‘: نوبیل انعام یافتہ بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس کون ہیں؟
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے مطالبے پر ملک کے عبوری سربراہ بننے والے 84 سالہ معیشت دان پروفیسر محمد یونس کو ان کی قسمت چھ ماہ میں قید خانے سے اقتدار کی دہلیز پر لے تو آئی ہے لیکن ساتھ ہی ان کے کندھوں پر ہی ملک میں امن و امان کے قیام اور استحکام لانے کی ذمہ داری آن پڑی ہے
پروفیسر محمد یونس کون ہیں؟ اُن کی زندگی اور سیاسی سفر کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لیےیہاں کلک کریں۔
میرے پاس بہت وقت ہے لیکن حکومت کے پاس صرف دو مہینے ہیں: عمران خان
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’جیل سے بیٹھ کر پیش گوئی کر رہا ہوں کہ حکومت کے پاس دو مہینے کا وقت ہے اور حکومت دلدل میں پھنستی جارہی ہے۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے پاس بہت وقت ہے مگر ان کے پاس وقت ختم ہورہا ہے یہ بیوقوف ہیں انھیں سمجھ نہیں آرہی۔‘
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق بانی پاکستان تحریکِ انصاف نے آج ایک مرتبہ پھر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سانحہ 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پی ٹی آئی کے لوگ سامنے لائے جائیں تو معافی مانگ لوں گا۔‘
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’القادر ٹرسٹ کیس میں اپنے دفاع میں گواہ پیش کروں گا شناخت نہیں بتا سکتا ورنہ ویگو ڈالا پہنچ جائے گا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ میں نے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ میں صرف اور صرف پاکستان کے لیے بات کرنے کا کہہ رہا ہوں۔ جتنے مقدمات بنانے ہیں بنا لیں کوئی ڈیل نہیں کروں گا۔‘
گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
نوبیل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کے طور پر حلف اُٹھا لیا ہے۔ انھوں نے بنگلہ دیش پہنچتے ہی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بہت کام کرنا باقی ہے۔‘
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’جیل سے بیٹھ کر پیش گوئی کر رہا ہوں کہ حکومت کے پاس دو مہینے کا وقت ہے اور حکومت دلدل میں پھنستی جارہی ہے۔‘
بلوچستان کے سرحدی شہرچمن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف دوبارہ دھرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ پر اسرائیلی بمباری اور وحشیانہ کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل سیز فائر کے قانونی مطالبے کو رد کرتا ہے تو او آئی سی ممالک جواباً اسرائیل پر تیل اور تجارت پر پابندیاں عائد کردیں۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آپ کو خوش آمدید!
یہاں ہم آپ کے لیے پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کریں گے۔