عارضی تعطل کے بعد 110 فلسطینی قیدی رہا، حماس کی تصدیق
حماس نے تصدیق کی ہے کہ 110 فلسطینی قیدی رملہ پہنچ گئے ہیں، اس سے قبل اسرائیلی قیدیوں کی خان یونس میں حوالگی کے موقع پر افراتفری کے مناظر سامنے آئے تھے اور اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی بسوں کو روک لیا تھا۔
خلاصہ
اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ حماس نے سات مزید قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاہم اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو روک دیا ہے۔
پائلیٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
وفاقی وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کے مقدمے میں اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا جس کے تحت ملک ریاض اور ان کے بیٹے سمیت دیگر ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیِے گئے ہیں۔
امریکن ایئرلائنز کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں تین امریکی فوجی سوار تھے۔
لائیو کوریج
بشار الاسد کی حکومت کا تختہ اُلٹنے والے باغی رہنما احمد الشرع شام کے عبوری صدر نامزد
،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق
بشار الاسد کی حکومت کا تختہ اُلٹنے والے باغی رہنما احمد الشرع کو ’عبوری مدت‘ کے
لیے شام کا صدر نامزد کیا گیا ہے۔
صنعا نیوز ایجنسی کے مطابق باغی
فوجی کمانڈر حسن عبدالغنی نے شام کے 2012 کے آئین کی منسوخی اور سابق حکومت کی
پارلیمنٹ، فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کو تحلیل کرنے کا بھی اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ صدر کی حیثیت سے
شراع ایک عبوری قانون ساز کونسل تشکیل دیں گے جو نئے آئین کی منظوری تک حکومت کرنے
میں مدد کرے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ 13 سالہ
خانہ جنگی میں بشار الاسد کی مخالفت کرنے والے تمام باغی گروہوں کو تحلیل کر کے
ریاستی اداروں میں ضم کر دیا جائے گا۔
یہ اعلان بدھ کے روز دمشق میں ایک
تقریب کے دوران کیا گیا جس میں الشرع کے اسلامی گروپ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی
ایس) کی سربراہی میں باغی اتحاد کے ساتھ لڑنے والے دھڑوں کے کمانڈروں نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کا عنوان ’شام کے انقلاب کی فتح کا اعلان کرنے والی کانفرنس‘ تھا۔
ٹرمپ کو فاشسٹ قرار دینے والے سابق امریکی فوجی کمانڈر کی سکیورٹی ہٹا دی گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنے والے سابق اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈر مارک ملی
کی سکیورٹی اور کلیئرنس منسوخ کر دی ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ نے اس
اقدام کو اپنے عہدے کے پہلے اقدامات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے حکام سے کہا کہ وہ
جنرل ملی کے ’طرز عمل‘ کی تحقیقات کریں اور ان کے فوجی گریڈ کا جائزہ لیں۔
جنرل ملی اس سے قبل ٹرمپ کے پہلے
دور میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں لیکن
بعد میں انھوں نے اپنے سابق باس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں فاشسٹ قرار
دیا۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے
مٹھی بھر سابق عہدیداروں کی سکیورٹی ختم کر دی ہے جن کے ساتھ ان کے اختلافات سامنے
آچُکے ہیں انھیں میں سابق اعلیٰ صحت عہدیدار انتھونی فاؤچی بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل ٹرمپ نے جنرل ملی پر
اپنے پہلے ٹرمپ دور صدارت کے آخری ہفتوں کے دوران اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ہونے
والی فون کالز پر غداری کا الزام عائد کیا تھا، جس میں 2021 میں ٹرمپ کے حامیوں کی
جانب سے یو ایس کیپیٹل ہل پر حملہ شامل تھا۔
اطلاعات کے مطابق جنرل ملی نے ان
میں سے ایک فون کال کا استعمال چین کو یقین دلانے کے لیے کیا کہ امریکہ جوہری حملہ
نہیں کرے گا۔ سوشل میڈیا پر صدر نے ان فون کالز کو ’اتنا گھناؤنا عمل‘ قرار دیا کہ
آنے والے وقت میں اس کی سزا موت ہوتی۔
تاہم جنرل ملی نے گواہی دی کہ یہ
کالز دیگر دفاعی سیکریٹریز کے ساتھ مل کر کی گئی تھیں اور اُنھیں اس بات کا علم
تھا۔
گزشتہ سال شائع ہونے والی باب
ووڈورڈ کی کتاب ’وار‘ میں جنرل ملی کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ٹرمپ ’بنیادی طور
پر فاشسٹ‘ اور ’اس ملک کے لیے سب سے خطرناک شخص‘ ہیں۔
سنہ 2023 میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف
کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی آخری تقریر کرتے ہوئے جنرل ملی نے کہا تھا کہ فوج نے
کسی ’ڈکٹیٹر‘ سے حلف نہیں لیا۔
بہت سے لوگوں نے اس تبصرے کو ٹرمپ
کی طرف اشارہ کے طور پر دیکھا۔
جنرل ملی کی جانب سے ٹرمپ کو
مبینہ طور پر نظر انداز کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے محکمہ دفاع کے نئے چیف آف سٹاف
نے بدھ کے روز کہا کہ ’چین آف کمانڈ کو کمزور کرنا ہماری قومی سلامتی کے لیے نقصان
دہ ہے۔‘
مہا کمبھ کا میلے میں کم ازکم 30 افراد ہلاک
اتر پردیش کے پریاگ راج میں جاری کمبھ میلے کے دوران بدھ کی رات تقریباً 1.30 بجے ایک گھاٹ پر بھگدڑ مچ گئی، جس میں کم از کم 30 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس حادثے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بی بی سی ہندی کے مطابق انتظامیہ نے شام تک ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا تھا۔
بعد ازاں ڈی آئی جی، مہاکمب نگر میلہ علاقہ ویبھو کرشنا نے شام کو میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مہاکمب میں بھگدڑ میں 30 لوگوں کی موت ہوئی، جن میں سے 25 کی شناخت ‘ہوگئی ہے۔ 60 زخمیوں کا اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔
اس واقعہ کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اکھاڑہ کے علاقے میں رکاوٹیں لگائی گئی ہیں، ان میں سے کچھ رکاوٹیں ٹوٹ گئیں، بہت سے عقیدت مند گھاٹ پر برہما مہورت کا انتظار کر رہے تھے، اس کے بعد بہت سے دوسرے عقیدت مند وہاں پہنچ گئے، وہ دیکھ نہیں پائے۔ پتہ چلا کہ کون لیٹا تھا، اور اس طرح یہ حادثہ ہو گیا۔
مہا کمبھ کا میلہ ہر 12 برس میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے جس میں کروڑوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ یہ میلہ 13 جنوری کو شروع ہوا تھا اور تقریباً چھ ہفتے جاری رہتے ہیں۔
اس میلے کے دوران دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مند سنگم پر غسل کرتے ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں ہندو عقیدے کے مطابق مقدس دریا گنگا، جمنا اور اساطیری دریا سرسروتی ملتے ہیں۔
بدھ کو اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ مہا کمبھ کے دوران وہاں ایک بہت بڑا جمِ غفیر اُمڈ آیا ہے اور اب تک تقریباً تین کروڑ افراد وہاں غسل کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صورتحال قابو میں ہے اور کسی کو منفی خبریں نہیں پھیلانی چاہییں کیونکہ اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
میلے میں بھگدڑ کیسے مچی؟
اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کے مطابق میلے میں بھگدڑ رات 'ایک اور دو بجے کے درمیان' مچی جب کچھ عقیدت مندوں نے پولیس کی جانب سے رکاوٹیں ہٹا کر سنگم پہنچنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب اس حادثے سے متاثر ہونے والے افراد کمبھ میلے کی انتظامیہ اور وہاں کیے جانے والے انتظامات پر انگلیاں اُٹھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
بااثر ہندو مذہبی شخصیت پریم آنند پوری کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے وی آئی پیز کو ترجیح دی اور عام زائرین کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔
کمبھ میلہ کیا ہے؟
چھبیس فروری کو اختتام پذیر ہونے والے اس تہوار کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے انسانیت کے ناقابل تسخیر ورثے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
اس کی بنیاد دیوتاؤں اور راکشسوں کے درمیان امرت کے ایک کمبھ (ایک گھڑے) کے لیے لڑائی کے بارے میں ایک افسانوی کہانی میں پنہاں ہے جو سمندر کے منتھن (کھنگالنے) کے دوران نکلا تھا۔
اس کہانی اور پیروکاروں کے مانے گئے عقیدے کے مطابق جیسے ہی دونوں فریق امرت کے کمبھ (برتن) پر لڑ رہے تھے کیونکہ اس کے پینے سے ان سے لافانی ہونے کا وعدہ کیا گیا تھا تو اس میں سے چند قطرے چھلک پڑے اور چار شہروں پریاگ راج، ہریدوار، اجین اور ناسک میں گرے۔
یہ لڑائی 12 آسمانی سالوں تک جاری رہی تھی اور ہر ایک آسمانی سال زمین کے 12 سال کے برابر ہے۔ اس لیے کمبھ میلہ ان چاروں شہروں میں ہر 12 سال منعقد ہوتا ہے۔ درمیان میں ایک اردھ کمبھ یعنی نصف کمبھ ہوتا ہے جسے ہر چھ سال پر منعقد کیا جاتا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اعتراض, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اعتراض لگا دیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کر کے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں واپس کر دیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست گزار سے اعتراض دور کر کے اپیلیں دوبارہ دائر کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
رجسٹرار آفس کا اعتراض ہے کہ اپیلوں کے ساتھ سرٹیفکیٹ منسلک نہیں، سرٹیفیکیٹ لگایا جائےکہ یہ کیس کسی دوسری عدالت میں زیر سماعت نہیں، کچھ صفحات پر دستخط نہ ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان کو 14 سال قید اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کومبینہ طور پرغلط کاموں میں معاونت پر 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے عمران خان پر 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
ترمیم شدہ متنازع پیکا ایکٹ صدر کے دستخط کے بعد قانون بن گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر مملکت آصف علی زرداری نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام (ترمیمی) بل 2025 (پیکا) کی توثیق کردی۔
خیال رہے کہ متنازغ پیکا ایکٹ جو کہ صدر کی منظوری کے بعد قانون بن گیا ہے پر صحافتی برادری اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
پیکا کا ترمیم شدہ قانون کیا کہتا ہے؟
اسے ’دی پریوینشن آف الیکٹرنک کرائمز (ترمیمی) بل 2025‘ کا نام دیا گیا تھا جس میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو تحلیل کر کے ایک نئی تحقیقاتی ایجنسی تشکیل دیے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن یا رجسٹریشن کی منسوخی اور معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو بھی یقینی بنائے گی۔
پیکا کی خلاف ورزی پر یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہو گی۔
پیکا میں ایک نئی شق، سیکشن 26 (اے) کو شامل کیا گیا ہے جو آن لائن فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سزا سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر (فیک نیوز) پھیلاتا ہے جو عوام اور معاشرے میں ڈر، گھبراہٹ یا خرابی کا باعث بنے اس شخص کو تین سال تک قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں سے متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں ’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ کو درخواست دینے کا پابند ہو گا۔ اس اتھارٹی میں کل نو ممبران ہوں گے جبکہ سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا بر بنائے عہدہ اس اتھارٹی کا حصہ ہوں گے۔
اس مجوزہ اتھارٹی سے متعلق مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے چیئرمین اور پانچ اراکین کی تعیناتی پانچ سال کی مدت کے لیے کی جائے گی اور اتھارٹی کے چیئرمین سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر قانونی مواد کو فوری بلاک کرنے کی ہدایت جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔
پیکا کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اتھارٹی سے رجسٹر کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عارضی یا مستقل طور پر بھی بند کیا جا سکے گا۔
یہ اتھارٹی ’نظریہ پاکستان کے برخلاف اور شہریوں کو قانون توڑنے پر آمادہ کرنے والے مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہو گی۔‘
یہ ترمیمی ایکٹ جو اب قانون بن چکا ہے اتھارٹی پاکستان کی مسلح افواج، پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کے خلاف غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہو گی جبکہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی جانب سے حذف کیے گئے مواد کو سوشل میڈیا پر نہیں اپلوڈ کیا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ نئے قانون کے تحت پابندی کا شکار اداروں یا شخصیات کے بیانات بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہیں کیے جا سکیں گے۔
پی ٹی آئی نے مینار پاکستان پر آٹھ فروری کو جلسہ کرنے کی اجازت مانگ لی
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان تحریک انصاف نے کمشنر لاہور کو مینار پاکستان گراؤنڈ، اقبال پارک میں جلسہ کرنے کی اجازت مانگی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی تحریری درخواست میں لاہور انتظامیہ کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کی جماعت کا جلسہ پرامن ہو گا اور وہ اس سلسلے میں انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں گے۔
انتظامیہ کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور آئین کے آرٹیکل 16 کے تحت عوام کو اکھٹا ہونے یا جلسہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
کشتی حادثے کی تحقیقات جاری، وزیراعظم نے ڈی جی ایف آئی اے کو عہدے سے ہٹا دیا
،تصویر کا ذریعہFIA/ SOCIAL MEDIA
،تصویر کا کیپشناحمد اسحٰق جہانگیر پولیس سروس گریڈ 21 کے افسر ہیں
یونان کشتی حادثے میں متعدد پاکستانیوں کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سربراہ احمد اسحٰق جہانگیر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور فوری طور پر ان کا تبادلہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ دسمبر میں یونان کے جنوبی جزیرے گاوڈوس کے قریب کشتی الٹنے کے متعدد تارکین وطن سمیت 40 پاکستانیوں کی موت ہو گئی تھی۔
ڈی جی ایف آئی اے کی برطرفی اور تبادلے کا نوٹیفکشین بدھ کو جاری ہوا جبکہ انھیں کے دفتر سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے کشتی حادثے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائیوں پر سماعت کی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ایک انسپکٹر، 2 سب انسپکٹرز, 2 ہیڈ کانسٹیبل اور 8 کانسٹیبلز کو نوکری سے نکال کر دیا گیا۔ جبکہ 3 کانسٹیبلز کی ترقی روکنے کے احکامات صادر کیے گئے ہیں اور سزا پانے والے اہلکار فیصل آباد ائرپورٹ میں تعینات تھے۔
اس سے قبل بھی کشتی حادثات میں ملوث 37 اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کیا جا چکا ہے۔
حکومت پشاور پہنچنے کے لیے ہماری مدد کرے: پاڑہ چنار میں محصور طلبا کا مطالبہ
خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم کے علاقے پاڑہ چنار کے طلبا نے کہا ہے کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے اندرون ملک اور بیرون ملک طلبا کے ایڈمیشن ضائع ہو رہے ہیں اور اگر بروقت انھیں پشاور نہ پہنچایا گیا تو وہ احتجاجی دھرنا دیں گے۔
پاڑہ چنار میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلبا راہنماؤں نے کہا کہ اندورن ملک اور بیرون ملک درجنوں طلبہ کے داخلے ہوئے ہیں مگر راستوں کی بندش کے باعث وہ اپنے اداروں میں نہیں پہنچ سکتے جس کی وجہ سے ان کے ایڈمیشن کینسل ہو رہے ہیں۔
طلبا نے کہا کہ اگر فوری طور انہیں پشاور پہنچانے کے انتظامات نہ کئے گئے تو وہ احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
اپر کرم سے تعلق رکھنے والے مرتضی حسین کا کہنا تھا کہ اس کا امریکہ میں ایڈمشن ہوا ہے مگر ایمبیسی میں انٹرویو کے لیے نہ پہنچنے کی وجہ سے ان کا انٹرویو اور ایڈمشن کینسل ہونے کا خدشہ ہے جس کے لیے وہ انتہائی پریشان ہیں۔
ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے مصدق حسین کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال سے پاڑہ چنار میں انجنئیر کے طور پر جاب کر رہے تھے اب ان کا روس میں ایڈمشن ہوا ہے، مگر راستوں کی بندش کی وجہ سے پشاور پہنچنا اب ان کے لیے مسئلہ کشمیر جیسا بن گیا ہے۔
طلبا حکومت سے پشاور کے لیے کانوائے یا ہیلی سروس کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس: آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، وکیل وزارت دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں
پر سماعت کے دوران وزاتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق
کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس
جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم
اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سات رکنی آئینی بینچ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف اپیلوں کی سماعت کر رہا ہے۔
بدھ کے روز وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ کے
تحت ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار پر دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرائل سے پہلے جج ایڈووکیٹ
جنرل حلف اٹھاتا ہے کہ وہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ خصوصی ٹرائل کرنے والا جج تو اتھارٹیز کے ماتحت ہوتا ہے۔
اس پر وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی شواہد ہیں تو بات کریں، محض تاثر پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ انھیں کسی پر کوئی شک ہے نہ اعتراض ہے، سوال یہ ہے کہ خصوصی عدالتوں میں ٹرائل کرنے والے کون ہیں، اس لیے پوچھا۔
دورانِ سماعت انھوں نے سوال کیا کہ خصوصی
ٹرائل کی بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے۔ جس پر خواجہ آحارث نے بتایا کہ اگر مجاز
عدالت نہ ہو، بدنیتی پر مشتمل کارروائی چلے یا اختیار سماعت سے تجاوز ہو تو ٹرائل
چیلنج ہو سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
خواجہ حارث نے بتایا کہ اگر خصوصی ٹرائل کے دوران کوئی ملزم
اقبال جرم کرلے تو اسے اسلامی قوانین کے تحت رعایت ملتی ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ بظاہر نو مئی کے واقعات
میں سیکورٹی آف سٹیٹ کا معاملہ نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نو مئی واقعات کے ملزمان کا خصوصی ٹرائل
بہت تفصیل سے چلایا گیا۔
انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ تمام ریکارڈ پبلک
کر دیا جائے تاکہ عوام ان ملزمان کی مذمت کر سکے۔
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ اتھارٹیز نے طے کرنا ہے۔
وزارتِ دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں عدالتوں کے قیام
کا ذکر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سارے ممالک میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی
نظیر ملتی ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے سوال کیا گیا کہ عام طور
پر ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے، کیا خصوصی عدالت میں بھی ایسا ہی ہے؟
وزارتِ دفاع کے وکیل نے بتایا کہ آرمی ایکٹ رولز کے تحت
ملزم کو مکمل تحفظ فراہم جاتا ہے۔
دورانِ سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ انھوں نے بطور
چیف جسٹس بلوچستان خصوصی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سنی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے محض ایک سادے کاغذ
پر لکھ کر نہیں دیے جاتے کہ ملزم قصور وار ہے یا بے قصور۔
جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ جب ہائی کورٹ میں اپیل
آتی ہے تو جی ایچ کیو کی جانب سے پورا ریکارڈ فراہم کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ میں پوری عدالتی کارروائی ہوتی
ہے، جس میں شواہد سمیت پورا طریقہ کار درج ہوتا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ اگر کسی عام شہری کا
خصوصی ٹرائل ہو تو کیا وہاں صحافیوں اور ملزم کے رشتے داروں کو رسائی دی جاتی ہے۔
اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ قانون میں رشتہ داروں اور
صحافیوں کو رسائی کا ذکر تو ہے لیکن سکیورٹی وجوہات کے سبب انھیں رسائی نہیں دی
جاتی۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
نریندر مودی کی کمبھ میلے میں ہلاکتوں کی تصدیق: ’پریاگ راج میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کے مطابق حادثہ رات کو ایک سے دو بجے کے درمیان پیش آیا
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کمبھ میلے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پریاگ راج میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک
ہے۔‘
اس سے قبل انتظامیہ کی جانب سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی
گئی تھی تاہم بی بی سی کو ایک ہیلتھ ورکر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر 12 ہلاکتوں
کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انھوں نے جائے وقوعہ پر کئی لاشیں دیکھی ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام
میں کہا گیا ہے کہ ’میں ان تمام عقیدت مندوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں جنھوں نے اس
واقعے میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے
لیے دعا گو ہوں۔‘
نریندر مودی کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ
متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اتر پردیش کی حکومت کے ساتھ مسلسل
رابطے میں ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کا کہنا ہے کہ اب بھی آٹھ سے دس کروڑ افراد کمبھ میلے میں موجود ہیں۔
اس سے قبل اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ نے کہا تھا کہ کمبھ میلے میں بھگدڑ مچنے سے کئی افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
وزیرِ اعلی کے مطابق حادثہ رات کو ایک سے دو بجے کے درمیان اس وقت پیش آیا جب کچھ زائرین نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں عبور کر کے زبردستی سنگم کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق اس واقعے میں ’کچھ افراد شدید زخمی ہوئے اور ان کا ہسپتالوں میں علاج ہو رہا ہے۔‘
تاہم انھوں نے زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’صورتحال قابو میں ہے۔‘ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اب بھی آٹھ سے دس کروڑ افراد کمبھ میلے میں موجود ہیں۔
انھوں نے زائرین سے درخواست کی کہ وہ سنگم کی طرف جانے کی کوشش نہ کریں اور دریا گنگا کے جس گھاٹ پر موجود ہیں وہیں غسل کر لیں۔
ہارڈ لائنر سامنے آئیں گے، ہومیوپیتھک قیادت سائیڈ پر ہو جائے گی، صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا
،تصویر کا ذریعہx.com/JunaidAkbarMNA
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبر پختونخوا کے نو
منتخب صدر اور قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ جنید اکبر کا کہنا
ہے کہ آٹھ مئی کے بعد پی ٹی آئی کی دوبارہ تنظیم سازی کی جائے گی اور اس کے نتیجے
میں ہارڈ لائنرز سامنے آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو سامنے لایا جائے گا جنھوں نے
نو مئی کے بعد مزاحمت کی اور جو مقابلہ کر سکتے ہیں۔
’درمیان والے، ہومیوپیتھک قیادت سائیڈ پر ہو جائے گی۔‘
وہ منگل کی رات نجی ٹی وی کے شو کیپیٹل ٹاک میں بات کر رہے
تھے۔
ایک سوال کے جواب میں جنید اکبر کا کہنا تھا کہ عمران خان
علی امین گنڈا پور سے ناراض نہیں ہیں۔ ’ناراض ہوتے تو انھیں وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا
دیتے، پارٹی کی صوبائی صدارت اس کے مقابلے میں چھوٹی چیز ہے۔‘
تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ رواں ہفتے خیبر پختونخوا کابینہ میں چند تبدیلیاں متوقع ہیں۔
’اس دفعہ ہم نکلیں گے تو کوئی رابطہ نہیں کرے گا، کوئی ہیلی
کاپٹر میں نہیں بیٹھے گا‘
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ’ہم پر پہلے دن سے یہی الزام تھا
کہ ہم سیاسی لوگوں سے نہیں ملتے ورنہ ہمیں پہلے دن سے اندازہ تھا کہ یہ [مذاکرات]
آگے نہیں بڑھ سکتے۔۔۔ فیصلے کسی اور نے کرنے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کو شش ہے کہ ڈائیلاگ کامیاب
ہوں لیکن اسکے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں
لگ رہا ہے کہ ہماری مذاکرات کی خواہش کو وہ ہماری کمزوری سمجھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ منگل کے روز تحریکِ انصاف سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے منگل کو مذاکرات کے دور میں شرکت نہ کر کے عملی طور پر بات چیت کے عمل کا خاتمہ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم جب [احتجاج] کے لیے نکلتے تھے تو
ہماری قیادت کے ان کے ساتھ رابطے ہوتے تھے۔
’اس دفعہ ہم نکلیں گے تو کوئی رابطہ نہیں کرے گا، کوئی ان
کے ہیلی کاپٹر میں نہیں بیٹھے گا۔‘
جنید اکبر کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے پی ٹی آئی مختلف
آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
’ایک آپشن یہ ہے کہ ہم ڈسٹرکٹ کی سطح پر احتجاج کریں اور
ایک یہ ہے کہ ہم اسلام آباد کی طرف آئیں۔‘
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ریاست
ہم پر گولیاں بھی چلا سکتی ہے۔ ’اب کی بار اس کی تیاری کے ساتھ آئیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تیسرا آپشن جس کی وہ بھی حمایت کرتے ہیں
وہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حدود کے اندر سے دوسرے صوبوں کو جانے والے مرکزی راستے بند کر
دیے جائیں۔ جنید اکبر کا کہنا تھا کہ اس اپشن کے اسلام آباد، گلگلت بلتستان اور دیگر علاقوں کو جانے والی مرکزی شاہراہیں بشمول جی ٹی روڈ بند کر دی جائیں گی۔
اس سوال پر کہ کیا عمران خان مکمل محاذ آرائی کی جانب جا
رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کا مجھے پیغام آیا ہے کہ ہمیں اس حکومت
اور وزیرِ اعظم سے آگے کا سوچنا ہے۔ یہ چیزیں میں بھول گیا ہوں کہ میں نے وزیرِ
اعظم بننا ہے۔‘
کمبھ میلے میں بھگدڑ سے کم ازکم 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے قدیم شہر پریاگ راج (الہ آباد)
جاری کمبھ کے میلے کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 12 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات
ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار وکاس پانڈے سے بات کرتے ہوئے ایک
ہیلتھ ورکر نے 12 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انھوں نے بتایا کہ انھوں نے جائے
وقوعہ پر کئی لاشیں دیکھی ہیں۔
اس سے قبل ایک ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تاحال سرکاری سطح پر ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاعات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
کمبھ میلے میں بھگدڑ: ’کہاں، کیا غلط ہوا اس بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھانے کی ضرورت ہے‘, سَمیرا حسین، نامہ نگار پریاگ راج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دریا کے گھاٹ پر ایک افراتفری کا عالم تھا۔ لوگوں کا
سامان، کپڑے، جوتے، کمبل اور بیگ چاروں طرف بکھرے پڑے تھے۔ ان تمام سامانوں کے بیچ
لوگوں کی لاشیں دیکھی جا سکتی تھیں جن کے بارے میں اب تک سرکاری سطج پر کوئی تفصیل
جاری نہیں کی گئی ہے۔
کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ کوئی نہیں جانتا کہ کیا
ہوا ہے یا کیا ہو رہا ہے۔
میں نے ایک غمزدہ عورت کو دیکھا جو روتے ہوئے سٹریچر کے سامنے سامنے چل رہی تھی۔ ایک اور شخص
ایک سٹریچر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اس پر رکھی لاش کو شال سے ڈھانپنے کی کوشش کر
رہا تھا۔
یہ سب غسل کے مرکزی مقام پر ہوا۔ وہی جگہ جس کے
بارے میں حکام کو معلوم تھا کہ اسنان کے روز بہت لوگ جمع ہوں گے۔
کہاں کیا غلط ہوا اس بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھانے
کی ضرورت ہے۔
ابھی تک حکام ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کی
تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔
انڈیا میں کمبھ کے میلے میں بھگدڑ، ہلاکتوں کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے قدیم شہر پریاگ راج
(الہ آباد) میں ہو رہے کمبھ کے میلے کے دوران بھگدڑ مچنے سے کئی افراد کی ہلاکت کی
اطلاعات ہیں۔
ایک ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں
ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود انتظامیہ کی
جانب سے اموات کے بارے میں کوئی اطلاعات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ نے ایک بیان میں زائرین سے سنگم نہ جانے درخواست کی ہے۔
ادتیا ناتھ کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں ان کا کہنا
تھا کہ: ’ مہا کمبھ کے لیے پریاگ راج آئے پیارے عقیدت مندوں گنگا کے جس
گھاٹ پر آپ موجود ہیں وہیں غسل کریں، سنگم کی طرف جانے کی کوشش نہ کریں۔‘
خیال کیا جا رہا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب میلے
کے دوران مقدس پانی میں ڈبکی لگانے کی کوشش میں ایک ہجوم نے دریا کے گھاٹ پر سوئے ہوئے افراد کو رونڈ ڈالا۔
ہر 12 سال میں منعقد ہونے والے اس میلے (مہا کمبھ)
کو دنیا میں انسانوں کا سب سے بڑا اجتماع کہا جاتا ہے اور اس میں شرکت کے لیے
لاکھوں عقیدت مند ہندو شمالی انڈیا کے قدیم شہر پریاگ راج (الہ آباد) آتے ہیں۔
چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس تہوار کے دوران دوران
دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مند سنگم پر غسل کرتے ہیں۔ سنگم وہ جگہ ہے جہاں ہندو
عقیدے کے مطابق مقدس دریا گنگا، جمنا اور اساطیری دریا سرسوتی ملتے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بھیڑ نے اچانک رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
واقعے کے بعد حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ زائرین ڈبکی لگانے کے لیے مقدس دریاؤں کے سنگم پر جانے سے گریز کریں۔
حکام کی جانب سے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ گنگا اور جمنا ندیوں کے ساتھ موجود دیگر نہانے والے مقامات پر ڈبکی لگائیں۔
تاہم انتظامیہ کی جانب سے بارہا اعلانات کے باوجود پزاروں افراد اب بھی سنگم کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ انتظامیہ کی جانب سے دن کی سب سے بڑی رسم جسے شاہی اسنان (شاہی غسل) کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ شاہی اسنان میں ہزاروں کی تعداد میں سنیاسی مقدس دریاؤں کے سنگم پر پانی میں ڈبکی لگاتے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق میلے میں نہانے کے سب سے بڑے دن 10 کروڑ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ روز کی اہم خبریں
پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد آج سینیٹ نے بھی متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے تاہم اپوزیشن جماعتیں اور صحافتی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئےسینیٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ صدر کی منظوری کے بعد یہ بل قانون کی شکار اختیار کر لے گا اور فی الفور نافذ العمل ہو گا.
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہم سے مشورہ لیے بغیر فیصلے کیے جاتے ہیں، ان فیصلوں کے نتائج ہم بھگتتے ہیں۔
تحریکِ انصاف سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے منگل کو مذاکرات کے دور میں شرکت نہ کر کے عملی طور پر بات چیت کے عمل کا خاتمہ کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ چوتھی نشت کے لیے شرط تھی کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور وہ نہ بننے کی وجہ سے آج کی مذاکراتی نشست نہیں ہوئی۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔