یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
27 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی قرارداد کو حقائق سے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد، امید ہے امریکی کانگریس باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
27 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک عدالت نے تین کمسن بہن بھائیوں کا گلا کاٹ کر ہلاک کرنے اور ایک کو زخمی کرنے کے ملزم کو جرم ثابت ہونے پر تین بار سزائے موت کے علاوہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
اس المناک سانحے کی واحد گواہ زندہ بچ جانے والی کمسن بچی تھی جو کہ ہوش میں آنے کے بعد گلا کٹنے کے باعث بول تو نہیں سکتی تھی لیکن اشاروں سے انھوں نے ملزم کو تصویر سے پہچان کر ان کی نشاندہی کی تھی۔
سبی سے تعلق رکھنے والے ملزم محمد اقبال ایک ٹیکسی ڈرائیور تھے۔ بچوں کو سکول تک پک اینڈ ڈراپ دینے کے علاوہ ان کے والدین کو ایسی سہولت دینے کے باعث ان کا گھر کے اندر تک رسائی تھی جس کے باعث بچے ان کو ماموں کہہ کر پکارتے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق ناراضگی کے باعث ملزم بچوں کی والدہ کو جان سے مارنا چاہتے تھے لیکن جب وہ 15مارچ 2021 کی سہہ پہر بدقسمت خاندان کے گھر پہنچا تو بچوں کی والدہ کو گھر میں موجود نہ پاکر چار بچوں کے گلے تیز دھار آلے سے کاٹ دیے۔
اس بدقسمت خاندان کے ساتھ سانحات کا سلسلہ صرف یہاں تک نہیں رکا بلکہ کچھ عرصے قبل بچوں کی والدہ کو سریاب روڈ پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا جس کے الزام میں پولیس نے ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔
مقدمہ عدالت میں تین سال سے زائد کے عرصے تک چلتا رہا۔
مارے جانے والے تین بہن بھائیوں کی شناخت 5 سالہ حسین اللہ، 4 سالہ اقصیٰ اور 3 سالہ زین اللہ جبکہ بچ جانے والی بہن کی عمر 7 سالہ کشمالہ کے نام سے ہوئی تھی۔
تفتیش کے مکمل ہو جانے کے بعد سریاب پولیس نے مقدمے کا چالان سیشن جج سریاب کی عدالت میں جمع کیا تھا۔
عدالت کے جج نجیب اللہ کاکڑ نے ملزم محمد اقبال کو جرم کا مرتک پایا اور ان کو تین مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم سنایا۔
عدالت نے تعزیرات پاکستان کی دیگر دفعات کے تحت ملزم کو مجموعی طور پر 13 سال قید اور جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

،تصویر کا ذریعہScreengrab
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت پر اپنی تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ جمعرات کو اس اپیل کی سماعت کرے گا۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئیں معروضات میں کہا گیا ہے کہ جو سیاسی جماعت انتحابات میں حصہ لے اور کم از کم ایک سیٹ جیتے اسے مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں اور قانون کے مطابق مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہم کرنا ہوتی ہے۔
ان تحریری معروضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ انتحابات میں حصہ لیا نہ مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ جمع کرائی جبکہ مخصوص نشستیں اقلیتوں اور خواتین کے لیے رکھی گئی ہیں۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آزادامیدوار انھیں پارٹیوں میں شامل ہوسکتے جو پارلیمنٹ میں موجود ہوں۔
ان تحریری معروضات میں اٹارنی جنرل کی جانب سے مخصوص نشستیں نکالنے کا فارمولا بھی بتایا گیا ہے، جس کے تحت اقلیتوں، خواتین کو نمائندگی اور معاشرے میں اہمیت دینے کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جاتی ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے والی، کم سے کم ایک سیٹ جیتنے والی اور مخصوص نشستوں والی لسٹ مہیا کرنے والی سیاسی جماعتوں کو ہی مخصوص نشستیں مل سکتیں ہیں۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے مطابق آزادامیدوار سنی اتحاد کا حصہ پارلیمنٹ میں نہیں بن سکتے اور سنی اتحاد میں شامل ہونے والے آزاد امیدواروں کی حیثیت پارلیمنٹ میں آزاد امیدوار کی ہی ہو گی۔
ان تحریری معروضات میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کا مخصوص نشستیں مانگنا آئین کے خلاف ہے کیونکہ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے کسی نے حصہ ہی نہیں لیا اور دوسرا یہ کہ الیکشن جیتنے پر ووٹرز کو مخصوص نشستوں کا معلوم نہیں تھا۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نون لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے اپنی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ انتخابات سے قبل جمع کروائی اور ان جماعتوں کو ووٹ دینے والے ووٹرز کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے انتخابات سے قبل معلوم تھا جبکہ اس کے برعکس سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل اپنا مینی فیسٹو عوام کو نہیں دیا۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بیک ڈور سے اسمبلیوں میں داخلے کی سنی اتحاد کو اجازت نہیں دی جا سکتی اور سنی اتحاد کی اپیل منظور ہونے سے جمہوریت کو خطرہ ہوگا اور انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا جائے گا۔
ان تحریری معروضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقلیتوں، خواتین کی مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو ہی ملتی ہیں جو سکروٹنی کے لیے لسٹ مہیا کرتی ہیں اور مخصوص نشستوں کا تعین کرنے کے لیے آزادامیدوار یا انتخابات میں حصہ نہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو بروئے کار نہیں لایا جائے گا۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے تحریری معروضات میں سنی اتحاد کونسل کی اپیل خارج کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی قرارداد کو حقائق سے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد، امید ہے امریکی کانگریس باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد کی منظوری کا نوٹس لے لیا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان سے سات کے مقابلے میں 368 ووٹوں سے منظور قراراداد میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کے الیکشن میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوام کو جمہوری عمل میں شرکت سے روکنے کے لیے عوام کو دبانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد میں عوام کو جمہوری عمل میں حصہ لینے سے باز رکھنے کے لیے دھمکانے، ہراساں کرنے اور قید میں رکھنے کی بھی مذمت کی گئی ہے جب کہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ و ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کی فراہمی میں تعطل اور انسانی، سول اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے ۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ قرارداد کی منظوری کا وقت اور حالات دوطرفہ تعلقات اور مثبت محرکات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق امریکی نمائندگان کی قرارداد پاکستان میں سیاسی صورتحال اور انتخابی عمل سے نامکمل واقفیت کا نتیجہ ہے۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت اور مجموعی طور پر پانچویں سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کے مطابق آئین پر عملداری، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اقدار کا پابند ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم تعمیری بات چیت اور مشغولیت پر یقین رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTV_SCREEN GRAB
وزیراعظم شہباز شریف کی تحریک انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش پر پاکستان تحریک انصاف نے بھی اپنی شرائط سامنے رکھ دیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے وزیراعظم کی پیشکش پر اپنے خطاب میں شرائط دہرائیں اور کہا عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو ایک بار پھر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ملک کی خوشحالی اور بہتری کے لیے اور اسے آگے لے جانے کے لیے بات چیت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا ’میں فارم 47 کے وزیراعظم کو کہنا چاہتا ہوں کہ بات تب ہو گی جب میرا وزیراعظم باہر آئے گا، بات تب ہو گی جب میرے قیدی باہر آئیں گے، یہ ہاؤس اس وقت چل سکے گا جب ہمارا احترام ہو گا۔‘
عمر ایوب نے کہا کہ ’مفاہمت تب ہو گی جب آپ یاسمین راشد، محمود الرشید کے ساتھ زیادتی کا احساس کریں گے، مفاہمت تک ہو گی جب آپ حسان نیازی کے ساتھ زیادتی کا احساس کریں گے۔‘
عمر ایوب نے کہا کہ ’انھوں (شہباز شریف) نے والدہ محترمہ کے جنازے کا ذکر کیا، ہم کلثوم نواز کے جنازے میں شریک ہوئے، میں اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکا۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@ZARTAJGULWAZIR
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں لکھا کہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے رپورٹ جمع کرائی ہے جس کے مطابق زرتاج گل کا نام محکمہ داخلہ پنجاب کے 16 مئی کے لیٹر پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔
اس کے مطابق نو مئی اور بارہ مئی کو ڈی جی خان میں درج مقدمات میں نامزد ہونے پر نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔
تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ زرتاج گل کے وکیل کی جانب سے ریکارڈ پیش کیا گیا، جس کے مطابق دونوں مقدمات میں زرتاج گل کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔ زرتاج کسی بھی مقدمہ میں مفرور یا اشتہاری نہیں بلکہ مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ایسی کوئی وجہ یا جواز نہیں کہ زرتاج گل کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کنٹرول پٹیشنر کا نام پی سی ایل سے نکال کر عملدرآمد رپورٹ ایک ہفتہ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے پاس جمع کرائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو ایک بار پھر حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنی مذاکرات کی پیشکش کو ایک بار پھر دہراتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’میں ان (تحریک انصاف اور عمران خان) کی خدمت میں یہ عرض کروں گا، آئیں بیٹھیں، ملک کی خوشحالی کے لیے، پاکستان کی بہتری کے لیے، ملک کو آگے لے جانے کے لیے، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’آج اگر ان کے بانی (عمران خان) کو جیل میں کچھ مشکلات ہیں، مصائب ہیں، آئیں بیٹھ کر بات کریں، بیٹھ کر معاملات کو طے کریں۔‘
شہباز شریف نے ایوان میں اپنے خطاب میں کہا ’میں نے اپنی پہلی تقریر میں یہ درخواست کی کہ آئیں چارٹر آف اکانومی پر اتفاق کرتے ہیں۔ جناب سپیکر حقارت سے میری اس پیشکش کو ٹھکرایا گیا بلکہ جو اس ایوان میں نعرے بلند ہوئے وہ تاریخ میں ہمیشہ سیاہ باب میں یاد رکھے جائیں گے۔‘
اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے تو یقیناً انصاف کا پلڑا ہر وقت بھاری رہنا چاہیے، چاہے کوئی سیاسی رہنما ہے یا زندگی کے کسی بھی شعبے سے اس کا تعلق ہے۔
اگلے سال میں نے دوبارہ اپنی پیشکش دہرائی کہ آئیں دوبارہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ پھر ایسے نعرے بلند ہوئے، جن کا ذکر کرنا اس ایوان کی توہین ہے۔
ان کے مطابق ’آج تلخیاں جس حد تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ آج 76 سال بعد ہم ایسی جگہ پر پہنچے ہیں کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی ہم جھجھکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس اسمبلی میں ماضی میں بھی بہت تنقید ہوتی تھی، مخالفت میں باتیں ہوتی تھیں مگر سیاست دان ایک دوسرے کے دکھ اور تکلیف میں شریک ہوتے تھے۔
آزاد حیثیت میں سینیٹر منتخب ہونے والے فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔
فیصل واوڈا نے عدالت میں شوکاز کا نیا جواب جمع کراتے ہوئے غیر مشروط معافی ہے۔ انھوں نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ خود کو سپریم کورٹ کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے، میری پریس کانفرنس سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا تو غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا۔
فیصل واوڈا نے مؤقف اپنایا کہ عدلیہ کا مکمل احترام کرتا ہوں، پانچ جون کی عدالتی کارروائی کے بعد مذہبی سکالرز سے ملاقات کی، مذہبی سکالرز سے پوچھا کہ ایک سینیٹر کا کردار کیا ہونا چاہیے، مجھے رائے دی گئی کہ انصاف کے ساتھ کھڑے رہیں، چاہے یہ بات آپ کے اقربا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
فیصل وواڈا کے جواب میں قرآن و احادیث کے حوالہ جات بھی دیے گئے اور کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صدق دل سے غیرمشروط معافی مانگتا ہوں، قرآن پاک کی تلاوت کے بعد انتہائی متاثر ہوا ہوں۔
سابق وزیر نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تجویز دی کہ معاملہ انا کا نہیں، احساس ہوگیا ہے کہ معاشرے میں عدلیہ کی اچھی ساکھ برقرار رکھنا ضروری ہے لہٰذا سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ توہین عدالت میں جاری کردہ شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی موجود نہیں، جس کا نتیجہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ایکس پر عمران خان کے اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ایس آئی، جس نے ملک کو دہشتگردی سے بچانا تھا، اسے پی ٹی آئی کو کچنے پر لگا دیا گیا۔‘
پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ اور ملک میں امن و امان قائم کرنا پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی کا اہم حصہ رہا۔‘
’پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دہشتگردی میں واضح کمی دیکھی گئی۔ ہم نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا جس سے صوبے اور ملک بھر میں دہشتگردی میں واضح کمی دیکھی گئی۔‘
’خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ہم نے افغانستانن میں اشرف غنی حکومت سے مذاکرات کیے، انھیں پاکستان آنے کی دعوت دی اور ذاتی طور پر افغانستان کا دورہ کیا تاکہ امن قائم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘
عمران خان کے پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ ’افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ملک میں خانہ جنگی کا خدشہ تھا جس سے محتاط انداز میں نمٹا گیا۔‘
’اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے نئی افغان حکومت سے تعلقات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خطے کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میری حکومت نے ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جنرل باجوہ کو اس بارے میں ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ جنرل باجوہ نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل نہیں کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل کیا گیا جس کی وجوہات بعد میں سامنے آئیں: جنرل باجوہ اور نواز شریف کے درمیان ڈیل جس میں جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع شامل تھی۔‘
ایکس پر جاری پیغام میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ’بعد میں ہونے والے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ جنرل باجوہ کے ذاتی مقصد کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی سابق وزیر زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔
سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جبکہ زرتاج گل اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوئیں۔
دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ زرتاج گل پر کون کون سے کیس ہیں؟ جس پر وکیل اسامہ طارق نے بتایا کہ زرتاج گل پر دو کیس ہیں اور دونوں مقدمات میں ضمانت ہے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ ’ایک سیاسی رہنما ریلی نکالتا ہے تو اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے، میں آئی جی کو بلا کر اس بارے میں پوچھوں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دہشت گردوں کا نام تو ای سی ایل میں نہیں ڈالا جاتا لیکن رکن قومی اسمبلی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ہیں۔‘
عدالت نے زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کا بیانیہ ملک کو غیر مستحکم کرنا اور افراتفری پھیلانا ہے، اس لیے ’حکومت کی کوشش ہو گی کہ انھیں جتنی دیر بھی ہو پابند رکھا جائے۔‘
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے الزام لگایا کہ عمران خان کا ایجنڈا ملک میں افراتفری اور فتنہ پھیلانا ہے اور ملک کے بہتری اسی میں ہے کہ عمران خان کو پابند رکھا جائے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف جائز اور قانونی ذرائع سے جو کیس بنتے ہیں وہ ضرور بنیں گے۔
پروگرام اینکر شاہزیب خانزادہ کے اس سوال پر کہ آٹھ فروری کو مینڈیٹ تو عمران خان کو ملا، آپ کسی کو زبردستی تو جیل میں نہیں رکھ سکتے، کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا ’ہم زبردستی نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق عمران خان کو اندر رکھیں گے۔ اس سے پہلے بھی جو مقدمات ان کے خلاف بنے وہ آئین و قانون کے مطابق بنے جبکہ سزائیں بھی عدالت سے ہی ہوئی ہیں۔‘
رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ جب عدم استحکام کا ووٹ ہوا، تو عمران خان کی جماعت نے پارلیمان کا بائیکاٹ کیا۔
’انھوں نے استعفیٰ دیا، لانگ مارچ کیا، لانگ مارچ ناکام ہوا تو اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کیا، اس سے بات نہیں بنی تو حکومت توڑنے کی کوشش کی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ووٹ ہمیں بھی ملا، مینڈیٹ ہمیں بھی ملا لیکن کسی کو ملک کو نقصان پہنچانے اور افراتفری کا مینڈیٹ نہیں ملا۔ اگر کوئی مینڈیٹ حاصل کر کے ایسا کام کرتا ہے تو وہ اس مینڈیٹ کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘
’عمران خان نے اس سے پہلے بھی نو مئی کے واقعات، لانگ مارچ اور عدلیہ پر حملے کے ذریعے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ضلع قلات کے علاقے اسکلکو میں سکیورٹی فورسز پر حملے میں ایف سی کے دو جوان ہلاک ہوئے ہیں۔
انھوں نے فون پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ حملہ آوروں کا مقصد ایف سی کے اہلکاروں کو یرغمال بنانا تھا تاہم اسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ کالعدم عسکریت پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ پہلے ایک حملہ ضلع قلات کے علاقے خالق آباد میں بھی سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد قریب 40 سے 50 حملہ آوروں نے دوسرا حملہ اسکلکو میں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے گیس ایکسپلوریشن کا کام کیا تھا اور دو سال قبل پی پی ایل کے لوگ اس علاقے سے چلے گئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ اس علاقے کی سکیورٹی کے لیے ایف سی کی دو پوسٹیں تھیں جن میں 20 کے قریب اہلکار تعینات تھے۔
اہلکاروں کو ’یرغمال بنانے کی کوشش‘
بلوچستان کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے گذشتہ شب اس علاقے میں حملہ کیا تاکہ ان اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے جائیں۔
ان کے مطابق وہ گذشتہ رات سے ہی صورتحال مانیٹر کر رہے ہیں جس دوران قلات کی پولیس اور لیویز فورس کو علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف متحرک کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف سی، پولیس اور لیویز فورس کے اہلکاروں نے بہادری سے حملہ آوروں کا مقابلہ کر کے 18 اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی کوشش ناکام بنائی۔
اسکلکو قلات شہر کے مشرق میں اندازاً 13 سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ضلع قلات میں سب سے ٹھنڈے علاقے ہربوئی کا حصہ ہے۔
علاقے میں پی پی ایل نے گیس ایکسپلوریشن کا کام کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس کے مطابق پشاور کے مصافات میں بڈھ بیر کے علاقے میں بابا باغ میں منگل کے روز ذاتی تنازع پر دو حملہ آوروں نے گھر میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوا۔
ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کے مطابق حملہ آوروں نے جدید اسلحہ کی مدد سے گھر کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی۔
تاحال اس واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعے جائداد کا تنازعہ لگ رہا ہے۔
ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار نے بتایا کہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے اور اس کی تفتیش مختلف زاویوں سے کی جا رہی ہے اور اس کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس افسوس ناک واقعے کے بعد سے مقتولین کے خاندان کے افراد صدمے کی حالت میں ہیں جس کی وجہ سے ابھی وضاحت سے کُچھ نہیں کہا جا سکتا۔
اس افسوس ناک واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لعشوں کو پوسٹمارٹم اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلتستان حکومت نے شندور پولو فیسٹیول کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر انتہائی مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان حکومت نے ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو ناراضگی کا مراسلہ ارسال کیا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے ڈپٹت کمشنر چترال کو بھیجے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ہمارے اضلاع، غذر اور اپر چترال اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشترکہ کوشش ہے۔ یہ تقریب ہمارے ثقافتی ورثے کا سنگ بنیاد ہے اور ہمارے اضلاع کی دوستی اور تعاون کی علامت ہے۔‘
محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا نے موسم کی خرابی کے باعث شندور میلہ ملتوی کیا۔
گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چترال کو بھیجہ جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے شندور میں ہونے والے فیسٹیول کی تیاریوں کے لیے کافی وسائل اور کوششیں کی تھیں اور اس تقریب کے ملتوی ہونے سے نہ صرف وسائل ضائع ہوں گے بلکہ ہزاروں شائقین اور شرکا کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا جو تقریب کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔‘
گلگت بلتستان حکومت نے کہا ہے کہ ’ہمیں اُمید ہے کہ ہم ایک ایسا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں جو ہمارے اضلاع کے ثقافتی ورثے اور دوستی کے لیے ہماری باہمی وابستگی کا احترام کا باعث بنیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGOP
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے ویژن کے لیے عزم استحکام ہے، یہ کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوا۔
گزشتہ ہفتے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں آپریشن ’عزم استحکام‘ کی منظوری دی گئی تھی۔
اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اہم وزرا بشمول نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے شرکت کی۔
تمام صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، سروسز چیفس، صوبوں کے چیف سیکریٹریز کے علاوہ دیگر سینئر سویلین، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ فورم نے انسداد دہشت گردی کی جاری مہم کا جامع جائزہ لیا اور داخلی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا، نیشنل ایکشن پلان کے ملٹی ڈومین اصولوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر اس پر عمل درآمد میں خامیوں کی نشاندہی کرنے پر زور دیا گیا تاکہ ان کو اولین ترجیح میں دور کیا جا سکے۔
اجلاس میں مکمل قومی اتفاق رائے اور نظام کے وسیع ہم آہنگی پر قائم ہونے والی انسداد دہشت گردی کی ایک جامع اور نئی جاندار حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے قومی عزم کی علامت، صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے آپریشن ’عزم استحکام‘ کے آغاز کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی قومی مہم کو دوبارہ متحرک کرنے کی منظوری دی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق یہ آپریشن ایک جامع اور فیصلہ کن انداز میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوششوں کے متعدد خطوط کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ایوکیو ٹرسٹ بورڈ چئیرمین کی تعیناتی کی تجویز واپس کردی، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جو نام دیے گئے ہیں، پہلے ان کی شہرت چیک کی جائے۔
اجلاس میں فریکنسی ایلوکیشن بورڈ کے ایگزیٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی منظوری دی گئی جب کہ وفاقی کابینہ نے ای سی سی، سی سی ایل سی کے فیصلوں کی توثیق کی، اس کے علاوہ ایس او ای کی کیبنٹ کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی گئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ ’عام آدمی کی قابلِ تجدید شمسی توانائی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی۔ کم لاگت قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے۔ معیشت کو مثبت سمت پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کررہے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’عام آدمی کے معاشی تحفظ اور اُسے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘
کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے وژن عزم استحکام کے حوالے سے گردش کررہیغلط فہمیوں اور قیاس آرائیوں کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیا۔
وزیر اعظم کی جانب سے وزرا کو یہ ہدایات جاری کی گئیں کے پارلیمان میں بجٹ 2024-25 بحث کے دوران اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔
اجلاس کو ریاستی اداروں کی نجکاری بالخصوص پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کر رہی ہیں۔ پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔ وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور اس میں شفافیت کے عنصر کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش اور اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت دے دی۔ یہ خصوصی اجازت حکومت پاکستان کی جانب سے صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی کی برآمد کے فیصلے کے بارے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اس حوالے سے شوگر ایڈوائزی بورڈ و متعلقہ اداروں نے آئندہ کرشنگ شروع ہونے سے پہلے کی کھپت اور اضافی چینی کے ذخائر کا تخمینہ لگا کر باقی ماندہ میں سے قلیل مقدار میں چینی کی برآمد کی منظوری دی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر واضح ہدایت جاری کی کہ چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی جو چینی کی قیمت پر نظر رکھے گی اور اگر چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کا اندیشہ ہوا تو اسکی مزید برآمد کو روک دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں سابق وزیر اعظم خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جسے 27 جون کو سنایا جائے گا۔ جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے برد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
واضح رہے کہ عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سول جج قدرت اللہ نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور اُن کے اہلیہ بشری بی بی کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج کو 10 ورکنگ ڈیز میں سزا معطلی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ کرنے اور اس فیصلے کے خلاف اپیلوں پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPTV
سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے مقدمے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر خواتین یا اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی گئی تو اس اثرات ہوں گے۔
سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تیرہ رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا ہے اور وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہو گئی ہے اور معطل ارکان اسمبلی کے وکیل مخدوم علی خان دلائل دے رہے ہیں۔
مخدوم علی خان کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل کے دوران کہا کہ ’جس سیاسی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ ہی نہیں تو الیکٹوریٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔
جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’ایک سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی شامل نہیں تو اقلیتوں کے لسٹ نہیں دی جائے گی۔ اگر خواتین یا اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی گئی تو اثرات تو ہوں گے۔ اگر پرائز بانڈ خریدا ہی نہیں تو پرائز بانڈ نکل کیسے آئے گا، خریدنا تو ضروری ہے نا۔‘
اس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ ’سنی اتحاد کونسل کا یہ کیس ہی نہیں کسی دبائو کے تحت انھیں الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا۔ اپیل میں یہ موقف نہیں لیا گیا کہ انتخابات نہ لڑنے کا دبائو تھا۔‘
اس پر سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’عوام کے حقوق کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ ہمیں درخواست گزاروں نے بتایا کہ اہم درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔‘
تحریک انصاف کی اتحادی جماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل مخدوم علی خان نے جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’درخواستیں کیوں زیرِ التوا ہیں؟ اس کا جواب عدالت دے، وکیل تو نہیں دے سکتا۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ میں آڈیو لیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ٹیلی کام کمپنیاں بغیر کسی سکروٹنی کے شہریوں کا ڈیٹا دے رہی ہیں تو وہ برابر کی ذمہ دار ہیں۔
منگل کے دن آڈیو لیکس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی جس میں ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے۔
جسٹس بابر ستار نے سوال اٹھایا کہ جو ڈیٹا لیا جا رہا ہوتا ہے اُس سے متعلق نجی ٹیلی کام کمپنی کو معلوم ہوتا ہے؟
اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس سے متعلق کچھ پتا نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط و کتابت ریکارڈ پر لانی ہے۔
وکیل نے بتایا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا، بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے تاہم ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ مجاز ایجنسیز ٹیلی کام کمپنی کے تمام صارفین کا دو فیصد ڈیٹا بیک وقت حاصل کر سکتی ہیں۔
جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ پورے ملک کے ٹیلی کام آپریٹرز کے صارفین کا دو فیصد ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے؟ آپ خرچ اٹھاتے ہیں، سسٹم لگا کر دیتے ہیں تو آپ کیسے ذمہ دار نہیں؟
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت دینے کا کوئی قانون موجود نہیں، کوئی میکنزم فراہم نہیں کیا گیا تو جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیرقانونی ہے۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ٹیلی کام کمپنیاں بغیر کسی سکروٹنی کے شہریوں کا ڈیٹا دے رہی ہیں تو وہ برابر کی ذمہ دار ہیں۔
جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے چیئرمین اور بورڈ ممبرز کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کروں گا، پی ٹی اے نے عدالت کو کہا کہ انھوں نے فون ٹیپنگ کی کسی کو اجازت ہی نہیں دی۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی اے کے کہنے پر ہی ٹیلی کام آپریٹرز نے پورا سسٹم لگا کر دیا ہوا ہے۔
بعد میں آڈیو لیکس کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی جبکہ آئندہ تاریخ پر منگل کی سماعت تحریری آرڈر میں دی جائے گی۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کے کوئی سیاسی عزائم نہیں بلکہ اس سے چند ماہ سے دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کیا جائے گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی کوئی رٹ قائم نہیں ہوئی اور آپریشن عزم استحکام کا ماضی کے آپریشنز کے ساتھ موازنہ درست نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں بھی دہشتگردی کے خلاف آپریشن ہوئے اور آپریشن عزم استحکام بھی دہشتگردوں کے خلاف کیا جائے گا تاہم ماضی اور اب کی صورتحال میں ایک بنیادی فرق ہے۔‘
’اس وقت سوات اور فاٹا سیمت کئی قبائلی اضلاع میں دہشتگردوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ پورے پورے علاقے نو گو ایریا بن چکے تھے لیکن اب صورتحال ایسی نہیں۔ بلوچستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے صرف کچھ علاقوں میں رات کے وقت بی ایل اے والے کارروائی کرتے ہیں۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی، جے یو آئی اور اے این پی نے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کی تشویش کو دور کیا جائے گا اور پارلیمان میں اس پر بحث کی جائے گی۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ایپکس کمیٹی میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ موجود تھ، اور کسی نے اس آپریشن کی مخالفت نہیں کی۔
’وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایپکس کمیٹی میں کوئی اختلاف نہیں کیا بلکہ دبے الفاظ میں آپریشن کی حمایت کی۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ اس آپریشن کی کامیابی کے لیے تمام تر اداروں کو اسے سپورٹ کرنا ہو گاۓ
’عدلیہ اور میڈیا اگر قومی سلامتی کی اس کوشش کو سپورٹ نہیں کریں گے، تو یہ موثر ثابت نہیں ہو گا۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی ڈیل ہوئی نہ ہی مذاکرات ہوئے ہیں۔
گذشتہ روز ایک بیان میں چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ ’جیل سے نکلنے کے بعد میں نے جو بات کی تھی، میرا آج بھی وہی موقف ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب تو ایک سال سے زیادہ ہو گیا، ڈیل کر کے آنا ہوتا تو پہلے ہی باہر آ جاتا۔ جیل میں شجاعت اور ان کی فیملی ملنے آتے رہے اور اگر ڈیل کرنی ہوتی تو میں تب ہی کر لیتا۔‘
پرویز الٰہی نے کہا کہ ’ق لیگ کے کسی رہنما سے میری کوئی بات یا میٹنگ نہیں ہوئی، میرے متعلق ہر جگہ غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں پہلے بھی عمران خان کے ساتھ تھا اور آج بھی ہوں اور انشاء اللہ کل بھی ان کے ساتھ رہوں گا۔‘