دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد قطری وزیراعظم کی نیویارک میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات

قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر کے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ کی منظوری دی ہے۔

خلاصہ

  • صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور انڈیا کے لیے نامزد امریکی سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ انڈیا کو روس سے تیل خریدنے سے روکنا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔
  • امریکہ کے قدامت پسند کارکن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک بدھ کے روز یوٹاہ میں ایک تقریب کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ حکام نے جلال پور پیروالا شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے ملتان، اوچ شریف روڈ پر واقع گیلانی بند میں شگاف ڈال دیا
  • قطری حکام کا کہنا ہے کہ وہ دوحہ میں اسرائیلی حملے کے بعد تاحال دو لاپتا افراد کی تلاش اور ہلاک ہونے والوں کی باقیات سے ان کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

لائیو کوریج

  1. ’مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ’ڈھٹائی‘ سے جاری جارحیت کو روکنا ہوگا‘، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیر اعظم شہباز شریف نے قطر کی قیادت کو اسرائیل کی بلا جواز اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی طرف سے مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ڈھٹائی سے جاری جارحیت کو روکنا ہوگا۔

    جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے دوحہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کے تناظر میں قطر کی قیادت اور عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے قطر کا ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی۔

    جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے نو ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی پاکستان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام کو قطر کے خلاف اس حملے پر سخت تشویش ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ’دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، بھائی چارے کے اس جذبے کے تحت پاکستان اس مشکل وقت میں امیر قطر، شاہی خاندان اور قطر کے برادر عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہے۔‘

    انھوں نے قطری قیادت کو اس بلا جواز اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا۔

    شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ’مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ڈھٹائی سے جاری جارحیت کو روکنا ہوگا اور امت کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔‘

    وزیراعظم نے غزہ میں قیام امن کی کوششوں میں قطر کے ’ذمہ دارانہ و تعمیری‘ ثالثی کے کردار کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی جارحیت کی ایسی کارروائیوں کا مقصد واضح طور پر علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا اور جاری سفارتی اور انسانی کوششوں کو خطرہ ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ قطر کی درخواست پر پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیشرفت پر بات کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔

    انھوں نے 15 ستمبر کو غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے قطر کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان نے او آئی سی کو اس سربراہی اجلاس کے شریک سپانسر اور شریک انعقاد کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے رواں سال کے آغاز میں انڈیا کی پاکستان پر بلاجواز جارحیت کے دوران پاکستان کے لیے قطر کی بھرپور حمایت پر امیر قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ امیر قطر نے اظہار یکجہتی کے لیے دوحہ کا دورہ کرنے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن کو فروغ دینے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  2. بلوچستان کے ضلع خاران میں مسلح افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک: پولیس

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ چار افراد کو اغوا کرلیا گیا تھا۔

    رخشاں ڈویژن کے ایک سینیئر پولیس افسر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ خاران کے علاقے لجے میں پیش آیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ شب اس علاقے میں مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد آئی تھی جنھوں نے وہاں ایک گھر میں چار افراد کو شناخت کرنے کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

    سینیئر پولیس افسر، جنھیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں، نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد آپس میں بھائی اور کزنز تھے۔

    ’مسلح افراد نے چاروں افراد پر بے تحاشہ گولیاں چلائی جس کی وجہ سے ان کی لاشیں اچھی حالت میں نہیں تھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد چار افراد کو اغوا کر کے پہاڑوں کی جانب لے گئے، تاہم کئی گھنٹوں بعد انھیں آزاد کر دیا گیا۔

    پولیس آفیسر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم ابتدائی شواہد کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔

  3. پاکستان میں سیلاب اور حالیہ بارشوں میں 900 افراد ہلاک، پنجاب میں 24 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات منتقل کیا گیا: حکام

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حیدر ملک کا کہنا ہے کہ ملک میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ریسکیو آپریشنز تاحال جاری ہیں اور اب تک پنجاب میں 24 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے۔

    ایک بریفنگ کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ 16 سے 18 ستمبر کے دوران وسطی پنجاب اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بارشوں کا امکان ہے اور درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے گلیشیئرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

    بریفنگ کے دوران وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کا کہنا تھا کہ ملک میں حالیہ سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق سندھ میں سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی انتظامات کیے گئے ہیں۔

  4. نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرِثانی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    ظاہر جعفر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے نور مقدم کیس میں سزائے موت کے خلاف مجرم ظاہر جعفر کی نظرِثانی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل سپریم کورٹ کا بینچ جمعہ 12 ستمبر کو نظرِثانی کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

    خیال رہے اسلام آباد کی مقامی عدالت نے فروری 2022 میں نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سُنائی تھی جس کے خلاف مجرم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارچ 2023 میں ظاہر جعفر کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔

    اس کے بعد ظاہر جعفر نے اپنی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، لیکن رواں برس مئی میں جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے بھی ان کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔

    سپریم کورٹ میں مجرم کے وکیل سلمان صفدر نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے سزا سناتے وقت ملزم کی ذہنی کیفیت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ نہیں تشکیل دیا تھا، لہٰذا سزائے موت کو معطل کر کے مقدمے کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کے وکیل کی یہ استدعا مسترد کر دی تھی۔

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ظاہر جعفر کی نظرثانی کی درخواست مسترد ہونے کی صورت میں مجرم کے پاس آخری قانونی راستہ صدر مملکت کے پاس رحم کی اپیل کرنا ہی باقی رہ جائے گا۔

    رحم کی اپیل مسترد ہونے کی صورت میں مجرم کودی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا جائے گا۔

    تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اگر مقتولہ کے ورثا چاہیں تو مجرم کو کسی بھی وقت معاف کرسکتے ہیں۔

  5. قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد زندگی معمول پر لوٹ آئی لیکن شہری اب بھی پریشان کیوں؟, نفیسہ کوهنورد، نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    قطر

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے بعد زندگی معمول پر آ گئی ہے۔

    کیفے اور ریستوران دیر رات تک کھلے رہتے ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی نظر آ رہا ہے۔ شہر کے ساحل پر چھوٹی کشتیوں کو سیاحوں کو سمندر میں لے جاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کشتیوں میں سیاحوں کا دِل لبھانے کے لیے عربی اور انڈین گانے بھی بجتے ہوئے سُنائی دیے۔

    لیکن اس سب کے باوجود بھی قطر کی سڑکوںپر اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والے دھماکوں کی بات کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس کے رہنما قطر میں موجود رہتے ہیں تو ان پر حملے دوبارہ بھی ہو سکتے ہیں۔

    یہ قطر میں ہونے والا پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل ایران بھی رواں برس جون میں وہاں امریکی العدید ایئربیس پر میزائل حملہ کر چکا ہے۔

    جس ہوٹل میں ہمیں قیام کر رہے ہیں وہ حملے کے مقام سے زیادہ دور نہیں ہے اور یہاں غیر ملکی سیاح ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان غیرملکیوں میں بڑی تعداد غیر ملکی سفارتکاروں کی ہے جو قریبی اسلامی ممالک سے یہاں آئے ہیں۔

    اس ہوٹل کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ انھیں ڈر ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایسے مزید حملے بھی ہو سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ملک میں منفی تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سیاح اور سرمایہ کار ایسے مقامات پر جانا پسند کرتے ہیں جو کہ محفوظ ہو۔ ذرا سے عدم استحکام کی صورت میں وہ اپنا سامان سمیٹتے ہیں اور پلک جھپکتے ہیں کہیں اور چلے جاتے ہیں۔‘

  6. پاکستانی وزیرِ اعظم کی قطر کے امیر سے ملاقات: ’مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی جارحیت کو روکنا ہوگا‘

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPakistan PM's Office

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کے دوران دوحہ میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امت کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف جمعرات کو قطری امیر سے ملاقات کے لیے دوحہ پہنچے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق شہباز شریف نے اسرائیلی حملے کو ’قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔‘

    بیان کے مطابق شہباز شریف نے قطری قیادت کو ’اس بلاجواز اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا ہے۔‘

    خیال رہے منگل کو اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے مذاکرات کاروں کو ایک حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کے مذاکرات کار محفوظ رہے ہیں، تاہم مسلح تنظیم کی جانب سے پانچ دیگر اراکین کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے اسرائیلی حملے کو ’ریاستی دہشتگردی‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری طرف اسرائیلی وزیرِ اعظم اس حملے کو درست قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے ملک کی جانب سے ’دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی ڈھٹائی سے جاری جارحیت کو روکنا ہوگا اور امت کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔‘

    پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق قطر کے امیر نے اظہار یکجہتی کے لیے دوحہ کا دورہ کرنے کے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

  7. ضلعی انتظامیہ کا گیلانی بند میں شگاف ڈال کر جلال پور پیروالا میں ’پانچ لاکھ آبادی کو محفوظ‘ بنانے کا دعویٰ، شہر میں پانی کا دباؤ کم ہونا شروع, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو لاہور

    جلال پور پیروالا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں حکام نے جلال پور پیروالا شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے ملتان، اوچ شریف روڈ پر واقع گیلانی بند میں شگاف ڈال دیا ہے۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اس بند کو دھماکے سے نہیں اُڑایا گیا بلکہ اس میں شگاف ’مکینکل طریقے‘ سے ڈالا گیا ہے۔

    علاقے کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس بند میں شگاف ڈال کر جلال پور پیر والا شہر میں پانچ لاکھ لوگوں کی آبادی کو بچایا گیا ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ گیلانی بند میں شگاف ڈالنے کے بعد سیلابی پانی بہادر پور شمالی، بہادر پور جنوبی اور بستی لانگ کی طرف جائے گا۔ اس کے علاوہ موضع کنہوں، بستی صبیرہ اور کنڈیر کے زرعی علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوں گے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق سیلابی پانی جن علاقوں میں جا رہا ہے وہاں تقریباً 80 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا اور اسی خدشے کے سبب ان افراد کو ان علاقوں سے نکال لیا گیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ گیلانی بند میں شگاف ڈالنے سے جلال پور پیر والا میں پانی کا دباؤ کم ہونا شروع ہوگیا ہے۔

  8. ’میں بہت خوف زدہ ہوں‘: قطر میں اسرائیلی حملے کے بعد بی بی سی نے دوحہ میں کیا دیکھا؟, اورلا گوئرن، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منگل کو اسرائیلی حملے کے بعد زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے، شاہراہوں پر ٹریفک رواں دواں ہے اور بُلند و بالا عمارتیں بھی سورج کی روشنی میں چمک رہی ہیں۔

    لیکن اب مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور ایک سوال تواتر سے سامنے آ رہا ہے: اسرائیل حماس کے تعاقب میں کتنی ریڈلائنز عبور کرے گا؟

    اس سے پہلے یہی قیاس کیا جاتا تھا قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا ایک ایسی ریڈلائن ہے جسے اسرائیل کبھی پار نہیں کرے گا، لیکن اب ایسا بھی ہوچکا ہے۔

    اس حملے بعد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے امکانات بھی مانند پڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    منگل کو دوحہ میں جس علاقے میں اسرائیلی حملہ دیکھا گیا تھا وہاں وسیع و عریض مکانات، کوٹھیاں اور کچھ غیر ملکی سفارتخانے واقع ہیں۔

    یہاں واقع جس عمارت میں حماس کے مذاکرات کار جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز پر بات چیت کرنے کے لیے ملے تھے اس کی دیوار میں ایک بڑا سا سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔

    جب ہم اس مقام سے ڈرائیو کرتے ہوئے گزرے تو ہمیں اس عمارت کی ہلکی سے جھلک نظر آئی، ہم اس عمارے کے قریب نہیں جا سکے کیونکہ وہاں پولیس موجود تھی۔

    قریب ہی موجود ایک حمام پر ہماری ملاقات ایک 42 سالہ شخص سے ہوئی جو نہیں چاہتے کہ ان کی شناخت ظاہر کی جائے۔ جب وہ اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کر رہے تھے تو ان کے چہرے پر خوف عیاں تھا۔

    انھوں نے مجھے بتایا کہ ’دھماکے کی آواز اتنی تیز تھی کہ میرے دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی، مجھے لگا کہ دنیا ختم ہونے والی ہے۔‘

    ’میں نے پانچ راکٹوں کی آواز سُنی اور دیگر لوگوں کی طرح وہاں سے بھاگ گیا۔‘

    حماس کا کہنا ہے کہ اس کے مذاکرات کار اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ میں نے 42 سالہ شخص سے سوال کیا کہ انھیں کسی دوسرے اسرائیلی حملے کا ڈر ہے؟ انھوں نے ہلکی آواز میں جواب دیا ’میں بہت خوف زدہ ہوں۔‘

    منگل کو حماس کی جانب سے دوحہ میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کے نام جاری کیے گئے تھے، جن میں خیلل الحیہ کے بیٹے حمام، ان کے آفس مینیجر جہاد لباد اور باڈی گارڈز مومن، عبدالواحد اور احمد المملوک شامل تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ دوحہ میں حملہ ایک درست عمل تھا کیونکہ اس میں ’دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈز‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اسرائیلی حملے پر بات کرتے ہوئے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا قطر پر حملہ ’ریاستی دہشتگردی‘ تھا اور انھیں امید ہے کہ قطر کے علاقائی شراکت دار اس پر ایک ’مجموعی ردِ عمل‘ دینے پر اتفاق کریں گے۔

  9. قطر میں اسرائیلی حملے کے بعد دو ’لاپتا افراد‘ کی تلاش تاحال جاری, ڈیوڈ گریٹن

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطری حکام کا کہنا ہے کہ وہ دوحہ میں اسرائیلی حملے کے بعد تاحال دو لاپتا افراد کی تلاش اور ہلاک ہونے والوں کی باقیات سے ان کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    خیال رہے منگل کو اسرائیل نے قطری دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سینیئر رہنماؤں کو ایک حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان کے ملک کے فوجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ انھیں اس متنازع حملے میں کامیابی نہیں ملی۔

    قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق انھوں نے حماس کے پانچ نسبتاً جونیئر اراکین میں سے تین کی شناخت کرلی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ ان اراکین کے ساتھ قطر کے ایک سکیورٹی افسر بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    حماس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسرائیل ان کی مذاکراتی ٹیم کو ہدف بنانے میں ناکام ہوا ہے۔

    قطری وزیرِ اعظم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطری وزیرِ اعظم نے حماس کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ خلیل الحیہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

    محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے بدھ کو اس انٹرویو میں حماس رہنما کے بارے میں کہا: ’اب تک ان کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا قطر پر حملہ ’ریاستی دہشتگردی‘ تھا اور انھیں امید ہے کہ قطر کے علاقائی شراکت دار اس پر ایک ’مجموعی ردِ عمل‘ دینے پر اتفاق کریں گے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ دوحہ میں حملہ ایک درست عمل تھا کیونکہ اس میں ’دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈز‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    منگل کو حماس کی جانب سے دوحہ میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کے نام جاری کیے گئے تھے، جن میں خیلل الحیہ کے بیٹے حمام، ان کے آفس مینیجر جہاد لباد اور باڈی گارڈز مومن، عبدالواحد اور احمد المملوک شامل تھے۔

    حماس کا مزید کہنا تھا کہ: ’ہم تصدیق کرتے ہیں کہ دشمن ہمارے مذاکراتی وفد کو ہلاک کرنے میں ناکام ہوا ہے۔‘

    اس کے بعد بدھ کی شام کو قطر کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی کہ مرنے والوں میں قطر کی سکیورٹی فورس کے افسر کورپورل بدر الحمیدی بھی شامل تھے۔

    قطری حکام کا کہنا ہے کہ ان کی خصوصی ٹیمیں ’لاپتا ہونے والے دو افراد‘ کو تلاش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ متعدد مقامات پر بھی ’انسانی باقیات‘ ملی ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی نے حماس کے رہنماؤں کو قطر میں اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہاں انھیں ’محفوظ پناہ گاہ‘ دی جا رہی تھی۔

    ’میں قطر اور دہشتگردوں کو پناہ دینے والے دیگر ممالک کو کہتا ہوں کہ: آپ یا تو دہشتگردوں کو ملک بدر کریں یا پھر انھیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں، کیونکہ کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہم ایسا کریں گے۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے بیان پر قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیتن یاہو ہیں جنھیں ’کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔‘

    ’نیتن یاہو انٹرنیشنل کریمینل کورٹ (آئی سی سی) کو مطلوب ہیں۔‘

    خیال رہے گذشتہ برس آئی سی سی کے ججز نے نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور کہا تھا کہ دونوں شخصیات غزہ میں انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کی ذمہ دار ہیں۔

    اسرائیلی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

  10. کچے کے علاقے میں 15 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے: پی ڈی ایم اے سندھ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی میں تیسرے روز بھی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے حالیہ سلسلے کے دوران کراچی میں زیادہ سے زیادہ سرجانی ٹاؤن میں 143 ملی میٹر اور کم از کم جناح ٹرمینل پر 38 ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی ہے۔

    ڈائریکرٹر محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت بارشوں کا سلسلہ سندھ سے بلوچستان کے علاقے اوڑ ماڑہ اور پسنی میں داخل ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک رہنے کا امکان۔

    دوسری جانب تھدو ڈیم سے آنے والے پانی سے سعدی ٹاؤن، شھباز گٹھ، لیاری اور ملیر ندی کے نشیبی علاقوں میں تاحال پانی موجود ہے، جبکہ ملیر ندی سے دونوں کاز وے بند ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو واحد جام صادق پل سے گزرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب کراچی کے میئر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ ’شاہراہ بھٹو کا صرف 20 میٹر حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے یہ زیر تعمیر سڑک کا حصہ تھا۔‘ انھوں نے واضح کیا کہ ’اس وقت شاہراہ بھٹو کے دو فیز ٹریفک کے لیے کھول دے گئے ہیں جبکہ تیسرا فیز زیر تعمیر ہے جہاں سے سڑک متاثر ہوئی ہے وہاں سے گیس لائن جارہی تھی جہاں سے پانی داخل ہوا اور بیس میٹر حصہ بہہ گیا اس کو جلد مکمل کرلیا جائے گا۔‘

    صوبہ سندھ میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ’حالیہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے کچے کے 15 لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں تاہم ابھی تک کوئی بھی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے ریلیف کیمپ میں نہیں آیا ہے۔‘

    وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ’سکھر بیراج کی گنجائش 15 لاکھ کیوسک تھی اب دس دروازے بند کرنے کے بعد 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک ہوگئی ہے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ سکھر بیراج کی گنجائش کو بڑھایا جائے۔‘

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’تھڈو نالو اوورٹاپ ہوا اور پانی سپرہائی وے پر آگیا جو سپرہائی وے سے ہوتا ہوا سعدی ٹاؤن تک پہنچا سنہ 2020 کے بعد ہم نے نالا بنایا ہے مگر ایم نائن پر پانی کی کراسنگ کا مسئلہ ہے وہاں کٹنگ کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے لئے کہا ہے کہ پانی کو کراسنگ دی جائے یہ اس کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔‘

  11. پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی، دریائےِ سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بعد اب اس کے تین دریاؤں کا پانی ہیڈ پنجند کے مقام سے ہوتا ہوا دریائے سندھ میں داخل ہو رہا ہے جہاں یہ امکان پایا جا رہا ہے کہ پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے صوبہ سندھ کے متعدد علاقوں کو متاثر کریں گے۔

    صوبہ پنجاب کی جانب سے سیلابی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ چھ لاکھ 60 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے اور یہ بری تیزی سے سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    ہیڈ پنجند کے بعد دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر پانی کی آمد پانچ لاکھ دو ہزار کیوسک سے زیادہ جبکہ اخراج چار لاکھ 75 ہزار کیوسک ہے۔

    اسی طرح دریائے سندھ میں ہی سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی آمد چار لاکھ 40 ہزار کیوسک جبکہ اخراج چار لاکھ 12 ہزار کیوسک ہے۔

    تاہم ادارے کی جانب سے جاری ایک اور اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک رہنے کا امکان۔

    DDC

    ،تصویر کا ذریعہFFD

  12. صوبہ پنجاب میں سیلاب متاثرین کی تعداد 43 لاکھ تک جا پہنچی: ’حکومت متاثرین کی مدد کے لیے کام کر رہی ہے‘ عظمیٰ بخاری

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب میں سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کچھ ایسے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکومتی سطح پر کسی کی کوئی مدد نہیں کی گئی یہ درست نہیں ہے۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے حکومتی سرپرستی میں کام کرنے والے اداروں نے تین ہزار چھ سو سے زیادہ لوگوں کو نکالا جا چُکا ہے جبکہ گزشتہ تین روز کے دوران 13 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔‘

    عظمیٰ بخاری نے صوبہ پنجاب میں سیلاب کی صورتحال سے متعلق بتایا کہ اب تک 4572 موضاجات سیلاب سے متاثر ہو چُکے ہیں۔ تاہم متاثرہ آبادی کی تعداد 42 لاکھ 89 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان 42 لاکھ سے زیادہ لوگوں میں سے 22 لاکھ 62 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    BBC
    ،تصویر کا کیپشنملتان میں موجود حکومتی کیمپ

    اُنھوں نے مزید بتایا کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر تین سو 96 ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ چار سو 90 میڈیکل کیمپس موجود ہیں۔ تاہم اس کے علاوہ جانوروں کے علاج کے لیے چار سو بارہ ویٹنری کیمپس بھی لگائے گئے ہیں۔‘

    تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں سیلاب سے جتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اُسی تیزی سے پنجاب حکومت متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

  13. اسرائیل کا یمن سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ، ’میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا‘

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کی جانب سے حال ہی میں ایک بیان سامنے آیا ہے کہ جس میں اُن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے یمن سے داغے جانے والے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے یمن میں حوثیوں پر ایک خطرناک فضائی حملے کے چند گھنٹوں بعد یہ میزائل اسرائیل پر داغے گئے۔ یمن سے میزائل داغے جانے سے جنوبی اسرائیل میں فضائی حملے سے متعلق آگاہ کرنے والے سائرن کی آوازیں سُنی گئیں۔

    تاہم یمن سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائل کے بعد سے ابھی تک کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس نے صوبہ جوف کے دارالحکومت صنعا میں حوثی جنگجوؤں کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیل کے مطابق ان اہداف میں فوجی کیمپ، حوثیوں کا ہیڈ کوارٹر اور ایک ایندھن کا ڈپو شامل تھا۔

    حوثیوں کے ترجمان نے کہا کہ دارالحکومت صنعا اور جوف کے علاقے پر اسرائیلی حملوں میں متعدد صحافیوں سمیت کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے۔

    یمن میں حوثیوں کی وزارت صحت کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں 35 افراد ہلاک اور 131 زخمی ہوئے ہیں۔

  14. جنوبی پنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار: ’مون سون بارشوں میں کمی سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہونے لگا‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مون سون بارشوں کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے صوبے کے تینوں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہورہی ہے۔

    صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ اب رک چکا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ’دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ اب بھی ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک ہے اور اس کی وجہ انڈیا کی جانب سے گزشتہ تین روز سے مسلسل چھوڑا جانے والا پانی ہے، مون سون بارشوں میں کمی سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہونے لگا۔‘

    صوبہ پنجاب میں بہنے والے تین بڑے دریاؤں چناب، راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے متعدد علاقے زیرِآب آئے۔ ان دریاؤں میں سیلابی صورتحال کی ایک سب سے بڑی اور اہم وجہ مون سون بارشوں کا زیادہ ہونا ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 50 ہزار کیوسک تک آ گیا ہے جبکہ ہیڈ خانکی کے مقام پر اب پانی کا بہاؤ 92 ہزار کیوسک تک ہے۔

    اگر دریائے راوی کی بات کی جائے تو اس سال پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال میں جسڑ وہ مقام تھا کہ جہاں پر پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے متعدد علاقے زیرآب آگئے تھے تاہم اب جسڑ کے مقام پر پانی کی سطح 23 ہزار کیوسک تک آ چکا ہے۔

    اسی طرح اب دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 63 ہزار کیوسک اور خطرے کے نشان تک پہنچ جانے والے ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ اب 78 ہزار کیوسک تک آگیا ہے۔

    تاہم اب بھی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے اور لوگوں کو اپنے گھر بر چھوڑ کر حکومت کی جانب سے یا دیگر امدادی اداروں کی جانب سے لگائے جانے والے ریلیف کیمپس میں رہنا پڑ رہا ہے۔ جہاں یہ سیلاب متاثرین ناکافی سہولیات کی شکایت کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

  15. وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی، قطری شاہی خاندان اور قطری عوام سے یکجہتی کے لیے ایک روزہ دورے پر دوحہ روانہ ہو گئے ہیں۔

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں شریک ہیں۔

    وزیرِ اعظم کی دوحہ میں قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد یہ خبر سامنے آئی کی اس حملے میں اسرائیل نے قطر میں موجود حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

    حماس کی جانب سے کسی بھی رہنما کی ہلاکت کی تو تصدیق نہیں کی گئی تاہم قطری انتظامیہ اور حماس کی جانب سے چھ دیگر افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔

    کئی دیگر مُمالک کی طرح پاکستان نے بھی قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ وزیرِ اعظم پاکستان نے اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی قرار دیا قطری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

  16. اسرائیلی وزیرِ اعظم کو اُن کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا: قطر

    نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو

    قطر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو اُن کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

    اسرائیل کے دوحہ میں حماس کے سیاسی دفتر پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے قطر کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نیتن یاہو کو ان کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے اور ان کے لاپرواہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کو روکا جائے۔‘

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دوحہ حملے کا القاعدہ کے تعاقب سے موازنہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا بیان نہ صرف اسرائیل کے بزدلانہ حملے کا جواز پیش کرنے کی بلکہ مستقبل میں بھی ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کو جواز فراہم کرنے کی شرمناک کوشش ہے۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ حماس کے دفتر کی میزبانی قطر کی ثالثی کی کوششوں کے فریم ورک کے تحت ہے جس کی امریکہ اور اسرائیل نے درخواست کی تھی۔

    قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو جنگ بندی اور مذاکرات میں اس دفتر کے کردار سے بھی پوری طرح واقف ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر میں مذاکرات ہمیشہ بین الاقوامی حمایت کے ساتھ شفاف انداز میں اور امریکی اور اسرائیلی وفود کی موجودگی میں ہوئے ہیں۔

    ’نیتن یاہو کا یہ الزام کہ قطر نے حماس کے وفد کو خفیہ طور پر پناہ دی ہے، ایک ایسے جرم کو جواز فراہم کرنے کی مایوس کن کوشش ہے جس کی پوری دنیا نے مذمت کی ہے۔‘

    قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے دھوکہ دہی سے دوحہ پر کیے جانے والے حملے کا جواز پیش کرنے کے لیے اس کا نائن الیون حملوں کے بعد القاعدہ کے تعاقب سے موازنہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے القاعدہ کا کوئی مذاکراتی وفد نہیں تھا جس کے ساتھ امریکہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی حمایت کے ساتھ مذاکرات کرتا۔

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    قطر کا کہنا ہے کہ اس کی ساکھ کو بدنام کرنے کی کوششوں کے باوجود وہ خطے اور عالمی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک غیر جانبدار بین الاقوامی شراکت دار کے طور پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    بیان میں قطر نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل نیتن یاہو نے منگل کے روز قطر میں اسرائیلی حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ’اس گھناؤنے جرم کے ذمہ داران دہشتگردوں کو پکڑنے کا وعدہ کیا، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ دو ہفتے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایک قرارداد بھی پاس ہوئی، جس میں کہا گیا کہ حکومتیں دہشتگردوں کو پناہ نہیں دے سکتیں۔‘

    نیتن یاہو نے منگل کے روز قطر میں اسرائیلی حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ روز ہم نے اسی پر عمل کیا۔ ہم نے 7 اکتوبر کے ماسٹر مائنڈ دہشتگردوں کا پیچھا کیا اور ہم نے قطر میں ایسا کیا جو دہشتگردوں کو پناہ دیتا ہے، وہ حماس کی مالی مدد کرتا ہے، وہ دہشتگرد رہنماؤں کو شاندار ولاز دیتا ہے، یہ انھیں سب کچھ دیتا ہے۔‘

    نتین یاہو نے مزید کہا کہ ’تو ہم نے وہی کیا جو امریکہ نے کیا تھا، اس نے افغانستان میں القاعدہ کے دہشتگردوں کا پیچھا کیا اور اس کے بعد اس نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو مار ڈالا۔‘

    نیتن یاہو نے قطر اور دیگر ممالک کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’میں قطر اور دہشتگردوں کو پناہ دینے والے تمام ممالک سے کہتا ہوں کہ یا تو انھیں اپنے ملک سے نکال دیں یا پھر انصاف کے کٹہرے میں لائیں کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہم کریں گے۔‘

  17. امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے ایک قدامت پسند کارکن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک یوٹاہ میں ایک تقریب کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے۔

    کرک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ وہ امریکہ بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں مباحثے کے پروگرامز کے انعقاد کے لیے جانے جاتے تھے۔

    ایک ویڈیو پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’اس گھناؤنے قتل پر غم اور غصے سے بھرے ہوئے ہیں اور اسے امریکہ کے لیے ’ایک سیاہ دن‘ قرار دیا۔

    ٹرمپ نے لکھا سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’عظیم اور لیجنڈری چارلی کرک اب نہیں رہے ہیں۔ کوئی بھی امریکہ کے نوجوانوں کو اتنا نہیں سمجھتا تھا اور نہ ہی اس سے محبت کرتا تھا جتنا چارلی نے کیا تھا۔‘

    حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے دو افراد کو رہا کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ان کا فائرنگ سے ’کوئی تعلق‘ نہیں تھا۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حکام کا خیال ہے کہ چارلی پر گولی کسی اونچے مقام سے چلائی گئی تھی۔ تاہم اسی حوالے سے بی بی سی ویریفائی نے فائرنگ کے بعد آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کا جائزہ لیا ہے۔

    بتایا جا رہے ہے کہ چارلی کرک کو گولی گردن میں لگے جس کے وجے سے وہ جانبر نہ ہو سکے اور اُن کی وفات ہو گئی۔

    18 سال کی عمر میں کرک نے قدامت پسند گروپ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی بنیاد رکھی۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چارلی کرک کون تھے؟

    31 سالہ چارلی کرک امریکہ کے سب سے ہائی پروفائل قدامت پسند کارکنوں اور میڈیا شخصیات میں سے ایک تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قابل اعتماد اتحادی تھے۔

    سنہ 2012 میں 18 سال کی عمر میں انھوں نے ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی مشترکہ بنیاد رکھی جو ایک طالب علم تنظیم ہے۔ جس کا مقصد لبرل جھکاؤ رکھنے والے امریکی کالجز میں قدامت پسند نظریات کو پھیلانا ہے۔

    ان کے سوشل میڈیا اور پوڈ کاسٹ میں اکثر ان کے کلپس شیئر کیے جاتے ہیں جن میں وہ طلباء کے ساتھ ٹرانسجینڈر کی شناخت، آب و ہوا کی تبدیلی، عقیدے اور خاندانی اقدار جیسے امور پر بحث کرتے دیکھائی دیتے۔ کرک شادی شدہ تھے اور اُن کے دو بچے ہیں۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارلی کرک کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں پرچم سرنگوں رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

    انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’چارلی کرک کے اعزاز میں جو واقعی ایک عظیم امریکی محب وطن ہے میں اتوار کی شام چھ بجے تک پورے امریکہ میں تمام امریکی جھنڈوں سرنگوں رکھنے کا حکم دے رہا ہوں۔‘

    فائرنگ کی تحقیقات سے متعلق معلومات رکھنے والے تین ذرائع نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ مشتبہ شخص کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والے مزید دو ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے ابھی تک جائے وقوعہ کو عوام کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا ہے۔

  18. دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اور یہاں پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی سطح چھ لاکھ 68 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے جو سمکہ چاچڑاں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس مقام پر گزشتہ تین روز سے پانی کے اخراج میں کمی آ رہی تھی جو مگر گزشتہ رات سے پانی کی سطح پھر سے بلند ہورہی ہے۔

    اسی طرح دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر بھی سمکہ چاچڑاں کی جانب 2 لاکھ کیوسک کے قریب سیلابی ریلا بڑھ رہا تھا۔

    پنجاب کے بڑے دریا چناب میں تریموں بیراج کی صورتحال کی بات کی جائے تو وہاں گزشتہ تین روز کے دوران پانی کے اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے اس وقت تازہ ترین صورتحال میں ہیڈ پنجند کی جانب ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک سے کُچھ زیادہ کا ایک ریلا سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    تاہم دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اب بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے جہاں پانی کی سطح اس وقت ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ تین روز سے مسلسل انڈیا کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔

  19. سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ائیرلفٹ ڈرونز کے استعمال کی منظوری

    Punjab GOVT

    ،تصویر کا ذریعہPunjab GOVT

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشنز کے لیے پہلی مرتبہ ڈرونز کی مدد سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو ایئر لفٹ کرنے کی سہولت حاصل کر لی ہے۔

    صوبہ پنجاب میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشنز کے دوران استعمال ہونے والا یہ ڈرون 200 کلو تک وزنی شخص کو اٹھا کر محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے سیلاب سے پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا۔ یہ ڈرون ملتان میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کے لیے بھیجوا دیے گئے ہیں۔‘

    جنوبی پنجاب بھجوانے سے قبل لاہور میں سول ڈیفنس نے ڈرون کی ٹیسٹ فلائٹس مکمل کیں۔

  20. اقوامِ متحدہ میں سوئس مندوب کا مودی حکومت سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ: ’سوئٹزرلینڈ خود کو درپیش نسلی امتیاز جیسے مسائل پر توجہ دے‘، انڈیا کا جواب

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہUN TV

    منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل (یو این ایچ سی آر) کے 60ویں سیشن کے دوران انڈیا اور سوئٹزرلینڈ کے مندوب اس وقت آمنے سامنے آ گئے جب سوئٹزرلینڈ نے انڈیا سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

    سوئس مندوب کا کہنا تھا کہ ان کا ملک انڈیا کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’اقلیتوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے اور آزادی اظہار اور میڈیا کی آزادی کے حقوق کو برقرار رکھا جائے۔‘

    خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی صدارت سوئٹزرلینڈ کے پاس ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں انڈیا کے مستقل مشن کے رکن شتیج تیاگی کا کہنا تھا کہ یہ بیان حیران کن اور غلط حقائق کی بنیاد پر ہے۔

    انڈین سفارتکار کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے پاس یو این ایچ سی آر کی صدارت ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے بیانیوں پر وقت ضائع نہ کرے جو صریحاً جھوٹ اور حقیقت کے منافی ہیں۔

    تیاگی کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے سوئٹزرلینڈ کو خود کو درپیش نسلی امتیاز اور زینو فوبیا جیسے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی دنیا کی سب سے بڑی، متنوع اور متحرک جمہوریت ہونے کے ناطے ’انڈیا ان مسائل کے حل کے لیے سوئٹزرلینڈ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔‘