سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا معاملہ: سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ آج اپیل کی سماعت کرے گا
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کرے گا۔
گذشتہ روز اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت پر اپنی تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دی تھیں۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئیں معروضات میں کہا گیا ہے کہ جو سیاسی جماعت انتحابات میں حصہ لے اور کم از کم ایک سیٹ جیتے اسے مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں اور قانون کے مطابق مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ فراہم کرنا ہوتی ہے۔
ان تحریری معروضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ انتحابات میں حصہ لیا نہ مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ جمع کرائی جبکہ مخصوص نشستیں اقلیتوں اور خواتین کے لیے رکھی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSCREENGRAB
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آزادامیدوار انھیں پارٹیوں میں شامل ہوسکتے جو پارلیمنٹ میں موجود ہوں۔
ان تحریری معروضات میں اٹارنی جنرل کی جانب سے مخصوص نشستیں نکالنے کا فارمولا بھی بتایا گیا ہے، جس کے تحت اقلیتوں، خواتین کو نمائندگی اور معاشرے میں اہمیت دینے کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جاتی ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے والی، کم سے کم ایک سیٹ جیتنے والی اور مخصوص نشستوں والی لسٹ مہیا کرنے والی سیاسی جماعتوں کو ہی مخصوص نشستیں مل سکتیں ہیں۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے مطابق آزادامیدوار سنی اتحاد کا حصہ پارلیمنٹ میں نہیں بن سکتے اور سنی اتحاد میں شامل ہونے والے آزاد امیدواروں کی حیثیت پارلیمنٹ میں آزاد امیدوار کی ہی ہو گی۔
ان تحریری معروضات میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کا مخصوص نشستیں مانگنا آئین کے خلاف ہے کیونکہ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے کسی نے حصہ ہی نہیں لیا اور دوسرا یہ کہ الیکشن جیتنے پر ووٹرز کو مخصوص نشستوں کا معلوم نہیں تھا۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نون لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے اپنی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ انتخابات سے قبل جمع کروائی اور ان جماعتوں کو ووٹ دینے والے ووٹرز کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے انتخابات سے قبل معلوم تھا جبکہ اس کے برعکس سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل اپنا مینی فیسٹو عوام کو نہیں دیا۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بیک ڈور سے اسمبلیوں میں داخلے کی سنی اتحاد کو اجازت نہیں دی جا سکتی اور سنی اتحاد کی اپیل منظور ہونے سے جمہوریت کو خطرہ ہوگا اور انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا جائے گا۔
ان تحریری معروضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقلیتوں، خواتین کی مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو ہی ملتی ہیں جو سکروٹنی کے لیے لسٹ مہیا کرتی ہیں اور مخصوص نشستوں کا تعین کرنے کے لیے آزادامیدوار یا انتخابات میں حصہ نہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو بروئے کار نہیں لایا جائے گا۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے تحریری معروضات میں سنی اتحاد کونسل کی اپیل خارج کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔

